Ayahs 60:12–13عورتوں کی بیعت :
جب مکہ فتح ہوا تو قریش کے لوگ جوق در جوق حضور ﷺ سے بیعت کرنے کے لئے آنے لگے آپ ﷺ نے مردوں سے کوہ صفا پر خود بیعت لی، اور حضرت عمر ؓ کو اپنی طرف سے مامور فرمایا کہ وہ عورتوں سے بیعت لیں اور ان باتوں کا اقرار کرائیں جو اس آیت میں بیان ہوئی ہیں (ابن جریر بروایت ابن عباس ؓ پھر مدینہ واپس لے جا کر آپ ﷺ نے ایک مکان میں انصار کی خواتین کو جمع کرنے کا حکم دیا اور حضرت عمر ؓ کو ان سے بیعت لینے کے لئے بھیجا۔ (ابن جریر) ان مواقع کے علاوہ بھی مختلف اوقات میں عورتیں فرداً فرداً بھی اور اجتماعی طور پر بھی آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر بیعت کرتی رہیں جن کا ذکر متعدد احادیث میں ہے۔
ابوسفیان ؓ کی بیوی ہندبنت عتبہ کی بیعت :
مکہ معظمہ میں جب عورتوں سے بیعت کی جا رہی تھی اس وقت حضرت ابوسفیان ؓ کی بیوی ہند بنت عتبہ نے اس حکم کی تشریح دریافت کرتے ہوئے حضور سے عرض کیا یا رسول اللہ ابوسفیان ذرابخیل آدمی ہیں، کیا میرے اوپر اس میں کوئی گناہ ہے کہ میں اپنی اور اپنے بچوں کی ضروریات کے لئے ان سے پوچھے بغیر ان کے مال میں سے کچھ لے لیا کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں، مگر بس معروف حد تک یعنی بس اتنا مال لے لیا کرو وجوفی الواقع جائز ضروریات کے لئے کافی ہو۔ (احکام القرآن لابن العربی)
دو اہم قانونی نکتے :
ولا یعصینک فی معروف یعنی وہ کسی (معروف) نیک کام میں آپ ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی نہ کریں گی، اس مختصر فقرے میں دو اہم قانونی نکتے بیان کئے گئے ہیں،
پہلا نکتہ :
یہ کہ نبی ﷺ کی اطاعت پر بھی اطاعت فی المعروف کی قید لگائی گئی ہے، حالانکہ آپ ﷺ کے بارے میں اس امر کے کسی ادنیٰ شبہ کی گنجائش بھی نہ تھی کہ آپ کبھی منکر کا حکم بھی دے سکتے ہیں، اس سے خود بخود یہ بات واضح ہوگئی کہ دنیا میں کسی مخلوق کی اطاعت قانون خداوندی کی حدود سے باہر جا کر نہیں کی جاسکتی، کیونکہ جب خدا کے رسول ﷺ تک کی اطاعت معروف کی شرط سے مشروط ہے تو پھر کسی دوسرے کا یہ مقام کہاں ہوسکتا ہے کہ اسے غیر مشروط اطاعت کا حق پہنچے، اس قاعدہ کو رسول اللہ ﷺ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ” لا طاعۃ المخلوق فی معصیۃ اللہ انما الطاعۃ فی المعروف، اللہ کی نافرمانی میں کوئی اطاعت نہیں ہے، اطاعت تو صرف معروف اور اچھی چیزوں میں ہے۔ (مسلم، ابو دائود، نسائی)
دوسرا اہم نکتہ :
دوسری بات جو قانونی حیثیت سے بڑی اہمیت رکھتی ہے یہ ہے کہ اس آیت میں پانچ منفی احکام دینے کے بعد مثبت حکم صرف ایک ہی دیا گیا ہے اور وہ یہ کہ تمام نیک کاموں میں نبی ﷺ کے احکام کی اطاع کی جائے گی، جہاں تک برائیوں کا تعلق ہے، تو وہ بڑی بڑی برائیاں گنا دی گئیں جن میں زمانہ جاہلیت کی عورتیں مبتلا تھیں اور ان سے باز رہنے کا عہد لے لیا گیا، مگر جہاں تک بھلائیوں کا تعلق تھا ان کی کوئی فہرست دے کر اس پر عہد نہیں لیا گیا کہ تم فلاں فلاں اعمال کرو گی، بلکہ صرف یہ عہد لیا گیا کہ جس نیک کام کا بھی حضور ﷺ حکم فرمائیں گے اس کی پیروی تمہیں کرنی ہوگی، اب یہ ظاہر ہے کہ اگر وہ نیک اعمال صرف وہی ہوں جن کا حکم اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں دیا ہے تو عہد ان الفاظ میں لیا جانا چاہیے تھا کہ تم اللہ کی نافرمانی نہ کرو گی، یا یہ کہ تم قرآن کے احکام کی نافرمانی نہ کرو گی، لیکن جب عہد ان الفاظ میں لای گیا کہ جس نیک کام کا بھی حکم رسول اللہ ﷺ دیں گے تم اس کی خلاف ورزی نہ کرو گی، تو اس سے خودبخود یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ معاشرے کی اصلاح کے لئے حضور ﷺ کو وسیع ترین اختیارات دیئے گئے ہیں اور آپ ﷺ کے تمام احکام واجب الاطاعت ہیں خواہ وہ قرآن میں موجود ہوں یا نہ ہوں۔
اسی آئینی اختیار کی بناء پر رسول اللہ ﷺ نے بیعت لیتے ہوئے ان بہت سی برائیوں کے چھوڑنے کا بھی عہد لیا جو اس وقت عرب معاشرہ میں عورتوں میں پھیلی ہوئی تھیں اور متعدد ایسے احکام دیئے جو قرآن میں مذکور نہیں ہیں، اس کے لئے حسب ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیں۔
ابن عباس ؓ ام سلمہ ؓ اور ام عطیہ انصاریہ ؓ وغیرہ سے روایات ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عورتوں سے بیعت لیتے وقت یہ عہد لیا کہ وہ مرنے والوں پر نوحہ نہیں کریں گی، یہ روایات بخاری، مسلم، نسائی وغیرہ میں ہیں، ابن عباس ؓ کی ایک روایت میں یہ تفصیل بھی ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت عمر ؓ کو عورتوں سے بیعت لینے کے لئے مامور کیا اور حکم دیا کہ ان کو نوحہ کرنے سے منع کریں، کیونکہ زمانہ جاہلیت میں عورتیں مرنے والوں پر نوحہ کرتے ہوئے کپڑے پھاڑتی تھیں منہ نوچتی تھیں، بال کاٹتی تھیں اور سخت واویلا مچاتی تھیں۔ (ابن تحریر)
زید بن اسلم ؓ روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے بیعت لیتے وقت عورتوں کو اس سے منع فرمایا کہ وہ مرنے والوں پر نوحہ کرتے ہوئے منہ نوچیں، گریبان پھاڑیں۔ (ملخصاً ابن جریر)
قتادہ رحمتہ اللہ تعالیٰ اور حسن بصری رحمتہ اللہ تعالیٰ روایت کرتے ہیں کہ جو آپ ﷺ نے بیعت لیتے وقت عورتوں سے لئے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ وہ غیر محرم مردوں سے بات نہ کریں گی، ابن عباس ؓ کی روایت میں اس کی یہ واضحت ہے کہ غیر مردوں سے تخلیہ میں بات نہ کریں گی، حضرت قتادہ ؓ نے مزید یہ وضاحت کی ہے کہ حضور ﷺ کا یہ ارشاد سن کر حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم گھر پر نہیں ہوتے اور ہمارے یہاں کوئی صاحب ملنے آجاتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا میری مراد یہ نہیں ہے، یعنی عورت کا کسی آنے والے سے اتنی بات کہہ دینا ممنوع نہیں ہے کہ صاحب خانہ گھر میں موجود نہیں ہیں۔ (یہ روایت ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے نقل کی ہے۔ )
حضرت فاطمہ ؓ کی خالہ امیمہ بنت رقیقہ سے عبداللہ بن عمرو بنعاص ؓ نے روایت نقل کی ہے کہ حضور ﷺ نے ان سے یہ عہد لیا کہ نوحہ نہ کرنا اور جاہلیت کے بنائو سنگھار کر کے اپنی نمائش نہ کرنا (مسند احمد)
حضور ﷺ کی خالہ بنت قیس کہتی ہیں کہ میں انصار کی چند عورتوں کے ساتھ بیعسہ کے لئے حاضر ہوئی تو آپ ﷺ نے قرآن کی اس آیت کے مطابق ہم سے عہد لیا، پھر فرمایا ’ ولا تغششن ازواجکن “ اپنے شوہروں سے دھوکے بازی نہ کرنا، جب ہم واپس ہونے لگیں تو ایک عورت نے مجھ سے کہا کہ جا کر حضور ﷺ سے پوچھو، شوہروں سے دھوکے بازی کرنے کا کیا مطلب ہے ؟ میں نے جا کر پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا ” تاخذ مالہ فتحابی غیرہ “ یہ کہ تو شوہر کا مال لے اور دوسرے پر لٹا دے۔ (مسند احمد)
جو لوگ حضور ﷺ کے اس آئینی اختیار کو آپ ﷺ کی حیثیت رسالت کے بجائے حیثیت امارات سے متعلق قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ ﷺ چونکہ اپنے وقت کے حکمراں بھی تھے اس لئے اپنی اس حیثیت میں آپ ﷺ نے جو احکام دیئے ہیں وہ صرف آپ ﷺ کے زمانہ تک ہی واجب الاطاعت تھے، وہ بڑی جہالت کی بات کرتے ہیں اوپر کے سطور میں جو احکام نقل کئے گئے ہیں ان پر آپ ایک نظر ڈال لیجیے، ان میں عورتوں کی اصلاح کے لئے جو ہدایات آپ ﷺ نے دی ہیں وہ اگر محض حاکم وقت ہونے کی حیثیت سے ہوتیں تو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پوری دنیا کے مسلم معاشرے کی عورتوں میں یہ اصلاحات کیسے رائج ہوسکتی تھیں ؟ آخر دنیا کا وہ کونسا حاکم ہے جس کو یہ مرتبہ حاصل ہو کہ ایک مرتبہ اس کی زبان سے ایک حکم صادر ہو اور روئے زمین پر جہاں جہاں بھی مسلمان آباد ہیں وہاں کے مسلم معاشرے میں ہمیشہ کے لئے وہ اصلاحات رائج ہوجائیں جس کا حکم اس نے دیا ہے ؟