Ayahs 59:1–4ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، آسمان اور زمین میں جو شئی بھی ہے وہ اس کی تسبیح بیان کرتی ہے یعنی اس کی پاکی بیان کرتی ہے، لام زائدہ ہے اور من کے بجائے ما لانا اکثر (یعنی غیر ذوی العقول) کو غلبہ دینے کی بناء پر ہے، وہ اپنے ملک انتظام میں غالب اور حکمت والا ہے اور وہی ہے جس نے اہل کتاب کافروں کو کہ وہ بنو نضیر کے یہودی تھے، مدینہ میں ان کے گھروں سے پہلے ہی حشر میں نکالا، ان کا یہ اخراج (مدینہ) سے خیبر کی جانب تھا اور دوسرا حشر وہ تھا کہ جب حضرت عمر ؓ نے ان کو اپنے دور خلافت میں خیبر سے شام کی طرف نکالا تھا۔
نوٹ :۔ متن میں تسامح ہے، جس کو ترجمہ میں درست کردیا گیا ہے۔
اے امونو ! تمہارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ نکلیں گے اور وہ بھی یہ سمجھے ہوئے تھے کہ ان کے قلعے اللہ کے عذاب سے ان کی حفاظت کریں گے مانعتھم، ان کی خبر ہے اور حصونھم مانعتھم کا فاعل ہے اس سے خبرتام ہوگئی، مگر اللہ یعنی اس کا حکم اور اس کا عذاب ایسی جگہ سے آپڑا کہ ان کو (وہم) و گمان بھی نہ تھا، یعنی مومنوں کی جانب سے، ان کے دل میں کبھی یہ بات آئی بھی نہ تھی اور اللہ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا (رعب) عین کے سکون اور ضمہ کے ساتھ ہے ان کے سردار کعب بن اشرف کو قتل کر کے اور وہ اپنے گھروں کو اپنے ہاتھوں سے اجاڑ رہے تھے (یخربون) اخرب سے تشدید اور تخفیف کے ساتھ ہے، تاکہ وہ اپنی پسندیدہ چیزوں، لکڑی وغیرہ کو منتقل کرسکیں اور ممنین کے ہاتھوں سے اجڑ وار ہے تھے، سوائے دانشمندوچ عبرت حاصل کرو اگر اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جلا وطنی (یعنی وطن سے نکلنا) مقدر نہ کردی ہوتی تو دنیا ہی میں اللہ ان کو قتل و قید کی سزا دیتا جیسا کہ قریظہ کے یہود کے ساتھ کیا گیا، اور آخرت میں تو ان کے لئے آگ کا عذاب ہے ہی یہ اس لئے ہوا کہ انہوں نے اللہ کی اور اس کے رسول کی مخالف کی اور جو بھی اللہ کی مخالفت کرے گا اللہ اس کو شدید عذاب دے گا اے مسلمانو ! تم نے جو کھجور کے درخت کاٹ ڈالے یا جنہیں تم نے کھڑے رہنے دیا یہ سب اللہ کے حکم سے تھا یعنی اللہ تعالیٰ نے تم کو اس کا اختیار دیدیا تھا اور اس لئے بھی کہ کاٹنے کی اجازت دیکر فاسقوں (یعنی یہود) کو اللہ رسوا کرے، ان کے اس اعتراض کے جواب میں کہ پھلدار درختوں کو کانٹا فساد ہے اور ان کا جو مال اللہ نے اپنے رسول کے ہاتھ لگا دیا ہے اے مسلمانو ! نہ تم نے اس پر گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ یعنی تم نے اس مال کے لئے کوئی مشقت نہیں اٹھائی لیکن اللہ جس پر چاہے اپنے رسول کو غالب کردیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے لہٰذا اس مال میں تمہارا حق نہیں اور وہ مال آپ ﷺ اور ان لوگوں کے لئے خاص کیا گیا ہے جن چار قسموں کا دوسری آیت میں آپ کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے، جس کے مطابق آپ اس مال کو تقسیم فرماتے تھے، اس طریقہ پر کہ ان میں ہر ایک کے لئے دسواں حصہ اور باقی آپ ﷺ کے لئے ہے اس میں آپ جو چاہیں کریں چناچہ اس میں سے آپ نے مہاجرین کو عطا فرمایا اور قراء اصار میں سے تین (آدمیوں) کو عطا فرمایا بستی والوں جیسا کہ صفراء اور وادی القریٰ اور ینبع کا جو مال اللہ تعالیٰ نے تمہارے لڑے بھڑے بغیر اپنے رسول کے ہاتھ لگایا وہ اللہ کا ہے اس میں جس کے لئے چاہے حکم فرمائے اور رسول کا ہے اور قرابت والوں کا ہے یعنی بنی ہاشم و بنی مطلب میں سے نبی ﷺ کی قرابت والوں کا، اور یتیموں یعنی مسلمانوں کے ان بچوں کا جن کے آباء ہلاک ہوگئے اور وہ محتاج ہیں اور مسکینوں کا یعنی مسلمانوں میں سے حاجتمندوں کا اور مسافروں کا یعنی ان مسلمان مسافروں کا جو اپنے سفر کو جاری نہ رکھ سکیں، یعنی اس مال کے مستحق نبی ﷺ ہیں اور چار فریق ہیں جیسا کہ آپ تقسیم فرماتے تھے، اس طریقہ پر کہ چاروں کے مجموعہ کے لئے دسواں حصہ اور باقی آپ ﷺ کے لئے ہے تاکہ تمہارے دولتمندوں کے ہاتھوں میں ہی مال گردش کرتا نہ رہ جائے (کیلا) کی ’ بمعنی لام ہے اور لام کے بعد ان مقدر ہے (کیلا) سے مذکورہ طریقہ پر تقسیم کرنے کی علت کا بیان ہے اور رسول جو کچھ تمہیں مال فیئی وغیرہ سے دے اس کو لے اور جس سے روک رک جائو اور اللہ سے ڈرتے رہو اللہ تعالیٰ سخت عذاب والا ہے ان فقراء مہاجرین کے لئے (شاباشی ہے) جو ان کے گھروں سے اور ان کے مالوں سے نکال دیئے گئے ہیں وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضا مندی کے طالب ہیں اور وہ اللہ کی اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں (درحقیقت) یہی ہیں سچے لوگ اپنے ایمان میں اور ان کے لئے جنہوں نے اپنے گھر (یعنی مدینہ) میں اور ایمان میں ان سے پہلے جگہ بنا لی یعنی ایمان سے الفت کرلی اور وہ انصار ہیں اپنی طرف ہجرت کر کے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور ان مہاجرین کو جو کچھ دیا جائے اس سے وہ اپنے دلوں میں تنگی محسوس نہیں کرتے یعنی نبی ﷺ نے مہاجرین کو بنی نضیر سے حاصل شدہ مال میں سے جو کہ آپ ﷺ کے لئے خاص تھا کچھ دیدیا تھا، بلکہ اپنے اوپر ان کو ترجیح دیتے ہیں گو خود کو اس مال کی کتنی ہی حاجت کیوں نہ ہوا اور جو شخص اپنے نفس کے بخل سے بچایا گیا یعنی مال کی حرص سے وہی ہیں کامیاب لوگ اور وہ لوگ جو ان کے یعنی مہاجرین و انصار کے بعد قیامت تک آئیں گے کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے ہیں اور ایمان والوں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ نہ ڈال، اے ہمارے پروردگار بیشک تو شفقت اور مہربانی کرنے والا ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
سورة حشر انسٹھویں سورت ہے، اس کا دوسرا نام سورة النضیر ہے، یہ بالاتفاق مدنی سورت ہے۔
قولہ : بنو نضیر یہ قبیلہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کی ذریت میں سے تھا۔
قولہ : لاول الحشر لام بمعنی فی ہے ای فی اول الحشر اور لام بمعنی عند بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ لدلوک الشمس میں ہے اس وقت لام توقیت کے لئے ہوگا، اول الحشر یہ اضافت صفت الی الموصوف کے قبیل سے ہے، ای الحشر الاول
قولہ : الی خیبر صحیح من خیبر ہے۔
قولہ : تم بہ الخبر، انھم، میں ھم ان کا اسم ہے مانع اسم فاعل ھم اس کا مفعول حصونھم اس کا فاعل، اس مفاعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر انکی خبر جیسے ان زیدا قائم ابوہ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حصونھم مبتداء مئوخر اور مانعتھم خبر مقدم، مبتداء اپنی خبر مقدم سے مل کر ان کی خبر ہو۔
قولہ : حصون، حصن کی جمع ہے بمعنی قلعے۔
قولہ : من اخرب اس کا تعلق تخفیف سے ہے، مطلب یہ کہ یخربون کو تخفیف کے ساتھ پڑھیں تو اخرب سے ہوگا اور اگر تشدید کے ساتھ پڑھیں یخربون تو (تفعیل) سے ہوگا۔
قولہ : لولا ان کتب اللہ علیھم ان مصدریہ ہے، ان مع اپنے مابعد کے مصدر کی تاویل میں ہو کر مبتداء محلا مرفوع ہے اس کی خبر وجوبا محذوف ہے اور وہ موجود ہے ای لو لاکتاب اللہ علیھم موجود لعذبھم، لعذبھم لولا کا جواب ہے۔
قولہ : الجلآء ای الخروج من الوطن مع الاھل والولد، جلا وطنی کہتے ہیں مع اہل و عیال کے وطن چھوڑ کر چلے جانا، بخلاف خروج کے کہ وہ تنہا اور مع اہل و عیال دونوں طریقوں سے ہوسکتا ہے۔
قولہ : اللینۃ یہ لین سے مشتق ہے عمدہ کھجور کو کہتے ہیں (ای النخلۃ الکریمۃ) اس کی جمع الیان آتی ہے۔
قولہ : ولیخزی الفاسقین وائو عاطفہ ہے معطوف علیہ محذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہے اذان فی قطعھا الیعجز المومنین ویخزی المنافقین
قولہ : للفقراء المھاجرین ایک تو یہ ہے کہ للفقراء کا تعلق فعل محذوف سے کیا جائے جیسا کہ علامہ تجلی کی رائہ ہے عالمہ محلی نے اعجبوا فعل محذوف مانا ہے، تقدیر عبارت یہ ہوگی اعجبوا للفقراء الماجرین الذین اخرجوا (الآیۃ) اور یہ اظہار تعجب علی سبیل المدح ہے، یعنی تعجب ہے کہ مہاجرین نے حیرت انگیز کارنامہ انجام دیا کہ اپنا گھر بار عزیز و اقارب، مال و دولت، غرضیکہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں اپن اسب کچھ تیگا دیا اور بےیارو مددگار غریب الوطن ہو کر دیار غیر میں مقیم ہوگئے، للفقراء کو فعل محذوف سے متعلق کرن کا فائدہ یہ ہوگا کہ ذی القربی کے لئے فقر شرط نہ ہوگا، بلکہ مال غنیمت (فی) میں ذوی القربی کا حق ہوگا خواہ وہ محتاج اور حاجتمندوں ہوں نہ ہوں، یہی مسلک امام شافعی رحمتہ اللہ تعالیٰ کا ہے مفسر علامہ چونکہ شافعی المسلک ہیں اس لئے اسی کے پیش نظر اعجبوا فعل محذوف مانا ہے تاکہ للفقراء کو ذی القربی سے بدل قرار نہ دینا پڑے، دوسری صورت یہ کہ للفقراء کو ذی القربیٰ سے بدل قرار دیا جائے جیسا کہ امام اعظم ابوحنیفہ للفقراء کو ذی القربی اور اس کے مابعد سے بدل الکل قرار دیتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ فقر اور حاجت مع ذوالقربی تمام مذکورین کے لئے شرط ہے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ذوالقربی میں جو نادار اور غریب ہوں گے تو وہ مال فئی (غنیمت) میں حصہ دار ہوں گے ورنہ نہیں۔
قولہ : والذین تبواء و الدار مدح انصار کے لئے کلام مستانف ہے یا اس کا عطف للفقراء پر بھی کرسکتے ہیں، الذین مذکورہ دونوں صورتوں میں یا تو مبتداء ہوگا یا پھر اس کا عطف للفقراء پر ہوگا، اس صورت میں الذین محل جر میں ہوگا کہ الذین مبتداء ہو تو یحبون من ھاجر الیھم جملہ ہو کر اس کی خبر ہوگی۔
قولہ : القوہ یہ اشارہ ہے کہ الایمان فعل محذوف کی وجہ سے منصوب ہے۔
تفسیر و تشریح
ربط :۔
سابقہ سورت میں منافقین کی یہود کے ساتھ دوستی کی مذمت کا بیان تھا، اس سورت میں یہود پر دنیا میں جلا وطنی کی سزا اور آخرت میں شدید عذاب کا ذکر ہے۔
شان نزول :
آنحضرت ﷺ جب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو آپ نے سیاسی اقدام کے طور پر سب سے پہلا کام یہ کیا کہ قبائل یہود کے ساتھ جن میں بنو نضیر اور بنو قریظہ اور بنو قینقاع بھی شامل تھے، تحریری معاہدہ صلح فرمایا جس کی رو سے یہود اور مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے حلیف ہوگئے، یہ معاہدہ مندرجہ ذیل چودہ دفعات پر مشتمل تھا، جو ہجرت مدینہ کے پانچ ماہ بعد ہوا تھا : (1) قصاص اور خون بہا کے جو طریے قدیم زمانہ سے چلے آرہے ہیں وہ عدل اور انصاف کے ساتھ بدستور قائم رہیں گے۔ (2) ہر گورہ کو اپنی جماعت کا عدل و انصاف کے ساتھ فدیہ دینا ہوگا۔ (3) ظلم اور اثم اور عدوان اور فساد کے مقابلہ میں سب سے متفق رہیں یگ۔ (4) کوئی مسلمان کسی مسلمان کو کسی کافر کے مقابلہ میں قتل کرنے کا مجاز نہ ہوگا اور نہ کسی مسلمانوں کے مقابلہ میں کسی کافر کی کسی قسم کی مد کی اجازت ہوگی۔ (5) ایک ادنیٰ مسلمان کو پناہ دینے کا وہی حق ہوگا جو ایک بڑے رتبہ کے مسلمان کو ہوگا۔ (6) جو یہود مسلمان کے تابع ہو کر رہیں گے ان کی حفاظت مسلمانوں کے ذمہ ہوگی (7) کسی کافر اور مشرک کو یہ حق نہ ہوگا کہ سلمانوں کے مقابلہ میں قریش کے کسی کی جان یا مال کو پناہ دے سکے یا قریش اور مسلمانوں کے درمیان حائل ہو۔ (8) بوقت جنگ یہود کو مسلمانوں کا ساتھ جان و مال سے ساتھ دینا ہوگا، مسلمانوں کے خلاف مدد کی اجازت نہ ہوگی۔ (9) نبی ﷺ کا کوئی دشمن اگر مدینہ پر حملہ کرے تو یہود پر آپ ﷺ کی مدد لازم ہوگی۔ 10۔ جو قبائل اس عہد میں شریک ہیں اگر ان میں سے کوئی قبیلہ علیحدگی اختیار کرنا چاہے تو آپ ﷺ کی اجازت ضروری ہوگی۔ (11) کسی فتنہ پرداز کی مدد یا اس کو ٹھکانہ دینے کی اجازت نہ ہوگی اور جو شخص کسی بدعتی کی مدد کرے گا اس پر اللہ کی لعنت اور غضب ہے، قیامت تک اس کا کوئی عمل قبول نہ ہوگا۔ 12 مسلمان اگر کسی سے مصلح کریں گے تو یہود کو بھی اس صلح میں شریک ہونا ضروری ہوگا۔ 13 جو کسی مسلمان کو قتل کرے اور شہادت موجود ہو تو قصاص لیا جائے گا، الا یہ کہ مقتول کا ولی دیت وغیرہ پر راضی ہوجائے۔ 14 جب کبھی نزاع یا کسی میں اختلاف رونما ہوگا تو اس میں آپ ﷺ سے رجوع کیا جائے گا۔ (البدایہ والنھایہ ملخصاً )
قبیلہ بنو نضیر مدینہ طیبہ سے دو میل کے فاصلہ پر رہتا تھا اسی دوران عمرو بن امیہ ضمری کے ہاتھ سے قبیلہ بنی عامر کے دن کافروں کی قتل کا ایک واقعہ پیش آیا، بنو عامر سے آنحضرت ﷺ کا معاہدہ تھا۔
بیر معونہ اور عمرو بن امیہ ضمری کا واقعہ :
بیر معونہ کا واقعہ جو کہ تاریخ اسلام میں بڑا درد ناک واقعہ ہے اس کا مختصر حال اس طرح ہے کہ حادثہ رجیع کے چند روز بعد ہی ماہ صفر 4 ھ میں ابوالبراء، عامر بن مالک بن جعفر نے رسول اللہ ﷺ سے اپنی بستی میں تبلیغ اسلام کے لئے صحابہ کرام ؓ کی ایک جماعت بھیجنے کی درخواست کی، آنحضرت ﷺ نے ستر صحابہ کرام ؓ کی ایک جماعت ان کے ساتھ کردی بعد میں معلوم ہوا کہ یہ محض ایک سازش تھی جو کہ مسلمانوں کو قتل کرنے کے لئے تیار کی گئی تھی، چناچہ وہ اس میں کامیاب ہوگئے ان قراء کی جماعت میں سے صرف عمر و بن امیہ ضمری کسی طرح بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے، اتفاق یہ ہوا کہ مدینہ طیبہ آنے کے وقت راستہ میں ان کو دو کافر ملے عمرو بن امیہ ضمری ؓ چونکہ اپنے انہتر ساتھیوں کا بےرحمانہ قتل اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے تھے ان کا غم و غصہ کتنا ہوگا ہر شخص سمجھ سکتا ہے، اس لے انہوں نے یہ ٹھان لیا کہ ان سے اپنے انہتر مقتول ساتھیوں کا بدلہ لینا چاہیے، چناچہ عمرو بن امیہ ضمری نے موقع پا کر ان دونوں کافروں کو قتل کردیا، بعد میں معلوم ہوا کہ یہ دونوں آدمی بنی عامر کے تھے جن سے رسول اللہ ﷺ کا معاہدہ صلح تھا، جب آنحضرت ﷺ کو اس کی غلطی کا علم ہوا تو آپ نے معاہدہ اور اصول شرعیہ کے مابق ان دونوں کی دیت (خون بہا) ادا کرنے کا فیصلہ فرمایا اور اسکے لئے مسلمانوں سے چندہ کیا اس سلسلہ میں بنو نضیر کے پاس بھی جانا ہوا۔ (ابن کثیر، معارف)
یہود کا تاریخی پس منظر :
عرب کے یہودیوں کی کوئی مستند تاریخ دنیا میں موجود نہیں ہے، جو کچھ بھی ہے محض ان ہی کی زبانی روایات ہیں، درحقیقت جو کچھ ثابت ہے وہ یہ ہے کہ جب 70 ء میں رومیوں نے فلطسطین میں یہودیوں کا قتل عام کیا اور 132 میں ان کو سر زمین فلسطین سے نکال دیا اس دور میں بہت سے یہودی قبائل بھاگ کر حجاز میں پناہ گزیں ہوگئے یہاں آ کر انہوں نے جہاں جہاں چشمے اور سرسبز مقامات دیکھے وہاں آباد ہوگئے اور پھر رفتہ رفتہ اپنے جوڑ توڑ اور سازشی فطرت کے ذریعہ ان مقامات پر پورا قبضہ جما لای، ایلہ، مقنا، تبوک، تیما اور وادی القریٰ ، فدک اور خیبر پر ان کا تسلط اسی دور میں قائم ہوا اور بنی قریظہ، بنی نظیر اور بنی قینقاع بھی اسی دور میں آ کر یثرب پر قابض ہوگئے، یہ لوگ جب مدینہ میں آ کر آباد ہوئے تو اس وقت دوسرے عرب قبائل بھی آباد تھے جن کو انہوں نے دبا لیا، اور عملاً اس علاقہ کے مالک بن بیٹھے، اس کے تقریباً تین صدی بعد 45 ء میں یمن کے اس سیلاب عظیم کا واقعہ پیش آیا جس کا ذکر سورة سبا کے دوسرے رکوع میں گذر چکا ہے اس سیلاب کی وجہ سے قوم سبا کے مختلف قبیلے یمن سے نکل کر عرب کے اطراف میں پھیل گئے ان میں سے غسانی شام میں اور بنی خزاعہ مکہ اور جدہ کے درمیان اور اوس اور خزرج یثرب میں جا کر آباد ہوگئے، یثرب پر چونکہ یہودی چھائے ہوئے تھے ان ہی کا مکمل کنٹرول تھا، اس لئے انہوں نے اول اول اوس و خزرج کی دال نہ گلنے دی، جس کی وجہ سے یہ دونوں قبیلے چار و لاچار بنجر اور سنگلاخ زمینوں پر بس گئے، آخر کار ان کے سرداروں میں سے ایک شخص اپنے غسانی بھائیوں سے مدد لینے کے لئے شام گیا اور وہاں سے ایک لشکر لا کر ان یہودیوں کا زور توڑ دیا، اس طرح اوس اور خزرج نے یثرب پر پورا تسلط حاصل کرلیا، یہودیوں کے دو بڑے قبیلے بنو نضیر اور بنو قریظہ یثرب کے باہر جا کر بسنے پر مجبور ہوگئے، تیسرے قبیلے بنو قینقاع سے چونکہ مذکورہ دونوں یہودی قبیلوں کی ان بن تھی، اس لئے وہ شہر کے اندر ہی مقیم رہا، مگر یہاں رہنے کے لئے ان کو قبیلہ خزرج کی پناہ لینی پڑی اور اس کے مقابلہ میں بنی نضیر اور بنی قریظہ نے قبیلہ اوس کی پناہ لی، ذیل کے قنشے سے ظاہر ہوجائے گا کہ یہودیوں کی بستیاں کہاں کہاں تھیں ؟
یہود اور ان کی عہد شکنی :
غزوہ احد تک تو یہ لوگ بظاہر اس صلح نامہ کے پابند رہے مگر احد کے بعد انہوں نے غداری کی اور خفیہ خیانت شروع کردی، اس غداری اور خیانت کی ابتداء اس سے ہوئی کہ بن ونضیر کا ایک سردار کعب بن اشرف غزوہ احد کے بعد اپنے ساتھ چالیس یہودیوں کا ایک قافلہ لے کر مکہ معظمہ پہنچا، ادھر ابوسفیان اپنے چالیس آدمیوں کو لیکر حرم بیت اللہ میں داخل ہوا اور بیت اللہ کا پردہ پکڑ کر یہ معاہدہ کیا کہ ہم ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے اور مسلمانوں کے خلاف جنگ کریں گے۔
کعب بن اشرف اس معاہدہ کے بعد جب مدینہ طیبہ واپس آیا تو جبرائیل امین نے آنحضرت ﷺ کو سارا واقعہ اور معاہدہ کی تفصیل بتادی، آپ ﷺ نے کعب بن اشرف کے قتل کا حکم جاری فرما دیا، چناچہ محمد بن مسلمہ انصاری نے اس کے قتل کی ذمہ داری اپنے ذمہ لی۔
کعب بن اشرف کا قتل اور اس کے اسباب :
مدینہ منورہ میں جب فتح بدر کی بشارت پہنچی تو کعب بن اشرف یہودی کو بےحد صدمہ ہوا اور یہ کہا کہ اگر یہ خبر صحیح ہے کہ مکہ کے بڑے سردار اور اشراف مارے گئے تو پھر زمین کا بطن اس کی ظہر سے بہتر ہے یعنی جینے سے مرجانا بہتر ہے تاکہ آنکھیں اس ذلت اور رسوائی کو نہ دیکھیں۔
لیکن جب خبر کی تصدیق ہوگئی تو مقتولین بدر کی تعزیت کے لئے ایک وفد لیکر مکہ روانہ ہوا اور مقتولین بدر کے مرثئے لکھے جن کو پڑھ پڑھ کر خود بھی روتا تھا اور دوسروں کو بھی رلاتا تھا اور رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں لوگوں کو جوش دلا کر آمادہ قتال کر تھا تھا، آخر ایک روز قریش کو حرم مکہ میں لے جا کر اور غلام کبہ پکڑ کر مسلمانوں سے قتال کرنے کا حلف اٹھایا، اس کے بعد جب مدینہ واپس آیا تو مسلمان عورتوں کے متعلق عشقیہ اشعار کہنے شروع کئے، کعب بن اشرف بڑا شاعر تھا، آپ ﷺ کی ہجو میں اشعار کہتا تھا اور کفار مکہ کو آپ ﷺ کے مقابلہ کے لئے ہمیشہ بھڑکاتا رہتا تھا اور مسلمانوں کو بھی طرح طرح کی ایذائیں دیتا رہتا تھا، جب صبر و تحمل کی حد ہوگئی اور پیمانہ صبر لبریز ہوگیا اور وہ کسی طرح باز نہ آیا تو آخر کار مجبور ہو کر آپ ﷺ نے اس کو قتل کرنے کا حکم دیدیا۔ (ابو دائود، ترمذی، فتح الباری)
ایک روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ کعب بن اشرف نے اپ کو دعوت کے بہانے سے بلایا اور کچھ آدمی متعین کردیئے کہ جب آپ تشریف لائیں تو قتلکر ڈالیں، آپ آ کر بیٹھے ہی تھے کہ جبرائیل امین نے آ کر آپ جو ان کے ارادہ سے مطلع کردیا آپ فوراً وہاں سے جبرائیل امین کے پروں کے سایہ میں باہر تشریف لے آئے اور واپسی کے بعد اسکے قتل کا حکم دیا۔ (فتح الباری : ج 8 ص 259)
صحیح بخاری میں حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کعب بن اشرف کو قتل کرنے کے لئے کون تیار ہے ؟ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو بہت ایذا پہنچائی ہے، یہ سنتے ہی محمد بن مسلمہ ؓ کھڑے ہوگئے اور عرض کیا یا رسول اللہ کیا آپ اس کا قتل چاہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! محمد بن مسلمہ نے عرض کیا یا رسول اللہ پھر مجھے کچھ کہنے کی اجازت دیجیے جن کو سن کر بظاہر وہ خوش ہوجائے، آپ نے فرمایا اجازت ہے۔
محمد بن مسلمہ ایک وز کعب بن اشرف سے ملنے گئے اور اثنئا گفتگلو میں یہ کہہ دیا کہ یہ شخص (یعنی رسول اللہ ﷺ ) ہم سے صدقہ اور زکوۃ مانگتا ہے اور اس شخص نے ہم کو مشقت میں ڈال دیا ہے، میں اسوقت آپ کے پاس قرض لینے کے لئے ایا ہوں، کعب بن اشرف نے کہا ابھی کیا ہے ؟ آگے چل کر دیکھنا، خدا کی قسم تم ان سے اکتا جائو گے، محمد بن مسلمہ نے کہا اب تو ہم اس کے پیرو ہوچکے ہیں ان کا چھوڑنا ہم پسند نہیں کرتے انجام کے منتظر ہیں، اس وقت ہم یہ چاہتے ہیں کہ آپ کچھ غلہ ہم کو بطور قرض دیدیں، کعب نے ہا بہتر ہے مگر میرے پاس کوئی چیز رہن رکھ دو ، انہوں نے کہا کہ آپ کیا چیز رہن رکھوانا چاہتے ہیں ؟ کعب نے کہا اپنی عورتوں کو رہن رکھ دو ، انہوں نے کہا اپنی عورتوں کو رہن کیسے رکھ سکتے ہیں، اول تو غیرت و حمیت گوارہ نہیں کرتی، پھر یہ کہ آپ نہایت حسین و جمیل ہیں، کعب نے کہا آپ اپنے لڑکوں کو رہن رکھ دو ، انہوں نے ہا یہ تو ساری عمر کی عار ہے، لوگ ہماری اولاد کو طعنہ دیں گے کہ تم وہی ہو جو دو سیر اور تین سیر غلہ کے عوض رہن رکھے گئے تھے ہاں ہم اپنا ہتھیار آپ کے پاس رہن رکھ سکتے ہیں۔
حسب وعدہ یہ لوگ رات کو ہتھیار لیکر پہنچے اور جا کر کعب کو آواز دی، کعب نے اپنے قلعہ سے اترنے کا ارادہ کیا، بیوی نے کہا اس وقت کہاں جاتے ہوڈ کعب نے کہا محمد بن مسلمہ ابونائلہ میرا دودھ شریک بھائی ہے کوئی غیر نہیں تم فکر نہ کرو، بیوی نے کہا مجھے اس آواز سے خون ٹپکتا ہوا نظر آتا ہے کعب نے کہا اگر شریف آدمی رات کے وقت نیزہ مارنے کے لئے بھی بلایا جائے تو اس کو ضرور جانا چاہیے، اس دوران محمد بن مسلمہ نے اپنے ساتھیوں کو یہ سمجھا دیا کہ جب کعب آئے گا تو میں اس کے بال سونگھوں گا، جب دیکھو کہ میں نے اس کے بالوں کو مضبوط پکڑ لیا ہے تو فوراً اس کا سر اتار لینا چناچہ جب کعب نیچے آیا تو سرتاپا خوشبو سے معطر تھا، محمد بن مسلمہ نے کہا، آج جیسی خوشبو تو میں نے کبھی سونگھی ہی نہیں، کعب نے کہا میرے پاس عرب کی سب سے زیادہ حسین و جمیل اور سب سے زیادہ معطر عورت ہے، محمد بن مسلمہ نے آگے بڑھ کر خود بھی سر کو سونگھا اور اپنے رفقاء کو بھی سونگھایا، کچھ دیر کے بعد پھر محمد بن مسلمہ نے کہا آپ دوبارہ اپنا سر سونگھنے کی اجازت دیں گے ؟ کعب نے کہا شوق سے محمد، بن مسلمہ اٹھے اور سرسونگھنے میں مغشول ہوگئے جب سر کے بال مضبوط پکڑ لئے تو ساتھیوں کو اشارہ کیا، فوراً ہی سب نے اس کا سر قلم کردیا اور آناً فاناً اس کا کام تمام کردیا۔ (فتح الباری : ج 8، ص 260)
اور اخیر شب میں رسول اللہ کی خدمت میں پہنچے، آپ نے دیکھتے ہی یہ ارشاد فرمایا افلحت الوجوہ ’ یہ چہرے کامیاب ہوئے “ ان لوگوں نے جواباً عرض کیا، ووجھک یا رسول اللہ ” اے اللہ کے رسول آپ کا چہرہ مبارک بھی “ اس کے بعد کعب بن اشرف کا سر آپ کے سامنے ڈال دیا، آپ نے اللہ کا شکر ادا کیا، جب یہود کو اسکا علم ہوا تو یکلخت مرعوب اور خوف زدہ ہوگئے اور جب صبح ہوئی تو یہود کی ایک جماعت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا : کہ ہمارا سردار اس طرح مارا گیا، آپ نے فرمایا وہ مسلمانوں کو طرح طرح سے ایذائیں پہنچاتا تھا، اور لوگوں کو ہمارے قتال پر آمادہ کرتا تھا، یہود دم بخود رہ گئے اور کوئی جواب نہ دے سکے، بعدازاں آپ نے ان سے ایک عہد نامہ لکھوایا کہ یہود میں سے آئندہ کوئی اس قسم کی حرکت نہ کرے گا۔ (طبقات ابن سعد)
کعب بن اشرف اور اس کی دریدہ دہنی اور قتل کے اسباب :
(1) نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں دریدہ دہنی اور سب و شتم اور گستاخانہ کلمات کا زبان سے نکلنا (2) آپ کی ہجو میں اشعار کہنا (3) غزلیات اور عشقیہ اشعار میں مسلمان عورتوں کا بطور تشبیب ذکر کرنا (4) غدر اور نقض عہد (5) لوگوں کو آپ کے مقابلہ کے لئے ابھارنا (6) دعوت کے بہانہ سے آپ کی قتل کی سازش کرنا۔ (7) دین اسلام پر طعن کرنا۔
بنو نضیر کی جلا وطنی کے وقت مسلمانوں کی روا داری :
آج کے بڑے حکمران اور بڑی حکومتیں جو انسانی حقوق کے تحفظ پر بڑے بڑے لکچر دیتے ہیں اور حقوق انسانی کے تحفظ کے نام سے بڑی بڑی عالمی اور ملکی اور علاقائی انجمنیں بنا رکھی ہیں اور تحفظ حقوق انسانی کے چودھری کہلاتے ہیں، ذرا اس واقعہ پر نظر ڈالیں کہ بنو نضیر کی ملسل سازشیں، خیانتیں، قتل رسول کے منصوبے جو آپ ﷺ کے سامنے آتے رہے، اگر آج کل کے کسی حکمراں اور کسی سربراہ مملکت کے سامنے آئے ہوتے تو ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر سوچئے کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ کیا معاملہ کرتا ؟ آج کل تو زندہ لوگوں پر پیٹرول چھڑک کر میدان صاف کردینا کسی بڑے اقتدار و حکومت کا بھی محتاج نہیں، کچھ غنڈے شریر ہوجاتے ہیں اور یہ سب کچھ کر ڈالتے ہیں۔
آپ ﷺ کے بدترین دشمن کے ساتھ بےمثال روا داری :
یہ حکوتم خدا کی اور اس کے رسول کی ہے جب غداریوں اور سازشیں انتہا کو پہنچ گئیں تو اس وقت بھی ان کے قتل عام کا ارادہ نہیں فرمایا، ان کے ملا و اسباب چھین لینے کا کوئی تصور نہیں تھا بلکہ اپنا سب مال لے کر صرف شہر خالی کردینے کا فیصلہ فرمایا اور اس کے لئے بھی ان کو دس روز کی مہلت دی تاکہ آسانی کے ساتھ اپن سامان لیکر اطمینان سے کسی دوسرے مقام پر منتقل ہوجائیں، جب اس حکم کی بھی خلاف ورزی کی تو فوجی اقدام کی ضرورت پیش آئی۔
یہود کی شرارت اور بد عہدی :
بنی عامر کے دو آدمیوں کی دیت کے سلسلہ میں آپ اپنے چند رفقاء کے ہمراہ یہود کی بستی بنو نضیر تشریف لے گئے، بنو نضیر نے آپ کے تشریف لے جانے پر بظاہر دیت میں شرکت کے بارے میں آمادگی کا اظہار کیا اور آپ کو ایک قلعہ کی دیوار کے سایہ میں بٹھا دیا اور لوگوں کو جمع کرنے بہانے ادھر ادھر چلے گئے اور جدا ہو کر اپٓس میں یہ مشورہ کیا کہ یہ بہت اچھا موقع ہے کہ کوئی شخص قلع پر چڑھ کر اوپر سے پتھر دھکیل دے تاکہ محمد ﷺ اور ان کے تینوں ساتھی کچل جائیں۔
چناچہ ایک شخص عمر بن محاسن بن کعب فوراً اوپر چڑھا کہ پتھر آپ پر گرا دے ابھی وہ گرانے نہ پایا تھا کہ آپ کو خدا نے بذریعہ وحی یہودیوں کے اس منصوبے کی اطلاع دے دی، آپ ﷺ فوراً وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور صحابہ کرام ؓ کو ہمراہ لیکر مدینہ کے لئے روانہ ہوگئے، یہودیوں نے آپ کو واپس بلانا چاہا، آپ نے فرمایا کہ تم نے ہمارے قتل کا منصوبہ تیار کیا اب ہم کو تمہار اعتبار نہیں رہا اور بنو نضیر اس الزام کا انکار بھی نہ کرسکے، اب ان کے ساتھ کسی قسم کی رعایت کا سوال ہی نہیں رہا، آپ ﷺ نے ان کو یہ الٹی میٹم بھیج دیا کہ تم یہاں سے دس دن کے اندر جلا وطن ہوجائو، دس دن کے بعد اگر تمہاری بستی میں کوئی شخص پایا گیا تو اس کی گردن مار دی جائے گی، بنو نضیر نے حکم ماننے سے انکار کردیا اور لڑائی کے لئے مستعد ہوگئے، دوسری طرف عبداللہ بن ابی منافق نے یہودیوں کو پیغام بھیج دیا کہ میں دو ہزار آدمیوں سے تمہاری مدد کروں گا اور بنی قریظہ اور بنی غطفان بھی تمہاری مدد کے لئے آئیں گے، اسی جھوٹے بھرو سے اور اعتماد پر انہوں نے آپ ﷺ کے ال ٹی میٹم کا یہ جواب دیا کہ ہم یہاں سے نہیں نکلیں گے، آپ سے جو کچھ ہو سکے کرلیجیے، اس پر آپ ﷺ نے ربیع الاول 4 ھ میں ان کا محاصرہ کرلیا جو پندرہ دن جاری رہا، اس محاصرہ کا یہ نتیجہ ہوا کہ بنو نضیر نے عبداللہ بن ابی کے ذریعہ آپ کو پیغام بھیجا کہ اگر ہماری جان بخشی کی جائے تو ہم جلا وطنی کو تیار ہیں، آپ نے حکم دیا کہ سوائے ہتھیاروں کے دیگر تمام مال و اسباب جو اونٹوں پر بار ہوسکتا ہو لیکن یہاں سے نکل جائو، چناچہ بنو نضیر ہتھیاروں کے علاوہ دیگر مال اونٹوں پر لاد کرلے گئے حتی کہ در اور مکان کی کڑیاں اور الماریاں وغیرہ سب لے گئے اور مکانوں کو ویران و مسمار کر گئے، غرضیکہ کوئی چیز قابل استعمال نہیں چھوڑی حی کہ مٹکے تک توڑ گئے، یہاں سے روانہ ہو کر کچھ تو خیبر میں مقیم ہوگئے اور کچھ شام میں جا کر آباد ہوگئے، یہودیوں میں یامین بن عمیر اور سعید بن وہب دو شخص مسلمان ہوئے اس لئے ان کے مال و اسباب اور اسلحہ وغیرہ سے کوئی تعرض نہیں کیا گیا، اسی غزوہ کے بارے میں سورة حشر نازل ہوئی۔ (تاریخ الاسلام، اکبر شاہ خان نجیب آبادی مخلصاً )
لاول الحشر ” حشر “ کے معنی منتشر افراد کو جمع کرنا یا منتشر افراد کو جمع کر کے نکال دینا اور لاول الحشر کے معنی ہیں پہلے حشر کے ساتھ یا پہلے حشر کے موقع پر اب رہا یہ سوال کہ یہاں اول حشر سے کیا مراد ہے ؟ تو اس میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے ایک گروہ کے نزدیک اس سے بنی نضیر کا مدینہ سے اخراج مراد ہے اور اس کو پہلا حشر اس اعتبار سے کہا گیا ہے کہ دوسرا حشر حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں ہوا جب یہود و نصاریٰ کو جزیرۃ العرب سے نکالا گیا، دوسرے گروہ کے نزدیک اس سے مسلمانوں کی فوج کا اجتماع مراد ہے جو بنی نضیر سے جنگ کرنے کے لئے جمع ہوا تھا، اس صورت میں لاول الحشر کے یہ معنی ہیں کہ ابھی مسلمان ان سے لڑنے کے لئے جمع ہی ہوئے تھے اور کشت و خون کی نوبت نہ آئی کہ اللہ کی قدرت سے وہ جلا وطنیکے لئے تیار ہوگئے۔
Ayahs 59:5–6ماقطعتم من لینۃ اوترکتموھا قائمۃ الخ مسلمانوں نے جب محاصرہ شروع کیا تو بنی نضیر کی بستی کے اطراف میں نخلستان واقع تھے ان کے بہت سے درختوں کو کاٹ ڈالا یا جلا ڈالا گیا تھا، تاکہ محاصرہ با آسانی کیا جاسکے اور درخت فوجی نقل و حرکت میں حائل نہ ہوں، چناچہ جو درخت حائل نہیں تھے انہیں کھڑا رہنے دیا گیا تھا اس پر مدینہ کے منافقوں اور بنو قریظہ اور خود بنو نضیر نے شور مچا دیا کہ محمد ﷺ تو فساد فی الارض سے منع کرتے ہیں مگر خود ہرے اور پھلدار درختوں کو کاٹے جا رہے ہیں، یہ آخر فساد فی الارض نہیں تو اور کیا ہے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا کہ تم لوگوں نے جو درخت کاٹے اور جن کو کھڑا رہنے دیا ان میں سے کوئی فعل بھی ناجائز نہیں ہے بلکہ دونوں کو اللہ کا اذن حاصل ہے، اس سے شرعی مسئلہ یہ نکلتا ہے کہ جو جنگی ضروریات کے لئے تخریبی کارروائی ناگزیر ہو وہ فساد فی الارض کی تعریف میں نہیں آتی، چناچہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے یہ وضاحت فرما دی ہے، قطعوا منھا مان کان موضع القتال مسلمانوں نے بنو نضیر کے درختوں میں سے صرف وہ درخت کاٹے تھے جو جنگ کے مقام پر واقع تھے۔ (تفسیر نیشا پوری)
مسئلہ،۔ بحالت جنگ کفار کے گھروں کو منہدم کرنا یا جلانا اسی طرح درختوں اور کھیتوں کو برباد کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ اس میں ائمہ فقہاء کے مختلف اقوال ہیں، امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ تعالیٰ نے بحالت جنگ ان سب کاموں کو جائز قرار دیا ہے، مگر شیخ ابن ہممام نے فرمایا کہ یہ جواز اس وقت ہے جبکہ اس کے بغیر کفار پر غلبہ پانا مشکل ہو۔
Ayah 59:7ما افآء اللہ علی رسولہ منھم (الآیۃ) افآء فی سے مشتق ہے جس کے معنی لوٹنے کے ہیں، اسی لئے زوال کے وقت کے سایہ کو فئی کہتے ہیں، اس لئے کہ زوال سے پہلے جو سایہ مغرب کی طرف تھا زوال کے بعد وہ سایہ مشرق کی طرف لوٹتا ہے، جو اموال غنیمت کفار سے حاصل ہوتے ہیں ان کی حقیقت یہ ہے کہ کفار کے باغی ہوجانے کی وجہ سے ان کے اموال بحق سرکار ضبط ہوجاتے ہیں اور ان کی ملکیت سے نکل کر پھر مالک حقیقی کی طرف لوٹ آتے ہیں، اس لئے ان کے حاصل ہونے کو افآء کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے، اس کا تقاضا یہ تھا کہ کفار سے حاصل ہونے والے تمام قسم کے اموال کو فئی کہا جائے، مگر جو مال جہاد و قتال کے ذریعہ حاصل ہو اس میں انسانی عمل اور جدوجہد کو بھی ایک قسم کا دخل ہوتا ہے اس لئے اس کو لفظ غنیمت سے تعبیر فرمایا واعلموا انما غنمتم من شیء اس کا مطلب یہ ہے کہ جو مال بغیر جہاد و قتال کے حاصل ہوا ہے وہ مجاہدین اور غانمین میں مال غنیمت کے قانون کے مطابق تقسیم نہیں ہوگا بلکہ اس کا کلی اختیار رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں ہوگا، جس کو جتنا چاہیں عطا فرما دیں یا اپنے لئے رکھیں، ال بتہ یہ پابندی عائد کردی گئی اور چند اقسام مستحقین کی متعین کردی گئیں کہ اس مال کی تقسیم ان ہی اقسام میں دائر رہنی چاہیے، اس کا بیان آئندہ آیت میں اس طرح فرمایا ما افاء اللہ علی رسولہ من اھل القریٰ اس میں اہل قریٰ سے مراد بنو نضیر اور ان جیسے دوسرے قبائل بنو قریظہ وغیرہ ہیں جن کے اموال بغیر قتال کے حاصل ہوئے، آگے مصارف و مستحقین کی پانچ قسمیں بیان فرمائی گئی ہیں جن کا بیان آگے آتا ہے۔ (معارف)
آیات مذکورہ میں فئی کے احکام اس کے مستحقین اور ان میں تقسیم کا طریقہ کار بیان فرمایا ہے اوپر مال غنیمت اور مال فئی میں فرق کا بیان ہوچکا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ غنیمت اس مال کو کہا جاتا ہے جو کفار سے جہاد و قتال کے نتیجے میں حاصل ہوتا ہے اور فئی وہ مال جو بغیر جہاد و قتال کے حاصل ہوا خواہ اس طرح کہ وہ اپنا مال چھوڑ کر بھاگ گئے ہوں یا رضا مندی سے بصورت جزیہ وخراج یا تجارتی ڈیوٹی وغیرہ کے ذریعہ ان سے حاصل ہوا ہو، مذکورہ فرق کو فما اوجفتم علیہ من خیل ولا رکاب سے ظاہر کیا گیا ہے، اونٹ اور گھوڑے دوڑانے سے مراد جنگی کا رروائی ہے لہٰذا جو مال براہ راست اس کارروائی سے ہاتھ آئے وہ غنیمت ہے اور جس مال کے حصول کا اصل سبب یہ کارروائی نہ ہو وہ مال فئی ہے۔
مذکورہ مسئلہ کی مزید وضاحت :
مال غنیمت اور مال فئی کے درمیان اوپر فرق بیان کیا گیا ہے اس کو اور زیادہ کھول کر فقہائے اسلام نے اس طرح بیان کیا ہے کہ مال غنیمت صرف اموال منقولہ ہیں جو جنگی کارروائیوں کے دوران دشمن کے لشکروں سے حاصل ہوں اور اس کے ماسوا دشمن کے ملک کی زمینیں مکانتا اور دیگر اموال منقولہ و غیر منقولہ غنیمت کی تعریف سے خارج ہیں، اس تشریح کا ماخذ حضرت عمر ؓ کا وہ خط ہے جو انہوں نے سعد بن ابی وقاص کو فتح عراق کے بعد لکھا تھا، اس میں وہ فماتے ہیں فانظر ما اجلبوا بہ علیک فی العسکرمن کراع اومال فاقسمہ بین من حضر من المسلمین و اترک الارضین والانھار لعمالھا لیکون ذلک فی اعطیات المسلمین
” جو مال و متاع فوج کے لوگ تمہارے لشکر میں سمیٹ لائے ہیں اس کو ان مسلمانوں میں تقسیم کردو جو جنگ میں شریک تھے اور زمینیں اور نہریں ان لوگوں کے پاس چھوڑ دو جو ان پر کام کرتے ہیں تاکہ ان کی آمدنی مسلمانوں کی تنخواہوں کے کام آئے۔ “ (کتاب الخراج لابی یوسف رحمتہ اللہ تعالیٰ ص 24) اسی بنیاد پر حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں کہ جو کچھ دشمن کے کیمپ سے ہاتھ آئے وہ ان کا حق ہے جنہوں نے اس پر فتح پائی اور زمین مسلمانوں کے لئے ہے، مال غنیمت میں پانچواں حصہ نکال کر باقی چار حصے فوج میں تقسیم کئے جائیں گے، یہ رائے یحییٰ بن آدم کی ہے جو انہوں نے اپنی کتاب ” الخراج “ میں بیان فرمائی ہے اس سے بھی زیادہ جو چیز غنیمت اور فئی کے فرق کو واضح کرتی ہے وہ یہ ہے کہ جنگ نہاوند کے بعد جب مال غنیمت تقسیم ہوچکا تھا اور مفتوجہ علاقہ اسلامی حکومت میں داخل ہوگیا تھا ایک صاحب سائب بن اقرع کو قلعہ میں جواہر کی دو تھیلیاں ملیں، ان کے دل میں یہ الجھن پیدا ہوئی کہ آیا یہ مال غنیمت ہے جسے فوج میں تقسیم کیا جائے یا اس کا شمار اب فئی میں ہے، جسے بیت المال میں جمع ہونا چاہیے ؟ آخر کار انہوں نے مدینہ حاضر ہو کر معاملہ حضرت عمر ؓ کے سامنے یش کیا، اور انہوں نے فیصلہ فرمایا کہ اسے فروخت کر کے اس کی قیمت بیت المال میں داخل کردی جائے، اس سے معلوم ہوا کہ غنیمت صرف وہ اموال منقولہ ہیں جو دوران جنگ کے ہاتھ آئیں، جنگ ختم ہونے کے بعد اموال غیر منقولہ کی طرح اموال منقولہ بھی فئی کے حکم میں داخل ہوجاتے ہیں۔
مذکورہ آیت میں مستحقین کی تعداد چھ بتائی گئی ہے، جن میں ایک اللہ ہے، ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ تو پوری کائنات کا مالک ہے اسے حصے کی کیا ضرورت ؟ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو یہ مال ملک تصرف کے طور پردے رکھا تھا جب انہوں نے غداری کی اور مالک حقیقی کے خلاف علم بغاوت بلند کردیا تو اللہ نے اپنے وفادار بندوں کے ذریعہ یہ مال واپس اپنی ملکیت میں لے لیا، اسی وجہ سے اس کو مال فئی کہتے ہیں، اب اس میں سے جس کو بھی ملے گا، وہ کسی انسان کی جانب سے خیرات یا صدقہ نہیں ہوگا بلکہ وہ اللہ رب العالمین کی جانب سے نہایت پاکیزہ عطیہ ہوگا، یہی وجہ ہے کہ مال فئی میں سے بنی ہاشم اور بنی عبدالمطلب کو بھی دیا جاتا تھا۔
اب مستحق اور مصارف کل پانچ رہ گئے 1 روسل 2 ذوی القربی 3 یتیم 4 مسکین 5 مسافر یہی پانچ مصارف مال غنیمت کے خمس کے ہیں، جس کا بیان سورة انفال میں آیا ہے اور یہی مصارف مال فئی کے ہیں، مال فئی کے بارے میں یہ بات پہلے مذکور ہوچکی ہے کہ آپ ﷺ کی وفات کے بعد اغنیاء ذوی القربیٰ کا حصہ ساقط ہوگیا، فقراء ذوی القربی کا حصہ آج بھی باقی ہے، یہ مسلک امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ ت عالیٰ کا ہے، امام شافعی رحمتہ اللہ تعالیٰ اغنیاء ذوی القربیٰ کے حصہ کو آپ کی وفات کے بعد ساقط نہیں کرتے بلکہ جس طرح آپ ﷺ کی حیات مبارکہ میں ان کا حصہ تھا آج بھی حصہ ہے، امام شافعی رحمتہ اللہ تعالیٰ کی دلیل یہ بیان کی گئی کہ ذوی الرقبیٰ کو حصہ ان کے احترام و اکرام کے طور پر دیا جاتا تھا اس میں اغنیاء اور قراء سب شامل ہیں مثلاً حضرت عباس ؓ مالدار آدمی تھے مگر ان کو بھی مال فئی میں سے دیا جاتا تھا۔
امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ذوی القربیٰ کو مال فئی سے دینے کے دو وجہ ہیں ایک نصرت رسول ﷺ یعنی اسلامی کاموں میں رسول اللہ ﷺ کی مدد کرنا، اس لحاظ سے اغنیاء ذوی القربیٰ کو بھی حصہ دیا جاتا تھا، دوسرے یہ کہ رسول اللہ ﷺ کے ذوبی القربیٰ پر مال صدقہ حرام کردیا گیا ہے، تو ان کے فقراء و مساکین کو صدقہ کے بدلہ میں مال فئی سے حصہ دیا جاتا تھا، رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد نصرت و امداد کا سلسلہ ختم ہوگیا، تو یہ وجہ باقی نہ رہی اس لئے اغنیاء ذوی القربیٰ کا حصہ بھی روسل کے حصہ کی طرح ختمہو گیا البتہ فقراء ذوی القربیٰ کا حصہ بحیثیت فقر و احتیاج کے اس مال میں باقی رہا، ال بتہ وہ اس مال میں دوسرے فقراء و مساکین کے مقابلہ میں مقدم رکھے جائیں گے۔ (کذا فی الھدایہ)
کیلایکون دولۃ بین الاغنیاء منکم، دولۃ دال کے ضمہ کے ساتھ اور ایک لغت فتحہ کے ساتھ بھی ہے دست گرداں (چرخہ) دال یدول دولاً (ن) گردش کرنا، دولت بھی چونکہ گردش کرتی ہے، آج اسکے پاس تو کل اس کے پاس، اس لئے اس کو دولت کہتے ہیں (لغات القرآن) آیت کا مطلب یہ ہے کہ مال فئی کے مستحقین اس لئے متعین کردیئے گئے ہیں تاکہ یہ مال مالداروں ہی کے درمیان گردش کرنے والی چیز نہ بن جائے۔
یہ آیت قرآن مجید کی اہم ترین اصولی آیات میں سے ہے، جس میں اسلامی معاشرہ اور حکومت کی معاشی پالیسی کا یہ بنیادی قاعدہ بیان کیا گیا ہے کہ دولت کی گردش پورے معاشرے میں عام ہونی چاہیے، ایسا نہ ہو کہ مال صرف مالداروں ہی میں گھومتا رہے، جس کے نتیجے میں امیر روز بروز امیر تر اور غریب روز بروز غریب تر ہوتے چلے جائیں، قرآن مجید میں اس پالیسی کو صرف بیان کرنے ہی پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ اسی مقصد کے لئے سود، سٹہ، جواء، جو اکتساب مال کے ایسے ذرائع ہیں کہ ان کے ذریعہ دولت چند افراد کے ہاتھوں میں سمٹ کر رہ جاتی ہے، ان سب کو سخت حرام قرار دیا ہے، اور زکوۃ فرض کی گئی ہے، اموال غنیمت میں سے خمس نکالنے کا حکم دیا گیا ہے جن سے، دولت کی معاشرے کے غریب طبقات تک رسائی ہو سکے، اخلاقی حیثیت سے بھی بخل کو سخت قابل مذمت اور فیاضی کو بہترین صفت قرار دیا گیا ہے، خوشحال طبقوں کو یہ سمجھایا گیا ہے کہ ان کے مال میں سائل اور محروم کا حق ہے جسے خیرات سمجھ کر ادا کرنا چاہیے۔
یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اسلامی حکومت کے ذرائع آمدنی کی اہم ترین مدات دو ہیں، ایک زکوۃ اور دوسرے فئی ہی کے لئے مخصوص ہے اور فئی میں جزیہ اور خراج سمیت وہ تمام آمدنیاں شامل ہیں جو غیر مسلموں سے حاصل ہوتی ہیں اور ان کا بھی بڑا حصہ غریبوں ہی کے لئے مخصوص کیا گیا ہے، یہ اس طرف کھلا ہوا اشارہ ہے کہ اسلامی حکومت کو اپنی آمد و خرچ کا نظام اور تمام ملای اور معاشی معالمتا کا اتنظام اس طرح کرنا چاہیے کہ دولت کے ذرائع پر مالدار اور با اثر لوگوں کی اجارہ داری قائم نہ ہو اور نہ دولت مندوں کے درمیان گردش کرتی رہ جائے، کیسے بےبصیرت ہیں وہ لوگ جو اسلام جیسے منصفانہ اور عادلانہ اور حکیمانہ نظام کو چھوڑ کر نئے نئے ازموں کو اختیار کر کے امن عالم کو برباد کرتے ہیں ؟
ما اتکم الرسول فخذوہ ومانھاکم عنہ فانتھوا واتقوا اللہ (آلایۃ) یہ آیت اگرچہ مال فئی کے سلسلہ میں ائٓی ہے اور اس سلسلہ کے مناسب اس کا مفہوم یہ ہے کہ مال فئی میں اگرچہ مستحقین کے طبقات بیان کردیئے ہیں مگر ان میں کس کو کتنا دیں اس کی تعیین رسول اللہ ﷺ کی صوابدید پر رکھی ہے اس لئے مسلمانوں کو اس آیت میں ہدایت دی گئی ہے کہ جس کو جتنا آپ عطا فرمائیں اسی کو راضی ہو کرلے لیں اور جو نہ دیں اس کی فکر میں نہ پڑیں، آگے اس کو اتقوا اللہ کے حکم سے مئوکد کردیا کہ اگر اس معاملہ میں کچھ غلط حیلے بہانے بنا کر زائد وصول کر بھی لیا تو اللہ تعالیٰ کو سب خبر ہے وہ اس کی سزا دے گا۔
Ayah 59:8للفقراء الماجرین ترکیب نحوی کے اعتبار سے للفقراء کو لذی القربی کا بدل قرار دیا گیا ہے جو اس سے پہلی آیت میں مذکور ہے۔ (مظہری) اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ پچھلی آیت میں جو عام تیموں مسکینوں اور سمافروں کو ان کے فقر و احتیاج کی بناء پر مال فئی کے مستحقین میں شمار کیا گیا ہے ان آیات میں اس کی مزید تشریح اس طرح کی گئی ہے اگرچہ حقدار اس مال میں تمام ففقراء و مساکین ہیں لیکن پھر بھی ان میں یہ حضرات اور سب لوگوں سے مقدم ہیں، جن کی دینی خدمات اور ذاتی اوصاف کمالات دینیہ معروف ہیں، امام شافعی رحمتہ اللہ تعالیٰ نے للماجرین کو ولذی القربی سے بدل قرار دینے کے بجائے فعل محذوف سے متعلق مانا ہے، اسی کے پیش نظر مفسر علام نے اس کو اعجبوا فعل مقدر کے متعلق کیا، اس کی مزید وضاحت تحقیق و ترکیب کے زیر عنوا گذر چکی ہے، ملاحظہ فرما لی جائے۔
مذکورہ آیت میں مال فئی کا صحیح ترین مصرف بیان کیا گیا ہے اور ساتھ ہی مہاجرین کی فضیلت ان کے اخلاص اور ان کی راست بازی کی وضاحت ہے، جس کے بعد ان کے ایمان میں شک کرن اگویا قرآن کا انکار ہے، معاذ اللہ روافض جو ان حضرات کو منافق کہتے ہیں یہ اس آیت کی کھلی تکذیب ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے قلوب کو تقویٰ کے لئے آزمائے جانے کی گواہی دی ہے، ان حضرات مہاجرین کا اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک یہ مقام تھا کہ اپنی دعائوں میں اللہ تعالیٰ سے ان فقراء مہاجرین کا وسیلہ دے کر دعا فرماتے تھے۔
Ayah 59:9والذین تبواء و الدار والایمان من قبلھم، تبوء کے معنی ٹھکانے بنان کے ہیں اور دار سے مراد دار ہجرت یاد اریمان یعنی مدینہ طیبہ ہے مدینہ طیبہ کو دار ایمان کہنے کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ عرب کے تمام علاقہ جہاد اور فوج کشی کے ذریعہ فتح ہوئے مگر مدینہ طیبہ ایمان کے ذریعہ فتح ہوا۔ (قرطبی)
اس آیت میں ایمان کا دار پر عطف کیا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انصار نے دار ہجرت میں ٹھکانہ بنایا اور ایمان میں ٹھکانہ بنایا حالانکہ ٹھکانہ بنانا کسی مقام اور جگہ میں ہوتا ہے ایمان کوئی ایسی چیز نہیں کہ اس میں ٹھکانہ بنایا جاسکے، اس لئے بعض حضرات نے کہا کہ یہاں ایک لفظ مخذوف ہے یعنی اخلصوا الایمان یعنی یہی ہیں وہ لوگ جنہوں نے دار ہجرت کو ٹھکانہ بنایا اور ایمان میں مخلص اور مضبوط رہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وائو بمعنی مع ہو تو آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ انہوں نے ایمان کے ساتھ دار ہجرت کو ٹھکانہ بنایا، من قبلھم کا مطلب ہے مہاجرین کے ہجرت کر کے آنے سے پہلے ایمانا ان کے دلوں میں راسخ ہو کر پختہ ہوچکا تھا، انصار کی ایک صفت یہ بھی بیان فرمائی کہ مہاجرین کو اللہ کا رسول جو کچھ دے اس پر حسد اور انقباض محسوس نہیں کرتے، جیسے مال فئی کا اولین مستحق مہاجرین کو قرار دیا مگر انصار نے برا نہیں مانا۔
یوثرون علی انفسھم ولو کان بھم خصاصۃ یعنی اپنے مقابلہ میں مہاجرین کی ضرورت کو ترجیح دیتے ہیں خود بھوکے رہتے ہیں لیکن مہاجرین کو کھلاتے ہیں، جیسے حدیث میں ایک واقعہ آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک مہمان آیا لیکن آپ ﷺ کے گھر میں کچھ نہ تھا چناچہ ایک انصاری اسے اپنے گھر لے گیا، گھر جا کر بیوی کو بتلایا تو بیوی نے ہا کہ گھر میں تو صرف بچوں کی خوراک ہے، انہوں نے باہم مشورہ کیا کہ بچوں کو تو آج بھوکا سلا دیں اور ہم خود بھی ایسے ہی کچھ کھائے بغیر سو جائیں گے، البتہ مہمان کو کھلاتے وقت چراغ گل کردینا تاکہ مہمان کو ہماری بابت علم نہ ہو کہ ہم اس کے ساتھ کھانا نہیں کھا رہے ہیں، صبح جب وہ انصاری صحابی آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم دونوں میاں بیوی کی شان میں یہ آیت نازل فرمائی ہے یوثرون علی انفسھم الآیۃ (صحیح بخاری تفسیر سورة الحشر)
ومن یوق شح نفسہ فائولئک ھم المفحلون اس آیت میں ایک عام ضابطہ بیان فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ اپنے نفس کے بخل سے بچ گئے تو اللہ کے نزدیک وہ ہی فلاح اور کامیای پانے والے ہیں، لفظ شح اور بخل تقریباً ہم معنی ہیں، البتہ لفظ شح میں کچھ مبالغہ ہے اور وہ یہ کہ شح کا لفظ اس وقت بولا جاتا ہے کہ جب بخیلی نفس میں خوب رچ بس کر پختہ ہوگئی ہو، حدیثہ شریف میں ہے کہ شح سے بچو، اس حرص نفس نے ہی پہلے لوگوں کو ہلاک کیا، اس نے انہیں خونریزی پر آمادہ کیا اور انہوں نے محارم کو حلال کیا۔ (صحیح مسلم کتاب البر)
Ayah 59:10والذین جاء ومن بعدھم یقولون ربنا اغفرلنا (الآیۃ) یہ مال فئی کے مستحقین کی تیسری قسم ہے یعنی صحابہ کرام ؓ کے بعد آنے والے اور صحابہ کرام ؓ کے نقش قدم پر چلنے والے اس میں تابعین اور تبع تابعین اور قیامت تک ہونے والے اہل ایمان وتقویٰ سب آگئے، لیکن شرط یہی ہے کہ وہ انصار و مہاجرین کو مومن مانتے ہوں اور ان کے حق میں دعائے مغفرت کرنے والے ہوں نہ کہ ان کے ایمان میں شک کرنے والے اور ان پر سب و شتم کرنے والے اور ان کے خلاف اپنے دلوں میں بغض وعناد رکھنے والے، امام مالک رحمتہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت سے استنباط کرتے ہوئے یہی بات فرمائی ان الرافضی الذی یسب الحابۃ لیس لہ فی مال الفی نصیب لعدم اتصافہ بما مدذح اللہ بہ ھولاء فی قولھم رافضی کو جو صحابہ ؓ پر سب و شتم کرتے ہیں مال فئی سے حصہ نہیں ملے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام ؓ کی مدح کی ہے اور رافضی ان کی ہی مذمت کرتے ہیں۔ (ابن کثیر)
Ayahs 59:11–12ترجمہ، کیا آپ نے منافقوں کو نہ دیکھا ؟ کہ اپنے اہل کتاب بھائیوں سے کہتے ہیں اور وہ بنو نضیر اور ان کے کفر کے بھائی ہیں، اگر تم کو مدینہ سے نکالا گیا چاروں جگہ لام قسم کا ہے تو یقینا ہم بھی تمہارے ساتھ نکل کھڑے ہوں گے اور تمہاری ذلت کے بارے میں ہم کبھی بھی کسی کی بات نہ مانیں گے اور اگر تم سے قتال کیا گیا (قوتلتم) سے لام قسم حذف کردیا گیا ہے تو بخدا ہم تمہاری مدد کریں گے اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ قطعاً جھوٹے ہیں اگر وہ جلا وطن کئے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہ جائیں گے اور اگر ان سے جنگ کی گئی تو یہ ان کی مدد نہ کریں گے اور اگر بالفرض ان کی مدد پر آبھی گئے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوں گے پانچوں جگہ قسم مقدر کے جواب کی وجہ سے جواب شرط سے استغناء ہے پھر یہود کی مدد نہ کی جائے ی (مسلمانو ! یقین مانو) تمہاری ہیبت ان منفاقوں کے دل میں بہ نسبت اللہ کی ہیبت کے بہت زیادہ ہے اس کے عذاب کے مئوخر ہونے کی وجہ سے یہ اس لئے ہے کہ یہ ناسمجھ لوگ ہیں، یہ یعنی یہود سب مل کر بھی لڑ نہیں سکتے، ہاں یہ اور بات ہے کہ قلعہ بند مقامات میں ہوں یا دیوار کی آڑ میں ہوں اور ایک قرأت میں جدار کے بجائے جدر ہے، ان کی لڑائی تو ان کے آپس میں ہی بڑی سخت ہے گو آپ انہیں متحد سمجھ رہے ہیں لیکن گمان کے برخلاف ان کے دل ایک دوسرے سے جدا ہیں اس لئے کہ یہ بےعقل لوگ ہیں ترک ایمان میں ان لوگوں کی مثال ان لوگوں جیسی ہے جو ان سے کچھ ہی پہلے گذرے ہیں، قریبی زمانہ میں اور وہ مشرکین اہل بدر ہیں، جنہوں نے اپنے کام کا وبال چکھ لیا اس کا انجام قتل وغیرہ دنیا میں اور ان کے لئے آخرت میں درد ناک عذاب تیار ہے نیز ان کی مثال منافقوں کی بات سننے میں اور ان سے تخلف اختیار کرنے میں شیطان کے مانند ہے کہ اس نے انسان سے کہا کفر کر چناچہ جب وہ کفر کرچکا تو (شیطان) کہنے لگا میں تجھ سے بری ہوں، میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں اور اس کا یہ قول ریا اور کذب پر مبنی ہے پس ان دونوں کا انجام یہ ہوا کہ آتش (دوزخ) میں ہمیشہ کے لئے رہیں گے یعنی گمراہ کرنے والا اور گمراہ ہونے والا اور (عاقبتھما) کو اسم کان کے طور پر مرفوع بھی پڑھا گیا ہے، اور ظالموں کافروں کی یہی سزا ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : اخوانھم فی الکفر اس عباتر کے اضافہ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ قرآن میں جو منافقوں کو بنو نضیر (یہود) کا بھائی کہا گیا ہے یہ باعتبار کفر میں ہم مذہب ہونے کے ہے، نہ کہ باعتبار ہم نسب ہونے کے اس لئے کہ بنو نضیر وغیرہ یہود تھے، اور منافقین کا تعلق اوس و خزرج سے تھا۔
قولہ : لام قسم فی اربعۃ مواقع چار مواقع میں لام قسم کا ہے جو قسم محذوف پر دلالت کرتا ہے اور وہ چار مقام یہ ہیں 1 لئن اخرجتم 2 لان اخرجوا 3 ولئن قوتلوا 4 ولئن نصروھم ایک پانچویں جگہ اور ہے اور وہ وان قوتلتم الخ ہیخ یہاں لام قسم مقدر ہے۔
قولہ : واستغنی بجواب القسم یعنی جواب قسم مذکورہ پانچوں جگہ جواب قسم کی وجہ سے جواب شرط سے مستغنی ہے اس لئے کہ قاعدہ معروف ہے کہ جب قسم اور شرط دونوں جمع ہوجائیں تو مئوخر کا جواب محذوف ہوتا ہے (ابن مالک نے کہا ہے)
واحذف لدی اجتماع شرط وقسم جواب ما اخرت فھو ملتزم
ترجمہ :۔ جب قسم اور شرط جمع ہوجائیں تو ان میں مئوخر کی جزا کو لازمی طور پر حذف کر دے۔ وہ پانچ مقامات جو قسم محذوف کا جواب واقع ہو رہے ہیں اور جن کی دلالت کی وجہ سے جواب شرط کو حذف کردیا گیا یہ ہیں :
(1) لنخرجن (2) لننصرنکم (3) لایخرجون (4) لاینصرونھم (5) لیولن الادبار
قولہ : مجتمعین اس میں اشارہ ہے کہ جمعیاً لایقاتلونکم کی ضمیر فاعل سے حال ہے۔
قولہ : مثلھم فی ترک الایمان اس عبارت کو محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ کمثل الذین الخ مثلھم مبتداء محذوف کی خبر ہے۔
قولہ : وقری بالرفع اسم کان عاقبتما میں تاء پر نصب اور رفع دونوں جائز ہیں، نصب کی وجہ یہ ہے کہ کان کی خبر مقدم ہے اور انھما فی النار، ان اپنے اسم و خبر سے مل کر کان کا اسم مئوخر ہے اور تاء کے رفع کی صورت میں عاقبتھما کان کا اسم ہے اور انھما فی النار جملہ ہو کر کان کی خبر۔
تفسیر و تشریح
الم ترالی الذین تافقوا (الآیۃ) جیسا کہ پہلے گذر چکا ہے ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کو دس دن کے اندر مدینہ سے نکل جانے کا نوٹس بھیجا تو عبداللہ بن ابی اور مدینہ کے دوسرے منافق لیڈروں نے بنو نضیر کے یہودیوں کو یہ پیغام بھجیا تھا کہ ہم دو ہزار جنگ جو بہادروں کے ساتھ تمہاری مدد کو آئیں گے اور بنو غطفان اور بنو قریظہ بھی تمہاری حمایت میں اٹھ کھڑے ہوں گے، لہٰذا تم مسلمانوں کے مقابلہ میں ڈٹ جائو اور ہرگز ان کے آگے ہتھیار نہ ڈالو اگر تمہارے ساتھ جنگ کی گئی تو ہم تمہارے ساتھ مل کر مسلمانوں سے لڑیں گے اور اگر تم کو مدینہ سے نکال دیا گیا تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکل کھڑے ہوں گے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ترتیب نزولی کے اعتبار سے دوسرا رکوع پہلے نازل ہوا ہے اور پہلا رکوع اس کے بعد نازل ہوا ہے جبکہ بنو نضیر مدینہ سے نکالے جا چکے تھے دوسرے رکوع میں اہم ترین مضمون ہونے کی وجہ سے ترتیب قرآنی کے اعتبار سے اس کو مقدم کردیا گیا ہے۔
واللہ یشھد انھم لکذبون چناچہ مناففقین کا جھوٹ واضح ہو کر سامنے آگیا کہ بنو نضیر جلا وطن کردیئے گئے لیکن یہ ان کی مدد کو نہ پہنچے اور نہ ان کی حمایت میں مدینہ چھوڑنے پر آمادہ ہوئے۔
ولئن نصروھم ای جاء ولنصرھم اس اضافہ کا مقصد ایک اعتراض کو دفع کرنا ہے۔
اعتراض : اعتراض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے فقرے میں فرمایا لاینصرونھم اس کا مطلب ہے کہ منافقین یہود کی مدد کو نہیں آئیں گے دوسرے فقرے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ولئن نصروھم اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ یہود کی مدد کو آئیں گے۔
جواب :۔ جواب کا ماحصل یہ ہے کہ مفسر علام نے لائن نصروھم کی تفسیر جائو و لنصرھم سے کر کے جواب دیدیا کہ یہ بطور فرض کے ہے یعنی بالفرض و القتدریر مدد کے لئے نکلے بھی تو ان کی مدد نہ کریں گے، ورنہ تو جس چیز کی نفی اللہ تعالیٰ فرما دیں اس کا وجود کیونکر ممکن ہے، مطل بیہ ہے کہ اگر یہ یہود کی مدد کا ارادہ کریں بھی تو ان کی مدد نہ کرسکیں گے۔
Ayah 59:13لانتم اشد رھبۃ فی صدورھم من اللہ ذلک بانھم قوم لایفقھون (مسلمانو ! یقین مانو) کہ تمہاری ہیبت ان کے دلوں میں بہ نسبت اللہ کی ہیبت کے بہت زیادہ ہے یہ اس لئے کہ یہنا سمجھ لوگ ہیں یعنی تمہارا خوف ان کی ناسمجھی کی وجہ سے ہے ورنہ اگر یہ سمجھ دار ہوتے تو سمجھ جاتے کہ مسلمانوں کا غلبہ و تسلط اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے لہٰذا ڈرنا اللہ سے چاہیے نہ کہ مسلمانوں سے۔