Ayah 56:1ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے جب واقع ہونے والی واقع ہوگی یعنی قیامت قائم ہوگی اس کے وقوع کی کوئی نفس تکذیب کرنے والا نہیں ہوگا کہ اس کا انکار کر دے جیسا کہ دنیا میں اس کا انکار کیا تھا وہ بلند اور پست کرنے والی ہوگی وہ قوموں کی پستی کو ظاہر کرنے والی ہوگی، ان کے جہنم میں داخل ہونے کی وجہ سے اور دوسری قوموں کو بلند کرنے والی ہوگی ان کے جنت میں داخل ہونے کی وجہ سے جبکہ زمین پوری طرح ہلا دی جائے گی، یعنی شدید حرکت دیدی جائے گی اور پہاڑ ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے تو وہ منتشر غبار کے مانند ہوجائیں گے ثانی اذا پہلے اذا سے بدل ہے تم قیامت میں تین قسم کے گروہ ہوجائو گے تو دائیں ہاتھ والے اور وہ ہوں گے جن کے اعمال نامے ان کے داہنے ہاتھ میں دیئے جائیں گے (فاصحب المیمنۃ) مبتداء ہے اور ما اصحب المیمنۃ اس کی خبر، کیا ہی خوب ہوں گے دائیں ہاتھ والے ان کے جنت میں داخل ہونے کی وجہ سے ان کی تعظیم شان کا بیان ہے اور بائیں ہاتھ والے، بائیں طور کہ ان میں سے ہر ایک کا اعمال نامہ ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا کیا ہی برے ہیں بائیں ہاتھ والے ؟ ان کے دوزخ میں داخل ہونے کی وجہ سے، ان کی تحقیر شان کا بیان ہے اور خیر کی طرف سبقت کرنے والے اور وہ انبیاء (علیہم السلام) میں مبتداء ہے۔ سبقت کرنے والے ہیں ان کی تعظیم شان کے لئے تاکید ہے یہی لوگ ہیں مقرب نعمتوں والی جنت میں ایک بڑا گروہ تو پہلے لوگوں میں سے (ثلۃ من الاولین) مبتداء ہے یعنی گزشتہ امتوں میں سے ایک بہت بڑی جماعت اور بعد والوں میں سے ایک چھوٹا گروہ امت محمد ﷺ سے یہ ام ماضیہ میں سے اور اس امت میں سے سبقت کرنے والے ہیں ایسی مسہریوں پر ہوں گے جو سونے اور جواہرات کے تاروں سے بنی ہوئی ہوں گی ان پر ٹیک لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے خبر کی ضمیر سے دونوں حال ہیں ان کے پاس ایسے لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے یعنی لڑکوں ہی کی شکل میں رہیں گے، بوڑھے نہ ہوں گے، ایسے آبخورے لئے کہ جن میں دستہ نہیں ہوگا اور لوٹے لئے کہ جن میں دستہ اور ٹونٹی (نائزہ) ہوگی آمد و رفت کریں گے اور بہتی شراب سے بھرے ہوئے جام شراب لے کر (آمد و رفت کریں گے) کاس شراب پینے کے برتن کو کہتے ہیں یعنی ایسے چشمے کی شراب کہ جو کبھی منقطع نہ ہوگا نہ اس سے سر میں درد ہوگا اور عقل میں فتور آئے گا (ینزفون) زاء کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ، یہ نزف الشارب و انزف سے مشتق ہے، یعنی نہ ان کو درد سر لاحق ہوگا اور نہ عقل زائل ہوگی بخلاف دنیوی شراب کے اور ایسے میوے لئے ہوئے جو ان کو پسند ہوں اور پرندوں کا گوشت لئے ہوئے جو ان کو مرغوب ہو اور ان کے استفادے کے لئے بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں ہیں یعنی ایسی عورتیں کہ جن کی آنکھوں کی سیاہی نہایت سیاہ اور ان کی سفیدی نہایت سفید ہوگی (عیون) میں عین کو ضمہ کے عوض کسرہ دیا گیا، یاء کی موافقت کی وجہ سے، اس کا واحد عیناء ہے، جیسا کہ حمر کا واحد حمراء ہے اور ایک قرأت میں حور عین جر کے ساتھ ہے، جو محفوظ موتی کی طرح ہیں یہ صلہ ہے ان کے اعمال کا جزاء مفعول لہ ہے، یا مصدر ہے اور عامل محذوف ہے (تقدیر عبارت یہ ہے) جعلنا لھم ماذکر للجزاء (یا) جزیناھم نہ وہاں (یعنی جنت میں) بکواس یعنی فحش کلام سنیں گے اور نہ گناہوں کی بات سنیں گے، صرف اسلام ہی سلام کی آواز سنیں گے، (سلاماً سلاماً ) قلیلاً سے بدل ہے یعنی وہ اس آواز کو سنیں گے اور داہنے ہاتھ والے کیا ہی خوب ہیں داہنے ہاتھ والے وہ بغیر خار کے بیرون میں ہوں گے سدر بیر کے درخت کو کہتے ہیں اور تہ بہ تہ کیلوں میں ہوں گے طلح کیلے کے درخت کو کہتے ہیں جو نیچے سے اوپر تک لدے ہوئے ہوں گے اور دراز دراز ہمیشہ رہنے والے سایوں میں ہوں گے اور ہمیشہ جاری پانی میں ہوں گے اور بکثرت پھلوں میں ہوں گے نہ وہ کسی وقت ختم ہوں گے اور نہ ادائیگی ثمن کے لئے روکے جائیں گے اور مسہریوں پر اونچے اونچے غالیچوں پر ہوں گے ہم نے ان حوروں کو خاص طور پر بغیر ولادت کے بنایا ہے اور ہم نے ان کو باکرہ بنایا ہے یعنی ایسی دوشیزہ کہ جب بھی ان کے پاس ان کے شوہر آئیں گے تو ان کو دوشیزہ ہی پائیں گے اور کوئی تکلیف بھی نہ ہوگی، محبت کرنے والیاں ہم عمر ہوں گی (عربا) راء کے ضمہ اور سکون کے ساتھ دائیں ہاتھ والوں کے لئے (لاصحب الیمین) انشاناھن سے متعل ہے، یا جعلنا ھن سے متعلق ہے، (یعنی یہ سب چیزیں اصحاب الیمین کے لئے ہوں گی۔ )
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : اذا وقعت الواقعۃ، ” واقعہ “ قیامت کے متعدد ناموں میں سے ایک نام ہے، قیامت کو واقعہ اس لئے کہتے ہیں کہ وہ لامحالہ واقع ہوگی اذا وقعت الواقعۃ اذا میں چند وجوہ ہیں، ان میں سے بعض یہ ہیں، اذا ظرف محض کے لئے ہے یعنی اس میں شرط کے معنی نہیں ہیں اور اس کا عامل لیس ہے، اس کے معنی نفی پر متضمن ہونے کی وجہ سے گویا کہ کہا گیا ہے انتفی التکذیب وقت وقوعھا یا شرطیہ ہے اس کا جواب محذوف ہے، تقدیر عبارت یہ ہے اذا وقعت الواقعۃ کان کیت و کیت اور یہی اس میں عامل ہے۔
قولہ : لیس لوقعتھا لام، بمعنی فی ہے، مضاف محذوف ہے، تقدیر عبارت یہ ہے لیس نفس کاذبۃ توجد فی وقت وقوعھا کاذبۃ کا موصف نفس محذوف ہے۔
قولہ : خافضۃ رافعۃ، ھی مبتداء محذوف کی خبر ہے جیسا کہ مفسر علامہ نے ھی کا اضافہ کرکے اشارہ کردیا ہے۔ مظھرۃ کے لفظ سے اشارہ کردیا کہ خفض ورفع تو علم ازلی کے اعتبار سے مقدر ہوچکا ہے قیامت اس کو ظاہر کر دے گی۔
قولہ : اذرا رجت الارض یا تو اول اذا سے بدل ہے جیسا کہ مفسر رحمتہ اللہ تعالیٰ کا مختار ہے یا پھر ثانی اذا اولیٰ کی تاکید ہے یا پھر شرطیہ ہے اور اس کا عامل مقدر ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے بعد والا فعل (رجت) عامل ہو۔
قولہ : فاصحب المیمنۃ ما اصحب المیمنۃ، اصحاب المیمنۃ مبتداء اول اور ما استفہامیہ مبتداء ثانی اصحب المیمنۃ جملہ ہو کر مبتداء ثانی کی خبر، مبتداء ثانی اپنی خبر سے مل کر مبتداء اول کی خبر
سوال : خبر جب جملہ ہوتی ہے تو اس میں عائد ہونا ضروری ہوتا ہے یہاں عائد نہیں ہے۔
جواب : اسم ظاہر قائم مقام ضمیر کے ہے، لہٰذا عائد کی ضرورت نہیں بعد والے جملہ کی بھی یہی ترکیب ہوگی، ماگارچہ شئی کی حقیقت سے سوال کے لئے آتا ہے مگر کبھی اس کے ذریعہ صفت اور حالت کا سوال بھی مطلوب ہوتا ہے جیسا کہ تو کہے مازید فیقال عالم اور طبیب (روح المعانی)
قولہ : ثلۃ ضمہ کے ساتھ انسانوں کی بڑی جماعت اور فتحہ کے ساتھ بکریوں کا ریوڑ۔
قولہ : موضونۃ، الوضن بمعنی نضن الدارع زرہ بنانا، یہاں مطل قبننے کے معنی میں ہے۔
قولہ : علی سرر موضونۃ یہ ثلۃ من الاولین مستقرین کے متعلق ہو کر مبتداء کی خبر ہے اور متکئین علیھا متقبلین یہ دونوں مستقرین کی ضمیر سے حال ہیں۔
قولہ : یطوف علیھم یہ جملہ مستانفہ ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ مقربون سے حال ہوا لمعنی یدرو حولھم للخدمۃ غلمان لا یھرمون لایتغبمرون
قولہ : لایھرمون یہ مخلدون کی تفسیم ہے۔
قولہ : اباریق، ابریق کی جمع ہے آفتابہ (لوٹا) یہ برق سے مشتق ہے، آفتابے چونکہ بہت زیادہ چمکدار ہوں گے اس لئے اس کو ابریق کہتے ہیں۔
قولہ : حورعین مبتداء ہے اس کی خبر محذوف ہے، جس کی طرف مفسر عالمہ نے اپنے قول لھم للاستمتاع سے اشارہ کردیا ہے۔
قولہ : مخصود، خضد الشجر خضداء سے ماخوذ ہے (ض) کا کانٹے توڑنا۔
قولہ : بشمن اگر مفسر عالم بشی فرماتے تو زیادہ بہتر ہوتا، اسی لئے کہ صرف ثمن اور قیمت ہی کی وجہ سے نہیں بلکہ کسی بھی وجہ سے جنتیوں کو منع کیا جائے گا۔
تفسیر و تشریح
ربط : سورة رحمٰن اور اس سورت کے مضمون میں یکسانیت ہے اس لئے کہ دونوں سورتوں میں قیامت، دوزخ اور جنت کے حالات و اوصاف بیان کئے گئے ہیں اور بحر میں کہا ہے کہ دونوں میں مناسبت یہ ہے کہ دونوں سورتوں میں مجرمین کی سزا اور مطیعین کی جزاء کا ذکر ہے۔
سورة واقعہ کی خصوصی فضیلت :
الشعب میں ابن مسعود سے مروی ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے من قراء سورة الواقعۃ کل لیلۃ لم تصبہ فاقۃ جو شخص روزانہ رات کو سورة واقعہ تلاوت کرے گا اس کو فاقہ کی نوبت نہیں آئے گی، اور ابن عسا کرنے ابن عباس ؓ سے مرفوعاً اسی کے مثل روایت کیا ہے اور ابن مردویہ نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے سورة الواقعۃ سورة الغنی فاقرء وھا وعلموھا اولاد کم سورة واقعہ سورة غنا ہے تم اسے پڑھا کرو اور اپنے بچوں کو سکھائو۔ (روح المعانی)
عبداللہ بن مسعود کے مرض الوفات کا سبق آموز واقعہ :
ابن کثیر نے بحوالہ ابن عسا کر ابوظبیہ سے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے مرض وفات میں حضرت عثمان غنی ؓ عیادت کے لئے تشریف لے گئے، حضرت عثمان ؓ نے پوچھا ماتشت کی آپ کو کیا تکلیف ہے) تو فرمایا ذونوبی (اپنے گناہوں کی تکلیف ہے) پھر پوچھا ماتشتھی آپ کی کیا خواہش ہے تو فرمایا رحمۃ ربی یعنی اپنے رب کی رحمت چاہتا ہوں، پھر حضرت عثمان ؓ نے فرمایا، میں آپ کے لئے کسی طبیب کو بلاتا ہوں تو فرمایا الطبیب امرضنی (مجھے طبیب ہی نے بیمار کیا ہے) پھر حضرت عثمان نے فرمایا کہ میں آپ کے لئے بیت المال سے کوئی عطیہ بھیج دوں، تو فرمایا لا حاجۃ لی فیھا (مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں) حضرت عثمان نے فرمایا کہ عطیہ لے لیجیے، وہ آپ کے بعد آپ کی لڑکیوں کے کام آئے گا، تو فرمایا کیا آپ کو میری لڑکیوں کے بارے میں یہ فکر ہے کہ وہ فقر و فاقہ میں مبتلا ہوجائیں گی، مگر مجھے یہ فکر اس لئے نہیں کہ میں نے اپنی لڑکیوں کو تاکید کر رکھی ہے کہ ہر رات سورة واقعہ پڑھا کریں، کیو کہ میں نے روسلا للہ ﷺ سے سنا ہے من قرا سورة والواقعۃ کل لیلۃ لم تصبہ فاقۃ ابداً (ابن کثیر، معارف) (ترجمہ) جو شخص ہر رات سورة واقعہ پڑھے گا وہ کبھی فاقہ میں مبتلا نہ ہوگا۔
Ayah 56:2لیس لوقعتھا کاذبۃ اس آیت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں (1) اول یہ ہے کہ دنیا میں تو وقوع قیامت کی تکذیب کرنے والے بیشمار لوگ ویں مگر جب قیامت برپا ہوگی اور روز روشن کی طرح سامنے آکھڑی ہوگی تو کوئی متنفس یہ کہنے والا نہ ہوگا کہ یہ واقعہ پیش نہیں آیا ہے، مفسر علام نے بھی اسی مطلب کو اختیار کیا ہے (2) دوسرا یہ کہ اس کے وقوع کا ٹل جانا ممکن نہ ہوگا اور خدا کے سوا اس کو کوئی ٹال بھی نہیں سکتا مگر وہ ٹالے گا نہیں۔
Ayahs 56:3–6خافضۃ رافعۃ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ وہ سب کو لاٹ پلٹ اور تہ وبالا کر کے رکھ دے گی اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اٹھانے والی اور گران والی ہوگی، مطلب یہ کہ دنیا میں جو بلند مرتبہ اور عالی مقام سمجھے جاتے ہیں وہ قیامت کے روز ذلیل و خوار ہوں گے اور دنیا میں جو لوگ حقیر اور بےحیثیت سمجھے جاتے ہیں وہ عالی مقام اور سرخ رو ہوں گے یعنی قیامت کے روز عزت و ذلت کا فیصلہ ایک دوسری بنیاد پر ہوگا جو دنیا میں بڑی عزت والے بنے پھرتے ہیں وہ ذلیل ہوجائیں گے اور جو ذلیل سمجھے جاتے ہیں وہ عزت پائیں گے۔
میدان حشر میں حاضرین کی تین قسمیں ہوں گی
ایک جماعت تو وہ ہوگی جن کے اعمال نامے ان کے داہنے ہاتھ میں دیئے جائیں گے یہ اصحاب الیمین ہوں گے اور یہ عرش کے دائیں جابن ہوں گے یہ سب لو جنتی ہوں گے اور ایک جماعت وہ ہوگی جن کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے، یہ اصحاب الشمال ہوں گے اور ان کا مقام عرش کے بائیں جانب ہوگا اور یہ سب لوگ جہنمی ہوں گے، تیسری جماعت ایک اور ہوگی یہ سابقین و مقربین کی ہوگی، اور ان لوگوں کا مقام عرش کے سامنے خصوصی امتیاز اور قرب کے مقام میں ہوگا۔ (ابن کثیر ملخصاً )
سابق سے قیامت کے احوال اور اہوال کا ذکر چل رہا ہے اسی سلسلہ میں فرمایا گیا کہ زمین کو زلزلے کے شدید جھٹکے سے دوچار کردیا جائے گا اور یہ جھٹکا مقامی یا علاقائی نہ ہوگا بلکہ عالمی ہوگا، اس جھٹکے کے نتیجے میں پہاڑ جیسی مضبوط اور پائیدار مخلوق ریزہ ریزہ ہو کر ریگ رواں اور پراگندہ غبار ہوجائے گی۔
Ayah 56:7وکنتم ازواجاً ثلثۃ، کنتم کا خطاب اگرچہ بظاہر ان لوگوں سے ہے جن کو یہ کلام سنایا جا رہا ہے یا اس کے مخاطب وہ لوگ ہیں جو اس کو پڑھ اور سن رہے ہیں، مگر مراد اس سے تمام مکلفین ہیں خواہ جن ہوں یا انس، جو روز آفرینش سے قیامت تک پیدا ہوئے ہیں، یہ سب کے سب تین گروہوں میں تقسیم کردیئے جائیں گے۔
Ayah 56:8فاصحب المیمنۃ الخ اس جگہ میمنۃ کا لفظ اسعتمال ہوا ہے، میمنۃ یمین سے بھی ہوسکتا ہے جس کے عمنی داہنے ہاتھ کے ہیں اور یمن سے بھی ہوسکتا ہے جس کے معنی نیک فال کے اور نیک شگون کے ہیں، اگر اس کو یمین سے مشتق مانا جائے تو اصحاب المیمنتہ کے معنی ہوں گے، داہنے ہاتھ والے اس کا ایک مطلب تو وہ ہے جو ظاہر ہے کہ اصحاب الیمین سے وہ لوگ مراد ہیں جن کا اعمالنامہ داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا، یا خوش نصیب اور سعید لوگ مراد ہوں گے اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اصحاب الیمین سے مراد عالی مرتبہ لوگ ہوں، اہل عرب سیدھے ہاتھ کو قوت اور عزت کا نشان سمجھتے تھے، جس کا احترام مقصود ہوتا تھا اس کو مجلس میں داہنے ہاتھ کی طرف بٹھاتے تھے، اگر عرب کسی کے متعلق عزت و احترام کا کلمہ کہنا چاہتے تو کہتے فلاں منی بالیمین
Ayah 56:9واصحب المشئمۃ اس آیت میں لفظ المشئمۃ استعمال ہوا ہے مشئمۃ، شوم سے ہے جس کے معنی بدبختی نحوست اور بدفالی کے ہیں اور عربی زبان میں بائیں ہاتھ کو شومی بولا جاتا ہے، شومی قسمت اسی سے ماخوذ ہے پس اصحاب المشتمہ سے مراد بدبخت لوگ ہیں، جو اللہ تعالیٰ کے یہاں ذلت سے دوچار ہوں گے اور دربار الٰہی میں بائیں طرف کھڑے ہوں گے۔
Ayahs 56:10–12والسابقون السابقون امام احمد نے حضرت صدیقہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ سے سوال کیا کہ تم جانتے ہو کہ قیامت کے روز ظل اللہ کی طرف سبقت کرنے والے کون لوگ ہوں گے ؟ صحابہ کرام نے عرض کیا، اللہ و رسولہ اعلم
آپ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو حق کی طرف دعوت دیجائے تو اس کو قبول کرلیں اور جب ان سے حق مانگا جائے تو ادا کردیں اور لوگوں کے معاملات میں وہ فیصلہ کریں جو اپنے حق میں کرتے ہیں۔
مجاہد رحمتہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا سابقین سے مراد انبیاء ہیں، ابن سیرین نے فرمایا کہ جن لوگوں نے دو قبلوں یعنی بیت المقدس اور بیت اللہ کی طرف نماز پڑھی ہے وہ سابقین میں ہیں اور حضرت حسن رحمتہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر امت میں سابقین ہوں گے ابن کثیر نے ان تمام اقوال کو نقل کرنے کے بعد فرمایا یہ سب اقوال اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں ان میں کوئی اختلاف و تضاد نہیں ہے، کیونکہ سباقین سے وہی لوگ مراد ہیں جنہوں نے دنیا میں نیک اعمال کی طرف سبقت کی ہو، اور دوسروں سے آگے نکل گئے ہوں، خواہ جہاد کا معاملہ ہو یا انفاق فی سبیل اللہ کا، یا خدمت خلق کا معاملہ ہو یا دعوت الی الحق کا، غرض دنیا میں خیر پھیلانے اور برائی مٹانے کے لئے ایثار و قربانی اور محنت و جانفشانی میں پیش پیش رہے ہوں، اسی وجہ سے آخرت میں بھی یہی لوگ سب سے آگے ہوں گے، گویا وہاں اللہ کے دربار کا نقشہ یہ ہوگا کہ دائیں طرف صالحین اور بائیں جانب فاسقین اور سب سے آگے بارگاہ خداوندی کے قریب سابقین ہوں گے، جیسا کہ حضرت عائشہ صدیقہ کی حدیث سے ظاہر ہے۔
Ayahs 56:13–16ثلۃ من الاولین و قلیل من الآخرین، ثلۃ ثاء کے ضمہ کے ساتھ، جماعت کو کہتے ہیں، زمخشری نے کہا ہے کہ بڑی جماعت کو کہتے ہیں (روح المعانی) یہاں اولین و آخرین سے کیا مراد ہے اولین و آخرین کے مصداق کی تعیین میں مفسرین کا اختلاف ہے، ایک جماعت کا خیال ہے کہ آدم (علیہ السلام) کے وقت سے نبی ﷺ کی بعثت تک جتنی امتیں گذری ہیں وہ اولین ہیں اور آپ کی بعثت کے بعد سے قیامت تک کے لوگ آخرین ہیں، اس اعتبار سے آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ بعثت محمدی سے پہلے ہزار ہابرس کے دوران جتنے انسان گذرے ہیں ان کے سابقین کی تعداد زیادہ ہوگی اور آپ کی بعثت کے بعد سے قیامت تک آنے والے انسانوں میں جو لوگ سابقین کا مرتبہ پائیں گے ان کی تعداد کم ہوگی۔
دوسری جماعت کا کہنا ہے کہ یہاں اولین و آخرین سے آپ ﷺ کی امت کے اولین و آخرین مراد ہیں، یعنی آپ ﷺ کے ابتدائی دور کے لوگ اولین ہیں جن میں سابقین کی تعدا زیادہ ہوگی اور بعد کے لوگ آخرین ہیں جن میں سابقین کی تعداد کم ہوگی۔
تیسری جماعت کہتی ہے کہ اس سے ہر نبی کی امت کے اولین و آخرین مراد ہیں یعنی ہر نبی کے ابتدائی پیرو وئوں میں سابقین زیادہ ہوں گے اور بعد کے آنے والے لوگوں میں کم ہوں گے، آیت کے الفاظ ان تینوں مفہوموں کے حامل ہیں اور بعید نہیں کہ یہ تینوں ہی صحیح ہوں کیونکہ ان تینوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔
Ayahs 56:17–34یطوف علیھم ولدان مخلدون اس سے مراد ایسے لڑکے ہیں جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے، ان کی عمر ہمیشہ ایک ہی حالت پر رہے گی، ان جنتی غلمانوں کے متعلق راجح تحقیق یہ ہے کہ وہ حوروں کی طرح جنت ہی میں پیدا ہوئے ہوں گے اور یہ سب اہل جنت کے خادم ہوں گ، حضرت علی ؓ اور حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ اہل دنیا کے وہ بچے ہوں گے جو بالغ ہونے سے پہلے فوت ہوگئے ہوں گے، چونکہ ان کی نیکی بدی کچھ نہ ہوگی جس کی وجہ سے وہ نہ جزاء کے مستحق ہوں گے اور اور نہ سزا کے خیال رہے کہ اہل دنیا سے وہی لوگ مراد ہیں جن کو جنت نصیب نہ ہوئی ہو، ورنہ تو مومنین صالحین کے بچوں کے بارے میں خود قرآن نے شہادت دی ہے کہ وہ اپنے آباء کے ساتھ جنت میں ہوں گے الحقنا بھم ذریتھم (الآیۃ) سورة طور آیت 21 (مظہری، معارف مخلصاً )
Ayahs 56:35–38انا انشاناھن انشاء انشاء کے معنی پیدا کرنے کے ہیں، آیت کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے جنت کی عورتوں کی تخلیق ایک خاص انداز سے کی ہے یہ خاص ادناز حوران جنت کے لئے تو اس طرح ہے کہ وہ جنت ہی میں بغیر واسطہ ولادت کے پیدا کی گئی ہیں اور دنیا کی عورتیں جو جنت میں جائیں گی ان کی خاص تخلیق سے مطلب یہ ہوگا کہ جو دنیا میں بدشکل سیاہ رنگ یا بوڑھی تھی اب اس کو حسین شکل و صورت میں جو ان رعنا کردیا جائے گا، جیسا کہ ترمذی اور بیہقی میں حضرت انس ؓ ت عالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انا انشاناھن کی تفسیر میں فرمایا کہ جو عورتیں دنیا میں بوڑھی چندھی سفید بال بدلکشل تھیں انہیں یہ نئی تخلیق حسین اور نوجوان بنا دے گی اور بیہقی نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک روز آپ ﷺ گھر میں تشریف لائے میرے پاس ایک بڑھیا بیٹھی ہوئی تھیں، آپ نے دریافت فرمایا یہ کہ کون ہیں میں نے عرض کیا کہ میری رشتہ کی خالہ ہے، آنحضرت نے بطور مزاح فرمایا لاتدخل الجنۃ عجوز یعنی جنت میں کوئی بڑھیا نہیں جائے گیے، یہ بیچاری بہت غمگین ہوئیں، بعض روایات میں ہے کہ رونے لگیں تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو تسلی دی اور اپنی بات کی حقیقت بیان فرمائی کہ جس وقت یہ جنت میں جائیں گی تو بوڑھی نہ ہوں گی بلکہ جوان ہو کر داخل ہوں گی اور یہی آیت تلاوت فرمائی۔ (مظہری، معارف)