51. Surah Adh-Dhaariyat

الذارياتThe Winnowing Winds · 60 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 51:1–6

وَ الذّٰرِیٰتِ ذَرْوًاۙ Open ayah 51:1 in the Quran reader

بکھیرنے والیوں کی قسم جو اڑا کر بکھیر دیتی ہیں

فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًاۙ Open ayah 51:2 in the Quran reader

پھر (پانی کا) بوجھ اٹھاتی ہیں

فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًاۙ Open ayah 51:3 in the Quran reader

پھر آہستہ آہستہ چلتی ہیں

فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًاۙ Open ayah 51:4 in the Quran reader

پھر چیزیں تقسیم کرتی ہیں

اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌۙ Open ayah 51:5 in the Quran reader

کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ سچا ہے

وَّ اِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌؕ Open ayah 51:6 in the Quran reader

اور انصاف (کا دن) ضرور واقع ہوگا

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے قسم ہے ان ہوائوں کی جو غبار وغیرہ کو پراگندہ کرتی ہیں (ذروا) مصدر ہے اور کہا جاتا ہے تذریہ ذریاً یعنی ہوائیں غبار کو اڑاتی ہیں پھر قسم ہے ان بادلوں کی جو پانی کے بوجھ کو اٹھانے والے ہیں وقراً حاملات کا مفعول ہے، پھر قسم ہے ان کشتیوں کی جو پانی کی سطح پر سہولت کے ساتھ چلتی ہیں یسراً مصدر ہے حال کی جگہ میں یعنی حال یہ کہ وہ سبک رفتاری سے چلتی ہیں پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو ایک بڑے اہم کام کی یعنی رزق اور بارش وغیرہ کی بندوں اور شہروں کے درمیان تقسیم کرنے والے ہیں اور جو تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے ما مصدریہ ہے یعنی ان سے بعث وغیرہ کا وعدہ سچا وعدہ ہے، اور حساب کے بعد جزاء اعمال لا محالہ پیش آنے والی ہے اور قسم ہے راستوں والے آسمان کی (حبک) حبیکۃ کی جمع ہے، جیسا کہ طرق، طریقۃ کی جمع ہے یعنی وہ آسمان پیدائشی طور پر راستوں والے ہیں، جیسا کہ ریت میں راستے ہوتے ہیں بلاشبہ تم اے مکہ والو ! حضور کی اور قرآن کی شان میں مختلف باتیں کرتے ہو (آپ کے بارے میں) کہا گیا، شاعر ہیں، جادوگر ہیں، کاہن ہیں (اور قرآن کے بارے میں کہا) کہا گیا شعر ہے، جادو ہے کہانت ہے اس سے یعنی نبی اور قرآن سے یعنی ان پر ایمان لانے سے وہی باز رکھا جاتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ کے علم میں ہدایت سے پھیر دیا گیا ہو غارت ہوجائیں بےسند (اٹکل سے) باتیں کرنے والے ملعون ہوئے مختلف باتوں والے جھوٹے جو جہالت میں غرق ہیں جن کو جہالت نے غرق کر رکھا ہے اور امر آخرت سے غافل ہیں نبی ﷺ سے بطور استہزاء پوچھتے ہیں جزاء کا دن کب ہوگا ؟ یعنی وہ کب آئیگا ؟ ان کا جواب یہ ہے، یوم جزاء اس دن آئے گا جس دن ان کو آگ پر بھونا جائے گا یعنی ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا اور عذاب دیتے وقت ان سے کہا جائے گا، اپنی سزا کا مزا چکھو یہی ہے وہ عذاب جس کی دنیا میں تم استہزاء جلدی مچایا کرتے تھے، بلاشبہ تقوے والے لوگ باغوں میں اور چشموں میں ہوں گے جو باغوں میں جاری ہوں گے ان کے رب نے ان کو جو کچھ ثواب عطا فرمایا ہے اس کو لے رہے ہوں گے وہ تو اس سے پہلے ہی دنیا میں نیکو کار تھے اور وہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے (یھجعون) بمعنی ینامون ہے اور یھجعون کان کی خبر ہے اور قلیلاً ظرف ہے یعنی رات کے کم حصہ میں سوتے تھے اور اکثر حصہ میں نماز پڑھتے تھے اور سحر کے وقت استغفار کیا کرتے تھے، یوں کہا کرتے تھے اللھم اغفرلنا اور ان کے ماملوں میں مانگنے والوں کا اور نہ مانگنے والوں کا حق ہے اور محروم وہ شخص ہے جو سوال سے بچنے کی وجہ سے سوال نہ کرے (جس کے نتیجے میں محروم رہ جائے) اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لئے پہاڑوں اور دریائوں اور درختوں اور پھلوں اور نباتات وغیرہ کی بہت سی نشانیاں ہیں جو اللہ کی قدرت اور وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں اور خود تمہاری ذات میں بھی نشانیاں ہیں تمہاری تخلیق کی ابتداء سے لیکر اس کی انتہا تک اور وہ جو تمہاری تخلیق میں عجائبات ہیں کیا تم اس میں غور نہیں کرتے ہو کہ تم اس سے اس کی صنعت اور قدرت پر استدلال کرو اور آسمان میں تمہارا رزق یعنی بارش جو کہ نباتات کا سبب ہے کہ وہ رزق ہے اور وہ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے، آسمان اور زمین کے پروردگار کی قسم یہ یعنی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے بالکل حق ہے، ایسا ہی جیسا کہ تم باتیں کرتے ہوئے مثل کے رفع کے ساتھ (حق) کی صفت ہے اور مازائدہ ہے اور (مثل) کے لام کے فتحہ کے ساتھ ما کے ساتھ مرکب ہے اور معنی یہ ہیں کہ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ حقیقت ہونے میں ایسا ہی ہے جیسا کہ تمہارا گفتگو کرنا حقیقت ہے یعنی جس طرح تمہارے نزدیک تمہاری گفتگو معلوم ہونے میں یقینی ہونے میں یقینی ہے اس گفتگو کے تم سے بالبداہتہ صادر ہونے کی وجہ سے (اسی طرح تم سے کیا ہوا وعدہ بھی حقیقت ہے۔ ) تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : والذاریت وائو قسمیہ ہے ذاریت ذاریۃ کی جمع ہیں، اڑنے والیاں، پراگندہ کرنے والیاں، اس کا موصوف الریاح محذوف ہے ای الریاح الذاریات پراگندہ کرنے والی ہوائیں، یہ ذری یذرو ذروا یا ذری یذری ذریا معتل لام وادی یا یائی سے مشتق ہے۔ (ض، ن) والذاریات مقسم بہ ہے۔ قولہ : ویقال ذری یذری ذریاً سے یائی ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ قولہ : تھب بہ اس کا اضافہ بیان معنی کے لئے ہوا اس کو پراگندہ کرتی ہے، اڑاتی ہے۔ قولہ : انما توعدون علامہ محلی نے ماکو مصدریہ قرار دیا ہے یعنی وعد کے معنی میں ہے، تقدیر عبارت یہ ہے ان وعدکم لوعد صادق قولہ : انما توعدون لصادق معطوف علیہ ہے اور ان الدین لواقع معطوف ہے، معطوف اور معطوف علیہ مل کر جملہ ہو کر جواب قسم ہے، اور یہ بھی درست ہے کہ انما میں ما کو موصولہ قرار دیا جائے اور توعدون جملہ ہو کر صلہ ہو، عائد محذوف ای بہ جملہ ہو کر ان کا اسم اور لصادق ان کی خبر اور ان حرف مشبہ بالعفل ہے۔ قولہ : والسماء ذات الحبک وائو قسمیہ جارہ بمعنی اقسم السماء موصوف الحبک صفت، موصوف بالصفت جملہ ہو کر جواب قسم۔ قولہ : حبک حبیکۃ کی جمع ہے جیسے طرق طریقۃ کی جمع ہے بمعنی راستہ، پانی کی لہر، ریت میں ہوا کی وجہ سے پڑنے والے نشانتا اور بعض حضرات نے حبک کو حباک کی جمع کہا جیسے مثل مثال کی جمع ہے حبیکۃ وحباک ستاروں کی رہ گزر کو بھی کہتے ہیں۔ (اعراب القرآن، لغات القرآن) قولہ : فی الخلقۃ کالطرق فی الرمل اس عبارت کے اضافہ کاف ائدہ یہ ہے کہ یہ آسمانی راستے خیالی یا معنوی نہیں ہیں بلکہ محسوس اور موجود فی الخارج ہیں اگرچہ بعید ہونے کی وجہ سے نظر نہیں آتے۔ قولہ : یوفک عنہ یوفک واحد مذکر غائب مضارع مجہول افک (ض) سے پھیرا جاتا ہے، بھٹکایا جاتا ہے۔ قولہ : صرف عن الھدایۃ فی علم اللہ تعالیٰ اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : یوفک عنہ من افک سے معلوم ہوتا ہے کہ جو بھٹکا ہوا ہے اس کو بھٹکایا جائے گا اور یہ تحصیل حاصل ہے اس لئے کہ جو بھٹکا ہوا ہے اس کے بھٹکانے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ جواب : جو اللہ تعالیٰ کے ازلی میں بھٹکا ہوا ہے وہ خارج اور ظاہر میں بھٹکایا جائے گا۔ البلاغۃ قولہ : قتل الخراصون، قتل کے حقیقی معنی قتل کرنے کے ہیں، مگر یہاں علی سبیل الاستعارۃ لعنت کے معنی میں مستعمل ہے، بایں طور کہ مفقود السعادۃ کو مفقود الحیات کے ساتھ تشبیہ دی ہے یہ استعارہ بالکنا یہ ہوا، مفقود السعادۃ مشبہ ہے اور مفقود الحیاۃ مشبہ بہ ہے، مشبہ بہ اگرچہ محذوف ہے مگر مشبہ بہ کے لوازم میں سے قتل کو مشبہ کے لئے ثابت کردیا، یہ استعارہ تخیلیہ ہوا، قتل الخراصون معنی میں لعن الکذابون یعنی بد دعاء کے معنی میں ہے خراصون اٹکل دوڑانے والے، جھوٹ بکنے والے، خراص کی جمع ہے خرص سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ (لغات القرآن) قولہ : غمرۃ گہرا پانی جس کی تہ نظر نہ آئے، یہاں چھا جانے والی جہالت مراد ہے۔ (لغات القرآن) قولہ : ایان یوم الدین ایان خبر مقدم یوم الدین مبتداء مئوخر قولہ : متی مجیئہ، متی ایان کی تفسیر ہے مجیئہ حذف مضاف کی طرف اشارہ ہے اور حذف مضاف ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : ایان یوم الدین مشرکین کی طرف سے سوال ہے اور یوم ھم علی النار یفتنون سوال کا جواب ہے، سوال اور جواب دونوں زمان ہیں اور زمان کا جواب زمان سے نہیں ہوتا بلکہ زمان کا جواب حدث سے ہوتا ہے، مفسر رحمتہ اللہ تعالیٰ نے اسی سوال کے جواب کے لئے مجیئہ مضاف محذوف مانا ہے تاکہ زمان کا جواب اخبار بالزمان سے ہوجائے۔ سوال : ایان یوم الدین میں تعیین وقت کا سوال ہے، اس کا جواب یوم ھم علی النار یفتنون ہے جو کہ مبہوم اور غیر متعین ہے جو کہ درست نہیں ہے۔ جواب :۔ مشرکین مکہ کا سوال چونکہ علم و فہم کے لئے نہیں بلکہ بطور استہزاء کے تھا اسی لئے حقیقتاً جواب کے بجائے صورۃ جواب دیا تاکہ سوال و جواب میں مطابقت ہوجائے، یوم کا ناصب یجیی، محذوف ہے، ھم مبتداء ہے یفتنون خبر اور علی بمعین فی ہے۔ سوال : یفتنون کا صلہ علیٰ کیوں لایا گیا ؟ جواب :۔ یفتنون چونکہ یعرضون کے معنی کو متضمن ہے اس لئے یفتنون کا صلہ علی لایا گیا ہے۔ قولہ : تجری فیھا اس اضافہ کا مقصد اس سوال کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قول ان المتقین فی جنت وعیون سے معلوم ہوتا کہ متقی لوگ چشموں میں ہو گے حالانکہ چشموں میں ہونے کا یا رہنے کا کوئی مطلب نہیں ہے مفسر علام نے تجری فیھا کہہ کر اس کا جواب دیا۔ جواب کا ماحصل یہ ہے کہ متقی ایسے باغوں میں ہوں گے جن میں نہریں جاری ہوں گی۔ قولہ : آخدین یہ ان کی خبر محذوف کی ضمیر سے حال ہے، تقدیر پر عابرت یہ ہے کہ کائنون فی جنات وعیون حال کونھم، آخذین ما اتاھم ربھم قولہ : من الثواب یہ ماکا بیان ہے۔ قولہ : یھجعون ھجوع سے رات کے سونے کو کہتے ہیں۔ قولہ : وبالا سحار یستغفرون کے متعلق ہے اور باء بمعنی فی ہے الاسحار سحر کی جمع ہے رات کے سدس اخیر کو کہتے ہیں، یستغفرون کا مطف یھجعن پر ہے۔ تفسیر و تشریع سورة ق کے مانند سورة ذاریات میں بھی زیادہ تر مضامین آخرت اور قیامت، اس میں مردوں کے زندہ ہونے، حساب و کتاب اور ثواب و عذاب کے متعلق ہیں، پہلی چند آیات میں اللہ تعالیٰ نے چند چیزوں کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ قیامت کے متعلق جن چیزوں کا وعدہ کیا گیا ہے وہ سچا وعدہ ہے، جن چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے وہ چار ہیں (1) الذاریت ذرواً (2) الحاملات وقراً (3) الجاریات یسراً (4) المقسمات امراً اور ان کا مقسم بہ انما توعدون لصادق وان الدین لواقع ہے۔ مفسر علام نے مقسم بہ سے ہوائیں اور دوسرے مقسم بہ سے بادل اور تیسرے سے کشتیاں اور چوتھے سے فرشتے مراد لئے ہیں، اسی مفہوم کی ایک مرفوع روایت بھی ہے جس کو ابن کثیر نے ضعیف کہا ہے، اور حضرت عمر ؓ اور ضرت علی ؓ سے بھی موقوفاً مذکورہ مفہوم مروی ہے (قرطبی، درمنثور) الجاریات یسراً اور ملقسمات امراً کی تفسیر میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، ایک جماعت نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ ان دونوں سے بھی ہوائیں مراد ہیں، یعنی پھر یہ ہوائیں بادلوں کو لکیر چلتی ہیں اور پھر روئے زمین کے مختلف حصوں میں پھیل کر اللہ تعالیٰ کے حکم سے جہاں جتنا حکم ہوتا ہے، پانی تقسیم کرتی ہیں جو کہ رزق کا سبب ہے۔
Ayah 51:7

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُكِۙ Open ayah 51:7 in the Quran reader

اور آسمان کی قسم جس میں راستے ہیں

والسماء ذات الحبک انکم لفی لفی قول مختلف حبک، حبیکۃ کی جمع ہے، کپڑے کی دھاریوں کو کہتے ہیں، دھاریاں چونکہ سڑک اور راستہ کے مشابہ ہوتی ہیں، اس لئے راستوں کو بھی حبک کہہ دیا جاتا ہے اور راستوں سے وہ راستے مراد ہوسکتے ہیں جن سے فرشتوں کی آمد و رفت ہوتی ہے اور اس سے ستاروں اور سیاروں کے مدار بھی مراد ہوسکتے ہیں اور چونکہ کپڑے کی دھاریاں کپڑے کی زینت ہوتی ہیں اسلئے بعض مفسرین نے حبک کا ترجمہ زینت والے آسمان سے کیا۔
Ayahs 51:8–9

اِنَّكُمْ لَفِیْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍۙ Open ayah 51:8 in the Quran reader

کہ (اے اہل مکہ) تم ایک متناقض بات میں (پڑے ہوئے) ہو

یُّؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ اُفِكَؕ Open ayah 51:9 in the Quran reader

اس سے وہی پھرتا ہے جو (خدا کی طرف سے) پھیرا جائے

انکم لفی قول مختلف مذکورہ قسم بہ ہے، بظاہر اس کے مخاطب مشرکین مکہ میں جو رسول اللہ ﷺ کے متعلق مختلف اور متضاد باتیں کیا کرتے تھے، کبھی مجنون، کبھی جادوگر تو کبھی اشعر، تو کبھی کاہن وغیرہ کے لغو خطابات دیتے تھے اور ایک احتمال یہ بھی ہے کہ اس کے مخاطب عام لوگ ہیں، مسلم ہوں یا کافر اور قول مختلف سے مردا یہ ہو کہ بعض تو رسول اللہ ﷺ پر ایمان لاتے ہیں اور تصدیق کرتے ہیں اور بعض انکار و مخالفت سے پیش آتے ہیں۔ (مظہری، معارف) اس اختلاف اقوال پر، متفرق شکلوں والے آسمان کی قسم تشبیہ کے طور پر کھائی گئی ہے یعنی جس طرح آسمان کے بادلوں اور تاروں کے جھرمٹوں کی شکلیں مختلف ہیں ان میں کوئی مطابقت اور یکسانیت نہیں پائی جاتی، اسی طرح آخرت کے متعلق تم لوگ بھانت بھانت کی بولیاں بول رہے ہو ہر ایک کی بات دوسرے سے مختلف ہے کوئی کہتا ہے کہ یہ دنیا ازلی و ابدی ہے اس میں کوئی شکست و ریخت نہیں ہوسکتی اور نہ قیامت برپا ہوگی، کوئی کہتا ہے کہ یہ نظام حادث ہے اور ایک دن یہ ختم ہوجائے گا مگر انسان سمیت جو چیز فنا ہوگئی پھر اس کا اعادہ ممکن نہیں ہے، کوئی اعادہ کو تو ممکن مانتا ہے مگر اس کا عقیدہ یہ ہے کہ انسان اپنے اچھے برے اعمال کا نتیجہ بھگتنے کے لئے پھر اسی دنیا میں بار بار جنم لیتا ہے، کوئی جنت و جہنم کا قائل ہے مگر اس کیساتھ تناسخ کو بھی ملاتا ہے یعنی ان کا یہ خیال ہے کہ گنہگار جہنم میں جا کر سزا بھگتتا ہے اور پھر اس دنیا میں بھی سزا پان یکے لئے بار بار جنم لیتا رہتا ہے کوئی کہتا ہے کہ دنیا کی زندگی خود ایک عذاب ہے جب تک انسان کو دنیوی زندگی سے لگائو باقی رہتا ہے اس وقت تک وہ اس دنیا میں مرمر کر پھر جنم لیتا رہتا ہے اور اس کی حقیقی نجات (نروان) یہ ہے کہ وہ فنا (موکش) ہوجائے اور کوئی آخرت اور دوزخ و جنت کا تو قائل ہے مگر کہتا ہے کہ خدا نے اپنے اکلوتے بیٹے کو صلیب پر مت دے کر انسان کے ازگلی گناہ کا کفارہ ادا کردیا ہے اور اس بیٹے پر ایمان لا کر آدمی اپنے اعمال بد کے برے نتائج سے بچ جائے گا اور کچھ ایسے لوگ بھی ہیں کہ جو آخرت اور جزاء و سزا ہر چیز کو مان کر بعض ایسے بزرگوں کو شفیع تجویز کرتے ہیں کہ جو اللہ کے ایسے پیارے ہیں یا اللہ کے یہاں ایسا زور اور پہنچ رکھتے ہیں کہ جو ان کا دامن گرفتہ ہو وہ دنیا میں سب کچھ کر کے بھی سزا سے بچ سکتا ہے۔ اقوال کا یہ اختلاف خود ہی اس امر کا ثبوت ہے کہ وحی رسالت سے بےنیاز ہو کر انسان نے اپنے اور اس دنیا کے انجام پر جب بھی کوئی رائے قائم کی ہے علم کے بغیر قائم کی ہے ورنہ اگر انسان کے پاس اس معاملہ میں فی الواقع براہ راست علم کا کوئی ذریعہ ہوتا تو اتنے مختلف اور متضاد عقیدے پیدا نہ ہوتے۔ یوفک عنہ، افک کے لغوی معنی پھرجانے، منحرف ہوجانے کے ہیں اور عنہ کی ضمیر میں دو احتمال ہیں، ایک احتمال تو یہ ہے کہ یہ ضمیر قرآن اور رسول کی طرف راجع ہو اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ قرآن اور رسول سے وہی بدصنیب منحرف ہوتا ہے جس کے لئے محرومی مقدر ہوچکی ہے مفسر علام نے اسی احتمال کو اختیار کیا ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ عنہ کی ضمیر قول مختلف کی طرف راجع ہو اور معنی یہ ہوں کہ تمہارے مختلف اور متضاد اقوال کی وجہ سے وہی شخص قرآن اور رسول کا منکر ہوتا ہے جو ازلی بدنصیب اور محروم ہی ہو۔
Ayahs 51:10–16

قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَۙ Open ayah 51:10 in the Quran reader

اٹکل دوڑانے والے ہلاک ہوں

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ غَمْرَةٍ سَاهُوْنَۙ Open ayah 51:11 in the Quran reader

جو بیخبر ی میں بھولے ہوئے ہیں

یَسْئَلُوْنَ اَیَّانَ یَوْمُ الدِّیْنِؕ Open ayah 51:12 in the Quran reader

پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب ہوگا ؟

یَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ یُفْتَنُوْنَ Open ayah 51:13 in the Quran reader

اس دن (ہوگا) جب ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا

ذُوْقُوْا فِتْنَتَكُمْ١ؕ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 51:14 in the Quran reader

اب اپنی شرارت کا مزا چکھو یہ وہی ہے جس کے لئے تم جلدی مچایا کرتے تھے

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 51:15 in the Quran reader

بیشک پرہیزگار بہشتوں اور چشموں میں (عیش کر رہے) ہوں گے

اٰخِذِیْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِیْنَؕ Open ayah 51:16 in the Quran reader

(اور) جو جو نعمتیں انکا پروردگار انہیں دیتا ہوگا انکو لے رہے ہوں گے بیشک وہ اس سے پہلے نیکیاں کرتے تھے

قتل الخراصون، خراص کے لغوی معنی اندازہ لگا انے والے اور ظن وتخمین سے باتیں کرنے والے کے ہیں، مراد کفار ہیں جو آنحضرت ﷺ کے بارے میں بلا کسی علم و دلیل کے مختلف اور متضاد باتیں کہتے تھے اس لئے خراصون کا ترجمہ کا ذابون سے بھی کردیا جائے گا تو بعید نہیں۔
Ayahs 51:17–18

كَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَهْجَعُوْنَ Open ayah 51:17 in the Quran reader

رات کے تھوڑے سے حصے میں سوتے تھے

وَ بِالْاَسْحَارِ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 51:18 in the Quran reader

اور اوقات سحر میں بخشش مانگا کرتے تھے

کانوا قلیلاً من اللیل مایھجعون کفار اور منکرین کے ذکر کے بعد مومنین و متقین کا ذکر کئی آیتوں میں آیا ہے، یھجعون، ھجوع سے مشتق ہے جس کے معنی رات کے سونے کے ہیں، ما، قلت کی تاکید کے لئے ہے اس میں پرہیز گار مومنین کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ رات اللہ کی بندگی میں گذارتے ہیں، سوتے بہت کم ہیں، یہ تفسیر ابن جریر سے منقول ہے، اور حسن بصری سے بھی یہی تفسیر نقول ہے اور حضرت ابن عباس ؓ قتادہ، مجاہد وغیرہ ائمہ تفسیر نے اس جملہ کا مطلب حرف ما کو نفی کے لئے قرار دے کر یہ بتلایا ہے کہ رات کو ان پر تھوڑا سا حصہ ایسا بھی آتا ہے جس میں سوتے نہیں بلکہ عبادت نماز وغیرہ میں مشغول رہتے ہیں اس مفہوم کے اعتبار سے وہ سب لوگ اس کا مصداق ہوجاتے ہیں جو رات کے کسی بھی حصے میں عبادت کرلیں خواہ شروع میں یا آخر میں درمیان میں اسی لئے حضرت انس ؓ اور ابوالعالیہ رحمتہ اللہ تعالیٰ نے اس کا مصداق ان لوگوں کو قرار دیا ہے، جو مغرب و عشاء کے درمیان نماز پڑھتے ہیں۔ (ابن کثیر)
Ayah 51:19

وَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ Open ayah 51:19 in the Quran reader

اور ان کے مال میں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے (دونوں) کا حق ہوتا تھا

وفی اموالھم حق للسائل و المحروم محروم سے مراد وہ ضرورت مند ہے جو سوال سے اجتناب کرتا ہے، چناچہ مستحق ہونے کے باوجود لوگ اسے نہیں دیتے، یہ قتادہ اور زہری کی رائے ہے (شوکانی) یا وہ شخص مراد ہے جس کا آفت ارضی و سماوی سے سب کچھ تباہ ہوجائے، یہ زید بن اسلم سے منقول ہے (فتح القدیر شوکانی) حسن اور محمد ابن الحنفیہ نے کہا ہے کہ محروم وہ شخص ہے کہ جو مال غنیمت اور مال فئی سے محروم رہے اس کے علاوہ بھی اور بہت سے اقوال ہیں۔
Ayahs 51:20–22

وَ فِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَۙ Open ayah 51:20 in the Quran reader

اور یقین کرنے والوں کے لئے زمین میں (بہت) سی نشانیاں ہیں

وَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 51:21 in the Quran reader

اور خود تمہارے نفوس میں تو کیا تم دیکھتے نہیں ؟

وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 51:22 in the Quran reader

اور تمہارا رزق اور جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے آسمان میں ہے

صدقہ و خیرات کرنے والوں کو خاص ہدایت : اس آیت میں مومنین متقین کی یہ صفت بتلائی گئی ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کے وقت صرف سائلین ہی کو نہیں دیتے بلکہ ایسے لوگوں کا بھی خیال رکھتے ہیں جو اپنی حاجت شرم و شرافت کی وجہ سے کسی پر ظاہر نہیں کرتے، مطلب یہ کہ یہ مومنین متقین صرف بدنی عبادت نماز روزہ اور شب بیداری پر اکتفاء نہیں کرتے بلکہ مالی عبادت میں بھی ان کا بڑا حصہ رہتا ہے کہ سائلین کے علاوہ ایسے لوگوں پر بھی نظر رکھتے ہیں کہ جو شرافت و شرم کے سبب اپنی حاجت کسی پر ظاہر نہیں کرتے اور یہ لوگ جن فقراء و مساکین پر خرچ کرتے ہیں ان پر کوئی احسان نہیں جتلاتے، بلکہ یہ سجھ کردیتے ہیں کہ ہمارے اموال خدا داد میں ان کا بھی حق ہے اور حق دار کو اس کا حق پہنچا دینا کوئی احسان نہیں ہوا کرتا بلکہ ذمہ داری سے اپنی سبک دوشی ہوا کرتی ہے۔
Ayah 51:23

فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَاۤ اَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ۠ Open ayah 51:23 in the Quran reader

تو آسمانوں اور زمین کے مالک کی قسم یہ (اسی طرح) قابل یقین ہے جس طرح تم بات کرتے ہو

انہ لحق مثل ما انکم تنطقون یعنی جس طرح تم کو اپنے بولنے اور کلام کرنے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا اسی طرح قیامت کا برپا ہونا بھی ایسا ہی واضح کھلا ہوا اور یقینی ہے کہ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ (قرطبی)
Ayahs 51:24–25

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَ الْمُكْرَمِیْنَۘ Open ayah 51:24 in the Quran reader

بھلا تمہارے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر پہونچی ہے ؟

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ١ۚ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَۚ Open ayah 51:25 in the Quran reader

جب وہ ان کے پاس آئے تو سلام کہا انہوں نے بھی (جواب میں) سلام کہا (دیکھا تو) ایسے لوگ کہ نہ جان نہ پہچان

ترجمہ : اے محمد ﷺ کیا ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمانوں کا واقعہ آپ تک پہنچا ؟ اور وہ بارہ یا دس یا تین فرشتے تھے، ان میں جبرائیل (علیہ السلام) بھی تھے جبکہ وہ (مہمان) ان کے پاس آئے (اذ) حدیث ضیف کا ظرف ہے، تو انہوں نے سلام کیا یعنی لفظ سلاما کہا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی (جواب میں) لفظ سلام کہا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے جی میں کہا یہ تو انجانے لوگ ہیں (قوم منکرون) مبتداء مقدر کی خبر ہے اور وہ ھولاء ہے پھر وہ چپکے سے اپنے گھر والوں کے پاس گئے اور ایک (بھنا ہوا) فربہ بچھڑا لائے اور سورة ہود میں ہے جاء بعجل حنیذ یعنی بھنا ہوا بچھڑا لائے، اور اسے ان کے سامنے رکھا اور کہا تم کھاتے کیوں نہیں ہو ؟ یعنی ان کے سامنے کھانا رکھا لیکن انہوں نے توجہ نہ کی تو ان سے دل میں خوف زدہ ہوئے (یعنی) اپنے دل میں (خوف محسوس کیا) تو ان لوگوں نے کہا ڈرو مت بلاشبہ ہم تیرے پروردگار کے فرستا دے ہیں اور انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک ذی علم لڑکے کی خوشخبری دی یعنی کثیر العلم لڑکے کی اور وہ اسحاق (علیہ السلام) تھے جیسا کہ سورة ہود میں مذکورہ ہوا تو ان کی بیوی سارہ چیختی ہوئی آگے بڑھی (فی صرۃ) حال ہے یعنی (تعجب سے) چیختی ہوئی آگے بڑھی اور اپنا منہ پیٹ لیا اور کہا بڑھیا بانجھ جس نے کبھی کچھ نہیں جنا اور ان کی عمر نانوے سال تھی اور ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر سو سال تھی، یا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر ایک سو بیس سال تھی اور ان کی بیوی کی عمر نوے سال تھی، فرشتوں نے کہا تیرے رب نے ایسا ہی فرمایا ہے یعنی ہماری بشارت کے مانند بلاشبہ وہ حکیم ہے اپنی صنعت میں اور باخبر ہے اپنی مخلوق کے بارے میں (حضرت) ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا اے فرستادو ! تم کو کیا مہم درپیش ہے ؟ فرشتوں نے جواب دیا ہم کو مجرم کافر قوم کی طرف بھیجا گیا ہے یعنی قوم لوط کی طرف تاکہ ہم ان پر آگ میں پکے ہوئے مٹی کے کنکر برسائیں جو تیرے رب کی طرف سے نشان زدہ ہیں حد سے گذر جانے والوں کے لئے الغلام بازی کی وجہ سے ان کے ساتھ یعنی جس شخص کو جس کنکری کے ذریعہ ہلاک کیا جانا ہے اس پر اس کے نام کی علامت لگی ہوئی ہے (یعنی اس کا نام لکھا ہوا ہے) عند ربک مسومۃ کا ظرف ہے پس جتنے ایمان دار وہاں یعنی قوط لوط کی بستیوں میں موجود تھے ہم نے نکال لئے کافروں کو ہلاک کرنے کے لئے ہم نے وہاں مسلمانوں کا صرف ایک ہی گھر پایا اور وہ لوط (علیہ السلام) اور ان کے دو بیٹیوں کا گھرانہ تھا، اہل خانہ کا ایمان اور سالام کے ساتھ وصف بیان کیا گیا ہے یعنی وہ اپنے قلوب سے تصدیق کرنے والے اور اپنے اعضاء سے طاعت پر عمل کرنے والے اور ہم نے اس بستی میں کافروں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کی ہلاکت پر ان لوگوں کے لئے جو درد ناک عذاب سے ڈرتے ہیں علامت چھوڑ دی تاکہ ان جیسی حرکت نہ کریں اور موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ میں بھی اس کا عطف فیھا پر ہے اور معنی یہ ہیں اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ میں بھی علامت رکھی ہے کہ ہم نے اس کو واضح دلیل کے ساتھ فرعون کے پاس بھیجا تو فرعون نے مع اپنے لشکر کے ایمان سے اعراض کیا (لشکر کو رکن کہا ہے) اس لئے کہ لشکر اس کے لئے رکن کے مانند تھا، اور فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں کہا کہ وہ جادو گر یا بائولا ہے بالآخر ہم نے اس کو اور اس کے لشکر کو پکڑ کر سمندر میں پھینک دیا سو وہ سب کے سب غرق ہوگئے اور وہ یعنی فرعون تھا ہی ملامت کے قابل یعنی ایسی حرکت کرنے والا تھا کہ جس پر اس کو ملامت کی جائے (اور) وہ رسولوں کی تکذیب اور دعوائے ربوبیت اور قوم عاد کو ہلاک کرنے میں بھی نشانی ہے جب ہم نے ان پر بانجھ (رفیق) ہوا بھیجی وہ واپسی ہوا تھی کہ اس میں کوئی فیض نہیں تھا، اس لئے کہ وہ ہوا نہ تو حال مطر تھی اور نہ درختوں کو بار آور کرنے والی کہا گیا ہے کہ وہ جنوبی ہوا تھی وہ جس چیز پر بھی گذرتی تھی خواہ جان ہو یا مال اس کو بوسیدہ ہڈی کے مانند ریزہ ریزہ کردیتی تھی اور ثمود کے ہلاک کرنے میں بھی نشانی ہے جب ان سے اونٹنی کو ہلاک کرنے کے بعد کہا گیا چند دن یعنی اپنی زندگی کی مدت پوری ہونے تک اور مزے اڑا لو جیسا کہ آیت تمتعوا فی دارکم ثلاثۃ ایام میں ہے، لیکن انہوں نے اپنے رب کے حکم یعنی اس کی بجا آوری سے سرتابی کی جس پر انہیں تین دن گذرنے کے بعد عذاب نے آپکڑا یعنی ایک مہلک چیخ نے اور وہ (عذاب) کو روز روشن میں (کھلی آنکھوں سے) دیکھ رہے تھے پس نہ تو وہ کھڑے ہو سکے یعنی نزول عذاب کے وقت وہ کھڑے ہونے پر قادر نہ ہوئے اور نہ وہ ان کو ہلاک کرنے والے سے بدلہ ہی لے سکے اور ان سے پہلے قوم نوح کا بھی یہی حال ہوچکا تھا یعنی ان مکذبین مذکورین کو ہلاک کرنے سے پہلے اور وہ بڑے نافرمان لوگ تھے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : ھل اتک حدیث ضیف ابراہیم، ھل یہاں شوق دلانے، دلچسپی پیدا کرنے اور اس قصہ کی عظمت شان کو ظاہر کرنے کیلئے ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ھل بمعنی قد ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے قول ھل اتی علی الانسان حین من الدھر الخ میں ھل بمعنی قد ہے۔ (صاوی) سوال : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں بطور مہمان آنے والے فرشتوں کی تعداد تین سے زیادہ تھی، جس کے لئے ضیوف جمع کا لفظ استعمال ہونا چاہیے، حالانکہ ضیف مفرد کا لفظ استعمال ہوا ہے اس کی کیا وجہ ہے ؟ جواب : ضیف چونکہ اصل میں مصدر ہے جس کا اطلاق واحد تثنیہ جمع سب پر ہوتا ہے لہٰذا کوئی اعتراض نہیں ہے۔ (صاوی) قولہ : اذ دخلوا بعض حضرات نے کہا ہے کہ اذ ذخلوا، اذکر فعل محذوف کا ظرف ہے، اور وہی اس کا ناصب ہے اور بعض نے حدیث کو عامل بنایا ہے ای ھل اتاک حدیثھم الواقع فی وقت دخولھم علیہ اور بعض حضرات نے المکرمین کو ناصب قرار دیا ہے اس لئے کہ حضرت ابراہیم نے آنے والے مہمانوں کا داخل ہونے کے وقت اکرام کیا تھا۔ قولہ : فقالوا سلاماً ، سلاماً مفعول مطلق ہے اس کا فعل ناصب سلمت محذوف ہے ای سلمت سلاماً یا نسلم علیکم سلاماً ہے مصدر جو کہ فعل کی بھی قائم مقامی کر رہا ہے، اس لئے فعل کو حذف کردیا گیا۔ قولہ : قال سلام ابراہیم (علیہ السلام) نے جواباً فرمایا سلام، سلام کا نکرہ ہونے کے ابوجود مبتداء بننا صحیح ہے اس لئے کہ سلام دعاء کے معنی کو متضمن ہے (لغات القرآن، درویش) ثبات و دوام پر دلالت کرنے کے لئے رفع کی جانب عدول کیا ہے تاکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا سلام مہمانوں کے سلا سے بہتر ہوجائے۔ قولہ : فاوجس اس نے پایا، اس نے محسوس کیا، یہ ایجاس سے ماضی واحد مذکر غائب ہے، ایجاس کے معنی دل میں محسوس کرنا اور دل میں مخفی آواز کا آنا۔ (لغات القرآن) قولہ : اضمر فی نفسہ کا اضافہ محض بیان معنی کے لئے ہے۔ قولہ : صرۃ شدید چیخ پکار کو کہتے ہیں، صریر الباب دروازے کی آواز صریر القلم قلم کے لکھنے کی آواز اقبلت صائحۃ ای جائت صائحۃ چیختی چلاتی آئی اور بعض حضرات نے اقبلت کا ترجمہ اخذت کیا ہے یعنی سارہ نے چیخنا چلانا شروع کردیا، یہ اقبلت شتمتنی کے قبیل سے ہے یعنی تو نے مجھے گالی دینی شروع کردی۔ قولہ : فصکت وجھھا یعنی سارہ نے بڑھاپے میں فرزند کی خوشخبری سن کر تعجب سے اپنا منہ پیٹ لیا قالت عجور عقیم ای انا عجور عقیم فکیف الد قولہ : کذلک یہ مصدر محذوف کی صفت ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، ای قال قولاً مثل ذلک الذی قلنا قولہ : قال فما خطبکم ایھا المرسلون یہ جملہ مستانفہ ہے ایک سوال مقدر کا جواب ہے، گویا کہ کہا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرشتوں سے مذکورہ گفتگو کے بعد کیا کہ، جواب دیا : قال فما خطبکم ایھا المرسلون قولہ : خطب، خطب کے معنی شان اور قصہ اور امر عظیم اور کار مہم کے ہیں۔ قولہ : حجارۃ من طین مطبوخ بالنار، حجارۃ یہ حجر کی جمع ہے۔ سوال : من طین کے اضافہ کا کیا فائدہ ہے ؟ جواب : اس اضافہ کا مقصد احتمال مجاز کو دفع کرنا ہے اسلئے کہ بعض اوقات حجارۃ اور حجر اولوں کو بھی کہا جاتا ہے، حجارۃ کے مجازی معنی مراد ہوں تو مطلب ہوگا کہ قوم لوط کو اولوں کے ذریعہ ہلاک کیا گیا حالانکہ ایسا نہیں ہے، یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا طائر یطیر بجناحیہ اس میں یطیر بجناحیہ کے اضافہ کا مقصد احتمال مجاز کو دفع کرنا ہے، اس لئے کہ بعض اوقات تیز رفتار شخص کو بھی مجاز اطائر کہہ دیا جاتا ہے۔ سوال : مفسر علام نے مطبوخ بالنار کا اضافہ کس مقصد کے لئے کیا ہے ؟ جواب : یہ اس شبہ کا جواب ہے کہ حجارہ مٹی کا نہیں ہوتا تو پھر یہاں مٹی کا پتھر کیوں کہا گیا ہے یہاں حجارۃ من طین سے آگ میں پکی ہوئی مٹی مراد ہے جو سختی اور صلابت میں پتھر ہی کے مثل ہوتی ہے، اسی کو سجیل کہتے ہیں یہ درحقیقت سنگ گل کا معرب ہے، جس کو کنکر بھی کہا جاتا ہے۔ قولہ : مسومۃ، مسومۃ کے معنی معلمۃ یعنی نشان زدہ کے ہیں مسومۃ یا تو حجارۃ کی صفت ہونے کی وجہ سے منصوب ہے یا حجارۃ سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ قولہ : عندربک یہ مسومۃ کا ظرف ہے ای معلمۃ عندہ قولہ : فاخر جنامن کان فیھا یہاں سے اللہ تعالیٰ کا کلام شروع ہو رہا ہے، سابق میں حضرت ابراہیم اور فرشتوں کی گفتگو نقل کی گئی تھی۔ سوال : فیھا کا مرجع قریٰ قوم لوط ہیں حالانکہ ماقبل میں اس کا کہیں ذکر نہیں ہے اس میں اضمار قبل الذکر لازم آتا ہے۔ جواب :۔ چونکہ قریٰ قوم لوط معروف اور معہود فی الذہن تھے اس لئے ضمیر لانا درست ہے جیسے کہ مندرجہ ذیل شعر میں محبوب کے معروف یا معہود فی الذہن ہوکنے کی وجہ سے بغیر سابق میں ذکر کے ضمیر لائی گئی ہے۔ پوچھو پتہ نہ ان کا آگے بڑھے چلو ہوگا کسی گلی میں فتنہ جگا ہوا قولہ : وفی موسیٰ اس کا عطف فیھا پر ہے اور ترکنا کے تحت میں ہے، جیسا کہ مفسر عالم نے جعلنا فی قصۃ موسیٰ آیۃ کہہ کر اشارہ کردیا ہے یعنی ہم نے چشم بصیرت رکھنے والوں کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ میں بھی عبرت کا سامان رکھ دیا ہے اور وفی موسیٰ کا عطف فیھا پر ہے۔ قولہ : مع جنودہ کا اضافہ کر کے اشارہ کردیا کہ برکنہ میں باء بمعنی مع ہے۔ قولہ : ساحر اومجنون او بمعنی وائو بھی ہوسکتا ہے اور یہی زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے اس لئے کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دونوں لقبوں سے یاد کرتے تھے قرآن کریم نے ایک جگہ فرعونیوں کا قول نقل کرتے ہوئے فرمایا ان ھذا لساحر علیم اور دوسری جگہ فرعونیوں کا قول حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں نقل کرتے ہوئے فرمایا رسولکم الذی ارسل الیکم لمجنون اس سے معلوم ہوتا ہے کہ او بمعنی وائو ہے، اور یہ بھی احتمال ہے کہ او علی بابھا ہو اور مراد قوم کو تشکیک اور بہام کے ذریعہ دھوا دیناہو۔ قولہ : ونودہ یہ بھی درست ہے کہ اخذناہ کی ضمیر مفعولی ہ، پر عطف ہو یہ کہ مفعول معہ ہو اور یہی ظاہر ہے۔ قولہ : عقیم بانجھ عورت الریح العقیم سے مراد وہ ہوا ہے جو بےفیض بلکہ مضر ہو، نہ مثمر شجر ہو اور نہ حامل مطہر اکثر مفسرین کا خیال ہے کہ وہ ہوا دبور (پچھوا) تھی، حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، آپ نے فرمایا نصرت بالصباء و اھلکت عاد بالدبور اور بعض نے جنوبی ہوا مراد دلی ہے۔ قولہ : لاتلفح، القاح سے بمعنی حاملہ کرنا، بار آور کرنا، مادہ لقح ہے (س) ل قحا حاملہ ہونا۔ قولہ : الصعقۃ صاعقہ آسمانی بجلی کو بھی کہتے ہیں اور چیخ و چنگھاڑ کو بھی کہتے ہیں یہاں یہی دوسرے معنی مراد ہیں تاکہ دوسری آیت ان عذابھم الصیحۃ کے مخالف نہ ہو۔ قولہ : علی من اھلکھم یہ وما کانوا منتصرین کی تفسیر ہے، یعنی وہ اپنے ہلاک کرنے والے پر غالب نہ آسکے یا اس سے انتقام نہ لے سکے، مگر یہ معنی درست نہیں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ سے نہ کوئی انتقام لینے پر قادر ہے اور نہ غالب آنے پر لہٰذا بہتر ہوتا کہ علامہ محلی بجائے علی من اھلکھم کے وماکانوا دافعین عن انسھم العذاب فرماتے۔ تفسیر و تشریح ھل اتک حدیث ضیف ابراہیم یہاں سے رکوع کے آخر تک آپ ﷺ کی تسلی کے لئے چند انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات اور بعض گزشتہ قوموں کے انجام کی طرف مختصر اشارات کئے گئے ہیں، ان واقعات میں سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعات اور بعض گزشتہ قوموں کے انجام کی طرف مختصر اشارات کئے گئے ہیں ان واقعات میں سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کا واقعہ پہلا واقعہ ہے، یہ واقعہ قرآن مجید میں پہلے بھی سورة ہود اور سورة عنکبوت میں گذر چکا ہے، ھل یا تو بمعنی قد ہے یا استفہام تشویق و تعظیم کے لئے ہے، ضیف اگرچہ واحد ہے مگر مصدر ہونے کی وجہ سے اس کا اطلاق قلیل و کثیر سب پر ہوتا ہے، یہ مہمان انسانی شکل میں آئے تھے، ان کے بارے میں ایک دوسری آیت میں فرمایا گیا بل عباد مکرومون مہمان بن کر انسانی شکل میں آنے والے فرشتوں کی تعداد کتنی تھی اس میں مختلف اقوال ہیں ایک قول یہ ہے کہ تین تھے، جبرائیل، میکائیل، اسرافیل (فتح القدیر) فرشتوں نے آ کر سلام کیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بہتر طریقہ سے جواب دیا، اور اپنے دل میں کہا انجانے لوگ معلوم ہوتے ہیں، یا اپنے اہل کے پاس جاتے ہوئے اپنے کسی خادم وغیرہ سے کہا مطلب یہ ہے کہ خود مہمانوں سے نہیں فرمایا اس لئے کہ بظاہر یہ بات نامناسب معلوم ہوتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ خود مہمانوں سے فرمایا ہو کہ آپ حضرات سے کبھی اس سے پہلے شرف نیاز حاصل نہیں ہوا آپ شاید اس علاقہ میں نئے تشریف لائے ہیں۔
Ayahs 51:26–28

فَرَاغَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ فَجَآءَ بِعِجْلٍ سَمِیْنٍۙ Open ayah 51:26 in the Quran reader

تو اپنے گھر جا کر ایک (بھنا ہوا) موٹا بچھڑا لائے

فَقَرَّبَهٗۤ اِلَیْهِمْ قَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 51:27 in the Quran reader

(اور کھانے کے لئے) انکے آگے رکھ دیا کہنے لگے کہ آپ تناول کیوں نہیں کرتے ؟

فَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ؕ وَ بَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 51:28 in the Quran reader

اور دل میں ان سے خوف معلوم کیا (انہوں نے) کہا کہ خوف نہ کیجئے اور انکو ایک دانشمند لڑکے کی بشارت بھی سنائی

فراغ الی اھلہ چپکے سے خاموشی کے ساتھ مہمانوں کے کھانے کا انتظام کرنے کے لئے گھر میں تشریف لے کر گئے تاکہ مہمان تکلفاً یہ نہ کہیں کہ اس تکلف کی کیا ضرورت ہے ؟ آداب مہمانی : ابن کثیر نے فرمایا کہ اس آیت میں مہمان کے لئے چند آداب میزبانی کی تعلیم ہے، پہلی بات تو یہ ہے کہ پہلے مہمانوں سے پوچھا نہیں کہ میں آپ کے لئے کھانا لاتا ہوں اور مہمان نوازی کے لئے ان کے پاس جو سب سے اچھی چیز موجود تھی کھانے کے لئے پیش کی، بچھڑا ذبح کیا اس کو بھونا اور لے آئے دوسری بات یہ کہ مہمانوں کو اس بات کی تکلیف نہیں دی کہ ان کو کھانے کی طرف بلاتے بلکہ جہاں وہ بیٹھے تھے وہیں لا کر انکے سامنے پیش کردیا، مگر کھانا سامنے رکھنے کے باوجود جب مہمانوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا تو پوچھا آپ کھاتے کیوں نہیں ؟ اور ساتھ ہی اپنے دل میں خوف محسوس کیا، غالباً اس ملک کا دسوتر تھا کہ مہمان اگر کوئی برا خیال رکھتا یا اس کا ارادہ تکلیف پہنچانے کا ہوتا تو وہ کھانا نہ کھاتا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب ان نووارد مہمانوں کو کھانے سے دست کش پایا تو دل میں اندیشہ کیا کہ مبدا ان کا کوئی شرکا ارادہ ہو مہمان حضرات ابراہیم (علیہ السلام) کے اندیشہ کو سمجھ گئے اس لئے کہ اس وقت تکے چوروں اور ظالموں میں بھی یہ شرافت تھی کہ جس کا کچھ کھالیا تو پھر اس کو نقصان نہیں پہنچاتے تھے اس لئے نہ کھانے سے شبہ ہوتا تھا کہ آنے والے کی نیت خیر نہیں معلوم ہوتی، چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اندیشہ کو دور کرنے کے لئے فرمایا، ڈرو نہیں ہم کھانے سے دستکش اس لئے نہیں کہ ہم کوئی برا ارادہ لکیر آئے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم بصورت انسانی فرشتے ہیں ہم کھایا نہیں کرتے اور اپنے فرشتے ہونے کی تائید میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک دانشمند ذی علم فرزند کی خوشخبری بھی دیدی کہ اللہ تعالیٰ تم کو ایک لڑکا عطا کرے گا جو ایسا اور ویسا ہوگا اور یہ خوشخبری جمہور کے نزدیک حضرت اسحاق کی تھی جیسا کہ سورة ہود میں اس کی صراحت موجود ہے۔
Ayahs 51:29–33

فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِیْ صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَ قَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِیْمٌ Open ayah 51:29 in the Quran reader

تو ابراہیم کی بیوی چلاتی آئی اور اپنا منہ پیٹ کر کہنے لگی (اے ہے ایک تو) بڑھیا اور (دوسرے) بانجھ

قَالُوْا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ Open ayah 51:30 in the Quran reader

(انہوں نے) کہا (ہاں) تمہارے پروردگار نے یوں ہی فرمایا ہے وہ بیشک صاحب حکمت (اور) خبردار ہے

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 51:31 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا کہ فرشتو ! تمہارا مدعا کیا ہے ؟

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ Open ayah 51:32 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ہم گنہگاروں کی طرف بھیجے گئے ہیں

لِنُرْسِلَ عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ طِیْنٍۙ Open ayah 51:33 in the Quran reader

تاکہ ان پر کھنگر برسائیں

فاقبلت امراتہ فی صرۃ فصحکت وجھھا (الخ) صرۃ غیر معمولی آواز کو کہتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ حضرت سارہ جو کہ قریب ہی کہیں کھڑی تھیں جب یہ سنا کہ فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بچے کی پیدائش کی خوشخبری دے رہے ہیں تو غیر اختیاری طور پر حضرت سارہ کے منہ سے کچھ الفاظ حیرت اور تعجب کے نکلے تو کہا ” عجوز عقیم “ اول میں بڑھیا پھر بانجھ جس کے جوانی میں کچھ نہیں ہوا، اب بڑھاپے میں کیا امید کی جاسکتی ہے، اس کے جواب میں فرشتوں نے کہا ” کذلک “ یعنی اللہ تعالیٰ کو سب قدرت ہے یہ کام یوں ہی ہوگا، چناچہ بشارت کے مطابق جب حضرت اسحاق (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو سارہ کی عمر ننانوے سال اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر سو سال تھی۔ (قرطبی، معارف) اس گفتگو سے جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو معلوم ہوگیا کہ یہ مہمان اللہ کے فرشتے ہیں تو آپ نے دریافت فرمایا آپ کس مہم پر تشریف لائے ہیں، خطب، اہم اور عظیم کام کو کہتے ہیں، چونکہ فرشتوں کا انسانی شکل میں اور وہ بھی جماعت کی شکل میں آنا کسی اہم اور عظیم الشان کام ہی کے لئے ہوتا ہے اس لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سمجھ گئے کہ ان حضرات کی آمد کسی اہم کام کے سلسلے میں ہے، اسی وجہ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سوال کیا فما خطبکم ایھا المرسلون اے فرستادو ! آپ کو کیا مہم درپیش ہے، فرشتوں نے جواب دیا، ہم کو ایک مجرم قوم کی طرف عذاب دینے کے لئے بھیجا گیا ہے اور مجرم قوم سے قوم لوط (علیہ السلام) مراد ہے۔
Ayah 51:34

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 51:34 in the Quran reader

جن پر حد سے بڑھ جانے والوں کے لئے تمہارے پروردگار کے ہاں سے نشان کردیئے گئے ہیں

مسومۃ عند ربک وہ کنکریاں تیرے رب کی طرف سے نشان زدہ ہیں کہ اس کے ذریعہ کس مجرم کی سرکوبی ہونی ہے، سورة ہود اور الحجر میں اس عذاب کی تفصیل یہ بتائی گئی ہے کہ ان کی بستیوں کو پلٹ دیا گیا اور اوپر سے پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسا دیئے گئے، کنکریوں پر کیا علامت لگی ہوئی تھی ؟ بعض مفسرین نے کہا کہ ان کنکریوں پر سیاہ وسفید دھاریاں تھیں اور یہ بھی کہا گیا ہے سیاہ سرخ دھاریاں تھیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہر کنکری پر اس مجرم کا نام لکھا ہوا تھا جس کی اس کے ذریعہ سرکوبی کرنی تھی۔ (فتح القدیر شوکانی)
Ayahs 51:35–36

فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِیْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 51:35 in the Quran reader

تو وہاں جتنے مومن تھے ان کو ہم نے نکال لیا

فَمَا وَجَدْنَا فِیْهَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَۚ Open ayah 51:36 in the Quran reader

اور اس میں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا

فاخرجنا من کان فیھا من المومنین (الآیۃ) مطلب یہ ہے کہ عذاب آنے سے پہلے ان کو آگاہ کردیا گیا تھا اور اس بستی سے نکل جانے کا حکم دیا تھا تاکہ وہ عذاب سے محفوظ رہیں اور یہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا گھر تھا جس میں ان کی دو بیٹیاں اور کچھ ان پر ایمان لانے والے تھے، کہتے ہیں کہ یہ کل تیرہ آدمی تھے ان میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی شامل نہیں تھی، بلکہ وہ اپنی قوم کے ساتھ عذاب سے ہلاک ہونے والوں میں تھی۔ (ایسر التفاسیر)