55. Surah Ar-Rahmaan

الرحمنThe Beneficent · 78 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 55:1–2

اَلرَّحْمٰنُۙ Open ayah 55:1 in the Quran reader

(خدا جو) نہایت مہربان

عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ Open ayah 55:2 in the Quran reader

اسی نے قرآن کی تعلیم فرمائی

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، رحمٰن نے جس کو چاہا قرآن سکھلایا انسان یعنی جنس انسان کو پیدا فرمایا اس کو گفتگو کرنا سکھلایا سورج اور چاند مقررہ حساب سے چلتے ہیں اور بلیں یعنی وہ گھاس جس کا تنا نہ ہو اور شجر یعنی تنے دار درخت، جو ان سے مطلوب ہے اس کے تابع ہیں، اور اسی نے آسمان کو بلند وبالا کیا اور میزان رکھ دی یعنی انصاف قائم کیا تاکہ تم لوگ تول میں تجاوز نہ کرو اور تاکہ انصاف کے ساتھ وزن کو ٹھیک رکھو اور تول میں کم نہ دو یعنی وزن میں کمی نہ کرو اور مخلوق یعنی جن و انس وغیرہ کے لئے زمین بچھا دی جس میں میوے ہیں اور کھجور کے درخت ہیں جو معلوم ہیں جن کے (پھلوں) پر غلاف ہوتا ہے (اکمام) شگوفہ کا غلاف، اور غلہ جیسا کہ گندم اور جو بھوسے والے اور پتوں والے (یا) خوشبو والے پھول پیدا کئے تو اے جن اور انسانو ! تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجائو گے ؟ (یہ آیت) 31 مرتبہ ذکر کی گئی ہے اور استفہام اس میں تقریر کے لئے ہے، جیسا کہ حاکم نے جابر ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو سورة رحمٰن پوری پڑھ کر سنائی، پھر فرمایا کیا بات ہے کہ میں تم کو خاموش دیکھ رہا ہوں ؟ جنات جواب کے اعتبار سے یقینا تم سے بہتر تھے، میں نے جب بھی ان کو یہ آیت فبای الآء ربکما تکذبان پڑھ کر سنائی کبھی ایسا نہیں ہوا کہ انہوں نے ولا بشیء من نعمک ربنا نکذب فلک الحمد نہ کہا ہو (اے ہمارے پروردگار ہم تیری کسی نعمت کی بھی تکذیب (ناشکری) نہیں کرتے، تیرے ہی لئے سب تعریفیں ہیں) اسی نے انسان آدم کو ایسی مٹی سے جو ٹھیکرے کی طرح کھنکتیھی پیدا کیا (یعنی) ایسی خشک مٹ سے جس میں آواز تھی جب بجایا جائے اور وہ ایسی مٹی ہے جس کو پکایا گیا ہو اور جنات کو (یعنی) ابو الجن کو اور وہ ابلیس ہے خالص آگ سے پیدا کیا، اور مارج آگ کا وہ شعلہ جس میں دھواں نہ ہو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجائو گے ؟ وہ دونوں مشرقوں سردیوں کی مشرق اور گرمیوں کی مشرق اور اسی طرح دونوں مغربوں کا رب ہے تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجائو گے ؟ شور اور شیریں دو دوریائوں کو جاری کیا جو بظاہر ملے ہوئے ہیں، حقیقت میں ان دونوں کے درمیان آڑ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت کی آڑ ہے کہ دونوں بڑھ نہیں سکتے، یعنی ان دونوں میں سے کوئی دوسرے پر تجاوز نہیں کرسکتا کہ اس سے خلط ملط ہوجائے تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منر ہوجائو گے ؟ اور ان دونوں سے یعنی دونوں کے مجموعہ سے موتی اور مونگے برآمد ہوتے ہیں مجموعہ کا اطلاق ایک پر بھی ہوتا ہے اور وہ (دریائے) شور ہے یخرج معروف اور مجہول دونوں ہے (لولو) بڑے سرخ موتی (مرجان) چھوٹے موتی تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجائو گے ؟ اللہ ہی کی ملک ہیں وہ جہاز (کشتیاں) جو دریا میں پہاڑوں کے مانند بلند ہیں، بلند اور عظیم ہونے میں پہاڑوں کے مانند ہیں تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجائو گے ؟۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : الرحمن مبتداء مابعد اس کی خبر، تعدید اور اقامت حجتہ کے طور پر خبر بغیر عطف کے متعدد بھی ہوسکتی ہے جیسا کہ یہاں بغیر عطف کے خبر متعدد ہیں، الرحمٰن مبتداء اور مابعد اس کی خبر، یہ ان لوگوں کے نزدیک ہے جو الرحمن کو پوری آیت نہیں مانتے اور جو لوگ پوری آیت مانتے ہیں ان کے نزدیک الرحمٰن مبتداء محذوف کی خبر ہے یا اللہ الرحمٰن یا الرحمن مبتداء ہے اور ربنا اس کی خبر محذوف ہے۔ قولہ : من شاء اس عبارت کے اضافہ سے اشارہ کردیا کہ علم متعدی بدومفعول ہے اور مفعول اول اس کا محذوف ہے۔ قولہ : النطق گویائی، اظہار مافی ال ضمیر، یہ قوت حیوانات میں نہیں ہے۔ قولہ : بحسبان یہ حسب کا مصدر مفرد ہے بمعنی حساب جیسا کہ غفران و کفران اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حساب کی جمع ہو جیسا کہ شہاب کی جمع، شھبان اور غیف کی جمع رغفان (چپاتی) مطلب یہ ہے کہ شمس و قمر مقررہ حساب سے اپنے اپنے برجوں میں چلتے ہیں سر موانحراف نہیں کرتے۔ قولہ : آفتاب کا قطر 866500 (آٹھ لاکھ چھیاسٹھ ہزار پانچ سو میل) ہے، اور وہ تیرہ لاکھ زمینوں کے مساوی ہے، آفتاب زمین کے مانند ٹھوس نہیں ہے اور نہ پانی کی طرح سیال بلکہ پانی سے ڈیڑھ گنا کثیف ہے (پتے شہد کے مانند) (فلکیات جدیدہ) ۔ (واللہ اعلم بالصواب) قولہ : ای لاجل ان لاجوروا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ الا طغوا میں ان مصدریہ ہے نہ کہ نافیہ اور ان سے پہلے لام علت مقدر ہے۔ قولہ : اکمام، اکمام جمع کم بمعنی شوگفہ کا غلاف، جھلی۔ قولہ : الآء نعمتیں واحد الی والی جیسے معنی و حصی والی الی قولہ : رب المشرقین، رب کے رفع کے ساتھ، رفع کی تین وجہیں ہوسکتی ہیں (1) یہ کہ رب المشرقین بترکیب اضافی مبتداء اور مرج البحرین اس کی خبر اور مبتداء خبر کے رمیان جملہ معترضہ ہو (2) یہ کہ رب المشرقین مبتداء محذوف کی خبر، ای ھو رب المشرقین (3) یہ کہ خلق کے فاعل سے بدل ہو اور بعض حضرات نے من ربکما سے بدل مان کر مجرور بھی پڑھا ہے۔ قولہ : یلتقیان یہ بحرین سے حال ہے۔ قولہ : مجموعھما الصادق یا حدھما شارح کا یہ فرمانا کہ دونوں کے مجموعہ پر بھی واحد کا اطلاق صحیح ہے صحیح نہیں ہے اس لئے کہ مجموعہ سے بعض اسی وقت مراد لینا صحیح ہے جبکہ بعض سے متعدد مراد ہوں ورنہ تو جمع بول کر واحد مراد لینا درستن ہیں ہے۔ تفسیر و تشریع نام : اس سورت کا نام ” سورة رحمٰن “ ہے، جو کہ پہلے ہی لفظ سے ماخوذ ہے، حدیث میں اس کو عروس قرآن بھی کہا گیا ہے آپ نے فرمایا لکل شی عروس و عروس القرآن، الرحمن (خازن) اس سورت کے مکی، مدنی ہونے میں اختلاف ہے، امام قرطبی نے چند روایات حدیث کی وجہ سے مکی ہونے کو ترجیح دی ہے، ابن جوزی نے کہا ہے کہ یہ سورت مدنی ہے، مگر علماء تفسیر اس سورت کو بالعموم مکی قرار دیتے ہیں، اگرچہ بعض روایات میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور عکرمہ ؓ اور قتادہ سے یہ قول منقول ہے کہ یہ سورت مدنی ہے، لیکن اول تو ان بزرگوں سے بعض دوسری روایات اس کے خلافھی منقول ہیں دوسرے اس کا مضمون مدنی سورتوں کی بہ نسبت مکی سورتوں سے زیادہ مشابہ ہے، ترمذی میں حضرت جابر ری اللہ تعالیٰ عنہ سے روای ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کے سامنے سورة رحمٰ پوری تلاوت فرمائی لوگ سن کر خاموش رہے تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے لیلتہ الجن میں جنتا کے سامنے یہ سورت تلاوت کی تو اثر قبول کرنے کے اعتبار سے وہ تم سے بہتر رہے کیونکہ جب میں قرآن کے اس جملہ پر پہنچتا تھا فبای الآء ربکما تکذبان تو جنات سب کے سب بول اٹھتے تھے (لابشی من نعمک ربنا نکذب فلک الحمد) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ یہ سورت مکی ہے کیونکہ لیلتہ الجن کا واقعہ مکہ میں پیش آیا تھا۔ سیرت ابن ہشام کی ایک روایت : اس روایت سے پتہ چلتا ہے کہ یہ سورت مکہ معظمہ کے ابتدائی دور کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے، ابن اسحٰق حضرت عمروہ بن زبیر سے یہ واقعہ نقل کرتے ہیں کہ ایک روز صحابہ کرام نے آپس میں کہا کہ قریش نے کبھی کسی کو علانیہ با آواز بلند قرآن پڑھتے نہیں سنا ہے، ہم میں کون ہے جو ان کو ایک دفعہ یہ کلام پاک سنا ڈالے ؟ حضرت عبداللہ بن مسعود نے کہا میں یہ کام کرتا ہوں صحابہ نے کہا ہمیں ڈر ہے کہ وہ تم پر زیادتی کریں گے، ہمارے خیال میں کسی ایسے شخص کو یہ کام کرنا چاہیے کہ جس کا خاندان زبردست ہو، تاکہ اگر قریش کے لوگ اس پر دست درازی کریں، تو اس کے خاندان والے اس کی حمایت پر اٹھ کھڑے ہوں، حضرت عبداللہ نے فرمایا مجھے یہ کام کر ڈالنے دو ، میرا محافظ اللہ ہے پھر وہ دن چڑھے حرم میں پہنچے، جبکہ قریش کے سردار وہاں اپنی اپنی مجلسوں میں بیٹھے ہوئے تھے، حضرت عبداللہ نے مقام ابراہیم پر پہنچ کر پورے زور سے سورة رحمٰن کی تلاوت شروع کردی، قریش کے لوگ پہلے تو سوچتے رہے کہ عبداللہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ پھر جب انہیں پتہ چلا کہ یہ وہ کلام ہے جسے محمد ﷺ خدا کے کلام کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں تو وہ ان پر ٹوٹ پڑے اور ان کے منہ پر تھپڑ مارنے لگے مگر حضرت عبداللہ نے پرواہ نہ کی، پٹتے جاتے تھے اور پڑھتے جاتے تھے، جب تک ان کے دم میں دم رہا قرآن سناتے چلے گئے، آخر کار جب وہ اپنا سو جا ہوا منہ لیکر پلٹے تو ساتھیوں نے کہا ہمیں اسی چیز کا ڈر تھا، انہوں نے جواب دیا آج سے بڑھ کر یہ خدا کے دشمن میرے لئے کبھی ہلکے نہ تھے، تم کہو تو کل پھر ان کو قرآن سنائوں، سب نے کہا بس اتنا ہی کافی ہے، جو کچھ وہ نہیں سننا چاہتے تھے وہ تم نے انہیں سنا دیا۔ (سیرت ابن ہشام : جلد اول ص 336) شان نزول : کہا گیا ہے کہ الرحمٰن علم القرآن اہل مکہ کے اس قوت کے جواب میں نازل ہوئی کہ وہ کہا کرتے تھے کہ اس کو کوئی بشر سکھلاتا ہے، اور بعض کہتے ہیں کہ یہ ان کے اس قول کے جواب میں نازل ہوئی وہ کہا کرتے تھے کہ رحمٰن کیا ہے ؟ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی بہت سی نعمتیں شمار کرائی ہیں، علم القرآن میں اللہ تعالیٰ نے نعمتوں میں جو سب سے بڑی نعمت ہے اس کے ذکر سے ابتداء کی ہے اور وہ نعمت قرآن ہے اس لئے کہ قرآن پر دارین کی سعادت کا مدار ہے۔ (فتح القدیر شو کانی) علم القرآن کے فقرے سے آغاز کرنے کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ نہ تو یہ کلام آپ کا خود طبع زاد ہے اور نہ کسی انسان وغیرہ کا سکھلایا ہوا، بلکہ یہ اللہ الرحمٰن کا تعلیم فرمودہ ہے۔
Ayah 55:3

خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ Open ayah 55:3 in the Quran reader

اسی نے انسان کو پیدا کیا

خلق الانسان، یعنی انسان بندر وغیرہ سے ترقی کرتے کرتے انسان نہیں بن گیا جیسا کہ ڈارون کا فلسفہ ارتقاء ہے، بلکہ انسان کو اسی شکل و صورت میں اللہ نے پیدا فرمایا ہے جو جانوروں سے الگ ایک مستقل مخلوق ہے، انسان کا لفظ بطور جنس کے استعمال ہوا ہے۔
Ayah 55:4

عَلَّمَهُ الْبَیَانَ Open ayah 55:4 in the Quran reader

اسی نے اس کو بولنا سکھایا

علمہ البیان بیان سکھلانے کا مطلب ہے اظہار مافی الضمیر کا طریقہ سکھلایا، ہر شخص اپنی مادری زبان میں اپنے مافی الضمیر کو بغیر سکھلائے خود بخود دادا کرلیتا ہے یہی تعلیم الٰہی کا نتیجہ ہے جس کا اس آیت میں ذکر ہے۔
Ayahs 55:5–12

اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ۪ Open ayah 55:5 in the Quran reader

سورج اور چاند ایک حساب مقرر سے چل رہے ہیں

وَّ النَّجْمُ وَ الشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ Open ayah 55:6 in the Quran reader

اور بوٹیاں اور درخت سجدہ کر رہے ہیں

وَ السَّمَآءَ رَفَعَهَا وَ وَضَعَ الْمِیْزَانَۙ Open ayah 55:7 in the Quran reader

اور اسی نے آسمان کو بلند کیا اور ترازو قائم کی

اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ Open ayah 55:8 in the Quran reader

کہ ترازو (سے تولنے) میں حد سے تجاوز نہ کرو

وَ اَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ Open ayah 55:9 in the Quran reader

اور انصاف کے ساتھ ٹھیک تولو اور تول کم مت کرو

وَ الْاَرْضَ وَ ضَعَهَا لِلْاَنَامِۙ Open ayah 55:10 in the Quran reader

اور اسی نے خلقت کے لئے زمین بچھائی

فِیْهَا فَاكِهَةٌ١۪ۙ وَّ النَّخْلُ ذَاتُ الْاَكْمَامِۖ Open ayah 55:11 in the Quran reader

اس میں میوے اور کھجور کے درخت ہیں جن کے خوشوں پر غلاف ہوتے ہیں

وَ الْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَ الرَّیْحَانُۚ Open ayah 55:12 in the Quran reader

اور اناج جس کے ساتھ بھس ہوتا ہے اور خوشبودار پھول

الشمس والقمر بحسبان انسان کے لئے جو نعمتیں حق تعالیٰ نے زمین و آسمان میں پیدا فرمائی ہیں اس آیت میں علویات میں سے شمس و قمر کا ذکر خصوصیت سیشاید اس لئے کیا ہے کہ عالم دنیا کا سارا نظام ان دونوں سیاروں کی حرکت اور ان کی شعاعوں سے وابستہ ہے۔
Ayah 55:13

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:13 in the Quran reader

تو (اے گروہ جن وانس ! ) تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

فبای الآء ربکما تکذبن یہ انسان اور جنوں دونوں سے خطاب ہے، اللہ تعالیٰ اپنی نعمتیں گنوا کر انسے پوچھ رہا ہے، یہ تکرار اس شخص کی طرح ہے جو کسی پر مسلسل احسان کرے لیکن وہ اس کے احسان کا منکر ہو، جیسے کہے میں نے تیرا فلاں کام کیا، کیا تو انکار کرتا ہے فلاں چیز تجھے دی کیا تجھے یاد نہیں ؟ تجھ پر فلاں احسان کیا تجھے ہمارا ذرا خیال نہیں ؟ (فتح القدیر)
Ayah 55:14

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِۙ Open ayah 55:14 in the Quran reader

اسی نے انسان کو ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی مٹی سے بنایا

خلق الانسان من صلصال الخ انسان کو بجتی ہوئی خشک مٹی سے پیدا کیا۔ سوال : یہاں انسان کی تخلیق کو صلصال سے بتایا گیا اور سورة الحجر میں من صلصال من حمامسنون کالی سڑی ہوئی سیاہ مٹ سے تخلیق کرنا بیان کیا گیا اور سورة الصافات میں من طین لازیب یعنی چپکتی ہوئی مٹی سے تخلیق بیان کی گئی ہے اور سورة آل عمران میں خلقہ من تراب عام مٹی سے تخلیق بیان ہوئی، آدم (علیہ السلام) کی تخلیق چار قسم کی مٹی سے قرآن سے معلوم ہوتی ہے اور مذکورہ چاروں قسمیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں، بظاہر تعارض و تضاد معلوم ہوتا ہے۔ جواب :۔ چاروں میں کسی قسم کا تضاد و تعارض نہیں ہے اس لئے کہ مذکورہ چاروں حالات مختلف زمانوں کے ہیں، تعارض کے میں چپکاہٹ پیدا ہوگئی، پھر اس کو ایک زمانہ تک اسی حالت پر چھوڑ دیا تو حما مسنون سڑی ہوئی سیاہ رنگ کی ہوگئی، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تصویر سازی کی جیسا کہ مٹی کے برتن بنائے جاتے ہیں اور پھر اس کو سکھاتے ہیں حتی کہ وہ سوکھ کر نہایت سخت ٹھیکرے کے مانند بجنے والی ہوجاتی ہے، یہاں پر آخری مرحلہ کا بیان ہے اس کے علاوہ میں کہیں ابتدائی مرحلہ کا بیان ہے اور کہیں درمیانی مرحلہ کا یان ہے۔
Ayahs 55:15–25

وَ خَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍۚ Open ayah 55:15 in the Quran reader

اور جنات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:16 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَ رَبُّ الْمَغْرِبَیْنِۚ Open ayah 55:17 in the Quran reader

وہی دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا مالک (ہے)

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:18 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰنِۙ Open ayah 55:19 in the Quran reader

اسی نے دو دریا رواں کئے جو آپس میں ملتے ہیں

بَیْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا یَبْغِیٰنِۚ Open ayah 55:20 in the Quran reader

دونوں میں ایک آڑ ہے کہ (اس سے) تجاوز نہیں کرسکتے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:21 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

یَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَ الْمَرْجَانُۚ Open ayah 55:22 in the Quran reader

دونوں دریاؤں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:23 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

وَ لَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَئٰتُ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِۚ Open ayah 55:24 in the Quran reader

اور جہاز بھی اسی کے ہیں جو دریا میں پہاڑوں کی طرح اونچے کھڑے ہوتے ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۠ Open ayah 55:25 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

وخلق الجان من مارج من نار، جان سے جنس جنات مراد ہے، اور مارج آگ کے شعلہ کو کہتے ہیں، انسان کی طرح جن بھی عناصر اربعہ سے بنا ہوا ہے، گمر جن میں ناری عنصر غالب ہے جیسا کہ انسان میں خاکی عنصر غالب ہے رب المشرقین و رب المغربین سے سردی گرمی کے مشرق و مغرب مراد ہیں شمس و قمر کا مطلع اور مغرب اگرچہ بہت قیل مقدار میں روزانہ ہی بدلتا رہتا ہے اس لئے آسانی سے اس کا احساس نہیں ہوتا، گرمی سردی کے مشرق و مغرب میں چونکہ بین فرق اور نمایاں فاصلہ ہوتا ہے اس لئے صرف ان کا ہی ذکر کردیا ہے اور بعض حضرات نے مشرقین اور مغربین سے شمس و قمر کے مشرق و مغرب مراد لئے ہیں۔
Ayahs 55:26–28

كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍۚۖ Open ayah 55:26 in the Quran reader

جو مخلوق زمین پر ہے سب کو فنا ہونا ہے

وَّ یَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِۚ Open ayah 55:27 in the Quran reader

اور تمہارے پروردگار ہی کی ذات (بابرکت) جو صاحب جلال و عظمت ہے باقی رہے گی

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:28 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

ترجمہ :۔ جو کچھ اس پر یعنی زمین پر ہے سب فنا ہونے والا ہے ذوی العقول کو غلبہ دیتے ہوئے من سے تعبیر کیا ہے (صرف) تیرے باعظمت مومنین پر اپنے انعاموں کا احسان کرنے والے رب کی ذات باقی رہ جائے گی سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجائو گے ؟ اور سب آسمان اور زمین والے اسی سے مانگتے ہیں یعنی زبان قال سے یا زبان حال سے (طلب کرتے ہیں) جس چیز کی ان کو حاجت ہوتی ہے خواہ عبادت پر قدرت ہو، یا رزق یا مغرفت وغیرہ وغیرہ پر وہ ہر وقت ایک شان میں رہتا ہے (یعنی ہمہ وقت) ایسے شغل میں رہتا ہے جس کو وہ عالم میں اس کے مطابق جو اس نے نزل میں مقدر کردیا ہے مثلاً زندگی دینا اور موت دینا اور عزت دینا اور ذلیل کرنا اور مالدار کرنا اور مفلس کرنا اور داعی کی دعاء کو قبول کرنا اور سائل کو عطا کرنا وغیرہ وغیرہ سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منر ہوجائو گے ؟ اے انسانوں اور جنو ! ہم عنقریب تمہارے لئے فارغ ہوں گے یعنی تمہارے حساب کی طرف متوجہ ہوں گے تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجائو گے ؟ اے جن اور انسانوں کی جماعتوں اگر تم آسمانوں اور زمین کی حدود سے نکل سکتے ہو تو نکل جائو امر تعجیز کے لئے ہے تم طاقت کے بغیر نہیں نکل سکتے اور تم کو اس کی طاقت نہیں وس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجائو گے وہ تمہارے اوپر آگ کے شعلے چھوڑے گا (شواظ) آگ کا وہ شعلہ جس میں ھواں نہ ہو، یا مع دھوئیں کے، اور خالص دھواں چھوڑے گا یعنی ایسا دھواں کہ جس میں شعلہ نہ ہو ہو پھر تم ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے بلکہ وہ تم کو محشر کی طرف کھینچ کرلے جائے گا سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجائو گے ؟ پس جب آسمان پھٹ جائے گا یعنی ملائکہ کے نزول کے لئے دروازے کھل جائیں گے اور چمڑے کے مانند سرخ ہوجائے گا جیسا کہ سرخ چمڑا (یعنی) سابقہ حالت کے برخلاف اور اذا کا جواب فما اعظم الھول (محذوف ہے) یعنی کس قدر ہولناک منظر ہوگا ؟ سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجائو گے ؟ اس دن کسی انسان اور جن کے گناہوں کی پرسش نہ ہوگی اور دوسرے وقت میں پرسش ہوگی جیسا کہ فرمایا) فوربک لنسئلنھم اجمعین یعنی قسم ہے تیرے رب کی ہم ضرور ان سے باز پرس کریں گے اور جان یہاں اور آئندہ جنی کے معنی میں ہے اور انس بھی مذکورہ مقاموں میں انسی کے معنی میں ہے سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجائو گے ؟ مجرم اپنے حلیوں سے پہچانے جائیں گے یعنی چہروں کی سیاہی اور آنکھوں کی نیلگونی سے، ان کی پشانیوں کے بال اور قدم پکڑے جائیں گے، تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجائو گے ؟ یعنی ان میں سے ہر ایک کی پیشانی پیچھے سے یا اگٓے سے قدموں سے ملا دی جائے گی اور جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا یہی ہے وہ جہنم جس کی مجرم تکذیب کرتے تھے، جہنم اور شدید گرم پانی کے درمیان چکر لگائیں گے (یعنی) دوڑیں گے، آگ کی گرمی سے جب فریاد کریں گے تو گرم پانی پلائے جائیں گے، (ان) قاض کے مانند منقوص ہے سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجائو گے ؟ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : ای الارض من الحیوان مفسر علام نے علیھا کی تفسیر ای الارض سے کر کے اشارہ کردیا کہ جنت و نار، حور و غلمان فنا نہیں ہوں گے، بلکہ زمین کی اشیاء فنا ہوں گی، نیز کل یوم ھو فی شان سے یہود پر رد ہوگیا، یہود کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چھ دن میں پوری کائنات کو پیدا فرمایا جمعہ کے دن آخرت وقت میں حضرت آدم کی تخلیق فرمائی اور شنبہ کے دن کوئی کام نہیں کیا، یہی وجہ ہے کہ یہود ہفتہ کو چھٹی کرتے ہیں۔ قولہ : سنقصد، سنفرغ لکم کی تفسیر سنقصد سے کر کے اشارہ کردیا کہ فراغت سے مراد توجہ اور قصد کرنا ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کو ایسی مصروفیت نہیں ہوتی کہ دیگر امور میں مشغولیت سے مانع ہو، اس قسم کی مشغولیت مخلوق کا خاصہ ہے۔ قولہ : ثقلان جن و انس کو ثقلان اس لئے کہتے ہیں کہ یہ حیاۃ و مماۃ زمین پر ثقل ہوتے ہیں۔ قولہ : فانفذوا امر تعجیز کے لئے ہے یعنی اگر تم ہماری حدود سلطنت سے نکل سکتے ہو تو نکل جائو یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ فاتوا بسورۃ من مثلہ قولہ : کالدھان کانت کی خبر ثانی بھی ہوسکتی ہے اور وردۃ کی صفت بھی نیز کانت کے اسم سے حال بھی، دھان دھن کی جمع بھی ہوسکتی ہے، جیسے رمح و رماح اس صورت میں د ھان تلچھت کے معنی میں ہوگا جیسا کہ دوسری آیت میں آسمان کو تلچھٹ کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے کما قال اللہ تعالیٰ یوم تکون السماء کالمھل اور مھل تیل کی تلچھٹ کو کہتے ہیں، دوسری صورت یہ ہے کہ دھان اسم مفرد ہو جیسا کہ زمخشری نے کہا ہے کہ دھان اسم لما یدھن بہ قولہ : والجان ھھنا وفیما سیاتی بمعنی الجنی والانس فیھما بمعنی الانسی اس پوری عبارت کے اضافہ سے مفسر علام کا مقصد ایک سوال کا جواب دینا ہے۔ سوال :۔ یہ ہے کہ جان اور انس یہ دونوں اسم جنس ہیں اور سوال جنس سے نہیں بلکہ افردا جنس سے ہوتا ہے۔ جواب :۔ اسی سوال کا جواب دینے کے لئے مفسر علام نے فرمایا جان، جنی کے اور انس، انسی کے معنی میں ہے اور یہ دونوں جنس کے افراد میں سے ہیں، یہ دونوں ان الفاظ میں سے ہیں کہ جن کی جنس اور فرد میں امتیاز یاء کے اضافہ سے ہوتا ہے، جیسے زنج اور زنجی میں ہے۔ قولہ : زرقۃ العیون نیلگوں آنکھیں، اس کو گربہ چشم بھی کہتے ہیں، اس کو کرنجی آنکھیں بھی کہتے ہیں۔ قولہ : آن یہ انی سے اسم فاعل کا صیغہ ہے کھولتا ہوا پانی تفسیر و تشریح کل من علیھا فان علیھا کی ضمیر کا مرجع، ارض ہے جس کا ذکر والارض و ضعھا للانام ماقبل میں گذر چکا ہے، اس کے علاوہ الارض ان عام اشیاء میں سے ہے جن کی طرف ضمیر راجع کرنے کے لئے پہلے، مرجع کا ذکر لازم نہیں، مطلب یہ ہے کہ جو جنات اور انسان زمین پر ہیں سب فنا ہونے والے ہیں، اس میں جن و انس کے ذکر کی تخصیص اس لئے کی گئی ہے کہ اس سورت میں مخاطب یہی دونوں ہیں اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آسمان اور آسمان والی مخلوقات فانی نہیں ہیں، کیونکہ دوسری آیت میں حق تعالیٰ نے عام لفظوں میں پوری مخلوقات کا فانی ہونا بھی واضح فرما دیا ہے کل شیء ھالک الا وجھہ مذکورہ دوسری آیت سے لیکر آیت 30 تک اللہ تعالیٰ نے دو حقیقتوں کو بیان فرمایا ہے۔ ایک یہ کہ نہ تو تم خود لافانی ہو اور نہ وہ سروسامان لازوال ہے جس سے تم اس دنیا میں متمتع ہو رہے ہو، لازوال اور لافانی تو صرف اس خدائے بزرگ و برتر کی ذات ہے جس کی عظمت پر یہ کائنات گواہی دے رہی ہے اور جس کے کرم سے تم کو یہ کچھ نعمتیں نصیب ہوئی ہیں، اب اگر تم میں سے کوئی شخص گھمنڈوغرور میں مبتلا ہو کر ” ہم چومن دیگرے نیست ‘ کا نعرہ بلند کرتا ہے تو یہ محض اس کی بےوقفی اور کم ظرفی ہے، اپنے ذرا سے دائرہ اختیار میں کوئی بیوقوف کبریائی کے ڈنکے بجا لے، چند بندے جو اس کے گرج مع ہوجائیں، ان کا بزعم خویش خدا بن بیٹھے تو یہ دھوکے کی ٹٹی کتنی دیر کھڑی رہ سکتی ہے، کائنات کی وسعتوں میں جس زمین کی حیثیت ایک رائی کے دانے کے برابر نہیں ہے، اس کے ایک کونے میں دس بیس سال یا سو پچاس سال جو خدائی اور کبریائی چلے اور قصہ پارینہ اور داساتن ماضی بن جائے وہ آخر کیا خدائی ؟ اور کیا کبریائی ہے ؟ جس پر پھولے نہ سمائے۔ دوسری اہم حقیقت جس پر ان دونوں مخلوقوں کو متنبہ کیا گیا ہے یہ ہے کہ اللہ جل شانہ کے سوا دوسری جن ہستیوں کو بھی تم معبود و مشکل کشا اور حاجت روا بنائے ہوئے ہو خواہ وہ فرشتے ہوں یا انبیاء و اولیاء یا چاند اور سورج یا دیوی دیوتا یا اور کسی قسم کی مخلوق، ان میں سے کوئی متہاری حاجت کو پورا نہیں کرسکتا، وہ بےچارے تو خود اپنی ضروریات اور حاجات کے لئے اللہ کے محتاج ہیں، ان کے ہاتھ تو خود اس کے آگے پھیلے ہوئے ہیں وہ خود اپنی حاجت روائی نہیں کرسکتے تو تمہاری مشکل کشائی کیا خاک کریں گے، اس ناپیدا کنار کائنات میں جو کچھ ہو رہا ہے، تنہا ایک خدا کے حکم سے ہو رہا ہے، اس کی کارفرمائی میں کسی کا کوئی دخل نہیں ہے۔
Ayahs 55:29–30

یَسْئَلُهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلَّ یَوْمٍ هُوَ فِیْ شَاْنٍۚ Open ayah 55:29 in the Quran reader

آسمان اور زمین میں جتنے لوگ ہیں سب اسی سے مانگتے ہیں وہ ہر روز کام میں مصروف رہتا ہے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:30 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

کل یوم ھو فی شان یعنی ہر وقت اس کارگاہ عالم میں اس کی کارفرمائی کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری ہے، ظاہر ہے کہ پوری کائنات میں ارضی اور سمائی مخلوقات کی بیشمار حاجتیں ہیں، جن کو ہر گھڑی اور ہر آن سوائے اس عظمت و جلال والے قادر مطلق کے کون سن سکتا ہے اور کون ان کو پورا کرسکتا ہے، اسی لئے کل یوم ھو فی شان یعنی ہر لحظ اور ہر لمحہ حق تعالیٰ کی ایک شان ہوتی ہے وہ کسی کو زندہ کرتا ہے کسی کو موت دیتا ہے کسی کو عزت دیتا ہے تو کسی کو ذلیل کرتا ہے کسی تندرست کو بیمار کرتا ہے تو کسی مریض کو تندرست کرتا ہے، کسی مصیبت زدہ کو مصیبت سے نجات دیتا ہے تو کسی کو مصیبت میں مبتلا کرتا ہے کسی کو رلاتا ہے تو کسی کو ہنساتا ہے، کسی کو عطا کرتا ہے تو کسی سے سلب کرتا ہے، کسی کو بااقتدار کرتا ہے تو کسی کو اقتدار سے محروم کرتا ہے، کسی کو سربلند کرتا ہے تو کسی کو قعر مذلت میں دھکیل دیتا ہے، غری کہ اللہ جل شانہ کی ہر آن اور ہر لمحہ ایک عجیب و نرالی شان ہوتی ہے۔
Ayahs 55:31–32

سَنَفْرُغُ لَكُمْ اَیُّهَ الثَّقَلٰنِۚ Open ayah 55:31 in the Quran reader

اے دونوں جماعتو ! ہم عنقریب تمہاری طرف متوجہ ہوتے ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:32 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

سنفرغ لکم ایۃ الثقلان، ثقلان، ثقل کا تثنیہ ہے، ثقل خاص وطر پر اس بوجھ کر کہتے ہیں جو کسی پر لدا ہوا ہو اور قابل قدر شئی کو بھی کہت یہیں اور ایک حدیث میں یہی معنی مراد ہیں، مردا اس سے جنات اور انسان ہیں اس لئے کہ شروع سے روئے سخن انہی کی طرف ہے، مطلب یہ ہے کہ اے جن اور انسانو ! جو زمین پر بوجھ بنے ہوئے ہو میں عنقریب تمہاری خبر لینے کے لئے متوجہ ہونے والا ہوں، اس کا یہ مطلب یہ ہے کہ اے جن اور انسانو ! جو زمین پر بوجھ بنے ہوئے ہو میں عنقریب تمہاری خبر لنیے کے لئے متوجہ ہونے والا ہوں، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس وقت اللہ تعالیٰ ایسا مغشول ہے کہ اسے ان نافرمانوں سے باز پرس کرنے کی فرصت نہیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر کام کے لئے ایک خاص اوقات نامہ مقرر کر رکھا ہے جس کے مطابق وہ اس کائنات کے تصرفات میں عمل پیرا ہے جب جس کام کا وقت آجائے گا تو وہ کام اس وقت پر ہوجائے گا، فی الوقت اس امحتان گاہ میں پہلے دور (امتحان) کا سلسلہ چل رہا ہے، وقت پورا ہوتے ہی یک لخت امتحان کا سلسلہ ختم کردیا جائے گا اور یہ امتحان گاہ بھی ختم کردی جائے گی، اس کے بعد اس سلسلہ کا دوسرا دور شروع ہوگا، جس میں جن اور انسانوں کے اعمال کی جانچ شروع ہوگی اولین و آخرین کو از سر نو زندہ کر کے جمع کیا جائے گا اس اوقات نامہ کے اعتبار سے یہ دوسرے دور کی کارروائی ہوگی، اس اوقات نامے کے لحاظ سے فرمایا گیا ہے کہ ابھی پہلے دور کا کام چل رہا ہے، دوسرے دور کا وقت ابھی نہیں آیا۔
Ayahs 55:33–34

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ فَانْفُذُوْا١ؕ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍۚ Open ayah 55:33 in the Quran reader

اے گروہ جن و انس ! اگر تمہیں قدرت ہو کہ آسمان اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ اور زور کے سوا تم نکل سکنے ہی کے نہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:34 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

یامعشر الجن والانس (الآیۃ) اس کا مطلب یہ ہے کہ اے جن اور انسانو ! اگر تمہیں یہ گمان ہو کہ ہم بھاگ جائیں گے اور موت کے چنگل سے بچ جائیں گے، یا میدان حشر سے بھاگ کر نکل جائیں گے اور حساب و کتاب سے بچ جائیں گے تو لو اپنی قوت آزما دیکھو، اگر تمہیں اس پر قدرت ہے کہ آسمان اور زمین کے دائرہ سے باہر نکل جائو، تو نکل کر دکھائو، یہ کوئی آسان کام نہیں۔
Ayahs 55:35–38

یُرْسَلُ عَلَیْكُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ١ۙ۬ وَّ نُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرٰنِۚ Open ayah 55:35 in the Quran reader

تم پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا تو پھر تم مقابلہ نہ کرسکو گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:36 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِۚ Open ayah 55:37 in the Quran reader

پھر جب آسمان پھٹ کر تیل کی تلچھٹ کی طرح گلابی ہوجائے گا (تو) وہ کیسا ہولناک دن ہوگا

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:38 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

یرسل علیکما شواظ (الآیۃ) حضرت ابن عباس اور دیگر ائمہ تفسیر نے فرمایا کہ شواظ ضمہ شین کے ساتھ، آگ کا وہ شعلہ جس میں دھواں نہ ہو اور نحاس اس دھوئیں کو کہا جاتا ہے جس میں آگ نہ ہو، اس آیت میں بھی جن و انس کو مخاطب کر کے ان پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑنے کا بیان ہے، مطلب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے جہنم کے مجرمین کو مذکورہ دونوں قسم کا عذاب دیا جائے اور عض مفسرین نے اس آیت کو پچھلی آیت کا تکملہ قرار دیکر یہ معنی کئے ہیں کہ اے جن و انسانو ! آسمانوں کی حدود سے نکل جانا تمہارے بس کی بات نہیں، اگر تم ایسا ارادہ کر بھی لو تو جس طرف تم بھاگ کر جائو گے تو آگ کے شعلے اور دھوئیں کے بگولے تمہیں گھیر لیں گے (ابن کثیر) اس وقت تمہاری کوئی مدد نہ کرے گا۔