Ayahs 57:1–2ترجمہ : میں شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، زمین اور آسمان میں جو کچھ ہے وہ اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے یعنی ہر چیز اس کی پاکی بیان کرتی ہے (للہ) میں لام زائدہ ہے من کے بجائے ما کا استعمال اکثر کو غلہ دینے کے اعتبار سے ہے وہ اپنے ملک میں زبردست اور اپنی نصعت میں حکمت والا ہے زمین اور آسمان کی بادشاہت اسی کی ہے پیدا کر کے زندگی دیتا ہے اس کے بعد موت دیتا ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے وہی اول ہے بغیر ابتداء کے ہر چیز سے پہلے اور وہی آخر ہے یعنی بلا نہایت کے ہر چیز کے بعد رہے گا وہی ظاہر ہے اس پر دلائل موجود ہونے کی وجہ سے اور وہ حواس کے ادراک سے مخفی ہے اور ہر شئی کو جاننے والا ہے وہی ہے جس نے آسمان اور زمین کو دنیا کے ایام کے مطابق چھ دنوں میں پیدا فرمایا ان میں پہلا دن یکشنبہ (اتوار) کا ہے اور آخری دن جمعہ کا، پھر وہ عرش کرسی پر مستوی ہوگیا ایسا استواء جو اس کی شان کے لائق ہے وہ اس چیز کو بھی جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتی ہے جیسا کہ بارش کا پانی اور مردے، اور اس کو بھی جو زمین سے نکلتی ہے جیسا کہ نباتات اور معدنیات اور جو آسمان سے نازل ہو، جیسا کہ رحمت اور عذاب اور جو اس کی طرف چڑھے، جیسا کہ اعمال صالحہ اور اعمال سیئہ اور تم جہاں کہیں ہو وہ علم کے اعتبار سے تمہارے ساتھ ہے اور تم جو کچھ کر رہے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے، آسمان اور زمین کی بادشاہت اسی کی ہے اور اسی کی طرف تمام امور لوٹائے جائیں گے یعنی تمام موجودات، وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے تو دن بڑھ جاتا ہے اور رات گھٹ جاتی ہے اور دن کو رات میں داخل کردیتا ہے تو رات بڑھ جاتی ہے اور دن گھٹ جاتا ہے اور وہ سینوں کے رازوں کا پورا عالم ہے یعنی سینوں میں جو راز اور معتقدات ہیں ان کو بخوبی جانتا ہے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئو یعنی ایمان پر دائم رہو، اللہ کے راستہ میں اس مال میں سے خرچ کرو جس میں تم کو نائب بنایا ہے ان لوگوں کے مال میں جو تم سے پہلے گذر چکے اور اس میں تمہارے بعد والوں کو تمہارا خلیفہ بنائے گا، یہ آیت غزوہ عسرہ کے بارے میں نازل ہئوی اور وہ غزوہ تبوک ہے پس تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور خرچ کیا انکے لئے بڑا اجر ہے (اس میں) حضرت عثمان غنی ؓ کی طرف اشارہ ہے، تم اللہ پر ایمان کیوں نہیں لاتے ؟ یہ کفار کو خطاب ہے یعنی اللہ پر ایمان لانے سے کوئی چیز تم کو مانع نہیں ہے حالانکہ خود رسول تمہیں اپنے رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہے اور خود خدا نے تم سے اس پر عہد لیا تھا، اگر تم کو ایمان لانا ہو یعنی اگر اس پر ایمان لانے کا ارادہ ہو تو اس کی طرف سبقت کرو (اخذ) ہمزہ کے ضمہ اور خاء کے کسرہ کے ساتھ اور دونوں کے فتحہ کے ساتھ اور اس کے مابعد فتحہ کے ساتھ ہے، یعنی اللہ نے انسان سے عالم ذر (نمل) میں جبکہ ان کو خود ان کے اوپر الست بربکم کے ذریعہ شاہد بنایا تھا تو سب نے جواب دیا تھا بلی وہی ہے جو اپنے بندے پر قرآن کی واضح آیتیں نازل کرتا ہے تاکہ تم کو کفر کی ظلمت سے ایمان کے نور کی طرف نکالے یقینا اللہ تعالیٰ تم کو کفر سے ایمان کی طرف نکال کر تم پر بڑا نرمی کرنے والا رحم کرنے والا ہے تمہیں کیا ہوگا ہے کہ ایمان کے بعد اللہ کے راستہ میں خرچح نہیں کرتے ؟ آسمانوں اور زمین کی میراث مع تمام ان چیزوں کے جواب میں ہیں اللہ کے لئے ہے تمہارے اموال بغیر اجیر انفاق کے اسی کے پاس پہنچ جائیں گے۔ بخلاف اس مال کے جسم کو تم نے خرچ کیا تو اس پر تم کو اجر عطا کیا جائے گا، تم میں سے جو لوگ فتح مکہ سے پہلے (فی سبیل اللہ) خرچ کرچکے اور (فی سبیل اللہ) لڑ چکے برابر نہیں یہی لوگ ہیں بڑے درجے والے ان لوگوں سے جنہوں نے (فتح مکہ کے عبد) خرچ کیا اور قتال کیا، دونوں فریقوں میں سے ہر ایک سے اللہ کا جنت کا وعدہ ہے اور ایک قرأت میں (کل) رفع کے ساتھ مبتداء ہے جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر سورو اس کی تم کو جزاء دے گا۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
سوال : سبح للہ میں سبح کو متعدی بالام لایا گیا ہے حالانکہ سبح متعدی بنفسہ استعمال ہوتا ہے۔
جواب :۔ لام زائدہ تاکید کے لئے ہے جیسے نصحت لہ وشکوت لہ یا تعلیل کے لئے ہے، مفسر علام نے سبح للہ کی تفسیر نزھہ سے کر کے اور فاللام مزیدۃ کا اضافہ کر کے اسی اعتراض کا جواب دیا ہے۔
قولہ : بالانشاء اس لفظ سے اشارہ کردیا کہ یحییٰ سے مراد زندہ چھوڑنا نہیں ہے جیسا کہ نمود و بعض کو قتل کردیا تھا اور بعض کو زندہ چھوڑ دیتا تھا، نمود نے حضرت ابراہمی (علیہ السلام) سے محاجہ کرتے ہوئے انا احیی و امیت کہا اور وہ آدمیوں کو بلایا جن میں سے ایک کو قتل کردیا اور دوسرے کو چھوڑ دیا اور کہا انا احی و امیت بعض کو قتل نہ کرنا زندہ کرنا نہیں ہے بلکہ یحییٰ سے مراد نشاء حیات ہے۔
قولہ : الکرسی مناسب تھا کہ لاعرش کی تفسیر کرسی سے کرنے کے بجائے اپنی حالت پر رہنے دیتے۔
قولہ : استواء یلیق بہ :۔ یہ سلف کی تفسیر ہے خلف اس کی تاویل قہر اور غلبہ سے کرتے ہیں۔
قولہ : والسیئۃ بہتر ہوتا کہ اس کو حذف کردیتے اس لئے کہ آسمان کی طرف کلمات طیبات صعود کرتے ہیں نہ کہ کلمات سیئہ
قولہ : دوموا علی الایمان اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔
سوال : خطاب مومنین کو ہے۔ لہٰذا ان سے آمنوا کہنا تحصیل حاصل ہے۔
جواب :۔ آمنوا سے مراد دوام وقرار علی الایمان ہے جو کہ مومنین سے مطلوب ہے۔
قولہ : والرسولہ یدعوکم یہ لاتومنون کی ضمیر سے حال ہے۔
قولہ : وقد اخذ میثاقکم یہ یدعوکم کے کم ضمیر سے حال ہے۔
قولہ : ایم ریدین الایمان یہ عبارت بھی ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔
سوال : اول فرمایا مالکم لائومنون باللہ جس کا مقتضی ہے کہ مخاطب مومن نہیں ہے اس کے بعد ارشاد فرمایا ان کنتم مومنین جس کا مقتضیٰ ہے کہ مخاطب مومن ہے۔
جواب :۔ جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ تم اللہ کے رسول محمد ﷺ پر ایمان لے آئو اگر تم موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ علیہ الصلام والسلام پر ایمان رکھتے ہو، اس لئے کہ ان حضرات کی شریعت بھی اس بات کی مقتضی ہے کہ تم محمد پر ایمان لائو۔
قولہ : فبادروا الیہ اس میں اشارہ ہے کہ جواب شرط محذوف ہے اور وہ فبادروا الخ ہے۔
قولہ : من انفق من قبل یہ لایستوی کا فاعل ہے اور استوی دو چیزوں سے کم میں نہیں ہوتا، معلوم ہوا اس کا مقابل اس کے واضح ہونے کی وجہ سے حذف کردیا گیا ہے اور وہ من انفق من بعد الفتح ہے۔
قولہ : کلا، وعداللہ کا مفعول مقدم ہے اور ابن عامر نے کل مبتداء ہونے کی وجہ سے رفع کے ساتھ پڑھا ہے اور مابعد اس کی خبر ہے۔
تفسیر و تشریح
ربط :۔
سورة واقعہ کو فسبیح باسم ربک العظیم پر ختم فرمایا ہے، اس میں تسبیح کا حکم دیا گیا ہے اور سورة حدید کو سبح للہ مافی السموت ولارض سے شروع فرمایا ہے تو گویا کہ سورة حدید کی ابتداء علت ہے سورة واقعہ کے اختتامی مضمون کی، گویا کہ فرمایا گیا فسبح باسم ربک العظیم لانہ سبح لہ ما فی السموت ولارض
سورة حدید کے فضائل :
ابودائود، ترمذی، نسائی میں حضرت عرباض بن ساریہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کو سونے سے پہلے مسبحات پڑھا کرتے تھے اور آپ نے فرمایا ان فیھن آیۃ افضل من الف آیۃ آپ نے فرمایا ان میں ایک آیت ایسی ہے جو ایک ہزار آیتوں سے افضل ہے اور ابن ضرس نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بھی ایسا ہی روایت کیا ہے، اور یحییٰ نے کہا کہ ہم ہزار آیتوں کے مساوی آیت سورة حشر کی آخری آیت کو سمجھتے تھے۔ (روح)
سورة مسبحات پانچ سورتوں کو حدیث میں مسبحات سے تعبیر کیا گیا ہے جن کے شروع میں سبح یا یسبح آیا ہے ان میں پہلی سورت سورة حدید ہے، دوسری حشر، تیسری صف، چوتھی جمعہ، پانچویں تغابن، ان پانچوں سورتوں میں سے تین یعنی حدید، حشر، صف میں، سبح بیغہ ماضی آیا ہے اور آخری دو سورتوں یعنی جمعہ اور تغابن میں یسبح بصیغہ مضارع آیا ہے، اس میں اشارہ اس طرف ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور اس کا ذکر ہر زمانے اور ہر وقت خواہ ماضی ہو یا مستقبل و حال، جاری رہنا چاہیے، اور کائنات کا ذرہ ذرہ ہمیشہ اپنے خالق کی پاکی بیان کرتا رہتا ہے آج بھی کر رہا ہے اور ہمیشہ کرتا رہے گا۔
ھو العزیز الحکیم حصر کے ساتھ فرمایا، وہی عزیز اور حکیم ہے، عزیز کے معنی ہیں قوی طاقتور اور حکیم کے معنی ہیں حکمت کے ساتھ کام کرنے والا یعنی وہ جو کچھ بھی کرتا ہے حکمت اور دانائی کے ساتھ کرتا ہے، اس کی تخلیق اس کی تدبیر، اس کی فرمانروائی، اس کے احکام، اس کی ہدایات سب حکمت پر مبنی ہیں، اس کے کسی کام میں نادانی اور حماقت و جہالت کا شائبہ تک نہیں ہے، اور وہ ایسا عزیز و طاقتور ہے کہ وہ کائنات میں جس طرح چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔
لطیف نکتہ :۔
اس مقام پر ایک لطیف نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے، جسے اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے، قرآن مجید میں کم ہی مقامات ایسے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ کی صفت عزیز کے ساتھ قوی، مقتدر، جبار، ذو انتقام جیسے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، جن سے محض اس کے اقتدار مطلق کا اظہار ہوتا ہے اور وہ بھی صرف ان مواقع پر استعمال ہوا ہے، جہاں سلسلہ کلام اس بات کا متقاضی تھا کہ ظالموں اور نافرمانوں کو اللہ کی پکڑ سے ڈرایا جائے، اس طرح کے چند مقامات کو چھوڑ کر باقی جہاں بھی اللہ تعالیٰ کے لئے عزیز کا لفظ استعمال ہوا ہے، وہاں اس کے ساتھ حکیم، علیم، غفور، وھاب اور حمید میں سے کوئی لفظ ضرور استعمال ہوا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر کوئی ہستی ایسی ہو جسے بےپناہ طاقت حاصل ہو مگر اس کے ساتھ وہ نادان ہو، جاہل ہو، بےرحم ہو، معاف اور درگذر کرنا جانتی ہی نہ ہو، بخیل ہو اور بد سیرت اور تند خود ہو، ضدی اور ہٹ دھرم ہو تو اس کے اقتدار کا نتیجہ ظلم کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا دنیا میں جہاں کہیں بھی ظلم ہو رہا ہے اس کا بنیادی سبب یہی ہے کہ جس شخص یا جماعت کو دوسروں پر بالا دستی حاصل ہے، وہ اپنی طاقت کو یا توانادانی اور جہالت کے ساتھ استعمال کر رہا ہے یا وہ بےرحم اور سنگ دل ہے، طاقت کے ساتھ ان بری صفات کا اجتماع جہاں کہیں بھی ہو وہاں کسی خیر کی توقع نہیں کا جاسکتی، اسی لئے اللہ تعالیٰ کے لئے اس کی صفت عزیز کے ساتھ اس کے حکیم وعلیم اور رحیم و غفور اور حمید و وہاب ہونے کا ذکر لازماً کیا گیا ہے اور یہ تمام صفات کمال اس کی ذات میں شامل ہیں۔
Ayah 57:3ھو الاول و الآخروا الظاھر وا الباطن ویہ اول ہے یعنی اس سے پہلے کچھ نہ تھا اس لئے کہ تمام موجودات اسی کی پیدا کردہ ہیں اور آخر کے معنی بعض حضرات نے یہ کئے ہیں تمام موجودات کے فنا ہونے کے بعد بھی وہ موجود رہے گا جیسا کہ کل شیء ھالک الا وجھہ میں اس کی تصریح موجود ہے، مطلب یہ ہے کہ جب کچھ نہ تھا تو وہ تھا اور جب کچھ نہ رہے گا تو وہ رہے گا اور سب ظاہروں سے بڑھ کر ظاہر ہے کیونکہ دنیا میں جو کچھ بھی ظاہر ہور ہے اسی کی صفات اسی کے افعال اور اسی کے نور کا ظہور ہے، اور وہ ہر مخفی سے بڑھ کر مخفی ہے، کیونکہ حواس سے اس کی ذات اور اس کی کنہ کو محسوس کرنا تو درکنار عقل و فکر و خیال تک اس کی کنہ اور حقیقت کو نہیں پاسکتے اور وہ اپنی ذات اور کنہ کے اعتبار سے ایسا باطن اور مخفی ہے کہ اس کی حقیقت تک کسی عقل و خیال کی رسائی نہیں ہوسکتا۔
اے برتر از قیاس و گمان و خیال و ہم واز ہرچہ دیدہ ایم و شنید یم و خواندہ ایم
اس کی بہترین تفسیر نبی ﷺ کی دعاء کے وہ الفاظ ہیں، جو آپ نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ ؓ کو سکھائے تھے اور پڑھنے کی تاکید فرمائی تھی۔
اللھم رب السموات السبع و رب العرش العظیم، ربنا و رب کل شیء منزل التورات والانجیل والفرقان، فالق الحب والنوی، اعوذ بک من شرکل شیء انت اخذبنا صیتہ اللھم انت الاول فلیس قبلک شیء وانت الاخر فلیس بعدک شیء وانت الظاھر فلیس فوقک شیء وانت الباطن فلیس دو نک شیء اقض عنا الدین و اغننا من الفقر (بخاری، مسلم کتاب الذکر و الدعاء)
اس دعاء میں جو ادائیگی قرض کے لئے مسنون ہے اور اول و آخر و ظاہر و باطن کی بہترین تفسیر ہے۔
Ayahs 57:4–6یعلم مایلج فی الارض و ما یخرج منھا (الآیۃ) یعنی زمین میں بارش کے جو قطرات اور غلہ جات و میوہ جات ہیں اور جو بیج داخل ہوتے ہیں ان کی کمیت و کیفیت کو وہ جانتا ہے وھو معکم اینما کنتم یعنی اللہ علم کے اعتبار سے تمہارے ساتھ ہے تم جہاں کہیں بھی ہو اس معیت کی حقیقت اور کیفیت کسی مخلوق کے احاطہ علم میں نہیں آسکتی مگر اس کا وجود یقینی ہے اس کے بغیر انسان کا نہ وجود قائم رہ سکتا ہے اور نہ کوئی کام اس سے ہوسکتا ہے اس کی مشیت اور قدرت ہی سے سب کچھ ہوتا ہے جو ہرحال اور ہر جگہ میں ہر انسان کے ساتھ رہتی ہے۔
Ayahs 57:7–10امنوا باللہ وسرولہ وانفقوا مما جعلکم مستخلفین فیہ یہ آیت غزوہ تبوک کے بارے میں نازل ہوئی ہے، روح المعانی میں ہے والایۃ علی ماروی عن الضحاک نزلت فی تبوک فلا تغفل اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خطاب کا روئے سخن مسلمانوں کی طرف ہے اس لئے کہ جن حالات میں انفاق فی سبیل اللہ کی بڑے زور دار اور نئے انداز سے اپیل کی جا رہی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اپیل اور ترغیب غیر معمولی حالات کے پیش نظر کی جا رہی ہے جس میں حضرت ابوبکر صدیق نے اپنا کل مال اور حضرت عمر ؓ نے نصف مال اور اس ہنگامی فوجی اور قومی ضرورت کے لئے خدمت میں پیش کیا اور حضرت عثمانی غنی ؓ نے اس غزوہ میں ایک ہزار دینار اور تین سو اونٹ مع ساز و سامان کے پیش کئے اور ایک دوسری روایت کی ہے سے اس ہنگامی اور فوری ضرورت کے لئے ضروری عثمان رضیا للہ تعالیٰ عنہ نے ایک ہزار اونٹ اور ستر گھوڑے مع ان کے ساز و سامان کے پیش کئے، اسی موقع پر آپ ﷺ نے حضرت عثمان غنی ؓ کے حق میں فرمایا ما علی عثمان ؓ بعد ھذہ اور ایک روایت میں ہے، آپ نے فرمایا : غفر اللہ لک یا عثمان ما اسرت وما اعلنت و ماحول کائن الی یوم الپقیامۃ ما بیالی ما عمل بدھا (صاوی)
ان قرآئن سے معوم ہوتا ہے کہ یہ خطاب غیر مسلموں سے نہیں ہے بلکہ بعد کی پوری تقریر یہ ظاہر کر رہی ہے کہ مخاطب وہ مسلمان ہیں جو کلمہ اسلام کا اقرار کر کے مسلمانوں کے گروہ میں بظاہر شامل ہوچکے مگر ایمان کے تقاضے پورا کرنے سے پہلے تہی کر رہے تھے ظاہر ہے کہ غیر مسلموں کو ایمان کی دعوت دینے کے ساتھ فوراً ہی ان سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جہاد فی سبیل اللہ کے مصارف میں دل کھول کر اپنا حصہ ادا کرو اور نہ کہا جاسکتا ہے کہ تم میں سے جو فتح مکہ سے پہلے جہاد اور انفاق فی سبیل اللہ کیر گا اس کا درجہ ان لوگوں سے بلند تر ہوگا جو بعد میں یہ خدمت انجام دیں گے غیر مسلم کو دعوت ایمان دینے کی صورت میں تو پہلے اس کے سامنے ایمان کے ابتدائی تقاضے پیش کئے جاتے ہیں نہ کہ انتہائی ا، اگرچہ آمنوا باللہ و رسولہ الخ کے عموم کے لحاظ سے اس بات کی گنجائش ہے کہ مخاطبین میں غیر مسلمین بھی شامل ہوں مگر سیاق وسباق اور فجوائے کلام کے لحاظ سے یہاں آمنہ باللہ و ررسولہ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اے وہ لوگو جو ایمان کا دعویٰ کر کے مسلمانوں کے گروہ میں شامل ہوگئے ہو، اور اس کے رسول کو سچے دل سے مانو اور وہ طرز عمل اختیار کرو جو اخلاص کے ساتھ ایمان لانے والوں کو اختیار کرنا چاہیے۔
سیاق وسباق اور آیت کے شان نزول اور موقع نزول سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مقام پر خرچ کرنے سے مراد عام بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا نہیں ہے بلکہ آیت نمبر 10 کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ یہاں اس جدوجہد کے مصارف میں حصہ لینا مراد ہے جو اس وقت کفر کے مقابلہ میں اسلام کو سربلند کرنے کے لئے رسول اللہ ﷺ کی قیادت میں جاری تھی، خاص طور پر اس وقت دو ضرورتیں تھیں جن کے لئے فراہمی مالیات کی طرف فوری توجہ کرنے کی سخت ضرورت تھی جنگی ضروریات اور دوسرے ان مظلوم مسلمانوں کی باز آباد کاری جو کفار کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر عرب کے ہر حصہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے تھے اور آرہے تھے، مخلص اہل ایمان ان مصارف کو پورا کرنے کے لئے اپنے اوپر اتنا بوجھ برداشت کر رہے تھے جو ان کی طاقت و وسعت سے بہت زیادہ تھا، لیکن مسلمانوں کے گروہ میں بکثرت اچھے خاصے کھاتے پیتے لوگ ایسے موجود تھے جو کفر و اسلام کی اس کشمکش کو محض تماشائی بن کر دیکھ رہے تھے اور اس بات کا انہیں کوئی احساس نہ تھا کہ جس چیز پر وہ ایمان لانے کا دعویٰ کر رہے ہیں اس کے کچھ حقوق بھی ان کی جان و مال پر عائد ہوتے ہیں، یہی دوسرے قسم کے لوگ اس آیت کے مخاطب ہیں، ان سے کہا جا رہا کہ سچے مومن بنو اور اللہ کی راہ میں مال خرچ کرو۔
راہ خدا میں خرچ کرنے کی ترغیب و فضیلت :
وانفقوا مما جعلکم مستخلفین فیہ روح المعانی میں اس آیت کے دو مطلب بیان کئے گئے ہیں ایک یہ کہ جو مال تمہارے پاس ہے یہ دراصل تمہارا ذاتی مال نہیں بلکہ اللہ کا بخشا ہوا مال ہے اصل مالک اللہ تعالیٰ ہے، اللہ نے اپنے خلیفہ کی حیثیت سے یہ تمہارے تصرف میں دیا ہے، لہٰذا اصل مالک کی خدمت میں اسے صرف کرنے سے دریغ نہ کرو، نائب کا یہ کام نہیں کہ مالک کے مال کو مالک ہی کے کام میں خرچ کرنے سے جی چرائے۔
دوسرا مطلب وقیل جعلکم خلفاء من کان قبلکم ممن ترثونہ و سینتقل الی غیرکم ممن یرثکم فلاتبخلوا بہ (روح المعانی) اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مال ہمیشہ سے نہ تمہارے پاس تھا نہ ہمیشہ تمہارے پاس رہنے والا ہے، کل یہ دوسرے لوگوں کے پاس تھا پھر اللہ نے تم کو ان کا جانشین بنا کر اسے تمہارے حوالہ کیا، پھر ایک وقت آئے گا کہ جب یہ تمہارے پاس نہ رہے گا دوسرے لوگ اس پر تمہارے جانشین بن جائیں گے، اس عارضی جانشینی کی تھوڑی سی مدت میں جب یہ تمہارے قبضہ تصرف میں ہے، اسے اللہ کے کام میں خرچ کرو تاکہ آخرت میں اس کا مستقل اور دائمی اجر تمہیں حاصل ہو، اسی مطلب کے مطابق اس اعرابی کا قول ہے جس سے کسی نے سوال کیا لمن ھذہ الابل ؟ فقالھی للہ تعالیٰ عندی یہ اللہ کا اونٹ ہے جو میرے پاس امانت ہے۔
اسی مضمون کو حضور ﷺ نے ایک حدیث میں بیان فرمایا ہے، ترمذی میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز ہم نے ایک بکری ذبح کی جس کا اکثر حصہ تقسیم کردیا، ایک دست گھر کے لئے رکھ لیا، آنحضرت ﷺ نے مججھ سے دریافت فرمایا کہ اس بکری میں سے تقسیم کے بعد کیا باقی رہا ؟ حضرت عائشہ نے عرض کیا مابقی الاکتفھا ایک شانے کے سوا کچھ نہیں بچا، آپ ﷺ نے فرمایا بقی کلھا الاکتفھا ایک شانے کے سوا پوری بکری باقی رہ گئی یعنی خدا کی راہ میں جو کچھ دیدیا دراصل وہی بقای رہ گیا۔
بخاری اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا یقول ابن آدم مالی مالی وھل لک من مالک الا ما اکلت فافنیت او لبست فابلیت او تصدقت فامضیت و ماسوا ذلک فذاھب و تارکہ للناس
آدمی کہتا ہے کہ میرا مال میرا مال، حالانکہ تیرے مال میں تیرا حصہ اس کے سوا کیا ہے جو تو نے کھا کر ختم کردیا یا پہن کر پرانا کردیا یا صدقہ کر کے آگے بھیج دیا اور اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ تیرے ہاتھ سے جانے والا ہے اور اسے دوسروں کے لئے چھوڑ جانے والا ہے۔ (مسلم)
گزشتہ آیات میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی تاکید بیان فرمانے کے بعد اگلی آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ اللہ کی راہ میں جو خرچ کیا جائے ثواب تو ہر ایک کو ہرحال میں ملے گا، لیکن ثواب کے درجات میں ایمان و اخلاص اور مسابقت اعتبار سے فرق ہوگا، اس کے لئے فرمایا۔
یایستوی منکم من انفق من قبل الفتح وقاتل یعنی اجر کے مستحق تو دونوں ہی ہیں لیکن ایک گروہ کا رتبہ دوسرے گروہ سے لازماً بلند تر ہے کیونکہ اس نے زیادہ سخت حالات میں اللہ تعالیٰ کی خاطر وہ خطرات مول لئے جو دوسرے گروہ کو درپیش نہ تھے اس نے ایسی حالت میں مال خرچ کیا کہ جب دور دور کہیں یہ امکان نظر نہ آتا کہ کبھی فتوحات سے اس خرچ کی تلافی ہوجائے گی اور اس نے ایسے نازک دور میں کفار سے جنگ مول لی جب ہر قسم یہ اندیشہ تھا کہ دشمن غالب آ کر اسلام کا نام لینے والوں کو پیس ڈالیں گے۔
مجاہد و قتادہ وغیرہ کہتے ہیں کہ یہاں فتح سے مراد فتح مکہ ہے اور عامر و شعبی وغیرہ کہتے ہیں کہص لح حدیبیہ مراد ہے پہلے قول کو اکثر مفسرین نے اختیار کیا ہے۔
اولئک اعظم درجۃ من الذین انفقوا من بعد وقاتلوا اس سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام ؓ کے درمیان شرف و فضل میں تفاوت تو ضرور لیکن تفاوت رجات کا مطلب یہ نہیں کہ بعد میں مسلمان ہونے والے صحابہ کرام ؓ ایمان وا خلاق کے اعتبار سے بالکل گئے ذرے تھے جیسا کہ بعض حضرات امیر معاوضہ ؓ اور ان کے والد حضرت ابوسفیان ؓ ایمان و اخلاق کے اعتبار سے بالکل گئے گذرے تھے جیسا کہ بعض حضرات امیر معاویہ ؓ اور ان کے والد حضرت حضرت ابوسفیان ؓ اور دیگر بعض ایسے ہی جلیل القدر صحابہ ؓ ت عالیٰ عنہم کے بارے میں ہر زہ سرائی یا انہیں طلقاء کہہ کر ان کی تفقیص و اہانت کرتے ہیں، نبی ﷺ نے تمام صحابہ کرام ؓ کے بارے میں فرمایا لاتسبوا اصحابی میرے اصحاب پر سب و ستم نہ کرو قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر اللہ کی راہ میں خرچ کرے وہ میرے صحابی کے خرچ کئے ہوئے ایک مد بلکہ نصف مد کے برابر بھی نہیں تھا۔
Ayahs 57:11–15ترجمہ :۔ کون شخص ہے کہ جو اپنا مال اللہ کو قرض حسن کے طور پردے یعنی اللہ کے راستہ میں خرچ کرے ؟ اس طریقہ پر کہ (خالص) اللہ کے سوا خرچ کرے پھر اللہ تعالیٰ اس قرض کو اس شخص کے لئے بڑھاتا چلا جائے اور ایک قرأت میں فیضعفۃ تشدید کے ساتھ ہے دس گنے سے سات سو گنے تک زیادہ جیسا کہ سورة بقرہ میں مذکور ہو، اور اس کے لئے (اجر) بڑھانے کے ساتھ پسندیدگی کا اجر بھی ہے (یعنی) اس اجر کے ساتھ رضا مندی اور قبولیت ہے، اس دن کا ذکر کیجیے کہ جس دن آپ مومنین اور مومنات کو دیکھیں گے کہ ان کا اجر ان کے سامنے ہے اور نو ران کے داہنی جانب دوڑتا ہوگا اور ان سے کہا جائے گا آج تمہارے لئے ایسی جنت کی یعنی اس میں داخل ہونے کی خوشخبری ہے کہ جس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ بڑی کامیابی ہے، جس دن منافق مرد اور منافق عورتیں ایمان والوں سے کہیں گے (ذرا) ہماری طرف (بھی) دیکھ لو اور ایک قرأت میں ہمزہ کے فتحہ اور ظاء کے کسرہ کے ساتھ ہے (یعنی ذرا ہمارا بھی) انتظا کرلو کہ ہم بھی تمہارے نور سے کچھ روشنی حاصل کرلیں ان سے استہزاء کے طور پر کہا گیا جائے گا تم اپنے پیچھے لوٹ جائو اور روشنی تلاش کرو تو وہ لوٹ جائیں گے، تو ان کے اور مومنین کے درمیان ا کی حائل کردی جائے گی کہا گیا ہے کہ وہ اعراف کی دیوار ہوگی اس کا ایک دروازہ ہوگا اس کے اندرونی حصہ میں مومنین کی جانب رحمت ہوگی اور اس کے باہر منافقین کی جانب عذاب ہوگا۔ لوگ چلا کر ان سے کہیں گے کیا طاعت میں ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے ؟ وہ کہیں گے ہاں تھے تو سہی لیکن تم نے خود کو نفاق کے فتنہ میں پھنسا رکھا تھا اور مومنین پر حوادثات کے منتظر رہا کرتے تھے اور دین اسلام میں شبہ کرتے تھے اور تمہیں تمہاری (فضول) تمنائوں نے دھوکے میں رکھا یہاں تک کہ اللہ کا حکم یعنی موت آپہنچی، اور تمہیں اللہ کے بارے میں ایک دھوکہ باز شیطان نے دھوکے ہی میں رکھا، الغرض ! آج تم سے نہ فدیہ قبول کیا جائے گا یاء اور تاء کے ساتھ اور نہ کافروں سے، تم سب کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہی تمہارے لائق ہے (یعنی) تمہارے لئے اولیٰ ہے اور وہ برا ٹھکانہ ہے کیا ایمان والوں کے لئے اب تک وہ وقت نہیں آیا ؟ یہ آیت صحابہ کرام کی شان میں اس وقت نازل ہوئی کہ جب وہ مذاق، دل لگی زیادہ کرنے لگے کہ ان کے قلوب ذکر الٰہی سے اور اس حق یعنی قرآن سے نرم ہوجائیں جو نازل ہوچکا ہے (نزل) تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے ان لوگوں کے مانند کہ جن کو ان سے پہلے کتاب دی گئی اور وہ یہود و نصاریٰ ہیں پھر جب ان پر ایک طویل زمانہ گذر گیا یعنی ان کے اور ان کے انبیاء کے درمیان (زمانہ دراز گذر گیا) تو ان کے قلوب سخت ہوگئے اللہ کے ذکر کے لئے نرم نہ رہے اور ان میں بہت سے فاسق ہیں یقین مانو مومنین مذکورین کو خطاب ہے کہ اللہ ہی زمین کو گھاس اگا کر اس کی موت کے بعد اس کو زندہ کردیتا ہے چناچہ تمہارے قلوب کے ساتھ بھی ایسا ہی کرے گا ان کو خشوع کی جانب لوٹا کر ہم نے تمہارے لئے اپنی آیتیں بیان کردیں جو ہر طریقہ سے ہماری قدرت پر دلالت کرتی ہیں تاکہ تم سمجھو، بلاشبہ صدقہ دینے والے مرد یہ تصدق سے ماخوذ ہے تاء کو صاد میں ادغام کردیا گیا ہے یعنی وہ لوگ جنہوں نے صدقہ کیا اور وہ عوریں جنہوں نے صدقہ کیا اور ایک قرأت میں صاد کی تخفیف کے ساتھ ہے، تصدیق سے ماخوذ ہے، اور مراد ایمان ہے اور جو خلوص کے ساتھ قرض حسن دے رہے ہیں یہ تغلیبا ذکور اور اناث دونوں کی طرف راجع ہے اور فعل کا عطف اس اسم پر ہے جو الف لام کے صلہ میں ہے اس لئے (جائز ہے) کہ اسم یہاں فعل کے معنی میں واقع ہو، تصدیق کے ذکر کے بعد قرض کو اس کی صفت کے ساتھ ذکر کرنا تصدق کو مقید کرانے کے لئے ہے ان کا قرض ان کے لئے بڑھا دیا جائے گا اور ایک قرأت میں یضعف تشدید کے ساتھ ہے اور ان کے لئے پسندیدہ اجر ہے اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں ایسے ہی لوگ اپنے رب کے نزدیک صدیق یعنی تصدیق میں مبالغہ کرنے والے ہیں اور تکذیب کرنے والی امم سابقہ پر گواہ ہیں ان کے لئے ان کا اجر اور ان کا نور ہے اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری وحدانیت پر دلالت کرنے والی آیتوں کو جھٹلایا ان کے لئے جہنم کی آگ ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسناً اس میں ترکیب کے اعتبار سے چند صورتیں ہیں (1) من استفہامیہ مبتداء ذا اس کی خبر، اور الذی یقرض اللہ اس سے بدل یا صفت (2) من ذا مبتداء اور الذی اس کی خبر (3) ذا مبتداء موصوف اور الذی یقرض اللہ موصول صلہ سے مل کر صفت اور من خبر مقدم، اس میں معنی استفہام ہونے کی وجہ سے مقدم کردیا۔
قولہ : یضاعفہ فاء کے بعد ان مقدرہ کے ذریعہ جواب استفہام ہونے کی وجہ سے منصوب، استیناف یا یقرض پر عطف ہونے کی وجہ سے مرفوع۔
قولہ : رضا واقبال معطوف علیہ معطوف سے مل کر مقترک کا فاعل۔
قولہ : اذکر مفسر علام نے اذکر محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ یوم فعل محذوف کا ظرف ہے، یعنی اس دن کو یاد کرو الخ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اجر کریم کا ظرف ہو یعنی اس دن میں اجر کریم ہے اور تیسری صورت یہ بھی جائز ہے کہ یسعیٰ کا ظرف ہو یعنی تو دیکھے گا کہ مومنین و مومنات کا نور اس دن میں ان کے سامنے دوڑے گا۔
قولہ : یسعی نورھم جملہ حالیہ ہے مگر یہ اس صورت میں ہے کہ یسعی کو یوم میں عامل نہ قرار دیا جائے۔
قولہ : ویکون، یکون کو مقدر مان کر اس احتمال کو ختم کردیا کہ وبآیمانھم، یسعی کے ماتحت ہو اور معنی یہ ہوں کہ نور ان کی داہنی جانب ان سے دور ہوگا، اس لئے کہ ایمان سے جمیع جہات مراد ہیں۔
قولہ : دخولھا اس کو محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ جنت حذف مضاف کے ساتھ ہے بشرکم مبتداء کی خبر ہے تقدیر عبارت یہ ہے بشکرکم الیوم بدخول الجنۃ
قولہ : ذلک ای دخول الجنۃ
قولہ : یوم یقول المنافقون یہ یوم تری سے بدل ہے۔
قولہ : لہ باب باطنہ فیہ الرحمۃ لہ باب جملہ ہو کر نور کی صفت اول ہے اور باطنہ فیہ الرحمۃ صفت ثانی ہے۔
قولہ : الغرور بالفتح بمعنی شیطان کما قال المفسر و بالضم شذوذا مصدر بمعنی اغتراء بالباطل
قولہ : ماوا کم النار ماواکم خبر مقدم النار مبتداء مئوخر اس کا عکس بھی جائز ہے۔
قولہ : ھی مولاکم، مولان مصدر بھی ہوسکتا ہے ای ولایتکم ای ذات ولایتکم یا بمعنی مکان ہو ای مکان ولایتکم یا بمعنی اولی ہوسکتا ہے جیسا کہ ھو مولاہ ای اولیھی ناصر کم وہ آگ ان کی ناصر و مددگار ہے اور یہ استھزاء ہے
قولہ : الم یان للذین امنوا جمہور کے نزدیک یان سکون ہمزہ اور نون کے کسرہ کے ساتھ انی یانی (رمی یرمیض کا مضارع واحد مذکر غائب ہے، پھر یاء کو جو کہ عین کلمہ ہے التقاء ساکنین کی وجہ سے حذف کردیا۔
قولہ : راجع الی الذکور ولاناث اس عبارت کے اضافہ کا مقصد اسبات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ واقرضوا اللہ کا عطف دونوں فعلوں یعنی المصدقین و المصدقات پر ہے صرف اول پر ماننے کی صورت میں صلہ کے تام ہوئے بغیر عطف لازم آئے گا جو کہ جائز نہیں ہے۔
سوال : اقرضوا اللہ کا عطف المصدقین پر ہے، جو کہ اسم ہے، لہٰذا فعل کا عطف اسم پر لازم آتا ہے جو کہ درست نہیں ہے۔
جواب : جس اسم پر الف لام بمعنی الذی داخل ہو تو وہ اسم بھی فعل کے حکم میں ہوجاتا ہے لہٰذا عطف درست ہے۔
قولہ : وذکر القرض بوصفہ اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک اعتراض کا جواب ہے۔
اعتراض : المصدقین تشدید کے ساتھ بمعنی صدقہ دینے والے ہے، پھر اس کے بعد فرمایا واقرضوا اللہ قرضاً حسناً اس کا مطلب بھی صدقہ کرنا ہے تو المصدقین کے ذکر کرنے کے بعد واقرضوا اللہ قرضاً حسناً کے ذکر کی کیا ضرورت رہتی ہے تو تکرار ہے۔
جواب : جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ اس اضافہ کا مقصد صدقہ کو صفت حسن کے ساتھ متصف کرنا ہے یعنی صدقہ اخلاص اور للھیت کے ساتھ دیا جائے، لہٰذا یہ تکرار بےفائدہ نہیں۔
قولہ : والذین امنوا باللہ ورسلہ اولئک ھم الصدیقون، والذین آمنوا مبتداء، اولئک مبتداء ثانی اور ھم میں یہ بھی جائز ہے کہ مبتداء ثالث ہو اور الصدیقون اس کی خبر مبتداء خبر سے مل کر خبر مبتداء ثانی کی اور مبتداء ثانی اپنی خبر سے مل کر خبر ہوئی مبتداء اول کی اور یہ بھی جائز ہے کہ ھم ضمیر فصل ہو اور اولئک اور اس کی خبر مل کر مبتداء اول کی خبر ہو۔
تفسیر و تشریح
من ذا الذی یقرض اللہ قرضاً حسناً الخ یہ وہ عجیب و غریب، پر تاثیر، درد انگیز الفاظ ہیں کہ جو کفر کے مقابل ہمیں اسلام کی جانی اور مالی نصرت کی اپیل کے لئے استعمال کئے گئے ہیں، خدا کی یہ شان کریمی ہی تو ہے کہ آدمی اگر اس کے عطا کئے ہوئے مال کو اسی کی راہ میں صرف کرے تو اسے وہ اپنے ذمہ قرض قرار دے بشرطیکہ وہ قرض حسن ہو لوجہ اللہ خلوص نیت کے ساتھ ہو، اس قرض کے متعلق اللہ کے دو وعدے ہیں ایک یہ کہ وہ اس کو کئی گنا بڑھا کر واپس کر دے گا دوسرے یہ کہ وہ اس پر اپنی طرف سے بہترین اجر بھی عطا کرے گا۔
انفاق فی سبیل اللہ کا عجیب واقعہ :
حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی اور آپ ﷺ کی زبان مبارک سے لوگوں نے اسے سنا تو حضرت ابوالحداح انصاری ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا اللہ تعالیٰ ہم سے قرض چاہتا ہے ؟ حضور نے فرمایا ہاں ! اے ابو الحد اح ! انہوں نے کہا ذرا اپنا ہاتھ دکھایئے، آپ نے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھا دیا، انہوں نے آپ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا، میں نے اپنے رب کو اپنا باغ قرض دیدیا، حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ اس باغ میں کھجور کے چھ سو درخت تھے، اسی میں ان کا گھر تھا وہیں ان کے بال بچے رہتے تھے، رسول اللہ ﷺ سے یہ بات کر کے وہ سیدھے گھر پہنچے اور بیوی کو پکار کر کہا دحداح کی ماں باہر نکل آئو میں نے یہ باغ اپنے رب کو قرض دیدیا ہے، وہ بولیں تم نے نفع کا سودا کیا، دحداح کے باپ ! اور اسی وقت اپنا سامان اور اپنے بچے لے کر باغ سے نکل گئیں (ابن ابی حاتم) اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ مخلص اہل ایمان کا طرز عمل اس وقت کیا تھا ؟ اور اسی سے یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ وہ کیسا قرض حسن ہے جسے کئی گنا بڑھا کر واپس دینے اور پھر اوپر سے اجر کریم عطا کرنیکا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا۔
یوم تری المومنین والمومنت (الآیۃ) ” اس دن “ سے مراد قیامت کا دن ہے اور یہ نور عطا ہونے کا معاملہ پل صراط پر چلنے سے کچھ پہلے پیش آئے گا، میدان حشر سے جس وقت پل صراط پر جائیں گے، کھلے کافر تو پل صراط تک پہنچنے
سیے پہلے ہی جہنم میں دھکیل دیئے جائیں گے، البتہ کسی بھی نبی کے سچے یا کچے امتیوں کو پل صراط پر چلنے سے پہلے روشنی عطا کی جائے گی، وہاں روشنی جو کچھ بھی ہوگی صالح عقیدے اور صالح عمل کی ہوگی، ایمان کی صداقت اور کردار کی پاکیزگی ہی نور میں تبدیل ہوجائے گی، جس شخص کا عمل جتنا تابندہ ہوگا اس کی روشنی اتنی ہی زیادہ تیز ہوگی اور جب وہ محشر سے جنت کی طرف چلیں گے تو ان کی روشنی ان کے سامنے اور داہنی جانب ہوگی، اس کی بہترین تشریح قتادہ ؓ کی ایک مرسل روایت میں ہے، جس میں وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی کا نور اتنا تیز ہوگا کہ جتنی مدینہ سے عدن تک کی مسافت ہے اور کسی کا نور مدینہ سے صنعاء کی مسافت کی مقدار ہوگا اور کسی کا اس سے کم یہاں تک کہ کوئی مومن ایسا بھی ہوگا جس کا نور اس کے قدموں سے آگے نہ بڑھے گا۔ (ابن جریر ملخصاً )
حضرت ابوامامہ باہلی کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ظلمت شدیدہ کے وقت مومنین اور مومنات کو نور تقسیم کیا جائے گا تو منافقین اس سے بالکل محروم رہیں گے۔
مگر طبرانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے ایک مرفوع روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” پل صراط کے پاس اللہ تعالیٰ ہر مومن و منافق کو نور عطا کرے گا جب یہ پل صراط پر پہنچ جائیں گے تو منافقین کا نور سلب کرلیا جائے گا۔ “
بہرحال خواہ ابتداء ہی سے منافقین کو نور نہ ملا ہو یا مل کر بجھ گیا ہو، اس وقت مومنین سے درخواست کریں گے کہ ذرا ٹھہرو ہم بھی تمہارے نور سے کچھ فائدہ اٹھا لیں، کیونکہ ہم دنیا میں بھی نماز، زکوۃ، حج، جہاد سب چیزوں میں تمہارے شریک رہا کرتے تھے، تو ان کو ان درخواست کا جواب نامنظوری کی شکل میں دیا جائے گا، اور ان سے کہا جائے گا کہ روشنی پیچھے تلاش کرو پیچھے تقسیم ہو رہی ہے، وہ لوگ روشنی حاصل کرنے کے لئے پیچھے کی طرف پلٹیں گے تو انکے اور جنتیوں کے درمیان ایک دیوار حائل کردی جائے گی۔
سوال : حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابوامامہ باہلی کی روایتوں میں بظاہر تعارض معلوم ہوتا ہے ان میں تطبیق کی کیا صورت ہے ؟
جواب :۔ تفسیر مظہری میں دونوں روایتوں کے درمیان تطبیق اس طرح بیان کی گئی ہے کہ اصل منافقین جو کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں تھے ان کو تو شروع ہی سے کافر کی طرح کوئی نور نہ ملے گا، مگر وہ منافقین جو اس امت میں رسول اللہ ﷺ کے بعد ہوں گے جن کو منافق کا نام تو نہیں دیا جاسکتا اس لئے کہ وحی کا سلسلہ منقطع ہوچکا ہے لہٰذا کسی کے لئے قطعی طور پر منافق کہنا جائز نہیں ہے، ہاں البتہ اللہ تعالیٰ دلوں کے حال سے واقف ہے سے معلوم ہے کہ کون منافق ہے اور کون مومن ؟ لہٰذا سلب نور کا یہ معاملہ ایسے ہی لوگوں کے ساتھ ہوگا جو اللہ تعالیٰ ک علم میں منافق ہوں گے۔ (ملخصاً )
Ayah 57:16الم یان للذین امنوا ان تخشع قلوبھم لذکر اللہ (الآیۃ) الفاظ اگرچہ عام ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ خطاب عام مومنین کو ہے، مگر تمام مسلمان مراد نہیں ہیں بلکہ مسلمانوں کا وہ خاص گروہ مراد ہے کہ جو زبانی ایمان کا اقرار کر کے رسول اللہ ﷺ کے ماننے والوں میں شامل ہوگیا تھا اس کے باوجود اسلام کے درد سے اس کا دل خالی تھا، آنکھوں سے دیکھ رہا تھا کہ کفر کی تمام طاقتیں اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹانے پر تلی ہوئی ہیں، چاروں طرف سے انہوں نے اہل ایمان پر نرغہ کر رکھا ہے عرب کی سر زمین میں جگہ جگہ مسلمانوں کو تختہ مشق بنایا جا رہا ہے، گوشے گوشے سے مظلوم مسلمان سخت بےسروسامانی کی حالت میں پناہ لینے کے لئے مدینے کی طرف بھاگے چلے آرہے ہیں، مخلص مسلمانوں کی کمر ان مظلوموں کو سہارا دیتے دیتے ٹوٹی جا رہی ہے اور دشمن کے مقابل ہمیں بھی یہی مخلص مومن سربکف ہیں مگر یہ سب کچھ دیکھ کر بھی ایمان کا دعویٰ کرنے والا یہ گروہ ٹس سے مس نہیں ہو رہا تھا اس پر ان لوگوں کو شرم دلائی جا رہی ہے کہ تم کیسے ایمان والے ہو ؟ اسلام کے لئے حالات نزاکت کی اس حد کو پہنچ چکے ہیں، کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ اللہ کا ذکر سن کر تمہارے دل پگھلیں اور اس کے دین کے لئے تمہارے دلوں میں ایثار و قربانی اور سرفروشی کا جذبہ پیدا ہو ؟ کیا ایمان لانے والے ایسے ہی ہوتے ہیں کہ اللہ کے دین پر برا وقت آئے اور وہ اس کی ذرا سی ٹیس بھی اپنے دل میں محسوس نہ کریں، اللہ کے نام پر انہیں پکارا جائے اور وہ اپنی جگہ سے ہلیں تک نہیں، اللہ اپنی نازل کردہ کتاب میں خود چندے کی اپیل کرے اور اسے اپنے ذمہ قرض قرار دے اور صاف صاف یہ سنا دے کہ ان حالات میں جو اپنے مال کو میرے دین سے عزیز تر رکھے گا وہ مومن نہیں بلکہ منافق ہوگا، اس پر بھی ان کے دل نہ خدا کے خوف سے کا نپیں اور نہ اس کے آگے جھکیں، یعنی ایمان و ی ہے کہ دل نرم ہو نصیحت اور خدا کی یاد کا اثر جلد قبول کرے شروع میں اہل کتاب یہ باتیں اپنے پیغمبروں سے پاتے تھے، مدت کے بعد ان پر غفلت چھا گئی، دل سخت ہوگئے، وہ بات نہ رہی، اکثروں نے نہایت سرکشی اور نافرمانی شروع کردی، اب مسلمانوں کی باری آئی ہے کہ وہ اپنے پیغمبر کی صحبت میں رہ کر نرم دلی، انقیاد کامل اور خشوع لذکر اللہ کی صفات سے متصف ہوں اور مقام بلند پر پہنچیں جہاں کوئی امت نہیں پہنچی۔
Ayahs 57:17–19اعلموا ان اللہ یحی الارض بعد موتھا قرآن مجید میں متعدد مقامات پر نبوت کے نزول کو بارش کی برکات سے تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ انسانیت پر اس کے وہی اثرات مرتب ہوتے ہیں جو زمین پر بارش کے ہوتے ہیں جس طرح مردہ پڑی ہوئی زمین باران رحمت کا ایک چھینٹا پڑتے ہی لہلا اٹھتی ہے، اسی طرح جس ملک میں اللہ کی رحمت سے ایک نبی مبعوث ہوتا ہے اور وحی کتاب کا نزول شروع ہوتا ہے وہاں مری ہوئی انسانیت یکایک جی اٹھتی ہے۔
Ayah 57:20ترجمہ : خوب جان لو دنیا کی زندگی صرف کھیل تماشا زینت اور اپس میں فخر (غرور) اور مال و اولاد کو ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر جتلانا ہے یعنی ان میں مشغول ہوجانا ہے، لیکن طاعت اور وہ چیزیں جو اس میں معاون ہوں (مثلاً ) توبہ، امور آخرت سے ہیں (مذکورہ چیزوں کی مثال) ان چیزوں کی مثال تیرے لئے تعجب خیز ہونے میں اور (جلدی) مضمحل ہونے میں ایسے ہے جیسے بارش سے پیدا ہونے والی کھیتی کسانوں کو خوش کرتی ہے پھر جب وہ خشک ہوجاتی ہے تو تم اس کو زرد دیکھتے ہو پھر وہ چورہ چورہ ہوجاتی ہے پھر ہوا کے ذریعہ نیست و نابود ہوجاتی ہے اور آخرت میں اس کے لئے سخت عذاب ہے جو آخرت پر دنیا کو ترجیح دیتا ہے اور اللہ کی طرف سے نصرت اور خوشنودی ہے اس شخص کے لئے جس نے دنیا کو آخرت پر ترجیح نہیں دی اور دنیا کی زندگی یعنی اس سے تمتع حاصل کرنا محض دھوکے کا سامان ہے تم اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور جنت کی طرف دوڑو جس کی وسعت آسمان اور زمین کے برابر ہے اگر ایک کو دوسرے کے ساتھ ملا لیا جائے اور عرض سے مراد وسعت ہے (نہ کہ چوڑائی) یہ ان کے لئے بنائی گئی ہے جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہے عطا کرے اور اللہ بڑے فضل والا ہے نہ دنیا میں کوئی مصیبت آتی ہے خشک سالی وغیرہ اور نہ خاص تمہارے نفس میں جیسا کہ مرض اور بچے (وغیرہ) کا فوت ہوجانا، مگر یہ کہ وہ کتاب یعنی لوح محفوظ میں لکھی ہوتی ہے ان نفوس کو پیدا کرنے سے پہلے اور نعمت میں بھی ایسا ہی کہا جائے گا (جیسا کہ مصیبت کے بارے میں کہا گیا) یہ کام اللہ کے لئے بالکل آسان ہے (لکیلا) میں کی فعل کا ناصب ہے ان کے معنی میں یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کی خبر دی تاکہ تم فوت شدہ چیز پر رنجیدہ نہ ہو اور نہ تم اس نعمت پر جو تم کو عطا کی گئی ہے اترانے کے طور پر خوشی کا اظہار کرو بلکہ نعمت پر شکریہ کے طور پر اظہار مسرت کرو (اتکم) مد کے ساتھ اعطاکم کے معنی میں ہے اور قصر کے ساتھ جاء کم منہ کے معنی میں ہے اور اللہ تعالیٰ عطا کردہ نعمت پر کسی اترانے والے اور اس نعمت کی وجہ سے لوگوں پر فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا اور جو لوگ خود (بھی) اپنے اوپر واجبات میں بخل کرتے ہیں اور اس میں لوگوں کو (بھی) بخل کی تعلیم دیتے ہیں تو ان کے لئے سخت وعید ہے (سنو) جو شخص بھی اپنے اوپر واجبات سے منہ پھیرے بلا شبہ اللہ ھو ضمیر فصل ہے اور ایک قرأت ھو کے سقوط کے ساتھ ہے، بےنیاز ہے اور اپنے اولیائ کی حمد کا سزا وار ہے یقیناہم نے اپنے رسول ملائکہ کو اپنے انبیاء کی طرف ججج قاطعہ دیکر بھیجا اور ہم نے ان کے ساتھ کتاب بمعنی کتب اور ترازو (یعنی) عدل کو نازل کیا تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں اور ہم نے لوہے کو اتارا یعنی معاون سے نکالا جس میں شدید ہیبت ہے اس کے ذریعہ قتلا کیا جاتا ہے اور لوگوں کے لئے (اور بھی) بہت سے فوائد ہیں اور اس لئے بھی تاکہ اللہ مشاہدہ کے طور پر جان لے (لیعلم) کا عطف لیقوم الناس پر ہے کہ کون اس کی اور اس کے رسول کے بغیر دیکھے مدد کرتا ہے ؟ (یعنی) کون اس کے دین کی لوہے کے آلات وغیرہ کے ذریعہ مدد کرتا ہے ؟ (بالغیب) ینصرہ کی ہاء سے حال ہے یعنی دنیا میں ان سے غائبانہ طور پر، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اس کی مدد کرتے ہیں حالانکہ اس کو دیکھتے نہیں ہیں، بیشک اللہ تعالیٰ قوت والا اور زبردست ہے اس کو نصرت کی حاجت نہیں لیکن جو نصرت کرے گا اسی کو فائدہ دے گی۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : ای الاشتغال فیھا اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مال اور اولاد فی نفسہ بری چیز نہیں ہیں بلکہ ان میں انہماک و اشتعال ناپسندیدہ اور ممنوع ہے۔
قولہ : ایھی اس میں اشارہ ہے کہ فی اعجابھاھی مبتداء محذوف کی خبر ہے۔
قولہ : الزراع اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کفار کافر بمعنی زارع (کسان) کی جمع ہے، حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا المراد بالکفار الزراع زہری نے کہا ہے کہ عرب زارع کو کافر کہتے ہیں اس لئے کہ وہ بیج کو مٹی میں چھپاتا ہے یعنی یکفر بمعنی یستر ہے۔
قولہ : التمتع فیھا کے اضافہ کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ ما الحیوۃ الدنیا حذف مضاف کے ساتھ مبتداء ہے تاکہ متاع الغرور کا حمل حیوۃ الدنیا پر ہو سکے۔
قولہ : والعرض، السعۃ یہ اس سوال کا جواب ہے کہ جنت کے عرض یعنی چوڑائی کا ذکر کیا گیا ہے مگر طول (لمبائی) کا ذکر نہیں کیا۔
جواب :۔ جواب کا ماحصل یہ ہے کہ یہاں العرض سے مراد چوڑائی نہیں ہے جو کہ طول کا مقابل ہے بلکہ مطلقاً وسعت مراد ہے جس میں طول و عرض دونوں شامل ہیں۔
قولہ : ویقال فی النعمۃ کذالک یعنی جس طرح نفس و مال میں مصیبتیں اور بلائیں منجانب اللہ آتی ہیں اسی طرح نعمتیں اور راحتیں بھی اسی کی تقدیر اور حکم سے آتی ہیں۔
قولہ : منہ ای من فضل اللہ
قولہ : لہ وعید شدید اس سے اشارہ ہے کہ الذین یبخلون الخ مبتداء ہے اس کی خبر لھو و عید شدید محذوف ہے۔
قولہ : ومن یتول، من شرطیہ ہے اس کا جواب محذوف ہے اور وہ فالو بال علیہ ہے۔
تفسیر و تشریح
اعلموانما الحیوۃ الدنیا لعب و لھو وزینۃ و تفاخر بینکم وتکاثر فی الاموال والا ولاد سابقہ آیات میں اہل جنت کے اور اور اہل جہنم کے حالات کا بیان تھا، جو آخرت میں پیش آئیں گے اور دائمی ہوں گے اور آخرت کی نعمتوں سے محرومی اور عذاب میں گرفتاری کا بڑا سبب انسان کے لئے دنیا کی فانی لذتیں اور ان میں انہماک، آخرت سے غفلت کا سبب ہے، اس لئے ان آیات میں اس فانی دنیا کا ناقابل اعتماد ہونا بیان کیا گیا ہے اور اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ یہ وہ حقیر اور ناقابل بھروسہ چیزیں ہیں کہ ان کی طرف مائل ہون ابھی عقل و دانشمندی کے خلاف ہے چہ جائیکہ ان پر مضمئن ہوجانا۔
اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے غفلت کے اسباب کو واقعاتی ترتیب کے ساتھ نہایت پر تاثیر طریقہ پر مشاہداتی مثال کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔
ابتدائے عمر سے آخر عمر تک جو کچھ دنیا میں ہوتا ہے اور جن میں دنیا دار منہمک اور مشغول اور اس پر خوش رہتے ہیں اس کا بیان ترتیب کے ساتھ یہ ہے کہ دنیا کی زندگی کا خلاصہ بہ ترتیب چند چیزیں اور چند حالات ہیں ان حالات کی قرآنی اور واقعاتی ترتیب یہ ہے، پہلے لعب پھر لہو، پھر زینت، پھر مال و اولاد کی کثرت پر فخر
لعب و کھیل ہے کہ جس میں فائدہ مطلق پیش نظر نہ ہو، جیسے بہت چھوٹے بچوں کی حرکتیں کہ ان میں سوائے تعب و مشقت کے کوئی فائدہ نہیں اور لہو وہ کھیل ہے جس کا اصل مقصد تو تفریح اور دل بہلانا اور وقت گذاری کا مشغلہ ہوتا ہے ضمنی طور پر کوئی ورزش یا دوسرا فائدہ بھی اس میں حاصل ہوجاتا ہے جیسے بڑے بچوں کے کھیل مثلاً گیند، بلا، تیراکی یا نشانہ بازی وغیرہ، حدیث میں نشانہ بازی اور تیر نے کی مشق کو اچھا کھیل فرمایا ہے، زینت، بدن اور لباس وغیرہ کی ظاہری ٹیپ ٹاپ اور بنائو سنگار، اس سے کوئی شرف ذاتی حاصل نہیں ہوتا اور نہ اس میں اضافہ ہوتا، ہر انسان اس دور سے گذرتا ہے۔
مطلب یہ کہ عمر کا بالکل ابتدائی حصہ تو خالص کھیل یعنی لعب میں گذرا، اس کے بعد لہو شروع ہوتا ہے، اس دور میں انسان لایعنی اور غیر اہم کاموں میں وقتک و ضائع کردیتا ہے، اس کے بعد اس کو اپنے تن بدن اور لباس کی زینت کی فکر ہونے لگتی ہے اس کے بعد تفاخر کا دور شروع ہوتا ہے ہر شخص میں اپنے ہمعصروں اور ہم عمروں سے آگے بڑھنے اور ان پر فخر جتلانے کا داعیہ پیدا ہوتا ہے اور وہ بزعم خود اپنے نسب اور خاندان اور ظاہری وجاہت پر فخر کرنے لگتا ہے جو پارینہ قصوں اور بوسیدہ ہڈیوں پر فخر اور پدرم سلطان بود کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔
انسان پر جتنے دور اس ترتیب سے آتے ہیں غور کرو تو ہر دور میں وہ اسی حال پر قانع اور اسی کو سب سے بہتر سمجھتا ہے، جب ایک دور سے دوسرے دور کی طرف منتقل ہوجاتا ہے تو سابقہ دور کی کمزوری اور لغویت سامنے آجاتی ہے، بچے ابتدائی دور میں جن کھیلوں کو اپنا سرمایہ زندگی اور سب سے بڑی دولت جانتے ہیں، اگر کوئی ان سے چھین لے تو ان کو ایسا ہی صدمہ ہوتا ہے جیسے کسی بڑے آدمی کا مال و اسباب اور کوٹھی بنگلہ چھین لیا جائے، لیکن اس دور سے آگے بڑھنے کے بعد اس کو حقیقت معلوم ہوجاتی ہے کہ جن چیزوں کو ہم نے اس وقت مقصود زندگی بنایا تھا وہ کچھ نہ تھیں، بچپن میں لعب پھر لہو میں مشغولیت رہی جوانی میں زینت اور تفاخر کا مشغلہ ایک مقصد بنا رہا، بڑھاپا آیا، اب مشغلہ تکا ثر فی الاموال والا ولاد کا ہوگیا کہ اپنے مال و دولت کے اعداد و شمار اور اولاد و نسل کی زیادتی پر خوش ہوتا رہے ان کو گنتا گنا تار ہے، مگر جیسے جو این کے زمانہ میں بچپن کی حرکتیں لغو معلوم ہونے لگی تھیں بڑھاپے میں پہنچ کر جوانی کی حرکتیں لغو اور ناقابل التفات نظر آنے لگیں اب بڑے میاں کی آخری منزل بڑھاپا ہے، اس میں مال کی بہتات، اولاد کی کثرت اور ان کے جاہ و منصب پر فخر سرمایہ زندگی کا مقصود اعظم بنا ہوا ہے، قرآن کریم کہتا ہے کہ یہ دور بھی گذر جانے والا ہے اگلا دور برزخ پھر قیامت ہے اس کی فکر کرو کہ وہی اصل ہے قرآن کریم نے اس ترتیب کے ساتھ ان سب مشاغل اور مقاصد دنیویہ کا زوال پذیر، ناقص، ناقابل اعتماد ہونا بیان فرما دیا اور آگے اس کو کھیتی کی ایک مثال سے واضح فرما دیا۔
دنیا کی ناپائیداری کی ایک مشاہداتی مثال :
کمثل غیث اعجب الکفار نباتہ ثم یھیج فتراہ مصفرا ثم یکون حطاماً اس آی میں دنیا کی بےثباتی اور ناپائیداری کو سرعت زوال میں کھیتی کی مثال سے سمجھایا ہے اس مثال سے جو بات ذہن نشین کرانے کی کوشش کی گئی وہ یہ ہے کہ یہ دنیا کی زندگی دراصل ایک عارضی زندگی ہے یہاں کی بہار بھی عارضی اور خزاں بھی عارضی، دل بہلاین کا سامان یہاں بہت کچھ ہے مگر وہ درحقیقت نہایت حقیر اور چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں، جنہیں آدمی کم عقلی کی وجہ سے بڑی چیز سمجھتا ہے حالانکہ یہاں بڑے سے بڑے اور لطف و لذت کا سامان جو حاصل ہونے ممکن ہیں وہ نہایت حقیر اور چند سال کی حیات مستعار تک محدود ہیں اور ان کا بھی حال یہ ہے کہ تقدیر کی ایک ہی گردش خود اسی دنیا میں ان سب پر جھاڑو پھیر دینے کے لئے کافی ہے۔
مثال کا خلاصہ :
اس مثال کا خلاصہ یہ ہے کہ جب باران رحمت کے چھینٹے مردہ اور خشک زمین پر پڑتے ہیں تو یہ مردہ زمین گل بوٹوں سے لالہ زار بن جاتی ہے اور نباتات کی روئیدگی سے ایسی ہری بھیر ہوجاتی ہے کہ معلوم ہوتا ہے قدرت نے زمرد سبز کا فرش بچھا دیا ہے، کاشتکار اپنی سرسبز اور شاداب لہلہاتی کھیتی کو دیکھ کر مست ومگن نظر آنے لگتا ہے، مگر آخر کار وہ پیلی اور زرد پڑنی شروع ہوجاتی ہے اور مرجھا کر خشک ہوجاتی ہے، آخر ایک دن وہ آتا ہے کہ بالکل چورا چورا سا ہوجاتی ہے، یہی مثال انسان کی ہے کہ شروع میں ترو تازہ حسین خوبصورت ہوتا ہے بچپن سے جوانی تک کے مراحل اسی طرح طے کرتا ہے، مگر آخر کار بڑھاپا آجاتا ہے جو آہستہ آہستہ بدن کی تازگی اور حسن و جمال سب ختم کردیتا یہ اور بالاخر مر کر مٹی ہوجاتا ہے، دنیا کی بےثباتی اور زوالپ ذیر ہونے کا بیان فرمانے کے بعد پھر اصل مقصود، آخرت کی فکر کی طرف توجہ دلانے کے لئے آخرت کے حال کا ذکر فرمایا۔
وفی الآخرۃ عذاب شدید و مغفرۃ من اللہ ورضوان یعنی آخرت میں ان دو حالوں میں سے ایک حال میں ضرور پہنچے گا، ایک حال کفارکا ہے ان کے لئے عذاب شدید ہے اور دوسرا حال مومنین کا ہے ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفرت اور رحمت ہے، عذاب شدید کے مقابلہ میں دو چیزیں ارشاد فرمائیں، غفرت اور رضوان جس میں اشارہ ہے کہ گناہوں اور خطائوں کی معافی ایک نعمت ہے جس کے نتیجے میں آدمی عذاب سے بچ جاتا ہے مگر یہاں صرف اتنا ہی نہیں بلکہ عذاب سے بچ کر پھر جنت کی دائمی نعمتوں سے بھی سرفراز ہونا ہے جس کا سبب رضوان یعنی حق تعالیٰ کی خوشنودی ہے۔
اس کے بعد دنیا کی حقیقت کو ان نایت مختصر الفاظ میں بیان فرمایا ہے وما الحیوۃ الدنیا الا متاع الغرور یعنی ان سب باتوں کو دیکھنے اور سمجھنے کے بعد ایک عاقل اور صاحب بصیرت انسان کے لئے اس نتیجے پر پہنچنا بالکل آسان ہے کہ دنیا دھوکے کی ٹٹی اور ناقابل اعتماد سرمایہ ہے اگر انسان اس بات کو سمجھتا ہے اور یقین رکھتا ہے تو اس کا لازمی اثر یہ ہونا چاہیے کہ دنیا کی لذتوں میں منہمک نہ ہو بلکہ آخرت کی فکر زیادہ کرے۔