Ayah 53:1ترجمہ : شروع کرتا ہوں میں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے، قسم ہے ثریا ستارے کی جب گرے یعنی غائب ہو تمہارا ساتھی محمد ﷺ راہ ہدایت سے نہ بہکا اور نہ بھٹکا یعنی اس نے (اعتقاداً ) کج روی اختیار نہیں کی اور وہ (ینی غی) اعتقاد فاسد سے پیدا ہونے والا جہل ہے، اور جو کچھ وہ تم سے بیان کرتے ہیں اور پانی خواہش نفس سے بیان نہیں کرتے وہ تو صرف وحی ہے جو اس کی طرف نازل کی جاتی ہے اس وحی کی ان کو ایک فرشتہ نے تعلیم دی ہے، جو بڑا طاقتور ہے اور زور آور ہے یعنی قوت و شدت والا ہے، یا حسین المنظر ہے یعنی جبرئیل (علیہ السلام) پھر وہ سیدھا کھڑا ہو کر ٹھہر گیا حال یہ ہے کہ وہ مشرق کی بالائی افق پر تھا یعنی طلوع شمس کی جگہ اپنی (اصلی) صورت پر جس پر اس کو پیدا کا گیا ہے، آپ ﷺ نے اس کو دیکھا جب کہ آپ (غار) حراء میں تھے، حال یہ کہ (جانب) مغرب تک اس نے افق کو بھر دیا، تو آپ بیہوش ہو کر گرپڑے اور آپ ﷺ نے جبرائیل سے سوال کیا تھا کہ وہ انہیں خود کو اپنی اس صورت میں دکھائیں جس پر اس کو پیدا کیا گیا ہے چناچہ جبرئیل (علیہ السلام) نے آپ سے حراء میں اس کا وعدہ کرلیا پھر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے انسانی شکل میں نزول فرمایا پھر وہ آپ کے قریب آیا پھر وہ اتر آیا (یعنی) زیادہ قریب ہوا، تو وہ آپ سے بقدر دو کمانوں یا اس سے بھی زیادہ قریب ہوگیا، یہاں تک کہ آپ کو (بیہوشی سے) افاقہ ہوا اور آپ کا خوف جاتا رہا پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے جبرئیل کی طرف وحی بھیجی جو جبرئیل (علیہ السلام) نے نبی ﷺ کی طرف پہنچا دی اور موحی بہ کا ذکر نہیں کیا (یعنی) عظمت شان کو ظاہر کرنے کے لئے مبہم رکھا آپ ﷺ کے قلب مبارک نے اس صورت کی تردید نہیں کی جو صورت آپ نے اپنی نظر سے جبرئیل علیہ ال صلاۃ والسلام کی دیکھی، کذب تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے سو کیا تم اس (پیغمبر) کی دیکھی ہوئی چیز میں مجادلہ کرتے ہو اور ان پر غالب آنے کی کوشش کرتے ہو، یہ خطاب ان مشرکین سے ہے جو آپ کے جبرئیل (علیہ السلام) کو دیکھنے سے منکر تھے اور اسے تو اصل صورت میں ایک مرتبہ سدرۃ المنتہی کے پاس اس کے علاوہ بھی دیکھا ہے جبکہ آپ کو رات کے وقت آسمانوں پر لیجایا گیا اور وہ عرش کی دائیں جانب بیری کا درخت ہے اس سے آگے فرشتہ وغیرہ کوئی نہیں بڑھ سکتا، اسی کے پاس جنت الماوی ہے جس میں فرشتے اور شہداء کی روحیں یا متقیوں کی روحیں سکونت پذیر رہتی ہیں، جبکہ سدرہ کو چھپائے لیتی تھیں وہ چیزیں جو اس پر چھا رہی تھیں، پرند وغیرہ اور اذا، راہ کا معمول ہے آپ کی نظر نہ ہٹی اور نہ بڑھی یعنی آپ کی نظر اس رات مطلمح نظر سے نہ پھری اور نہ تجاوز کیا، یقیناً آپ نے اس رات میں اپنے رب کی عظیم نشانیوں میں سے بعض کو دیکھا آپ نے عالم ملکوت کے عجائبات میں سبز رفرف کو دیکھا جس نے افق آسمان کو بھر دیا، اور جبرئیل کو دیکھا ان کے چھ سو بازو ہیں کیا تم نے لات اور عزیٰ کو اور پچھلے منات کو دیکھا (یعنی ان کے بارے میں غور کیا) جو سابق دو کا تیسرا ہے الاخری، ثالثۃ کی صفت ذم ہے اور وہ پتھر کے بت ہیں، مشرکین ان کی پوجا کیا کرتے تھے اور یہ دعویٰ کرتے تھے کہ یہ اللہ کے حضور ہماری شفاعت کریں گے اور ارایتم کا مفعول اول اللات اور اس پر جس کا عطف کیا گیا وہ ہے اور دوسرا مفعول محذوف ہے اور معنی یہ ہیں کہ مجھے بتائو کہ کیا ان بتوں کو کسی شئی پر قدرت حاصل ہے جس کی وجہ سے تم اللہ عزو جل کو چھوڑ کر ان کی بندگی کرتے ہو جو کہ قادر ہے جیسا کہ ماقبل میں مذکور ہوا اور جبکہ ان کا دعویٰ یہ بھی تھا کہ فرشتے اللہ کی یٹیاں ہیں باوجود ان کے بیٹیوں کو ناپسند کرنے کے، توالکم الذکر ولہ النثی (الآیۃ) نازل ہوئی (یعنی) کیا تمہارے لئے بیٹے اور اس کے لئے بیٹیاں، تب تو یہ بڑی دھاندلی کی تقسیم ہے یعنی ظالمانہ ہے، یہ ضازہ، یضیزہ سے ماخوذ ہے کہ اس پر ظلم و زیادتی کرے یہ مذکور محض چند نام ہیں جو تم نے یعنی ان کے تم نے یہ نام رکھ لئے ہیں اور تمہارے آباء نے ان بتوں کے رکھ لئے ہیں جن کی تم پوجا کرتے ہو ان کی عبادت کے بارے میں اللہ نے کوئی دلیل اور حجت نہیں اتاری یہ لوگ ان کی بندگی کے بارے میں محض ظن اور خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہیں یعنی ان گمانوں کی جو شیطان نے ان کے لئے آراستہ کردیئے ہیں، یہ کہ یہ بت اللہ کے حضور میں ان کی شفاعت کریں گے اور یقینا ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے نبی (علیہ السلام) کی زبانی برہان قاطع کے ساتھ ہدایت آچکی پھر بھی وہ اپنے اختیار کردہ روش سے باز نہیں آئے کیا انسان کے لئے یعنی ان میں سے ہر انسان کے لئے وہ میسر ہے جس کی وہ آرزو کرے ؟ یہ کہ یہ بت ان کی شفاعت کریں گے، بات ایسی نہیں وہ جہان اور یہ جہان اسی کے قبضے میں ہے لہٰذا دونوں جہانوں میں وہی ہوگا جو وہ چاہے گا۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : والنجم وائو قسمیہ ہے، النجم ستارہ (جمع) نجوم وانجم اسم جنس ہے، اس پر اسمیت غالب آگئی ہے جب مطلق بولا جاتا ہے تو ثریا ستارہ مراد ہوتا ہے، النجم سے یہاں کیا مراد ہے ؟ اس میں چند اقوال ہیں : (1) ایک جماعت نے کہا ہے کہ جنس نجوم مراد ہے (2) ثریا ستارہ مراد ہے (مفسر علام نے یہی قول اختیار کیا) مجاہد وغیرہ نے بھی یہی مراد لیا ہے (3) سدی نے کہا زہرہ ستارہ مراد ہے، عرب کا ایک قبیلہ اس کی پوجا کرتا تھا (4) بعض حضرات نے بیلدار گھاس مراد لی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے قول والنجم والشجر یسجدان میں اخفش کا یہی قول ہے (5) کہا گیا ہے کہ محمد ﷺ مراد ہیں 6 بعض حضرات نے قرآن مراد لیا ہے، اس کے نجماً نجماً نازل ہونے کی وجہ سے، مجاہد و فراء وغیرہ کا یہی قول ہے، اس کے علاوہ بھی اور بہت سے اقوال ہیں، مگر راجح قول ثریا ہے۔ (فتح القدیر شوکانی) ثریا سات ستاروں کے مجموعہ کا نام ہے چھ ان میں سے ظاہر ہیں اور ایک مخفی ہے بعض حضرات نے سات سے بھی زیادہ کا مجموعہ بتایا ہے، لوگ ثریا سے اپنی نظروں کا امتحان کرتے ہیں شفاء میں قاضی عیاض نے لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ ثریا کے گیارہ ستاروں کو دیکھ لیا کرتے تھے، اور مجاہد سے بھی ایسا ہی قول مروی ہے۔ (حمل)
قولہ : اذا ھوی (ض) ای سقط وغاب
قولہ : ماضل صاحبکم وما غوی یہ عطف خاص علی العام کے قبیل سے ہے ضلالت، ہر قسم کی گمراہی خواہ اعتقادی ہو یا عملی اور غوایۃ اعتضادی گمراہی اور بعض حضرات نے کہا ہے ضلال علمی گمراہی اور غوایۃ عملی گمراہی، اور بعض نے دونوں کو مترادف کہا ہے۔ (صاوی)
قولہ : عن الھویٰ اسم مصدر (سمع) ناجائز رغبت نفس، عن الھویٰ ، ماینطق کے متعق ہے یعنی آپ کا کوئی کلام خواہش نفس سے نہیں ہوتا۔
قولہ : ان ھو، ھو کا مرجع نطق ہے جو ینطق سے مفہوم ہے۔
قولہ : یوحی یہ وحی کی صفت ہے احتمال مجاز کو ختم کرنے کے لئے۔ (صاوی)
قولہ : علمہ ایاہ ضمیر منصوب متصل آپ ﷺ کی طرف رجوع ہے اور مفعول اول ہے اور دوسری ضمیر منصوب منفصل جس کو مفسر علام نے محذوف مانا ہے وہ مفعول ثانی ہے اور وحی کی طرف راجع ہے۔
قولہ : شدید القویٰ یہ موصوف محذوف کی صفت ہے جس کو مفسر علام نے ملک محذوف مان کر اشارہ کردیا ہے مراد جبرئیل ہیں۔
قولہ : ذومرۃ مرۃ قوت باطنی، جیسے عزم، سرعت حرکت اور بعض حضرات نے مرۃ سے علم اور بعض نے حسن و جمال مراد لیا ہے، منظر حسن کہہ کر اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے، اور شدید القویٰ ظاہری قوت، یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل کو، قوۃ ظاہری اور قوت باطنی بدرجہ اتم عطا فرمائی تھیں۔
قولہ : فاستوی، علمہ شدید القویٰ پر اس کا عطف ہے۔
قولہ : وھو بالافق الاعلیٰ جملہ حالیہ ہے۔
قولہ : فتدلی تدلی سے ماضی واحد مذکر غائب وہ اتر آیا، وہ لٹک آیا، وہ قریب ہوا، یہ دلیت الدلو فی البئر سے ماخوذ ہے، میں نے کنوئیں میں ڈول لٹکایا، اتارا۔
سوال : قرب نزول کے بعد ہوتا ہے، لہٰذا یہ کہنا کہ قریب ہوا اور پھر نازل ہوا، مناسب معلوم نہیں ہوتا۔
جواب : مفسر علام نے زاد فی القرب کا اضافہ اسی شبہ کا جواب دینے کے لئے کیا ہے یعنی حضرت جبرائیل قریب ہوئے اور پھر اور زیادہ قریب ہوئے، اور بعض حضرات نے مذکورہ شبہ کا یہ جواب دیا کہ کلام میں تقدیم و تاخیر ہے، تقدیر عبارت یہ ہے ثم تدلی فدنی یعنی جبرئیل اترے اور قریب ہوئے۔
قولہ : قاب قوسین القاب و القیب، ولقادوالقید، المقدار، عرب میں ناپنے اور اندازہ کرنے کے مختلف طریقے تھے ان میں سے ایک طریقہ قوس (کمان) سے ناپنے کا بھی تھا، قوس کے علاوہ عرب رح (نیزہ) سوط کوڑا، ذراع الباع الخطوۃ (قدم) الشبر (بالشت) فتر (انگشت شہادت اور انگوٹھے کے درمیان کا حصہ) والاصبع (انگشت) سے بھی ناپتے تھے۔ یعنی جبرئیل علیہ الصلاۃ والسام آپ سے اتنے قریب ہوگئے کہ صرف دو کمانوں کی مقدار دور رہ گئے، بعض حضرات نے کہا ہے کہ قاب اس فاصلہ کو کہتے ہیں جو کمان کے مقبض اور کنارے کے درمیان ہوتا ہے اور دو کمانوں کے دو قاب ہوتے ہیں۔
قولہ : او ادنی میں او بمعنی بل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے قول اویزیدون میں او بمعنی بل ہے اور اگر او اپنی اصل پر ہو تو شک رائی (دیکھنے والے) کے اعتبار سے ہوگا۔
قولہ : حتی افاق یہ محذوف کی غایت ہے، تقدیر عبارت یہ ہے ای ضمہ الیہ حتی افاق
قولہ : حتی افاق یہ محذوف کی غایت ہے، تقدیر عبارت یہ ہے ای ضمہ الیہ حتی افاق
قولہ : ماکذب بالتشدید و التخفیف دونوں قراءتیں سبعیہ ہیں، تشدید کی صورت میں ترجمہ ہوگا، جو کچھ آپ کی نظر نے دیکھا قلب نے اس میں شرک نہیں کیا۔ (صاوی)
قولہ : من صورۃ جبرئیل یہ ما کا بیان ہے۔
قولہ : وتغلبونہ، تمارونہ کی دوسری تفسیر تغلبونہ سے کر کے اشارہ کردیا کہ تمارونہ، تغلبونہ کے معنی کو متضمن ہے اور اس کا صلہ علی لانا درست ہے۔
قولہ : الماوی مصدر، اور اسم ظرف ہے، قیام کرنا، رہنا، سکونت اختیار کرنا، مقام سکونت، ٹھکانہ (ض) اگر صلہ میں الیٰ آئے تو پناہ لینا اور اگر اس کا صلہ لام ہو تو مہربانی کرنا، جیسے اوی لہ اس پر مہربانی کی، اس پر رحم کیا۔
قولہ : لقد رای لام جواب قسم پر ہے اور قسم، اقسم محذوف ہے۔
قولہ : من آیات ربہ الکبریٰ ، من تبعیضیہ ہے اور رای کا مفعول ہے جیسا کہ مفسر علام نے اشارہ کیا ہے اور کبری آیات کی صفت ہے۔
سوال : الآیات موصوف جمع ہے اور کبریٰ صفت واحد ہے موصوف اور صفت میں مطابقت نہیں ہے۔
جواب :۔ ال آیت ایسی جمع ہے کہ اس کی صفت واحد مئونث لانا درست ہے اس کے علاوہ فواصل کی رعایت کی وجہ سے اس میں مزید حسن پیدا ہوگیا۔ (حمل)
اس میں دوسری ترکیب یہ بھی ہوسکتی ہے الکبری رای کا مفعول بہ اور من آیات ربہ حال مقدم، تقدیر عبارت یہ ہے کہ لقد رای الآیات الکبری حال کونھا من جملۃ آیات ربہ
قولہ : رفرفا، قالین، رفرفا، حضراً سبز قالین، چاندیاں، تکئے، ہرے بھرے باغیچے اس کا واحد رفرفۃ ہے۔ (لغات القرآن)
قولہ : افرایتم الات والعزی استفہاء تو بیجی ہے، لات اس بت کا نام ہے جو کعبہ میں نصب تھا، بعض حضرات نے کہا ہے کہ یہ بت طائف میں تھا اور یہ بنو ثقیف کا دیوتا تھا، اس کی تحقیق میں بعض حضرات نے کہا ہے کہ یہ لت السویق سے ماخوذ ہے، لات اسم فاعل کا صیغہ ہے گوندھنے والا، ملانے والا، ایک شخص جو کہ حجاج کو ستو گھول کر پلایا کرتا تھا، کلبی نے کہا ہے کہ اس کا اصل نامہ صرمہ بن غنم تھا (خلاصہ التفاسیر) جب اس کا انتقال ہوگیا تو جس پتھر پر بیٹھ کر وہ ستو گھولا اور پلایا کرتا تھا اسی پتھر کا ایک بڑا بت تراش کر رکھ دیا بعدازاں لوگوں نے اس کی پوجا شروع کردی، یہ وہی لات ہے۔
قولہ : عزی یہ اعز کی تانیث ہے یہ قبیلہ غطفان کے بت کا نام ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یہ ایک ببول کا درخت تھا، آپ ﷺ نے خالد بن ولید کو بھیج کر اس درخت کو کٹوا دیا تھا، جب اس درخت کو کاٹا تو اس میں سے ایک (جنیہ) بھوتنی سر کے بال بکھیرے ہوئے اور ہاتھ سر پر رکھ ہوئے خرابی خرابی چلاتی ہوئی نکلی، حضرت خالد ؓ نے اس کو تلوار سے قتل کردیا، حضرت خالد نے آپ ﷺ کو اس کی اطلاع دی تو آپ نے فرمایا یہی عزی ہے۔
قولہ : مناۃ یہ ایک پتھر تھا جو ہذیل اور خزاعہ کا دیوتا تھا اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ بنی ثقیف کا دیوتا تھا، یہ منی یمنی سے ماخوذ ہے اس کے معنی بہانے کے ہیں، چونکہ اس کے پاس کثرت سے جانور ذبح ہوتے تھے جس کی وجہ سے بہت خون بہتا تھا، اسی وجہ سے اس کا نام مناۃ ہوگیا۔
قولہ : الاخری یہ ثالثۃ کی صفت ذم ہے، یعنی رتبے کے اعتبار سے تیسرے نمبر کا۔
سوال :۔ جب ثالثۃ کہہ دیا تو اس کا اخری ہونا خود بخود معلوم ہوگیا، پھر اخری کہنے کی کیا ضرورت ؟
جواب : الاخری صفت ذم ہے اس لئے کہ مراد رتبہ میں تاخیر ہے ہے نہ کہ ذکر و شمار میں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے قول قالت اخراھم، لاولھم ای صعفائوھم لرئوسائھم
قولہ : الثانی محذوف الات اپنے معطوفات سے مل کر ارایتم بمعنی اخبرونی کا مفعول اول ہے اور الھذہ الاصنام الخ جملہ استفہامیہ مفعول ثانی ہے۔
قولہ : تلک، تلک کا مشار الیہ قسمۃ ہے جو ماقبل کے ماقبل کے جملہ استفہامیہ سے مفہوم ہے۔
قولہ : ضیزی یہ ضیر سے ماخوذ ہے بمعنی ظلم، یاء، کی رعایت سے ضاد کے ضمہ کو کسرہ سے بدل دیا گیا، جیسا کہ بیض میں کیا ہے، اس لئے کہ فعلی کا وزن صفت کے لئے مستعمل نہیں ہے۔
سوال : مفسر علام نے سمیتموھا کی تفسیر سمیتم بھا سے کیوں کی ؟
جواب : اس کا مقصد ایک اعتراض کا دفعیہ ہے، اعتراض یہ ہے کہ اسماء کا نام نہیں رکھا جاتا جیسا کہ بظاہر سمیتموھا سے مفہوم ہوتا ہے بلکہ مسمی کا نام رکھا جاتا ہے، جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ کلام میں حذف ہے اصل کلام سمیتم بھا ہے، اس کا مفعول محذوف ہے اور وہ اصناماً ہے جیسا کہ مفسر علام نے ظاہر کردیا ہے۔
تفسیر و تشریح
ربط :۔
سورة طور کا اختتام لفظ النجوم پر ہوا تھا، اس سورة کی ابتداء و النجم سے ہوئی ہے دونوں میں مناسبت قریبہ موجود ہے، سورة نجم مکہ میں نازل ہوئی سوائے الذین یجتنبون کے کہ یہ آیت مدنی ہے، اس میں 62 آیتیں ہیں، اس کا مرکزی مضمون، عصمت انبیاء تصدیق نبوت، مسئلہ تعلیم جبرئیل، رئویت باری تعالیٰ اور سیر علوی مقامات ہیں۔
اس سورت کے اکثر کلمات معانی کثیرہ اور مفاہیم مختلفہ پر مشتمل ہیں، معانی مجازی اور استعارات پر محمول ہیں، اسی وجہ سے اس کی تفسیر میں اختلاف بہت زیادہ ہے۔
خصوصیات سورة نجم :
سورة نجم پہلی سورت ہے جس کا آپ ﷺ نے مکہ میں اعلان فرمایا اور یہی سب سے پہلی سورت ہے جس میں آیت سجدہ نازل ہوئی، جب آپ ﷺ نے آسیت سجدہ تلاوت کرنے کے بعد سجدہ تلاوت فرمایا تو حاضرین میں سے مسلمان، کافر سب نے سجدہ کیا سوائے ایک شخص امیہ بن خلف کے، اس نے اپنی مٹھی میں مٹی لیکر اپنی پیشانی سے لگا لی، چنانچ یہ کفر کی حالت میں مارا گیا (صحیح بخاری تفسیر سورة النجم) بعض روایتوں میں اس شخص کا نام عتبہ بن ربیعہ بتلایا گیا ہے۔
والنجم اذا ھوی بعض مفسرین نے النجم سے ثریا ستارہ مراد لیا ہے اور بعض نے زہرہ ستارہ اور بعض نے جنس نجوم ھوی اوپر سے نیچے گرنا یعنی طلوع فجر کے وقت جب وہ گرتا ہے یا شیاطین کو مارنے کے وقت گرتا ہے۔
Ayah 53:2ماضل صاحبکم یہ جواب قسم ہے، صاحبکم تمہارا ساتھی، اس کلمہ سے آپ ﷺ کی صداقت کو واضح اور ثابت کرنا مقصود ہے کہ نبوت سے پہلے چالیس سال اس نے تمہارے ساتھ اور تمہارے درمیان گذارے ہیں، ان کے شب و روز کے تمام معمولات تمہارے سامنے ہیں، اس کا اخلاق و کردار تمہارا جانا پہچانا ہے، راست بازی اور امانتداری کے سوا تم نے اس کے کردار میں کبھی کچھ اور دیکھا ؟ اب چالیس سال بعد جو وہ نبوت کا دعویٰ کر رہا ہے تو ذرا سوچو کہ وہ کس طرح جھوٹ ہوسکتا ہے چناچہ واقعہ یہ ہے کہ وہ نہ گمراہ ہوا ہے اور نہ بہکا ہے، اللہ تعالیٰ نے دانستہ اور نادانستہ دونوں قسم کی گمراہیوں سے اپنے پیغمبر کی تنزیہ فرمائی ہے۔
سوال :۔ اللہ تعالیٰ کا قول ماضل صاحبکم اللہ تعالیٰ کے قول ووجدک ضالا فھدی سے بظاہر متعارض ہے۔
جواب :۔ ضال اسم فاعل کا صیغہ ہے اس کے لئے صلاحیت فعل شرط ہے وقوع فعل ضروری نہیں اب اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ کو باعتبار عنصر خاکی وطبع انسانی قابل و صالح بہکنے کے پایا، لہٰذا آپ کو ضال با اعتبار صلاحیت قبول فعل کہا گیا ہے اور ماضل بااعتبار عدم وقوع کے فرمایا، اب کوئی تعارض نہیں۔ (خلاصۃ التفاسیر)
Ayahs 53:3–5وما ینطق عن الھوی یعنی وہ گمراہ اور بہک کیسے سکتا ہے وہ تو وحی الٰہی کے بیر لب کشائی ہی نہیں کرتا حتی کہ مزاح طبعی کے موقعوں پر بھی آپ ﷺ کی زبان مبارک سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا (ترمذی شریف) اسی طرح حالت غضب میں آپ کو اپنے جذبات پر اتنا کنٹرول تھا کہ زبان سے کوئی بات خلاف واقعہ نہ نکلتی۔ (ابودائود)
خلاصہ یہ ہوا کہ آپ ﷺ اپنی طرف سے باتیں بنا کر اللہ کی طرف منسوب کردیں اس کا قطعاً کوئی امکان نہیں بلکہ آپ جو کچھ فرماتے وہ سب اللہ کی طرف سے وحی کیا ہوا ہوتا ہے، وحی کی بہت سی اقسام بخاری کی احادیث سے ثابت ہیں ان میں ایک قسم وہ ہے جس کے معنی اور الفاظ دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں جس کا نام قرآن ہے، دوسرے وہ کہ صرف معنی اللہ کی طرف سے نازل ہوتے ہیں آنحضرت ان معانی کو اپنے الفاظ میں ادا فرماتے ہیں، اس کا نام حدیث اور سنت ہے، پھر حدیث میں جو مضمون حق تعالیٰ کی طرف سے آتا یہ، کبھی وہ کسی معاملہ کا صاف اور واضح فیصلہ اور حکم ہوتا ہے کبھی کوئی قاعدہ کلیہ بتلایا جاتا یہ، اگر کسی مسئلہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے صاف اور واضح حکم نہ ہو تو نبی اپنے اجتہاد سے کام لیتا ہے، اجتہاد میں اس کا تو امکان ہوتا ہے کہ خطا ہوجائے مگر تمام انبیاء کی خصوصیت ہے کہ اگر احکام مستنبطہ میں غلطی ہوجائے تو اللہ تعالیٰ بذریعہ وحی اس کی اصلاح فرما دیتے ہیں خبالف علماء مجتہدین کے کہ اگر ان سے غلطی ہوجائے تو وہ خطا پر قائم رہ سکتے ہیں اور ان کی یہ خطاء صرف معاف ہی نہیں بلکہ دین کے سمجھنے میں جو اپنی پوری توانائی صرف کرتے ہیں اس پر بھی ان کو ایک گونا ثواب ملتا ہے۔ (جیسا کہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ ) (معارف)
Ayahs 53:6–8ذومرۃ فاستوی یہ اور آئندہ کلمات اکثر مفسرین کے نزدیک حضرت جبرئیل کی صفات ہیں اور بعض دیگر مفسرین کے نزدیک مذکورہ صفات اللہ تبارک و تعالیٰ کی ہیں اور ان تمام آیات کا تعلق واقعہ معراج سے قرار دے کر حق تعالیٰ سے تعلیم بلاواسطہ اور رویت و قرب حق تعالیٰ پر محمول کرتے ہیں، یہ تفسیر صحابہ کرام میں سے حضرت انس ؓ اور ابن عباس ؓ سے منقول ہے، اور پہلی تفسیر جن صحابہ سے منقول ہے ان میں بہت سے حضرات صحابہ وتابعین شامل ہیں ان حضرات کے قول کے راجح ہونے کی کئی وجوہات میں تاریخ سے بھی اسی قول کی تائید ہوتی ہے، اس لئے کہ سورة نجم بالکل ابتدائی سورتوں میں سے ہے اور ظاہر یہی ہے کہ واقعہ معراج اس سے مئوخر ہے، دوسری اور اصل وجہ یہ ہے کہ خود رسول اللہ ﷺ سے ان آیات کی تفسیر رویت جبرئیل سے منقول ہے، مسند احمد میں یہ روایت منقول ہے۔
شعبی حضرت مسروق سے نقل کرتے ہیں کہ وہ ایک روز حضرت عائشہ صدیقہ کے پاس تھے۔ (ردیت باری تعالیٰ کے مسئلہ میں گفتگو ہو رہی تھی) مسروق کہتے ہیں کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ولقد راہ بالافق المبین، ولقد راہ نزلۃ اخری حضرت صدیقہ نے فرمایا کہ پوری امت میں سب سے پہلے میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کا مطلب دریافت کیا، آپ نے فرمایا کہ جس کے دیکھنے کا آیت میں ذکر ہے، وہ جبرئیل ہیں جن کو رسول اللہ ﷺ نے صرف دو مرتبہ ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے آیت میں جس رویت کا ذکر ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے جبرئیل امین کو آسمان سے زمین کی طرف اترتے ہوئے دیکھا کہ ان کے جسم نے زمین و آسمان کے درمیان کی فضاء کو بھر دیا ہے (مسند احمد) صحیح مسلم میں بھی تقریباً انہی الفاظ سے منقول ہے، نووی نے شرح مسلم میں اور حافظ نے فتح الباری میں اسی تفسیر کو اختیار کیا ہے۔
Ayahs 53:9–14فکان قاب قوسین او ادنیٰ ” قاب “ کمان کی لکڑی جس میں قبضہ (دستہ) لگا ہوتا ہے اور اس کے بالمقابل لکڑی کے دونوں کناروں میں ڈور (تانت) بندھی ہوتی ہے، دستہ اور ڈور کے درمیانی فاصلہ کو قاب کہتے ہیں، جس کا فاصلہ اندازاً ڈیڑھ فٹ ہوتا ہے، قاب قوسین یعنی دو کمانوں کا قاب جس کا فاصلہ تین فٹ ہے یہ تعبیر حضرت جبرئیل اور آپ ﷺ کے درمیان نہایت قرب کو بیان کرنے کے لئے اتخیار کی ہے، عرب کی عادت تھی کہ آپسی اتحاد و یگانگت کو ظار کرنا یا اگر دو آدمی پولیس میں صلح اور دوستی کا معاہدہ کرنا چاہتے تو جس طرح اس کی ایک علامت ہاتھ پر ہاتھ مارنے کی معروف و مشہور ہے اسی طرح ایک علامت یہ تھی کہ دونوں اپنی اپنی کمانوں کی لکڑی اپنی اپنی طرف کر کے ڈور (تانت) کو ڈور سے ملات اور جب ڈور سے ڈور مل جاتی تو باہمی و مئودت کا اعلان سمجھا جاتا، اس قرب کے وقت دونوں شخصوں کے درمیان دو قابوں تقریباً تین فٹ کا فاصلہ رہتا۔
ایک علمی اشکال اور اس کا جواب :
آیات مذکورہ میں صفات کا مصداق حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو قرار دینے میں جو کہ جمہور مفسرین کا مختار ہے بظاہر یہ اشکال ہوتا ہے کہ اوپر کی آیات میں جو ضمیریں ہیں وہ جبرائیل کی طرف راجع ہیں، مگر صرف فاوی الی عبدہ ما اوحی میں دونوں ضمیریں اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہیں جو عبارت کے نظم و نسق کے خلاف ہے اور اس سے انتشار مرجع بھی لازم آتا ہے، اس کا جواب حضرت مولانا سید انور شاہ صاحب نے یہ دیا ہے۔
جواب :۔ نہ یہاں نظم کلام میں کوئی اختلال ہے اور نہ انتشار ضمائر، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ سورة نجم کی شروع آیت میں ان ھ الا وحی یوحی کا ذکر فرما کر جس مضمون کی ابتداء کی گئی ہے اسی کا نہایت منضبط بیان اس طرح کیا گیا ہے کہ وحی بھیجنے والا تا تو ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں مگر اس وحی کے پہچانے میں ایک واسطہ جبرئیل کا تھا چند آیات میں اس واسطہ کی پوری طرح توثیق کرنے کے بعد بپھر اوحی الی عبدہ ماوحی فرمایا یہ ابتدائی کلام کا تکملہ ہے اور اس میں انتشار ضمیر اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ اوحی اور عبدہ کی ضمیر میں اس کے سوا احتمال ہی نہیں کہ وہ حق تعالیٰ کی طرف راجع ہو اس لئے یہ مرجع پہلے سے متعین ہے اور ما اوحی میں موحی بہ کو مبہم رکھ کر اس کی عظمت شان کی طرف اشارہ ہے۔
Ayah 53:15عندھا جنۃ الماوی اسے جنت الماویٰ اس لئے کہتے ہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کا ماویٰ و مسکن یہی تھا، بعض کہتے ہیں کہ ماویٰ اس لئے کہتے ہیں کہ یہاں روحیں آ کر جمع ہوتی ہیں۔
Ayahs 53:16–18اذ یغشی السدرۃ مایغشی یہ سدرۃ المنتھی کی اس کیفیت کا بیان ہے کہ جب شب معراج میں آپ ﷺ نے اس کا مشاہدہ فرمایا تھا، سونے کے پروانے اس کے گرد منڈلا رہے تھے، فرشتوں کا عکس اس پر پڑ رہا تھا اور رب کی تجلیات کا مظہر بھی وہی درخت تھا (ابن کثیر) اسی جگہ آپ ﷺ کو تین چیزوں سے نوازا گیا، پانچ وقت کی نمازیں، سورة بقرہ کی آخری آیات اور ان مسلمانوں کی مغفرت کا وعدہ جو شرک کی آلودگیوں سے پاک ہوں گا۔ (صحیح مسلم کتاب الایمان)
Ayahs 53:19–20افرایتم الات والعزی اس سے مشرکین کی تو بیخ مقصود ہے بایں طور کہ اول اللہ تعالیٰ کی عظمت شان کا بیان ہے کہ وہ جبرئیل جیسے عظیم فرشتے کا خالق ہے اور محمد ﷺ جیسے اس کے رسول ہیں جنہیں اس نے آسمانوں پر بلا کر بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ کرایا اور ان پر وحی بھی نازل فرماتا ہے، کیا تم جن معبودوں کی عبادت کرتے ہو ان کے اندر بھی یہ یا اس قسم کی خوبیاں ہیں ؟ اس ضمن میں عرب کے تین بتوں کا بطور مثال ذکر کیا، ایک ان میں سے لات ہے، یہ لت یلت سے اسم فاعل ہے، اس کے معنی ہیں گھولنے والا، گوندھنے والا، یہ ایک نیک شخص تھا جو حج کے موسم میں حاجیوں کو ستوگھول کر پلایا کرتا تھا، جب اس کا انتقال ہوگیا تو لوگوں نے اس کی قبر کی پوجا شروع کردی بعد میں اس کے مجسمے تراش کر پوجا پاٹ شروع کردی، یہ طائف میں بنی ثقیف کا سب سے بڑا بت تھا، عزیٰ بعض نے کہا کہ یہ ایک درخت تھا جس کی پوجا کی جاتی تھی، بعض کہتے ہیں کہ یہ ایک جنیہ (بھوتنی) تھی جو بعض درختوں میں ظاہر ہوتی تھی، بعض کہتے ہیں کہ یہ ایک سنگ ابیض تھا جسے لوگ پوجتے تھے، یہ قریش اور بنی کنانہ کا خاص دیوتا تھا، مجاہد نے کہا کہ یہ ایک درخت تھا بنی غطفان اس کی پرستش کرتے تھے، جب مکہ فتح ہوا تو آنحضرت ﷺ نے حضرت خالد بن ولید کو حکم دیا کہ عزی کو خوار کریں چناچہ حضرت خالد ؓ نے وہ درخت کاٹ ڈالا ایک جنیہ بال بکھیرے سر پر ہاتھ رکھ کر خرابی خرابی چلاتی ہوئی نکلی حضرت خالد ؓ نے اس کو تلوار سے قتل کردیا، جب خالد ؓ آپ کی خدمت میں آئے تو واقعہ عرض کیا، آپ نے فرمایا ابھی عزیٰ کا قلع قمع نہیں ہوا، پھر حضرت خالد نے درخت جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا اس سے ایک عورت برہنہ نکلی، خالد ؓ نے اسے بھی قتل کردیا، حضور نے فرمایا یہی عزی تھی اب کبھی نہ پوجی جائے گی، مذاۃ یہ منی یمنی سے ماخوذ ہے جس کے معنی بہانے کے ہیں، چونکہ مشرکین عرب اس کے پاس بکثرت جانور ذبح کر کے خون بہا کر اس کا تقرب حاصل کرتے تھے اسی لئے اس کا نام مناۃ ہوگیا یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان بنو خزاعہ کا خاص بت تھا، زمانہ جاہلیت میں اوس اور خزرج یہیں سے احرام باندھتے تھے اور اس کا طواف بھی کرتے تھے۔ (خلاصۃ التفاسیر، وابن کثیر)
بحث :۔ وما ینطق عن الھوی ٰ کا تقاضا ہے کہ آپ ﷺ کے تمام کلمات اور جمیع مرویات وحی ہوں ابن کثیر کی مرویات سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا انی لا اقول الا بالحق اور حضرت عمر و ؓ نے فرمایا کہ میں جو آنحضرت ﷺ سے سنتا لکھ لیتا، قریش نے کہا آپ ﷺ بشر ہیں حالت غضب میں بھی بات کرتے ہیں، پھر جملہ کلمات قابل ضبط و تحریر کیونکر ہوسکتے ہیں ؟ میں نے آنحضرت سے عرض کیا، آپ نے فرمایا ” لکھ لیا کرو اس لئے کہ میں جو کچھ کہتا ہوں وہ حق ہی ہوتا ہے۔ “
شبہ : آپ ﷺ کو شاورھم فی الامر میں مشورہ کا حکم دیا گیا ہے جس کا مقتضی جواز اصلاح و ترمیم ہے اسی طرح ابارہ خرما (یعنی نر کھجور کے شگوفہ کو مادہ کھجور میں ڈالنا، جس کو تابیر کرنا کہتے ہیں) کا تقاضا بھی یہ ہے کہ آپ کا ہر قول وحی نہیں ہوتا تھا، یعنی صحابہ کرام اپنے کھجور کے درختوں میں عمل تابیر کیا کرتے تھے آپ نے ایک روز اس عمل کے بارے میں دریافت فرمایا، صحابہ نے عرض کیا اس طریقہ سے پھل خوب آتا ہے، آپ نے فرمایا کہ اس کو چھوڑ دو تو بہتر ہے، چناچہ صحابہ نے عمل تابیر ترک کردیا مگر اس سال پھل کم آئے صحابہ نے آپ ﷺ سے اس صورت حال کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا انما انا بشر اذا امرتکم بشیء من امر دینکم فخذوا بہ واذا امرتکم بشیء من رای فانما انا بشر (رواہ مسلم، مشکوۃ ص 28) ایک دوسری روایت میں ہے آپ نے ارشاد فرمایا ” جو مجھے چرب زبانی سے مغالطہ دیکر فیصلہ کرا لے گا قیامت میں اس کا وبال اس کے سر ہوگا، اسی طرح آپ ﷺ سے خطاء اجتہادی کا صدور ہوتا تھا، مذکورہ تمام امور کا مقتضی یہ ہے کہ آپ کے جمیع ارشادات وحی نہ ہوں، اس لئے کہ وحی الٰہی ہر قسم سے پاک ہوتی ہے۔
دفع : ارشادات نبوی کی چار قسمیں ہیں (1) ازواج و اطفال کے ساتھ مزاج (2) معاملات (3) تجویز و تدبیر (4) تبلیغ احکام من جانب اللہ، قسم رابع تو قطعاً وحی ہے، باقی اقسام ثلثہ بھی لغو و باطل و ہوائے نفس سے پاک اور بری ہیں، جیسا کہ آپ ﷺ نے ایک بوڑھی عورت سے مزاحاً فرمایا ” جنت میں بوڑھی عورتیں نہ جائیں گی “ مطلب یہ تھا کہ جوان ہو کر داخل جنت ہوں گی، ان معاملات میں کبھی کبھی رائے دقیاس کا صائب نہ ہونا جیسا کہ حدیث خرما میں گذاریا تجویز و تدبیر میں خطائے اجتہادی کا ہونا جیسا کہ بدر کے قیدیوں کے بارے میں ہوا، یہ نہ غیر حق ہے اور نہ ہوائے نفس لہٰذا احادیث میں کوئی تعارض نہیں، رہی آیت وما ینطق عن الھویٰ یہ مخصوص ہے ان کلمات اور ارشادات سے جو امور دین سے ہوں۔
مسئلہ : آپ ﷺ صغائر و کبائر سے معصوم ہیں جیسا کہ عدم ضلال و عدم غوایت مطلقہ سے ظاہر ہے۔ (خلاصۃ التفاسیر)
علمہ شدید القویٰ
بحث :۔ شدید القویٰ سے اکثر مفسرین کے نزدیک حضرت جبرئیل امین مراد ہیں۔
شبہ : اس سے شبہ لازم آتا ہے کہ جبرئیل آپ ﷺ کے معلم اور استاذہوں، اور آپ ﷺ متعلم اور شاگرد ہوں۔
دفع : حضرت جبرئیل امین مبلغ تھے نہ کہ استاذ و معلم اور فرق ان دونوں میں یہ ہے (1) معلم میں علم مقصود بالذات ہوتا ہے اور مبلغ میں مقصود بالغیر (2) معلم علم سے فائدہ اٹھانے کی مستقل صلاحیت رکھتا ہے اور مبلغ واسطہ اور ناقل ہوتا ہے (3) معلم میں علم قائم ہو کر متعلم کی طرف منعکس ہوتا ہے اور اس علم کا ظل اور مثل متعلم میں آجاتا ہے جیسے چراغ کا نور دوسرے چراغ میں اور مبلغ میں مقصود انتقال عین ہوتا ہے اور مبلغ واسطہ جیسے حرارت آتشی شیشے سے پس مبلغ میں اثر رہ سکتا ہے جیسے متعلم میں اثر جاسکتا ہے اور معلم میں عین باقی رہتا ہے جس طرح کہ مبلغ الیہ میں عین قائم ہوتا ہے (4) معلم معطی علم ہے اور مبلغ مئودی امانت، پس انہی وجوہ سے معلم کو متعلم پر شرف و فضل حاصل ہے مبلغ کو نہیں، اسی لئے جبرئیل ” رسول امین “ قرار پائے ہیں، گوا امین خود قابض اور واسطہ قبض صاحب امانت ہو مگر خادم و مامور ہے نہ کہ معطی ومالک، ملائکہ ذرائع ہوتے ہیں اور انبیاء مقاصد (خلاصۃ التفاسیر ملخصاً )
Ayahs 53:21–22الکم الذکر ولہ الانثی تلک اذا قسمۃ ضیزی مشرکین مکہ فرشتوں اور مذکورہ دیویوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے یہ اس کی تردیدے، ضیزی ضور یا ضیر سے مشتق ہے جس کے معنی ظلم کرنے اور حق تلفی کرنے نیز جادہ حق سے ہٹنے کے ہیں، ابن عباس ؓ نے ضیزی کے معنی ظالمانہ تقسیم کے کئے ہیں، مطلب یہ ہے کہ اناث جن کو تم ناپسند کرتے اور حقیر سمجھتے ہو ان کی نسبت اللہ کی طرف کرتے ہو اور ذکور ہو اور ذکور جن کو تم پسند کرتے ہو اپنے حصہ میں رکھتے ہو، یہ ظالمانہ اور غیر منصفانہ تقسیم ہے۔
Ayahs 53:23–25انھی الا اسماء سمیتموھا الخ یعنی جن کو تم دیوی دیوتا کہتے ہو اور جن کی تم پوجا پاٹ کرتے ہو اور جن کے لئے تم خدائی صفات اور اختیارات ثابت کرتے ہو اور تم نے اور تمہارے آباء نے بطور خود ان کو خدا کی اولاد اور خدائی میں شریک مان کر نام رکھ لئے ان کی حقیقت کچھ نہیں ہے اور نہ خدا کی طرف سے کوئی ایسی سند آئی کہ جسے تم اپنے ان مفروضات کے ثبوت میں پیش کرسکو اور یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ تم اپنی خواہشات نفس کی پیروی اختیار کئے ہوئے ہو، حالانکہ ہر زمانہ میں اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ان گمراہ لوگوں کو حقیقت حال سے آگاہ کرتے رہے ہیں اور اب اللہ کے آخری نبی محمد ﷺ نے آ کر بتادیا ہے کہ کائنات میں خدائی کس کی ہے اور حقیقی معبود کون ہے ؟
Ayah 53:26ترجمہ : اور آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے موجود ہیں یعنی بہت سے فرشتے ہیں اور عنداللہ کس قدر مکرم ہیں (پھر بھی) ان کی سفاعت کچھ فائدہ نہ دے گی مگر بعد اس کے کہ اللہ ان کو شفاعت کی اجازت عطا فرما دے اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہے اور اس سے راضی ہو (اللہ تعالیٰ کے قول) ولایشفعون الا لمن ارتضی کی وجہ سے اور یہ بات معلوم ہی ہے کہ فرشتوں کی شفاعت کا وجود شفاعت کی اجازت کے بعد ہی ہوگا، کس کی مجال کہ اس کے حضور اس کی اجازت کے بغیر شفاعت کرے ؟ بلاشبہ وہ لوگ جو آخرت کا یین نہیں رکھتے تو وہ فرشتوں کے زنانے نام رکھتے ہیں بایں طور کہ انہوں نے فرشتوں کے بارے میں کہا کہ وہ اللہ کی بیٹیاں ہیں حالانکہ ان کو اس مقولہ کے بارے میں کچھ علم نہیں ہے اور وہ اس قول میں اس ضن محض کی پیروی کر رہے ہیں جو انہوں نے کرلیا ہے اور یقینا ظن علم کی جگہ کچھ بھی فائدہ نہیں دے سکتا، یعنی جہاں علم مطلوب ہو وہاں ظن سے کام نہیں چل سکتا، تو آپ بھی اس شخص سے توجہ ہٹا لیجیے جس نے ہمارے ذکر یعنی قرآن سے رخ پھیرلیا اور اس کا مقصد محض دنیوی زندگی ہی ہے اور یہ (حکم) جہاد کے حکم سے پہلے کا ہے اور یہ یعنی دنیا طلبی ان کا منتہائے علم ہے یعنی ان کے علم کی آخری منزل یہی ہے کہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیں بلاشبہ آپ کا پروردگار اس کو خوب جانتا ہے جو اس کے راستہ سے بھٹک گیا اور اس سے بھی بخوبی واقف ہے جس نے راہ ہدایت اختیار کی یعنی ان دونوں سے واقف ہے لہٰذا دونوں کو جزاء دے گا اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ کی ملک ہے یعنی وہی اس کا مالک ہے اور اسی میں گمراہ اور راہ یافتہ بھی ہیں وہ جس کو چاہے گمراہ کرے اور جس کو چاہے ہدایت دے تاکہ اس شخص کو سزا دے جس نے شرک و کفر وغیرہ کے ذریعہ بد اعمالیاں کیں اور ان لوگوں کو جنت کا صلہ دے جنہوں نے توحید وطاعت وغیرہ کے ذریعہ نیک اعمال کئے اور بیان فرمایا اپنے قول الذین یجتنبون الخ کے ذریعہ نیکو کاروں کو (نیکو کار) وہ لوگ ہیں جو بڑے (بڑے) گناہوں سے اجتناب کرتے ہیں اور بےحیائیوں سے (بھی) مگر کہ چھوٹے موٹے گناہوں کے مرتکب ہوجاتے ہیں اور لمم چھوٹے گناہوں کو کہتے ہیں جیسا کہ ایک نظر دیکھ لینا اور ایک بوسہ لے لینا اور ایک مرتبہ چھو لینا، یہ استثناء منقطع ہے اور معنی یہ ہیں کہ صغائر، کبائر سے اجتناب کرنے کی وجہ سے معاف کردیئے جاتے ہیں بلاشبہ تیرا رب وسیع المغفرت ہے اس کے ذریعہ اور توبہ قبول کرنے کے ذریعہ اور (آئندہ) آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی جو شخص (فخر کے طور پر) کہتا تھا ہماری نماز، ہمارے روزے، ہمارا حج حالانکہ وہ تم کو خوب جانتا ہے جب کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا یعنی تمہارے دادا آدم کو مٹی سے پیدا کیا جب کہ تم مائوں کے پیٹ میں جنین تھے اجنۃ جنین کی جمع ہے لہٰذا تم اپنے نفسوں کی پاکی مت بیان کرو اب رہا نعمت کے اعتراف کے طور پر تو وہ حسن ہے، متقیوں کو وہ خوب جانتا ہے۔
تحقیق و ترکیب و تہسیل و تفسیری فوائد
قولہ : کم من ملک، کم خبر یہ بیان کثرت کے لئے ہے لہٰذا ملک اگرچہ مفرد ہے مگر معنی میں جمع کے ہے، لہٰذا الا تغنی شفاعتھم کے مطابق ہے اور کم من ملک مبتداء اور لاتغنی اس کی خبر دونوں محلا مرفوع ہیں۔
قولہ : وما اکرمھم جملہ تعجبیہ ہے، ملائکہ کی زیادتی تشریف کو بیان کرنے کے لئے لایا گیا ہے۔
قولہ : و معلوم انھا لاتوجد منھم الا بعد الا ذان فیھا اس عبارت کے اضافہ کا ایک مقصد تو اس شبہ کو دور کرنا ہے کہ لاتغنی شفاعتھم شیئاً سے معلوم ہوتا ہے کہ ملائکہ کی شفاعت تو ہوگی مگر وہ کچھ بھی مفید نہ ہوگی حالانکہ سرے سے شفاعت ہی نہیں ہوگی، مذکورہ عبارت سے مفسر علام نے جواب دیدیدا کہ عدم اغناء شفاعت، عدم شفاعت کے معنی میں ہے، نیز دوسرا مقصد یہ بتانا بھی ہے کہ شفاعت کے لئے دو باتیں ضروری ہیں، اول یہ کہ جس کے لئے شفاعت کی جا رہی ہے اللہ اس کی شفاعت سے راضی بھی ہو یہ بات لاتغنی شفاعتھم شیائً الخ سے مفہوم ہو رہی ہے دوسرے یہ کہ شفاعت کرنے والے کو اجازت بھی ہو، یہ بات دوسری آیت من ذا الذی یشفع عندہ الا باذنہ سے مفہوم ہے، جب دونوں باتیں جمع ہوں گی تب ہی شفاعت ہوگی ورنہ نہیں۔
قولہ : ای عن العلم اس عبارت سے مفسر علام نے اشارہ کردیا کہ من بمعنی عن ہے اور حق بمعنی علم ہے۔
قولہ : ومنہ الضال و المتھدی الخ اس عبارت کے اضافہ کا فائدہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے، سوال یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین وما فیھما کی ملکیت اللہ تعالیٰ کے لئے بالذات ثابت ہے اور جو چیز بالذات ثابت ہوتی ہے وہ چیز معلول بالعلتہ نہیں ہوتی، حالانکہ لیجزی الذین الخ کو ملک سموات والارض کی علت قرار دیا گیا ہے۔
جواب :۔ جواب کا حاصل یہ ہے کہ لیجزی اضلال و ہدایت کی تعلیل ہے جو کہ ملک السموات والارض وما فیھما میں شامل ہے لہٰذا تقدیر عبارت یہ ہے یضل ویھدی لیجزی اور یہ بھی صحیح ہے کہ لام عاقبت کا ہو مطلب یہ کہ تخلیق کائنات اس لئے ہے کہ مخلوق میں محسن بھی ہوں گے اور مسی بھی یعنی نیکو کار بھی ہوں گے اور بدکار بھی، نیکو کاروں کو جزاء حسن دے اور بدکاروں کو جزاء سوء
قولہ : الذین یجتنبون الخ یہ الذین احسنوا سے بدل ہے یا عطف بیان ہے یا نعمت ہے یا اعنی محذوف کا مفعول ہے یا مبتداء محذوف کی خبر ہے ای ھم الذین
قولہ : اللھم چھو گناہ لمم کے لغوی معنی ہیں کم اور چھوٹا ہونا، اسی سے اس کے یہ استعمالات ہیں الم بالمکان مکان میں تھوڑی دیر قیام کو کیا الم بالطعام تھوڑا سا کھایا، اسی طرح کسی چیز کو محض چھونا، یا اس کے قریب ہونا، یا کسی کام کا ایک یا دو مرتبہ کرنا، اس پر دوام و استمرار نہ کرنا، یا محض دل میں خیال گذرنا، یہ سب صورتیں لمم کہلاتی ہیں (فتح القدیر شو کانی) اسی مفہوم اور استعمال کی رو سے اس کے معنی صغیرہ گناہ کے کئے جاتے ہیں، یعنی کسی بڑے گناہ کے مبادایت کا ارتکاب لیکن بڑے گناہ سے اجتناب کرنا، یا کسی گناہ کا ایک دو بار کرلینا اور پھر ہمیشہ کے لئے اس کو چھوڑ دینا، یا کسی گناہ کا خیال دل میں آنا مگر عملاً اس کے قریب نہ جانا، یہ سب صغیرہ گناہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کبائر سے اجتناب کی برکت سے معاف فرما دے گا۔
قولہ : فھو استثناء منقطع یعنی الا المم مستثنیٰ منقطع ہے یعنی کبائر میں شامل نہیں ہے اور کبائر میں شامل ہو تو مستثنیٰ متصل ہوگا۔
تفسیر و تشریح
وکم من ملک فی السموات لاتغنی شفاعتھم شیئاً یعنی فرشتے اپنی کثرت اور عند اللہ مقرب ترین مخلوق ہونے کے باوجود شفاعت کا اختیار نہیں رکھتے ان کو بھی شفاعت کا حق صرف انہیں لوگوں کے لئے ملے گا جن کے لئے اللہ پسند کرے گا، جب یہ بات ہے تو پھر یہ اینٹ پتھر کی مورتیاں اور بنائوٹی معبود کس طرح کسی کی سفارش کرسکیں گے ؟ جس سے تم آس لگائے بیٹھے ہو، نیز اللہ تعالیٰ مشرکوں کے حق میں کسی کی فارش کرنے کا حق کیسے دے گا ؟ جبکہ شرک اس کے نزدیک ناقابل معافی جرم ہے ؟
Ayahs 53:27–28ان الذین لا یومنون بالاخرۃ الخ یعنی ایک حماقت تو ان کی یہ ہے کہ انہوں نے بےاختیار فرشتوں کو جو بغیر اجازت سفارش کرنے کا اختیار نہیں رکھتے معبود بنا لیا ہے، اس پر مزید حماقت یہ کہ وہ انہیں عورت سمجھتے ہیں اور انہیں خدا کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں ان ساری جہالتوں میں ان کے مبتلا ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ آخرت نہیں مانتے اور ملائکہ کے متعلق انہوں نے یہ عقیدہ کچھ اس بناء پر اختیار نہیں کیا ہے کہ انہیں کسی ذریعہ علم سے یہ معلوم ہوگیا ہے کہ وہ عورتیں ہیں اور خدا کی بیٹیاں ہیں، بلکہ انہوں نے محض اپنے قیاس و گمان سے ایک بات فرض کرلی ہے، حالانکہ یہ اصول اور عقیدہ کا مسئل ہے اس میں تو علم قطعی کی ضرورتی ہوتی ہے، گمان غالب مسائل فرعیہ عملیہ میں تو کام آسکتا ہے نہ کہ مسائل اعتضاد یہ میں۔
Ayah 53:29فاعرض عن من تولی الخ یعنی ایسے لوگوں کے سمجھانے پر اپنا قیمتی وقت صرف نہ کیجیے کہ جو ایسی کسی دعوت کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہوں جس کی بنیاد خدا پرستی پر ہوا اور جو دنیا کے مادی فائدوں سے بلند تر مقاصد اور اقدار کی طرف بلاتی ہو، اس قسم کے مادہ پرست اور خدا بیزار انسان پر اپنی محنت صرف کرنے کے بجائے توجہ ان لوگوں کی طرف کیجئے جو خدا کا ذکر سننے کے لئے تیار ہوں اور دنیا پرستی کے مرض میں مبتلا نہ ہوں، یہ لوگ دنیا اور اس کے فوائد سے آگے نہ کچھ جانتے ہیں اور نہ سوچ سکتے ہیں، اس لئے ان پر محنت صرف کرنا لاحاصل ہے۔
Ayah 53:30ان ربک ھو اعلم بمن ضل عن سبیلہ وھو اعلم بمن اھتدی یہ اعراض کی علت ہے کسی کے گمراہ یا برسر ہدایت ہونے کا فیصلہ تو اللہ کے ہاتھ میں ہے وہی زمین و آسمان کا مالک ہے، اور اسی کو یہ علوم ہے کہ دنیا جو مختلف راہوں پر چل رہیں انی میں سے ہدایت کی راہ کونسی ہے ؟ اور ضلالت کی راہ کونسی ؟ لہٰذا تم اس بات کی کوئی پروانہ نہ کرو کہ یہ مشرکین عرب اور یہ کفار مکہ آپ و بھٹکا ہوا آدمی قرار دے رہے ہیں اور اپنی جاہلیت ہی کو حق و ہدایت سمجھ رہے ہیں یہ اگر اپنے زعل باطل میں مگن رہنا چاہتے ہیں تو رہنے والے دو ان سے بحث و تکرار میں ضائع کرنے اور سرکھپانے کی کوئی ضرورت نہیں۔
Ayah 53:31وللہ مافی السموات وما فی الارض یہ جملہ معترضہ ہے اور لیجزی کا تعلق ماقبل سے ہے۔
Ayah 53:32الذین یجتنبون کبائر الاثم والفواحش الا اللمم اس آیت میں ” محسنین “ جن کی اوپر مدح فرمائی گئی ہے کی علامت اور شناخت بتائی گی ہے کہ وہ کبیرہ گناہوں سے عموماً اجتناب کرتے ہیں اور فحش و بےحیائی کے کاموں سے بالخصوص دور رہتے ہیں، اس میں ایک استثناء، بلفظ لمم سے فرمایا گیا ہے (لمم) کی تشریح سابق میں بھی گذر چکی ہے، مطلب یہ کہ ان حضرات کو محسن (نیکو کار) ہونے کا جو خطاب دیا گیا ہے، لمم میں ابتلاء ان کو اس خطاب سے محروم نہیں کرتا۔
لمم کی تشریح میں صحابہ اور تابعین کے دو قول منقول ہیں، ایک یہ کہ اس سے مراد صغیر گناہ ہیں جن کو سورة نساء کی آیت میں سیئات سے تعبیر فرمایا گیا ہے ان تجتنبوا کبائر ماتنھون عنہ نکفر عنکم سیئاتکم یہ قول حضرت ابن عباس اور ابوہریرہ ؓ سے ابن کثیر نے نقل کیا ہے، دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے وہ گناہ مراد ہے جو انسان سے اتفاقی طور پر سرزد ہوگیا ہو پھر اس سے توبہ کرلی ہو اور پھر اس کے قریب بھی نہ گیا ہو یہقول بھی ابن کثیر نے بروایت ابن جریر مختلف واسطوں سے نقل کیا ہے اس کا حاصل بھی یہی ہے کہ اگر کسی نیک آدمی سے کبھی اتفاقاً کبیرہ گناہ سر زد ہوجائے اور اس نے توبہ کرلی تو یہ شخص بھی صالحین اور متقین کی فہرست سے خارج نہ ہوگا، سورة آل عمران کی ایک آیت میں یہی مضمون بہت صراحت کے ساتھ آیا ہے، متقیوں کی صفات کے بیان کے ذیل میں فرمایا والذین اذافعلوا فاحشۃ او ظلموا انفسھم ذکروا اللہ فاستغفروا لذنوبھم ومن یغفر الذنوب الا اللہ ولم یصروا علیمافعلوا وھم یعلمون (یعنی وہ لوگ متقین ہی میں داخل ہیں جن سے کوئی فحش کبیرہ گناہ سر زد ہوگیا ہو گناہ کر کے اپنی جان پر ظلم کر بیٹھے تو فوراً ان کو اللہ کی یاد آئی اور اپنے گناہوں کی مغفرت مانگی اور اللہ کے سوا گناہوں کو معاف کر بھی کون سکتا ہے ؟ اور جو گناہ ہوگیا اس پر جمے نہیں رہے) اور جمہرو علماء کے نزدیک یہ بھی متفق علیہ ہے کہ جس صغیرہ گناہ پر اصرار کیا جائے اور اس کی عادت ڈال لی جائے وہ بھی کبیرہ ہوجاتا ہے اس لئے لمم سے وہ صغیرہ گناہ مراد ہیں جن پر اصرار نہ ہو۔ (معارف)
حضرت عبداللہ بن مسعود اور مسروق اور شعبی فرماتے ہیں اور حضرت ابوہریرہ اور عبداللہ بن عباس سے بھی معتبر روایات میں یہ قول منقول ہوا ہے کہ اس سے مراد آدمی کا کسی بڑے گناہ کے کے قریب تک پہنچ جانا اور اس کے ابتدائی مراحل تک طے کر گذرنا مگر آخری مرحلہ میں پہنچ کر رک جانا ہے مثلاً کوئی شخص چوری کرنے کے لئے جائے مگر چوری سے باز رہے یا اجنبیہ سے اختلاط کرے مگر زنا کا اقدام نہ کرے۔
حضرت عبداللہ بن زبیر عکرمہ، قتادہ اور ضحاک کہتے ہیں کہ ان سے مراد چھوٹے چھوٹے گناہ ہیں جن کے لئے دنیا میں بھی کوئی سزا مقرر نہیں کی گئی ہے اور آخرت میں بھی جن پر کوئی عذاب کی وعید نہیں فرمائی گئی ہے۔
حضرت سعید بن مسیب رحمتہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ لمم سے مراد دل میں گناہ کا خیال آنا مگر عملاً اس کا ارتکاب نہ کرنا، یہ حضرات صحابہ اور تابعین سے لمم کی مختلف تفسیرین ہیں، جو روایات میں منقول ہوئی ہیں، بعد کے مفسرین اور ائمہ و فقہاء کی اکثریت اس بات کی قائل ہے کہ یہ آیت اور سورة نساء کی آیت 31 صاف طور پر گناہوں کو دو بڑی اقسام پر تقسیم کرتی ہیں، ایک کبائر اور دوسرے صغائر، اور یہ دونوں آیتیں انسان کو امید دلاتی ہیں کہ اگر وہ کبائر اور فواحش سے پرہیز کرے تو اللہ تعالیٰ صغائر سے در گزر فرمائے گا، امام غزالی رحمتہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کبائر اور صغائر کا فرق ایک ایسی چیز ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔
صغیرہ و کبیرہ گناہ میں فرق :
اب رہا یہ سوال کہ صغیرہ اور کبیرہ گناہ میں فرق کیا ہے ؟ اور کس قسم کا گناہ صغیرہ اور کسی قسم کا گناہ کبیرہ ہے تو اس میں واضح اور صاف بات یہ ہے کہ ہر وہ فعل گناہ کبیر ہے جس کتاب و سنت کی کسی نص صریح نے حرام قرار دیا ہے یا اس کے لئے اللہ اور اس کے رسول نے دنیا میں کوئی سزا مقرر فرمائی ہو، یا اس پر آخرت میں عذاب کی وعید سنائی ہو یا اس کے مرتکب پر لعنت ہو، یا اس کے مرتکبین پر نزول عذاب کی خبر دی ہو، اس نوعیت کے گناہوں کے ماسوائے جتنے افعال بھی شریعت کی نگاہ میں ناپسندیدہ ہیں وہ سب صغائر کی تعریف میں آتے ہیں، اسی طرح کبیرہ کی محض خواہش یا اس کا ارادہ بھی کبیرہ نہیں، بلکہ صغیرہ ہے، حتی کہ کسی بڑے گناہ کے ابتدائی مراحل طے کر جانا بھی اس وقت تک گناہ کبیرہ نہیں ہے، جب تک آدمی اس کا ارتکاب نہ کر گذرے، البتہ گناہ صغیرہ بھی ایسی حالت میں کبیرہ ہوجاتا ہے، جب وہ دین کے استخفاف اور اللہ کے مقابلہ میں استکبار کے جذبہ سے کیا جائے۔
ان ربک واسع المغفرۃ مطلب یہ ہے کہ صغائر کا معاف کردیا جانا، کچھ اس وجہ سے نہیں کہ صغیرہ گناہ گناہ نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ تنگ نظری اور خوردہ گیری کا معاملہ نہیں فرماتا، بندے اگر نیکی اختیار کریں اور کبائر و فواحش سے اجتناب کرتے رہیں تو وہ ان کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر گرفت نہ فرمائے گا اور اپنی رحمت بےپایاں کی وجہ سے ان کو ویسے ہی معاف کر دے گا۔
ھو اعلم بکم اذا انشاکم من الارض (الآیۃ) اجنۃ جنین کی جمع ہے رحم مادر میں جو بچہ ہوتا ہے اسے جنین کہتے ہیں اس لئے کہ وہ لوگوں کی نظروں سے مستور ہوتا ہے،” جیم نون نون “ کے مادہ میں ستر و خفا کے معنی لازم ہیں، مطلب یہ ہے کہ جب اس سے تمہاری کوئی کیفیت و حالت و حرکت مخفی نہیں حتی کہ جب تم صلب پدر اور رحم مادر میں تھے جہاں کوئی دیکھنے پر قادر نہیں تھا وہ وہاں بھی تمہارے تمام احوال و کیفیات سے واقف تھا تو پھر اپنی پاکیزگی بیان کرنے اور اپنے منہ میاں مٹھو بننے اور خود ستائی کے مرض میں مبتلا ہونے کی کیا ضرورت ہے ؟ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے متنبہ فرمایا ہے کہ وہ اپنی جان کا اتنا علم نہیں رکھتا جتنا اس کے خالق سبحانہ کو ہے کیونکہ صلب پدر سے لیکر رحم مادر میں تخلیق کے جو مختلف ادوار اس پر گذر رہے ہوتے ہیں اس وقت وہ کوئی علم و شعور ہی نہیں رکھتا مگر اس کا بنانے والا خوب جانتا ہے اس سے انسان کو اس کے عجز اور کم علمی پر متنبہ کر کے یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ جو بھی اچھا اور نیک کام کرتا ہے وہ اس کا ذاتی کمال نہیں ہے خدا کا بخشا ہوا انعام ہے، لہٰذا کسی بڑے بڑے نیک صالح اور متقی و پرہیز گار کو بھی یہ حق نہیں پہنچتا کہ اپنے عمل پر فخر کرے اور اس عمل کو اپنا کمال قرار دے کر غرور خود ستائی میں مبتلا ہوجائے اسی ہدایت کو اگلی آیت فلاتزکوا انفسکم ھو اعلم بمناتقی میں بیان فرمایا ہے، یعنی تم اپنے نفس کی پاکی کا دعویٰ نہ کرو کیونکہ اس کو صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ کون کیسا اور کس درجہ کا ہے ؟ کیونکہ مدار فضیلت تقویٰ پر ہے ظاہری اعمال پر نہیں اور تقویٰ بھی وہ معتبر ہے جو موت تک باقی رہے۔