58. Surah Al-Mujaadila

المجادلةThe Pleading Woman · 22 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 58:1–2

قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُكَ فِیْ زَوْجِهَا وَ تَشْتَكِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ۖۗ وَ اللّٰهُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 58:1 in the Quran reader

(اے پیغبر) جو عورت تم سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث وجدال کرتی اور خدا سے شکایت (رنج وملال) کرتی تھی خدا نے اس کی التجا سن لی۔ اور خدا تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا کچھ شک نہیں کہ خدا سنتا دیکھتا ہے

اَلَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآئِهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ١ؕ اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا الّٰٓئِیْ وَلَدْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 58:2 in the Quran reader

جو لوگ تم میں سے اپنی عورتوں کو ماں کہہ دیتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں ہوجاتیں۔ ان کی مائیں تو وہی ہیں جن کے بطن سے وہ پیدا ہوئے ہیں بیشک وہ نامعقول اور جھوٹی بات کہتے ہیں۔ خدا بڑا معاف کرنیوالا اور بخشنے والا ہے

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے، اے نبی یقینا اللہ نے اس عورت کی بات سن لی، جو آپ سے اپنے ظہار کرنے والے شوہر کے بارے میں تکرار کر رہی تھی اور اس کے شوہر نے اس سے کہا تھا انت علی کظھر امی تو میرے لئے میری ماں کی پیٹ کے مانند (حرام) ہے، اور آپ ﷺ سے اس عورت نے اس بارے میں دریافت کیا تھا، تو آپ نے اس کو عرف کے مطابق جواب دیا کہ وہ (تو) اس پر حرام ہوگئی جیسا کہ ان کے یہاں یہ دستور تھا کہ ظہار دائمی فرقت کا موجب مانا جاتا تھا، اور وہ خولہ بنت ثعلبہ تھی اور اس کے شوہر اوس بن صامت تھے اور اللہ سے اپنی تنہائی کی اور اپنے فاقہ کی اور چھوٹے بچوں کی شکایت کر رہی تھی اگر ان بچوں کو اپنے شوہر کو دیتی ہے تو ضائع ہونے کا خطرہ ہے اور اگر اپنے ساتھ رکھتی ہے تو بھوکے مرنے کا اندیشہ ہے اور اللہ تعالیٰ تم دونوں کے سوال و جواب سن رہا تھا، بیشک اللہ سننے دیکھنے والا ہے، تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں (یظھرون) کی اصل یتظھرون تھی، تاکو ظاء میں ادغام کردیا گیا اور ایک قرأت میں ظا اور ہاء خفیفہ کے درمیان الف کے ساتھ ہے اور دوسری قرأت میں (یظاھرون) یقاتلون کے وزن پر ہے اور دیگر جگہ بھی ایسا ہی ہے، وہ دراصل ان کی مائیں نہیں بن جاتیں، ان کی مائیں تو وہی ہیں جن کے بطن سے وہ پیدا ہوئے ہیں (الائی) ہمزہ اور ریاء اور بغیر یاء کے ہے اور وہ لوگ ظہار کر کے ایک نامعقول اور جھوٹی بات کہتے ہیں اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ مظاہر کو کفارہ کے ذریعہ بخشنے والا اور معاف کرنے والا ہے اور وہ لوگ جو اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں پھر ظہار میں اپنے قول سے رجوع کرنا چاہتے ہیں یعنیظہار کے بارے میں کہی ہوئی بات سے رجوع کرنا چاہتے ہیں، بایں طور کہ اپنی کہی ہوئی بات کا خلاف کرنا چاہت یہیں مظاہر منہابیویوں کو روک کر جو ظہار کے مقصد کے خلاف ہے اور وہ (مقصد) بیوی کو وصف حرمت سے متصف کرنا ہے تو اس پر بیوی کو ہاتھ لگانے (جماع) سے پہلے ایک غلام آزاد کرنا ہے اس (حکم کفارہ) سے تم کو نصیحت کی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے باخبر ہے ہاں جو شخص غلام نہ پائے تو اختلاط کرنے سے پہلے لگاتار دو مہینے کے روزے رکھتا رہے اور جو شخص روزہ بھی نہ رکھ سکے تو اس پر اختلاط سے پہلے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے مطلق کو مقید پر محمول کرتے ہوئے ہر مسکین کو ایک مدشہر کی غالب خوراک کے اعتبار سے اور کفارہ میں یہ سہولت اس لئے ہے کہ تم اللہ اور رسول پر ایمان لے آئو اور یہ یعنی مذکورہ احکام اللہ کی بیان کردہ حدود ہیں اور ان احکام کے منکر کے لئے درد ناک عذاب ہے بلاشبہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں ذلیل کئے جائیں گے جیسے ان سے پہلے کے لوگ اپنے رسولوں کی مخالفت کی وجہ سے ذلیل کئے گئے تھے اور بیشک ہم واضح آیتیں نازل کرچکے ہیں جو رسول کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں اور ان آیتوں کے انکار کرنے والوں کے لئے اہانت والا عذاب ہے جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو اٹھائے گا پھر ان کو ان کے کئے ہوئے اعمال سے آگاہ کر دے گا جنہیں اللہ نے شمار رکھا ہے اور جنہیں یہ بھول گئے تھے اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد سورة مجادلہ تعداد سورت کے اعتبار سے نصف ثانی کی پہلی سورت ہے، قرآن میں کل 114 سورتیں ہیں، یہ اٹھاونویں سورت ہے، اس سورت کی یہ خصوصیت ہے کہ اس کی کوئی سطر اس بات سے خالی نہیں کہ اس میں اللہ کا لفظ، ایک یا دو یا تین مرتبہ مذکورہ نہ ہوا بلکہ 35 مرتبہ لفظ اللہ اس سورت میں مذکور ہوا ہے۔ قولہ :۔ قد سمع اللہ ای اجاب اللہ، قد تحقیق کے لئے ہے۔ قولہ :۔ فی زوجھا ای فی شان زوجھا قولہ :۔ لما قالوا ای لقولھم مامصدریہ ہے۔ قولہ :۔ فتحریر رقبۃ ای اعتافھا علیہ ای اعتافھا تحریر رقبۃ کی تفسیر، بیان معنی کے لئے ہے تحریر رقبۃ یہ ترکیب اضافی مبتداء ہے اور علیہ اس کی خبر ہے، بہتر ہوتا کہ مفسر علامہ علیہ کے بجائے علیھم فرماتے، اس لئے کہ یہ جملہ ہو کہ والذین یظھرون کی خبر ہے، مبتداء جمع ہے لہٰذا خبر کا بھی جمع ہونا ضروری ہے، فتحریر رقبۃ پر فاء، اس لئے داخل ہے کہ مبتداء متضمن بمعنی شرط ہے۔ قولہ :۔ بالوطی ان یتماسا کی تفسیر، وطی سے امام شافعی رحمتہ اللہ تعالیٰ کے مسلک کے مطابق ہے، امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ تعالیٰ ک نزدیک دواعی وطی بھی وطی کے حکم میں ہیں۔ قولہ :۔ حملاً للمطلق علی المقید یہ تفسیر امام شافعی رحمتہ اللہ تعالیٰ کے مسلم کے مطابق ہے، مطلب یہ ہے کہ جس طرح غلام آزاد کرنا اور روزے رکھنا جماع سے پہلے ضروری ہیں، اسی طرح اطعام بھی جماع سے پہلے ہی ہونا چاہیے، اطعام میں اگرچہ قبل ان یتماسا کی قید نہیں ہے مگر اس کو بھی تحریر رقبۃ اور صیام شھرین پر قیاس کرتے ہوئے قبل ان یتماسا کی قید کے ساتھ مقید کریں گے۔ قولہ :۔ لکل مسکین مدمن غالب قوت البلد یہ تفسیر بھی امام شافعی رحمتہ اللہ تعالیٰ کے مسلک کے مطابق ہے اس لئے کہ ان کے یہاں ہر مسکین کو ایک مدد دینا ضروری ہے، خواہ گندم ہو یا جو یا تمر وغیرہ، امام صاحب کے نزدیک گندم اگر ہو تو نصف صاع ہے اور جو وغیرہ ایک صاع ہے۔ قولہ :۔ ای التخفیف فی الکفارۃ کفارہ ظہار میں جو تین چیزوں کے درمیان اختیار دیا گیا ہے یہ بھی ایک قسم کی تخفیف اور سہولت ہے اس لئے کہ اگر ایک ہی چیز متعین کردی جاتی تو زحمت کا باعث ہوسکتی تھی۔ قولہ :۔ کبوا یقینی الوقوع ہونے کی وجہ سے ماضی کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ تفسیر و تشریح شان نزول : اس سورت کی ابتدائی آیات کے نزول کا سبب ایک واقعہ ہے، احادیث کی روشنی میں واقعہ کی تفصیل اس طرح ہے، یہ خاتون جن کے معاملہ میں اس سورت کی ابتدائی آیتیں نازل ہوئیں ہیں قبیلہ خزرج کی خولہ بنت ثعلبہ تھیں اور ان کے شوہر اوس بن صامت انصاری قبیلہ اوس کے سردار عبادہ بن صامت کے بھائی تھے، اس واقعہ کی تفصیل میں اگرچہ فروعی اختلاف بہت ہیں مگر قانونی اور اصولی باتوں میں اتفاق ہے، خلاصہ ان روایات کا یہ ہے کہ حضرت اوس بن صامت بڑھاپے میں کچھ چڑچڑے سے ہوگئے تھے اور بعض روایات کی رو سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اندر کچھ جنون کی سی لٹک پیدا ہوگئی تھی، جس کے لئے راویوں نے کان بہ لمم کے الفاظ استعمال کئے ہیں، لمم کے معنی دیوانگی کے نہیں بلکہ اسی طرح کی کیفیت کو کہتے ہیں جس کو اردو زبان میں غصہ میں پاگل ہوجانا کہتے ہیں، حضرت ابن عباس ؓ کی روایت کے مطابق اسلام میں ظہار کا یہ پہلا واقعہ ہے، اس واقعہ کی وجہ صاحب جمل اور صاوی نے کچھ اس طرح بیان کی ہے، ایک روز اوس بن صامت گھر میں داخل ہوئے ان کی بیوی نماز پڑھ رہی تھیں اور تھیں شکیل و جمیل اور متناسب الاعضاء حضرت اوس نے جب ان کو سجدہ میں دیکھا اور ان کے پچھونڈے پر نظر پڑی تو ان کو اس صورت حال نے تعجب میں ڈال دیا، جب حضرت خولہ نماز سے فارغ ہوگئیں تو ان سے حضرت اوس نے جماع کی خاہش ظاہر کی حضرت خولہ نے انکار کردیا جس پر حضرت اوس کو غصہ آگیا، اور غصہ کی حالت میں ان کے منہ سے انت علی کظھر امی کے الفاظ نکل گئے، اس مسئلہ کا حکم معلوم کرنے کے لئے حضرت خولہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اور سارا قصہ آپ سے بیان کیا اس وقت تک اس خاص مسئلہ کے متعلق آنحضرت ﷺ پر کوئی وحی نازل نہیں ہوئی تھی اس لئے آپ نے قول مشہور اور سابق دستور کے موافق ان سے فرمایا ما اراک الا قد حرمت علیہ یعنی میری رائے میں تم اپنے شوہر پر حرام ہوگئیں، وہ یہ سن کروا ویلا کرنے لگیں کہ میری پوری جوانی اس شوہر کی خدمت میں ختم ہوگئی، اب بڑھاپے میں انہوں نے مجھ سے یہ معاملہ کیا، اب میں کہاں جائوں میرا اور میرے بچوں کا گذرا کیسے ہوگا ؟ بار بار انہوں نے حضور سے عرض کیا کہ انہوں نے طلاق کے الفاظ کے الفاظ تو نہیں کہے ہیں تو پھر طلاق کیسے پڑگئی، آپ کوئی صورت ایسی بتائیں جس سے میں اور میرے بچے اور بوڑھے شوہر کی زندگی تباہ ہونے سے بچ جائے، مگر ہر مرتبہ حضور اس کو وہی جواب دیتے تھے، ایک روایت میں ہے کہ خولہ ؓ نے اللہ سے فریاد کی اللھم اشکو الیک ” اے میرے اللہ میں تجھ ہی سے فریاد کرتی ہوں “ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے خولہ ؓ سے فرمایا ما امرت فی شانک بشیء حتی الآن ان تمام روایتوں میں کوئی تعارض نہیں، سب ہی اقوام صحیح ہوسکتے ہیں، حضرت خولہ نے بار بار اپنی بات دہرائی اور کوئی صورت نکالنے پر اصرار کیا، اسی کو قرآن کریم میں تجادل کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے حضرت خولہ اصرار کرتی رہیں اور آپ ﷺ ایک ہی جواب دیتے رہے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں اس وقت آپ ﷺ کا سرمبارک دھو رہی تھی اور خولہ ؓ اپنی بات دہرا رہی تھیں، آخر مجھے کہنا پڑا کہ کلام کو مختصر کرو، اتنے میں آپ ﷺ پر وحی کے نزول کی کیفیت طاری ہوگئی اور سورت کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں، اس کے بعد آپ ﷺ نے ان سے فرمایا اور ایک روایت میں ہے کہ ان کے شوہر کو بلا کر فرمایا کہ ایک غلام آزاد کرنا ہوگا، انہوں نے اس سے معذوری ظاہر کی تو فرمایا دو مہینے کے لگاتار روزے رکھو، انہوں نے عرض کیا اوس کا حال تو یہ ہے کہ دن میں اگر دو تین مرتبہ کھائے پیے نہیں تو اس کی بینائی جواب دینے لگتی ہے، آپ نے فرمایا پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہوگا، انہوں نے کہا وہ اتنی قدرت نہیں رکھتے الایہ کہ آپ مدد فرمائیں آپ نے ان کو کچھ غلہ عطا فرمایا اور دوسرے لوگوں نے بھی کچھ جمع کردیا، ایک روایت میں ہے کہ آپ نے بیت المال سے ان کی مدد فرمائی، اسطرح فطرہ کی مقدار دے کر کفارہ ادا کیا گیا۔ (مظھری، معارف، فتح القدیر، شوکانی) مسئلہ ظہار سے تین اصولی بنیادیں مستنبط ہوتی ہیں : (1) ایک یہ کہ ظہار سے نکاح نہیں ٹوٹتا، بلکہ عورت بدستور شوہر کی بیوی رہتی ہے۔ (2) دوسرے یہ کہ بیوی شوہر کے لئے وقتی طور پر حرام ہوتی ہے۔ (3) تیسرے یہ کہ یہ حرمت اس وقت تک باقی رہتی ہے جب تک کہ شوہر کفارہ ادا نہ کر دے اور یہ کہ صرف کفارہ ہی اس حرمت کو رفع کرسکتا ہے۔ ظہار کی تعریف اور اس کا شرعی حکم : اصطلاح شرع میں ظہار کی تعریف یہ ہے کہ اپنی بیوی کو اپنی محرمات ابدیہ مثلاً ماں، بہن، بیٹی وغیرہ کے کسی ایسے عضو سے تشبیہ دینا کہ جس کو دیکھنا اس کے لئے جائز نہیں، ماں کی پشت بھی اسی کی مثال ہے، زمانہ جاہلیت میں یہ لفظ دائمی حرمت کے لئے بولا جاتا تھا، اور طلاق کے لفظ سے بھی زیادہ ناپسندیدہ سمجھا جاتا تھا کیونکہ طلاق کے بعد تو رجعت یا نکاح جدید ہو کر پھر بیوی بن سکتی ہے مگر ظہار کی صورت میں رسم جاہلیت کے مطابق ان کے آپس میں میاں بیوی ہو کر رہنے کی قطعی کوئی صورت نہیں تھی۔
Ayahs 58:3–6

وَ الَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ؕ ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:3 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنی بیویوں کو ماں کہہ بیٹھیں پھر اپنے قول سے رجوع کرلیں تو (ان کو) ہم بستر ہونے سے بہلے ایک غلام آزاد کرنا (ضرور) ہے (مومنو) اس (حکم) سے تم کو نصحیت کی جاتی اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے خبردار ہے

فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْكِیْنًا١ؕ ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 58:4 in the Quran reader

جس کو غلام نہ ملے وہ مجامعت سے پہلے متواتر دو مہینے کے روزے (رکھے) جس کو اس کا بھی مقدور نہ ہو (اسے) ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا (چاہیے) یہ (حکم) اس لے ہے کہ تم خدا اور اس کے رسول کے فرمانبردار بن جاؤ۔ اور یہ خدا کی حدیں ہیں اور نہ ماننے والوں کے لئے درد دینے والا عزاب ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ كُبِتُوْا كَمَا كُبِتَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ قَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌۚ Open ayah 58:5 in the Quran reader

جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں اور اسی طرح ذلیل کئے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے لوگ ذلیل کئے گئے تھے اور ہم نے صاف اور صریح آیتیں نازل کردی ہیں اور جو نہیں مانتے ان کو ذلت کا عذاب ہوگا۔

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اَحْصٰىهُ اللّٰهُ وَ نَسُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ۠ Open ayah 58:6 in the Quran reader

جس دن خدا ان سب کو جلا اٹھائے گا تو جو کام وہ کرتے رہے انکو جتائے گا۔ خدا کو وہ سب (کام) یاد ہیں اور یہ انکو بھول گئے ہیں اور خدا ہر چیز سے واقف ہے۔

قاعدہ : والذین یطھرون من نسائھم ثم یعودون لما قالوا، لما قالوا میں لام، عن کے معنی میں ہے۔ مامصدریہ کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے قول سے رجوع کرتے ہیں، اس آیت سے یہ قاعدہ مستنبط ہوتا ہے کہ کفارہ کا وجوب بیوی کے ساتھ اختلاط حلال ہونے کی غرض سے ہے، بیوی کفارہ کے بغیر حلال نہ ہوگی، خود ظہارہ کفارہ کی علت نہیں، اسی سے یہ مسئلہ نکلتا ہے کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کرلیا اور وہ اس سے اختلاط کا خواہشمند نہیں تو کفارہ لازم نہیں، البتہ بیوی کی حق تلفی ناجائز ہے، اگر وہ مطالبہ کرے تو کفارہ ادا کر کے اختلاط کرنا یا پھر طلاق دیکر آزاد کرنا واجب ہے، اگر یہ شوہر خود نہ کرے تو بیوی حاکم کی طرف مراجعت کر کے شوہر کو اس پر مجبور کرسکتی ہے۔ (معارف ملخصاً ) فتحریر رقبۃ (الآیۃ) کفارہ ظہار یہ ہے کہ ایک غلام یا لونڈی آزاد کر، اگر اس پر قدرت نہ ہو تو دو مہینے کے مسلسل روزے رکھے اگر کسی عذر شرعی کی وجہ سے اتنے روزے رکھنے پر قدرت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو دونوں وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلائے، کھانا کھلانے کے قائم مقام یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو فی کس ایک فطرہ کی مقدار گندم یا اس کی قیمت دیدے، فطرہ کے گندم کی مقدار نصف صاع ہے، جس کا صحیح صحیح وزن ایک کلو چھ سو تینتیس گرام ہوتا ہے۔ مسائل : مسئلہ : ظہار کرنے والے کے بارے میں یہ امر متفق علیہ ہے کہ ظہار اسی شخص کا معتبر ہے جو عاقبل بالغ ہو اور بحالت ہوش و حواس ظہار کے الفاظ زبان سے ادا کرے، لہٰذا بچے اور پاگل اور سونے والے کا ظہار معتبر نہیں۔ مسئلہ : حالت نشہ میں ظہار کرنے والے کے متعلق ائمہ اربعہ سمیت فقہاء کی ایک بڑی اکثریت یہ کہتی ہے کہ اگر کسی شخص نے کوئی نشہ آور چیز جان بوجھ کر استعمال کی ہو تو اس کا ظہار اس کی طلاق کی طرح قانوناً صحیح مانا جائے گا، کیونکہ اس نے یہ حالت اپنے اوپر خود طاری کی ہے، البتہ اگر مرض کی وجہ سے اس نے کوئی دوا پی ہو اور اس سے نشہ لاحق ہوگیا اور نشہ کی حالت میں اس کے منہ سے ظہار یا طلاق کے الفاظ نکل گئے ہوں تو ان الفاظ کو نافذ نہیں کیا جائے گا، احناف اور شوافع اور حنابلہ کی رائے یہی ہے اور صحابہ کرام کا مسلک بھی یہی تھا، حضرت عثمان ؓ کی رائے اس کے خلاف تھی ان کے نزدیک حالت نشہ کی طلاق و ظہار معتبر نہیں، احناف میں سے امام طحاوی رحمتہ اللہ تعالیٰ اور امام کرخی رحمتہ اللہ تعالیٰ اسی قول کو ترجیح دیتے ہیں، امام شافعی رحمتہ اللہ تعالیٰ کا بھی ایک قول اس کی تائید میں ہے، مالی کہ کے نزدیک ایسے نشہ کی حالت میں ظہار معتبر ہوگا جس میں آدمی بالکل بہک نہ گیا ہو بلکہ وہ مربوط اور مرتب کلام کر رہا ہو اور اسے یہ احساس ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے ؟ مسئلہ : امام ابوحنیفہ اور امام مالک کے نزدیک ظہار اس شوہر کا معتبر ہے جو مسلمان ہو، ذمیوں پر ان احکام کا اطلاق نہیں ہوتا اس لئے کہ قرآن کریم میں الذین یظاھرون منکم کے الفاظ ارشاد ہوئے ہیں، جن میں خطاب مسلمانوں سے ہے اور تین قسم کے کفاروں میں سے ایک کفارہ قرآن میں روزہ بھی تجویز کیا گیا ہے، ظاہر ہے کہ یہ ذمیوں کے لئے نہیں ہوسکتا، امام شافعی رحمتہ اللہ تعالیٰ اور امام احمد کے نزدیک یہ احکام ذمی اور مسلمان دونوں کے ظہار پر نافذ ہوں گے البتہ ذمی کے لئے روزہ نہیں ہے وہ یا غلام آزاد کرے یا مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ کیا مرد کی طرح عورت بھی ظہار کرسکتی ہے ؟ مثلاً اگر بیوی شوہر سے کہے تو میرے لئے میرے باپ کی طرح ہے یا میں تیرے لئے تیری ماں کی طرح ہوں تو کیا یہ بھی ظہار ہوگا ائمہ اربعہ فرماتے ہیں کہ یہ ظہار نہیں ہے، اس لئے کہ قرآن مجید نے صریح الفاظ میں یہ احکام صرف اس صورت کے لئے بیان کئے ہیں، جبکہ شوہر بیوی سے ظہار کرے الذین یظاھرون منکم نسائھم اور ظہار کرنے کے اختیارات اسی کو حاصل ہوسکتے ہیں جسے طلاق دینے کا اختیار ہے، یہی رائے سفیان ثوری اور اسحقٰ بن راہویہ وغیرہ کی ہے۔ امام ابویوسف رحمتہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ ظہار تو نہیں ہے مگر اس سے عورت پر قسم کا کفارہ لازم آئے گا، کیونکہ عورت کا ایسے الفاظ کہنا یہ معنی رکھتا ہے کہ اس نے اپنے شوہر سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھائی ہے، امام احمد بن حنبل کا بھی یہی مسلک ابن قدامہ نے نقل کیا ہے، امام اوزاعی کہتے ہیں کہ اگر شادی سے پہلے عورت نے یہ بات کہی ہو کہ میں اگر اس شخص سے شادی کروں تو وہ میرے لئے ایسا ہے جیسے میرا باپ، تو ظہار ہوگا اور اگر شادی کے بعد کہے تو قسم کے معنی میں ہوگا جس سے کفارہ یمیمن لازم آئے گا، بخلاف اس کے حسن بصری، زہری، ابراہیم نخی اور حسن بن زیاد لولوی کہتے ہیں کہ یہ ظہار ہے اور ایسا کہنے سے عورت پر کافرہ ظہار لازم آئے گا، البتہ عورت کو یہ حق نہ ہوگا کہ کفارہ دینے سے پہلے شوہر کو اپنے پاس آنے سے روک دے، ابراہیم نخعی اس کی تائید میں یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت طلحہ ؓ کی صاحبزادی عائشہ کو حضرت زبیر کے صاحبزادے مصعب نے نکاح کا پیغام دیا، اس نے رد کرتے ہوئے یہ الفاظ کہہ دیئے کہ اگر میں ان سے نکاح کروں تو ھو علی کظھر ابی وہ میرے لئے ایسے ہیں جیسے میرے باپ کی پیٹھ، کچھ مدت کے بعد وہ ان سے شادی کرنے پر راضی ہوگئیں، مدینہ کے علماء سے اس کے متعلق فتویٰ لیا گیا تو بہت سے فقہاء نے جن میں متعدد صحابہ بھی شامل تھے یہ فتویٰ دیا کہ عائشہ پر کفارہ ظہار لازم ہے، اس واقعہ کو نقل کرنے کے بعد ابراہیم نخعی اپنی یہ رائے بیان کرتے ہیں کہ اگر عائشہ یہ بات شادی کے بعد کہتیں تو کفارہ لازم نہ آتا، مگر انہوں نے شادی سے پہلے یہ کہا تھا جب انہیں نکاح کرنے یا نہ کرنے کا اختیار حاصل تھا، اس لئے کفارہ اس پر واجب ہوگیا۔ کفارہ ظہار ادا کرنے سے پہلے تعلق قائم کرنے کا حکم : کفارہ ادا کرنے سے پہلے اگر شوہر نے زن و شہر کے تعلقات قائم کر لئے تو ائمہ اربعہ کے نزدیک اگرچہ یہ گناہ ہے اور آدمی کو اس پر استغفار کرنا چاہیے اور پھر اس کا عادہ نہ کرنا چاہیے مگر کفارہ اسے ایک ہی ادا کرنا ہوگا، رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں جن لوگوں نے ایسا کیا تھا ان سے آپ نے یہ تو فرمایا تھا کہ استغفار کرو اور اس وقت تک بیوی سے الگ رہو جب تک کفارہ ادا نہ کرو مگر آپ ﷺ نے انہیں یہ حکم نہیں دیا تھا کہ کفارہ ظہار کے علاوہ کوئی اور کفارہ دینا ہوگا۔ بیوی کو کس کے ساتھ تشبیہ دینا ظہار ہے ؟ اس مسئلہ میں فقہاء کرام کے درمیان اختلاف ہے، عامر شعبی کہتے ہیں کہ صرف ماں سے تشبیہ دینا ظہار ہے اور ظاہر یہ کہتے ہیں کہ ماں کی بھی صرف پیٹھ کے ساتھ شبیہ دینا ظہار ہے، مگر فقہاء امت میں سے کسی نے بھی ان کی اس رائے سے اتفاق نہیں کیا، کیونکہ قرآن نے ماں سے تشبیہ کو گناہ قرار دینے کی وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ یہ نہایت بیہودہ اور جھوٹی بات ہے، اب یہ ظاہر ہے کہ جن عورتوں کی حرمت ماں جیسی ہے ان کے ساتھ تشبیہ دینا بیہودگی اور جھوٹ میں اس سے کچھ مختلف نہیں ہے اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ اس کا حکم وہی نہ ہو جو ماں سے تشبیہ دینے کا ہے۔ ظہار کے صریح اور غیر صریح الفاظ کیا ہیں ؟ حنفیہ کے نزدیک ظہار کے صریح الفاظ وہ ہیں جن میں صاف طور پر بیوی کو محرمات ابدیہ میں سے کسی کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہو یا تشبیہ ایسے عضو کے ساتھ دی گئی ہو کہ اس پر نظر ڈالنا حلال نہیں ہے، مثلاً یہ کہا ہو کہ تو میرے لئے میری ماں کے پیٹ یار ان کے جیسی ہے۔ مذکورہ مسائل کے مراجع اور مصادر : (فقی حنفی) مدایہ، فتح القدیر، بدائع النائع، احکام القرآن للجصاص (فقہ مالکی) حاشیہ وسوقی علی الشرح الکبیر، بدایۃ المجتہد، احکام القرآن ابن عربی (فقہ شافعی) المنہاج للنووی، تفسیر کبیر، (فقہ حنبلی) المغنی لابن قدامہ (فقہ ظاہری) المحلی لابن حزم، الفقہ علی المذاہب الاربعہ خولہ بنت ثعلبہ ؓ صحابہ کرام کی نظر میں : ان صحابیہ کی فریاد کا بارگاہ الٰہی میں مسموع ہونا اور فرواً ہی ان کی فریاد درسی کے لئے فرمان مبارک نازل ہونا ایسا واقعہ تھا کہ جس کی وجہ سے صحابہ کرام میں ان کی ایک خاص قدر و منزلت تھی، ابن عبدالبر نے استیعاب میں قتادہ کی روایت نقل کی ہے کہ یہ خاتون راستہ میں ایک روز حضرت عمر ؓ کو ملیں، تو آپ نے ان کو سلام کیا یہ سلام کا جواب دینے کے بعد کہنے لگیں اوہو، اے عمر ! ایک وقت تھا جب میں نے تم کو بازار عکاظ میں دیکھا تھا، اس وقت تم عمیر کہلاتے تھے، لاٹھی ہاتھ میں لئے بکریاں چراتے پھرتے تھے، پھر کچھ زیادہ مدت نہ گذری تھی کہ تم عمر کہلانے لگے پھر ایک وقت آیا کہ تم امیر المومنین کہے جانے لگے، ذرا رعیت کے معاملہ میں اللہ سے ڈرتے رہو، یاد رکھو جو اللہ کی وعید سے ڈرتا ہے اس کے لئے دور کا آدمی بھی رشتہ دار کی طرح ہوتا ہے اور جو موت سے ڈرتا ہے اس کے حق میں اندیشہ ہے کہ وہ اسی چیز کو کھو دے گا جسے وہ بچانا چاہتا ہے، اس پر جارودعبدی جو حضرت عمر کے ساتھ تھے، بولے، اے عورت تو نے امیر المومنین کے ساتھ بہت باتیں کرلیں، حضرت عمر نے فرمایا : انہیں کہنے دو ، جانتے بھی ہو یہ کون ہیں ؟ ان کی بات تو سات آسمانوں کے اوپر سنی گئی تھی، عمر کو تو بدرجہ اولیٰ سننی چاہیے، امام بخاری نے بھی اپنی تاریخ میں اختصار کے ساتھ اس سے ملتا جلتا قصہ نقل کیا ہے۔
Ayahs 58:7–8

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَا یَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَ لَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَ لَاۤ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَیْنَ مَا كَانُوْا١ۚ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 58:7 in the Quran reader

کیا تم کو معلوم نہیں کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے خدا کو سب معلوم ہے۔ (کسی جگہ) تین (شخصوں) کا (مجمع اور) کانوں میں صلاح و مشورہ نہیں ہوتا مگر وہ ان میں چوتھا ہوتا ہے اور نہ کہیں پانچ کا مگر وہ ان میں چھٹا ہوتا ہے اور نہ اس سے کم یا زیادہ مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے خواہ وہ کہیں ہوں۔ پھر جو جو کام یہ کرتے رہے ہیں قیامت کے دن وہ (ایک ایک) ان کو بتائے گا۔ بیشک خدا ہر چیز سے واقف ہے

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ یَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ١٘ وَ اِذَا جَآءُوْكَ حَیَّوْكَ بِمَا لَمْ یُحَیِّكَ بِهِ اللّٰهُ١ۙ وَ یَقُوْلُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ لَوْ لَا یُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ١ؕ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 58:8 in the Quran reader

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو سرگوشیاں کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ پھر جس (کام) سے منع کیا گیا تھا وہی پھر کرنے لگے اور یہ تو گناہ اور ظلم اور رسول (خدا) کی نافرمانی کی سرگوشیاں کرتے ہیں اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو جس (کلمے) سے خدا نے تم کو دعا نہیں دی اس سے تمہیں دعا دیتے ہیں۔ اور اپنے دل میں کہتے ہیں کہ (اگر یہ واقعی پیغمبر ہیں ٫) جو کچھ ہم کہتے ہیں خدا ہمیں اسکی سزا کیوں نہیں دیتا ؟ (اے بیغمبر) ان کو دوزخ (ہی کی سزا) کافی ہے یہ اسی میں داخل ہونگے اور وہ بری جگہ ہے

ترجمہ : کیا آپ نے اس پر غور نہیں کیا کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ سب کو جانتا ہے ؟ کوئی سرگوشی تین آدمیوں میں ایسی نہیں ہوتی کہ چوتھا اپنے علم کے اعتبار سے اللہ نہ ہو اور نہ پانچ کی سرگوشی مگر یہ کہ چھٹا ان میں اللہ ہوتا ہے اور نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ مگر یہ کہ اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جہاں کہیں بھی وہ ہوں پھر ان سب کو قیامت میں ان کے کئے ہوئے اعمال بتلا دے گا، اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہے، کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا کہ جن کو کانا پھوسی سے منع کردیا گیا تھا، پھر بھی وہ اس منع کئے ہوئے کام کو کرتے ہیں اور آپس میں گناہ کی اور ظلم و زیادتی کی اور پیغمبر کی نافرمانی کی سرگروشیاں کرتے ہیں (اور) وہ یہود ہیں رسول اللہ ﷺ نے ان کو اس کانا پھوسی سے منع فرما دیا تھا جو کہ وہ کیا کرتے تھے، یعنی مومنین کی طرف دیکھ کر چپکے چپکے باتیں کرتے تھے، تاکہ مومنین کے دل میں شک ڈالیں اور اے نبی جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو ان لفظوں میں سلام کرتے ہیں جن لفظوں میں اللہ نے نہیں کیا اور ان کا وہ لفظ الام علیک ہے یعنی آپ پر موت ہو اور وہ آپس میں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس سلام پر جو ہم کرتے ہیں سزا کیوں نہیں دیتا ؟ اور یہ کہ وہ نبی نہیں ہے، اگر وہ نبی ہوتا تو (اللہ تعالیٰ ضرور ہم کو گرفتار عذاب کردیتا) ان کے لئے جہنم کافی ہے جس میں یہ جائیں گے سو وہ برا ٹھکانہ ہے اے ایمان والو ! جب تم سرگوشیاں کرو تو یہ سرگوشیاں گناہ اور ظلم و زیادتی اور پیغمبر کی نافرمانی کی نہ ہوں بلکہ نیکی اور پرہیز گاری کی سرگوشیاں کرو اور اس اللہ سے ڈرتے رہو، جس کے پاس تم سب جمع کئے جائو گے گناہ وغیرہ کی سرگوشیاں شیطانی کام ہیں اس کے فریب کی وجہ سے، جس سے اہل ایمان کو رنج پہنچے گو وہ اللہ کی اجازت اور ارادہ کے بغیر ان کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا اور ایمان والوں کو چاہیے کہ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں اے ایمان والو ! جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں جگہ کشادہ کرلو آپ ﷺ کی مجلس میں یا ذکر کی مجلس میں تاکہ تمہایر پاس (بعد میں) آنے والا بھی بیٹھ جائے اور ایک قرأت میں مجلس کے بجائے مجالس ہے، تو کشیادگی کرلیا کرو تو اللہ تعالیٰ تمہارے لئے جنت میں کشادگی فرمائیں گے اور جب تم سے یہ کہا جائے کہ نماز وغیرہ یا کسی بھلے کام کے لئے کھڑے ہوجائو تو کھڑے ہوجایا کرو اور ایک قرأت میں (فانشزوا) میں دونوں (یعنی شین اور زا کے ضمہ کے ساتھ ہے) اور اللہ تعالیٰ تم میں سے ایمان والو کے اس حکم قیام کی اطاعت کی وجہ سے اور ان لوگوں کے جن کو علم عطا کیا گیا ہے جنت میں درجات بلند فرمائے گا اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے، اے ایمان والو ! جب تم رسول سے سرگوشی (تنہائی میں مشورہ) کرنا چاہو تو اپنی سرگوشی سے پہلے فقراء کو کچھ صدقہ دیدیا کرو یہ تمہارے حق میں بہتر اور تمہارے گناہوں کے لئے پاکیزہ تر ہے، ہاں اگر صدقہ کرنے کی چیز نہ پائو تو اللہ تعالیٰ تمہاری سرگوشی کو بخشنے والا اور مہربان ہے یعنی بغیر صدقہ کے تمہارے سرگوشی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے پھر یہ حکم اللہ تعالیٰ کے حکم أأشفقتم سے منسوخ ہوگیا، دونوں ہمزوں کی تحقیق اور دوسرے کو الف سے بدل کر اور دوسرے کی تسہیل کے ساتھ اور مسہلہ اور غیر مسہلہ کے درمیان الف داخل کر کے اور ترک ادخال کر کے کیا تم اپنی سرگوشی سے پہلے فقراء کے لئے صدقہ نکالنے سے ڈر گئے، پس جب تم نے یہ نہ کیا یعنی صدقہ نہ دیا اور اللہ نے بھی تمہیں معاف کردیا اور تم پر اس کے وجوب سے رجوع کرلیا، تو اب نمازوں کو قائم رکھو، اور زکوۃ ادا کرتے رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو، یعنی اس کی پابندی رکھو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : الم تر تعلم ترکی تفسیر تعلم سے کر کے اشارہ کردیا کہ رئویت سے رئویت قلبی مراد ہے۔ قولہ : مایکون میں مانا فیہ ہے اور یکون تامہ ہے، یعنی یوجد ویقع، من زائدہ ہے نجوی مصدر ہے تناجی کے معنی میں ہے اور یکون کا فاعل ہے جملہ مایکون مستانفہ ماقبل کی تاکید کے لئے ہے جو حق تحالیٰ کی وسعت علم کی تاکید کر رہا ہے، النجوی، الحدث سرا چپکے چپکے باتیں کرنا، کانا پھوسی کرنا، نجوی ثلثۃ میں اضافتہ المصدر الی الفاعل ہے، یہاں الا کے بعد واقع ہونے والے جملے مستثنیٰ متصل ہونے کی وجہ سے محل میں نصب کے ہیں اور عموم حال سے مستثنیٰ ہیں، ای ما یوجدمن ھذہ الاشیاء الا فی حال من ھذہ الاحوال۔ قولہ : الم تر الی الذین نھوا الخ یہ آیت یہود اور منافقین کے بارے میں نازل ہوئی۔ قولہ : و معصیت الرسول یہاں اور آئندہ تاء مجرورہ (لمبی) تاء کے ساتھ لکھا گیا ہے حالت وقف میں بعض قراء ھاء پر وقف کرتے ہیں اور بعض تاء پر، لیکن وصل کی صورت میں تاء متفق ہیں۔ قولہ : انشزوا تم اٹھ کھڑے ہو (ض، ن) امر جمع مذکر حاضر۔
Ayahs 58:9–10

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ وَ تَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 58:9 in the Quran reader

مومنو ! جب تم آپس میں سرگوشیاں کرنے لگو تو گناہ اور زیادتی اور پیغمبر کی نافرمانی کی باتیں نہ کرنا بلکہ نیکو کاری اور پرہیزگاری کی باتیں کرنا اور خدا سے جس کے سامنے جمع کئے جاؤ گے ڈرتے رہنا۔

اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّیْطٰنِ لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیْسَ بِضَآرِّهِمْ شَیْئًا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 58:10 in the Quran reader

کافروں کی) سرگوشیاں تو شیطان (کی حرکات) سے ہیں (جو) اس لئے (کی جاتی ہیں) مومن (ان سے) غمناک ہوں مگر خدا کے حکم کے سوا ان سے انہیں کچھ نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ تو مومنوں کو چاہیے کہ خدا ہی پر بھروسا رکھیں۔

تفسیر و تشریح شان نزول : اسباب نزول ان آیات کے چند واقعات ہیں : 1۔ اول واقعہ :۔ آپ ﷺ نے مدینہ پہنچ کر سب سے پہلا جو سیاسی قدم اٹھایا وہ یہ تھا کہ یہود اور مسلمانوں کے درمیان معاہدہ صلح فرمایا تاکہ مدینہ کے یہود کی طرف سے اطمینان ہوجائے کیونکہ مشرکین مکہ کی جانب سے ریشہ دوانیاں رہتی تھیں اور ہمہ وقت خطرہ رہتا تھا، کہیں ایسا نہ ہو کہ دو طرفہ پریشانی میں مبتلا ہوجائیں، مگر صلح کے باوجود یہود اپنی نازیبا حرکتوں سے باز نہیں آتے تھے، یہود جب کسی مسلمان کو دیکھتے تو اس کو ذہنی طور پر پریشا ان کرنے کے لئے اپٓس میں سر جوڑ کر کھسر پھسر کرنے لگتے اور اس کی طرف دیکھتے جاتے اور بعض اوقات آنکھ وغیرہ سے اشارہ بھی کرتے تاکہ مسلمان یہ سمجھے کہ ان کے خلاف یا اسلام کے خلاف کوئی سازش ہو رہی ہے، آنحضرت ﷺ نے یہود کو اس نازیبا حرکت سے منع فرمایا مگر وہ باز نہ آئے، اس پر یہ آیت الم ترالی الذین نھوا عن النجوی الخ نازل ہوئی ہے۔ 2۔ دوسرا واقعہ : اسی منافقین بھی اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لئے باہم کانا پھوسی اور سرگوشی کرتے تھے، اس پر یہ آیت اذا تنا جیتم فلا تتنا جوا الخ اور انما النجوی الخ نازل ہوئی۔ 3۔ تیسرا واقعہ : یہود آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو از راہ شرارت بجائے السلام علیکم کہنے کے السلام کہتے، سام کے معنی موت کے ہیں۔ 4۔ چوتھا واقعہ : منافقین بھی اسی طرح کہتے تھے، ان دونوں واقعوں پر واذا جاءوک حیوک نازل ہوئی، اور امام ابن کثیر نے امام احمد کی روای سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ یہود اس طرح کر کے خفیہ طور پر کہتے لو لایعذبنا اللہ بما نقول یعنی اگر ہم نے یہ گناہ کیا تو ہم پر عذاب کیوں نہیں آتا ؟ 5۔ پانچواں واقعہ : ایک مرتبہ آپ مسجد کے صفہ میں تشریف رکھتے تھے اور مجلس میں مجمع زیادہ تھا چند صحابہ جو غزوہ بدر کے شرکاء میں سے تھے آئے تو ان کو کہیں جگہ نہیں ملی اور نہ اہل مجلس نے جگہ میں گنجائش نکالی کہ مل مل کر بیٹھ جاتے جس سے جگہ نکل آتی، جب آپ نے یہ صورت حال دیکھی تو بعض آدمیوں کو مجلس سے اٹھنے کے لئے فرمایا، اس پر منافقین نے طعن کیا کہ یہ کونسی انساف کی بات ہے ؟ اور آپ نے یہ بھی فرمایا : اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو اپنے بھائی کے لئے جگہ کھولدے، سو لوگوں نے جگہ کھول دی، اس پر آیت یا ایھا الذین آمنوا اذا قیل لکم تفسحوا الخ نازل ہوئی۔ (معارف ملخصاً ) 6۔ چھٹا واقعہ : بعض اغنیاء آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر بڑی دیر تک آپ سے سرگوشی کرتے تھے اور فقراء کو استفادہ کا موقع کم ملتا تھا، آپ کو ان لوگوں کا دیر تک بیٹھنا اور دیر تک سرگوشی کرنا ناگوار گذرتا تھا، اس پر یہ آیت اذا ناجیتم الرسول نازل ہوئی۔ 7۔ ساتواں واقعہ : جب آنحضرت ﷺ کے ساتھ سرگوشی کرنے سے پہلے صدقہ دینے کا حکم ہوا تو بہت سے آدمی ضروری بات کرنے سے بھی رک گئے، اس پر یہ آیت أأشفقتم نازل ہوئی۔ (معارف مخلصاً ) آیات مذکورہ اگرچہ خاص واقعات کی بنئا پر نازل ہوئی ہیں جن کا ذکر اوپر شان نزول میں آچکا ہے، لیکن یہ بات طے شدہ ہے کہ آیت کا شان نزول کچھ بھی ہو، ہدایات قرآنی عام ہوتی ہیں، اعتبار معنی کے عموم کا ہوتا ہے نہ کہ الفاظ کے خصوص کا۔ خفیہ مشوروں کے متعلق ہدایات : خفیہ مشورہ عموماً مخصوص اور راز دار دوستوں سے ہوتا ہے، جن پر اطمینان کیا جائے کہ اس راز کو کسی پر ظاہر نہ کریں گے، اس لئے ایسے موقع پر ایسے منصوبے بھی بنائے جاتے ہیں جن میں کسی پر ظلم کرنا ہے یا کسی کو قتل کرنا ہے یا کسی کی املاک پر قبضہ کرنا ہے وغیرہ وغیرہ، حق تعالیٰ نے ان آیات میں ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے علم اور سمع و بصر کے اعتبار سے تمہارے پاس موجود ہوتا ہے اور تمہاری ہر بات کو سنتا اور ہر حرکت کو دیکھتا اور جانتا ہے اگر تم کوئی مجرمانہ حرکت کرو گے تو اس کی سزا سے نہ بچ سکو گے، آیت کا مقصد تو یہ ہے کہ تم کتنے ہی زیادہ یا کم سرگوشی میں شریک ہو حق تعالیٰ موجود ہوتا ہے، یہاں مثال کے طور پر دو ، عددوں کا ذکر کیا گیا ہے، تین اور پانچ یعنی اگر تم تین آدمی خفیہ مشورہ کر رہے ہو تو چوتھا حق تعالیٰ موجود ہوتا ہے اور اگر پانچ آدمی مشورہ کر رہے ہو تو سمجھو کہ چھٹا وہاں اللہ موجود ہے، تین اور پانچ کے عدد کے تخصیص میں شاید اس طرف اشارہ ہو کہ جماعت کے لئے اللہ کے نزدیک طاق عدد پسند ہے۔ مسلمانوں کے لئے سرگوشی سے متعلق ہدایت : بخاری اور مسلم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اذا کنتم ثلثۃ فلا یتناج رجلان دون الآخر حتی یختلطوا بالناس فان ذلک یحزنہ یعنی جس جگہ تم تین ٓدمی جمع ہو تو دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر باہم سرگوشی اور خفیہ باتیں نہ کرو جب تک کہ دوسرے (تیسرے) آدمی نہ آجائیں کیونکہ اس سے اس کی دل شکنی ہوگی۔ یا ایھا الذین آمنوا اذا تنا جیتم فلا تتنا جوا بالاثم والعدوان الخ سابقہ آیات میں کفار کو ناجائز سرگوشی پر تنبیہ کی گئی تھی، اسی آیت سے مسلمانوں کے لئے بھی ہدایت نکل آئی کہ وہ بھی اپنی سرگوشیوں اور خفیہ مشوروں میں اس کا دھیان رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کو ہمارے سب حالات معلوم ہیں اور ہماری ہر گفتگو کا علم ہے اس استحضار کے ساتھ یہ کوشش کریں کہ ان کے مشروں اور سرگوشیوں میں کوئی بات فی نفسہ گناہ کی یا دوسروں پر ظلم کی یا خلاف شرع کا کام کی نہ ہو بلکہ جب بھی آپسی مشورہ ہو نیک کام کا ہو۔
Ayah 58:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ١ۚ وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ۙ وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:11 in the Quran reader

مومنو ! جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں کھل جاؤ تو کھل کر بیٹھا کرو خدا تم کو کشادگی بخشے گا۔ اور جب کہا حائے کہ اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہوا کرو جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں اور جن کو علم عطا کیا گیا ہے خدا ان کے درجے بلند کریگأ۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے

یا ایھا الذین آمنوا اذا قیل لکم تفسحوا فی المجلس اس سے پہلی آیت میں اس چیز کو بیان فرمایا کہ جو لوگوں کے درمیان تباغض اور تنافر کا سبب ہوتی ہے وہ تناجی بالاثم والعدوان والمعصیۃ ہے اور اس آیت میں اس چیز کو بیان فرمایا جو آپس میں مودت اور محبت کا سبب بنتی ہے مثلاً مجلس میں کشادگی پیدا کرنا، دوسروں کو جگہ دینا مل مل کر بیٹھنا، یہ سب وہ باتیں ہیں جن سے اپٓس میں محبت اور مودت پیدا ہوتی ہے۔ مذکورہ آیت کا شان نزول : ابن ابی حاتم نے مقاتل سے نقل کیا ہے کہ ایک جمعہ کو آپ ﷺ صفہ میں تشریف فرما تھے، جگہ تنگ تھی، آپ ﷺ بدریین کا بہت اکرام فرماتے تھے، مجلس بھری ہوئی تھی، اہل بدر میں سے چند لوگ آئے جن میں ثابت بن قیس بن شماس بھی تھے لوگ اپنی اپنی جگہ لے چکے تھے، یہ بدریین حضرات آپ ﷺ کے سامنے کھڑے ہوگئے اور کہا السلام علیک ایھا النبی و رحمۃ اللہ وبرکاتہ، آپ ﷺ نے ان کے سلام کا جواب دیا پھر ان بدریین حضرات نے قوم کو سلام کیا، قوم نے بھی جواب دیا، یہ حضرات اس امید پر کھڑے رہے کہ ان کے لئے جگہ کردی جائے گی مگر اہل مجلس نے ان کے لئے جگہ نہ کی، یہ بات آپ ﷺ پر گراں گذری، چناچہ آپ نے اپنے آس پاس والوں میں سے بعض سے فرمایا قم یا فلان ویافلان چناچہ چند لوگ اٹھ گئے مگر یہ بات ان کو شاق گذری اور ناگواری کے آثار ان کے چہروں سے نمایاں ہونے لگے، منافقین بھی کہنے لگے کہ بیٹھے ہوئوں کو اٹھاکر بعد میں آنے والوں کو بٹھانا یہ کیسا انصاف ہے ؟ اسی واقعہ کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت نازل فرمائی۔ (روح المعانی) اس آیت میں دوسرا حکم آداب مجلس سے متعلق یہ ہے کہ اذا قیل لکم انشزوا فانشزوا یعنی جب تم میں سے کسی سے کہا جائے کہ مجلس سے اٹھ جائو تو اسے اٹھ جانا چاہیے، اس آیت میں لفظ قیل مجہول استعمال ہوا ہے، اس کا ذکر نہیں کہ یہ کہنے والا کون ہوڈ مگر احادیث صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خود آنے والے شخص کو اپنے لئے جگہ کرنے کے واسطے کسی کو اس کی جگہ سے اٹھانا جائز نہیں ہے۔ صحیحین اور مسند احمد میں حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لا یقیم الرجل الرجل من مجلسہ فیجلس فیہ ولکن تفسحوا وتوسعوا یعنی کوئی شخص کو اٹھا کر خود اس کی جگہ نہ بیٹھے بلکہ مجلس میں کشادگی پیدا کر کے آنے والے کو جگہ دیدیا کریں۔ (ابن کثیر، معارف) اس سے معلوم ہوا کہ کسی کو اس کی جگہ سے اٹھ جانے کے لئے کہنا، آنے والے شخص کے لئے تو جائز نہیں، اس لئے ظاہر یہ ہے کہ اس کا کہنے والا امیر مجلس یا مجلس کا منتظم ہوسکتا ہے، تو مطلب آیت کا یہ ہوا کہ اگر امیر مجلس یا اس کی طرف سے کوئی منظم کسی کو اس کی جگہ سے اٹھ جانے کے لئے کہیں تو آداب مجلس میں سے یہ ہے کہ ان سے مزاحمت نہ کرے بلکہ اپنی جگہ سے اٹھ جائے، اس لئے کہ بعض اوقات مصلحت اور ضرورت کا تقاضا بھی یہی ہوتا ہے۔
Ayahs 58:12–13

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةً١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 58:12 in the Quran reader

مومنو ! جب تم پیغمبر کے کان میں کوئی بات کہو تو بات کہنے سے پہلے (مساکین کو) خیرات دے دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہت بہتر اور پاکیزگی کی بات ہے۔ اور أگر خیرات تم کو میسر نہ ہو تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ١ؕ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 58:13 in the Quran reader

کیا تم اس سے کہ پیغمبر کے کان میں کوئی بات کہنے سے پہلے خیرات دیا کرو ڈر گئے پھر جب تم نے (ایسا) نہ کیا اور خدا نے تمہیں معاف کردیا تو نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے رہو اور خدا اور اس کے پیغبر کی فرمانبرداری کرتے رہو اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے خبردار ہے

یایھا الذین امنوا اذا ناجیتم الرسول فقدموا بین یدی نجوا کم صدقۃ حضرت عبداللہ بن عباس رضیا للہ تعالیٰ عنہما اس حکم کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ مسلمان آپ ﷺ سے تخلیہ یعنی تنہائی میں زیادہ باتیں کرنے لگے تھے جس کی وجہ سے عام مسلمانوں کو دقت ہوتی تھی اور عمومی مجلس کا حرج بھی ہوتا تھا ہر شخص یہ کوشش کرتا تھا کہ میں آپ سے تنہائی میں زیادہ سے زیادہ باتیں کروں اس سے آپ ﷺ کو بھی تکلیف ہوتی تھی، اس دقت سے نجات کی اور اس بوجھ کو ہلکا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ شکل نکالی کہ جو لوگ آپ ﷺ سے تخلیہ میں باتیں کرنا چاہیں وہ پہلے کچھ صدقہ کریں، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ حکم نازل ہوا تو حضور ﷺ نے مجھے سے پوچھا کہ کتنا صدقہ مقرر کیا جائے، کیا ایک دینار ؟ میں نے عر کیا یہ لوگوں کی قدرت سے زیادہ ہے، آپ ﷺ نے فرمایا نصف دینار، میں نے عرض کیا لوگ اس کی قدرت بھی نہیں رکھتے، فرمایا پھر کتنا ؟ میں نے عرض کیا بس ایک جو، برابر سونا، آپ نے فرمایا یا علی انت زھید حضرت علی فرماتے ہیں کہ قرآن کی اس آیت پر میرے سوا کسی نے عمل نہیں کیا، اس حکم کے آتے ہی میں نے صدقہ پیش کیا اور ایک مسئلہ آپ سے دریافت کرلیا۔ (ابن جریر، حاکم، ابن المنذر، عبد بن حمید) اس کے علاوہ کچھ منافقین کی شرارت بھی اس میں شامل ہوگئی کہ مخلص مسلمانوں کو ایذا پہنچانے کے لئے آپ ﷺ سے علیحدہ سرگوشی کا وقت مانگتے تھے اور اس طرح مجلس کو طویل کردیتے تھے، زید بن اسلم نے فرمایا کہ یہ آیت منافقین اور یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہے، منافقین اور یہود تخلیہ کے بہانے آپ کا بہت سا وقت ضائع کردیتے تھے اور کہتے تھے کہ محمد تو کان کے کچے ہیں، ہر ایک کی بات سن لیتے ہیں، اس سے مسلمانوں کو تکلیف ہوتی تھی، ان ہی وجوہ سے اللہ تعالیٰ نے پابندی لگا دی۔ (فتح القدیر شوکانی) جب قرآن کریم میں آپ ﷺ سے سرگوشی کرنے سے پہلے صدقہ کرنے کا حکم نازل ہوا تو حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ میرے پاس ایک دینار تھا میں نے اس کے دس درہم کر لئے اور ایک درہم صدقہ کر کے آپ سے سرگوشی کر کے سب سے پہلے میں نے اس آیت پر عمل کیا، حضرت علی ؓ فرمایا کرتے تھے کہ قرآن کریم میں ایک آیت ایسی ہے کہ اسپر نہ مجھ سے پہلے کسی نے عمل کیا اور نہ بعد میں عمل کرے گا، اس لئے کہ یہ آیت بہت جلد منسوخ ہوگئی، قتادہ فرماتے ہیں کہ یہ حکم ایک دن سے بھی کم مدت باقی رہا، مقاتل بن حیان کہتے ہیں کہ دس دن تک رہا پھر منسوخ ہوگیا، مذکورہ حکم اگرچہ منسوخ ہوگیا مگر جس مصلحت کے لئے یہ حکم جاری کیا یا تھا وہ حاصل ہوگئی مسلمان تو اپنی دلی محبت کے تقاضے سے ایسی مجلس طویل کرنے سے اجتناب کرنے لگے اور منافقین اس لئے رک گئے کہ ان کے لئے مال خرچ کرنا گراں گذرتا تھا اور ان کو یہ بھی خوف لاحق ہوا کہ اگر ہم مسلمانوں کے خلاف طرز اختیار کریں گے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے نفاق ظاہر ہوجائے۔
Ayahs 58:14–15

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لَا مِنْهُمْ١ۙ وَ یَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 58:14 in the Quran reader

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر خدا کا غضب ہوا وہ نہ تم میں ہیں نہ ان میں اور جان بوجھ کر جھوٹی باتوں پر قسمیں کھاتے ہیں

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 58:15 in the Quran reader

خدا نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے یہ جو کچھ کرتے ہیں یقینا برا ہے۔

ترجمہ :۔ کیا آپ نے ان لوگوں منافقوں کو دیکھا جنہوں نے اس قوم سے دوستی کی جن پر اللہ کا غضب نازل ہوچکا ہے اور وہ یہود ہیں، یہ منافق نہ تم میں سے ہیں یعنی مومنین میں سے اور نہ ان میں سے یعنی یہود میں سے بلکہ مذبذب ہیں چھوٹی قسم کھاتے ہیں یعنی اس بات پر کہ وہ مومن ہیں حالانکہ وہ (خود بھی) جانتے ہیں کہ وہ (اپنی) اس قسم میں جھوٹے ہیں اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے بلاشبہ جو یہ نافرمانی کر رہے ہیں برا کر رہے ہیں ان لوگوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکا ہے یعنی اپنی جان اور اپنے مال کے لئے ڈھال بنا رکھا ہے سو قسموں کے ذریعہ مومنین کو اپنے ساتھ جہاد کرنے سے یعنی خود کو قتل ہونے اور اپنے مالوں کو لینے سے بچائے ہوئے ہیں سو ان کے لئے رسوا کرنے والا عذاب ہے ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے عذاب سے بچانے میں کچھ کام نہ آئیں گے (یغنی) اغناء سے ہے یہ تو جہنمی ہیں اس میں ہمیشہ ریں گے اس دن اکو یاد کرو جس دن اللہ اٹھا کھڑا کرے گا تو اس کے سامنے بھی قسمیں کھانے لگیں گے کہ وہ مومن ہیں جیسا کہ تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں اور سمجھیں گے کہ دنیا کے مانند آخرت میں ان کی قسم سے ان کو کچھ فائدہ ہوگا یقین مانو کہ وہی جھوٹے ہیں ان کے شیطان کی اتباع کرنے کی وجہ سے شیطان نے ان پر غلبہ حاصل کرلیا ہے اور انہیں اللہ کا ذکر بھلا دیا ہے یہ شیطانی لشکر ہے اس کے متبعین ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ شیطانی لشکر ہی خسارہ میں ہے بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں یہی لوگ مغلوبین میں سے ہیں اللہ تعالیٰ لوح محفوظ میں لکھ چکا ہے یا فیصلہ کرچکا ہے کہ بیشک میں اور میرے رسول دلیل کے ذریعہ یا تلوار کے ذریعہ غالب رہیں گے، بیشک اللہ تعالیٰ بڑا زور آور اور غالب ہے اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو آپ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھنے والا (یعنی) سچی دوستی کرنے والا ہرگز نہ ائیں گے گو وہ مخالفت کرنے والے ان کے یعنی مومنین کے باپ داداے یا بیٹے یا بھائی یا ان کے خاندان والے ہی کیوں نہ ہوں بلکہ ان کو ضرر پہنچانے اور ایمان کی بابت ان سے قتال کرنے کا قصد رکھتے ہیں، جیسا کہ صحابہ کی ایک جماعت کے لئے ایسا واقعہ پیش آیا بھی ہے یہی لوگ جو ان سے سچی دوستی نہیں رکھتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے قلوب میں اللہ تعالیٰ نے ایمان ثابت کردیا ہے اور جن کی تائید اللہ تعالیٰ نے اپنے نور سے کی ہے اور جنہیں ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں اس میں رہیں گے اور اللہ ان سے ان کی طاعت کی وجہ سے راضی ہے اور وہ اللہ کے ثواب سے خوش ہیں، یہ خدائی لشکر ہے جو اس کے حکم کی اتباع کرتا ہے اور اس کی منع کردہ چیزوں سے اجتناب کرتا ہے آگاہ رہو اللہ کی جماعت ہی کامیاب لوگ ہیں۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : الم ترالی الذین تولوا قوماً غضب اللہ علیھم یہ کلام مستانف ہے منافقین کی حالت پر اظہار تعجب کے لئے لایا گیا ہے جو کہ یہود سے دوستی رکھتے اور ان کی خیر خواہی کرتے تھے اور مسلمانوں کے راز یہودیوں کو پہنچا دیا کرتے تھے یہ نہ خلاص مسلمان تھے اور نہ کافر بلکہ ان کا ایک سرا اسلام سے ملا ہوا تھا اور دوسرا کفر سے، اس لئے کہ منافق بظاہر مسلمان تھے اور درباطن کافر، گویا کہ دو کشتیوں کے سوار تھے جس میں ہلاکت یقینی ہوتی ہے۔ قولہ : تولوا تولی سے مضارع جمع مذکر غائب وہ لوگ دوستی کرتے ہیں۔ قولہ : ماھو منکم ولامنھم یہ جملہ یا مستانفہ ہے یا پھر تولوا کے فاعل سے حال ہے۔ قولہ : وھم یعلمون یہ جملہ لحفون کی ضمیر سے حال ہے۔ ، قولہ : ایمانھم جنۃ یہ دونوں اتخذوا کے مفعول ہیں، مطلب یہ ہے کہ ان منافقوں نے اپنی قسموں کو اپنے اور اپنے مالوں کی حفاظت کے لئے ڈھال اور وقایہ بنا رکھا ہے۔ قولہ : من عنذابہ یہ حذف مضاف کی طرف اشارہ ہے۔ قولہ : من الاغناء شیئاً کے بعد من الاغناء محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ یہ لن تغنی کا مفعول مطلق ہے ای لن تغنی اغناء شیئاً قولہ : ویحسببون، یحلفون کی ضمیر فاعل سے حال ہے۔ قولہ : استحوذ یہ اصل کے مطابق فعل ماضی ہے، ای غلب واستولی وہ مسلط ہوگیا، اس نے قابو کرلیا، استحواذ سے ہے، بروزن استصواب یہ خلاف قیاس ہے اس لئے کہ قیاس استحاذ ہے، جیسا کہ استعاذ اور استقام وائو کوا لف سے بدل کر۔ قولہ : لاغلبن یہ اقسم، قسم محذوب کا جواب بھی ہوسکتا ہے اسی وجہ سے اس کے اوپر لام قسم داخل کیا گیا ہے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کتب اللہ قسم کے معنی میں ہوا اور لاغلبن جواب قسم ہو۔ تفسیر و تشریح الم ترالی الذین تولوا قوماً غضب اللہ علیھم ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی بدحالی اور انجام کار عذاب شدید کا ذکر فرمایا : جو اللہ کے دشمنوں سے دوستی رکھیں گے، مغضوب علیھم جن پر خدا کا غضب نازل ہوا وہ قرآن کریم کی صراحت کے مطابق یہود ہیں اور ان سے دوستی کرنے والے منافقین ہیں، یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں جس وقت مدینہ میں منافقین کا زور تھا اور یہودیوں کی سازشیں بھی عروج پر تھیں، یہود کو مدینہ سے جلا وطن نہیں کیا گیا تھا۔ کفار خواہ مشرکین ہوں یا یہود و نصاریٰ یا دوسرے اقسام کے کافر، کسی مسلمان کے لئے ان سے دلی دوستی جائز نہیں، اس لئے کہ قرآن کریم کی بہت سی آیات میں موالات کفار کی شدید ممانعت و مذمت وارد ہوئی ہے اور جو مسلمان کسی غیر مسلم سے دلی دوستی رکھے تو اس کو کفار ہی کے زمرے میں رکھنے کی ویعد آئی ہے مگر یہ بات یاد رہے کہ یہ سب احکام دلی اور قلبی دوستی کے متعلق ہیں۔ کفار کے ساتھ حسن سلوک، ہمدردی، خیر خواہی، ان پر احسان، حسن اخلاق سے پیش آنا، یا اقتصادی اور تجارتی معاملات ان سے کرنا دوستی کے مفہوم میں داخل نہیں، رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کا تعامل اس پر شاہد ہے، البتہ ان سب چیزوں کی رعایت ضروری ہے کہ ان کے ساتھ ایسے معاملات رکھنا جائز ہیں جو اپنے دین کے لئے مضر نہ ہوں اور نہ اسلام اور دیگر مسلمانوں کے لئے مضر ہوں۔
Ayahs 58:16–17

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 58:16 in the Quran reader

انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا لیا اور (لوگوں کو) خدا کے راستے سے روک دیا ہے سو ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے۔

لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 58:17 in the Quran reader

خدا کے (عذاب کے) سامنے نہ تو ان کا مال ہی کچھ کام آئے گا اور نہ اولاد ہی (کچھ فائدہ دے گی) یہ لوگ اہل دوزخ ہیں اسمیں ہمیشہ (جلتے) رہیں .

اتخذوا ایمانھم جنۃ، ایمانھم کو جمہور نے ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے یہ یمیمین کی جم ہے بمعنی قسم یعنی یہ لوگ قسمیں کھا کھا کر کہ وہ مسلمان ہیں مسلمانوں کی گرفت سے بچے ہوئے ہیں اور حسن رحمتہ اللہ تعالیٰ اور ابوالعالیہ رحمتہ اللہ تعالیٰ نے ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے، یعنی ان منافقوں نے اپنے ظاہری ایمان کو اپنے اور اپنے اموال کے لئے ڈھال اور وقایہ بنا رکھا ہے۔
Ayahs 58:18–21

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰى شَیْءٍ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 58:18 in the Quran reader

جس دن خدا ان سب کو جلا اٹھائے گا تو جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں (اسی طرح) خدا کے سامنے قسمیں کھائیں گے اور خیال کریں گے گہ ایسا کرنے سے کام لے نکلے ہیں۔ دیکھو یہ جھوٹے (اور برسر غلط) ہیں۔

اِسْتَحْوَذَ عَلَیْهِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰىهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 58:19 in the Quran reader

شیطان نے ان کو قابو میں کرلیا ہے اور خدا کی یاد ان کو بھلا دی ہے یہ (جماعت) شیطان کا لشکر ہے۔ اور سن رکھو کہ شیطان کا لشکر نقصان اٹھانے والا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اُولٰٓئِكَ فِی الْاَذَلِّیْنَ Open ayah 58:20 in the Quran reader

جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ نہایت ذلیل ہوں گے۔

كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 58:21 in the Quran reader

خدا کا حکم ناطق ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ضرور ضورر غالب رہیں گے بیشک خدا زور آور (اور) زبردست ہے۔

یوم یبعثھم اللہ جمیعاً فیحلفون لہ کما یحلفون لکم مطلب یہ ہے کہ یہ منافقین صرف دنیا ہی میں اور صرف انسانوں ہی کے سامنے جھوٹی قسمیں نہیں کھاتے بلکہ آخرت میں خود اللہ جل شانہ، کے سامنے بھی جھوٹی قسمیں کھانے سے باز نہ رہیں گے، جھوٹ اور فریب ان کی رگ رگ اور نس نس میں اس طرح پیوست ہوچکا ہے کہ مر کر بھی یہ ان سے نہ چھوٹے گا۔
Ayah 58:22

لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ١ؕ وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 58:22 in the Quran reader

جو لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں تم ان کو خدا اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ دیکھو گے خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان ہی کے لوگ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں خدا نے ایمان (پتھر پر لکیر کی طرح) تحریر کردیا ہے اور فیض غیبی سے ان کی مدد کی ہے۔ اور وہ ان کو بہشتوں میں جن کے تلے نہریں بہ رہی ہیں جا داخل کرے گا ہمیشہ ان میں رہیں گے خدا ان سے خوش اور وہ خدا سے خوش۔ یہی گروہ خدا کا لشکر ہے (اور) سن لکھو کہ خدا ہی کا لشکر مراد حاصل کرنیوالا ہے۔

لاتجدقوما یومنون باللہ والیوم الاخریو ادون من حاد اللہ و رسولہ ولوکانوا آبائھم پہلی آیت میں کفار و مشرکین سے دوستی کرنے والوں یعنی غیر مخلصین (منافق) مسلمانوں کا ذکر تھا جن کے لئے غضب الٰہی اور عذاب شدید کا ذکر تھا، اس آیت میں مومنین مخلصین کا ان کے مقابل ذکر فرمایا کہ وہ کسی ایسے شخص سے دوستی اور دلی تعلق نہیں رکھتے جو اللہ کا مخالف یعنی کافر ہے اگرچہ وہ ان کا باپ یا بیٹا یا بھائی یا اور قریبی عزیز ہی کیوں نہ ہو۔ اس آیت میں دو باتیں ارشاد ہوئی ہیں، ایک بات اصولی ہے اور دوسری امرواقعی، اصولی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ دین حق پر ایمان اور اعدائے حق کی محبت، دو بالکل متضاد چیزیں ہیں جن کا ایک جگہ اجتماع کسی طرح قابل تصور نہیں ہے، یہ بات قطعی ناممکن ہے کہ ایمان اور دشمنان خدا اور رسول کی محبت ایک دل میں جمع ہوجائیں، اسی طرح جن لوگوں نے اسلام اور مخالفین اسلام سے بیک وقت رشتہ جوڑ رکھا ہے ان کو اپنے بارے میں اچھی طرح غور کرلینا چاہیے کہ وہ فی الواقع کیا ہیں مومن ہیں یا منافق ؟ اگر ان کے اندر کچھ بھی راستبازی موجود ہے اور وہ کچھ بھی یہ احساس اپنے اندر رکھتے ہیں کہ اخلاقی حیثیت سے منافقت انسان کے لئے ذلیل ترین رویہ ہے تو انہیں بیک وقت دو کشتیوں میں سوار ہونے کی کوشش چھوڑ دینی چاہیے، ایمان تو ان سے دو ٹوک فیصلہ چاہتا ہے مومن رہنا چاہتے ہیں تو ہر اس رشتہ اور تعلق کو قربان کردیں جو اسلام کے ساتھ ان کے تعلق سے متصادم ہوتا ہو، اور اگر اسلام کے رشتے سے کسی اور رشتے کو عزیز تر رکھتے ہیں تو بہتر ہے کہ ایمان کا جھوٹا دعویٰ چھوڑ دیں۔ یہ تو ہے اصولی بات، مگر اللہ ت عالیٰ نے یہاں صرف اصول بیان کرنے پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ اس امر واقعی کو بھی مدعیان ایمان کے لئے نمونے کے طور پر پیش فرما دیا ہے کہ جو لوگ سچے مومن تھے انہوں نے فی الواقع سب کی آنکھوں کے سامنے تمام ان رشتوں کو کاٹ کر پھینک دیا جو اللہ کے دین کے ساتھ ان کے تعلق میں حائل ہوئے۔ تمام صحابہ کرام کا یہی حال تھا، اس جگہ مفسرین نے بہت سے صحابہ کرام کے ایسے واقعات بیان کئے ہیں، اس کی نظریں بدر واحد کے معرکوں میں سارا عرب دیکھ چکا تھا، مکہ سے جو صحابہ کرام ہجرت کر کے آئے تھے وہ صرف خدا اور اس کے دین کی خاطر اپنے قبیلے اور اپنے قریب ترین رشتہ داروں سے لڑ گئے تھے، حضرت ابوعبیدہ نے اپنے والد عبد اللہ بن جراح کو قتل کیا، حضرت مصعب بن عمیر نے اپنے بھائی عبید بن عمیر کو قتل کیا، حضرت عمر ؓ نے اپنے ماموں عاص بن ہشام کو قتل کیا عبداللہ بن ابی منافق کے بیٹے عبداللہ کے سامنے اس کے منافق باپ نے حضور کی شان میں گستاخانہ کلمہ بولا تو انہوں نے آنحضرت ﷺ سے اجازت طلب کی کہ آپ اجازت دیں تو میں اپنے باپ کو قتل کر دوں، آپ نے منع فرمایا حضرت ابوبکر کے سامنے ان کے والد ابوقحافہ نے حضور کی شان میں کچھ گستاخانہ کلمہ کہہ دیا تو ارحم امت صدیق اکبر کو اتنا غصہ آیا کہ زور سے طمانچہ رسید کیا جس سے ابوقحافہ گرپڑے، جب آپ ﷺ کو اس کی اطلاع ہوئی تو فرمایا آئندہ ایسا نہ کرنا، اس قسم کے بہت سے واقعات صحابہ کرام کے ساتھ پیش آئے ان پر آیات مذکورہ نازل ہوئیں۔ وایدھم بروح منہ یہاں روح کی تفسیر بعض حضرات نے نور سے کی ہے جو منجانب اللہ مومن کو ملتا ہے اور وہی اس کے عمل صالح کا اور قلب کے سکون کا ذریعہ ہوتا ہے اور بعض حضرات نے روح کی تفسیر قرآن اور دلائل قرآن سے کی ہے کہ وہی مومن کی اصل طاقت اور قوت ہے۔ (قرطبی، معارف ملخصاً )