Ayahs 53:33–34ترجمہ :۔ کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جو ایمان سے پھر گیا یعنی مرتد ہوگیا جب ایمان پر اس کو عار دلائی گئی اور کہا مجھے اللہ کے عذاب سے خوف آیا، تو اس کے لئے عاردلانے والا اس بات کا ضامن ہوگیا کہ وہ اس کی طرف سے اللہ کے عذاب کو اپنے اوپر اٹھا لے گا، اگر وہ اپنے شرک کی طرف لوٹ آئے اور اسے مال میں سے اتنا دیدے، چناچہ یہ شخص مرتد ہوگیا اور اس شخص نے مقررہ مال میں سے قلیل حصہ دیدیا اور باقی مال کو روک لیا اکدی کدیۃ سے ماخوذ ہے، کدیہ چٹان کے مانند زمین کا وہ سخت حصہ جو کنواں کھودنے والے کھودنے سے روکدے جب کھودتا ہوا اس چٹان پر پہنچے کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے ؟ کہ وہ جانتا ہے منجملہ اس کے یہ علم بھی ہے کہ دوسرا شخص اس کے آخرت کے عذاب کو اٹھا لے گا، نہیں (نہیں) اور وہ شخص ولید بن مغیرہ ہے یا اس کے علاوہ دوسرا کوئی شخص ہے اور جملہ اعندہ رایت بمعنی اخبرنی کا مفعول ثانی ہے، کیا اس کو اس کی خبر نہیں دی جو موسیٰ کے صحیفوں میں ہے تو رات کے سفر ناموں میں یا ان سے پہلے صحیفوں میں اور ابراہیم کے صحیفوں میں جس نے وہ حق پورا کیا جس کا اس کو حکم دیا گیا اور جب آزمایا ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں کے ذریعہ جن کو اس نے پورا کیا اور الاتزر وازرۃ وزراخری الخ ماکا بیان ہے، یہ کہ کوئی اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور ان مخففہ عن الثقلیہ ہے ای انہ لاتحملنفس ذنب غیرھا بالیقین کوئی نفس کسی نفس کے گناہوں کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور ان مخففہ عن الثقلیہ ہے ای انہ لاتحمل نفس ذنب غیرھا بالیقین کوئی نفس کسی نفس کے گناہوں کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور یہ کہ انسان کو صرف اسی عمل خیر کی سعی کا صلہ ملے گا جس کے لئے اس نے سعی کی ہوگی چناچہ اس کو غیر کی سعی کا صلہ نہ ملے گا، اور یہ کہ اس کی سعی عنقریب دیکھی جائے گی، یعنی آخرت میں اپنی سعی کو دیکھ لے گا اور پھر اس کو پوری پوری جزاء دی جائے گی بولا جاتا ہے جزیتہ سعیہ وبسعیہ (یعنی میں نے اس کی سعی کا صلہ دیدیا) اور یہ کہ تیرے پروردگار کی طرف (ہر شئی) کی انتہا ہے یعنی مرنے کے بعد تیرے پروردگار کی طرف رجوع کرنا اور لوٹن اے، سو وہ ان کو جزاء دے گا اور ان اگر فتحہ کے ساتھ ہے تو (الا تزر وازرۃ وزر اخری) پر عطف ہوگا اور اگر کسرہ کے ساتھ ہے تو جملہ مستانفہ ہوگا اور یہی دونوں صورتیں مابعد میں بھی ہوں گی، (یعنی) وانہ ھو اضحک سے عادن الاولیٰ تک میں، ثانی صورت میں (آئندہ) جملوں کا مضمون (مذکورہ) صحیفوں میں نہیں ہوگا اور یہ کہ وہی جس کو چاہتا ہے ہنساتا ہے یعنی خوش کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے رلاتا ہے یعنی رنجیدہ کرتا ہے اور یہ کہ وہی دنیا میں موت دیتا ہے اور زندہ کرتا ہے بعث کے لئے اور یہ کہ اس نے مذکر و مئونث دونوں صفیں نطفہ منی سے پیدا کیں جبکہ رحم میں پٹکایا جائے اور یہ کہ اس کے ذمہ میں ہے دوسری مرتبہ پیدا کرنا (نشاۃ) مد اور قصر کے ساتھ یعنی پہلی تخلیق کے بعد دوسری تخلیق فرمائی اور یہ کہ کفایت مال کے ذریعہ اس نے لوگوں کو مستغنی کیا اور مال عطا کیا، جس کو اس نے جمع کرلیا اور وہی شعریٰ کا رب ہے وہ ایک تارا ہے جو جوزا کے پیچھے ہوتا ہے، جس کی زمانہ جاہلیت میں پوجا کی جاتیھی اور اس نے عاد اولیٰ کو ہلاک کردیا اور ایک قرأت میں تنوین کو لام میں ادغام کر کے اور لام کی ضمہ کے ساتھ بغیر ہمزہ کے ہے، اور یہ قوم ہود ہے (عاد) اخریٰ صالح کی قوم ہے اور ثمود کو (ہلاک کردیا ) (ثمود) منصرف ہے باپ کا نام ہونے کی وجہ سے غیر، منصرف ہے قبیلہ کا نام ہونے کی صورت میں اور وہ عاد پر معطوف ہے تو ان میں سے کسی کو باقی نہیں چھوڑا اور اس سے پہلے قوم نوح کو یعنی عاد وثمود سے پہلے ہم نے ان کو ہلاک کردیا اور بلاشہ وہ عاد وثمود سے زیادہ ظالم اور زیادہ سرکش تھے نوح (علیہ السلام) کے ان میں ساڑھے نو سال سو سال کر کے طویل زمانہ تک قیام کرنے کی وجہ سے اور وہ ایمان نہ لانے کے ساتھ ساتھ ان کو ایذا پہنچاتے اور ان کو مارتے اور الٹائی ہوئی بستیوں کو کہ وہ قوم لوط کی بستیاں تھیں پٹخ دیا یعنی انکو اوپر لیجا کر پلٹ کر زمین پر پٹخ دیا، جبرئیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کو اس کا حکم دے کر، اس کے بعد ان بستیوں کو پتھروں سے ڈھانپ لیا (ما غشی کو) ہولناکی کو ظاہر کرنے کے لئے مبہم رکھا ہے اور سورة ہود میں ہے کہ ہم نے ان کی بستیوں کو تہ وبالا کردیا، اور ہم نے ان پر کنکر کے پتھر برسائے پس تو انسان اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں میں جو اس کی وحدانیت اور قدرت پر دلالت کرتی ہیں شک کرتا ہے اور جھٹلاتا ہے (اے شخص) یہ محمد ﷺ پہلوں کی مانند ڈرانے والا ہے یعنی اس سے پہل یرسولوں جیسا رسول ہے تم لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہے، جیسا کہ وہ اپنی قوموں کی طرف بھیجے گئے تھے، قریب آنے والی قریب آگئی یعنی قیامت قریب آگئی اور اللہ کے سوا اس کو کوئی ظاہر کرنے والا نہیں یعنی وہی اس کو کھول سکتا ہے اور ظاہر کرسکتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا قول لایجلیھا لوقتھا الا ھو اس کے وقت کو اللہ ہی ظاہر کرے گا، کیا تم اس کلام قرآن سے تعجب کرتے ہو اور استہزاء کرتے ہو اور اس کے وعدوں اور وعیدوں کو سن کر روتے نہیں ہو اور تم غفلت میں پڑے ہوئے ہو یعنی جو تم سے مطلوب ہے اس سے تم لہو اور غفلت میں پڑے ہوئے ہو سو تم اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے تمہیں پیدا کیا اور اس کی بندگی کرو اور بتوں کو سجدہ نہ کرو اور نہ ان کی بندگی کرو۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : افرایت الذی تولی ہمزہ استفہام تقریر کے لئے ہے۔
قولہ : رأت بمعنی اخبرنی، الذی اسم موصول صلہ سے مل کر مفعول اول۔
قولہ : واعطی قلیلاً واکدی اعطی تولی پر معطوف ہے اور قلیلاً مصدر محذوف کی صفت ہے، ای اعلطیٰ اعطائً قلیلاً ، قلیلاً کو مفعول بہ قرار دینا بھی درست ہے۔
قولہ : اعندہ علم الغیب الخ ہمزہ استفہام انکاری ہے اور جملہ ہو کر رأیت کا مفعول ثانی ہے۔
قولہ : تولی ای اسلم ثم ارتد اکثر کا قول یہ ہے کہ اس سے مراد لیدین بن مغیرہ ہے اور یہ آیت اسی کے بارے میں نازل ہوئی۔
قولہ : اعطاہ من مالہ اعطاہ کی ضمیر مستر تولی کے فاعل مستتر کی طرف راجع ہے اور ہ ضمیر بارز ضمن کے فاعل کی طرف راجع ہے، یعنی ضام نے الذی تولی پر دو چیزیں لازم کیں ایک یہ کہ ترک توحید کر کے شرک کی طرف لوٹ آئے، دوسرے یہ کہ ضمان کے عوض مال کی ایک مخصوص مقدار اس کو دے اور ضامن نے خود اپنے اوپر صرف ایک چیز لازم کی اور وہ آخرت میں اللہ کے عذاب کا ضمان ہے۔
قولہ : تمم ما امربہ حضرت ابراہیم نے ان احکام کو بخوشی پورا کیا جن کا ان کو حکم دیا گیا تھا، مثلاً ذبح ولد، وقوع فی الذار، خصال فطرت، ہجرت وطن وغیرہ
قولہ : وبیان مالاتزر وازرۃ وزر اخری الخ یعنی الاتزر الخ بما میں ما سے بدل واقع ہونے کی وجہ سے محلاً مجرور ہے اور مراد مفسر رحمتہ اللہ تعالیٰ کے قول الی آخرہ سے فبای آلاء وربک تتماری تک ہے۔
قولہ : بالفتح عطفاً و قری بالکسر استینافاً یعنی ان الی ربک المنتھی کے ان میں دو احتمال ہیں اول یہ کہ الا تزر وازرۃ وزر اخری پر عطف کیا جائے اور ان کو منصوب پڑھا جائے، اس صورت میں فبای آلاء ربک تتماری تک ماکابیان ہوگا اور آخر تک کا پورا مضمون صحف موسیٰ و صحف ابراہیم میں ہوگا اور اگر ان کو بالکسر پڑھا جائے تو اس صورت میں وان الی ربک المنتھی سے آخر تک جملہ مستانفہ ہوگا اور آخر تک مضمون صحف موسیٰ اور صحف ابراہیم میں نہ ہوگا، بلکہ صرف پہلے تین (1) الا تزر وازرۃ وزر اخری (2) ان لیس للانسان الا ماسعی (3) ان سعیہ سوف یری ثم یجزاہ الجزاء الاوفی کا مضمون صحف موسیٰ و صحف ابراہیم میں ہوگا۔
کہ الاتزر وازرۃ وزر اخریٰ پر عطف کیا جائے اور ان کو منصوب پڑھا جائے، اس صورت میں فبای الآء ربک تتماری تک ما کا بیان ہوگا اور آخر تک کا پورا مضمون صحف موسیٰ و صحف ابراہیم میں ہوگا اور اگر ان کو بالکسر پڑھا جائے تو اس صورت میں وان الی ربک المنتھی سے آخر تک جملہ مستانفہ ہوگا اور آخر تک مضمون صحف موسیٰ اور صحفت ابراہیم میں نہ ہوگا، بلکہ صرف پہلے تین یعنی (1) الاتزر وازرۃ وزراخری (2) ان لیس للانسان الا ماسعی (3) ان سعیہ سوف یری ثم یجزاہ الجزاء الاوفیٰ کا مضمون صحف موسٰ و صحف ابراہیم میں ہوگا۔
قولہ :۔ وکذا مابعدھا مابعد سے مراد وانہ اضحک وابکی سے لے کر وانہ خلق الزوجین الذکر والانثیٰ تک ہے۔
ملحوظہ : بما فی صحف موسیٰ کے ما کے بیان میں ان گیارہ جگہ واقع ہوا ہے، یہ اس صورت میں ہے جبکہ ان الی ربک المنتھی کا الا تزر وازرۃ الخ پر عطف کرتے ہوئے ان کو مفتوح پڑھا جائے ورنہ تو صرف اول تین جگہ ان مفتوجہ ہوگا اور باقی آٹھ جگہ ان مک سورة ہوگا۔
قولہ :۔ واقنی اقنائٌ سے ماضی واحد مذکر غائب، اس نے جمع کیا ای اعطی المال الذی اتخذ قنیۃ، قنیۃ وہ مال جس کو ذخیرہ کیا جائے اور خرچ کرنے کا ارادہ نہ ہو (اعراب القرآن، درویش) اقنی کے اہل لغت اور مفسرین نے مختلف معنی بیان کئے ہیں قتادہ فرماتے ہیں کہ ابن عباس نے اس کے معنی ارضی (راضی کردیا) بتائے ہیں، عکرمہ نے ابن عباس سے اس کے معنی قنع بتائے ہیں (مطمئن کردیا) امام رازی فرماتے ہیں انسان کی ضرورت سے زائد جو کچھ اس کو دیا جائے وہ اقناء ہے، ابوعبید اور دیگر متعدد اہل لغت کا قول ہے کہ اقنی، قنیۃ سے مشتق ہے، جس کے معنی ہیں محفوظ اور باقی رہنے والا مال، مثلاً مکان، اراضی، باغات وغیرہ (لغات القرآن) ابن زید، ابن کیسان اور اخفش نے اقنی کے معنی افقر کے کئے ہیں، یعنی اس نے فقیر بنایا، ابن جریر نے یہی معنی مراد لئے ہیں اور ہمزہ افعال کو سلب ماخذ کے لئے لیا ہے جیسے اش کی سلب شکایت کے معنی میں ہے، سیاق وسباق سے بھی یہ معنی مناسب معلوم ہوتے ہیں اس لئے کہ سابق سے متقابل چیزوں کا ذکر چلا آرہا ہے، مطلب یہ ہے کہ اس نے جس کو چاہا غنی کیا اور جس کو چاہا فقیر کیا۔
قولہ :۔ ھو رب الشعریٰ شعریٰ آسمان کا روشن ترین تازہ ہے، اس کو ” کلب اکبر “ بھی کہتے ہیں، اس کے اور بھی مختلف نام ہیں انگریزی میں اس کو (Dog Star) کہتے ہیں، عرب میں اس کی پوجا ہوتیھی، قریش کا قبیلہ بنو خزاعہ خاص طور پر اس کی پوجا کرتا تھا کہتے ہیں کہ یہ سورج سے 23 گنا زیادہ روشن ہے مگر زمین سے اس کا فاصلہ آٹھ سال نوری سے بھی زیادہ ہے اس لئے یہ سورج سے چھوٹا اور کم روشن نظر آتا ہے، روشنی کی رفتار فی سیکنڈ ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل ہے (فلکیات جدیدہ) اس کی عبادت کی ابتداء ابوکبشہ نے کی تھی جو کہ سادات قریش میں تھا، ابوکبشہ آپ ﷺ کی امہات کی جانب سے جد اعلیٰ ہے، اسی وجہ سے قریش آپ کو ابن ابی کبشہ کہا کرتے تھے، اس مناسبت سے کہ آنحضرت ﷺ نے جب عرب کے دین کے خلاف دعوت دینی شروع کی تو لوگوں نے آپ کو ابن ابی کبشہ کہنا شروع کردیا یعنی جس طرح ابو کبشہ نے اپنے زمانہ میں بت پرستی کی مخالفت کر کے ستارہ پرستی شروع کی گویا کہ اسی طرح آپ نے بت پرستی کی مخالفت کرتے ہوئے خدا پرستی شروع کی، یہ شدید گرمی کے موسم میں جوزاء کے بعد طلوع ہوتا ہے اس کو شعریٰ یمانی بھی کہتے ہیں، اس کے مقابل ایک شعریٰ شامی ہے وہ بھی روشن ترین ستاروں میں سے ہے، اس کو ” کلب اصغر “ کہتے ہیں۔
قولہ :۔ المئوتفکۃ ایتفاک (افتعال) سے اسم فاعل واحد مئونث (جمع) المئوتفکات الٹی ہوئی (بستیاں) مراد حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیاں ہیں جو موجودہ بحیرہ مردار کے ساحل پر آباد تھیں جن کا سب سے بڑا شہر سندوم یا سدوم تھا، حضرت لوط (علیہ السلام) کا حکم نہ ماننے اور ظلم ولواطت سے باز نہ آنے کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے الٹ دیا تھا اور کنکر پتھروں کی بارش کر کے نیست و نابود کردیا تھا۔
قولہ :۔ وفی ھود فجعلنا، صحیح یہ تھا کہ وفی ھود فلما جاء امرنا جعلنا عالیھا سافلھا فرماتے، یا پھر وفی الحجر فجعلنا عالیھا سافلھا فرماتے۔
قولہ :۔ تشک تتماری کی تفسیر تشک سے کر کے اشارہ کردیا کہ تفاعل تعدد فی الفاعل سے خالی ہے۔
قولہ :۔ نفس مفسر علام نے نفس محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ کاشفہ، موصوف محذوف کی صفت ہے۔
قولہ :۔ سامدون، السمود، اللھو (ن) وقیل الاعراض و قیل الاستکبار، وقیل ھو الغناء (گانا) ۔
تفسیر و تشریح
شان نزول :
افرایت الذی تولی مجاہد اور ابن زید اور مقاتل رحمتہ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ مذکوروہ آیت ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی، اور ضحاک نے کہا ہے کہ نضر بن الحارث کے بارے میں نازل ہوئی اور محمد بن کعب قرظی نے کہا کہ ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی، اکثر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ یہ آیت ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی۔
واقعہ : واقعہ اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ اس کا رجحان اسلام کی طرف ہوگیا تھا اور آنحضرت ﷺ سے بھی ربط ضبط اور تعلقات رکھتا تھا، مقاتل نے کہا کہ ولید نے قرآن کی تعریف کی تھی، مگر اس کے کسی دوست نے اس کو عار دلائی اور ملامت کرتے ہوئے کہا کہ تو نے اپنے باپ دادا کے دین کو کیوں چھوڑ دیا ؟ اس نے جواب دیا کہ مجھے اللہ کے عذاب سے ڈر لگتا ہے، اس ساتھی نے کہا تو مجھے کچھ دیدے تو میں آخرت کا تیرا عذاب اپنے سر لے لوں گا، تو عذاب سے بچ جائے گا، چناچہ ولید نے اس کی یہ بات مان لی اور خدا کی راہ پر آتے آتے رہ گیا اور اس کو طے شدہ مال کا کچھ حصہ دیدیا، اس نے مزید مطالبہ کیا تو کشاکشی کے بعد کچھ اور بھی دیدیا، مگر مزید دینے سے انکار کردیا، اسی واقعہ کی طرف آیت میں اشارہ ہے، اس واقعہ کی طرف اشارہ کرنے سے مقصود کفار مکہ کو یہ بتانا تھا کہ آخرت سے بےفکری اور دین کی حقیقت سے بیخبر ی نے ان کو کیسی جہالتوں اور حماقتوں میں مبتلا کردیا تھا۔
Ayah 53:35اعندہ علم الغیب فھو یری شان نزول میں جو واقعہ بیان کیا گیا ہے اس کے مطابق آیت کا مطلب یہ ہے کہ اس شخص نے اسلام کو اس لئے چھوڑ دیا کہ اس کے کسی ساتھی نے اس سے کہہ دیا تھا کہ آخرت کا تیرا عذاب میں اپنے سر لے کر تجھ کو بچاروں گا، اس احمق نے اس کی اس بات کا یقین کیسے کرلیا ؟ کیا اس کو علم غیب حاصل ہے ؟ جس سے وہ دیکھ رہا ہے کہ کفر کی صورت میں وہ جس عذاب کا مستحق ہوگا وہ عذاب یہ ساتھی اپنے سر لے گا اور مجھے بچا دے گا، ظاہر ہے کہ یہ سرا سر دھوکہ اور جہالت ہے۔
اور اگر مذکورہ واقعہ سے قطع نظر کرلی جائے تو آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ شخص جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتا کرتا رک گیا ہے تو اس کی وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ اس کو یہ خیال ہوا ہوگا کہ اگر موجودہ مال خرچ کر دوں گا تو پھر کہاں سے آئے گا ؟ اس خیال کی تردید میں فرمایا کیا اس کو غیب کا علم ہے ؟ جس کے ذریعہ وہ یہ دیکھ رہا ہے کہ یہ مال ختم ہو ائے گا اور اس کے علاوہ اور مال اس کو نہ مل سکے گا یہ غلط ہے، کیونکہ نہ اس کو غیب کا علم ہے اور نہ یہ بات صحیح ہے کیونکہ حق تعالیٰ شانہ نے ارشاد فرمایا مآ انفقتم من شیء فھو یخلفہ وھو خیر الرازقین یعنی تم جو کچھ خرچ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس کا بدلہ تمہیں دیدیتے ہیں اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والے ہیں۔
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلال ؓ سے فرمایا (انفق یا بلال ولا تخش عن ذی العرش اقلالاً ) یعنی اے بلال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہو اور عرش والے اللہ کی طرف سے اس کا خطرہ نہ رکھو کہ وہ تمہیں مفلس کر دے گا۔
Ayahs 53:36–38ام لم ینبا بما فی صحف موسیٰ و ابراہیم الذین وفی اس آیت میں ان تعلیمات کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے جو حضرت موسیٰ اور حضرت ابراہیم کے صحیفوں میں نازل ہوئی تھیں حضرت موسیٰ کے صحیفوں سے مراد تورات ہے، رہے حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کے صحیفے تو وہ آج دنیا میں کہیں موجود نہیں ہیں اور یہود و نصاریٰ کی کتب مقدسہ میں بھی ان کا کوئی ذکر نہیں پایا جاتا، صرف قرآن ہی ایک وہ کتاب ہے جس میں دو مقامات پر صحف ابراہیم کی تعلیمات کے بعض اجزاء نقل کئے گئے ہیں ایک یہ مقام اور دوسرے سورة اعلیٰ کی آخری آیات میں۔
تین اہم اصول :
اس آیت سے تین بڑے اصول مستنبط ہوتے ہیں : (1) ایک یہ کہ ہر شخص اپنے فعل کا ذمہ دار ہے (2) دوسرے یہ کہ ایک شخص کے فعل کی ذمہ داری دوسرے کے سر نہیں ڈالی جاسکتی، الایہ کہ اس فعل کے صدور میں اس کا اپنا کوئی حصہ ہو۔
(3) یہ کہ کوئی شخص اگر چاہے بھی تو کسی دوسرے شخص کے فعل کی ذمہ داری اپنے اوپر نہیں لے سکتا اور نہ اصل مجرم کو اس بناء پر چھوڑا جاسکتا ہے۔
Ayah 53:39وان لیس للانسان الا ماسعی جیسا کہ ماسبق کی آیت سے معلوم ہوا کہ کسی کا گاہ دوسرے کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، اسی طرح اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی کی سعری دوسرے کو فائدہ نہیں پہنچا سکتی، اس آیت سے جو یہ حصر مستفاد ہے کہ ہر شخص کو اسی کے عمل کی جزاء ملے گی دوسرے کے عمل کی نہیں، مگر یہ مسلک متعزلہ کا ہے، اہل سنت والجماعت کا بلکہ اہل اسلام میں سے اور کسی کا نہیں۔
تین اہم اصول :
اس آیت سے بھی تین اہم اصول نکلتے ہیں : (1) ایک یہ کہ ہر شخص جو کچھ بھی پائے گا اپنے عمل کا ہی پھل پائے گا (2) دوسرے یہ کہ ایک شخص کے عمل کا پھل دوسرا نہیں پاسکتا الایہ کہ اس عمل میں اس کا کوئی حصہ ہو (3) تیسرے یہ کہ کوئی شخص سعی اور عمل کے بغیر کچھ نہیں پاسکتا۔
مطلب یہ کہ جس طرح کوئی کسی دوسرے کے گناہ کا ذمے دار نہیں ہوگا اسی طرح آخرت میں اجر بھی انہی چیزوں کا ملے گا جن میں اس کی اپنی محنت ہوگی (اس جز کا تعلق آخرت سے ہے دنیا سے نہیں) جیسا کہ بعض لوگ اس آیت کو دنیا کے معاشی معاملات پر غلط طریقے سے منطبق کر کے اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ کوئی شخص اپنی معنت کی کمائی کے سوا کسی چیز کا جائز مالک نہیں ہوسکتا، جیسا کہ سوشلسٹ قسم کے لوگ اس کا یہ مفہوم باور کرا کے غیر حاض رزمینداری اور کرایہ داری کو ناجائز قرار دیتے ہیں اسی طرح کارخانوں کی پیداوار میں بقدر محنت وسعی مزدور کا حصہ قرار دیتے ہیں مگر یہ بات قرآن مجید ہی کے دیئے ہوئے دیگر قوانین اور احکام سے ٹکراتی ہے مثلاً قانون وراثت جس کی رو سے ایک شخص کے ترکہ میں سے بہت سے افراد حصہ پاتے ہیں اور اس کے جائز وارث قرار پاتے ہیں، حالانکہ یہ میراث ان کی اپنی محنت کی کمائی نہیں ہوتی، ایک شیر خوار وارث بچہ کے متعلق تو کسی طرح کھینچ تان سے بھی یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ باپ کے چھوڑے ہوئے مال میں اس بچے کی محنت کا بھی کوئی حصہ تھا ایسے ہی احکام زکوۃ و صدقات جن کی رو سے ایک آدمی کا مال دوسرے کو محض ان کو شرعی و اخلاقی استحقاق کی بنئا پر ملتا ہے اور وہ اس کے جائز مالک ہوتے ہیں، حالن کہ اس مال کے پیدا کرنے میں ان کی محنت کا قطعاً کوئی حصہ نہیں ہوتا، اس لئے قرآن کی کسی ایک آیت کو لے کر اس سے ایسے نتائج نکالنا جو خود قرآن ہی کی دوسری تعلیمات سے متصادم ہوتے ہیں، قرآن کے منشاء کے بالکل خلاف ہے۔
مسئلہ ایصال ثواب :
بعض دوسرے لوگ ان اصولوں کو آخرت سے متعلق مان کر یہ سوالات اٹھاتے ہیں کہ آیا ان اصولوں کی رو سے ایک شخص کا عمل دوسرے شخص کے لئے کسی صورت میں بھی نافع ہوسکتا ہے ؟ اور کیا ایک شخص اگر دوسرے شخص کے لئے یا اس کے بدلے کوئی عمل کرے تو وہ اس کی طرف سے قبول کیا جاسکتا ہے ؟ اور کیا یہ بھی ممکن ہے کہ ایک شخص اپنے عمل کے اجر کو دوسرے کی طرف منتقل کرسکتا ہے ؟ ان سوالات کا جواب اگر نفی میں ہو تو ایصال ثواب اور حج بدل وغیرہ سب ناجائز ہوجاتے ہیں، بلکہ دوسرے کے حق میں دعاء، استغفار بھی بےمعنی ہوجاتی ہے کیونکہ یہ دعاء بھی اس شخص کا اپنا عمل نہیں ہے جس کے حق میں دعا کیجیائے، مگر یہ انتہائی نقطہ، نظر معتزلہ کے سوا اہل اسلام میں سے کسی کا نہیں ہے، صرف معتزلہ ہی اس آیت کا یہ مطلب لیتے ہیں کہ ایک شخص کی سعی دوسرے کے لئے کسی حال میں بھی نافع نہیں ہوسکتی، بخلاف اہل سنت والجماعت کے کہ ایک شخص کے لئے دوسرے کی دعاء کے نافع ہونے کو تو بالا تفاق مانتے ہیں کیونکہ یہ قرآن سے ثابت ہے البتہ ایصال ثواب اور نیابۃ کسی دوسرے کی طرف سے کسی نیک کام کے نافع ہونے میں ان کے درمیان اصولاً نہیں تفصیل میں اختلاف ہے۔
عبادات کی تین قسمیں :
فقہاء حنفیہ کہتے ہیں کہ عبادات کی تین قسمیں ہیں : (1) اول خالص بدنی جیسے نماز، روزہ، ایمان (2) دوسرے خالص مالی جیسے زکوۃ صدقہ (3) مالی اور بدنی سے مرکب، جیسے حج، پہلی قسم میں نیابت درست نہیں مثلاً ایک شخص دوسرے کی طرف سے فرض نماز پڑھ لے اور دوسرا شخص اس عمل سے سبکدوش ہوجائے یا دوسرے کی طرف سے فرض روزہ رکھ لے اور دوسرا اس فرض روزے سے سبکدوش ہوجائے، یا ایک شخص دوسرے کی طرف سے ایمان قبول کرلے اور دوسرا اس سے سبکدوش ہوجائے اور اس دوسرے شخص کو مومن قرار دیدیا جائے۔
آیت مذکورہ کی اس تفسیر پر کوئی فقہی اشکال نہیں اور نہ شبہ عائد ہوتا ہے، زیادہ سے زیادہ حج اور زکوۃ کے مسئلہ میں یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ ضرورت کے وقت شرعاً ایک شخص دوسرے کی طر سے حج بدل سکتا ہے یا دوسرے کی زکوۃ اس کی اجازت سے ادا کرسکتا ہے، مگر غور کیا جائے تو یہ اشکال اس لئے درست نہیں کہ کسی کو اپنی جگہ حج بدل کے لئے بھیج دینا اور اس کے مصارف خود ادا کرنا، یا کسی شخص کو اپنی طرف سے زکوۃ ادا کرنے کے لئے مامور کردینا بھی درحقیقت اسی شخص کے اپنے عمل اور سعی کا جزء ہے، اس لئے لیس للانسان الا ماسعی کے منافی نہیں۔
جبکہ اوپر یہ معلوم ہوچکا ہے کہ آیت مذکورہ کا مفہوم یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے کے فرائض مثلاً ایمان، نماز، روزہ ادا کر کے دوسرے شخص کو سبکدوش نہیں کرسکتا، تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ایک شخص کے نفلی عملی کا فائدہ اور ثواب دوسرے شخص کو نہ پہنچ سکے، ایک شخص کی دعاء اور صدقہ کا ثواب دوسرے شخص کو پہنچنا نصوص شرعیہ سے ثابت ہے اور تمام امت کے نزدیک اجماعی مسئلہ ہے۔ (ابن کثیر، معارف) تفسیر مظہری میں اس جگہ ان تمام احادیث کو جمع کردیا ہے جن سے ایصال ثواب کا فائدہ دوسرے کو پہنچنا ثابت ہوتا ہے۔
ایصال ثواب کی حقیقت :
ایصال ثواب یہ ہے کہ ایک شخص کو نیک عمل کر کے اللہ سے دعاء کرے کہ اس کا اجر وثواب کسی دوسرے شخص کو عطا فرما دیا جائے، اس مسئلہ میں امام مالک اور امام شافعی فرماتے ہیں کہ خلاص بدنی عبادات مثلاً نماز روزہ، تلاوت قرآن وغیرہ کا ثواب دوسرے کو نہیں پہنچ سکتا، البتہ مالی عبادات مثلاً صدقہ خیرات وغیرہ یا مالی اور بدنی سے مرکب عبادات مثلاً حج کا ثواب دوسرے کو پہنچ سکتا ہے، اصول یہ ہے کہ ایک شخص کا عمل دوسرے کے لئے نافع نہ ہو مگر چونکہ احادیث صحیحہ کی رو سے صدقہ کا ثواب پہنچایا جاسکتا ہے، اور حج بدل بھی کیا جاسکتا ہے اس لئے ہم اسی نوعیت کی عبادات تک ایصال ثواب کی صحت تسلیم کرتے ہیں۔
قرآن خوانی کا ایصال ثواب :
اس کے برخلاف حنفیہ کا مسلک یہ ہے کہ انسان اپنے ہر نیک عمل کا ثواب دوسرے کو ہبہ کرسکات ہے خواہ وہ نماز ہو یا روزہ یا تلاوت قرآن، یا ذکر و صدقہ یا حج وعمرہ یہ بات بکثرت احادیث سے ثابت ہے، صاحب صاوی نے مالی و بدنی عبادت کے ایصال ثواب کے جواز پر اسی آیت کے تحت گیارہ دلیلیں لکھی ہیں جن میں قرآن و سنت دونوں کی دلیلیں ہیں، قرآن میں فرمایا واتبعتھم ذریتھم بایمان والدین کے ایمان و عمل کی بدولت اولاد کو ان کے مرتبہ میں پہنچا دینا یہ سعی غیر کا فائدہ ہے حالانکہ والدین کے عمل وسعی میں اولاد کا کوئی حصہ نہیں ہے، شیخ تقی الدین ابوالعباس احمد بن تیمیمہ نے فرمایا کہ جس نے یہ اعتقاد رکھا کہ انسان کو صرف اسی کے عمل کا فائدہ اور ثمرہ حاصل ہوگا، اس نے خرق اجماع کیا، امام اعظم رحمتہ اللہ تعالیٰ کا بھی یہی مسلک ہے۔ (صاوی)
دارقطنی میں ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ سے عرض کیا میں اپنے والدین کی خدمت ان کی زندگی میں تو کرتا ہوں ان کے انتقال کے بعد کیسے کروں ؟ آپ نے فرمایا یہ بھی ان کی خدمت ہی ہے کہ ان کے منے کے بعد تو اپنی نماز کے ساتھ ان کے لئے بھی نماز پڑھے اور اپنے روزوں کے ساتھ ان کے لئے بھی روزے رکھے، دار قطنی کی ایک دوسری روایت میں حضرت علی ؓ سے مروی ہے جس میں وہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا ” جس شخص کا قبرستان پر گذر ہوا اور وہ گیارہ مرتبہ قل ھو اللہ احد پڑھ کر اس کا اجر مرنے والوں کو بخش دے تو (اس قبرستان میں) جتنے مردے ہیں اتنا ہی اجر عطا کردیا جائے گا۔
بخاری، مسلم، مسند احم، ابن ماجہ، طبرانی (فی الاوسط) مستدرک اور ابن ابی شیبہ میں حضرت عائشہ ؓ ، ابوہریرہ ؓ حضرت جابر ؓ بن عبداللہ، حضرت ابو رافع ؓ حضرت ابوطلحہ انصاری، اور حذیفہ بن اسید الغاری کی متفقہ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو مینڈھے لے کر ایک اپنی اور اپنے گھر والوں کی طر سے قبران کیا اور دوسرا اپنی امت کی طرف سے۔
مسلم و بخاری، مسند احمد ابو دائود اور نسائی میں حضرت عائشہ ؓ کی روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ میری والدہ کا اچانک انتقال ہوگیا ہے، میرا خیال ہے کہ اگر انہیں بات کرنے کا موقع ملتا تو وہ ضرور صدقہ کرنے کے لئے کہتیں، اب اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا ان کے لئے اجر ہے ؟ فرمایا ہاں !۔
یہ کثیر روایتیں جو ایک دوسرے کی تائید کر رہی ہیں اس امر کی تصریح کرتی ہیں کہ ایصال ثواب نہ صرف ممکن ہے بلکہ ہر طرح کی عبادات اور نیکیوں کے ثواب کا ایصال ہوسکتا ہے اور اس میں کسی خاص نوعیت کے اعمال کی تخصیص نہیں ہے۔
ایصال عذاب ممکن نہیں :
ایصال ثواب تو ممکن ہے مگر ایصال عذاب ممکن نہیں، یعنی یہ تو ہوسکتا ہے کہ آدمی نیکی کر کے کسی دوسرے کے لئے اجر بخش دے اور وہ اس کو پہنچ جائے مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ آدمی گناہ کر کے اس کا عذاب کسی کو بخش دے اور وہ اسے پہنچ جائے۔
خالص بدنی عبادات میں نیابت اور ان کا ایصال ثواب :
خلاص مالی عبادات یا مالی اور بدنی عبادات سے مرکب عبادات میں نیابت اور ایصال ثواب کا واضح ثبوت ملات ہے، اب رہیں خالص بدنی عبادات میں نیابت اور ایصال ثواب کا ثبوت تو بعض احادیث ایسی بھی ہیں جن سے اس نوعیت کی عبادات میں نیابت کا جوا زثابت ہوتا ہے، مثلاً ابن عباس ؓ کی یہ روایت کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نے حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ میری ماں نے روزے کی نذر مانی تھی اور وہ پوری کئے غیر مرگئی، کیا میں اس کی طرف سے روزہ رکھ سکتی ہوں، آپ نے فرمایا اس کی طرف سے روزہ رکھ لے۔ (بخاری و مسلم، احمد، نسائی، ابو دائود)
اور حضرت بریدہ ؓ کی یہ روایت کی کہ ایک عورت نے اپنی ماں کے متعلق پوچھا کہ اس کے ذمہ ایک مہینے کے روزے (یا دوسری روایت کے مطابق دو مہینے) کے روزے تھے، کیا میں یہ روزے ادا کر دوں ؟ آپ نے اس کو بھی اس کی اجازت دے دی۔ (مسلم، احمد، ترمذی، ابو ائود)
اور حضرت عائشہ کی یہ روایت کہ آپ ﷺ نے فرمایا من مات وعلیہ صیام صام عنہ ولیہ، جو شخص مرجائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں تو اس کی طرف سے اس کا ولی روزے رکھ لے۔ (بخاری، مسلم، احمد) بزار کی روایت میں حضور ﷺ کے ال فاظ یہ ہیں فلیضم عنہ ولیہ ان شاء یعنی اگر اس کا ولی چاہے تو اس کی طرف سے روزے رکھ لے، انہی احادیث کی بناء پر اصحاب الحدیث، اور امام اوزاعی اور ظاہر یہ اس کے قائل ہیں کہ بدنی عبادات میں بھی نیابت جائز ہے، مگر امام ابوحنیفہ، امام مالک اور امام شافعی اور امام زید بن علی کا فتویٰ یہ ہے کہ میت کی طرف سے روزہ نہیں رکھا جاسکتا اور امام احمد، امام لیث اور اسحاق بن راہو یہ فرماتے ہیں کہ صرف اس صورت میں ایسا کیا جاسکتا ہے جب مرنے والے نے اس کی نذر مانی ہو اور وہ اسے پورا نہ کرسکا ہو۔
مانعین کا استدلال :
مانعین کا استدلال یہ ہے کہ جن احادیث سے اس کے جواز کا ثبوت ملتا ہے ان کے راویوں نے خود اس کے خلاف فتویٰ دیا ہے، حضرت ابن عباس کا فتویٰ نسائی نے ان الفاظ میں نقل کیا ہے لایصل احد عن احد ولا یصم احد عن احد کوئی شخص نہ کسی کی طرف سے نماز پڑھے اور نہ روزہ رکھے اور حضرت عائشہ ؓ کا فتویٰ عبدالرزاق کی روایت کے مطابق یہ ہے لاتصوموا عن موتکم وا طعموا عنھم اپنے مردوں کی طرف سے روزہ نہ رکھو بلکہ ان کی طرف سے کھانا کھلائو، حضرت عبداللہ بن عمر سے بھی عبدالرزاق نے یہی بات نقل کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اتداء بدنی عبادات میں نیابت کی اجازت تھی، مگر آخری حکم یہی قرار پایا کہ ایسا کرنا جائز نہیں ہے، ورنہ کس طرح ممکن تھا کہ جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ احادیث نقل کی ہوں وہ خود ان کے خلاف فتویٰ دیں۔
فائدہ :۔ اس سلسلہ میں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ نیابۃ فریضہ کی ادائیگی کے قائلین کے نزدیک بھی نیابۃ ادائیگی صرف اسی صورت میں مفید ہوسکتی ہے جبکہ خود ادائے فرض کے خواہشمند رہے ہوں اور معذوری کی وجہ سے قاصر رہ گئے ہوں لیکن اگر کوئی شخص استطاعت کے باوجود قصداً مثلاً حج سے مجتنب رہا اور اس کے دل میں اس فرض کا احساس تک نہ تھا اس کے لئے خواہ کتنے ہی حج بدل کئے جائیں وہ اس کے حق میں مفید نہیں ہوسکتے، یہ ایسا ہی ہے کہ ایک شخص نے کسی کا قرض جان بوجھ کر مار رکھا ہے اور مرتے دم تک اس کا کوئی ارادہ قرض ادا کرنے کا نہ تھا اس کی طرف سے اگر قرض ادا کردیا جائے، اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں وہ قرض مارنے ولا ہی شمار ہوگا، دوسرے کے ادا کرنے سے سبکدوش صرف وہی شخص ہوسکتا ہے جو اپنی زندگی میں ادائے قرض کا خواہشمند ہوا اور مجبوری کی وجہ سے ادا نہ کرسکا ہو۔ (واللہ اعلم بالصواب)
Ayahs 53:40–42وان سعیہ سوف یری (آلایۃ) یعنی دنیا میں اس نے جو بھی اچھا یا برا کیا چھپ کر کیا یا علانیہ کیا قیامت کے دن سامنے آجائے گا، اس پر اسے پوری جزاء دی جائے گی۔
Ayahs 53:43–47وانہ ھو اضحک وابکی یعنی خوشی اور غمی دونوں کے اسباب اسی کی طرف سے ہیں اچھی اور بری قسمت کا سر رشتہ اسی کے ہاتھ میں ہے کسی کو اگر راحت اور مسرت نصیب ہوتی ہے تو اسی کے دینے سے ہوتی ہے اور اگر کسی کو مصائب و آلام سے سابقہ پڑتا ہے تو اسی کی مشیت سے پڑتا ہے کوئی دوسری ہستی اس کا ئئنات میں ایسی نہیں کہ جو قسمتوں کے بنانے اور بگاڑنے میں کسی قسم کا دخل رکھتی ہو۔
Ayah 53:48وانہ ھو اغنی و اقنی اغناء کے معنی دوسرے کو غنی کرنا اور اقنی قنیۃ سے مشتق ہے جس کے معنی محفوظ اور ریزرو سرمایہ کے ہیں مراد آیت کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی لوگوں کو مال دار اور غنی بناتا ہے اور وہی جس کو چاہے اتنا سرمایہ دیتا یہ کہ اس کو ذخیرہ کرسکے۔
Ayah 53:49وانہ ھو رب الشعری شعریٰ شین کے کسرہ کے ساتھ ایک ستارے کا نام ہے جو جوزاء ستارے کے پیچھے رہتا ہے عرب کی بعض قومیں مثلاً بنو خزاعہ اس کی پرستش کرتی تھیں اس لئے خصوصیت سے اس کا نام لے کر بتلایا گیا ہے کہ اس ستارے کا بھی جس کی تم پرستش کرتے ہو مالک اور پروردگار اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
Ayahs 53:50–52وانہ اھلک عادن الاولی و ثمو فما ابقی ” عاد اولی “ سے مراد قدیم قوم عاد ہے جس کی طرف حضرت ہود (علیہ السلام) بھیجے گئے تھے قوم عاد دنیا کی قوی ترین اور سخت ترین قوم تھی ان کے دو بقے یکے بعد دیگرے عاد اولیٰ اور عاد اخریٰ کے نام سے موسم ہیں یہ قوم جب حضرت ہود (علیہ السلام) کو جھٹلانے کی پاداش میں طوفان کے عذاب کے ذریعہ ہلاک کردی گئی، قوم نوح کے بعد ہلاک ہونے والی یہ پہلی قوم ہے اسی کو عاد اولیٰ کہتے ہیں، صرف وہ لوگ بچے تھے جو حضرت ہود (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے ان کی نسل کا عاد اخریٰ یا عادثانیہ کہتے ہی، عاد اخریٰ حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم تھی، ان لوگوں نے بھی جب حضرت صالح (علیہ السلام) کی نافرمانی کی تو ان کو سخت آواز کے عذاب سے ہلاک کردیا گیا۔
Ayah 53:53والمئوتفکۃ اھوی، مئوتفکۃ کے لغوی معنی اوندھی ہونے والی بستیاں، یہ چند بستیاں متصل متصل تھیں ان کا مرکزی مقام سدوم یا سندوم تھا، یہی وہی مقام ہے جہاں اس وقت بحرمیت واقع ہے، ان بستی والوں کی طرف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے حضرت لوط (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا تھا، نافرمانی اور بےحیائی کے اعمال کی سزا میں ان بستویں کو حضرت جبرئیل نے الٹ دیا تھا اور اوپر سے ان کے اوپر پتھروں کی بارش کردی تھی۔
Ayah 53:54فغشھا ما غشی یعنی ڈھانپ لیا ان کو جس چیز نے ڈھانپ لیا مراد وہ پتھرائو ہے جو بستیاں الٹنے کے بعد ان پر کیا گیا، یہاں تک صحف موسیٰ اور صحف ابراہیم کے حوالہ سے جو تعلیمات بیان کرنی تھیں وہ ختم ہوگئیں۔
Ayah 53:55فبای آلا ربک تتماری تمہاری کے معنی جھگڑنے اور مخالفت کرنے کے ہیں، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ خطاب ہر انسان کو ہے کہ سابقہ آیات اور صحف موسیٰ اور صحف ابراہیم میں آئی ہوئی آیات ربانی میں کوئی ذرا بھی غور و فکر کرے تو اس کو رسول اللہ ﷺ اور آپ کی وحی اور تعلیمات کے حق ہونے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی اور اقوام سابقہ کی ہلاکت و عذاب کے واقعات سن کر مخالفت سے باز آ نے کا اچھا موقع ملتا ہے جو حق تعالیٰ کی ایک نعمت ہے اس کے باوجود تم اللہ تعالیٰ کی کس کس نعمت میں جھگڑا اور خلاف کرتے رہو گے۔
Ayah 53:56ھذا نذیر من النذر الاولی ھذا کا اشارہ محمد رسول اللہ ﷺ یا قرآن کی طرف ہے، مطلب یہ ہے کہ یہ بھی پہلے رسولوں اور کتابوں کی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے نذیر بنا کر بھیجے گئے ہیں جو دین اور دنیا کے فلاح پر مشتمل ہدایات لے کر آئے ہیں اور ان کی مخالفت کرنے والوں کو اللہ کے عذاب سے ڈراتے ہیں۔
Ayahs 53:57–58ازقت الازقۃ ازف بمعنی قرب یعنی قریب آنے والی قریب آپہنچی، اللہ کے سوا اس کا کوئی ہٹانے والا نہیں، مراد قیامت ہے، اس آیت میں قرب قیامت کی خبر دی گئی ہے تاکہ لوگ عمل کر کے قیامت کے لئے تیاری کریں، مطلب یہ ہے کہ یہ خیال نہ کرو کہ سوچنے کے لئے ابھی بہت وقت پڑا ہے، کیا جلدی ہے ؟ کہ ان باتوں پر ہم فوراً ہی سنجیدگی سے غور کریں اور انہیں ماننے یا نہ ماننے کا بلاتاخیر فیصلہ کر ڈالیں نہیں تم میں سے کسی کو بھی یہ معلوم نہیں ہے کہ اس کے لئے زندگی کی کتنی مہلت باقی ہے، ہر وقت تم میں سے ہر کسی کی موت آسکتی ہے اور قیامت بھی اچانک آسکتی ہے، اس لئے فصلہ کی گھڑی کو دور نہ سمجھو، کیونکہ ہر سانس کے بعد یہ ممکن ہے کہ دوسرا سانس لینا نصیب نہ ہو اور جب یہ فصلے کی گھڑی آجائے گی تو تم اس کو روک نہ سکو گے اور نہ تمہارے معبودان باطلہ میں سے کسی میں یہ بل بوتا ہے کہ وہ اسے ٹال سکیں ٹال سکتا ہے تو اللہ ہی ٹال سکتا ہے اور وہ اسے ٹالنے والا نہیں۔
Ayahs 53:59–60افمن ھذا الحدیث تعجبون و تضحکون ولاتبکون ھذا الحدیث سے مراد قرآن کریم ہے، معنی معنی آیت کے یہ ہیں کہ قرآن کریم جیسا کہ کلام الٰہی جو خود ایک معجزہ ہے تمہارے سامنے آچکا ہے، کیا اس پر بھی تم تعجب کرتے ہو اور بطور استہزاء کے ہنستے ہو اور اپنی معصیت یا عمل میں کوتاہی پر روتے نہیں۔
Ayah 53:61وانتم سامدون، سمود کے معنی غفلت اور بےفکری کے ہیں سامدون بمعنی غافلون ہے اور ایک معنی سمود کے گانے کے بھی آتے ہیں وہ بھی اس جگہ مراد ہوسکتے ہیں (معارف) اگر سامدون کے دوسرے معنی مراد لئے جائیں تو اشارہ اس طرف ہوگا کہ کفار مکہ قرآن کی آواز کو دبانے اور لوگوں کی توجہ دوسری طرف ہٹانے کے لئے زور زور سے گانا شروع کردیتے تھے۔
Ayah 53:62فاسجدوا اللہ واعبدوا یعنی پچھلی آیات پر جو غورنے والے انسان کو عبرت و موعظت کا سبق دیتی ہیں اس کا مقتضی یہ ہے کہ تم سب اللہ کے سامنے خشوع اور تواضع کے ساتھ جھکو اور سجدہ کرو اور صرف اسی کی عبادت کرو۔
صحیح بخاری میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ سورة نجم کی اس آیت پر رسول اللہ ﷺ نے سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ مسلمانوں اور مشرکوں اور تمام جن و انس نے سجدہ لیکا، عبداللہ بن مسعود ؓ کی دوسری روایت میں ہے کہ تمام حاضرین نے سجدہ کیا مگر صرف ایک قریشی بوڑھے نے جس کا نام (امیہ بن خلف) ہے سجدہ نہ کیا بلکہ زمین سے مٹی اٹھ اکر پیشانی سے لگا لی، اور کہا مجھے یہی کافی ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا پھر میں نے اس شخص کو حالت کفر میں قمتول پڑا ہوا دیکھا۔
مسئلہ : امام باوحنفیہ رحمتہ اللہ تعالیٰ ، امام شافعی رحمتہ اللہ تعالیٰ اور اکثر اہل علم کے نزدیک اس آیت پر سجدہ کرنا لازم ہے، امام مالک رحمتہ اللہ تعالیٰ اگرچہ خود اس آیت کی تلاوت کے بعد سجدہ کا التزام فرماتے تھے (جیسا کہ قاضی ابوبکر العربی نے احکام القرآن میں نقل کیا ہے) مگر ان کا مسلک یہ تھا کہ یہاں سجدہ کرنا لازم نہیں ہے، ان کی اس رائے کی بنئا پر حضرت زید بن ثابت کی یہ روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے سورة نجم پڑھی اور حضور نے سجدہ نہ کیا (بخاری، مسلم، احم، ترمذی، ابو دائود، نسائی) لیکن یہ حدیث سجدہ لازم ہونے کی نفی نہیں کرتی کیونکہ زیادہ سے زیادہ اس روایت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے اس وقت سجدہ نہیں کیا لیکن بعد میں بھی سجدہ نہیں کیا یہ ثابت نہیں ہوتا، یہ احتمال موجود ہے کہ آپ نے بعد میں سجدہ کرلیا ہو، دوسری روایات اس باب میں صریح ہیں کہ اس آیت پر التزاماً سجدہ کیا گیا ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ ابن عباس ؓ اور مطلب بن ابی وداعہ کی متفق علیہ روایات یہ ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے جب پہلی مرتبہ حرم میں یہ سورت تلاوت فرمائی تو آپ نے سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ مسلم و مشرک سجدہ سجدہ میں گرگئے (بخاری، احمد، نسائی) ابن عمر ؓ کی روایت یہ ہے کہ حضو رنے نماز میں سورة نجم پڑھ کر سجدہ کیا اور دیر تک سجدہ میں پڑے رہے۔ (بیہقی، ابن مردویہ) سبرۃ الجہنی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے فجر کی نماز میں سورة نجم پڑھی اور سجدہ کیا اور پھر اٹھ کر سورة زلزال پڑھی اور رکوع کیا۔ (سعید بن منصور)
فائدہ : پہلی سورت جس میں آیت سجدہ نازل ہوئی وہ سورة نجم ہے۔ (بخاری)
مسئلہ : اس آیت پر سجدہ تلاوت واجب ہے۔
مسئلہ :۔ یہ درست نہیں کہ جس چیز پر سجدہ کرے اس پر جھکنے کے بجائے اس شئی کو بلند کرے۔