Ayahs 51:37–46وترکنا فیھا آیۃ للذین یخافون العذاب الالیم اس کے بعد ہم نے بس ایک نشانی ان لوگوں کے لئے چھوڑ دی جو درد ناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔
وہ نشانی کیا تھی ؟
بعض مفسرین حضرات نے ان نشان زدہ کنکریوں کو نشانی قرار دیا ہے اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ اس نشانی سے مراد بحیرہ مردار (Dead Sea) ہے جس کا جنوبی علاقہ آج بھی تباہی و بربادی کے آثار پیش کر رہ ا ہے، ماہرین آثار قدیمہ کا اندازہ ہے کہ قوم لوط کے بڑے شہر غالباً شدید زلزلے سے زمین کے اندر دھنس گئے تھے اور ان کے اوپر بحیرہ مردار کا پانی پھیل گیا تھا۔ کیونکہ اس بحیرہ کا وہ حصہ جو ” اللسان “ نامی چھوٹے سے جزیرہ نما کے جنوب میں واقع ہے صاف طور پر بعد کی پیداوار معلوم ہوتا ہے اور قدیم بحیرہ مردار کے جو آثار اس جزیرہ نما کے شمال تک نظر آتے ہیں وہ جنوب میں پائے جانے والے آثار سے بہت مختلف ہیں، اس لئے یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جنوب کا حصہ پہلے اس بحیرہ کی سطح سے بلند تھا بعد میں کسی وقت دھنس کر اس کے نیچے چلا گیا اس کے دھنسنے کا زمانہ بھی دو ہزار قبل مسیح کے لگ بھگ معلوم ہوتا ہے اور یہی تاریخی طور پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کا زمانہ ہے، 1965 ء میں آثار قدیمہ کی تلاش کرنے والی ایک امریکی جماعت کو اللسان پر ایک بہت بڑا قبرستان ملا ہے جس میں بیس ہزار سے زیادہ قبریں ہیں، اس سے انداز ہوتا ہے کہ قریب میں کوئی بڑا شہر ضرور آباد تھا مگر کسی ایسے شہر کے آثار آس پاس کہیں موجود نہیں ہیں، جس سے متصل اتنا بڑا قبرستان بن کستا ہو، اس سے بھی اس شبہ کی تقویت ہوتی ہے کہ جس شہر کا یہ قبرستان تھا وہ بحیرہ میں غرق ہوچکا ہے، بحیرہ کے جنوب میں جو علاقہ ہے اس میں با بھی ہر طرف تباہی کے آثار موجود ہیں اور زمین میں گندھک، رال تار کول اور قدرتی گیس کے اتنے بڑے ذخائر پائے جاتے ہیں کہ جنہیں دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ کسی وقت بجلیوں کے گرنے سے یا زلزلے کالا وا نکلنے سے یہاں ایک جہنم پھٹ پڑی ہوگی۔
Ayahs 51:47–49ترجمہ : اور آسمان کو ہم نے اپنی قرت قوت سے بنایا اور بلاشبہ ہم وسیع القدرت ہیں (یعنی) ہم اس پر قادر ہیں بولا جاتا ہے ادا الرجل یئید آدمی قوی ہوگیا ( اور بولا جاتا ہے) اوسع الرجل آدمی وسعت وقدرت والا ہوگیا اور ہم نے زمین کو بچھایا سو ہم کیسے اچھے بچھانے والے ہیں اور ہم نے ہر چیز کو جوڑے جوڑے بنایا مثلاً نر اور مادہ، آسمان اور زمین، شمس اور قمر، میدان اور پہاڑ، گرمی اور سردی، شیریں اور ترش، نور اور ظلمت تاکہ تم سبق لو (تذکرون) میں اصل سے دو تائوں میں سے ایک کو حذف کر کے تاکہ تم جان لو کہ ازواج کا خالق، فرد ہے (جوڑے کا پیدا کرنے والا اجوڑ ہے) لہٰذا اس کی بندگی کروصاے محمد ﷺ آپ ان سے کہئے) کہ اللہ کی طرف دوڑو یعنی اس کے عذاب سے اس کے ثواب کی جانب، بایں طور کہ اس کی اطاعت کرو اور اس کی نافرمانی نہ کرو یقینا میں تم کو اس کی طرف سے صاف صاف تنبیہ کرنے والا ہوں اور اس کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ ٹھہرائو میں تم کو اس کی طرف سے کھلا ڈرانے والا ہوں (فقروا) سے پہلے قل لھم مقدر مانا جائے گا اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے گذرے ہیں ان کے پاس جو بھی رسول آیا ان سے کہہ دیا کہ یہ جادوگر ہے یا دیوانہ یعنی جس طرح یہ لوگ اپنے قول انک ساحر اومجنون کے ذریعہ آپ کی تکذیب کر رہے ہیں اسی طرح انہی کلمات کے ذریعہ ان سے پہلی امتوں نے بھی اپنے رسولوں کی تکذیب کی کیا اس بات کی ایک دوسرے کو وصیت کر مرے ہیں ؟ یہ استفہام بمعنی نفی ہے (نہیں) بلکہ یہ سب کے سب سرکش لوگ ہیں ان کی سرکشی نے ان کو اس بات پر جمع کردیا ہے تو آپ ان سے منہ پھیر لیں آپ پر کوئی ملامت نہیں اسل لئے کہ آپ نے تو ان کو پیغام پہنچا دیا اور آپ قرآن کے ذریعہ نصیحت کرتے ہیں یقینا یہ نصیحت ایمان والوں کو نفع دے گی، جس کے بارے میں اللہ کو علم ہے کہ وہ ایمان لائے گا، میں نے جنات کو اور انسانوں کو محض اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری بندگی کریں اور یہ (مقصد تخلیق) کافروں کے عبادت نہ کرنے کے منافی نہیں ہے اس لئے کہ غایت کا وجود لازم نہیں ہوتا جیسا کہ تو کہے کہ میں نے یہ قلم بنایا ہے لکھنے کے لئے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ اس قلم سے نہیں لکھتے نہ میں ان سے اپنے لئے روزی چاہتا ہوں نہ خود ان کے لئے اور نہ ان کے غیر کے لئے اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں اور نہ خود ان کو اور نہ ان کے غیر کو اللہ تو خود ہی سب کو رزق دینے والا نہایت قوت والا ہے بلاشبہ مکہ وغیرہ کے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے کفر کے ذریعہ اپنے اوپر ظلم کیا عذاب کی بایر ہے ان کے ان ہم مشربوں کی باری کے مانند جو ان سے پہلے ہلاک ہوچکے لہٰذا وہ مجھ سے عذاب طلب کرنے میں جلدی نہ مچائیں اگر میں ان کو قیامت تک مہلت دیدوں اور ان کافروں کے لئے بڑی خرابی یعنی سخت عذاب ہوگی اس دن کے آنے سے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے یعنی قیامت کا دن۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : والسماء بنینھا جمہور نے والسماء پر اور والرض پر علی سبیل الاشتغال نصب پڑھا ہے، تقدیر عبارت یہ ہے وبنینا السماء بنینھا وفرشنا الارض فرشنھا اور ابوالسماک اور ابن مقسم نے دونوں جگہ مبتداء ہونے کی وجہ سے رفع پڑھا ہے اور ان دونوں کا مابعد ان کی خبر ہے اول یعنی نصب اولی ہے، جملہ فعلیہ کا عطف جملہ فعلیہ پر ہونے کی وجہ سے۔
قولہ : وانا لموسعون یہ جملہ شارح کی تقریر کی رو سے حال مئوکدہ ہے، اس لئے کہ شارح نے یہ بات متعین کردی ہے کہ موسعون قادرون کے معنی میں ہے لہٰذا موسعون اوسع لازم سے ہوگا اور یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے اور ق الشجر ای صادر ذ اورق جب یہ بات سمجھ میں آگئی کہ لموسعون شارح کی تقریر کے مطابق لازم ہے تو پھر جلالین کے جن نسخوں میں لموسعون کے بعد لھا ہے وہ صحیح نہیں ہے البتہ ان لوگوں کے نزدیک جنہوں نے لموسعون کو متعدی کہا ہے ان کے نزدیک لھا صحیح ہوگا اور اس صورت میں لموسعون حال مئوسسہ ہوگا جو ایک نیا فائدہ دے گا۔
قولہ : خلقنا زوجین
سوال :۔ زوجین کی سات مثالیں کیوں دیں ؟ جبکہ ایک مثال بھی کافی ہوسکتی تھی ؟
جواب : متعدد مثالیں دیکر اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ جوڑے اور زوج کی جو بات ہے یہ محسوسات تک محدود ہے تاکہ عرشی کرس، لوح محفوظ، قلم کو لیکر اعتراض نہ ہو۔
قولہ : استھام بمعنی النفی مطلب یہ ہے کہ اولین و آخرین کو نبیوں کی تکذیب کرنے میں یکساں اور ایک ہی بات کہنے پر جمع کرنے والی چیز ایک دوسرے کو وصیت کرنا نہیں ہے اس لئے کہ زمانے مختلف ہیں لہٰذا تواصی ممکن نہیں ہے، بلکہ اصل سبب اور علت مشترکہ بغاوت، عناد اور سرکشی ہے جو دونوں فریقوں میں بدرجہ اتم موجود ہے۔
قولہ : لان الغایۃ لایلزم شارح رحمتہ اللہ تعالیٰ کا مقصد اس عبارت کے اضافہ سے اس شبہ کو دفع کرنا ہے کہ لیعبدون میں لام علت باعثہ کے لئے ہے یعنی جن و انس کو پیدا کرنے کی علت اور غرض عبادت ہے، اس سے لازم آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے افعال معلل بالا غرضا ہوں حالانکہ اللہ تعالیٰ کا کوئی فعل معلل بالا غرضا نہیں ہوتا، اس کا جواب دیا کہ لیعبدون میں لام عاقبۃ اور صیرورت کے لئے ہے جس کو علت غائیہ بھی کہتے ہیں، نہ کہ علث باعثہ کے لئے۔
قولہ : ولا ینافی ذلک عدم عبادۃ الکافرین اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔
سوال : جب جن وانس کی تخلیق کی علت غائیہ عبادت ہے تو ہر انسان کو عبادت کرنی چاہیے حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ کافر اللہ کی بندگی نہیں کرتے ؟
جواب : غایۃ کا وقوع ضروری اور لازم نہیں ہوتا مثلاً آپ ایک قلم بناتے ہیں لکھنے کے لئے مگر بعض اوقات اس سے نہیں لکھتے، حالانکہ آپ کے قلم بنانے کی غرض اور غایت لکھنا ہی ہے۔ دوسرا جواب بعض حضرات نے یہ دیا ہے کہ یہاں عباد سے مراد عباد مومنین ہیں جو کہ تعمیم بعد التخصیص کے قبیل سے ہے، اور مومین ایمان کے اعتبار سے عبادت گزار ہوتے ہیں۔
قولہ : لانفسھم اس کلمہ کے اضافہ کا مقصد ایک شبہ کا دفع کرنا ہے۔
شبہ : عام طور پر دنیوی سادات اور غلاموں کے مالکوں کی یہ عادت اور طریقہ ہوتا ہے کہ غلام خریدنے کا مقصد ان سے اپنے لئے اور خود غلاموں کے نفقہ کے لئے کسب کرانا ہوتا ہے تو کیا اللہ تعالیٰ کا بھی یہی مقصد ہیڈ
دفع : عام مالکوں کی طرح اللہ تعالیٰ کی نہ یہ عادت ہے اور نہ ضرورت ہے بلکہ وہ تو خود اپنے بندوں کو روزی دیتا ہے۔
قولہ : دنوباً ذال کے فتح کے ساتھ ذنب کی جمع ہے بڑے ڈول کو کہتے ہیں، اصطلاحی اور عربی معنی میں حصہ باری کو کہتے ہیں۔
تفسیر و تشریح
ربط :
سابقہ آیات میں قیامت و آخرت کا بیان اور اس کا منکرین پر عذاب کا ذکر تھا، ان آیات میں حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا بیان ہے اور روز قیامت زندہ کرنے اور ان سے حساب کتاب لینے پر جو مشرکین کو تعجب ت ھا اس کا ازالہ ہے، نیز توحید کا اثبات اور رسالت پر ایمان کی تاکید ہے۔
بنینھا باید وانا لمسعون، اید قوت وقدرت کے معنی میں آتا ہے، حضرت ابن عباس ؓ نے یہاں یہی معنی لئے ہیں لموسعون، موسعون، موسع کی جمع ہے اس کے معنی طاقت وقدرت رکھنے والے کے بھی ہوسکتے ہیں اس صورت میں لازم ہوگا اور وسیع کرنے والے کے بھی ہیں، اس معنی کے اعتبار سے متعدی ہوگا، اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ یہ آسمان ہم نے کسی کی مدد و تعاون سے نہیں بلکہ اپنے دست قدرت اور زور قوت سے بنایا ہے، پھر یہ تصور تم لوگوں کے دماغ میں آخر کیسے آگیا کہ ہم تمہیں دوبارہ پیدا نہ کرسکیں گے ؟ دوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہے کہ اس عظیم کائنات میں ہم مسلسل وسعت کر رہے ہیں اور ہر آن اس میں ہماری تخلیق کے نئے نئے کرشمے رونما ہوتے رہتے ہیں، ایسی زبردست خلاق ہستی کو آخر تم نے اعادہ سے عاجز کیوں سمجھ رکھا ہے ؟ اور کہا گیا ہے کہ رزق میں وسعت کرنا مراد ہے ای انا لموسعون الرزق بالمطر جوہری نے کہا ہے : اوسع الرجل، صادر ذاسعۃ و غنی
Ayahs 51:50–55فقروا الی اللہ دوڑ واللہ کی طرف، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا، مراد یہ ہے کہ اپنے گناہوں سے توبہ کر کے اللہ کی طرف رجوع کرو، حضرت جنید بغدادی اور ابوبکر وراق نے فرمایا کہ نفس اور شیطان معاصی کی طرف دعوت دیتے ہیں تم ان سے بھاگ کر اللہ کی پناہ لو وہ تمہیں ان کے شر سے بچا لے گا۔ (قرطبی)
Ayahs 51:56–60وما خلقت الجن ولانس الا لیعبدون یعنی ہم نے جنات اور انسان کو محض عبادت کے لئے پیدا کیا ہے، اس میں ظاہر نظر میں دو اشکال پیدا ہوتے ہیں جس کا جواب اجمالی طور پر تحقیق و ترکیب کے زیر عنوان ہوچکا ہے اس کی مزید تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔
اعتراض اول :
یہ ہے کہ جس مخلوق کو اللہ تعالیٰ نے کسی خاص کام کے لئے پیدا کیا ہے اور اس کی مشیت بھی یہی ہے کہ یہ مخلوق اس کام کو کرے تو عقلی طور پر یہ ناممکن اور محال ہوگا کہ پھر وہ مخلوق اس کام سے انحراف کرسکے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ارادہ اور مشئیت کے خلاف کوئی کام محال ہے۔
اعتراض اول کا پہلا جواب :
پہلے اشکار کے جواب میں بعض مفسرین نے اس مضمن کو صرف مومنین کے ساتھ مخصوص قرار دیا ہے یعنی ہم نے مومن جنات اور مومن انسانوں کو بجز عبادت کے اور کام کے لئے پیدا نہیں کیا اور یہ بات ظاہر ہے کہ مومن کم و بیش عبادت کے پابند ہوتے ہیں کم از کم ایمان کے پابند تو ہوتے ہیں جو کہ اہم عبادت بلکہ اصل عبادت ہے، یہ قول ضحاک اور سفیان وغیرہ کا ہے اور حضرت ابن عباس ؓ کی ایک قرأت آیت مذکورہ میں اس طرح ہے وما خلقت الجن والانس من المومنین الالیعبدون اس قرأت سے بھی اس قول کی تائید ہوتی ہے کہ یہ مضمون صرف مومنین کے حق میں آیا ہے۔
مذکورہ اعتراض کا دوسرا جواب :
مذکورہ اعتراض کا ایک جواب یہ بھی ہے کہ اس آیت میں ارادہ الٰہیہ سے مردا ادارہ تکوینی نہیں ہے جس کے خلاف کا وقوع محال ہوتا ہے، بلکہ ارادہ تشریعی مراد ہے یعنی یہ کہ ہم نے ان کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ ہم انکو عبادت کے لئے مامور کریں، اور امر الٰہی چونکہ انسانی اختیار کے ساتھ مشروط ہوتا ہے، اس کے خلاف کا وقوع محال نہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام بندوں کو عبادت کا حکم دیدیا ہے مگر ساتھ ہی اختیار بھی دیا ہے، اس لئے جس نے خدا داد اختیار کو صحیح استعمال کیا تو وہ عبادت میں لگ گیا اور جس نے غلط استعمال کیا وہ عبادت سے منحر فہو گیا یہ حضرت علی ؓ سے بغوی رحمتہ اللہ تعالیٰ نے قتل کیا ہے۔ (معارف)
مذکورہ اعتراض کا تیسرا جواب :
اس جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن و انس کی تخلیق اس انداز پر کی ہے کہ ان میں استعداد اور صلاحیت عبادت کرنے کی ہو چناچہ ہر جن وانس کی فطرت میں یہ استعداد قدرتی موجود ہے پھر کوئی اس استعداد کو صحیح مصرف میں خرچ کر کے کامیاب ہوتا ہے اور کوئی اس استعداد کو اپنے معاصی اور شہوات میں ضائع کردیا ت ہے اور اس مضمون کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے، آپ نے فرمایا کل مولود یولد علی الفطرۃ فابواہ یھودانہ او یمجسانہ یعنی پیدا ہونے والا ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اس کو اس کی فطرت سے ہٹا کر کوئی یہودی بنا دیتا ہے تو کوئی مجوسی بنا دیتا ہے اور فطرت سے مراد اکثر علماء کے نزدیک دین اسلام ہے اس آیت کا بھی یہی مطلب ہے۔ (مظھری، معارف)
دوسرا اشکال :
دوسرا اشکال یہ ہے کہ اس آیت میں جن وانس کی تخلیق کو صرف عبادت میں منحصر کردیا ہے، حالانکہ انی کی پیدئاش کے علاوہ دوسرے فوائد و مقاصد اور حکمتیں بھی موجود ہیں۔
دوسرے اشکال کا جواب :
دوسرے اشکال کے جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ حصر اضافی ہے حقیقی نہیں، لہٰذا کسی مخلوق کو عبادت کے لئے پیدا کرنا اس سے دیگر فوائد و منافع کی نفی کرتا۔