54. Surah Al-Qamar

القمرThe Moon · 55 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 54:1–18

اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ Open ayah 54:1 in the Quran reader

قیامت قریب آپہنچی اور چاند شق ہوگیا

وَ اِنْ یَّرَوْا اٰیَةً یُّعْرِضُوْا وَ یَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ Open ayah 54:2 in the Quran reader

اور اگر (کافر) کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ ایک ہمیشہ کا جادو ہے

وَ كَذَّبُوْا وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ Open ayah 54:3 in the Quran reader

اور انہوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی اور ہر کام کا وقت مقرر ہے

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَآءِ مَا فِیْهِ مُزْدَجَرٌۙ Open ayah 54:4 in the Quran reader

اور ان کو ایسے حالات (سابقین) پہنچ چکے ہیں جن میں عبرت ہے

حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُۙ Open ayah 54:5 in the Quran reader

اور کامل دانائی (کی کتاب بھی) لیکن ڈرانا ان کو کچھ فائدہ نہیں دیتا

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ١ۘ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَیْءٍ نُّكُرٍۙ Open ayah 54:6 in the Quran reader

تو تم بھی ان کی پروا نہ کرو جس دن بلانے والا ان کو ایک ناخوش چیز کی طرف بلائے گا

خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌۙ Open ayah 54:7 in the Quran reader

تو آنکھیں نیچی کئے ہوئے قبروں سے نکل پڑیں گے گویا بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیں

مُّهْطِعِیْنَ اِلَى الدَّاعِ١ؕ یَقُوْلُ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ Open ayah 54:8 in the Quran reader

اس بلانے والے کی طرف دوڑتے جاتے ہوں گے ؟ کافر کہیں گے یہ دن بڑا سخت ہے

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ فَكَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَ قَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّ ازْدُجِرَ Open ayah 54:9 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم نے بھی تکذیب کی تھی تو انہوں نے ہمارے بندوں کو جھٹلایا اور کہا کہ دیوانہ ہے اور انہیں ڈانٹا بھی

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ Open ayah 54:10 in the Quran reader

تو انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ (بار الہا) میں (انکے مقابلے میں) کمزور ہوں تو (ان سے) بدلا لے

فَفَتَحْنَاۤ اَبْوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْهَمِرٍ٘ۖ Open ayah 54:11 in the Quran reader

پس ہم نے زور کے مینہ سے آسمان کے دہانے کھول دئیے

وَّ فَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا فَالْتَقَى الْمَآءُ عَلٰۤى اَمْرٍ قَدْ قُدِرَۚ Open ayah 54:12 in the Quran reader

اور زمین میں چشمے جاری کر دئیے تو پانی ایک کام کے لئے جو مقدر ہوچکا تھا جمع ہوگیا

وَ حَمَلْنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍۙ Open ayah 54:13 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کو ایک کشتی پر جو تختوں اور میخوں سے تیار کی گئی تھی سوار کرلیا

تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا١ۚ جَزَآءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ Open ayah 54:14 in the Quran reader

وہ ہماری آنکھوں کے سامنے چلتی تھی (یہ سب کچھ) اس شخص کے انتقام کے لئے (کیا گیا) جس کو کافر مانتے نہ تھے

وَ لَقَدْ تَّرَكْنٰهَاۤ اٰیَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:15 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو ایک عبرت بنا چھوڑا تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے ؟

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:16 in the Quran reader

سو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا ؟

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:17 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے ؟

كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:18 in the Quran reader

عاد نے بھی تکذیب کی تھی سو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا ؟

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قیامت قریب آگئی، اور چاند شق ہوگیا یعنی دو ٹکڑے ہوگیا، ایک ٹکڑا (جبل) ابی قبیس پر اور (دوسرا جبل) قعیقعان پر (تھا) آپ ﷺ کے معجزے کے طور پر جبکہ آپ سے معجزے کا سوال کیا گیا، تو آپ نے فرمایا گواہ رہو (رواہ الشیخان) اور اگر کفار قریش آپ کا کوئی معجزہ دیکھتے ہیں جیسا کہ شق القمر کا تو اعراض کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ یہ بڑا بھاری جادو ہے قوی جادو ہے یہ مرۃ بمعنی قوۃ یا بمعنی دائم ہے (سابق سے چلا آ نے والا) اور ان لوگوں نے نبی ﷺ کی تکذیب کی اور باطل میں اپنی خواہشات کی پیروی کی اور ہر کام خواہ خیر ہو یا شر اس کے مستحقین پر جنت یا دوزخ میں واقع ہونے ولا ہے اور یقینا ان کے پاس اپنے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کی خبریں آچکی ہیں جن میں ان کے لئے جھڑک ہے صمزدجر) اسم مصدر ہے یا اسم مکان ہے اور دال تائے افتعال سے بدلی ہوئی ہے اور ازدجرتہ، زجرتہ کے معنی میں ہے، میں نے اس کو سختی سے جھڑک دیا اور ماموصولہ ہے یا موصوفہ اور قرآن کامل عقل کی بات ہے لیکن ان کو ڈرانے والی باتوں نے بھی کوئی فائدہ نہیں دیا نذر نذیر کی جمع ہے معنی منذر کے ہے، یعنی وہ باتیں جو ان کو ڈرانے والی ہیں اور مانفی کے لئے ہے، یا استفہام انکاری ہے، ثانی صورت میں (تغن کا) مفعول مقدم ہوگا سوائے نبی آپ ان سے اعراض کریں یا قبلکا فائدہ ہے اور اس پر کلام تام ہوا جس دن ایک پکارنے والا ایک ناگوار چیز کی طرف پکارے گا وہ اسرافیل ہے اور یوم کا ناصب بعد میں آنے والا یخرجون ہے نکر کاف کے ضمہ اور سکون کے ساتھن ہے یعنی ناپسندیدہ شئی جس کو نفوس ای کی شدت کی وجہ سے ناگوار سمجھتے ہوں اور وہ حساب ہے یہ لوگ ذلت کے ساتھ نظریں نیچے کئے ہوئے اور ایک قرأت میں خشعاً خاء کے ضمہ اور شین مشدد کے ساتھ ہے، قبروں سے تیزی سے نکل پڑیں گے خشعاً ، یخرجون کی ضمیر فاعل سے حال ہے گویا کہ وہ پھیلی (منتشر) ٹٹڈیاں ہیں وہ خوف اور حیرت کی وجہ سے یہ بھی نہ سمجھ رہے ہوں گے کہ وہاں کہاں جا رہے ہیں ؟ اور جملہ، یخرجون، کے فاعل سے حال ہے اور اسی طرح اللہ کا قول مھطعین ہے یعنی تیزی سے گردن اٹھائے ہوئے داعی کی طرف نکل پڑیں گے، ان میں سے کافر کہیں گے یہ سخت دن ہے یعنی کافروں پر سخت ہے جیسا کہ سورة مدثر میں یوم عسیر علی الکافرین ہے ان سے یعنی قریش سے پہلے قوم نوح نے بھی ہمارے بندے نوح کو جھٹلایا تھا اور مجنون کہہ کر جھڑک دیا تھا یعنی گالی وغیرہ دے کر ڈانٹ دیا تھا، پس اس نے اپنے رب سے دعا کی انی فتحہ کے ساتھ یعنی بانی ہے میں بےبس ہوں تو میری مدد کر تو ہم نے آسمان کے دروازوں کو زور دار (بہنے والے) پانی کے لئے کھولدیا ففتحنا تاء کی تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے، پس ہم نے زمین کے چشموں کو جاری کردیا تو زمین سے چشمے ابل پڑے پھر پانی مل گیا یعنی آسمان اور زمین کا پانی اس حالت پر ہوگیا کہ جس حالت پر ازل میں مقدر کردیا گیا تھا اور وہ حالت ان کا غرق ہو کر ہلاک ہونا ہے اور ہم نے نوح (علیہ السلام) کو تختوں اور مخیوں والی کشتی پر سوار کردیا دسر وہ چیز جس کے ذریعہ تختوں کو جوڑا جائے، میخیں وغیرہ اس کا واحد دسار ہے جیسے (کتب) کتاب کی جمع ہے جو ہماری نگرانی ہماری نظروں کے سامنے یعنی ہماری حفاظت میں چل رہی تھی ان کو اس شخص کے انتقام میں غرق کردیا گیا جس کی ناشکری کی گئی، جزائً فعل مقد کی وجہ سے منصوب ہے، ای اغرقوا انتصاراً (انتقاماً ) اور وہ شخص نوح تھا، کفر کو معروف بھی پڑھا گیا ہے، یعنی ان کو غرق کردیا گیا ان کے نافرمانی کرنے کی وجہ سے بیشک ہم نے اس کو یعنی فعل (واقعہ) کو نشانی بنا کر باقی رکھا اس شخص کے لئے جو اس واقعہ سے عبرت حاصل کرے، یعنی اس واقعہ کی خبر شائع ہوگئی اور باقی رہ گئی، پس کیا کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا یعنی عبرت و نصیحت حاصل کرنے والا (مدکر) کی اصل مذتکر ہے تاء کو دال مہملہ سے بدل دیا گیا، اسی طرح ذال معجمہ کو دال سے بدل دیا گیا اور دال کو دال میں ادغام کردیا گیا سو کیسا رہا میرا عذاب اور ڈرانا نذر بمعنی انذاری ہے، استفہام تقریری ہے، اور یکف کان کی خبر ہے اور کیف حالت سے سوال کرنے کے لئے ہے اور رمعنی (آیت کے) مخاطبین کو نوح علیہ اصلاۃ والسلام کے مکذبین پر وقوع عذاب کے اقرار پر آمادہ کرتا ہے کہ عذاب برمحل واقع ہوا، اور اس کو اپنے قول انا ارسلنا الخ سے بیان فرمایا کہ ہم نے ان پر ایک منحوس دن میں دائمی نحوست والی تیز و تند مسلسل چلنے والی یا قوی ہوا بھیجی یعنی سخت آواز والی اور وہ مہینے کا آخری چہار شنبہ تھا، جو گڑھوں میں چھپے ہوئے لوگوں کو (بھی) نکال کر پھینک رہی تھی، اور ان کو سر کے بل پٹخ رہی تھی اور ان کی گردنوں کو کوٹ دیتی تھی جس کی وجہ سے ان کا سر جسم سے جدا ہوجاتا تھا یعنی ان کا مذکورہ حال ایسا تھا گویا کہ وہ زمین پر پڑے ہوئے کھجور کے کٹے ہوئے تنے ہیں اور ان کے دراز قد ہونے کی وجہ سے ان کو کمجوروں کے تنوں سے تشبیہ دی ہے نخل کو یہاں مذکر اور سورة حاقہ میں مونث دونوں جگہ فواصل کی رعایت کی وجہ سے نخل خاویۃ مئونث ذکر کیا ہے تو کیسا رہا میرا عذاب اور ڈران ؟ اور بیشک ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کردیا پس ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : قربت القیامۃ اقترب کی تفسیر قرب سے کر کے اشارہ کردیا کہ مزید بمعنی مجرد ہے جیسے اقتدر بمعنی قدر سوال : مجرد کو مزید سے کیوں تعبیر کیا ؟ جواب : قرب کے معنی میں مبالغہ ظاہر کرنے کے لئے، اس لئے کہ زیادتی حروف زیادتی معنی پر دلالت کرتی ہے۔ قولہ : انشق القمر تیسری اور چودھویں شب کے درمیانی چاند کو قمر کہتے ہیں، اس سے پہلے کے چاند کو ہلاک اور چودھویں شب کے چاند کو بدر کہتے ہیں۔ قمر ہمارے نظام شمسی کا قریب ترین سیارہ ہے، سابقہ تحقیق کے مطابق قمر زمین سے دو لاکھ چالیس ہزار میل کی مسافت پر واقع تھا، مگر اب جدید تحقیق کے مطابق زمین سے چاند کا فاصلہ دو لاکھ چھبیس ہزار نو سو ستر اعشاریہ نو میل ہے، اس سے پہلے اتنی صحیح پیمائش کبھی نہیں کی گئی تھی جو کیلی فورنیا (امریکہ) کی یونیورسٹی کی رصد رسد گاہ سے چھوڑے گئے اپالو گیارہ میں نصب کئے گئے مسافت پیما آلے کے ذریعہ کی گئی ہے اپالو گیارہ 16 جولائی بروز چہار شنبہ 1969 ء کو خلائی سفر پر روانہ ہوا تھا۔ (فلکیات جدیدہ) قولہ : قوی اودائم اس اضافہ کا مقصد مستمر کے معنی کو بیان کرنا ہے، مفسر علامہ نے مستمر کے دو معنی بیان کئے ہیں اول بمعنی قوی، اس صورت میں مرۃ سے ماخوذ ہوگا اس لئے کہ مرۃ کے معنی قوت کے ہیں، جب امر قوی اور مستحکم ہوجاتا ہے تو بولا جاتا ہے، استمر الشی، ای قوی واستحکم مطلب یہ ہے کہ یہ بڑا طاقتور جادو ہے، دوم بمعنی دائم اس صورت میں استمرار سے مشتق ہوگا جس کے معنی ہیں دائمی یا سابق سے چلا آرہا ہے، مطلب یہ ہے کہ محمد نے شب و روز کی جادوگری کا جو سلسلہ چلا رکھا ہے یہ بھی اسی کی ایک کڑی ہے، مذکورہ دو معانی کے عالوہ مستمر کے دو معنی اور بھی ہیں جن کو بعض مفسرین نے اختیار فرمایا ہے، (؁ ول) گذر جانے والا، فنا ہوجانے والا، باقی نہ رہنے والا، اس صورت میں مار بمعنی ذاھب سے مشتق ہوگا، اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جس طرح اور جادوگذر گئے یہ بھی گذر جائے گا اس کا اثر بھی دیرپا نہ ہوگا (دوسرے) معنی بدمزہ ناخوشگوار، کڑوے کے ہیں، اس صورت میں مر سے مشتق ہوگا جس کے معنی کڑوے کسیلے اور بدمزہ کے ہیں اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جس طرح کڑوی اور بدمزہ چیز حلق سے نیچے نہیں اترتی اسی طرح محمد کی باتیں اور معجزے بھی ہمارے حلق یس نہیں اترتے۔ سوال : کذبوا کا عطف یعرضوا پر ہے، معطوف علیہ مضارع اور معطوف ماضی اس میں کیا نکتہ ہے ؟ جواب : اس میں نکتہ یہ ہے کہ ماضی کا صیغہ لا کر اشارہ کردیا کہ تکذیب اور اتباع ہوی یہ ان کی پرانی اور قدیم عادت ہے کوئی نئی عادت نہیں ہے۔ قولہ : ولقد جاء ھم من النباء مافیہ مزدجر میں من تبعیضیہ ہے مراد امم مکذبہ کی وہ خبریں ہیں جو قرآن میں بیان کی گئی ہیں۔ قولہ : مزدجر مصدر میمی ہے معنی میں ازدجار کے ہے، اسم مکان بھی ہوسکتا ہے یعنی ان کے پاس ایسی خبریں آئیں کہ جو مقام ازدجار میں ہیں، من الانباء حال ہونے کی وجہ سے محل میں نصب کے ہے، اور ماذو الحال ہے ماموصولہ اور موصوفہ دونوں ہوسکتا ہے اور دونوں صورتوں میں ما، جاء کا فاعل ہے اور فیہ خبر مقدم اور مزدجر مبتداء مئوخر ہے اور جملہ ما کا صلہ ہے۔ قولہ : فماتغن النذر قولہ : خبر مبتداء محذوف ای ہو حکمۃ قولہ : مھطعین اھطاع سے اسم فاعل ہے اور یخرجون کی ضمیر سے حال ہے معنی گردن اٹھا کر تیزی سے چلنا۔ قولہ : یقول الکافرون یہ جملہ مستانفہ ہے، اس صورت میں ایک سوال مقدر کا جواب ہوگا، روز قیامت کی شدت اور اس کی ہولناکی کے بیان سے سوال پیدا ہوا کہ اس وقت کافروں کا کیا ہوگا ؟ جواب دیا : وہ کہیں گے کہ یہ دن تو بڑا سخت ہے اور بعض حضرات نے یخرجون کی میر سے حال قرار دیا ہے لیکن اس صورت میں ایک سوال پیدا ہوگا کہ جملہ جب حال واقع ہو تو اس میں رابطہ کا ہونا ضروری ہے حالانکہ یہاں کوئی رابطہ نہیں ہے۔ قولہ : مفسر علام نے منھم مقدر مان کر اسی سوال کا جواب دیا ہے۔ قولہ : انت الفعل لمعنی قوم اس عبارت سے بھی ایک سوال مقدر کا جواب مقصود ہے۔ سوال :۔ سوال یہ ہے کہ قوم جو کہ مذکر ہے کذبت کا فاعل ہے، فعل و فاعل میں مطابقت نہیں ہے۔ جواب : قوم معنی کے اعتبار سے مئونث ہے یعنی امۃ کے معنی میں ہے افراد کثیرہ پر مشتمل ہونے کی وجہ سے مئونث معنوی ہے۔ قولہ : فجرنا الارض عیوناً عیوناً تمیز ہونے کی وجہ سے منصوب ہے جو کہ مفعول سے محول ہے، تقدیر عبارت یہ ہے۔ فجرناعیون الارض اور بعض حضرات نے فاعل سے محول قرار دیا ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہوگی انفجرت عیون الارض تفسیر و تشریح ربط :۔ گزشتہ سورت (النجم) ازقت الآزقۃ الخ پر ختم ہوئی ہے جس میں قیامت کے قریب آجانے کا ذکر ہے، اس سورت کو اسی مضمون سے شروع کیا گیا ہے، اقتربت الساعۃ وانشق القمر آگے قرب قیامت کی دلیل معجزہ، شق القمر کا ذکر فرمایا گیا۔ (معارف) زمانہ نزول : اس سورت میں واقعہ شق القمر مذکورہ ہے، اس سے اس سورت کا زمانہ نزول متعین ہوجاتا ہے، محمد ثین و مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ واقعہ ہجرت سے تقریباً پانچ سال قبل مکہ معظمہ میں منیٰ کے مقام پر پیش آیا۔ یہ سورت بھی ان سورتوں میں سے ہے جن کو آپ نماز عید میں پڑھا کرتے تھے۔ معجزہ شق القمر : مشرکین مکہ نے آپ کی نبوت کی صداقت کے ثبوت کے طور پر شق القمر کا معجزہ طلب کیا تھا بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مطلق نشانی کا مطالبہ کیا تھا اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ معتین طور پر شق القمر کا معجزہ طلب کیا تھا جیسا کہ حرت انس کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہجرت سے تقریباً پانچ سال پہلے کا واقعہ ہے کہ آنحضور ﷺ ایک رات مقام منی میں تشریف فرما تھے، مشرکین مکہ کے کچھ سردار موجود تھے جن میں ولید، ابوجہل، عاص بن وائل، اسود بن عبدالمطلب اور نضر بن الحاثر شامل تھے، چاندنی رات تھی چودھویں کا چاند تھا، ان حضرات نے دلیل صداقت کے طور پر چاند کے دو ٹکڑے کرنے کا مطالبہ کیا، آپ ﷺ نے فرمایا اگر میں ایسا کر دوں تو تم ایمان لے آئو گے ؟ سب نے کہا ہاں ! رسول اللہ ﷺ نے اللہ رب العالمین سے دعاء فرمائی حق تعالیٰ نے شق القمر کا معجزہ ظاہر فرما دیا، آپ ﷺ نے فرمایا یا ابسلمہ عبدالاسد و الارقم بن الارقم اشھدوا اے فلاں و فلاں دیکھو اور گواہی دو ۔ معجزہ کا ثبوت قرآن کریم کی اس آیت سے ہے، وانشق القمر اور احادیث صحیحہ جو صحابہ کرام کی ایک جماعت کی روایت سے آئی ہے جن میں حضرت علی عبداللہ بن مسعود عبداللہ بن عمر جبیر بن مطعم ابن عباس انس بن مالک حضرت حذیفہ ؓ وغیرہ شامل ہیں، ان میں سے تین بزرگ یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت حذیفہ اور حضرت جبیر بن مطعم تصریح کرتے ہیں کہ وہ اس واقعہ کے عینی شاہد ہیں اور دو بزرگ ایسے ہیں کہ جو اس واقعہ کے عینی شاہد تو نہیں ہوسکتے، کیونکہ یہ ان میں سے ایک یعنی عبداللہ بن عباس ؓ کی پیدائش سے پہلے کا واقعہ ہے اور دوسرے یعنی حضرت انس ؓ بن مالک اس وقت بچے تھے لیکن چونکہ یہ دونوں حضرات صحابی ہیں اس لئے ظاہر ہے کہ انہوں نے ایسے سن رسیدہ صحابیوں سے سن کر ہی اسے روایت کیا ہوگا جو اس واقعہ کا براہ راست علم رکھتے تھے امام طحاوی اور ابن کثیر نے واقعہ شق القمر کی روایات کو متواتر قرار دیا ہے اس لئے اس معجزہ کا قطعی دلائل سے ثبوت ہے۔ واقعہ کی تفصیل مشرکین مکہ کے مطالبہ پر حق تعالیٰ نے آپ ﷺ کی صداقت کے طور پر معجزہ ظاہر فرمایا چاند کے دو ٹکڑے ہو کر ایک مشرق کی طرف اور دوسرا مغرب کی طرف چلا گیا اور دونوں ٹکڑوں کے درمیان پہاڑ حائل نظر آنے لگا، رسول اللہ ﷺ نے حاضرین سے فرمایا کہ دیکھو اور شہادت دو جب سب لوگوں نے صاف طور پر یہ معجزہ دیکھ لیا تو یہ دونوں ٹکڑے پھر آپس میں مل گئے۔ کفار کا دلیل صداقت کو ماننے سے انکار : اس کھلے ہوئے معجزے کا انکار تو کسی آنکھوں والے سے ممکن نہ ہوسکتا تھا مگر برا ہو تعصب اور ہٹ دھرمی کا کہ مشرکین کہنے لگے کہ محمد ﷺ نے ہم پر جادو کردیا تھا اس لئے ہماری آنکھوں نے دھوکا کھایا، دوسرے لوگ بولے کہ محمد ﷺ ہم پر جادو کرسکتے ہیں تمام لوگوں پر تو جادو نہیں کرسکتے، باہر کے لوگوں کو آنے دو ان سے معلوم کریں گے کہ یہ واقعہ انہوں نے بھی دیکھا یا نہیں ؟ باہر سے جب کچھ لوگ آئے اور ان سے دریافت کیا تو انہوں نے شہادت دی کہ وہ بھی یہ منظر دیکھ چکے ہیں۔ ایک مغالطہ : بعض روایات جو حضرت انس ؓ سے مروی ہیں ان کی بناء پر یہ غلط فہمی پیدا ہوتی ہے کہ شق القمر کا واقعہ ایک مرتبہ نہیں بلکہ دو مرتبہ پیش آیا تھا، لیکن اول تو صحابہ میں سے کسی اور نے یہ بات بیان نہیں کی، دوسری بات یہ کہ خود انس ؓ کی بعض روایات میں مرتین کے بجائے فرقتین اور شقتین کے الفاظ ہیں، تیر سے یہ کہ قرآن مجید صرف ایک ہی انشقاق کا ذکر کرتا ہے، ان شواہد کی روشنی میں صحیح بات یہی ہے کہ یہ واقعہ صرف ایک ہی مرتبہ پیش آیا تھا۔ چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے یا قرب قیامت میں ہوں گے : بعض لوگوں نے (وانشق القمر) کا مطلب یہ لیا ہے کہ چاند پھٹ جائے گا لیکن عربی زبان کے لحاظ سے چاہے یہ مطلب لینا ممکن ہو مگر عبارت کا سیاق وسباق اس معنی کو مراد لینے سے صاف انکار کرتا ہے اول تو یہ معنی مراد لینے سے پہلا فقرہ بےمعنی ہوجاتا ہے، چاند اگر اس کلام کے نزول کے وقت پھٹا نہیں تھا، بلکہ وہ آئندہ کبھی پھٹنے والا ہے تو اس کی بنئا پر یہ کہنا بالکل مہمل بات ہے کہ قیامت کی گھڑی قریب آگئی ہے، مستقبل میں پیش آنے والا کوئی واقعہ اس کے قرب کی علامت کیسے قرار پاسکتا ہے کہ اسے شہادت کے طور پر پیش کرنا ایک معقول طرز استدلال ہو، دوسرے یہ مطلب لینے کے بعد جب ہم آگے کی عبارت پڑھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں رکھتی، آگے کی عبارت صاف بتارہی ہے کہ لوگوں نے اس وقت کوئی نشانی دیکھی تھی جو امکان قیامت کی صریح علامت تھی مگر انہوں نے اسے جادو قرار دیکر جھٹلا دیا اور اپنے اس خیال پر جمے رہے کہ قیامت کا آنا ممکن نہیں ہے، اس سیاق وسباق میں انشق القمر کے ال فاظ اسی صورت میں ٹھیک بیٹھ سکتے ہیں جب ان کا مطلب ” چاند پھٹ گیا “ لیا جائے اور اگر اشنق القمر کو چاناد پھٹ جائے گا کے معنی میں لے لئے جائیں تو بعد کی ساری با بےجوڑ ہوجاتی ہے، سلسلہ کلام میں اس فقرے کو رکھ کر دیکھ لیجیے آپ کو خود محسوس ہوجائے گا کہ اس کی وجہ سے ساری عبارت بےمعنی ہوگئی۔ معجزہ شق القمر پر اعتراضات : معترضین شق القمر پر دو طرح کے اعتراضات کرتے ہیں اول تو ان کے نزدیک ایسا ہونا ممکن ہی نہیں ہے کہ چاند جیسے عظیم کرہ کے دو ٹکڑے پھٹ کر الگ ہوجائیں اور سینکڑوں بلکہ ہزاروں میل کے فاصلہ تک ایک دوسرے سے دور جانے کے بعد پھر دوبارہ جڑ جائیں، دوسرے وہ کہتے ہیں کہ اگر ایسا ہوا ہوتا تو یہ دنیا بھر میں مشہور ہوجاتا، تاریخی کتابوں میں اس کا ذکر آتا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ دونوں اعتراضات بالکل بےوزن اور بےحقیقت ہیں۔ جواب :۔ اول تو کسی دلیل عقلی سے اس کا محال ہونا اب تک ثابت نہیں کیا جاسکا ہے اور محض استبعاد کی بنئا پر ایسی قطعی الثبوت چیزوں کو رد نہیں کیا جاسکتا، بلکہ استبعاد تو اعجاز کے لیء لازم ہے جہاں تک اس کے امکان کی بحث ہے، قدیم زمانہ میں تو شاید وہ چل بھی سکتی ھتی، لیکن موجودہ دور میں سیاروں کی ساخت کے متعلق انسان کو جو معلوات حاصل ہوئی ہیں ان کی بنئا پر یہ بات بالکل ممکن ہے کہ ایک کرہ اپنے اندر آتش فشانی کے باعث پھٹ جائے اور اس زبردست انفجار سے اس کے دو ٹکڑے ہو کر دور تک چلیجائیں اور پھر اپنی مرکزی قوت جاذبہ کے سبب وہ آپس میں آ ملیں اور اگر یہ انفجار اتنا شدید اور طاقتور ہو کہ مرکزی قوت جاذبہ کی گرفت سے باہر ہوجائے تو یہ بھی ممکن ہے کہ وہ ٹکڑے پھر آپس میں نہ ملیں اور اس کا صرف امکان ہی نہیں بلکہ واقعہ بھی ہے۔ کرہ ارض ایک زمانہ میں متصل ایک کرہ تھا : ماہرین کی غالب اکثریت اس پر متفق ہے کہ دنیا کے تمام بر اعظم کسی زمانہ میں ایک دوسرے سے پیوست ایک کرہ تھے، کوئی بیس کروڑ سال ہوئے زمین کے اندر کی آتش فشانی اور قوت طار دہ کی وجہ سے کرہ ارض میں انفجار پیدا ہوا اور یہ کرہ کئی حصوں میں تقسیم ہوگیا، اس کے ثبوت کی متعدد دلیلیں ہیں، اس بات کا خیال رہے کہ دیگر سیارتا کے مانند زمین اور چاند بھی سیارے ہیں بلکہ سائنس جدید کی تحقیق کے نتیجے سے معلوم ہوتا ہے کہ چاند زمین کا ایک حصہ ہے کسی زمان ہمیں کسی سیارہ کے تصادم یا اندرونی آتش فشانی کے نتیجے میں بحر الکاہل کے مقام سے الگ ہو کر زمین کے گرد اگر دگردش کرنے لگا، اور زمین سورج سے جدا شدہ ایک کرہ ہے جو سورج کے گردا گرد گردش کر رہا ہے، تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو ’ دفلکیات جدیدہ “ ‘ انفجار ارض کی پہلی دلیل : اگر تمام براعظموں کو ایک دوسرے سے ملا کر پیوست کردیا جائے تو ان کے ساحل ایک دوسرے سے اس طرح مل جائیں گے جیسے کسی ٹوٹی ہوئی چیز کے ٹکڑوں کو ملا کر ایک کردیا جاتا ہے اور وہ اپنی سابقہ حالت پر معلوم ہونے لگتی ہے۔ دوسری دلیل : یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ طویل و عریض سمندروں کے آر پار مختلف براعظموں کے مقابل ساحلوں پر جو پہاڑ ہیں یوں لگتا ہے جیسے ایک ہی سلسلہ کوہ کے حصے ہوں۔ تیسری دلیل : بر اعظم کے ایک دوسرے سے کسی زمانہ میں متصل ہونے کے حیاتیاتی شواہد بھی موجود ہیں، جنوبی امریکہ اور افریقہ میں بیسوں اقسام کے جانو رملتے ہیں جو ایک ہی نسل سے تعلق رکھتے ہیں، ظاہر ہے کہ یہ مماثلت و مشابہت بےوجہ نہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی زمانہ میں یہ دونوں بر اعظم ایک ہی تھے۔ جب کہ ارضی میں انفجار و انشقاق مشاہداتی اور عقلیاتی دلائل سے ثابت ہے تو کیا وجہ ہے کہ کرہ قمر میں یہ انفجار و انشقاق نہیں ہوسکتا ؟ مذکوہ دلائل سے ان لوگوں کا نظریہ باطل ہوگیا جو کرہ قمر میں خرق و التیام کو محال کہہ کر معجزہ شق القمر کا انکار کرتے ہیں۔ دوسرا اعتراض : دوسرا عامیانہ اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اگر ایسا ہوا ہوتا تو یہ واقعہ دنیا بھر میں مشہور ہوجاتا، تاریخی کتابوں میں اس کا ذکر آتا۔ جواب :۔ یہ اعتراض سا لئے بےوزن ہے کہ یہ واقعہ اچانک بس ایک لمحہ کے لئے پیش آیا تھا، ضروری نہیں تھا کہ اس خاص لمحہ میں دنیا بھر کی نگاہیں چاند کی طرف لگی ہوئی ہوں، نیز اس سے کوئی زور دار دھماکہ نہیں ہوا تھا کہ لوگوں کی وتجہ اس کی طرف منعطف ہوتی اور پہلے سے اس کی کوئی اطلاع بھی نہیں تھی کہ لوگ اس کے منتظر ہو کر آسمان کی طرف دیکھ رہے ہوتے، اس کے علاوہ پوری روئے زمین پر اسے دیکھا نہیں جاسکتا تھا، بلکہ صرف عرب اور اس کے مشرقی جانب کے ممالک ہی میں اس وقت چاند نکلا ہوا تھا، باقی بہت سے ممالک میں تو اس وقت دن ہوگا، جہاں رات ہوگی بھی تو کہیں نصف شب اور آخر شب کا وقت ہوگا جس وقت عام دنیا سوتی ہے اور جاگنے والے بھی تو ہر وقت چاند کو نہیں تکتے رہتے اس کے علاوہ زمین پر پھیلی ہوئی چاندنی میں چاند کے دو ٹکڑے ہونے سے کچھ فرق بھی نہیں پڑتا جس کی وجہ سے اس کی طرف کسی کو توجہ ہوتی پھر یہ تھوڑی دیر کا قصہ تھا، روز مرہ دیکھا جاتا ہے کہ کسی ملک میں چاند گہن ہوتا ہے اور آج کل تو پہلے سے اس کے اعلانتا بھی ہوجاتے ہیں اس کے باوجود ہزاروں لاکھوں آدمی اس سے بالکل بیخبر رہتے ہیں تو کیا اس نے بیخبر ی کو اس بات کی دلیل بنایا جاسکتا ہے کہ چاند گہن ہوا ہی نہیں ہے اس لئے دنیا کی عام تاریخوں میں مذکور نہ ہونے سے اس واقعہ کی تکذیب نہیں ہوسکتی۔ دوسرا جواب :۔ سابقہ آسمانی کاتبوں میں بعض ایسے ہی واقعات کا ذکر ہے مگر کسی تاریخی کتاب میں اس کا تذکرہ نہیں ہے تو کیا یہ مان لیا جائے کہ یہ واقعات ہوئے ہی نہیں، ہم ان واقعات میں سے صرف دو واقعہ کا تذکرہ کرتے ہیں۔ پہلا واقعہ : کتاب یشوع (ترجمہ عربی مطبوعہ 1844 ء کے مطابق) کے باب نمبر 10 آیت نمبر 12 میں ہے ” اور اس دن جب خداوند نے اموریوں کو بنی اسرائیل کے قابو میں کردیا، یشوع نے خداوند کے حضور بنی اسرائیل کے سامنے یہ کہا اے سورج تو جبعون پر اور اے چاند تو وادی ایالون پر ٹھہرا رہ، سورج ٹھہر گیا اور چاند تھما رہا جب تک قوم نے اپنے دشمنوں سے اپنا اتنقام نہ لے لیا اور سورج آسمانوں کے بیچوں بیچ ٹھہرا رہا اور تقریباً سارے دن ڈوبنے میں جلدی نہ کی۔ “ اور کتاب تحقیق الدین الحق مطبوعہ 1846 ء حصہ نمبر 3 کے باب 4 صفحہ 362 میں یوں ہے کہ ” یوشع کی دعاء سے سورج 24 گھنٹے کھڑا رہا “ ظاہر ہے کہ یہ واقعہ بڑا عظیم الشان تھا اور عیسائی نظریئے کے مطابق مسیح کی پیدائش سے ایک ہزار چار سو سال قبل پیش آیا، اگر یہ واقعہ صحیح ہوتا تو اس کا علم تمام روئے زمین کے انسانوں کو ہونا ضروری تھا، بڑے سے بڑا بادل بھی اس کے علم سے مانع نہیں ہوسکتا تھا اور نہ اس کا اختلاف اس میں مزاحم اس لئے کہ اگر ہم یہ بھی سلیم کرلیں کہ بعض مقامات پر اس وقت رات تھی تب بھی اس کا اظہر ہونا اس لئے ضروری تھا کہ ان کی رات اس دن چوبیس گھنٹے رہی ہو، نیز یہ زبردست حادثہ نہ ہندوستان کی تاریخ میں کہیں موجود ہے نہ اہل چین و اہل فارس کی کاتبوں میں اس کا تذکرہ ہے، ہم نے خود ہندوستان کے علماء سے اس کی تکذیب سنی ہے اور ان کو اس کے غلط ہونے کا یقین کامل ہے۔ دوسرا واقعہ : کتاب الاشعیاء باب 38 آیت 8 میں حضرت اشعیاء کے معجزے رجوع شمس کے سلسلہ میں یوں کہا گیا ہے، ” چناچہ آسمان جن درجوں سے ڈھل گیا تھا ان میں کے دس درجے پھر لوٹ گیا۔ “ یہ حادثہ بھی عظیم الشان ہے اور چونکہ دن میں پیش آیا تھا اس لئے ضروری ہے کہ دنیا کے اکثر انسانوں کو اس کا علم ہو مسیح کی ولادت سے 713 سال شمسی قبل واقع ہوا، مگر اس کا تذکرہ نہ تو ہندوستان کی تاریخوں میں پایا جاتا ہے اور نہ اہل چین و اہل فارس کی کتابوں میں مخلصاً ) مزید تفصیل کے لئے دیکھئے، مولانا رحمت اللہ مرحوم کی مشہور کتاب اظہار الحق کا ترجمہ بائبل سے قرآن تک (ص 126 تا 137) تاریخی شہادت : اس کے علاوہ ہندوستان کی مستند و مشہور تاریخ، تاریخ فرشتہ کے مقالہ نمبر 11 میں اس کا ذکر موجود ہے کہ ہندوستان میں مہاراجہ ملیبار نے یہ واقعہ بچشم خود دیکھا اور اپنے روزنامچہ میں لکھوایا اور یہی واقعہ اس کے اسلام لانے کا سبب بنا، حافظ مزی نے ابن تیمیمہ سے نقل کیا ہے کہ ایک مسافر کا بیان ہے کہ میں نے ہندوستان کے ایک مشہور شہر میں ایک پرانی عمارت دیکھی جس پر عمارت کی تاریخ تعمیر کے سلسلے میں لکھا تھا کہ یہ عمارت شق قمر والی رات میں بنائ گئی۔ (ترجمہ اظہار الحق، بائبل سے قرآن تک، ص 137)
Ayah 54:19

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّۙ Open ayah 54:19 in the Quran reader

ہم نے ان پر سخت منحوس دن میں آندھی چلائی

انا ارسلنا علیھم ریحاً صرصراً فی یوم نحس مستمر قوم عاد کو ہوا کے طوفان کے عذاب سے ہلاک کیا گیا تھا، کہتے ہیں کہ بدھ کی شام تھی جب اس تیز و تندیخ بستہ اور شاں شاں کرتی ہوئی ہوا کا آغاز ہوا، پھر مسلسل سات راتیں اور آٹھ دن برابر چلتی رہی یہ ہوا گھروں اور قلعوں میں بند اور گڑھوں میں چھپے ہوئے لوگوں کو اٹھاتی اور اس زور سے انہیں زمین پر پٹختی کہ ان کے سر ان کے دھڑ سے الگ ہوجاتے، یہ دن ان کے لئے عذاب کے اعتبار سے منحوس ثابت ہوا، اس کا یہ مطلب نہیں کہ بدھ کے دن یا کسی اور دن میں نحوست ہے جیسا کہ بعض لوگ کہتے ہیں مستمر کا مطلب ہے کہ یہ عذاب اس وقت تک جاری رہا جب تک کہ سب ہلاک نہیں ہوگئے۔
Ayahs 54:20–22

تَنْزِعُ النَّاسَ١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ Open ayah 54:20 in the Quran reader

وہ لوگوں کو (اس طرح) اکھیڑے ڈالتی تھی گویا اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:21 in the Quran reader

سو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ Open ayah 54:22 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے ؟

کانھم اعجاز نخل خاویۃ یہ درازی قد کے ساتھ انکے بےبسی اور لاچاری کا بھی اظہار ہے کہ عذاب الٰہی کے سامنے وہ کچھ نہ کرسکے درآنحالیکہ انہیں اپنی قوت و طاقت پر بڑا گھمنڈ تھا۔
Ayahs 54:23–24

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:23 in the Quran reader

ثمود نے بھی ہدایت کرنے والوں کو جھٹلایا

فَقَالُوْۤا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ Open ayah 54:24 in the Quran reader

اور کہا کہ بھلا ایک آدمی جو ہم ہی میں سے ہے ہم اس کی پیروی کریں ؟ یوں ہو تو ہم گمراہی اور دیوانگی میں پڑگئے

ترجمہ : ثمود نے ڈرانے والی چیزوں (یعنی تنبیہات) کی تکذیب کی نذر، نذیر کی جمع ہے یعنی ان امور کی کہ جن کے ذریعہ ان کو ان کے نبی صالح نے ڈرایا، اگر وہ ان پر ایمان نہ لائے اور ان کی پیروی نہ کی تو انہوں نے کہا کیا ہم ایسے شخص کی اتباع کریں جو ہم میں کا ایک فرد ہے بشراً ، ما اضمر کے قاعدہ سے منصوب ہے، منا اور واحدا دونوں بشر کی صفت ہیں اور نتبعہ، بشراً کے فعل ناصب کا مفسر ہے اور استفہام بمعنی نفی ہے معنی یہ ہیں کہ ہم اس کی کیوں اتباع کریں ؟ اور ہم بڑی جماتع ہیں اور وہ ہم میں کا ایک ہے اور فرشتہ بھی نہیں ہے یعنی ہم اس کی اتباع نہیں کریں گے، اگر ہم نے اس کی اتابع کی تو ہم گمراہی میں یعنی راہ راست سے بھٹکے ہوئے ہوں گے اور (حال) جنون میں ہوں گے، کیا ہم میں سے اس پر وحی نازل کی گئی ؟ یعنی اس کی طرف وحی نہیں بھیجی گئی (القی) دونوں ہمزوں کی تحقیق کے ساتھ اور دوسرے کی تسہیل کے ساتھ اور دونوں صورتوں میں دونوں کے درمیان ہمزہ داخل کر کے اور ادخال کو ترک کر کے (نہیں) بلکہ وہ اپنے اس دعوے میں کہ جو کچھ اس نے یان کیا وہ اس پر بذریعہ وحی بھیجا گیا ہے جھوٹا متکبر شیخی خورہ ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کو عنقریب کل یعنی آخرت میں معلوم ہوجائے گا کہ جھوٹا اور شیخی خوردہ کون ہے ؟ حالانکہ جھوٹے وہ خود ہیں اس لئے کہ ان کو اپنے نبی صالح کی تکذیب پر عذاب دیا جائے گا، ہم ان کی آزمائش کے لئے ایک اونٹنی ان کے مطالبہ کے مطابق پتھر سے نکالنے والے ہیں تاکہ ہم ان کو آزمائیں، اے صالح تو ان کا انتظا کر کہ وہ کیا کرنے والے ہیں ؟ اور ان کے ساتھ کیا (معاملہ) کیا جانے والا ہے ؟ اور تو ان ایذا رسانیوں پر صبر کر (اصطبر) کی طاء تاء افتعال سے بدلی ہئی ہے اور ان کو بتادو کہ پانی ان کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم شدہ ہے ایک دن ان کی باری ہے اور ایک دن اونٹنی کی ہر ایک اپنی اپنی باری پر حاضر ہوگا قوم اپنی باری کے دن حاضر ہوگی اور اونٹنی اپنی باری پر، وہ لوگ اس طریقہ پر ایک زمانہ تک قائم رہے پھر وہ اس سے اکتا گئے تو انہوں نے اونٹنی اپنی باری پر، وہ لوگ اس طریقہ پر ایک زمانہ تک قائم رہے، پھر وہ اس سے اکتا گئے تو انہوں نے اونٹنی کے قتل کا ارادہ کرلیا تو انہوں نے اپنے ساتھی قدار کو اس اونٹنی کے قتل کے لئے آواز دی تو اس نے تلوار لی اور اس تلوار سے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں یعنی ان کی موافقت (اور مشورہ سے) اس اونٹنی کو قتل کردیا تو کیسا رہا میرا عذاب اور ڈرانا ؟ یعنی میرا ان کو عذاب نازل کرنے سے پہلے عذاب سے ڈرانا (کیسا رہا) یعنی وہ برمحل واقع ہوا اور اس عذاب کو (اللہ تعالیٰ ٰ نے) اپنے قول انا ارسلنا علیھم صیحۃ الخ سے بیان فرمایا ہے تو ہم نے ان پر ایک چیخ بھیج دی تو وہ ایسے ہوگئے جیسے باڑھے بننے والے کی (باڑھ) کی روندی ہوئی گھاس، محتظر وہ شخص جو اپنی بکریوں (کی حفاظت) کے لئے سوکھی گھاس اور کانٹوں (وغیرہ) سے باڑھ بناتا ہے اس میں بکریوں کی بھیڑیوں اور درندوں سے حفاظت کرتا ہے اور اس گھاس سے (جب کچھ) گر جاتا ہے تو بکریاں اس کو روند دیتی ہیں یہی ھشیم ہے، بیشک ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے اس ان کردیا ہے، کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا، قوم لوط نے (بھی) ان چیزوں کو جھٹلایا جن سے ان کو لوط (علیہ السلام) کی زبانی ڈرایا گیا، بیشک ہم نے ان پر پتھر برسانے والی ہوا بھیجی یعنی ایسی ہوا جو ان پر کنکریاں برساتیھی اور وہ چھوٹی کنکریوں سے ایک تھی نہ کہ مٹھی بھر کر تو وہ ہلاک ہوگئے سوائے آل لوط کے اور آل لوط مع لوط کے ان کی دو بیٹیاں تھیں، ہم نے ان کو ایک صبح کے وقت نجات دی یعنی غیر متعین دن کی صبح میں اور اگر یوم معین (کی صبح) مراد ہو تو غیر منصرف ہوگا، اس لئے کہ یہ معرفہ ہے اور السحر سے معدول ہے، اس لئے کہ اس کا حق یہ ہے کہ معرفہ میں الف لام کے ساتھ استعمال ہو (رہی) یہ بات کہ آل لوط پر پتھر برسانے والی ہوا بھیجی گئی یا نہیں اس میں دو قول ہیں، پہلی صورت (یعنی بھیجنے کی صورت) میں تعبیر استثناء متصل ہوگی اور دوسری صورت (یعنی نہ بھیجنے کی صورت میں تعبیر استثناء منقطع ہوگی، تساھلاً (چشم پوشی کرتے ہوئے) اگر مستثنیٰ مستثنیٰ منہ کی جنس سے ہو ہمارے خصوصی انعام (احسان) کے طور پر (نعمۃ) مصدر ہے، انعاماً کے معنی میں ہم ایسی ہی یعنی اس چیز کے مثل ہر اس شخص کو جزاء دیتے ہیں جو ہماری نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے حال یہ ہے کہ وہ مومن ہو یا جو شخص اللہ پر اور اس کے رسوال پر ایمان لایا ہو اور اس کی اطاعت کی ہو اور ان کو لوط (علیہ السلام) نے ہماری پکڑ سے عذاب کے ذریعہ ڈرایا تو وہ جھگڑنے لگے اور ان کے ڈرانے کی تکذیب کی اور حضرت لوط سے ان کے مہمانوں کا مطالبہ کیا یعنی ان سے اس بات کا مطالبہ کیا کہ ان کے اور ان لوگوں کے درمیان آڑے نہ آئے جو اس کے پاس مہمانوں کی شکل میں آئے ہیں تاکہ ان کے ساتھ وہ عمل خبیث کریں اور وہ مہمان فرشتے تھے تو ہم نے ان کی آنکھیں ملیا میٹ کردیں یعنی ان کو اندھا کردیا اور آنکھوں کو بدون گڑھوں کے باقی چہرے کے مانند (ہموار) کردیا، اس طریقہ سے کہ جبرئیل نے ان کی آنکھوں پر اپنا پر مار دیا اور ہم نے ان سے کہا میرا عذاب اور ڈراوا چکھو یعنی میرے عاب اور ڈرانے کا ثمرہ اور نتیجہ (چکھو) اور بلاشبہ ان کو ایک دن صبح تڑکے دائمی عذاب نے پکڑ لیا یعنی آخرت کے عذاب سے جا ملنے والے عذاب نے (ان کو پکڑ لیا) پس میرے عذاب اور میرے ڈرانے کا مزہ چکھو اور بلاشبہ ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کردیا کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے ؟ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : بالامور التی انذرھم بھا، منذر کی تفسیر الامور المنذر بھا سے کر کے اشارہ کردیا کہ یہاں منذر سے مراد انبیاء نہیں ہیں بلکہ وہ امور مراد ہیں جن سے ڈرایا گیا ہے، دوسری صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ نذر نذیر بمعنی رسل کی جمع ہو اور نذر سے مراد رسول ہوں، اور نذیر کے بجائے نذر جمع کا صیغہ لانے میں یہ نکتہ ہوسکتا ہے کہ ایک رسول کی تکذیب تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ قولہ : منصوب علی الاشتغال یعنی بشراً ما اضمر عاملہ کے قاعدہ سے منصوب ہے، تقدیر عبارت یہ ہے ” انتبع بشراً منا واحداً نتبعہ فعل ناصب محذوف کا مفسر ہے۔ قولہ : جنون، سعر کی تفسیر جنون سے کر کے اشارہ کردیا کہ سعر مفرد ہے، جمع نہیں ہے، اس کے معنی خفت عقل کے ہیں، بولا جاتا ہے ناقۃ مسعورۃ مجنون کے مانند چلنے والی اونٹنی، اور سعر بمعنی نار کی جمع ہوسکتی ہے (القیض میں چار قراتیں ہیں اور چاروں سبعیہ ہیں۔ قولہ : قنۃ قتنۃ مرسلوا کا مفعول لہ ہے یعنی ہم ان کی آزمائش کے لئے پتھر کی ایک چٹان سے ایک اونٹنی نکالیں گے۔ قولہ : وبیسن الناقۃ مفسر علامہ کا مقصد اس اضافہ سے اس شبہ کو دور کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قول الماء قسمۃ بینھم سے معلوم ہوتا ہے کہ پانی کی باری صالح (علیہ السلام) کی قوم کے درمیان تھی حالانکہ پانی کی تقسیم قوم اور اونٹنی کے درمیان تھی، اسی شبہ کو دور کرنے کے لئے وبین الناقۃ کا اضافہ فرمایا۔ قولہ : موافقۃ لھم اس عبارت کے اضافہ کا مقصد اس آیت اور سورة شعراء کی آیت میں تطبیق دینا ہے، سورة شعراء میں فعقروھا جمع کے صیغے کے ساتھ ہے اور یہاں فعقر واحد کے صیغہ کے ساتھ ہے، تطبیق کی صورت میں یہ ہے کہ قاتل بالمبا شرتو قدار ہی تھا، مگر قتل کے مشورہ میں سب شریک تھے، اسی وجہ سے یہاں بالمبا شرقاتل کی طرف قتل کی نسبت کردی اور سوروہ شعرئا میں بالواسطہ قاتلوں کو بھی قتل میں شریک کرتے ہوئے جمع کا صیغہ استعمال کیا۔ قولہ : ھشیم صیغہ صفت مشبہ بمعنی مھشوم اسم مفعول، ریزہ ریزہ شدہ روندا ہوا۔ قولہ : من الاسحار اس اضافے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ سحر نکرہ ہے یعنی غیر معین دن کی صبح قولہ : ولوارید من یوم معین لمنع من الصرف الخ اس اضافے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ بسحر منصرف ہے اس لئے کہ اس کو نکرہ ماننے کی صورت میں اسباب منع صرف میں سے ایک سبب صرف عدل پایا جا رہا ہے کیونکہ سحر السحر سے معدول ہو کر آیا ہے اور اگر اس سے یوم معین کی صبح مراد لی جائے تو اس میں علمیت بھی موجود ہوگی، اس صورت میں اس میں دو سبب یعنی عدل اور علمیت ہونے کی وجہ سے غیر منصرف ہوگا۔ قولہ : تسمحاً ایک نسخہ میں تسامحا ہے، مطلب یہ ہے کہ الا آل لوط کو مستثنیٰ منقطع قرار دینا چشم پوشی کرتے ہوئے ہوسکتا ہے ورنہ اس کی کوئی صورت نہیں ہے اس لئے کہ آل لوط بھی قوم کے افراد ہیں جس کی وجہ سے مستثنیٰ منہ میں داخل ہیں لہٰذا یہ مستثنیٰ متصل ہوگا مگر ظاہر حال پر نظر کرتے ہوئے اس کو مستثنیٰ منقطع قرار دیا ہے۔ قولہ : نعمۃ مصدر یعنی نعمۃ نجینا کا مفعول مطلق بغیر لفظہ تاکید کے لئے ہے اس لئے کہ نجینا انعمنا کے معنی میں ہے اور نجینا کا مفعول لہ بھی ہوسکتا ہے اور فعل محذوف کا مفعول مطلق بلفظہ بھی ہوسکتا ہے ای انعمنا نعمۃ قولہ : اومن امن باللہ و رسولہ واطاعھا یہ پورا جملہ وھو مومن کا عطف تفسیری ہے۔ قولہ : تجادلوا و کذبوا یہ فتماروا کی تفسیر ہے اس کا مقصد ایک شبہ کو دفع کرنا ہے، شبہ یہ ہے کہ تماروا کا صلہ باء نہیں آتا حالانکہ یہاں صلہ باء واقع ہے۔ جواب :۔ جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ تماروا تجادلوا اور کذبوا کے معنی کو متضمن ہے جس کی وجہ سے باء کے ذریعہ تعدیہ درست ہے۔ تفسیر و تشریح کذبت ثمود بالنر سورة قمر کو قرب قیامت کے ذکر سے شروع کیا گیا تاکہ کفار و مشرکین جو دنیا کی ہوا و ہوس میں مبتلا اور آخرت سے غافل ہیں وہ ہوش میں آجائیں، پہلے روز قیامت کے عذاب کو بیان کیا گیا، اس کے بعد دنیا میں اس کے انجام بد کو بتلانے کے لئے پانچ مشہور عالم اقوام کے حالات اور انبیاء (علیہم السلام) کی مخالفت پر ان کے انجام بد اور دنیا میں بھی طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا ہونا بیان کیا گیا ہے۔ (معارف) سب سے پہلے قوم نوح کا ذکر کیا گیا، کیونکہ یہی دنیا کی سب سے پہلی قوم ہے جو عذاب الٰہی میں پکڑی گئی، یہ قصہ سابقہ آیات میں گذر چکا ہے، مذکورۃ الصدر آیات میں چار اقوام کا ذکر ہے، عاد ثمو، قوم لوط، قوم فرعون، ان کے مفصل واقعات قرآن کے متعدد مقامات میں بیان ہوئے ہیں یہاں ان کا اجمالی ذکر ہے، مذکورہ چاروں اقوام میں سے سب سے پہلے قوم ثمود کا ذکر ہے جو حضرت حضرت صالح (علیہ السلام) کی امت تھی، اس قوم کو عاد اخریٰ بھی کہت یہیں۔ قوم ثمود کو حضرت صالح (علیہ السلام) کی پیروی سے انکار تین وجہ سے تھا، ایک یہ کہ وہ بشر ہیں، دوسرے یہ کہ وہ اکیلے تنہا ہیں اور عام آدمی ہیں کوئی بڑے سردار نہیں اور نہ ان کے ساتھ کوئی جتھا ہے، تیر سے یہ کہ وہ ہماری قوم کے ایک فرد ہیں، ہم پر ان کی کوئی فضیلت و فوقیت حاصل نہیں، لہٰذا ایسی وصرت میں ہمارما ان کی پیروی کرنا اور ان کو اپنا بڑا مان لینا غلطی اور پاگل پن کے سوا کچھ نہ ہوگا۔
Ayahs 54:25–31

ءَاُلْقِیَ الذِّكْرُ عَلَیْهِ مِنْۢ بَیْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ Open ayah 54:25 in the Quran reader

کیا ہم سب میں سے اسی پر وحی نازل ہوئی ہے ؟ (نہیں) بلکہ یہ جھوٹا خود پسند ہے

سَیَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ Open ayah 54:26 in the Quran reader

ان کو کل ہی معلوم ہوجائے گا کہ کون جھوٹا خودپسند ہے

اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ فَارْتَقِبْهُمْ وَ اصْطَبِرْ٘ Open ayah 54:27 in the Quran reader

(اے صالح ! ) ہم ان کی آزمائش کیلئے اونٹنی بھیجنے والے ہیں تو تم ان کو دیکھتے رہو اور صبر کرو

وَ نَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌۢ بَیْنَهُمْ١ۚ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ Open ayah 54:28 in the Quran reader

اور ان کو آگاہ کردو کہ ان میں پانی کی باری مقرر کردی گئی ہے ہر (باری والے کو اپنی) باری پر آنا چاہیے

فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ Open ayah 54:29 in the Quran reader

تو ان لوگوں نے اپنے رفیق کو بلا یا تو اس نے اونٹنی کو پکڑ کر اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:30 in the Quran reader

(دیکھ لو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہے

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوْا كَهَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ Open ayah 54:31 in the Quran reader

ہم نے ان پر (عذاب کے لئے) ایک چیخ بھیجی تو وہ ایسے ہوگئے جیسے باڑ والے کی سوکھی اور ٹوٹی ہوئی باڑ

بل ھو کذاب اشر اشر ایسے برخود غلط اور خود پسند شخص کو کہتے ہیں جس کے دماغ میں اپنی بڑائی کا سود اسمایا ہوا ہو اور اس بناء پر ڈینگیں مارتا ہو، مطل یہ ہے کہ جب نہ تو یہ مافوق البشر قوتوں کا مالک ہے اور نہ یہ جتھا بند شخص ہے کہ اس کو عوام کی تائید و حمایت حاصل ہو اور نہ ہی یہ اوپر سے نازل کیا ہوا یا باہر سے آیا ہوا شخص ہے کہ اس کی کچھ اہمیت ہو، تو ایسی صورت میں اس کے نبوت کا دعویٰ کرنے کے دو ہی مقصد ہوسکتے ہیں یا تو یہ پر لے درجہ کا جھوٹا شخص ہے یا پھر ہم پر اپنی بڑائی جتانا اور ہمارے مقابلہ میں شیخی بگھارنا مقصد ہے لہٰذا ہم ایسے کذاب اور شیخی خورے کی ہرگز پیروی نہ کریں گے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) جس قوم میں پیدا ہوئے اس کو ثمود کہتے ہیں اور اس کو عاد اخریٰ بھی کہتے ہیں، قوم ثمود کا ذکر قرآن کریم میں نو سورتوں میں کیا گیا ہے، اعراف، ھود، حجر، نمل، النجم، القمر، الحاقہ، الشمس حضرت صالح (علیہ السلام) کا نسب نامہ : علماء انساب، حضرت صالح (علیہ السلام) کے نسب نامہ میں مختلف نظر آتے ہیں مگر زیادہ صحیح اور قرین قیاس وہ سلسلہ نسب ہے جو علامہ بغوی نے بیان کیا ہے جو پانچ واسطوں سے قوم صالح کے جد ابعد ثمود تک پہنچتا ہے۔ (قصص القرآن، سیوھاروی) قوم ثمود کی بستیاں : قوم ثمود کے بارے میں یہ بات طے شدہ ہے کہ ان کی آبادیاں مقام حجر میں حجاز اور شام کے درمیان وادی قریٰ تک پھیلی ہوئی تھیں، جو آج کل ’ دفج النافتہ “ کے نام سے مشہور ہے، قوم ثمود کی بستیوں کے آثار اور کھنڈرات آج تک موجود ہیں، بعض مصری اہل تحقیق نے ان کو اپنی آنکھ سے دیکھا ہے، ان کا بیان ہے کہ وہ ایک ایسے مکان میں داخل ہوئے جو شاہی حویلی کہی جاتی ہے، اس میں متعدد کمرے ہیں اور اس حویلی کے ساتھ ایک بہت بڑا حوض ہے اور یہ پورا مکان پہاڑ کاٹ کر بنایا گیا ہے۔ (قصص القرآن مولانا حفظ الرحمٰن سیوھاروی) واقعہ کی تفصیل : قوم ثمود جب حضرت صالح (علیہ السلام) کی تبلیغ حق سے اکتا گئی تو اس کے سرخیل اور سر کردہ افراد نے قوم کی موجودگی میں حضرت صالح علیہ اصلاۃ والسلام سے مطالبہ کیا کہ اے صالح ! اگر تو واقعی خدا فر ساتدہ ہے تو کوئی نشانی دکھا، تاکہ ہم تیری صداقت پر ایمان لے آئیں، حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ایسا نہ ہو کہ نشانی آنے کے بعد انکار پر مصر اور سرکشی پر قائم رہو، قوم کے ان سرداروں نے بتا کید وعدہ کیا کہ ہم فوراً ایمان لے آئیں گے، تب حضرت صالح نے ان ہی سے دریافت کیا کہ وہ کس قسم کا نشان چاہتے ہیں ؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سامنے والے پہاڑ میں سے یا فلاں پتھر سے جو بستی کے کنارہ پر نصب ہے ایک ایسی اونٹنی ظاہر کر کہ جو گا بھن ہو اور فوراً بچہ دے، حضرت صالح (علیہ السلام) نے درگاہ الٰہی میں دعاء کی تو اسی وقت اس پتھر سے ایک حاملہ اونٹنی ظاہر ہوئی اور اس نے بچہ دیا یہ دیکھ کر ان سرداروں میں سے جندع بن عمرو اسی وقت ایمان لے آیا اور دوسرے سرداروں نے بھی جب اس کی پیروی میں اسلام لانے کا ارادہ کیا تو ان کے ہیکلوں اور مندروں مہنتوں نے ان کو باز رکھا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو تنبیہ کی کہ دیکھو یہ نشانی تمہاری طلب پر بھیجی گی ہے خدا کا یہ فصلہ ہے کہ پانی کی باری مقرر ہو، ایک دن اس ناقہ کا ہوگا اور ایک دن قوم کے تمام جانوروں کا اور خبر دار اس کو اذیت نہ پہنچے اگر اس کو آزاد پہنچا تو پھر تمہاری بھی خیر نہیں، کچھ روز تک اسی دستور پر رہے مگر کچھ روز بعد وہ اس طرز عمل سے اکتا گئے، آپس میں صالح و مشورے ہونے لگے کہ اس ناقہ کا خاتمہ کردیا جائے تو اس باری کے اس قصہ سے نجات مل سکتی ہے یہ باتیں اگرچہ ہوتی رہتی تھیں مگر ناقہ کو قتل کرنے کی کسی کی ہمت نہ ہوتی تھی مگر ایک حسین و جمیل مال دار عورت صدوق نے خود کو ایک شخص مصدع کے سامنے اور ایک مالدار عورت عنیزہ نے اپنی ایک خوبصورت لڑکی قدار (قیدار) کے سامنے یہ کہہ کر پیش کی کہ اگر وہ دونوں ناقہ کو ہلاک کردیں تو یہ تمہاری ملک ہیں آخر قیدار بن سالف اور مصدع کو اسکے لئے آمادہ کرلیا گیا اور طے پایا کہ وہ رات چھپ کر بیٹھ جائیں گے اور ناقہ جب چراگاہ جانے لگے تو اس پر حملہ کردیں گے، اور دیگر چند آدمیوں نے مدد کا وعدہ کیا۔ غرض ایسا ہی ہوا اور ناقہ کو سازش کر کے ہلاک کردیا، اس کے بعد سب نے قسم کھائی کہ رات کے وقت ہم سب صالح اور اس کے اہل کو بھی قتل کردیں گے اور پھر اس کے اولیاء کو قسمیں کھا کر یقین دلائیں گے کہ یہ کام ہمارا نہیں ہے۔ بچہ یہ دیکھ کر بھاگ کر پہاڑ پر چڑھ گیا، اور چیختا چلاتا ہوا پہاڑ میں غائب ہوگا ی، صالح (علیہ السلام) کو جب خبر ہوئی تو حسرت اور افسوس کے ساتھ قوم سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ آخر وہی ہوا جس کا مجھے خوف ھتا، اب خدا کے عذاب کا انتظار کرو، جو تین دن کے بعد تم کو تباہ کر دے گا اور پھر بجلی کی چمک اور کڑک کا عذاب آیا اور اس نے رات میں سب کو تباہ کردیا، اور آنے والے انسانوں کے لئے تاریخی عبرت کا سبق دے گیا۔ (اختصاراً قصص القرآن سیوھاروی)
Ayah 54:32

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:32 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے جو سوچے سمجھے ؟

ولقد یسرنا القرآن للذکر فھل من مد کر اور ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کردیا پس کیا ہے کوئی جو نصیحت قبول کرے، اس آیت کو ہر معذب قوم کا ذکر کرنے کے بعد دہرایا گیا ہے تاکہ مشرکین مکہ ان واقعات سے عبرت و نصیحت حاصل کریں۔
Ayahs 54:33–36

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍۭ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:33 in the Quran reader

لوط کی قوم نے بھی ڈر سنانے والوں کو جھٹلایا تھا

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ حَاصِبًا اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ نَجَّیْنٰهُمْ بِسَحَرٍۙ Open ayah 54:34 in the Quran reader

تو ہم نے ان پر کنکر بھری ہوا چلائی مگر لوط کے گھر والے کہ ہم نے انکو پچھلی رات ہی سے بچا لیا

نِّعْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ شَكَرَ Open ayah 54:35 in the Quran reader

اپنے فضل سے شکر کرنے والے کو ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

وَ لَقَدْ اَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ Open ayah 54:36 in the Quran reader

اور لوط نے ان کو ہماری پکڑ سے ڈرایا بھی تھا مگر انہوں نے ڈرانے میں شک کیا

قوم لوط (علیہ السلام) کا اجمالی واقعہ : کذبت قوم لوط بالنذر یہاں سے قوم لوط کی ہلاکت کا اختصار کے ساتھ ذکر ہے، اس قوم پر ایسی تیز و تند ہو اکا عذاب بھیجا کہ جو ان پر کنکر پتھر رساتی تھی اور ان کی بستیوں کو تہہ وبالا کردیا گیا، سورة ہود میں اس کی تفصیلی گذر چکی ہے، آل لوط سے مراد خود حضرت لوط علیہ الصلا ۃ والسلام اور ان پر ایمان لانے والے لوگ ہیں جن میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی شامل نہیں، کیونکہ وہ مومنہ نہیں تھی، البتہ لوط (علیہ السلام) کی دو بیٹیاں ان کے ساتھیں جن کو نجات دی گئی۔