Ayahs 52:1–3ترجمہ،۔ شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے طور کی یعنی اس پہاڑ کی جس پر اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم کلامی کا شرف بخشا اور قسم ہے لکھی ہوئی کتاب کی جو کھلے ہوئے کاغذ میں ہے یعنی تورات کی یاد قرآن کی اور قسم ہے بیت المعمور کی وہ تیسرے یا چھٹے یا ساتویں آسمان پر کعتبہ اللہ کے بالمقابل ہے روزانہ طواف اور نماز کے لئے ستر ہزار فرشتے اس کی زیارت کرتے ہیں آئندہ ان کا کبھی نمبر نہ آئے گا اور قسم ہے اونچی چھت یعنی آسمان کی اور قسم ہے بھرے ہوئے دریا کی بلاشبہ تیرے رب کا عذاب اس کے مستحق پر نازل ہونے والا ہے اس کو کوئی روکنے والا نہیں ہے جس دن آسمان تھر تھرانے لگے گا یعنی حرکت اور گردش کرنے لگے گا اور پہاڑ (اپنی جگہ سے) چلنے لگیں گے اور اڑتے ہوئے غبار ہوجائیں گے اور یہ قیامت کے دن ہوگا، پس ہلاکت یعنی سخت عذاب ہے اس دن رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کے لئے جو کہ باطل میں بھٹک رہے ہیں یعنی اپنے کفر میں مشغول ہیں جس دن وہ دھکے دے دے کر نار جہنم کی طرف لیجائے جائیں گے، سختی کے ساتھ دھکے دیئے جائیں، یوم تمور سے بدل ہے اور ان کو لاجواب کرنے کے لئے کہا جائے گا یہ وہی دوزخ ہے جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے تو کیا یہ عذاب جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے جادو ہے جیسا کہ تم وحی کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ یہ جادو ہے یا تم کو سوجتا نہیں ہے دوزخ میں داخل ہوجائو اس پر صبر کرو یا نہ کرو تمہارا صبر کرنا اور نہ کرنا دونوں برابر ہیں اس لئے کہ تہارا صبر کرنا تم کو کوئی فائدہ نہ دے گا تم کو ویسا ہی بدلہ ملے گا جیسے تم اعمال کرتے تھے یعنی تمہارے اعمال ہی کا بدلہ ملے گا متقی لوگ بلاشبہ باغوں میں اور سامان عیش میں ہوں گے مزے لے رہے ہوں گے لطف اٹھا رہے ہوں گے ان چیزوں سے جو ان کو ان کے رب نے عطا کی ہوں گی اور ان کا پروردگار ان کو جہنم کے عذاب سے محفوظ رکھے گا (ووقاھم) کا عطف آتا ھم پر ہے یعنی ان کو دینے سے اور حفاظت کرنے سے اور ان سے کہا جائے گا خوب کھائو پیو مزے کے ساتھ (ھنیئاً ) حال ہے معنی میں متھنین کے ہے اپنے اعمال کے سبب سے وہ برابر بچھے ہوئے تخوں پر ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے (متکئین) اللہ تعالیٰ کے قول فی جنت میں ضمیر مستتر سے حال ہے اور ان کا بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی حوروں سے جوڑا لگا دیں گے اور جو لوگ ایمان لائے یہ مبتداء ہے اور ایمان میں ان کی نابالغ اور بالغ اولاد نے ان کی پیروی کی واتبعتھم کا عطف آمنوا پر ہے بالغین کو خود ان کے ایمان کی وجہ سے اور صغار کو ان کے آباء کے ایمان کی وجہ سے جنت میں ان کے پاس پہنچا دیں گے، جس کی وجہ سے اولاد ان کے آباء کے درجہ میں ہوگی، آباء کے اکرام کے طور پر ان کی اولاد کو ان کے ساتھ جمع کر کے اگرچہ اولاد نے اپنے آباء جیسا عمل نہ کیا ہو، اور اجر کی جو مقدار ان کی اولاد کے حق میں زیادہ کی گئی ہے اس مقدار کو ہم ان کے آباء کے اجر سے کم نہ کریں گے التھم میں لام کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ ہے من شئی میں من زائدہ ہے، ہر شخص اپنے اعمال کے عوض گروی ہے خواہ عمل خیر ہو یا شر رھین بمعنی مر ہوں ہے، اعمال بد کی وجہ سے مواخذہ کیا جائے گا اور اعمال خیر کی جزاء دی جائے گی، اور ہم ان کے لئے روز افزوں میوے اور گوشت کی جس قسم کا ان کو مرغوب ہوگا اگرچہ صراحتہ مطالبہ نہ کیا ہو خوب ریل پیل رکھیں گے اور جنت میں (خوش طبعی کے طور پر) جام شراب کی آپس میں چھینا جھپٹی کیا کریں گے اور ان کی شراب نوشی کی وجہ سے نہ بیہود ہگوئی ہوگی نہ بد کرداری جو شراب نوشی کی وجہ سے ان کو لاحق ہو، بخلاف دنیاوی شراب کے اور ان کے پاس خدمت کے لئے ایسے لڑکے آمد و رفت رکھیں گے جو خاص انہی کے لئے ہوں گے اور وہ حسن و نظافت میں ایسے ہوں گے گویا کہ صدف میں بحفاظت رکھے ہوئے موتی ہیں، اس لئے کہ وہ موتی جو صدف میں ہوتا ہے وہ اس موتی سے بہتر ہوتا ہے جو صدف میں نہیں ہوتا اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر باتیں کریں گے (یعنی) آپس میں ایک دوسرے سے ان کاموں کے بارے میں معلوم کریں گے جو وہ (دنیا) میں کیا کرتے تھے اور اس کے بارے میں بھی جو ان کو عطا ہوا اور یہ سب کچھ تلذذ اور اعتراف نعمت کے طور پر ہوگا اور سبب وصول کی علت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہیں گے ہم تو اس سے پہلے دنیا میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بہت ڈرا کرتے تھے سو اللہ نے ہم پر مغفرت کر کے بڑا احسان کیا، اور ہم کو انار جہنم سے بچا لیا (نار جہنم کو سموم اس لئے کہت یہی) کہ وہ مسامات میں داخل ہوجاتی ہے اور بطور اشارہ وہ یہ بھی کہیں گے کہ ہم تو اس سے پہلے دنیا میں اسی کو پکارتے تھے یعنی توحید کے ساتھ اس کی بندگی کرتے تھے اور وہ واقعی بڑا محسن و مہربان ہے عظیم الرحمت ہے، (انہ) کسرہ کے ساتھ استیناف ہے اگرچہ معنی تعلیل ہے اور (انہ) فتحہ کے ساتھ لفظاً تعلیل ہے، البر کے معنی اس محسن کے ہیں جو اپنے وعدہ میں صادق ہو۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : والطور طور عربی زبان میں پہاڑ کو کہتے ہیں، یہ بعض اہل لغت نے تصریح کی ہے کہ طور ہرے بھرے پہاڑ کو کہتے ہیں، جب اس پر الف لام داخل ہو تو طور سے جزیرہ نمائے سینا کا ایک مخصوص و معتین پہاڑ مراد ہوتا ہے، یہ وہی پہاڑ ہے جو مصر و مدین کے درمیان واقع ہے، موسیٰ کو اسی پہاڑ پر تجلی ہوئی تھی اور اسی پہاڑ پر آپ کو خلت کلیمی سے نوازا گیا تھا۔ (لغات القرآن)
قولہ : فی رف منشور رق کاغذ، ورق، جھلی، اس کی جمع رقوق بالفتح کثیراً وبالکسر قلیلاً
قولہ : المسجور اسم مفعول واحد مذکر، بھرا ہوا، اس کے معنی نہایت گرم کے بھی آتے ہیں (ن) سجوراً گرم کرنا، بھرنا۔
قولہ : یدعون دع سے جمع مذکر غائب مضارع مجہول، ان کو دھکے دیکر ہنکایا جائے گا۔
قولہ : یوم یدعون، تمور السماء موراً سے بدل ہے۔
قولہ : تمور (ن) موراً پھٹنا، لرزنا۔
قولہ : بما میں ما مصدریہ۔
سوال : مامصدر یہ کیوں قرار دیا گیا ؟
جواب : ماکو مصدریہ قرار دینے کی یہ وجہ ہے کہ اگر ما کو موصولہ مانا جائے تو معطوف میں صلہ یعنی وقاھم کا عائد سے خالی ہونا لازم آتا ہے، اس لئے کہ فعل نے اپنا مفعول، ھولے لیا اور صلہ بغیر عائد کے رہ گیا حالانکہ صلہ جب جملہ ہو تو عائد کا ہونا ضروری ہے اور یہ بھی درست ہے کہ ماموصولہ ہو اور جملہ ووقاھم جملہ مستانفہ یا بہ تقدیر قد حالیہ ہو۔
قولہ : وان کان تعلیلاً معنی، انہ کو اگر کسرہ کے ساتھ پڑھا جائے تو یہ جملہ مستانفہ ہوگا لیکن معنی کے اعتبار سے ندعوہ کی علت ہوگی، مطلب یہ کہ ہم اس کی بندگی اس لئے کرتے تھے کہ وہ محسن اور رحیم ہے اور اگر انہ فتحہ کے ساتھ پڑھا جائے تو ندعوہ کی لفظاً علت ہوگی۔
تفسیر و تشریع
سورة الطور :
نام پہلے ہی لفظ و الطور سے ماخوذ ہے، اس کے پہلے رکوع کا موضوع آخرت اور آخرت کی شہادت دینے والے حقائق کا بیان ہے اور چند حقائق و آثار کی قسم کھا کر پورے زور کے اتھ یہ فرمایا گیا ہے کہ قیامت واقع ہو کر رہے گی کسی میں طاقت نہیں کہ اس کو روک سکے، اس کے بعد یہ بتایا گیا ہے کہ جب قیامت واقع ہوگی تو اس کے جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوگا، اور قیامت کے وقوع کو مان کر تقویٰ اختیار کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ طرح طرح کے انعامات سے نوازیں گے۔
اس کے بعد دوسرے رکوع میں مشرکین مکہ اور سرداران قریش کو ان کے اس رویے پر تنقید کی گئی ہے جو رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے مقابل ہمیں اختیار کئے ہوئے تھے، سرداران قریش عوام کو آپ کے خلاف بہکاتے اور آپ سے متنفر کرنے کی کوشش کرتے، کبھی آپ کو کاہن کہتے اور کبھی شاعر بتاتے تو کبھی جادو گر کا خطاب دیتے اور کبھی مجنون اور دیوانہ بتاتے تاکہ لوگ آپ کی دعوت کی طرف سنجیدگی سے توجہ نہ کریں۔
والطور طور عبرانی زبان میں اس پہاڑ کو کہتے ہیں جو خوب ہرا بھرا ہو، یہاں طور سے مراد طور سینین ہے جو ارض مدین میں واقع ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو شرف ہم کلامی بخشا گیا تھا، طور کی قسم کھانے میں اس کی خاص تعظیم و تشریف کی طرف اشارہ ہے، کتاب مسطور، مسطور کے معنی ہیں لکھی ہوئی چیز یہاں مراد یا تو انسان کا اعمال نامہ ہے یا لوح محفوظ، یا قرآن مجید یا کتب منزلہ ہیں، رق باریک چمڑا یا جھلی جس پر لکھا جاتا تھا۔
Ayahs 52:4–5والبیت المعمور بیت معمور آباد گھر کو کہتے ہیں، بیت معمور ساتویں آسمان پر بیت اللہ کے مقابلہ میں فرشتوں کا عبادت خانہ ہے، ستر ہزار فرشتے اس میں روزانہ عبادت کرتے ہیں جن فرشتوں کی باری ایک مرتبہ آگئی پھر قیامت تک نہ آئے گی، بیہقی نے شعب میں حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ فرمایا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے البیت المعمور فی السماء السابعۃ یدخلہ کل یوم سبعون الف ملک لا یعودون الیہ بعض حضران نے بیت معمور سے خانہ کعبہ مراد لیا ہے۔
Ayahs 52:6–8والبحر المسجور مسجور، سجر سے مشتق ہے اسم مفعول کا صیغہ ہے، جو متعدد معنی میں مستعمل ہے، ایک معنی آگ بھڑکانے کے ہیں، بعض مفسرین نے اس جگہ یہنی معنی مراد لئے ہیں، بعض کہتے ہیں کہ اس سے وہ پانی مراد ہے جو زیر عرش ہے جس سے قیامت کے روز بارش نازل ہوگی اس سے مردہ جسم زندہ ہوجائیں یگ، بعض کہتے ہیں اس سے مراد سمندر ہیں ان میں قیامت کے دن آگ بھڑک اٹھے گی، جیسے فرمایا واذا البحار سجرت اور بعض حضرات نے مسجور کے معنی مملوء کے لئے ہیں، امام طبری نے اور صاحب جلالین نے اسی قوم کو اختیار کیا ہے۔ ان عذاب ربک لواقع یہ مذکورہ قسموں کا جواب ہے۔
Ayahs 52:9–20یوم تمور السماء موراً ، مور کے معنی حرکت و اضراطب کے ہیں، قیامت کے دن آسمان کے نظم میں جو اختلال اور کواکب و سیارگان کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے جو اضطراب واقع ہوگا اس کو ان الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے، یوم تمور السماء موراً یوم مذکورہ عذاب کے لئے ظرف ہے۔
Ayahs 52:21–28بشرط ایمان بزرگوں سے تعلق نسبی آخرت میں نفع دے گا
والذین امنوا واتبعتھم ذریتھم بایمان الحقنا بھم ذریتھم یہ مضمون سورة رعد آیت 23 اور سورة مومن آیت 8 میں بھی گذر چکا ہے مگر یہاں ان دونوں آیتوں سے زائد جو بات فرمائی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ اگر اولاد کسی نہ کسی درجہ ایمان میں بھی اپنے آباء کے نقش قدم کی پیروی کرتی رہی ہو خواہ اپنے عمل کے لحاظ سے وہ اس مرتبے کی مستحق نہ ہو جو آباء کو ان کے بہتر ایمان و عمل کی بناء پر حاصل ہوگا پھر بھی یہ اولاد اپنے آباء کے ساتھ ملا دی جائے، اور یہ ملانا اس نوعیت کا نہ ہوگا جیسے وقتاً فوقتاً کوئی کسی کی ملاقات کرلیا کرے بلکہ اسکے لئے الحقنا بھم کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، جن کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان کے آباء کے ساتھ جنت ہی میں رکھے جائیں گے اس پر مزید اطمینان دلایا گیا ہے کہ اولاد سے ملانے کے لئے آباء کا درجہ گھٹا کر نیچے نہیں اتارا جائے گا بلکہ آباء سے ملانے کے لئے اولاد کا درجہ بڑھا دیا جائے گا۔
اس مقام پر یہ بات سمجھنے کے قابل ہے کہ یہ ارشاد اس بالغ اولاد کے بارے میں ہے جس نے سن شعور کو پہنچ کر اپنے اختیار اور ارادہ سے ایمان لانے کا فیصلہ کیا ہو، رہی مومن کی وہ اولاد جو سن رشد کو پہنچنے سے پہلے ہی مرگئی ہو تو اس کے معاملہ میں کفر و ایمان طاعت و عصیان کا سرے سے کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا انہیں تو ویسے ہی ان کے والدین یا ان میں سے کسی ایک کے تابع کر کے ان کے والدین کی آنکھوں کو ٹھنڈا کرنے کے لئے جنت میں داخل کردیا جائے گا۔
طبرانی نے حضرت سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ ابن عباس نے فرمایا اور میرا گمان یہ ہے کہ انہوں نے اس کو رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے کہ جب کوئی شخص جنت میں داخل ہوگا تو اپنے ماں باپ بیوی اور اولاد کے متعلق پوچھے گا (وہ کہاں ہیں ؟ ) اس سے کہا جائے گا کہ تمہارے درجہ کو نہیں پہنچے (اس لئے ان کا جنت میں الگ مقام ہے) یہ شخص عرض کرے گا اے میرے پروردگار میں نے جو عمل کیا وہ اپنے لئے اور ان سب کے لئے کیا تھا تو حق تعالیٰ شانہ، کی طرف سے حکم ہوگا کہ ان کو بھی اسی درجہ جنت میں ان کے ساتھ رکھا جائے۔ (ابن کثیر)
وما التناھم من عملھم من شیء ایلات کے معنی کم کرنے کے ہیں، آیت کے معنی یہ ہیں کہ لاصحین کی اولاد ان کے درجہ عمل سے بڑھا کر صالحین کے ساتھ ملحق کردی جائے گی ملحق کرنے کے لئے ایسا نہیں کیا گیا کہ صالحین کے عمل میں کچھ کر کر کے ان کی اولاد کا عمل پورا کیا جاتا بلکہ اپنے فضل سے ان کے برابر کردیا جائے گا اور ہر شخص کے اپنے عمل میں مرہون ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کا جواب دہ ہوگا، جزاء یا سزا جو بھی ہوگی وہ اسی کے عمل کی مکافات ہوگی ایسا نہیں ہوگا کہ کسی دوسرے کا گناہ اس کے سر ڈال دیا جائے۔
Ayahs 52:29–31ترجمہ : تو آپ سمجھاتے رہیں (یعنی) مشرکین کو سمجھانے کی پابندی رکھیں، اور ان کے آپ کو کاہن مجنون کہنے کی وجہ سے سمجھانے سے کنارہ کشی نہ کریں، اس لئے کہ آپ اپنے رب کے فضل سے یعنی آپ پر اس کے انعام سے نہ کاہن ہیں اور نہ مجنون بکاھن ما کی خبر ہے اور ولا مجنون اس پر معطوف ہے کیا کافریوں کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے ہم اس پر زمانہ کے حوادثات کا انتظار کر رہے ہیں، سو دیگر شعرئا کے مانند یہ بھی ہلاک ہوجائے گا آپ کہہ دیجیے کہ تم میری ہلاکت کا انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ تمہاری ہلاکت کا منتظر ہوں چناچہ یوم بدر میں تلوار کے ذریعہ ان کو سزا دی گئی، اور تربض کے معنی انتظار کے ہیں کیا ان کی عقلیں انہیں یہی سکھاتی ہیں یعنی آپ کے بارے میں ساحر، کاہن، شاعر، مجنون کہنا (سکھاتی ہیں) یکنی ایسا نہیں سکھاتیں، یا اپنے اعتماد کی وجہ سے یہ لوگ ہی سرکش ہیں کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ قرآن اس نے خود گھڑ لیا ہے یعنی خود قرآن کا اختراع کرلیا ہے بلکہ واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ تکبر کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے پس اگر ان کا یہی کہنا ہے کہ یہ قرآن ان کا خود ساختہ ہے تو یہ بھی اس طرح کا کوئی کلام بنا کرلے آئیں اگر یہ اپنے قول میں سچے ہیں کیا یہ لوگ بدون کسی خالق کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود اپنے خلاق ہیں اور یہ بات عقل کے خلاف ہے کہ کسی مخلوق کا وجود خالق کے بغیر ہو اور نہ یہ بات سمجھ میں آنے والی ہے کہ معدوم کسی کو پیدا کرسکے لہٰذا (یہ بات ثابت ہوگئی) کہ ان کا کوئی نہ کوئی خالق ضرور ہے اور وہ تنہا اللہ ہے بس کس لئے اس کی توحید کے قائل نہیں ہوتے اور اس کے رسولوں پر اور کتابوں پر ایمان نہیں لاتے کیا انہوں نے ہی آسمان اور زمین پیدا کئے ہیں ؟ حالانکہ ان کی تخلیق پر اللہ خلاق کے علاوہ کوئی قادر نہیں تو پھر اس کی بندگی کیوں نہیں کرتے بلکہ واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ یقین نہیں رکھتے ورنہ تو اس کے نبی پر ایمان لے آتے، کیا ان کے قبضہ میں ہیں نبوت اور رزق وغیرہ کے تیرے رب کے خزانے کو وہ جس کے لئے چاہیں اور جو چاہیں مخصوص کردیں یا یہ لوگ حاکم ہیں (یعنی) مسلط حاکم ہیں اور اس کا فعل صیطر ہے اور اس کے مانند بیطر وبیقر ہے (بیطر، بیطار) سے ہے جانوروں کے معالج کو کہتے ہیں اور بیقر بمعنی شق و افسد و اھلک ہے) یا کیا ان کے پاس سیڑھی ہے ؟ آسمان پر چڑھنے کا آلہ کہ اس پر چڑھ کر فرشتوں کی باتیں سن لیتے ہوں حتی کہ ان کے لئے نبی ﷺ کے ساتھ ان کے خیال میں منازعات کرنا ممکن ہوگیا ہو، اگر ان کا یہ دعویٰ ہے تو وہ سننے کا دعویدار اس پر کوئی واضح دلیل پیش کرے اور اس زعم کے، ان کے اس زعم کے مشابہ ہونے کی وجہ سے کہ فرشتے اللہ کی بٹیاں ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا اللہ کے لئے تمہارے زعم میں بیٹیاں ہیں اور تمہارے لئے بیٹے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے بری ہے جو یہ گمان کرتے ہیں کیا آپ ان سے اس دین پر جو آپ ان کے پاس لے کر آئے ہیں کوئی اجرت طلب کرتے ہیں ؟ کہ وہ اس کے بوجھ سے دبے جاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اسلام قبول نہیں کرتے یا ان کے پاس غیب یعنی علم غیب ہے جسے یہ لکھ لیتے ہیں حتی کہ ان کے لئے نبی ﷺ کے ساتھ ان کے خیال میں بعث اور امر آخرت میں نزاع کرنا ممکن ہوگیا کیا یہ لوگ آپ کے ساتھ دار الند وہ میں کوئی فریب کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ آپ کو ہلاک کردیں، تو آپ یقین کرلیں فریب خوردہ مغلوب ہونے والے ہلاک ہونے والے یہ کافر ہی ہیں چناچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی ان سے حفاظت فرمائی پھر ان کو بدر میں ہلاک کردیا کیا اللہ کے سوا ان کا کوئی اور معبود ہے ؟ سبحان اللہ (ہرگز نہیں) اللہ تعالیٰ (معبود ان باطلہ) میں سے ہر اس معبود سے پاک ہے جس کو یہ اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں اور استفہام ام کے ساتھ تمام مقامات میں تقبیح و توبیخ کے لئے ہے، اگر یہ لوگ آسمان کے کسی ٹکڑے کو اپنے اوپر گرتا ہوا دیکھ لیں جیسا کہ انہوں نے کہا تھا کہ آسمان کا کوئی ٹکڑا ہمارے اوپر گرا دو یعنی ان کو عذاب دینے کے لئے تو کہہ دیں گے کہ یہ تو تہ بہ تہ بادل ہے یعنی جما ہوا بادل ہے جس سے ہم سیراب ہوں گے اور اس پر ایمان نہ لائیں، تو آپ انہیں چھوڑ دیجیے یہاں تک کہ انہیں اپنے اس دن سے سابقہ پڑے جس دن میں ان کی موت واقع ہوگی جس دن ان کی تدبیریں ان کے کچھ کام نہ آئیں گی (یوم لایغنی) یومھم سے بدل ہے اور نہ ان کو مدد ملے گی یعنی آخرت میں ان سے عذاب دفع نہ کیا جائے گا اور ان کے لئے جہنموں نے اپنے کفر کے ذریعہ ظلم کیا ہے اس عذاب سے قبل بھی عذاب ہونے والا ہے یعنی دنیا میں ان کی موت
سے پہلے، چناچہ بھوک اور قحط کے ذریعہ سات سال تک عذاب میں مبتلا کئے گئے او یوم بدر میں قتل کے ذریعہ لیکن ان میں اکثر کو معلوم نہیں کہ ان کے اوپر عذاب نازل ہوگا اور آپ اپنے رب کی (اس) تجویز پر صبر کیجیے اور ان کو مہلت دے کر اور آپ دل تنگ نہ ہوں کہ آپ ہماری حفاظت میں ہیں یعنی آپ ہماری نظروں کے سامنے ہیں ہم آپ کو دیکھ رہے ہیں اور آپ کی حفاظت کر رہے ہیں، اور آپ اپنے رب کی سو کر اٹھنے کے بعد یا اپنی مجلس سے اٹھنے کے بعد تسبیح وتحمید کیجیے یعنی سبحان اللہ وبحمدہ کہئے، اور رات میں بھی اس کی حقیقتاً تسبیح کیا کیجیے اور ستاروں کے ڈوبنے کے بعد بھی ادبار مصدر ہے یعنی ستاروں کے غروب ہونے کے بعد بھی تسبیح بیان کیجیے اور اول میں مغرب و عشاء کی نماز پڑھنا مراد ہے اور ثانی میں سنت فجر اور کہا گیا ہے صبح کی نماز مراد ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ :۔ دم علی تذکیر المشرکین، فذکر کی تفسیر دم سے کر کے اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ ذکر اثبت کے معنی میں ہے یعنی جس طرح آپ اب تک ان کو نصیحت کرتے رہے آئندہ بھی اس طرز کو باقی رکھئے ان کی یادہ گوئی کی وجہ سے تنگ دل ہو کر ان سے بےرخی اور کنارہ کشی اختیار نہ کیجیے۔
قولہ :۔ بنعمۃ ربک ای بفضل ربک
قولہ :۔ فما انت بنعمۃ ربک بکاھن ولا مجنون باء قسم کے لئے نعمۃ ربک مقسم بہ ہے جو کہ ما کے اسم (انت) اور خبر (کاہن) کے درمیان واقع ہے، تقدیر عبارت یہ ہے ماانت و نعمۃ ربک بکاھن ولا مجنون، کاہن اس شخص کو کہتے ہیں جو دعویٰ کرے کہ میں بغیر وحی کے غیب جانتا ہوں اور بعض حضرات نے کہا کہ بنعمۃ میں باء سبیہ ہے اور جملہ منقیہ کے مضمون سے متعلق ہے، معنی یہ ہیں انتفی عنک الکھانۃ والجنون بسبب نعمۃ اللہ علیک یعنی آپ سے بفضلہ تعالیٰ کہانت اور جنون منتقی ہے۔ (فتح القدیر شو انی)
قولہ :۔ ام بل یقولون، ام ان آیات میں پندرہ جگہ آیا ہے ہر جگہ اس کی تقدیر بل اور ہمزہ کے ساتھ ہے اور ہمزہ استفہام انکاری تو بیخی کے لئے ہے، لہٰذان مفسر علامہ کے لئے مناسب تھا کہ ہر جگہ بل اور ہمزہ کے ساتھ مقدر مانتے۔ (صاوی)
قولہ :۔ قل تربصوا امر تہدید کے لئے۔
قولہ :۔ احلامھم حلم اور حلم دونوں کی جمع ہے حلم کے معنی خواب کے ہیں اور حلم کے عمنی برد باری کے ہیں اور چونکہ بردباری عقل کی وجہ سے ہوتی ہے اس لئے حلم کے معنی عقل کے بھی لئے جاتے ہیں گویا کہ یہاں مسبب بول کر سبب مراد لیا ہے۔
قولہ :۔ لم یختلقہ اس سے اشارہ کردیا کہ ام یقولون تقولہ میں ہمزہ استفہام انکاری ہے۔
قولہ :۔ فان قالوا، اختلقہ مقدر مان کر اشارہ کردیا فلیاتوا بحدیث شرط محذوف کی جزاء ہے۔
قولہ :۔ فان قالوا، اختلقہ مقدر مان کر اشارہ کردیا فلیاتوا بحدیث شرط محذوف کی جزاء ہے۔
قولہ :۔ ولشبہ ھذا الزعم بزعمھم ان الملائکۃ بنات اللہ اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک شبہ کا ازالہ ہے شبہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قول ام لہ البنات ولکم البنون کا ماقبل سے کوئی ربط معلوم نہیں ہوتا۔
جواب :۔ جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ سابقہ آیت میں مشرکین کے اس زعم کو بیان کیا ہے کہ محمد ﷺ اپنی طرف سے گھڑ کر قرآن لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں، ان کا یہ خیال باطل اور فاسد ہے دوسری آیت میں مشرکین کے اس زعم فاسد اور گمان باطل کا ذکر ہے کہ ملائکہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں دونوں خیال اور دونوں گمان فاسد اور باطل ہونے میں مشترک ہیں اور یہی وجہ اشتراک ہے، دونوں آیتوں میں ربط و مناسبت ثابت ہوگئی۔
قولہ :۔ غرم، مغرم کی تفسیر غرم سے کر کے اشارہ کردیا ہے کہ مغرم صدر میمی ہے۔
قولہ :۔ فی دار الندوۃ مفسر علام کے لئے مناسب تھا کہ لفظ دارالندوۃ حذف کردیتے، اس لئے کہ دارالندوۃ میں مشرکین کا اجتماع شب ہجرت میں ہوا تھا جس میں آپ کے قتل کی سازش رچی گئی تھی اور یہ سورت مکی ہے جو ہجرت سے پہلے نازل ہوچکی تھی لہٰذا سازش کو ندوہ کے ساتھ مقید کرنا مشکل ہے، بناء بریں دارالندوہ کی قید کو حذف کرنا ہی بہتر ہے اس لئے کہ مکر و سازش کا سلسلہ تو بعثت کے روز اول ہی سے جاری تھا۔
قولہ :۔ فاسقط علینا کسفاً یہ آیت قوم شعیب (علیہ السلام) کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جیسا کہ سورة شعراء میں مذکور ہے، مفسر رحمتہ اللہ تعالیٰ کے لئے مناسب تھا اس آیت سے استدلال کرتے جو قریش کے بارے میں سورة اسراء میں نازل ہوئی ہے، وہ یہ اوتسقط السماء کما زعمت علینا کسفاً
قولہ :۔ فذرھم یہ شرط مقدر کی جزاء ہے، شرط مقدر یہ ہے اذا بلغوا فی العناد الی ھذا فذرھم
تفسیر و تشریع
فذکر فما انت بنعمۃ ربک بکاھن (الآیۃ) ان آیات میں آپ ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ وعظ و تبلیغ نصیحت و تذکیر کا کام کئے جایئے اور یہ لوگ آپ کے متعلق جو بکواس اور یادہ گوئی کرتے ہیں آپ اس کی طرف کان نہ دھریں اس لئے آیت اللہ کے فضل سے زکاہن اور دیوانے آپ ہمارے رسول ہیں رسول ہیں، آپ پر ہماری طرف سے وحی نازل ہوتی ہے جو کاہن پر نہیں ہوا کرتی، آپ جو کلام لوگوں کو سناتے ہیں وہ دانش و بصیرت کا آئینہ دار ہوتا ہے ایک دیوانے سے اس طرح کی گفتگو ممکن نہیں ہے۔
کاہن، عربی زبان میں جیوتشی، غیب گو، اور سیانے کے معنی میں بولا جاتا تھا، زمانہ جاہلیت میں یہ ایک مستقل پیشہ تھا، ضعیف الاعتقاد لوگ یہ سمجھتے تھے کہ ارواح اور شیاطین سے سے ان کا خاص تعلق ہے جن کے ذریعہ یہ غیب کے خبریں معلوم کرسکتے ہیں، کوئی چیز کھو گئی ہو تو بتاسکتے ہیں اگر چوری ہوگئی ہو تو چور اور مسروقہ مال کی نشاندہی کرسکتے ہیں اگر کوئی اپنی قسمت پوچھے تو بتاسکتے ہیں ان ہی اغراض و مقاصد کے لئے لوگ ان کے پاس جاتے تھے اور وہ کچھ نذرانہ لیکر بزعم خویش غیب کی باتیں بتاتے تھے اور ایسے گول مول فقرے استعمال کرتے تھے جن کے مختلف مطلب ہوسکتے تھے تاکہ ہر شخص اپنے مطلب کی بات نکال لے۔
ریب المنون، ریب کے معنی حوادث کے ہیں منون موت کے ناموں میں سے ایک نام ہے منون بروزن فعول یہ من سے مشتق ہے اس کے معنی قطع کرنے کے ہیں منون کے معنی ہیں بہت زیادہ قطع کرنے والا، اور موت چونکہ دنیوی تمام علائق کو منقطع کر دیی ہے اس لئے موت کو بھی منون کہتے ہیں، مطلب یہ کہ قریش مکہ اس انتظار میں ہیں کہ حوادثات زمانہ سے شاید محمد ﷺ کو موت آجائے اور ہمیں چین نصیب ہوجائے جو اس کی دعوت توحید نے ہم سے چھین لیا ہے، غالباً ان کا خیال یہ تھا کہ محمد ﷺ چونکہ ہمارے معبودوں کی مخالفت اور ان کی کرامات کا انکار کرتے ہیں اس لئے یا تو معاذ اللہ ان پر ہمارے کسی معبود کی مار پڑے گی یا کوئی منچلا اپنے معبودوں کی برائی سن کر یا کوئی دل جلا اپنے معبودوں کی مخالفت سے بےقابو ہو کر ان کا کام ہی تمام کر دے۔