Ayah 66:1الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
(یایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک تبتغی مرضات ازواجک واللہ غفور رحیم) (1)۔
(پیغمبر ﷺ کے ایک فعل پر احتساب)۔ اوپر ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ اس سورة میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جن کے ساتھ محبت و مروت کے تعلقات ہوں خدا کے حدود و حقوق کے معاملات میں ان کے ساتھ بھی کوئی مداہنت و رعایت جائز نہیں ہے بلکہ اس محبت ہی کا تقاضا یہ ہے کہ ان کا احتساب زیادہ احتیاط کے ساتھ ہوتا رہے تاکہ خدا کے چھاج میں پھٹکے جانے سے پہلے ہی ممکن ہو تو ان کی اصلاح ہوجائے اور اگر اصلاح نہ ہو تو بدرجہ ادنیٰ اپنے حق نصیحت سے عند اللہ بری الذمہ ہوجائے۔ اس حقیقت کو مبرہن کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں سب سے پہلے اپنے پیغمبر ﷺ ہی پر گرفت فرمائی کہ آپ نے اپنی ازواج مطہرات ؓ کی دلداری کے خیال سے اپنے اوپر ایک ایسی چیز حرام کیوں کرلی جو اللہ نے آپ کے لیے جائز کی ؟
غور کیجئے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے پیغمبر ﷺ اور ان کی ازواج ؓ سے زیادہ کون محبوب ہوسکتا ہے لیکن اس کے باوجود آپ کی ایک معمولی سی فروگذاشت پر جو خود قرآن کے بیان کے مطابق ایک نہایت نیک محرک سے صادر ہوئی۔ آپ کو تنبیہ فرمائی گئی تاکہ ہر شخص کے سامنے یہ حقیقت بالکل واضح ہوجائے کہ خدا کے حدود وقیود کی پابندی سے جب پیغمبر ﷺ اور آپ کی ازواج مطہرات ؓ بھی بالا نہیں ہیں تو تابہ دیگراں چارسد !ٖ
(واقعہ کی نوعیت)۔ رہا یہ سوال کہ آنحضرت ﷺ نے ازواج کی دلداری کے خیال سے اپنے اوپر کیا چیز حرام کرلی تھی تو اس کے جواب میں راویوں سے مختلف اقوال منقول ہیں۔ زیادہ مشہور روایت یہ ہے کہ آپ نے ایک مرتبہ ازواج مطہرات ؓ میں سے کسی کے پاس شہد نوش فرمایا جس کی بو پر آپ کی بعض ازواج نے ناگواری کا اظہار فرمایا۔ شہید کی بعض قسمیں ناگوار بو کی ہوتی بھی ہیں اور نہ بھی ہوں تو جو لوگ زیادہ ذکی الحسن ہوتے ہیں وہ ہر بو کو پسند نہیں کرتے۔ خاص طور پر خواتین اس معاملے میں زیادہ شدید لاحساس ہوتی ہیں۔ وہ بسا اوقات اچھی بھلی اور اچھی خاصے ذائقہ کی چیزوں کو بھی پسند نہیں کرتیں۔ لوگوں کے مزاج مختلف ہوتے ہیں۔ امہات المومنین ؓ میں سے بھی بعض کو وہ شہد پسند نہیں تھا جس میں مغافیر کی بو ہو۔ چناچہ انہوں نے اپنی اس ناگواری کا اظہار حضور ﷺ کے سامنے فرمایا۔ حضور ﷺ چونکہ خود نہایت لطیف المذاق اور دوسروں بالخصوص جنس ضعیف کے جذبات و احساسات کا بڑا پاس ولحاظ رکھنے والے تھے، اس وجہ سے آپ ﷺ نے عہد کرلیا کہ اب کبھی شہد نوش نہیں فرمائیں گے۔ (1 ؎۔ ایک خاص بوٹی کا نام ہے جس سے شہد کی مکھیاں لیتی ہیں لیکن بعض لوگوں کو اس کی بو ناگوار ہوتی ہے۔)
عام حالات میں تو یہ کوئی غیر معمولی نہیں تھی بلکہ ایک نیک محرک سے صادر ہونے کا سبب سے نہایت پسندیدہ بات تھی لیکن پیغمبرکا ہر قول و فعل دین میں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کا ہر عمل پوری امت کے لیے مثال و نمونہ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے اس کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے ذاتی ذوق و رجحان اور اپنے محبوب سے محبوب لوگوں کی خاطر سے بھی کوئی ایسی بات کہے یا کرے جو بال برابر بھی اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے حدود سے متجاوز ہو، ورنہ پوری امت کے لیے ایک غلط مثال قائم ہوجانے کا اندیشہ ہے۔ یہود کے متعلق معلوم ہے کہ انہوں نے اپنے اوپر اونٹ کی صرف اس بنا پر حرام کرلیا کہ حضرت یعقوب ؑ کسی سبب سے اونٹ کا گوشت نہیں کھاتے تھے۔ اسی طرح اگر مسلمانوں کے علم میں یہ بات آئی کہ حضور ﷺ نے شہد نہ کھانے کا عہد کرلیا تو کوئی متقی مسلمان مشکل ہی سے شہد کو ہاتھ لگاتا۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ پر گرفت فرمائی اور فوراً اس کی اصلاح کے لئے ہدایت فرمائی۔
(حضور ﷺ کے فعل کا محرک)۔ (تبتغی مرضات ازواجک)۔ سے اس محرک کی طرف اشارہ ہے جو آپ کے اس اقدام کا باعث ہوا۔ اس محرک کا پتہ دینا اس لیے ضروری ہوا کہ اس سورة کا مقصد ہی جیسا کہ ہم نے تمہید بیان کیا، یہ تعلیم دنیا ہے کہ حق کے ساتھ محبت کے تعلقات ہوں ان کے احتساب بھی آدمی کو مداہن نہیں ہونا چاہیے۔ نفرت کی طرح محبت بھی حدود الٰہی کے احترام سے آدمی کو غافل کردیتی ہے۔ اس خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ﷺ اور آپ کی ازواج پر گرفت فرمائی، جن سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی نظروں میں کوئی دوسرا محبوب نہیں ہوسکتا، تاکہ مسلمانوں کو اس سے یہ سبق حاصل ہو کہ دین کے معاملے میں کسی محبوب سے محبوب کے ساتھ بھی کوئی رکاوٹ جائز نہیں ہے۔
(غلطی پر گرفت کے ساتھ معافی کا اعلان)۔ (حضور ﷺ کے اس فعل کا محرک چونکہ نہایت نیک تھا۔ آپ نے محض جذبہ رافت و محبت کے تحت، خاص اپنی ذات کے لیے ایک فیصلہ فرمایا تھا، امت کے لیے کسی چیز کو حرام کرنا مقصود نہیں تھا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے گرفت کے ساتھ ہی اس فروگزاشت کی معافی کا اعلان بھی فرما دیا۔ یہاں اس امر پر نگاہ رہے کہ معافی کے اعلان میں نہایت مبادرت پائی جاتی ہے۔ یعنی اس طرح کے کسی اقدام کا شرعی حکم بیان کرنے سے پہلے ہی معافی کا اعلان فرما دیا گیا۔ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ یہی ہو سکتی ہے کہ حضور ﷺ کے سامنے اپنے اس فعل کا وہ پہلو بالکل نہیں تھا جس پر گرفت فرمائی گئی بلکہ، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا۔ آپ نے محض جذبہ برات کے تحت جنس ضعیف کی دلداری کے لیے اپنی ذات پر ایک پابندی عائد فرما لی تھی، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس پر گرفت تو فرمائی تاکہ اس سے وہ مضرتیں نہ پیدا ہوں جن کے پیدا ہونے کا امکان تھا لیکن ساتھ ہی اس کے معافی کا اعلان بھی فرما دیا تاکہ یہ گرفت پیغمبر ﷺ کے دل پر گراں نہ گزرے۔
(حضرات انبیاء (علیہم السلام) سے صادر ہونے والی لغزشوں کی نوعیت)۔ یہی وہ بات یاد رکھیے جو اس کتاب میں ہم بار بار بیان کرچکے ہیں کہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) سے کوئی لغزش صادر ہوتی ہے تو وہ نفس کی پاسداری میں نہیں ہوتی بلکہ کسی خیر کی پاسداری میں وہ حد مطلوب سے متجاوز ہوجاتے ہیں۔ بیویوں کی دلداری کوئی بری بات نہیں ہے بلکہ یہ شرافت، مروت، فتوت کا تقاضا اور فطرت و شریعت کا مطالبہ ہے جس کی قرآن نے تاکید فرمائی ہے بشرطیکہ یہ شریعت کے حدود کے اندر رہے۔ اگر یہ اس سے متجاوز ہونے لگے تو یہ فتنہ بن جاتی ہے جس سے بچنا اور بچانا ضروری ہے لیکن جب کسی فروگزاشت کا محرک نیک ہو تو اس پر گرفت اس طرح ہونی چاہیے کہ عفو و در گزر اس کے ہم رکاب رہے۔
Ayah 66:2(قد فوض اللہ لکم تحلۃ ایمانکم واللہ مولکم وھو العلیم الحکیم) (2)۔
(ناجائز قسم کے بارے میں شریعت کا حکم)۔ یہ حکم بیان فرمایا ہے اس صورت کے لیے جب کوئی شخص اپنے اوپر کسی جائزچیز کو حرام کرلینے کی قسم کھا بیٹھے۔ اوپر کی آیت میں خطاب صرف نبی ﷺ سے تھا اس آیت میں عام مسلمانوں سے ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو اس لغزش پر ٹوکنے سے اصل مقصود جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا یہی تھا کہ اس کے سبب سے امت کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو، چناچہ اس آیت میں تمام مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرمایا گیا کہ اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے اوپر کسی ناجائز چیز کو حرام کرلینے کی قسم کھا بیٹھے تو اللہ نے اس کے لیے یہ ضروری ٹھہرایا کہ وہ اس قسم کو توڑ ڈالے اور حرام کردہ چیزہ کو جائز کرے۔
(واللہ مرلکم) یہ وجہ بیان ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات کیوں ضروری ٹھہرائی ہے ؟ فرمایا کہ اللہ ہی تمہارا آقا و مولیٰ ہے اس وجہ سے اسی کو حق حاصل ہے کہ وہ تمہیں بتائے کہ تمہارے لیے کیا حلال ہے اور کیا حرام ؟ نہ کسی کو خود یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے جی سے کسی چیز کو حرام یا حلال ٹھہرائے اور نہ یہ جائز ہے کہ کسی دوسرے کے لیے وہ تحریم و تحلیل کا حق تسلیم کرے۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو اللہ تعالیٰ کے حق میں مداخلت کرے گا جو شرک ہے۔
(وھو العلیم الحکیم) یہ اسی حقیقت کی مزید وضاحت ہے کہ حقیقی علیم و حکیم اللہ تعالیٰ ہی ہے اس وجہ سے اس نے بندوں کو جو حکم دیا ہے یا جس چیز سے روکا ہے وہ تمام تر علم و حکمت پر مبنی ہے۔ کسی دوسرے کو خدا سے زیادہ علیم و حکیم ہونے کے خبط میں نہیں مبتلا ہونا چاہیے۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ قسم توڑ دینے کا حکم دیا گیا ہے لیکن اس کے ساتھ کسی کفارہ کا ذکر نہیں ہے تو کیا اس صورت میں کوئی کفارہ عائد نہیں ہوتا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قسم توڑنے پر کفارہ کا حکم المائدۃ کی آیت 98 میں بیان ہوچکا ہے اس وجہ سے اس کے ذکر کی یہاں ضرورت نہیں تھی البتہ یہاں (تحلۃ ایمانکم) کے الفاظ سے یہ بات واضح طور پر نکلتی ہے کہ اگر کسی نے قسم کھا کر کوئی چیز حرام ٹھہرائی ہو تب تو کفارہ ضروری ہوگا۔ لیکن قسم نہ کھائی ہو تو کفارہ ضروری نہیں ہے۔
Ayah 66:3واذا اسرا النبی الی بعض ازواجہ حدیثا فلما نبات بہ واظھرہ للہ علیہ عرف بعسنہ واعرض عن بعض فلما نباھا بہ قالت من انباک ھذا قال نبانی العلیم الخبر) (3)۔
(ازواج نبی کے احتساب کی ایک مثال)۔ اوپر کی آیت میں نبی ﷺ کا احتساب تھا۔ اس آیت میں ازواج نبی میں سے ایک بیوی کی فروگزاشت پر گرفت فرمائی کہ انہوں نے حضور ﷺ کی کوئی بات، جو آپ نے بطور راز ان سے فرمائی، کسی دوسری بیوی پر ظاہر کرو۔ پھر جب حضور ﷺ نے ان کی اس غلطی پر ٹوکا اسی پر نادم ہونے کے بجائے انہوں نے اس ٹوکنے کو اپنی خودداری کے ملامت محسوس کیا اور جن بیوی پر از ظاہر کیا گیا تھا انہوں نے بھی اس کو ناگوار جانا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں بیویوں کو تنبیہ فرمائی تاکہ ہر شخص پر یہ واضح ہوجائے کہ دین کے معاملے میں ازواج نبی ؓ احتساب سے بالا نہیں ہیں۔
(واقعہ کی نوعیت)۔ (واذا سرالنبی الی بعض ازواجہ حدیثا) مفسرین نے عام طور پر اس واقعہ کو اوپر والے واقعہ ہی سے جوڑ کر ایک ناگوار داستان کی شکل دے دی ہے لیکن عربیت کے لحاظ سے یہ ضروری نہیں کہ یہ واقعہ اوپر کے واقعہ ہی کا ایک حصہ ہو بلکہ اقرب یہ ہے کہ یہ ایک دوسری بات کا حوالہ ہو جس کا صدور ازواج نبی ؓ میں سے کسی سے ہوا جس پر اللہ تعالیٰ نے گرفت فرمائی۔ زبان کا یہ نکتہ یاد رکھیے کہ واذ سے بالعموم کسی دوسرے مستقل واقعہ ہی کا حوالہ دیا جاتا ہے۔
یہاں قرآن نے اس بات کی کوئی وضاحت نہیں کی ہے کہ حضور ﷺ نے کیا راز کی بات کہی اور کس بیوی سے کہی بلکہ اس کو پردے ہی میں رکھا ہے اس وجہ سے ہم اس راز کے درپے ہونا جائز نہیں سمجھتے۔ حضور ﷺ کی ازواج ؓ ہمارے لیے مائوں کی منزلت میں ہیں۔ بیٹوں کے لیے یہ بات کسی طرح پسندیدہ نہیں ہو سکتی کہ وہ اپنی مائوں اور باپوں کے درمیان کے رازوں کے کھوج میں لگیں۔ بالخصوص جب کہ اس راز کے انکشاف سے اس آیت کے فہم میں کوئی مدد بھی نہ مل رہی ہو۔ یہاں راز کے افسا ہی پر تنبیہ فرمائی گئی ہے۔ تو اگر ہم اس کے درپے ہوں گے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ جس چیز سے روکا گیا ہے ہم نے اس کا ارتکاب کیا البتہ اتنی بات اس آیت سے صاف واضح ہے کہ نبی ﷺ ازواج مطہرات کو اپنا محرم راز بناتے تھے جو اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کو ان کی راز داری اور ان کی فہم و بصیرت پر پورا اعتماد تھا۔ میاں بیوی کے تعلقات کا سارا حسن و جمال اسی اعتماد میں ہے۔ اگر باہم یہ اعتماد نہ ہو کہ ایک دوسرے کو محرم راز بنا سکیں تو یہ اعلیٰ انسانی اقدار سے بالکل خالی زندگی ہوگی۔
(ازواج مطہرات کے باہمی تعلقات کی خوش گواری کی دلیل)۔ (فلما نبات بہ واظھر اللہ علیہ عرف بعضہ واعرض عن بعض)۔ یہاں اتنی بات بر بنائے قرینہ مخدوف ہے کہ حضور ﷺ نے جن بیوی کو محرم راز بنایا انہوں نے یہ راز کسی دوسری بیوی پر ظاہر کردیا۔ اگرچہ آیت میں جس طرح اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ کن بیوی سے یہ غلطی صادر ہوئی اسی طرح اس بات کا بھی کوئی ذکر نہیں ہے کہ یہ افشائے راز کن بیوی پر ہوا لیکن اتنی بات واضح ہے کہ معاملہ ازواج مطہرات ؓ کے درمیان ہی کا ہے، کسی غیر کے سامنے کوئی افشائے راز نہیں ہوا۔ مفسرین نے عام طور پر حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور حضرت حفصہ ؓ کے نام لیے ہیں۔ اگر اس قول پر اعتماد کیجئے تو اس سے یہ بات نہایت واضح طور پر ثابت ہوتی ہے کہ ان سیدات کے باہمی تعلقات ایسے خوش گوار تھے کہ آپس میں اہم رازوں کے معاملے میں بھی کوئی پردہ نہ تھا۔ اس سے ان روایات کی تردید ہوتی ہے جن میں غیر محتاط راویوں نے ان کی باہمی چشمک و رقابت کے واقعات بیان کیے ہیں۔
(حدود الٰہی کے معاملہ میں کوئی بھی احتساب کے بالا نہیں ہے)۔ اس افشائے راز سے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو با خبر کردیا جس کے بعد حضور ﷺ نے ان بیوی کو اس کی طرف توجہ دلائی جن سے یہ غلطی صادر ہوئی۔ یہ توجہ دلانا اس لیے ضروری تھا کہ میاں بیوی کے تعلقات میں راز داری کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ بیویوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے شوہروں کے رازوں کی حفاظت کرنے والی بنیں۔ قرآن میں ان کی خاص صفت (حفظت للغیب) (رازوں کی حفاظت کرنے والیاں) بیان ہوئی ہے۔ بیوی، شوہر کے رازوں کی قدرتی امین ہوتی ہے۔ اگر وہ اس میں خیانت کرے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس کے گھر میں اسی نے نقب لگائی جس کو اس نے گھر کا پاسبان بنایا۔ امانت کی یہ صفت یوں تو ہر بیوی میں ہونی ضروری ہے لیکن ذمہ داریاں علی فرق مراتب ہوتی ہیں۔ ازواج نبی ؓ پر یہ ذمہ داری دوسروں کی نسبت بدرجہا زیادہ تھی اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کے ایماء پر حضور ﷺ نے ان کو متنبہ فرمایا تاکہ یہ حقیقت کھل کر ہر شخص کے سامنے آجائے کہ حدود الٰہی کے معاملے میں کوئی بھی احتساب سے بالا نہیں ہے۔
(ایک نہایت لطیف حقیقت)۔ (عرف بعضہ واعرض عن بعض) کے الفاظ ایک نہایت ہی لطیف حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ وہ یہ کہ حضور ﷺ نے بیوی صاحبہ کا احتساب تو فرمایا کہ یہ دین کا تقاضا تھا لیکن اس طرح نہیں کہ ان کے لتے لے ڈالے ہوں بلکہ کچھ بات ظاہر فرمائی اور کچھ نظر انداز فرما دی۔ یہ طریقہ حضور ﷺ نے اس وجہ سے اختیار فرمایا کہ بیوی صاحبہ کو تنبیہ تو ہوجائے لیکن یہ تنبیہ ان کے دل پر زیادہ شاق نہ گزرے۔ حضور ﷺ کے اندر اول تو رافت تھی ہی بہت، منافقین و مخالفین کی غلطیوں پر بھی آپ کبھی درشت الفاظ میں نہیں ٹوکتے تھے۔ ثانیاً یہ معاملہ ازوج مطہرات ؓ کا تھا جن کی نسبت یہ گمان نہیں کیا جاسکتا تھا کہ ان کی کوئی غلطی ارادی بد نیتی پر مبنی ہوگی۔ چناچہ یہ غلطی تھی، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، کسی بد نیتی کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ محض اس وجہ سے صادر ہوگئی کہ بی بی صاحبہ نے خیال فرمایا کہ دوسری بیوی صاحبہ بھی جب شوہر کی محبوب و معتمد ہیں تو یہ نج کی بات ان کے سامنے ظاہر کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے بلکہ یہ ازیاد محبت و اعتماد کا سبب ہوگی۔ یہ خیال نیک نیتی پر مبنی تھا اس میں کسی قسم کے فساد نیت کو دخل نہیں تھا۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک اہم پہلو اس میں نظر انداز ہوگیا کہ یہ افشائے راز اس کردار کے منافی ہے جو بیویوں کے لیے اللہ اور رسول نے پسند فرمایا ہے اور جس کا ازواج نبی ؓ کے اندر کمال درجہ پایا جانا اس وجہ سے ضروری تھا کہ وہ تمام امت کی خواتین کے لیے نمونہ ہیں۔ پھر معاملہ نبی ﷺ کا تھا جو صرف ایک شوہر ہی نہیں بلکہ اللہ کے رسول ﷺ بھی تھے۔ معاملہ کی اس اہمیت کے سبب سے اس پر گرفت ہوئی لیکن اس طرح نہیں کہ کسی کا فضیحتا ہو بلکہ اشاروں کے انداز میں ہوئی اور یہی انداز ان حالات میں بابرکت ہے جب کہ غلطی کا صدور کسی برے ارادے سے نہ ہوا ہو۔
(مفسرین کی بےاحتیاطی)۔ ہمارے مفسرین نے اس راز سے پردہ اٹھانے کی جو کاوش کی ہے ہم اس سے تعرض نہیں کرنا چاہتے۔ اس کی بنیاد اول تو ایسی روایات پر ہے جن میں نہایت واضح تضاد ہے۔ پھر یہ کاوش اس تعلیم کے بھی خلاف ہے جو اس آیت میں دی گئی ہے جب خود پیغمبر ﷺ نے اس کو زیادہ کھولنے کی ضرورت محسوس نہیں فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی یہ بات پسند فرمائی تو کسی دوسرے کے لیے یہ کس طرح جائز ہے کہ وہ اس کے بخیے ادھیڑنے بیٹھے بالخصوص جب کہ معاملہ اللہ کے رسول اور آپ کی ازواج مطہرات کے درمیان کا ہو۔
(فلما نباھا بہ قالت من انباک ھذا قال نبانی العلیم الخبیر) جب حضور ﷺ نے یہ بات اشارۃً بیوی صاحبہ کو بتائی تو وہ فوراً بولیں کہ آپ کو اس کی خبر کس نے دی ؟ یعنی اس کی صحت سے تو انہوں نے انکار نہیں کیا لیکن اپنی فروگزاشت کی طرف متوجہ ہونے کے بجائے انہیں فکر یہ ہوئی کہ یہ بات حضور ﷺ کو بتائی کس نے ؟ ان کا ذہن اسی طرف گیا ہوگا کہ جن بیوی کو انہوں نے راز دار بنایا تھا انہی نے یہ بات نبی ﷺ تک پہنچا دی۔ اس طرف ذہن جانے کے لیے قرینہ موجود تھا کیونکہ انکے سوا انہوں نے کسی اور پر یہ بات ظاہر نہیں کی تھی۔ ہوسکتا ہے انہیں کچھ غصہ بھی آیا ہو جیسا کہ انکے انداز سوال من انباک سے اشارہ ہوتا ہے۔ اگر ایسا ہواہو تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ کسی سے اپنے اعتماد کو ٹھیس پہنچے تو اس سے رنج ہوتا ہے ایک قدرتی بات ہے۔ لیکن حضور ﷺ نے ان کی یہ غلط فہمی فوراً رفع فرما دی کہ یہ بات مجھے خدائے علیم وخبیر نے بتائی ہے، کسی دوسرے نے نہیں بتائی ہے حضور ﷺ کی اس وضاحت سے بیوی صاحبہ کا سوء ظن دور ہوگیا ہوگا جس کا دور ہونا ضروری تھا۔ اس مقصد سے حضور ﷺ نے یہ وضاحت بلا تاخیر ضروری سمجھی۔
Ayah 66:4(ان تتوبا الی اللہ فقد صغت قلوبکما وان تظھرا علیہ فان اللہ ھو مولہ وجبریل و صالح المومنین والملئکۃ بعد ذلک ظھیر) (4)۔
یہ ان دونوں بیویوں کو خطاب کر کے فرمایا کہ اگر تم اللہ کی طرف رجوع کرو تو یہی بات تمہارے شایان شان ہے اس لیے کہ تمہارے دل تو اللہ کی طرف جھکے ہوئے ہیں۔ اور اگر تم نے رسول کے خلاف ایکا کیا تو یاد رکھو کہ رسول اپنی دل جمعی کے لیے تمہارا محتاج نہیں ہے بلکہ اس کی طمانیت کے لیے اللہ، جبریل اور مومنین صالحین کی معیت ورفاقت کا فی ہے، مزید برآں فرشتے بھی اس کے ساتھی اور مددگار ہیں۔
(ایک سوال اور اس کا جواب)۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ فروگزاشت تو ایک بیوی صاحبہ سے ہوئی تھی تو یہاں خطاب دو سے کیوں ہوا اور دوسری بیوی صاحبہ سے کون سی غلطی صادر ہوئی تھی جس پر ان کو بھی توبہ کی ہدایت ہوئی بظاہر تو وہ بالکل بےقصور نظر آتی ہیں ؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جب نبی ﷺ نے ایک بیوی صاحبہ پر ان کے افشائے راز کا سبب سے ناخوشی کا اظہار فرمایا تو دوسری بیوی صاحبہ کو یہ گمان گزرا ہوگا کہ شاید اس نا خوشی کا سبب یہ ہے کہ یہ افشائے راز ان کے سامنے کیوں ہوا ؟ انہوں نے خیال فرمایا ہوگا کہ بات میرے ہی سامنے ظاہر کی گئی تھی، کسی غیر کے سامنے نہیں، تو آخر اس پر عتاب کی کیا وجہ ہوئی، اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ مجھے غیر خیال کیا گیا، اگرچہ ان کا یہ احساس بالکل غلط فہمی پر مبنی تھا لیکن جہاں محبت و اعتماد کے معاملے میں تنافس ہو وہاں اس طرح کی غلط فہمی کا پیدا ہوجانا کچھ بعید نہیں۔
(بےجا خودداری کے اظہار پر گرفت)۔ بہرحال ان دونوں یہ سیدات نے اس گرفت کو اپنی خودداری کے خلاف محسوس کیا اور یہ چیز اس شکل میں ظاہر ہوئی کہ یہ دونوں ہی بیویاں ﷺ سے کچھ روٹھ سی گئیں۔ عام حالات میں یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ میاں بیوی میں اس طرح کی باتیں آئے دن ہوتی ہی رہتی ہیں لیکن معاملہ نبی ﷺ اور آپ کی ازواج مطہرات ؓ کا تھا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس پر سختی سے گرفت فرمائی تاکہ ازواج نبی پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوجائے کہ دین کے معاملے میں کسی کو بھی بےجا خودداری کے اظہار کا حق نہیں ہے۔ ان سے فروگزداشت ہوئی ہے تو دوسروں سے زیادہ وہ سزا وار ہیں کہ اپنے رویے کی اصلاح کریں۔ یہی بات ان کے شایان شان اور ان کے ایمان وانابت کا مقتضی ہے اور اگر انہوں نے ضد سے کام لیا اور نبی ﷺ کے خلاف ایکا کیا تو یاد رکھیں کہ اللہ کا رسول اپنی دل جمعی و طمانیت کے لیے ان کا محتاج نہیں ہے بلکہ وہی اس کی محتاج ہیں۔
یہاں یہ بات ملحوظ رہے کہ ان بیویوں کی طرف سے جس رویے کا مظاہرہ ہوا اس کا محرک کوئی نفرت یا غصہ کا جذبہ نہیں بلکہ جیسا کہ واضح ہوا محض اعتماد و محبت یا بالفاظ دیگر تدلل کا جذبہ تھا لیکن قرآن نے اس پر گرفت سخت الفاظ میں کی۔ اس کی وجہ وہی ہے جس کی طرف ہم تمہیدی مباحث میں اشارہ کرچکے ہیں کہ اس سورة میں دراصل تعلیم دی ہی اس بات کی گئی ہے کہ محبت کے جذبات کے اندر بھی اللہ کے حدود اور اس کے احکام واوامر کی پوری پوری پابندی کی جائے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ ازواج نبی بھی آنخضرت ﷺ کو صرف اپنا شوہر ہی نہیں بلکہ ہر حال میں آپ ﷺ کو اللہ کا رسول ﷺ سمجھیں اور ہر طرح کے حالات کے اندر اس خاص پہلو کو سب سے زیادہ اہتمام کے ساتھ مستحضر رکھیں۔ اس لیے کہ آپ کی حیثیت دوسری تمام حیثیتوں پر بالا ہے۔
(ان تتوبا الی اللہ فقد صغت قلوبکما) اس ٹکڑے کی تاویل میں ہمارے مفسرین سے سخت لغزش ہوئی ہے۔ انہوں نے صغت کے معنی کج ہونے کے لیے اور تاویل یہ کی کہ اگر تم دونوں توبہ کرو تو یہی تمہیں کرنا چاہیے اس لیے کہ تمہارے دل تک کج ہوچکے ہیں۔
(لفظ صغو کی تحقیق)۔ اس تاویل میں کئی غلطیاں ہیں جن میں سے بعض کی طرف ہم توجہ دلائیں گے۔ 1۔ اس میں پہلی غلطی تو یہ ہے کہ یہ تاویل عربیت کے بالکل خلاف ہے۔ لفظ (صغر) عربی میں کسی شے سے انحراف کے معنی میں نہیں بلکہ کسی شے کی طرف جھکنے اور مائل ہونے کے معنی میں آتا ہے۔ استاذ امام ؒ نے تفسیر سورة تحریم میں اس لفظ کی لغوی تحقیق بیان فرمائی ہے۔ اس کا ضروری حصہ ہم یہاں نقل کرتے ہیں۔ مولانا فرماتے ہیں۔
”دنیا کی تمام زبانوں میں عموماً اور عربی زبان میں خصوصاً خاص خاص الفاظ ایک کلی معنی کے تحت ہوتے ہوئے بھی خاص خاص معانی کے لیے مخصوص ہوتے ہیں۔ جو لوگ زبان کی ان خصوصیات سے ناواقف ہوتے ہیں وہ اس کے فہم سے بالکل محروم رہتے ہیں“۔ یہ کلیہ بیان کرنے کے بعد مولانا ؒ اس کی مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔
”مثلا ’ میل“ جس کے معنی جھکنے اور ہٹنے کے ہیں ایک کلی مفہوم ہے جس کے تحت عربی میں بہت سے الفاظ ہیں، مثلاً ذیغ، جور، رعواء، حیادۃ، انحراف وغیرہ لیکن یہ سب میل عن الشئی یعنی کسی چیز سے ہٹ جانے یا برگشتہ ہوجانے کے لیے آتے ہیں۔ پھر اسی کلی مفہوم کے تحت فی توبۃ التاف اور صغو وغیرہ الفاظ بھی ہیں جو سب کے سب میل الی الشئی یعنی کسی چیز کی طرف مائل ہونے اور جھکنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔۔“
”لفظ کی اس حقیقت کے واضح ہوجانے کے بعد عربی زبان کے ایک عالم سے یہ حقیقت مخفی نہیں رہ سکتی کہ ”صغت قلوبکما) کے معنی (انابت قلوبکما دمالت الی اللہ ورسولہ) (یعنی تم دونوں کے دل اللہ اور رسول کی طرف جھک چکے ہیں) کے ہوں گے کیونکہ لفظ صغو کسی شے کی طرف جھکنے کے لیے آتا ہے، اس سے مڑنے اور ہٹنے کے لیے نہیں آتا“۔
”اس لفظ کی یہ حقیت اس کے تمام شقات میں بھی موجود ہے۔ مثلاً صاغیۃ الرجل کسی شخص کے اتباع کو کہتے ہیں۔ صغرہ معک کے معنی ہیں اس کا میلان تمہاری طرف ہے۔ اصغیت الی فلان کے معنی ہیں اس کی طرف تم نے کان لگایا۔ حدیث شریف میں ہے۔ (ینفخ فی الصورفلا یسمعہ احدالا اصغی الیہ) (صور پھونکا جائے گا تو ہر شخص اس کی طرف متوجہ ہوجائے گا) اسی طرح محاورہ ہے (الصبی اعلم بمعصغی خدہ) (بچہ اپنی آغوش محبت کو خوب پہچانتا ہے) ھسرۃ (بلی) والی حدیث میں ہے (کان یصغی لھا الا ناء) (اس کے لیے برتن جھکا دیتے کہ وہ آسانی سے پانی پی لے) برتن کے جوف کو صغو کہتے ہیں کیونکہ چیز اس میں جمع ہوجاتی ہے۔
ابن بری نے اصغاء سمع (کسی کی طرف کان لگانا) کے ثبوت میں کسی شاعر کا مندرجہ ذیل شعر پیش کیا ہے۔
تری السفیہ بہ عن کل مکرمۃ زیغ و فیہ للتعفیہ اصغاء
(بےوقوف عزت و شرف کی باتوں سے منہ موڑتا ہے اور سفاہت کی باتوں کی طرف کان لگاتا ہے۔)
شاعر اونٹنی کی تعریف میں کہتا ہے۔
تصغی اذا شدھا با لکور جانحۃ حتی اذا ما استوی فی غززھا تثب
(جب وہ اس پر کجاوہ کستا ہے وہ گردن موڑ کر کان لگاتی ہے اور جب وہ رکاب میں پائوں رکھ دیتا ہے وہ جھپٹ پڑتی ہے)۔
اعشی اپنی کتیا کی آنکھ کا ذکر کرتا ہے۔
تری عینھا صغراء فی جنب موقھا تراقب کفی والقطیع المعدما
(اس کی آنکھ گوشہ چشم کی طرف جھکی ہوئی ہوتی ہے اور وہ میرے ہاتھ اور سخت کوڑے کو دیکھتے ہوتی ہے۔)
نمربن تولب نے اصغاء اناء کا محاورہ ایک خاص معنی میں استعمال کیا ہے لیکن لفظ کے اصل مفہوم کی روح اس کے اندر بھی موجود ہے۔
وان ابن اخت القوم مصغی اناوہ اذا لم یزاحم خالہ باب جلد
(اور قوم کے بھانجے کی حق تلفی کی جاتی ہے اگر وہ اپنے ماموئوں کی مزاحمت ایک بہادر باپ سے نہ کرے۔)
مولانا ؒ یہ محاورات و اشعار لسان العبر سے نقل کرنے کے بعد نہایت گہرے تاثر کے ساتھ فرماتے ہیں۔
”جن لوگوں کو حق کی تلاش ہے ان کے یہ شواہد میں ہیں۔ وہ ان سے مطمئن ہوجائیں گے اور گھڑنے والوں نے روایات و آثار میں جو زہر ملایا ہے اس سے وہ متاثرنہ ہوں گے۔ انہوں نے جب کتاب الٰہی میں کسی لفظی تحریف کی راہ سدود دیکھی تو معنوی تحریف ہی کی کچھ راہیں کھول لیں اور صتعو کے معنی زیغ کے کردیے حالانکہ دونوں کے درمیان آسمان و زمین کا فرق ہے۔ بعض روایات میں زاغت کی جو قرأت آئی ہے۔ وہ بالکل ہی ناقابل التفات ہے۔
(عربیت کے ایک اسلوب کی وضاحت)۔ 2۔ دوسری غلطی اس میں یہ ہے کہ اگر بات یہ کہتی ہوتی کہ تم دونوں توبہ کرو اس لیے کہ تمہارے دل کج ہوچکے ہیں۔ تو اس کے لیے یہ اسلوب بیان جو قرآن نے یہاں اختیار کیا ہے، بالکل ہی ناموزوں ہے۔ ’ ان ‘ شرطیہ کے بعد ’ قد ‘ جو آتا ہے۔ جس طرح یہاں آیا ہے، اس کی متعدد مثالیں قرآن اور کلام عرب سے مولانا رحمتہ علیہ پیش کرنے کے بعد اس اسلوب کی وضاحت یوں فرماتے ہیں۔
”ان مثالوں پر غور کرو تو معلوم ہوجائے گا کہ اس اسلوب میں ’ قد ‘ کے بعد جو جملہ آتا ہے وہ اس امر کی آسانی و سہولت کو بیان کرتا ہے۔ جو ’ ان ‘ کے بعد کہی جاتی ہے۔ یعنی اسلوب کے اجمال کو کھول دیا جائے تو تقدیر کلام یوں ہوگی کہ اگر ایسا ایسا ہوا تو کچھ حرج نہیں یا کوئی تعجب نہیں یا یہ معمولی بات ہے کیونکہ ایسا ایسا ہوچکا ہے۔ اس روشنی میں آیت کی تاویل یہ ہوگی کہ اگر تم پیغمبر کی رضا جوئی کے لیے خدا سے توبہ کرو تو یہی تم سے متوقع ہے اس لیے کہ تمہارے دل تو پہلے ہی سے اس کی طرف جھکے ہوئے ہیں“۔
(نفسیات انسانی کی ایک حقیقت)۔ 3۔ اس میں تیسری غلطی یہ ہے کہ ازواج مطہرات کو بالکل بلا سبب دل کے زیغ و انحراف کا گناہ گار بنا دیا گیا ہے حالانکہ اوپر ہم نے الفاظ قرآن کی روشنی میں واقعہ کی جو نوعیت بیان کی ہے اس سے صاف واضح ہے کہ اس میں کسی پہلو سے کسی فادنیت کا کوئی شائبہ نہیں ہے بلکہ جو کچھ بھی ہوا باہمی اعتماد و محبت اور اخلاص کی بناء پر ہوا۔ حضور ﷺ نے ایک بات راز کے طور پر ایک بیوی سے کہی۔ انہوں نے وہ بات بر نبائے محبت دوسری بیوی پر ظاہر کردی۔ حضور ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اس افشائے راز سے آگاہ فرما دیا تو آپ نے ان بیوی صاحبہ کو ٹوکا جن سے یہ کوتاہی صادر ہوئی لیکن انہوں نے اس ٹوکنے کو قرار واقعی اہمیت نہ دی بلکہ یہ خیال کیا کہ شوہر کی بات انہوں نے شوہر ہی کی دوسری معتمد و محبوب بیوی پر اگر ظاہر کی تو یہ ایسی غلطی نہیں ہے جس پر گرفت کی جائے۔ پھر ان کے اس رویے پر حضور ﷺ کچھ کھنچے کھنچے ظاہر ہوئے تو اس اعتماد کی بناء پر جو شوہر کی محبت پر تھا وہ بھی ازراہ تدلل روٹھ گئیں اور اس میں ان بیوی صاحبہ نے بھی ان کا ساتھ دیا جن پر راز ظاہر کیا گیا تھا۔ انہوں نے جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، اس بات میں اپنی کچھ توہین سی محسوس فرمائی ہوگی کہ ایک ایسی بات پر عتاب ہوا جو ان پر ظاہر کی گئی ہے۔ اس طرح کے احساس خوددداری کا معزز گھرانوں کی سیدات کے اندر ابھرنا ذرا بھی عجیب نہیں ہے۔
یہاں نفسیات انسانی کی یہ حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ جب روٹھنے کا سبب محبت و اعتماد ہو تو خفگی محض ظاہرکا پردہ ہوتی ہے جس کے پیچھے نہایت گہری خواہش ملاپ کی موجود ہوتی ہے۔ یہاں بھی یہی صورت تھی۔ دونوں بیویاں بظاہر روٹھ گئیں لیکن دل کے ہر گوشے میں یہ بےقراری موجود تھی کہ حضور ﷺ کی طرف سے ذرا ملاطفت کا اظہار ہو تو وہ خفگی کا یہ مصنوعی پردہ اٹھا دیں لیکن حضور ﷺ اپنے رویہ میں کوئی نرمی اس وجہ سے پیدا نہیں کرسکتے تھے کہ آپ ﷺ کو جیسا کہ واضح ہوا گھر والوں کو یہ تعلیم دیتی تھی کہ محبت کے اندر بھی وہ اللہ و رسول کے احکام کو مقدم رکھیں۔ نا چار بیویوں ہی کو اپنی بےجا خوداری سے دست بردار ہونا تھا لیکن اعتماد محبت کی زنجیر سخت ہوتی ہے۔ دل سے یہ چاہنے کے باوجود کہ کوئی ایسی بات ہوجائے کہ یہ بیگانگی دور ہو۔ وہ پہل کرنے سے ہچکچاتی رہیں۔ قرآن نے (ان تتوبا الی اللہ فقد صغت قلوبکما) کے الفاظ سے ان کی اس باطنی کشمکش کی طرف نہایت خوبی سے اشارہ کیا ہے لیکن افسوس ہے کہ ہمارے مفسرین اس کو سمجھ نہ سکے اور دل کے اس پر محبت جھکائو کو العیاذ باللہ وہ دل کی کجی گمان کر بیٹھے۔
(سیدہ عائشہ ؓ اور سیدہ حفضہ ؓ میں گہری محبت تھی)۔ (وان تظھرا علیہ فان اللہ ھو مولہ وجبریل و صالح المومنین والملئکۃ بعد ذلک ظھیر) تظاہر کے معنی ہیں ایک دوسرے کے ساتھی اور مددگار بننا۔ اس کے بعدڈ علی کے صلہ سے اس کے اندر پیغمبر ﷺ کے خلاف ایکا یا اتحاد کرلینے کا مفہوم پیدا ہوگیا۔ اوپر ہم اس اتحاد کی نوعیت اور اس کے سبب کی طرف اشارہ کرچکے ہیں کہ یہ کسی جنگ و پیکار کا مظاہرہ نہیں بلکہ اعتماد و تدلل کا مظاہرہ تھا۔ انہوں نے یہ خیال کیا کہ اس معاملے میں انہیں اپنی خودداری کے اظہار کا حق حاصل ہے۔ یہ حقیقت ان کی نگاہوں میں اس وقت اوجھل ہوگئی کہ دین کے معاملے میں احتساب سے کوئی بھی بالا نہیں ہے یہاں تک کہ اللہ کا رسول ﷺ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔
اس امر پر نگاہ رہے کہ یہاں جن سیدات کے اتحاد کی طرف اشارہ ہے۔ مشہور روایت کے مطابق وہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ ؓ ہیں جن کی نسبت تفسیری روایات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ان کے درمیان سوکنوں کی قسم کی چشمک و رقابت برابر رہتی تھی لیکن قرآن کے اس مقام میں ان کا جو کردار بیان ہوا ہے وہ اس امر کی ناقابل تردید شہادت ہے کہ ان میں ایسی گہری محبت تھی کہ وہ شوہر کے راز میں بھی ایک دوسری کو شریک کرلیتی تھیں۔ یہاں تک کہ بعض اوقات ایک دوسری کی ہمدردی میں شوہر سے روٹھ بھی جاتی تھیں۔
(پیغمبر ﷺ کی دلچسپی کا اصل مرکز)۔ آیت میں خطاب اگرچہ دو ہی بیویوں سے ہے لیکن اس میں جو تنبیہ ہے وہ تمام ازواج مطہرات ؓ سے متعلق ہے۔ ان کو گہ آگاہی دی گئی ہے کہ اگر وہ روٹھ جائیں گی تو یہ نہ سمجھیں کہ اس سے ہمارے پیغمبر کی بزم سونی ہوجائے گی۔ پیغمبر کو جو دلچسپی ان کے ساتھ ہے اس کی حیثیت ثانوی ہے اس کی اصل وابستگی اللہ سے ہے جو اس کا مولیٰ و مرجع ہے، پھر جبریل اس کے ساتھی ہیں جو وحی لاتے ہیں، پھر مومنین صالحین ہیں جو اس کی توجہ و تربیت کے اصل حقدار ہیں۔ مزید برآں اللہ کے فرشتے ہیں جن کی رفاقت و معیت اس کی ہر مشکل میں حاصل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ازواج نبی ؓ کو اپنے شوہر کے ساتھ معاملہ کرنے میں اس فرق عظیم کو ملحوظ رکھنا چاہیے جو ایک عام شوہر اور ایک پیغمبر ﷺ میں ہوتا ہے۔ پیغمبر ﷺ اپنی عظیم مصروفیات میں سے جو لمحے بچا کر انہیں بخش دیں اس کی قدر کریں۔ اس گمان میں نہ رہیں کہ پیغمبر ﷺ ان کی محبت ورفاقت کے محتاج ہیں اس وجہ سے ہر معاملے میں لازماً ان کی دلداری ملحوظ رکھیں گے۔ وہ دلداری وہیں تک کریں گے جہاں تک اللہ تعالیٰ کی حدود کے اندر گنجائش ہوگی۔ اگر کسی معاملے میں ذرا بھی حدود سے تجاوز ہوگا تو اس پر احتساب بھی ان کے فرائض میں داخل ہے۔ جس میں کوتاہی انکے لیے روا نہیں ہے۔
Ayah 66:5(عسی ربہ ان طلقکن ان یبدلہ ازواجا خیرا متکن مسلمت مومنت قنت تبت عبدت سحت تیبت وابکارا) (5)۔
(ازواج نبی کے سامنے اعلیٰ صفات کا ایک آئینہ)۔ یہ وہی اوپر والا مضمون، احتساب کے تقاضے سے کس قدر تیز ہوگیا ہے۔ ازواج مطہرات ؓ کو خطاب کر کے فرمایا کہ تمہیں یہ گمان نہیں ہونا چاہیے کہ اگر تم پیغمبر ﷺ سے روٹھ گئیں تو پھر اس کی وابستگی کا کوئی سہارا باقی نہیں رہے گا۔ آج اللہ تم سے بہتر بیویاں اس کے لیے منتخب فرما دے گا جن کے اندر وہ تمام اوصاف ہوں گے جو ہونے چاہئیں۔ یہاں ان بیویوں کے جو اوصاف گنائے ہیں وہ سب دوسرے مقامات میں زیر بحث آ چکے ہیں۔ خاص طور پر سورة احزاب آیت 35 کے تحت جو بحث گزر چکی ہے اس پر ایک نظر ڈال لیجئے۔ یہاں اعادے میں طوالت ہوگی۔
کنواریوں کے ساتھ (ثیبات) کے ذکر سے مقصود اس حقیقت کو سامنے لانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصلی قدر و قیمت اعلیٰ اوصاف کی ہے۔ ثیبتہ اور کنواری ہونا ثانوی چیزیں ہیں۔ اگر اوصاف حمیدہ موجود ہوں تو ثیبتہ کو کنواری پر تقدم حاصل ہے چناچہ یہاں ثیبات کا ذکر پہلے ہے۔
سحت کا ترجمہ مترجمین نے روزہ رکھنے والیاں کیا ہے لیکن ہمارے نزدیک لفظ کی یہ تعبیر ناقص ہے۔ یہ سیاحت سے ہے جو ایک دینی اصطلاح ہے اور جس کا مفہوم وسیع ہے سورة توبہ کی آیت 211 کے تحت اس کی پوری تحقیق ہم بیان کرچکے ہیں۔ اس کی روح زہد اور ترک دنیا ہے اس وجہ سے اس سے وہ عبادات اور ریاضتیں مراد ہیں جو اسلام نے ترک دنیا اور زہد کے لیے پسند فرمائی ہیں، مثلاً روزہ، اعتکاف اور حج وغیرہ۔ یہ در حقیقت رہبانیت کے زمرہ کی عبادت ہے۔ جس طرح رہبانیت اسلام میں ایک خاص حدہی تک جائز ہے اسی طرح سیاحت بھی ایک خاص حد تک ہی مطلوب ہے۔ روزہ اس ریاضت کے اہم ارکان میں سے ضرور ہے لیکن اس کا ترجمہ روزہ کے لفظ سے صحیح نہیں ہے۔ میں نے اس کا ترجمہ ریاض کرنے والیاں کیا ہے جو نسبۃً جامع اور ان تمام عبادتوں کو اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے جو اس کے تحت آتی ہیں۔ ان میں روزہ بھی شامل ہے۔
(دین میں احتساب کی اہمیت)۔ یہ آیات پڑھتے ہوئے یہ حقیقت مستحضر رہے کہ یہ احتساب ازواج نبی ؓ عہنم کا ہو رہا ہے جن کی پاکی و طہارت میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں ہے اور جن کو تمام عالم کی عورتوں پر فضلیت حاصل ہے۔ ان رات کو محض اس بناء پر طلاق تک کی دھمکی دے دی گئی ہے کہ ان سے پیغمبر ﷺ کی ایک تربیت قبول کرنے۔ معاملے میں ذرا سی بےپروائی ہوگئی اور وہ بھی برنبائے مخالفت و مکابرت نہیں بلکہ محض برنبائے محبت و اعتماد اس سے اندازہ کیجئے کہ دین میں احتساب و تربیت کا کیا درجہ ہے۔ گویا اسلامی معاشرہ میں وصل وفصل کی اصل بنیاد ہی یہی ہے۔ جو محبت اس احتساب و تربیت سے خالی ہو وہ محبت نہیں بلکہ شیطان کا پھندا ہے۔ اہل ایمان کی محبت کا اصلی جمال یہی ہے کہ وہ اللہ کے حدود کے تابع ہوتی ہے۔ اس معاملے میں وہ ایک دوسرے سے کبھی غافل نہیں ہوتے بلکہ جن سے متنبی ہی زیادہ محبت ہوتی ہے ان کے احتساب میں وہ اتنے ہی زیادہ بیدار ہوتے ہیں اس لیے کہ حقیقی محبت کا تقاضا یہی ہے۔ پھر جب وہ دیکھتے ہیں کہ ان کے خیرخواہانہ کلمات کے لیے دلوں میں کوئی جگہ باقی نہیں رہی ہے تو وہ عزیز ہے عزیز رشتوں کے کاٹ دینے میں بھی جھجھک محسوس نہیں کرتے اس لیے کہ روحانی تعلق کے ختم ہوجانے کے بعد مجرد جسمانی تعلق کی ان کی نگاہوں میں کوئی وقعت باقی نہیں رہتی۔
Ayah 66:6یایھا الذین امنوا قوا انفسکم واھلیکم نارا وقودھا الناس والحجارۃ علیھا ملیکۃ غللاظ شداد لا یعصون اللہ ما امرھم ویفعلون ما یومرون) (6)۔
احتساب کے عام فسادی)۔ پیغمبر ﷺ اور آپ کی ازواج مطہرات ؓ کے احتساب کے بعد یہ عام مسلمانوں کو جھنجھوڑا ہے کہ تم بھی اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو دوزخ کی اس آگ سے بچانے کی کوشش کرو جس کے ایندھن لوگ اور پتھر بنیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ جب تم نے دیکھ لیا کہ پیغمبر ﷺ اور ان کی ازواج ؓ بھی اللہ تعالیٰ کے احتساب سے بالا تر نہیں ہیں تو دوسروں کا کیا ذکر ! ہر ایک کا فرض ہے کہ وہ اپنے کو اور اپنے اہل و عیال کو دوزخ کی آگ سے بچانے کے لیے جو کچھ کرسکتا ہے وہ اٹھانہ رکھے۔ جب بھی دیکھے کہ ان کے اندر اللہ کی شریعت سے بےپروائی راہ پا رہی ہے فوراً اس کے سدباب کی فکر کرے۔ یہ پرواہ نہ کرے کہ یہ چیز اس کی طبیعت پر شاق گزرے گی اور اس کے نتیجہ میں ان کی ناراضی و بےزاری مول لینی پڑے گی۔ یہ ناگواری و بیزاری اس امر کے مقابل میں آسان ہے کہ آدمی ان کو جہنم میں جانے کے لیے چھوڑ دے اور آخرت میں اس کی مسئولیت جیسا کہ (کلکم راع و کلکم مسئول عن وعیتہ) 1 ؎ (تم میں سے ہر ایک چرواہا بنایا گیا اور ہر ایک سے اس کے گلے کے بارے میں پرستش ہونی ہے۔) والی حدیث میں واردج رہے، اپنے سرلے۔
(آتش دوزخ کی اصل غذا)۔ (وقوء ھا الناس والحجارۃ) کے الفاظ اس آگ کے مزاج کو ظاہر کر رہے ہیں کہ اس کی اصل غذا لوگ اور پتھر بنیں گے۔ اسی ایندھن سے وہ اپنے اصلی رنگ میں بھڑکے گی۔ لوگ سے مراد ظاہر ہے کہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس دنیا میں اپنے آپ کو پاک نہیں کیا بلکہ انہی گندگیوں میں لتھڑے رہے جن سے پاک کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی شریعت نازل فرمائی۔
حجارۃ سے ہمارے نزدیک جیسا کہ البقرۃ کی آیت 23 کے تحت وضاحت ہوچکی ہے۔ وہ پتھر مراد ہیں جو اس دنیا میں شرک و کفر اور عبادت غیر اللہ کی علامت کی حیثیت سے پوجے گئے۔ انہی چیزوں کو جلانے کے لیے یہ آگ پیدا کی گئی ہے تو جب یہ ایندھن اس کو ملے گا تو اس کو گویا اس کا من بھاتا کھا جا ملے گا اور وہ ھل من مزید کہتے ہوئے ایک ایک چیز کو نگلے گی اور جیسا کہ فرمایا ہے (لا تبقی ولا تذر) نہ کسی چیز پر ذرا ترس کھائے گی اور نہ کسی چیزکو چھوڑے گی۔
(دوزخ پر مامور فرشتوں کا مزاج)۔ (علیھا ملیکۃ غلاظ شداد لا یعصون اللہ ما امرھم ویفعلون ما یومرون) یعنی اس دوزخ پر جو فرشتے مقرر ہوں گے وہ نہایت درشت مزاج اور سخت گیر ہوں گے۔ ذرا کسی کے ساتھ نرمی اور مداہنت نہیں برتیں گے۔ ان کو جو حکم ملے گا سرمواس کی خلاف ورزی نہیں کریں گے بلکہ وہی کریں گے جس کا ان کو حکم ملے گا۔
اس ٹکڑے میں ان لوگوں پر تعریض ہے جو اپنے اہل و عیال کی کسی بڑی سے بڑی غلطی پر بھی ان کو ٹوکنا محبت کے منافی سمجھتے ہیں۔ فرمایا کہ آج اگر ان کی محبت ان کے احتساب سے تم کو روکے ہوئے ہے تو یاد رکھو کہ دوزخ پر جو فرشتے مامور ہیں وہ محبت کرنے والے نہیں بلکہ بڑے ہی درشت مزاج اور سخت گیر ہوں گے۔ بہتر ہے کہ ان سے سابقہ پڑنے سے پہلے پہلے تم ہی اپنے احتساب سے اپنے آپ کو بھی اور ان کو بھی جس حد تک عذاب کی گرفت سے بچانے کی کوشش کرسکتے ہو کرلو۔ (لا یعفون اللہ ما امرھم و یفعلون ما یومرون) یعنی آج تمہیں احتساب کی جو ہدایت دی جا رہی ہے اگر تمہارے دلوں پر شاق گزر رہی ہے تو شاق گزرے دوزخ کے داردغوں پر یہ ذرا بھی شاق نہیں گزرے گی۔ وہ اللہ کے کسی حکم کی ذرا بھی خلاف ورزی نہیں کریں گے بلکہ ہر حکم کی پوری پوری تعمیل کریں گے۔
Ayah 66:7(یایھا الذین کفروا الا تعتذروا الیوم انما تجزون ما کنتم تعملون) (7)۔
یعنی اسی دن کسی کے لیے کسی عذر ومعذرت کی کوئی گنجائش نہ ہوگی۔ جو لوگ کوئی عذر پیش کرنا چاہیں گے ان کو جواب ملے گا کہ آج کوئی عذر پیش نہ کرو۔ تمہارے سامنے جو کچھ آ رہا ہے تمہاری اپنی ہی بوئی ہوئی فصل کا حاصل ہے۔ دنیا میں تم نے جو کمائی کی ہے اب اس کے نتائج بھگتو۔ یہ کسی غیر کے کیے ہوئے جرائم نہیں ہیں جو تمہارے کھاتے میں ڈال دیے گئے ہوں بلکہ تمہارے ہی جرائم کی مکافات تمہارے سامنے آرہی ہے تو اس پر تمہارا واویلا اب بےسود ہے۔ اس سے بچنے کے لیے تم جو کچھ کرسکتے تھے دنیا میں کرسکتے تھے اب اس کا وقت گزر گیا۔
Ayah 66:8(یایھا الذین امنوا توبوالی اللہ توبۃ نصوحا عسی ربکم ان یکفرعنکم سیاتکم و ید خلکم جنت تجری تحتھا الانھر یوم لا یخزی اللہ النبی والذین امنوا معہ نورھم یسعی بین ایدھم وبایما نھم وبایما نھم یقولون ربنا اتمم لنا نورنا واغفرلنا انک علی کل شی قدیر) (8)
(توبہ اور رجوع الی اللہ کی دعوت عام)۔ اوپر والی تنبیہ کے بعد اب یہ تمام مسلمانوں کو توبہ اور رجوع الی اللہ کی دعوت دی ہے کہ اے لوگو، جو ایمان لائے ہو، اپنے غفلت کے بستر چھوڑو اور اپنے رب کی طرف مخلصانہ رجوع کرو۔ توبہ فصوح سے مراد وہ توبہ ہے جو دل کے پورے انقیاد اور سچے عزم کے ساتھ ہو۔ جس کے بعد گناہ کی طرف مڑنے کی کوئی خواہش باقی نہ رہے بلکہ گناہ کو آخری طلاق دے کر آدمی اپنے آپ کو اپنے رب کے آگے ڈال دے۔ فرمایا کہ جو لوگ اس طرح توبہ کریں گے۔ وہ توقع رکھیں کہ اللہ ان کے گناہوں کے اثرات ان کے اوپر سے دور کر دے گا اور ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ عیسیٰ کے متعلق اس کے محل میں یہ وضاحت ہوچکی ہے کہ جب یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کو خطاب کر کے آئے تو اس کی نوعیت بندوں کے لیے وعدے اور بشارت کی ہوتی ہے بشرطیکہ بندے اپنے کو اس کا اہل ثابت کریں۔
(یوم لا یخزی اللہ النبی والذین امنوا معہ) اس (یوم) کو فعل (یدخل) کا ظرف بھی قرار دے سکتے ہیں اور اس سے پہلے کوئی فعل مخدوف بھی جان سکتے ہیں۔ فرمایا کہ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر ﷺ اور اس کے باایمان ساتھیوں کو رسوا نہیں کرے گا اس لیے کہ وہ اس دنیا ہی میں اپنے احتساب کے چھاج میں پھٹک کر صرف ان لوگوں کو اپنی معیت کے لیے انتخاب کریں گے جو کفر و نفاق کی آلائش سے بالکل پاک اور صد فی صد کھڑے ہوں گے۔ یہ ان لوگوں کے مانند نہیں ہوں گے جنہوں نے خود بھی منافقانہ زندگی گزاری اور اپنی مداہنت سے اپنے اہل و عیال اور دوسرے متعلقین کو بھی نفاق کی راہ دکھائی۔ یہ لوگ قیامت کے دن رسوا ہوں گے اس لیے کہ اس دن ان کو ان کے نفاق کی تاریکی گھیرے گی۔ جب کہ پیغمبر ﷺ اور ان کے اصحاب ؓ اپنے ایمان و اخلاص کی روشنی میں اپنی منزل کی طرف بڑھ رہے ہوں گے۔
(قیامت کے دن پیغمبر ﷺ ان کے صحابہ ؓ اور اہل ایمان کی سرفرازی)۔ (نور ھم یسعی بین ایدھم وبایما نھم ربنا اتتم لنا نورنا واغفرلنا انک علی کل شی قدیر)۔ یہ پیغمبر ﷺ اور آپ کے اصحاب کی سرخروئی اور سرفرازی کا بیان ہے کہ اس دن سب اندھیرے میں بھٹک رہے ہوں گے لیکن پیغمبر ﷺ اور ان کے ساتھیوں کے آگے اور داہنے ان کی روشنی ہوگی جو ان کی رہنمائی کر رہی ہوگی اور وہ دعا کرتے ہوں گے کہ اے ہمارے رب ہماری روشنی کو کامل کر، ہماری مغفرت فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔
اس روشنی کا ذکر سورة حدید میں بھی گزر چکا ہے۔ وہاں ان لوگوں کا بھی ذکر آیا ہے جو اس دن رسوا ہوں گے۔ فرمایا ہے۔
(یَوْمَ تَرَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰی نُوْرُھُمْ بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَبِاَیْمَانِھِمْ بُشْرٰکُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَاط ذٰلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۔ یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰـفِقُوْنَ وَالْمُنٰـفِقٰـتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِکُمْج قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَٓائَکُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًاط فَضُرِبَ بَیْنَھُمْ بِسُوْرٍ لَّہٗ بَابٌط بَاطِنُہٗ فِیْہِ الرَّحْمَۃُ وَظَاہِرُہٗ مِنْ قِبَلِہِ الْعَذَابُ۔ یُنَادُوْنَہُمْ اَلَمْ نَکُنْ مَّعَکُمْط قَالُوْا بَلٰی وَلٰـکِنَّکُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَکُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ وَغَرَّتْکُمُ الْاَمَانِیُّ حَتّٰی جَآئَ اَمْرُ اللہ ِ وَغَرَّکُمْ بِ اللہ ِ الْغَرُوْرُ۔) (الحدید، 57۔ 12 : 14) (جس دن مومن مردوں اور عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کی روشنی ان کے آگے اور ان کے دہنے چل رہی ہوگی۔ ان کی خوش خبری دی جا رہی ہوگی کہ آج تمہارے لیے ایسے باغوں کی بشارت ہے جن میں نہریں جا رہی ہیں۔ ان میں ہمیشہ رہو گے۔ یہی بڑی کامیابی ہے جس دن منافق مرد اور عورتیں ایمان والوں سے کہیں گے کہ ذرا ہمیں بھی موقع دیجئے کہ ہم بھی آپ لوگوں کی روشنی سے فائدہ اٹھا لیں۔ ان کو جواب ملے گا کہ پیچھے پلٹو اور وہاں سے روشنی تلاش کرو۔ پھر ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا۔ اس کے اندر کی جانب رحمت ہوگی اور اس کے باہر کی طرف سے عذاب۔ یہ منافقین ان کو پکاریں گے کہ کیا ہم آپ لوگوں کے ساتھ نہ تھے ؟ وہ جواب دیں گے ساتھ تھے تو سہی لیکن تم نے اپنے کو فتنوں میں ڈالا، انتظار میں رہے، شک کیا اور آرزئوں نے تمہیں دھوکے میں رکھا یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ ظاہر ہوگیا اور اللہ کے بارے میں شیطان نے تمہیں دھوکے ہی میں رکھا۔)
(ربنا اتمم لنا نورنا واغفرلنا انک علی کل شی قدیر) یہ روشنی ان لوگوں کو جنت میں داخل ہونے سے پہلے جنت کے راستہ کو طے کرنے کے لیے دکھائی جائے گی جب کہ ان کے داہنے اور آگے کے سوا ہر طرف اندھیرا گھپ ہوگا اس وجہ سے یہ لوگ گہرے جذبہ شکر کے ساتھ یہ دعا کریں گے کہ اے رب، تو اس روشنی کو کامل کر اور ہماری مغفرت فرما۔ ظاہر ہے کہ جب راستہ طے کرنے کے لیے یہ روشنی عطا ہوگی تو اس سے قدرتی طور پر یہ توقع بھی پیدا ہوگی کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی مغفرت سے نوازنے والا ہے اور وہ وقت لازماً اس روشنی کے کامل ظہور کا ہوگا چناچہ وہ اپنی اسی توقع کے پورے کیے جانے کے لیے دعا کریں گے۔
(انک علی کل شی قدیر) یہ ان لوگوں کی زبان سے اس حقیقت کا اظہار ہوگا کہ ہم ایک عقیدہ کے طور پر مانتے تو رہے ہیں کہ تو ہر چیز پر قادر ہے لیکن اب ہم نے اپنی آنکھوں سے بھی اس حقیقت کا مشاہدہ کرلیا۔ لا ریب تو ہر چیز پر قادر ہے۔
(پیغمبر ﷺ کو عام احتساب کی تاکید)۔
Ayah 66:9(یایھا النبی جاھد الکفار والمنفقین واغلظ علیھم وما ولھم جھنم وبئس المصیر) (9)۔ مومنین و متعلقین کے احتساب کے بعد یہ نبی ﷺ کو اس عام فریضہ احتساب کی تاکید ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ مامور تھے۔ آیت میں جس جہاد کا حکم ہے وہ تلوار اور زبان دونوں ہی کا جہاد ہے، البتہ دونوں کے محل الگ الگ ہیں۔ جن لوگوں پر حجت تمام ہوچکی تھی اور وہ علانیہ حق دشمنی کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تھے ان سے تو جہاد تلوار کے ذریعے سے تھا جس کی تفصیل پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہے اور جو لوگ بظاہرتو ایمان کے مدعی تھی لیکن ایمان کے تقاضوں سے گریزاں تھے ان کے بارے میں خاص طور پر ہدایت ہوئی کہ ان کا احتساب کیا جائے اور اب یہ احتساب نرم انداز میں نہیں بلکہ سخت انداز (واخلظ علیھم) میں کیا جائے۔
(منافقین کے احتساب میں درشت رویہ اختیار کرنے کی ہدایت)۔ یہ سخت انداز میں منافقین کے احتساب کی تاکید اس وجہ سے ہوئی کہ نبی ﷺ اپنی کریم النفسی کے سبب سے ان کی غلطیوں پر جب بھی گرفت فرماتے نرم ہی انداز میں فرماتے تاکہ ان کی رسوائی نہ ہو۔ اس کریمانہ انداز کی انہیں قدر کرنی تھی لیکن منافقین اس کے اہل نہ تھے۔ وہ اس سے فائدہ اٹھانے کے بجائے دلیر ہوتے جا رہے تھے کہ ان کا فریب کامیاب ہو رہا ہے۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ انداز بدل دینے کا حکم دیا اور سختی کے ساتھ ان کے احتساب کی تاکید فرمائی تاکہ ان کے کان کھلیں اور اگر وہ اپنی اصلاح کرنی چاہیے تو کرلیں ورنہ ان کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔ سورة توبہ کی آیت 73 کے تحت اس مضمون کی وضاحت ہوچکی ہے۔ تفصیل مطلوب ہو تو اس پر ایک نظر ڈال لیجئے۔
(وما ولھم جھنم وبئس المصیر)۔ یعنی تم اب ان کو اچھی طرح جھنجھوڑ کو سنا دو کہ اگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی تو یاد رکھیں کہ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ نہایت برا ٹھکانہ ہے۔
Ayah 66:10(ضرب اللہ مثلاً للذین کفروا امرات نوح و امرات لوط کا نتا تحت عبدین من عبادنا صالحین فخانتھما فلم یغنیا عنھما من اللہ شیا وقیل ادخلا النار مع الداخلین) (10)۔
(آدمی کے کام آنے والے چیز اس کا عمل ہے نہ کہ بڑوں سے نسبت)۔ یہ آخر میں مثال پیش کی ہے اس بات کی اللہ تعالیٰ کے ہاں کام آنے والی چیز آدمی کا اپنا عمل ہے۔ جس کے پاس حسن عمل کی پونجی نہیں ہوگی اس کو کسی بڑے سے بڑے کی نسبت بھی کچھ نفع پہنچانے والی نہیں بن سکے گی۔ فرمایا کہ نوح ؑ اور لوط ؑ کی بیویاں ہمارے دو نیک بندوں کے نکاح میں تھیں لیکن انہوں نے ان کا اسوہ حسنہ اختیار کرنے کے بجائے ان کے ساتھ بےوفائی کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ رسولوں کی بیویاں ہونے کے باوجود ان کو حکم ہوا کہ دوسرے جہنم میں پڑنے والوں کے ساتھ جائو تم دونوں بھی جہنم میں پڑو۔
اس مثال کا حوالہ کفار کی عام سبق آموزی کے لیے دیا گیا ہے چناچہ فرمایا بھی ہے (ضرب اللہ مثلاً للذین کفروا) (اللہ نے یہ مثال کفار کی سبق آموزی کے لیے بیان کی ہے) اس کو ابتدائے سورة میں بیان کیے ہوئے امہات المومنین ؓ کے واقعات سے ربط ہے تو محض ایک کلی نوعیت کا ہے۔ یہ خیال صحیح نہیں ہے کہ خاص اسی تعلق سے یہ بیان ہوئی ہے۔ آخرت کی مسئولیت سے سب سے زیادہ بےپروائی، خاص طور پر اہل مذاہب کے اندر، اس غلط وہم نے پیدا کی کہ انہوں نے خیال کیا کہ وہ اللہ کے محبوبوں اور برگزیدوں کی اولاد ہیں اس وجہ سے ان کی دوزخ کی آگ کبھی نہیں چھوئے گی۔ یہود اور نصاریٰ اسی فتنہ میں مبتلا ہو کر ہلاک ہوئے اور اب مسلمان بھی اسی فتنہ میں مبتلا ہیں۔
آیت میں ان دونوں عورتوں کے بارے میں لفظ خانت آیا ہے جس سے یہ بات تو واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ یہ اپنے شوہروں کی راز و رو وفادار نہیں تھیں لیکن اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ ان کے اندر مخشار کے قسم کی کوئی برائی رہی ہو۔ اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کو اس قسم کی گندگی کے ہر شائبہ سے پاک رکھتا ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ لوط ؑ کی بیوی ان کے پاس آنے والے مہمانوں کی خبر قوم کے گنڈوں کو کردیتی تھی۔ ان کی اس قسم کی بےوفائیوں کو خیانت سے تعبیر فرمایا ہے۔
Ayah 66:11(وضرب اللہ مثلاً للذین امنوا امرات فرعون اذقالت رب ابن لی عندک بیتا فی الجنۃ و نجنی من فرعون وعملہ ونجنی من القوام الظلمین) (11)
(برے سے برے ماحول کے اندر بھی اپنے ایمان کی حفاظت واجب ہے)۔ یہ مثال اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی سبق آموزی کے لیے بیان فرمائی ہے کہ برے سے برے ماحول کے اندر بھی آدمی پر اپنے ایمان کی حفاظت واجب ہے۔ اگر اس ماحول کے اندر سے عیش حاصل ہو جب بھی اس کے ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ محسوس کرے کہ گویا وہ اسے کاٹے کھا رہا ہے اور اگر وہ اس کے لیے دارالعذاب ہو جب بھی وہ ہر قسم کے مصائب جھیل کر اپنے ایمان کی حفاظت کرے۔ فرمایا کہ فرعون کی بیوی ملکہ تھیں اور محل میں رہتی تھیں ان کی دعا یہ تھی کہ اے میرے رب ! تو خاص اپنے پاس جنت میں میرے لیے ایک گھر بنا اور فرعون اور اس کے عمل اور ظالموں کی قوم سے مجھے نجات دے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس ماحول کے اندر وہ اپنے آپ کو ایک دارالعذاب کے اندر محسوس کر رہی تھیں اس لیے کہ پورا ماحول ظلم اور معصیت کا ماحول تھا۔ ایک مومن اور ایک مومنہ کو کفر و معصیت اور ظلم و عدوات کے ماحول میں کبھی اطمینان کا سانس نہیں لینا چاہیے اگرچہ اس کے اندر ذاتی طور پر انہیں شاہی محل ہی حاصل ہو۔
(نجنی من فرعون وعملہ و نجنی من القوم الظلمین) سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ وہ اس رمز سے اچھی طرح آگاہ تھیں کہ آدمی ایک برے ماحول کے اندر راضی ومطمئن ہو تو گو اس کے اندر ہونے والی برائیوں اور تعدیوں میں وہ براہ راست ملوث نہ ہو لیکن ان کے وبال سے وہ محفوظ نہیں رہ سکتا۔ ان کے وبال سے محفوظ رہنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس سے بیزار و نفور رہے اور جب بھی امکان دیکھے اس سے بھاگ کھڑا ہو۔