Ayah 60:1ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو میرے اور اپنے دشمنوں کفار مکہ کو دوست نہ بنائو تم تو ان کے پاس آپسی دوستی کی وجہ سے نبی ﷺ کے ان جہاد کرنے کے ارادہ کا پیغام بھیجتے ہو، جس کو انہوں نے راز دارانہ طور پر تم کو بتادیا ہے اور ارادہ حنین کا ظاہر فرمایا۔
نوٹ :۔ بعض نسخوں میں وری بخیبر ہے جو کہ سبقت قلم ہے صحیح وری بحنین ہے۔
حاطب بن ابی بلتعہ نے اہل مکہ کے پاس اس معاملہ میں ایک خط بھیج دیا تھا، اس لئے کہ ان (اہل مکہ) کے پاس ان (حاطب بن ابی بلتعہ) کی مشرک اولاد اور اہل خانہ تھے، چناچہ حضور ﷺ نے وہ خط اس شخص سے، اللہ تعالیٰ کے (بذریعہ) وحی اطلاع دینے کی وجہ سے واپس منگا لیا تھا، جس کے ذریعہ وہ بھیجا تھا اور حاطب ؓ کا اس معاملہ میں عذر قبول فرما لیا تھا اور اس حق یعنی دین اسلام اور قرآن کے ساتھ جو تمہارے پاس آچکا ہے کفر کرتے ہیں وہ پیغمبر کو اور (خود) تمہیں بھی مکہ سے ان کو تنگ کر کے محض اس وجہ سے نکالتے ہیں کہ تم اپنے رب اللہ پر ایمان رکھتے ہو اگر تم میری راہ میں جہا کے لئے اور میری رضا جوی کے لئے نکلے ہو جواب شرط جس پر اس کا ماقبل دلالت کرتا ہے ” فلا تتخذوھم اولیاء “ ہے یعنی ان کو اپنا دوست نہ بنائو، تو تم ان کے پاس دوستی کی وجہ سے خفیہ طور پر پیغام بھیجتے ہو مجھے خوب معلوم ہے جو تم نے چھپایا اور جو تم نے ظاہر کیا ہے، تم میں سے جو بھی آپ کے پیغام کو خفیہ طور پر پہنچانے کا کام کرے گا وہ یقینا راہ راست سے بہک جائے گا یعنی راہ ہدایت سے گھٹک گیا، سواء کے اصل معنی وسط کے ہیں، اگر وہ تم پر قابو پالیں یعنی کامیاب ہوجائیں تو تمہارے (کھلے) دشمن ہوجائیں گے اور قتل اور مارپیٹ کے لئے تم پر دست درازی اور گالی گلوچ کے لئے زبان درازی کرنے لگیں اور دل سے چاہنے لگیں کہ تم بھی کفر کرنے لگو، تمہاری قرابت داری اور تمہاری مشرک اولاد جن کے لئے تم نے خفیہ پیغام رسائی کی ہے آخرت میں عذاب سے (بچانے) میں کچھ کام نہ آئیں گی، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمہارے اور ان کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔ (یفصل) مجہول اور معروف دونوں ہیں تو تم جنت میں ہوئو گے اور وہ منجملہ کفار کے دوزخ میں ہوں گے اور جو کچھ تم کر رہے ہو اسے اللہ خوب دیکھ رہا ہے (مسلمانو ! ) تمہارے لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) (کے طرز عمل) میں (اسوہ) ہمزہ کے کسرہ اور ضمہ کے ساتھ ہے اور ان کے مومن ساتھیوں میں قولاً و فلعاً بہترین نمونہ ہے جب کہ ان سب نے اپنی قوم سے کہا کہ ہم تم سے اور جن کی تم اللہ کے سوا بندگی کرتے ہو ان سب سے بیزار ہیں (براء اء) بریء کی جمع ہے، جیسا کہ ظریف کی جمع ظرفاء آتی ہے، ہم تمہارے (عقائد) کے بالکل منکر ہیں کفرنا بکم بمعنی انکرنا ہے اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لئے بغض و عداوت ظاہر ہوگئی البغضاء ابداً میں دونوں ہمزوں کی تحقیق اور ثانی کو وائو سے بدل کر جب تک کہ اللہ وحدہ پر ایمان نہ لائو مگر اپنے باپ سے ابراہیم (علیہ السلام) کے قول کہ میں آپ کے لئے ضرور استغفار کروں گا یہ اسوۃ سے مستثنیٰ کرنے لگو، اور مجھے خدا کے سامنے اس کے عذاب اور ثواب میں سے کسی چیز کا اختیار نہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے اس قول (ما املک) سے اس بات کی طرف کنایہ کیا ہے کہ وہ اس کے لئے سوائے استغفار کے کسی چیز کا مالک نہیں، (ما املک) لا ستغفرن پر معطوف ہے اور با عتبار مراد کے مستثنیٰ ہے اور اگرچہ ما املک، اپنے ظاہر یعنی معنی و ضعی کے اعتبار سے ان میں سے ہے، جس کی اقتداء کی جائے (جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا) قل فمن یملک لکم من اللہ شیائً اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے والد کے لئے استغفار حضرت رباہیم (علیہ السلام) پر اس کے اللہ کا دشمن ظاہر ہونے سے پہلے تھا، جیسا کہ سورة برأت میں ذکر کیا گیا، اے ہمارے پروردگار ہم تجھ پر توکل کرتے ہیں اور تیری طرف رجوع کرتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے، یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کا مقولہ ہے، یعنی انہوں نے کہا اے ہمارے پروردگار ! تو ہم کو کافروں کی آزمائش میں نہ ڈال یعنی تو ان کو ہم پر غالب نہ فرما کہ وہ یہ سمجھنے لگیں کہ وہ حق پر ہیں اور فتنہ پردازی کرنے لگیں، یعنی ہمارے بارے میں ان کے دماغ خراب ہوجائیں اور اے ہمارے پروردگار تو ہماری خطائوں کو معاف کر دے، بیشک تو ہی اپنے ملک میں اور اپنی صنعت میں غالب حکمت والا ہے اے امت محمد یہ ! یقینا تمہارے لئے ان میں اچھا نمونہ ہے یہ قسم مقدر کا جواب ہے، اس شخص کے لئے (لمن) کم، سے اعادہ جار کے ساتھ بدل الاشتمال ہے کہ کفار سے (دلی) دوستی رکھے، تو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے بالکل بےنیاز ہے اور اپنے اطاعت گزار بندوں کی حمد و (ثنا) کا سزا وار ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : قصد النبی ﷺ اس میں سا بات کی طرف اشارہ ہے کہ تلقون کا مفعول محذوف ہے۔
قولہ : وری یہ توریۃ کا فعل ماضی ہے، توریہ کہتے ہیں، مقصد کو پوشیدہ رکھنا اور خلاف مقصد کو ظاہر کرنا، یا ایسا لفظ بولنا جو ذومعنیین ہو، ایک معنی قریب ہوں اور دوسرے بعید، متکلم معنی بعید کا ارادہ کرے اور مخاطب معنی قریب مراد لے، جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے تعاقب کرنے والے دشمن کے سوال کے جواب میں فرمایا تھا، رجل یھدینی السبیل ہدایت کے معنی رہبری کرن کے ہیں، رہبری دنیا کے راستہ کی بھی ہوتی ہے یہ معنی قریب ہیں اس لئے اولاً ذہن اسی معنی کی طرف سبقت کرتا ہے اور دوسرے معنی آخرت کی رہنمائی و رہبری کرنے کے ہیں یہ اس کے معنی بعید ہیں، حضرت ابوبکر صدیق ؓ ت عالیٰ عنہ نییہی معنی مراد لئے تھے۔
قولہ : بخیبر، یہ ناقلین کی تصحیف ہے صحیح بحنین ہے، اس لئے کہ غززوہ خیبر ماہ محرم 7 ھ میں فتح مکہ سے ایک سال پہلے واقع ہوا ہے اور فتح مکہ ماہ رمضان 8 ھ میں پیش آیا ہے، یہ آیات فتح مکہ کے وقت نازل ہوئی ہیں اور خیبر اس سے پہلے ہی فتح ہوچکا تھا لہٰذا خیبر کی طرف توریہ کی کوئی صورت نہیں بن سکتی۔
قولہ : بالمودۃ میں باء سبیبہ ہے۔
قولہ : باعلام اللہ تعالیٰ ، یہ فاستردہ، کے متعلق ہے۔
قولہ : لاجل ان امنتم یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ ان تومنوا، بتاویل مصدر ہو کر یخرجون کا مفعول لہ ہے۔
قولہ : للجھاد اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جھاد امفعول لہ، ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اور ان کنتم کا جواب شرط محذوف ہے، جس پر ” لاتتخذوا “ دلالت کرتا ہے اور وہ فلاتتخذوھم اولیاء ہے۔
قولہ : تسرون، یہ تلقون سے بدل ہے۔
قولہ : سوا السبیل یہ اضافت صفت الی الموصوف ہے، ای السبیل السواء
قولہ : لوتکفرون، لو بمعنی ان مصدریہ ای تمنوا کفر کم
قولہ : من العذاب، لن ینفعکم منفی کے متعلق ہے۔
قولہ : یوم القیمۃ اگر یہ لن تنفعکم سے متعلق ہو تو اس وقت یوم القیامۃ پر وقف ہوگا اور یفصل سے جملہ مستانفہ ہوگا اور یہ بھی درست ہے کہ اپنے مابد یفصل سے متعلق ہو، اس صورت میں اولادکم پر وقف ہوگا اور یوم القیمۃ سے جملہ مستانفہ ہوگا۔
قولہ : انا براء اوا جمع بری کظریف یعنی جس طرح ظریف کی جمع ظرفاء آتی ہے اسی طرح بری کی جمع برء اوا آتی ہے۔
قولہ : وابدال الثانیہ واوا یعنی ابداً کو وبداً بھی پڑھ سکتے ہیں۔
قولہ : مستثنیٰ من اسوۃ یعنی الاقول ابراہیم الخ قد کانت لکم اسوۃ حسنۃ فی ابراہیم سے مستثنیٰ ہے، مطلب یہ ہے کہ تمہارے لئے ابراہیم (علیہ السلام) کے ہر قول میں اچھا نمونہ ہے مگر کفار کے لئے استغفار کرنے میں نہیں ہے۔
قولہ : الا قول ابراہیم لابیہ لاستغفرک لک، الا قول ابراہیم الخ مستثنیٰ ہے اور سابق میں قدر کانت لکم اسوۃ حسنۃ مستثنیٰ منہ ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلام والسلام کا ہر وقل و فعل قابل تاسی (یعنی قابل اقتداء) ہے مگر ان کا قول لاستغفرن لک الخ قابل تاسی نہیں ہے، خلاصہ ی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلام والسلام نے جو اپنے کافر والد کے لئے استغفار کیا یہ ہمارے لئے قابل تاسی نہیں کہ ہم بھی کافر کے لئے استغفار کرسکیں گے گویا کہ کافر باپ کی لئے استغفار کرنا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) والسلام کے لئے خاص ہے دوسروں کے لئی اس بارے میں حضرت ابراہیم علیہ الصلام و والسلام کی اقتداء جائز نہیں۔
قولہ : وما ملکلک من اللہ من شیء کا عطف لاستغفرن لک پر ہے اور معطوف و معطوف علیہ کا حکم ایک ہی ہوتا ہے تو مطلب یہ ہوا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے فرمایا کہ : میں آپ کے لئے استغافر کروں گا، اور یہ بھی فرمایا کہ میں آپ کے لئے کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتا، گویا کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلا مو السلام نے اپنے والد سے دو باتیں کہیں اول یہ کہ میں آپ کے لئے استغفار کروں گا دوسری یہ کہ میں آپ کے لئے اللہ کی طرف سے کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتا، ان دونوں باتوں کو الا قول ابراہیم کہہ کر قابل اقتداء ہونے سے درج کردیا، حالانکہ دوسری بات یعنی ما املک لک الخ قابل اقتداء ہے، دلیل اس کی اللہ تعالیٰ کا قول : قل فمن یملک لکم من اللہ شیاً ہے ( سورة فتح) بظاہر ان دونوں آیتوں میں تعارض معلوم ہوتا ہے یعنی ما املک لک من اللہ من شیء اور سورة فتح کی آیت : قل فمن یملک لکم الخ میں تعارض ہے۔
اعتراض :۔ اعتراض کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ہر قول و فعل کو قابل تاسی یعنی قابل اقتداء قرار دیا ہے مگر ان میں سے کافر کے لئے استغفار کو قابل اقتداء ہونے سے مستثنیٰ کردیا ہے اور اس مستثنیٰ پر وما املک لک من اللہ من شیء کا عطف کیا ہے اور یہ بات مسلم ہے کہ معطوف علیہ اور معطوف کا حکم ایک ہی ہوتا ہے، لہٰذا ما املک لک الخ بھی قابل اقتداء ہونے سے خارج ہوگیا حالانکہ سورة فتح کی آیت ” قا فمن یملک لکم من اللہ شئاً “ سے اس کا قابل اقتداء ہونا معلوم ہوتا ہے، اس لئے کہ کوئی بھی شخص اللہ کی طرف سے کسی خیر و شرکا کا مالک نہیں ہے، لہٰذا یہ معلوم ہوا کہ ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کا قول ” ما املک لک من اللہ من شیء ‘ قابل اقتداء ہے نہ کہ ناقابل اقتداء۔
قولہ : کنی بہ عن انہ لا یملک لہ غیر الاستغفار سے مذکورہ اعتراض کا جواب دیا گیا ہے، جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ ما املک لک من اللہ من شیء کے دو معنی ہیں ایک معنی مراد جو کہ یہاں مقصود ہیں، جس کو کنی بہ سے تعبیر کیا ہے اور دوسرے معنی وضعی جو کہ مقصود نہیں ہیں اور وہ یہ ہے کہ ما املک لک من اللہ الخ کو معطوف علیہ یعنی لاستغفرن لک الخ سیخارج کردیا جائے یعنی نہ تو کافر کے لئے استغفار کرنا قابل اقتداء اور نہ یہ کہنا قابل اقتداء ہے کہ میں آپ کے لئے اللہ کی جانب سے کسی نفع و نقصان کا مالک نہیں، حالانکہ دوسری بات آیت فتح کی روشنی میں قابل اقتداء ہے۔
خلاصہ کلام :
خلاصہ کلام یہ کہ ابراہیم الصلوۃ والسلام کا قول ما املک لک الخ معنی مرادی کے اعتبار سے قابل اقتداء ہے، مگر معنی وضعی کے اعتبار سے قابل اقتداء نہیں ہے، مفسر علام کے قول مستثنیٰ من حیث المراد منہ و ان کان من حیث ظاھرہ مما یتاسی فیہ کا یہی مطلب ہے۔
مذکورہ اعتراض کا دوسرا جواب :
قولہ : وما املک لک من اللہ من شیء یہ مستثنیٰ کا تتمہ ہے، اصل مستثنیٰ لاستغفرن الخ ہے، وما املک لک جملہ حالیہ ہونے کی وج ہ سے محلا منصوب ہے اور مجموعہ کے استثناء سے تمام احوال سے استثناء لازم نہیں آتا، لہٰذا مستثنیٰ کا آخری جزء یعنی وما املک لک الخ جو دراصل مستثنیٰ کے لئے قید ہے، قابل تاسی ہونے سے خارج نہ ہوگا، اس کی تائید روح البیان کی عبارت سے بھی ہوتی ہے، فمورد الاستثناء نفس الاستغفار لاقیدہ یعنی اصل مستثنیٰ نفس استغفار ہے نہ کہ اس کی قید : ما املک لک الخ
قولہ : لمن کان یہ اعادہ جار کے ساتھ لکم کی کم ضمیر سے بدل الاشتمال ہے، صحیح تو یہ ہے کہ بدل البعض ہے، اس لئے کہ لمن کان یرجو اللہ، کم کا بعض ہے، البتہ بعض اوقات بدل الاشتمال کا اطلاق بدل البعض پر ہوجاتا ہے (کما صرح الرضی) اور جن حضرات نے ضمیر سے بدل واقع ہونے کو منع کیا ہے تو انہوں نے بدل الکل کو منع کیا ہے اور سیبویہ کے نزدیک بدل مطلقا جائز ہے۔
قولہ : من یتولی شرط ہے اور جواب شرط محذوف ہے اس کی تفسیر فوبالہ علی نفسہ اللہ تعالیٰ کا قول فان اللہ الخ جواب کی علت ہے۔
تفسیر و تشریح
شان نزول :
یا یھا الذین امنوا لاتتخذوا عدوی وعدوکم اولیاء اس سورت کے مضمون سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سورت کے نزول کا زمانہ صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے درمیان کا ہے جمہور مفسرین نے اسی کو اختیار کیا ہے اور ابن عباس، مجاہد، قتادہ اور عروہ بن زبیر ؓ وغیرہ کی بھی متفقہ رائے یہی ہے کہ ان آیات کا نزول اس وقت ہوا جس وقت کہ مشرکین مکہ کے نام حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کا خط پکڑا گیا تھا۔
واقعہ کی تفصیل :
مشرکین مکہ اور نبی ﷺ کے درمیان حدیبیہ میں جو معاہدہ ہوا تھا، اہل مکہ نے اس کی خلاف ورزی کی اس لئے رسول اللہ ﷺ نے مکہ پر حملہ کرنے کی خفیہ طور پر تیاری شروع فرما دی، اس پروگرام کو صیغہ راز میں رکھا گیا اور چند مخصوص صحابہ کے علاوہ آپ ﷺ نے کسی کو نہ بتایا کہ آپ ﷺ کس مہم کے لئے تیار فرما رہے ہیں ؟ ایسا جنگی حال کے طور پر کیا گیا تاکہ دشمن کو قبل از وقت مسلمانوں کی سرگرمیوں اور ان کے منصوبوں کا پتہ نہ چل سکے، حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ؓ ایک صحابی ہیں، جو کہ بدریین میں سے تھے، یمن کے رہنے والے تھے مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ میں بود و باش اختیار کرلی تھی مکہ والوں سے ان کی کوئی رشتہ داری نہیں تھی، لیکن ان کے بیوی بچے اور دیگر اہل خانہ مکہ ہی میں تھے۔
انہوں نے سوچا کہ میں قریش مکہ کو آپ ﷺ کی مکہ پر حملہ کی تیاری کی اطلاع دے کر ایک احسان کر دوں، تاکہ وہ اس کے احسان کے بدلے ان کے بیوی بچوں کا خیال رکھیں، اتفاق سے اسی زمانہ میں مکہ معظمہ سے ایک عوتر آئی جو پہلے نبی عبدالمطلب کی لونڈی تھی، اس نے آزاد ہو کر گانے بجانے کا کام شروع کردیا تھا، اس کا نام سارہ تھا اس نے مدینہ آ کر آپ ﷺ سے اپنی تنگ دستی کی شکایت کی اور کچھ مالی مدد کی طالب ہوئی، رسول اللہ ﷺ نے اس سے دریافت فرمایا کہ کیا ہجرت کر کے آئی ہو ؟ تو اس نے کہا نہیں، اس کے بعد دریافت فرمایا کیا تم مسلمان ہو کر آئی ہو ؟ اس کا جواب بھی نفی میں دیا، تو آپ ﷺ نے پوچھا کہ پھر تم یہاں کس غرض سے آئی ہو ؟ تو اس نے کہا کہ آپ ﷺ مکہ کے اعلیٰ خادان کے لوگ تھے آپ ﷺ لوگوں ہی سے میرا گذارا تھا، مکہ کے بڑے بڑے سردار تو غزوہ بدر میں مارے گئے اور آپ لوگ یہاں چلے آئے، اب میرا گذارہ مشکل ہوگیا ہے، میں سخت حاجت اور ضرورت میں مبتلا ہو کر آپ سے مدد لینے کے لئے یہاں آئی ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا : تم تو مکہ مکرمہ کی پیشہ ور مغنیہ ہو وہ مکہ کے نوجوان کیا ہوئے (جو تجھ پر روپے پیسے کی بارش کرتے تھے) اس نے کہا واقعہ بدر کے بعد ان کی تقریبات جشن طرب ختم ہوچکی ہیں اس وقت سے مجھے کسی نے نہیں بلایا، رسول اللہ ﷺ نے بنی عبدالمطلب کو اس کی مدد کی ترغیب دی، انہوں نے اس کو نقد اور کپڑے وغیرہ دے کر رخصت کیا۔ (معارف ملخصاً )
جب وہ مکہ جانے لگی تو حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ؓ اس سے ملے اور چپکے سے اس کو بعض سردار ان مکہ کے نام ایک خط دے دیا اور دس دینار دیئے تاکہ وہ راز فاش نہ کرے اور یہ خط مکہ کے سرداروں کو پہنچا دے بعض روایتوں میں دس دیناروں کے ساتھ ایک چادر دینے کا بھی ذکر ہے (اعراب القرآن بحوالہ قشیری والثعلبی) ابھی وہ مدینہ سے روانہ ہی ہوئی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی اس واقعہ کی اطلاع آپ ﷺ کو دے دی، آپ ﷺ نے فوراً ہی حضرت علی ؓ ، حضرت زبیر ؓ اور حضرت مقداد بن اسود ؓ کو اس کے پیچھے روانہ کیا (بعض روایات میں دوسرے ناموں کا ذکر ہے) اور حکم دیا کہ تیزی سے جائو، روضہ خاخ کے مقام پر ایک عورت ملے گی جس کے پاس مشرکین کے نام حاطب ؓ کا ایک خط ہے جس طرح بھی ہو اس سے وہ خط حاصل کرو اگر وہ دیددے تو اسے چھوڑ دینا اگر نہ دے تو اس کو قتل کردینا۔
خط کا متن :
اما بعد ! فان رسول اللہ قد توجہ الیکم بجیش کاللیل یسیر کالسیل، واقسم باللہ لولم یسر الیکم الا وحدہ لاظفرہ اللہ بکم، ولانجزلہ موعدہ فیکم، فان اللہ ولیہ و ناصرہ
ترجمہ :۔ حمد و صلوۃ کے بعد، بیشک اللہ کے رسول تمہارے تمہاری طرف متوجہ ہوئے ہیں ایسا لشکر لے کر جو (کثرت میں) رات کی مانند ہے اور چلنے میں سیلاب کی مانند ہے اور میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں اگر وہ تمہاری طرف صرف اکیلے ہی متوجہ ہوتے تو بھی اللہ تعالیٰ یقیناً ان کو تم پر فتح عطا فرماتا اور ان سے تمہارے بارے میں اپنے وعدے کی ضرور تکمیل فرماتا، بلاشبہ اللہ اس کا والی اور ناصر ہے۔
حضرت علیرضی اللہ تعالیٰ عنہم فرماتے ہیں کہ ہم نے حکم کے مطابق تیزی سے اس کا تعاقب کیا، اور ٹھیک اسی جگہ جہاں کے لئے رسول اللہ ﷺ نے خبر دی تھی اس عورت کو اونٹ پر سوار جاتے ہوئے پکڑ لیا، ہم نے اس سے کہا وہ خط نکالو جو تمہارے پاس ہے، اس نے کہا میرے پاس کسی کا کوئی خط نہیں ہے، ہم نے اس کے اونٹ کو بٹھا دیا، اس کی تلاشی لی مگر خط ہمارے ہاتھ نہ لگا، لیکن ہم نے دل میں کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی خبر غلط نہیں ہوسکتی ضرور خط اس نے کہیں چھپایا ہے، پھر ہم نے اس سے کہا، تو خط نکال کر دیدے ورنہ ہم ننگا کر کے تیری جامہ تلاشی لیں گے، جب اس نے دیکھا کہ ہم سے نجات مشکل ہے، تو اس نے اپنی چوٹی سے خط نکال کردیا، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ ہم یہ خط لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے، حضرت عمر بن الخطاب ؓ نے واقعہ سنتے ہی رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ اس شخص نے اللہ اور اس کے رسول اور سب مسلمانوں سے خیانت کی ہے، ہمرا راز کفار کو لکھ دیا، مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس کی گردن مار دوں، آپ ﷺ نے فرمایا اے عمر ! حاطب بدر میں حاضر تھا اور تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اہل بدر کے قلوب پر مطلع ہوگیا (یعنی ان کے اخلاص و ایمان کو جان لیا ہے) اور فرمایا ہے : اعملوا ماشئتم فقد غفرت لکم جو چاہو سو کرو میں نے تمہارے گناہ خش دیئے ہیں۔ (خلاصتہ التفاسیر) آپ ﷺ کی جانب سے معافی کا اعلان سنا تو عمر ؓ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتا ہے۔ (ابن کثیر)
حاطب بن ابی بلتعہ ؓ آپ ﷺ کی خدمت میں :
آپ ﷺ نے حاطب ؓ سے پوچھا تم نے یہ کیا کیا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے یہ کام کفر و ارتداد کی وجہ سے نہیں کیا بلکہ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ دیگر مہاجرین کے رشتہ دار مکہ میں موجود ہیں جو ان کے بال بچوں کی حفاظت کرتے ہیں، میرا وہاں کوئی رشتہ دار نہیں ہے تو میں نے یہ سوچا کہ میں اہل مکہ کو کچھ اطلاع کر دوں تاکہ وہ میرے احسان مند رہیں اور میرے بچوں کی حفاظت کریں، آپ ﷺ نے ان کی سچائی کی وجہ سے انہیں کچھ نہیں کہا تاہم اللہ نے تنبیہ کے طور پر یہ آیات نازل فرما دیں، تاکہ آئندہ کوئی مومن کے ساتھ اس طرح کا تعلق مودت قائم نہ کرے، سورة ممتحنہ کی ابتدائی آیتیں اسی واقعہ کے سلسلہ میں نازل ہوئی ہیں۔ (صحیح بخاری تفسیر سورة الممتحنہ، صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابۃ)
تلقون الیھم بالمودۃ (الآیۃ) مطلب یہ ہے کہ نبی ﷺ کی خفیہ باتیں ان تک پہنچا کر ان سے دوستانہ تعلق قائم رکھنا چاہتے ہو، حالانکہ تم کو میرے اور اپنے دشمنوں کے ساتھ دوستی کے تعلقات قائم نہیں کرنے چاہئیں کفار کو اس قسم کے خط لکھنا یہ ان کو دوستی کا پیغام دینا ہے، اپنے اور خدا کے دشمنوں سے دوستی کی توقع رکھنا سخت دھوکا ہے اس سے بچنا چاہیے اور یہ بات یاد رکھو، کہ کافر جب تک کافر ہے وہ کسی مسلمان کا اور مسلمان جب تک کہ وہ مسلمان ہے کبھی کافر کا دوست نہیں ہوسکتا، شرک اور کفر کی وجہ سے تمہارا اور ان کا کوئی تعلق نہیں ہوسکتا، اللہ کے پرستاروں کا بھلا غیر اللہ کے پجاریوں سے کیا تعلق ؟
یخرجون الرسول وایاکم (الآیۃ) یعنی پیغمبر ﷺ اور تم کو کیسی کیسی ایذائیں دیکر ترک وطن پر مجبور کیا محض اس قصور پر کہ تم ایک اللہ کو جو کہ تمہارا اور سب کا رب ہے کیوں مانتے ہو ؟ ان کنتم خرجتم جھاداً فی سبیلی (الآیۃ) یعنی تمہارا گھر بار کو چھوڑ کر نکلنا اگر میری خوشنودی اور میری راہ میں جہاد کرنے کیلئے ہے اور خلاص میری رضا کے واسطے تم نے سب کو اپنا دشمن بنایا ہے، تو پھر انہیں دشمنوں سے دوستی گانٹھنے کا کیا مطلب ہے ؟ کیا جنہیں ناراض کر کے اللہ کو راضی کیا تھا اب انہیں راضی کر کے اللہ کو نارضا کرنا چاہتے ہو ؟ وانا اعلم بما اخفیتم (الآیۃ) یعنی اگر کوئی انسان کوئی کام دنیا سے چھپا کر کرتا ہے تو کیا اس کو اللہ سے بھی چھپا پائے گا، دیکھو حاطب ؓ نے کس قدر کوشش کی کہ خط کی اطلاع کسی کو نہ ہو، مگر اللہ نے اپنے رسول کو مطلع فرما دیا۔
Ayahs 60:2–4ان یثقفوکم یکونوا لکم اعداء یعنی ان کافروں سے بحالت موجودہ کسی بھلائی کی امید مت رکھو، خواہ تم کتنی ہی روا داری اور دوستی کا اظہار کرلو گے وہ کبھی تمہارے خیر خواہ نہیں ہوسکتے، انتہائی روا داری کے باوجود اگر تم پر ان کا قابو چڑھ جائے تو کسی قسم کی برائی اور دشمنی سے درگزر نہ کریں گے، زبان سے ہاتھ سے غرضیکہ ہر طرح سے ایذاء پہنچائیں گے اور ان کی یہ خواہش ہوگی کہ تم کفر میں وکا پس پلٹ آئو، کیا ایسے شریر اور بد باطن اس لائق ہیں کہ ان کو دوستانہ پیغام بھیجاجائے۔
Ayahs 60:5–6ربنا لاتجعلنا فتنۃ للذین کفروا (الآیۃ) یعنی کافروں کو ہم پر غلبہ اور تسلط عطا نہ فرما، اس طرح وہ سمجھیں گے کہ وہ حق پر ہیں، یوں ہم ان کے لئے فتنہ کا باعث بن جائیں گے۔
Ayah 60:7ترجمہ : کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ہی تم میں اور تمہارے دشمنوں میں محبت پیدا کر دے جن کفار مکہ سے تم نے خدا کی طاعت میں دشمنی کی ہے، اس طریقہ سے کہ وہ ان کو ایمان کی ہدایت دیدے، تو وہ تمہارے دوست ہوجائیں، اللہ ت عالیٰ اس بات پر قادر ہے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ کے بعد ایسا کر بھی دیا اور اللہ تعالیٰ ان کے سابقہ (گناہوں) کو معاف کرنے والا ان پر رحم کرنے والا ہے اللہ ت عالیٰ تم کو ان کفار کے ساتھ جنہوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں کی اور نہ انہوں نے تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ہے حسن سلوک کرنے سے الذین سے بدل الاشتمال ہے اور انصاف کا برتائو کرنے سے منع نہیں کرتا اور یہ حکم، جہاد کا حکم نازل ہونے سے پہلے کا ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ تو انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ تمہیں صرف ان لوگوں کی محبت سے روکتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائیاں لڑیں اور تمہیں جلا وطن کیا، اور تم کو جلا وطن کرنے میں مدد کی الذین سے بدل الاشتمال ہے، یعنی یہ کہ تم ان کو دسوت نہ بنائو، جو لوگ ایسے کافروں سے محبت کریں وہ (قطعا) ظالم ہیں، اے ایمان والو ! جب تمہارے پاس اقرار کرنے والی مومن عورتیں کفار سے ہجرت کر کے آئیں ان کے ساتھ حدیبیہ میں اس بات پر صلح کرنے کے بعد کہ جو ان میں سے مومنین کے پاس آئے گا اس کو لوٹا دیا جائے گا، تو ان کو حلف کے ذریعہ جانچ کرلیا کریں کہ وہ صرف اسلام میں رغبت کی وجہ سے ہجرت کر کے آئی ہیں، نہ کہ اپنے کفار شوہروں سے بعض کی وجہ سے، اور نہ کسی مسلمان سے عشق کی وجہ سے، آپ ﷺ ان سے ایسی ہی قسم لیا کرتے تھے، ان کے حقیقی ایمان کو تو اللہ ہی خوب جانتا ہے لیکن اگر وہ تمہیں قسم کی وجہ سے مومنہ معلوم ہوں تو تم ان کو کافروں کی طرف مت لوٹائو یہ ان کے لئے حلال نہیں اور نہ وہ ان کے لئے حلال ہیں اور ان کے کافر شوہروں کو جو مہران پر خرچ ہوا ہو وہ ان کو دیدو اور جب تم ان عورتوں کا مہر ادا کردو تو تم پر ان سے نکاح کرنے میں نکاح کی شرط کے ساتھ کوئی گناہ نہیں ہے اور اپنی بیویوں میں سے کافر عورتوں کی ناموس اپنے قبضے میں نہ رکھو تمہارے اسلام کے ان کو (تم سے) منقطع کرنے کی وجہ سے اس کی شرط کے ساتھ یا ان بیویوں کے مرتد ہو کر مشرکین سے جا ملنے کے سبب ان کے ارتداد کے سبب، تمہارے نکاح منقطع کرنے کی وجہ سے اس کی شرط کے ساتھ، اور جو کچھ تم نے ان پر مہر خرچ کیا ہو ان کے ارتداد کی صورت میں ان کے کافر شوہروں سے طلب کرلو، اور وہ بھی مہاجرات پر خرچ کیا ہوا مال طلب کرلیں جیسا کہ سابق میں گذر چکا کہ ان کو دیا جائے گا یہ اللہ کا فیصلہ ہے جو تمہارے درمیان کر رہا ہے، اللہ تعالیٰ بڑا علم و حکمت والا ہے اور اگر تمہاری کوئی بیوی تمہارے ہاتھ سے نکل جائے ایک یا اس سے زیادہ یا ان کا کچھ مہر فوت ہوجائے اور مرتد ہو کر ان کفار سے جا ملنے کی وجہ سے، پھر جب تم ان سے جہاد کرو اور تم کو مال غنیمت حاصل ہو تو جن کی بیویاں چلی گئی ہیں تو انہیں ان کے اخراجات کے برابر ان کو مال غنیمت سے دیدو کفار کی طرف سے ان کے نفقہ کے فوت ہوجانے کی وجہ سے اور اس اللہ سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان رکھتے ہو اور بلاشبہ مومنین نے اس پر عمل کیا جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا، یعنی کافروں اور مومنین کو دیکر، پھر یہ حکم منسوخ ہوگیا، اے پیغمبر ! جب مسلمان عورتیں آپ ﷺ سے ان باتوں پر بیعت کرنے آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گی اور نہ چوری کریں گی اور زنا، نہ کریں گی اور اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی جیسا کہ وہ زمانہ جاہلیت میں بیٹیوں کو زندہ دفن کیا کرتی تھیں یعنی شرم یا فقر کے خوف سے ان کو زندہ دفن کیا کرتی تھیں اور نہ کوئی بہتان کی اولاد دلائیں گی جس کو اپنے ہاتھوں اور پیروں کے درمیان بنا لیویں یعنی اٹھائے ہوئے بچہ کو اپنے شوہر کی طرف منسوب نہ کریں گی (بین ایدیھن) سے ولد حقیقی کا وصف بیان کیا ہے، اس لئے کہ ماں جب اس کو جنتی ہے تو وہ اس کے ہاتھوں اور پیروں کے درمیان گرتا ہے اور کسی نیک کام میں تیری حکم عدولی نہ کریں گی اور نیک کام وہ ہے جو اللہ کی طاعت کے مطابق ہو، جیسا کہ نوحہ کرنے کو اور کپڑے پھاڑ نے کو اور بال نوچنے کو اور گریبان پھاڑنے کو اور چہرہ نوچنے کو ترک کرنا ہے، تو آپ ﷺ انس سے بیعت فرما لیا کریں آپ ﷺ نے بیعت کا یہ عمل قولات فرمایا اور کسی عورت سے مصافحہ نہیں فرمایا اور ان کے لئے اللہ سے مغفرت طلب کریں، بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والا معاف کرنے والا ہے اے مسلمانو ! تم اس قوم سے دوستی نہ رکھو جن پر اللہ کا غضب نازل ہوچکا ہے وہ یہود ہیں جو آخرت سے اس طرح مایوس ہوچکے ہیں یعنی اس کے ثواب سے آخرت پر ایمان رکھنے کے باوجود آنحضرت ﷺ سے عنا دیک وجہ سے ان کے برحق ہونے کا علم رکھنے کے باوجود جیسا کہ کفار جو قبروں میں آخرت کی خیر سے ناامید ہوچکے ہیں جب کہ ان کے روبرو ان کا جنت کا ٹھکانہ پیش کیا جائے گا اگر ایمان لائے ہوتے اور جہنم کا وہ ٹھکانہ جس کی طرف وہ جا رہے ہوں گے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : طاعۃ للہ تعالیٰ ای عادیتم لاجل طاعۃ اللہ طاعۃ للہ یہ عادیتم کا مفعول لہ ہے۔
قولہ : تقضوا تقسطوا کی تفسیر تقضوا سے کر کے یہ بتادیا کہ تقسطوا، تقضوا کے معنی کو متضمن ہے، تاکہ اس کا صلہ الی لانا صحیح ہوجائے، تقسطوا کا عطف تبروھم پر عطف خاص علی العام کے قبیل سے ہے، بہتر ہوتا کہ تقسطوا کی تفسیر تعطوھم قسطامن اموالکم سے کرتے یعنی ان کے ساتھ حسن سلوک کروا اور ان کو اپنے اموال میں سے کچھ دیدیا کرو، اس لئے کہ صرف نہ لڑنے والے کافروں کے ساتھ انصاف کرنے کا کوئی مطلب ہی نہیں، عدل و انصاف تو ہر ایک کے ساتھ ضروری ہے خواہ وہ محارب ہو یا نہ ہو، لہذا عدل کی تخصیص صرف غیر مہاجرین کے ساتھ مناسب نہیں ہے۔
قولہ : بشرطہ یعنی نکاح کے شرائط کو پورا کر کے تم ان سے نکاح کرسکتے ہو مثلاً یہ کہ حالت اسلام میں اس کی عدت گذر جائے اگر وہ مدخول بہا ہو اور یہ کہ گواہوں کی موجودگی میں نکاح ہو۔
قولہ : عصم، عصمۃ کی جمع ہے بمعنی نکاح، ناموس، کو افر، جمع کافرۃ جیسا کہ ضوارب، جمع ضاربۃ
قولہ : لقطع اسلامکھم لھا بشرطہ، ای بشرط القطع
تفسیر و تشریح
سابقہ آیات میں مسلمانوں کو اپنے کافر رشتہ داروں سے قطع تعلق کی جو تلقین کی گئی تھی، اس پر سچے اہل ایمان اگرچہ بڑے ضبر و ضبط کے ساتھ عمل کر رہے تھے، مگر اللہ کو معلوم تھا کہ اپنے ماں، باپ، بہنوں اور قریب ترین عزیزوں سے تعلق توڑ لینا کیسا سخت اور مشکل کام ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو تسلی دی کہ وہ وقت دور نہیں ہے جب تمہارے یہی کافر رشتہ دار مسلمان ہوجائیں گے اور آج کی دشمنی کل پھر محبت میں تبدیل ہوجائے گی، جن حالات میں یہ بات کہی گئی تھی کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا کہ یہ نتیجہ کیسے رونما ہوگا اس لئے کہ بظاہر دور دور تک بھی اس کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی، ان آیات کے نزول کے چند ہی ہفتہ بعد مکہ فتح ہوگیا اور مکہ کے لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے لگے اور مسلمانوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ جس چیز کی انہیں امید دلائی گئی تھی وہ کیسے پوری ہوئی۔
Ayahs 60:8–9لاینھکم الذین لم یقاتلو کم فی الدین (الآیۃ) اس مقام پر یہ شبہ پیدا ہوسکتا ہے کہ دشمنی نہ کرنے والے کافروں سے حسن سلوک کرنا تو اچھی بات ہے مگر کیا انصاف بھی ان ہی کے لئے مخصوص ہے اور کیا دشمن کافروں کے ساتھ ناانصافی کرنا چاہیے ؟ جواب یہ ہے کہ عدل و انصاف تو ہر شخص کے ساتھ ضروری ہے، خواہ کافر ہو یا غیر کافر، حتی کہ اسلام کی تو یہ ہدایت ہے کہ دشمنوں کے ساتھ بھی عدل و انصاف کیا جائے اس میں کافر وغیرہ کافر اور حربی وغیرہ حربی سب برابر ہیں، بلکہ اسلام میں تو انصاف جانوروں کے ساتھ بھی ضروری ہے، اس آیت میں بھلائی اور احسان کرنے کی ہدایت ہے، ان ہی معنی کی رعایت کے لئے تقسطوا کو تعطوا کے معنی میں اور مقسطین بمعنی معطیین لیا ہے۔
مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ نقلی صدقات ذمی اور مصالح کافر کو دیئے جاسکتے ہیں، صرف کافر حری کو دینا ممنوع ہے۔
مذکورہ آیت میں ان کفار کے بارے میں بتایا گیا کہ جو مسلمانوں کے مقابلہ میں جنگ کر رہے ہوں اور مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکالنے میں حصہ لے رہے ہوں، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ال لہ تعالیٰ ان کے ساتھ موالات اور دلی دوستی سے منع فرماتا ہے، اس میں برواحسان کا معاملہ کرنے سے ممانعت نہیں، بلکہ صرف قبلی دوستی سے منع کیا گیا ہے اور یہ ممانعت صرف برسر پیکار دشمنوں کے ساتھ ہی خاص نہیں، بلکہ اہل ذمہ اور اہل صلح کافروں کے ساتھ بھی قلبی موالات اور دوستی جائز نہیں۔
سابقہ آیات میں کفار سے جس ترک تعلق کی ہدایت کی گئی تھی اس کے متعلق کسی کو یہ غلط فہمی لاحق ہوسکتی تھی کہ یہ ان کے کافر ہونے کی وجہ سے ہے، اس لئے انما ینھکم الذین قتلوکم فی الدین (الآیۃ) میں یہ بتایا گیا کہ اس کی اصل وجہ ان کا کفر نہیں بلکہ اسلام اور اہل اسلام کے ساتھ ان کی عداوت اور ان کی ظالمانہ روش ہے، لہٰذا مسلمانوں کو دشمن کافر اور غیر دشمن کافر میں فرق کرنا چاہیے اور ان کافروں کیساتھ احسان و حسن سلوک کا معاملہ کرنا چاہیے، جنہوں نے کبھی ان کے ساتھ برائی نہ کی ہو، اس کی بہترین تشریح وہ واقعہ ہے جو حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ اور ان کی کافر والدہ کے درمیان پیش آیا تھا، حضرت ابوبکر ؓ کی ایک بیوی قتیلہ بنت عبدالعزیز کافروہ تھیں اور ہجرت کے بعد مکہ ہی میں رہ گئی تھیں حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ ان ہی کے بطن سے تھیں، صلح حدیبیہ کے بعد جب مکہ اور مدینہ کے درمیان آمد و رفت کا راستہ کھل گیا تو وہ اپنی بیٹی (اسماء ؓ سے ملنے کے لئے مدینہ طیبہ آئیں اور کچھ تحفہ تحائف بھی لائیں، خود حضرت اسماء ؓ کی یہ روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے معلوم کیا کہ کیا اپنی ماں سے مل لوں ؟ اور کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی بھی کرسکتی ہوں ؟ آپ نے فرمایا ان سے صلہ رحمی کرو، (مسند احمد بخاری، مسلم) اس سے خود بخود یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ایک مسلمان کے لئے اپنے کافر ماں باپ کی خدمت کرنا بھائی، بہنوں اور رشتہ داروں کی مدد کرنا جائز ہے، جب کہ وہ دشمن اسلام نہ ہوں۔ (احکام القرآن للحصاص، روح المعانی)
Ayah 60:10شان نزول :
یا یھا الذین امنوا اذا جاء کم المومنت مھاجرات (الآیۃ) یہ آیتیں صلح حدیبیہ کے موقع پر ایک خاص واقعہ کے متعلق نازل ہوئی ہیں اس واقعہ کا بیان سورة فتح کے آغاز میں گذر چکا ہے۔
معاہدہ صلح حدیبیہ کی بعض شرائط کی تحقیق :
واقعہ حدیبیہ کی تفصیل سورة فتح میں گذر چکی ہے، جس میں قریش مکہ اور آنحضرت ﷺ کے درمیان ایک معاہدہ صلح دس سال کے لئے لکھا گیا تھا اس معاہدہ کی بعض شرائط ایسی تھیں جن میں دب کر صلح کرنے اور مسلمانوں کی بظاہر مغلوبیت محسوس ہوتی تھی، اسی لئے صحابہ کرام ؓ میں اس پر غم و غصہ کا اظہار ہوا مگر رسول اللہ ﷺ باشارات ربانی یہ محسوس فرما رہے تھے کہ اس وقت کی چند روزہ مغلوبیت بالآخر ہمیشہ کے لئے فتح مبین کا پیش خیمہ بننے والی ہے، اس لئے قبول فرما لیا اور پھر سب صحابہ کرام ؓ بھی مطمئن ہوگئے۔
اس صلح نامہ کی ایک شرط یہ بھی تھی کہ اگر مکہ مکرمہ سے کوئی آدمی مدینہ جائے گا تو آپ ﷺ اس کو وپ اس کردیں گے اگرچہ وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو اور اگر مدینہ طیبہ سے کوئی مکہ مکرمہ چلا جائے گا تو قریش اس کو واپس نہ کریں گے، اس معاہدہ کے الفاظ عام تھے جس میں بظاہر مرد و عورت دونوں داخل تھے یعنی کوئی مسلمان مرد یا عورت، جو بھی مکہ سے آنحضرت ﷺ کے پاس جائے اس کو آپ ﷺ واپس کریں گے۔
جس وقت یہ معاہدہ مکمل ہوچکا اور ٓپ ﷺ ابھی مقام حدییہ ہی میں تشریف فرما تھے کہ کئی ایسے واقعات پیش آئے جو مسلمانوں کے لئے بہت صبر آزما تھے، جن میں ایک واقعہ ابوجندل ؓ کا ہے جس کو قریش مکہ نے قید میں ڈال رکھا تھا وہ کسی طرح ان کی قید سیف رار ہو کر آپ ﷺ کے پاس پہنچ گئے صحابہ کرام ؓ میں ان کو دیکھ کر بہت تشویش ہوئی کہ معاہدہ کی رو سے ان کو وپ اس کیا جانا چاہیے، لیکن ہم اپنے مظولم بھائی کو پھر ظالموں کے ہاتھ میں دیدیں یہ کیسے ہوگا ؟
مگر رسول اللہ معاہدہ تحریر فرما چکے تھے، ایک فرد کی خاطر اس معاہدہ کو ترک نہیں کیا جاسکتا تھا، جس کی وجہ سے آپ ﷺ نے ابو جندل ؓ کو سمجھا بجھا کر واپس کردیا۔
اسی کے ساتھ ایک دوسرا واقعہ یہ پیش آیا جس کو ابن ابی حاتم نے روایت کیا ہے کہ سبیعہ بنت الحارث الاسلمیہ جو مسلمان تھیں، صیفی بن الراہب کے نکاح میں تھیں جو کافر تھا بعض روایات میں اس کے شوہر کا نام مسافر المخزومی بتلایا گیا ہے (اس وقت تک مسلمانوں اور کافروں کے درمیان رشتہ مناکحت طریفین سے حرم نہیں ہوا تھا) یہ مسلمان عورتیں مکہ سے بھاگ کر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئیں (روح المعانی) آپ ﷺ نے ان کو واپس نہیں کیا البتہ اس پر جو کچھ مہر وغیرہ خرچ ہوا تھا وہ دیدیا اس کے بعد حضرت عمر ؓ نے اس سے نکاح کرلیا۔ (روح المعانی)
مذکروہ آیات کا پس منظر :
اس حکم کا پس منظر یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد اول اول تو مسلمان مرد مکہ سے بھاگ بھاگ کر مدینہ آتے رہے اور انہیں معاہدہ کی شرائط کے مطابق واپس کیا جاتا رہا، پھر مسلمان عورتوں کے آنے کا سلسلہ شروع ہوگیا سب سے پہلے ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط ہجرت کر کے مدینہ پہنچیں، کفار نے معاہدہ کا حوالہ دے کر ان کی واپسی کا بھی مطالبہ کیا، ام کلثوم کے دو بھائی ولید بن عقبہ اور عمارہ بن عقبہ انہیں واپس لے جانے کے لئے آئے ا، اور آپ ﷺ سے اپنی بہن ام کلثوم کی واپسی کا مطالبہ کیا، اس کے بارے میں مذکورہ آیت نازل ہوئی، جس کی وجہ سے آپ ﷺ نے اس کو وپ اس نہیں کیا۔
اور ایک روایت میں ہے کہ مذکورہ آیت امیمہ بنت بشر جو کہ بنی عمرو بن عون کی عورت تھی اور ابی حسان بن الدحد احہ کے نکاح میں تھی مسلمان ہو کر ہجرت کر کے آپ ﷺ کی خدمت میں حاض رہوئی تھی اس کے اہل خانہ نے واپسی کا مطالبہ کیا تو مذکورہ آیت نازل ہوئی، جس کی وجہ سے آپ ﷺ نے انک و رد فرما دیا اس کے بعد ہیل بن صیف نے اس سے نکاح کرلیا عبداللہ بن سہیل ان سے پیدا ہوئے۔ (روح المعانی)
مذکورہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ آیت کے اسباب نزول متعدد ہیں بہرحال شان نزول کا واقعہ جو بھی ہو مگر آیت عہد نامہ صلح کی اس دفعہ کی وضاحت کے لئے نازل ہوئی جس کے الفاظ کے عموم کی رو سے ہر مسلمان کو خواہ مرد ہو یا عورت واپس کرنا ضروری تھا، چناچہ آیت نے وضاحت فرما دی کہ عہد نامہ کے الفاظ اگرچہ عام ہیں مگر اس میں عورتیں داخل نہیں ہیں، مطلب یہ کہ عورتوں کو واپس نہ کرنا نقض عہد کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ عہد نامہ کی ایک دفعہ کی تشریح کا مسئلہ تھا، کفار مکہ اس دفعہ کی تشریح اس کے برخلاف کرتے تھے جو مسلمان کرتے تھے کہ عوتریں اس عموم میں داخل نہیں چناچہ آیت شریفہ نے اس دفعہ کی یہی تشریح و وضاحت فرمائی، ہاں عورتوں کے معاملہ میں صرف اتنا کہا جاسکتا ہے کہ جو عورت مسلمان ہو کر ہجرت کر کے آئے اس کے کافر شوہر نے جو کچھ اس پر مہر کی صورت میں خرچ کیا ہے وہ خرچ اس کو وپ اس کردیا جائے۔
یا یھا الذین امنوا اذا جاء کم المومنت منجرات فامتحنوھن، اللہ اعلم بایمانھن (الآیۃ) عورتوں کی معاہدہ سے مستثنیٰ ہونے کی وجہ، ان کا مسلمان ہونا ہے، مکہ سے مدینہ آنے والی عورتوں میں یہ احتمال تھا کہ وہ ایمان اور اسلام کی خاطر نہ آئی ہوں، بلکہ کوئی اور غرض ہو مثلاً اپنے شوہر سے ناراضی کے سبب یا مدینہ کے کسی شخص کی محبت کے سبب آئی ہو یا کسی اور دنیوی غرض سے ہجرت کر کے آگئی ہو، وہ عندا للہ اس شرط سے مستثنیٰ نہیں اس لئے مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ ہجرت کر کے آنے والی عورتوں کا امتحان لو۔ (معارف)
” مہاجرات “ کے امحتان لینے کا طریقہ :
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ مہاجرات کے امحان کا طریقہ یہ تھا کہ مہاجرات سے حلف لیا جاتا تھا کہ وہ اپنے شوہر سے بغض و نفرت یا مدینہ کے کسی آدمی کی محبت کی وجہ سے یا کسی اور دنیوی غرض سے نہیں آئی ہیں، بلکہ ان کا آنا خالص اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت اور رضا جوئی کے لئے ہے، جب وہ یہ حلف اٹھا لیتیں تو رسول اللہ ﷺ اس کو مدینہ میں رہنے کی اجازت دیدیتے، اور اس کا مہر وغیرہ جو اس نے اپنے کافر شوہر سے وصول کیا تھا وہ اس کے کافر شوہر کو واپس دے دیتے تھے۔ (قرطبی)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی ترمذی میں روایت ہے جس کو ترمذی نے حسن صحیح کہا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان کے امحتان کی صورت وہ بیعت تھی جس کا ذکر اگلی آیت میں تفصیل سے آیا ہے ” اذا جاءک المومنات یبایعنک “ (الآیۃ) گویا آنے والے مہاجر عورتوں کے امتحان کا طریقہ ہی یہ تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک پر ان چیزوں کا عہد کریں جو اس بیعت کے بیان میں آگے آتی ہیں اور یہ بھی کچھ بعید نہیں کہ ابتدائی طور پر پہلے وہ کلمات، مہاجرات سے کہلوائے جاتے ہوں جو بروایت ابن عابس ؓ اوپر ذکر کئے گئے ہیں اور اس کی تکمیل اس بیعت سے ہوتی ہو جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔
ابن مذر اور طبرانی نے کبیر میں اور ابن مردویہ نے سند حسن کے ساتھ اور ایک جماعت نے ابن عباس ؓ سے مہاجرات کے امحتان کی کیفیت اس طرح نقل کی ہے کہ جب کوئی مہاجر عورت آپ ﷺ کی خدمت میں حاض رہوتی تو حضرت عمر ؓ اس طرح حلف لیتے کہ واللہ ! نہ تو میں گھومنے پھرنے کی غرض سے آئی ہوں اور نہ میں شوہر سے ناراضگی کی وج ہ سے آئی ہوں اور نہ میں کسی دنیوی غرض سے آئی ہوں واللہ ! میں تو صرف اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں آئی ہوں۔ (روح المعانی)
فان علمتموھن مومنات فلاترجعوھن الی الکفار یعنی جب بطرزمذکور ان مہاجرات کے ایمان کا امتحان لے کر تم ان کو مومن قرار دیدو تو پھر ان کو کفار کی طرف واپس کرنا جائز نہیں اور نہ عوریں کافر مردوں کے لئے حلال ہیں اور نہ کافر شوہر ان کے لئے حلال ہیں کہ ان سے دوبارہ نکاح کرسکیں۔
مسئلہ : اس آیت نے یہ واضح کردیا کہ جو عورت کسی کافر کے نکاح میں تھی اور پھر وہ مسلمان ہوگئی تو کافر سے اس کا نکاح خود بخودف سخ ہوگیا اور یہی وجہ عورتوں کو شرط صلح میں واپسی سے مستثنیٰ کرنے کی ہے۔
واتوھم ماانفقوا اس آیت میں مال کی واپسی کے سلسلے میں خطاب مہاجر عورتوں کو نہیں کیا گیا کہ تم واپس کرو، بلکہ عام مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ واپس کریں کیونکہ ممکن بلکہ غالب یہ ہے کہ جو مال ان کو ان کے شوہروں نے دیا تھا وہ ختم ہوچکا ہوگا اب ان سے واپس دلانے کی صورت میں ہی نہیں ہوسکتی، اس لئے یہ فریضہ عام مسلمانوں پر ڈال دیا گیا، اگر بیت المال سے دیا جاسکتا ہو تو وہاں سے، ورنہ عام مسلمان چندہ کر کے دیں۔ (قرطبی، معارف ملخصاً )
ولا جناح علیکم ان تنکوھن اذا اتیتموھن اجورھن گزشتہ آیت سے یہ معلوم ہوچکا کہ ہجرت کر کے آنے والی مسلمان عورت کا نکاح اس کے کافر شوہر سے فسخ ہوچکا ہے اور یہ اس پر حرام ہوچکی ہے، یہ آیت سابقہ آیت کا تکملہ ہے کہ اب مسلمان مرد اس سے ناکح کرسکتا ہے اگرچہ سابق کافر شوہر بھی زندہ ہے اور اس نے طلاق بھی نہیں دی مگر شرعی حکم سے نکاح فسخ ہوچکا۔
کافر مرد کی بیوی مسلمان ہوجائے تو نکاح کا فسخ ہوجانا آیت مذکورہ سے معلوم ہوچکا، لیکن دوسرے کسی مسلمان مرد سے اس کا نکاح کسی وقت جائز ہوگا، اس کے متعلق امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصل ضابطہ تو یہ ہے کہ جس کافر مرد کی عورت مسلمان ہوجائے تو حاکم اسلام اس کے شوہر کو بلا کر کہے کہ اگر تم بھی مسلمان ہوجائو تو نکاح برقرار رہے گا ورنہ نکاح فسخ ہوجائے گا اگر وہ اس پر بھی اسلام لانے سے انکار کرے تو اب ان دونوں کے درمیان رقت کی تکمیل ہوگئی، اس وقت وہ کسی مسلمان مرد سے نکاح کرسکتی ہے، مگر یہ ظاہر ہے کہ حاکم اسلام کا شوہر کو حاض ر کرنا وہیں ہوسکتا ہے جہاں حکومت اسلامی ہو دارالکفریا دارلاحرب میں یہ صورت ممکن نہیں ہے، البتہ اگر وہ عورت دارالکفر سے دارالسلام میں آجائے تو اس کا نکاح خود بخود فسح ہوجائے گا، دوسرا مسلمان مرد اگر چاہے تو مہر دے کر اس سے نکاح کرسکتا ہے۔
اذا تیتموھن اجورھن کو بطور شرط کے فرمایا کہ تم ان سے نکاح کرسکتے ہو بشرطیکہ ان کے مہر ادا کردو یہ درحققیت نکاح کی شرط نہیں، اس لئے کہ با تفاق امت نکاح کا انعقاد ادائے مہر پر موقوف نہیں ہے، ال بتہ مہر کی ادائیگی لازم اور واجب ہے، یہاں اس کو بطور شرط کے شاید اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ ہوسکتا ہے اس شخص کو یہ خیال ہو کہ ابیھ ایک مہر تو اس کے کافر شوہر کو واپس کرایا جا چکا ہے اب جدید مہر کی ضرورت نہیں، اس لئے فرما دیا کہ اس مہر کا تعلق پچھلے نکاح سے تھا لہٰذا یہ دوسرا نکاح جدید مہر کے ساتھ ہوگا۔
ولاتمسکوا بعصم الکوافر وسئلو ماانفقتم (الآیۃ) عصم، عصمۃ کی جمع ہے، یہاں اس سے مراد عصمت عقد نکاح ہے، مطلب یہ ہے کہ اگر شوہر مسلمان ہوجائے اور بیوی بدستور کافر اور مشرک رہے تو ایسی مشرک عورت کو اپنے نکاح میں رکھنا جائز نہیں اسے فوراً طلاق دے کر علیحدہ کردیا جائے، طالق دینے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے قطع تعلق کرلیا جائے، چناچہ اس حکم کے بعد حضرت عمر ؓ نے اپنی دو مشرک بیویوں کو اور حضرت طلحہ بن عبدلالہ ؓ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، روایت کیا گیا ہے کہ عمر ؓ نے اسی وجہ سے اپنی بیوی فاطمہ بنت ابوامیہ مخزومیہ کو طلطاق دیدی اور معاویہ بن ابی سفیان نے اس سے نکاح کرلیا، اور دوسری بیوی کلثوم بنت جرول الخزاعی کو بھی اسی وجہ سے طلاق دے دی۔ اسی طرح
حضرت طلحہ ؓ نے اپنی مشرکہ بیوی اروی بنت ربیعہ کو طلاق دے دی۔ (روح المعانی) البتہ اگر بیوی کتابیہ ہو تو اسے طلاق دینا ضروری نہیں، کیونکہ ان سے نکاح جائز ہے۔
اگر کسی کافر کی بیوی مسلمان ہو کر مسلمان کے پاس چلی گئی ہو، تو اس عورت کو تو واپس نہیں کیا جائے گا، البتہ کافر شوہر کو یہ حق ہے کہ وہ مہر وغیہ صرف کیا ہوا مال مسلمانوں سے طلب کرلے، اسی طرح اگر کوئی مسلمان عورت مرتد ہو کر کافروں کے پاس چلی گئی ہو تو مسلمان شوہر بھی مہر وغیرہ میں خرچ کیا ہوا مال کافروں سے طلب کرلیں، مسلمانوں نے اس حکم پر بطیب خاطر عمل کیا مگر کافروں نے عمل نہیں کیا۔
Ayah 60:11وان قاتکم شیء من ازواجکم الی الکفار فعاقبتم (الآیۃ) اس معاملہ کی دو صورتیں تھیں ایک صورت یہ تھی کہ جن کفار سے مسلمانوں کے معامہدانہ تعلقات تھے ان سے مسلمانوں نے یہ معاملہ طے کرنا چاہا کہ جو عورتیں ہجرت کر کے ہماری طرف آگئی ہیں ان کی مہر ہم واپس کردیں گے اور ہمارے آدمیوں کی جو کافر بیویاں ادھر رہ گئی ہیں ان کے مہر تم واپس کردو، لیکن انہوں نے اس بات کو قبول نہ کیا، چناچہ امام زہری بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے مسلمان ان عورتوں کا مہر ادا کرنے کے لئے تیار ہوگئے جو مشرکین کے پاس مکہ میں رہ گئی تھیں، مگر مشرکوں نے ان کے مہر دینے سے انکار کردیا اس پر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ مہاجر عورتوں کے جو مہر تمہیں مشرکین کو واپس کرنے ہیں وہ ان کو بھیجنے کے بجائے مدینہ ہی میں جمع کر لئے جائیں اور جن لوگوں کو مشرکین سے اپنے دیئے ہوئے مہر واپس لینے ہیں ان میں سے ہر ایک کو اتنی رقم دے دی جائے جو اسے کفار سے ادا ہونی چاہیے تھی۔
دوسری صورت یہ ہے کہ تم کافروں سے جہاد کرو اور جو مال غنیمت حاصل ہو اس میں سے تقسیم سے پہلے ان مسلمانوں کو جن کی بیویاں دارالکفر چلی گئی ہیں ان کے خرچ کے بقدر ادا کردو۔ (ایسر التفاسیر وابن کثیر) اگر مال غنیمت سے بھی تلافی کی صورت نہ ہو تو بیت المال سے تعاون کیا جائے۔ (ایسر التفاسیر)
کیا مسلمانوں کی کچھ عورتیں مرتد ہو کر مکہ چل گئی تھیں ؟
ایسا واقعہ بعض حضرات کے نزدیک صرف ایک ہی پیش آیا تھا، حضرت عیاض بن غنم ؓ قریش کی بیوی ام الحکم بنت ابی سفیان مرتد ہو کر مکہ مکرمہ چلی گئی تھی اور پھر یہ بھی اسلام کی طرف لوٹ آئی (معارف)
حضرت ابن عباس ؓ نے کل چھ عورتوں کا اسلام سے انحراف اور کافر کے ساتھ مل جانا ذکر کیا ہے، جن میں سے ایک تو یہی ام الحکم بنت ابی سفیان تھی، باقی پانچ عورتیں جو ہجرت کے وقت ہی مکہ میں رک گئی تھیں اور پہلے ہی سے کافرہ تھیں، جب قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی جس نے مسلم و کافرہ کے نکاح کو توڑ دیا، اس وقت بھی وہ مسلمان ہونے کے لئے تیار نہ ہوئیں، اس کے نتیجے میں یہ بھی ان عورتوں میں شمار کی گئیں جن کا مہران کے مسلمان شوہروں کو کفار مکہ کی طرف سے واپس ملنا چاہیے تھا، جب انہوں نے بھی دیا تو رسول اللہ ﷺ نے مال غنیمت سے ان کا حق ادا کیا، (قرطبی) اور بغوی رحمتہ اللہ تعالیٰ نے بروایت ابن عباس ؓ نقل کیا ہے کہ باقی پانچ عورتیں جو اس میں شمار کی گئی تھیں وہ بھی بعد میں مسلمان ہوگئیں۔ (مظہری)