54. Surah Al-Qamar

القمرThe Moon · 55 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 54:37–42

وَ لَقَدْ رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَیْفِهٖ فَطَمَسْنَاۤ اَعْیُنَهُمْ فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:37 in the Quran reader

اور ان سے ان کے مہمانوں کو لینا چاہا تو ہم نے انکی آنکھیں مٹا دیں سو (اب) میرے عذاب اور ڈرانے کے مزے چکھو

وَ لَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّۚ Open ayah 54:38 in the Quran reader

اور ان پر صبح سویرے ہی اٹل عذاب آ نازل ہوا

فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:39 in the Quran reader

تو (اب) میرے عذاب اور ڈرانے کے مزے چکھو

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ Open ayah 54:40 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے ؟

وَ لَقَدْ جَآءَ اٰلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُۚ Open ayah 54:41 in the Quran reader

اور قوم فرعون کے پاس بھی ڈر سنانے والے آئے

كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كُلِّهَا فَاَخَذْنٰهُمْ اَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ Open ayah 54:42 in the Quran reader

انہوں نے ہماری تمام نشانیوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو اس طرح پکڑ لیا جس طرح ایک قوی اور غالب شخص پکڑ لیتا ہے

ولقد راودہ عن ضیفہ تفصیل تو سورة ہود میں گذر چکی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر عذاب بھیجنے کا فیصلہ فرمایا تو چند فرشتوں کو جن میں جبرئیل ومیکائیل بھی شامل تھے نہایت خوبصورت لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط (علیہ السلام) کے یہاں مہمان کے طور پر بھیج دیا، یہ فرشتے اول حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور ان کو ایک فرزند ارجمند کی خوشخبری دی اس کے بعد حضرت لوط علیہ الصلاۃ و اسلام کے پاس پہنچے، ان کی قوم کے لوگوں نے جب دیکھا کہ ان کے یہاں ایسے خوبصورت مہمان آئے ہیں، وہ ان کے گھر پر چڑھ دوڑے اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ان مہمانوں کو بدکاری اور ذوق خبیث کی تکسین کے لئے ان کے حوالہ کردیں، حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کی بےحد منت و سماجت کی کہ وہ اس ذلیل حرکت سے باز آجائیں، مگر وہ نہ مانے اور گھر میں گھس کر مہمانوں کو زبردستی نکال لینے کی کوشش کی، اس آخری مرحلہ میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے ان کی آنکھوں پر پر مار کر آنکھوں کے ڈھییل باہر کردیئے، اور فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) سے فرمایا کہ وہ اور انکے اہل و عیال صبح ہونے سے پہلے پہلے بستی سے نکل جائیں اور ان کے نکلتے ہی ان پر ایک ہولناک عذاب نازل ہوگیا، یہ واقعہ بائبل میں ان الفاظ میں مذکور ہے۔ بائبل کے الفاظ : ” تب وہ اس مرد یعنی لوط (علیہ السلام) پر پل پڑے اور نزدیک آئے تاکہ کواڑ توڑ ڈالیں لیکن ان مردوں (یعنی فرشتوں) نے اپنے ہاتھ بڑھا کر اپنے پاس گھر میں کھینچ لیا اور دروازہ بند کردیا، اور لوگوں کو جو گھر کے دروازے پر تھے کیا چھوٹے کیا بڑے اندھا کردیا، سو وہ دروازہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک گئے۔ ‘ (پیدائش 11-9-19)
Ayahs 54:43–44

اَكُفَّارُكُمْ خَیْرٌ مِّنْ اُولٰٓئِكُمْ اَمْ لَكُمْ بَرَآءَةٌ فِی الزُّبُرِۚ Open ayah 54:43 in the Quran reader

(اے اہل عرب ! ) کیا تمہارے کافر ان لوگوں سے بہتر ہیں یا تمہارے لئے (پہلی) کتابوں میں کوئی فارغ خطی لکھ دی گئی ہے ؟

اَمْ یَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِیْعٌ مُّنْتَصِرٌ Open ayah 54:44 in the Quran reader

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری جماعت بڑی مضبوط ہے

ترجمہ :۔ اور فرعونیوں یعنی فرعون کی قوم کے پاس مع فرعون کے ڈراوے (ڈرنے کی باتیں) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کی زبانی آئے مگر وہ ایمان نہ لائے بلکہ تمام نو نشانیوں کو جھٹلا دیا جو موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا کی گئی تھیں چناچہ ہم نے ان کو عذبا میں پکڑ لیا قوی اور قادر کے پکڑنے کے مانند کہ اس کو کوئی چیز عاجز نہیں کرسکتی، اے قریشیو ! کیا تمہارے کافر ان کافروں سے جو قوم نوح سے لے کر قوم فرعون تک مذکوروہ ہوئے کچھ بہتر ہیں کہ ان کو عذاب نہ دیا جائے یا تمہارے لئے اے قریش کے کافرو ! کتابوں میں عذاب سے برأت لکھی ہوئی ہے اور استفہار دونوں جگہ بمعنی نفی ہے یعنی ایسی بات نہیں ہے کیا کفار قریش یہ کہتے ہیں کہ ہم محمد پر غالب آنے والی جماعت ہیں اور جبکہ بدر کے دن ابوجہل نے کہا کہ ہم غالب آنے والی جماعت ہیں تو آیت سیھزم الجمع ویولون الذبر نازل ہوئی، عنقریب یہ جماعت شکست خوردہ ہو کر پیٹھ پھیر کر بھاگے گی چناچہ بدر میں ان کو شکست ہوئی اور محمد ﷺ ان پر غالب ہوئے بلکہ قیامت ان سے عذاب کے وعدہ کا وقت ہے اور قیامت یعنی اس کا عذاب بڑی آفت اور دنیا کے عذاب سے سخت ناگوار ہے بلاشبہ مجرمین گمراہی یعنی دنیا میں قتل کے ذریعہ ہلاکت میں ہیں اور بھڑکتی ہوئی آگ میں ہیں مسعرۃ تشدید کے ساتھ ہے یعنی آخرت میں دہکتی ہوئی آگ جس دن کہ ان کو آگ میں منہ کے بل گھسیٹا جائے گا یعنی آخرت میں اور ان سے کہا جائے گا دوزخ کی آگ لگنے کا مزا چکھو تمہارے جہنم میں د ناخل ہونے کی وجہ سے ہم نے ہر چیز کو اندازہ سے پیدا کیا کل شی کا فعل ناصب وہ فعل مقدر ہے جس کی تفسیر خلقنہ کر رہا ہے بقدر کل شیء سے حال ہے، ای قمدراً اور کل کو مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع بھی پڑھا گیا ہے اس کی خبر خلقناہ اور ہارا حکم اس شئی کے لئے جس کے وجود کا ہم ارادہ کرتے ہیں صرف ایک مرتبہ ہوتا ہے سرعت میں پلک جھپکنے کے مانند ہوتا ہے اور وہ حکم کلمہ کن ہے، تو وہ چیز (بلاتوقف) موجودہ ہوجاتی ہے اور اس کا حکم اسی وقت ہوگا جب وہ کسی شئی کے لئے کن کہنے کا ارادہ کرلیتا ہے تو وہ شئی ہوجاتی ہے اور ہم نے امم ماضیہ میں سے کفر میں تمہارے ہم مشرب لوگوں کو ہلاک کردیا پس کوئی ہے نصیحت لینے والا ؟ استفہام بمعنی امر ہے یعنی پندو نصیحت حاصل کرو جو اعمال بھی یہ لوگ کرتے ہیں وہ اعمال ناموں یعنی حفاظت کے فرشتوں کی کتابوں میں لکھے ہوئے ہیں ہر چھوٹا اور بڑا گناہ یا عمل، لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے یقیناً ہمارا ڈر رکھنے والے باغوں اور نہروں (کی فضا) میں ہوں گے نہر سے جنس کا ارادہ کیا گیا ہے اور جمع کے طور پر نون اور ہاء کے ضمہ کے ساتھ (بھی) پڑھا گیا ہے، جیسا کہ اسد اور اسد میں، معنی یہ ہیں کہ وہ پانی اور دودھ اور شہد اور شراب کے نہروں سے پئیں گے ایک عمدہ مقام یعنی مجلس حق میں ہوں گے نہ وہاں لغویات ہوں گی اور نہ گناہ کی باتیں اور صمقعد) سے جنس کا ارادہ کیا گیا ہے اور مقاعد بھی پڑھا گیا ہے معنی یہ ہیں کہ وہ جنت میں ایسی مجلسوں میں ہوں گے جو لغویات اور گناہوں کی باتوں سے محفوظ ہوں گی، بخلاف دنیا کی مجلسوں کے کہ (دنیا کی مجلسیں) ان باتوں سے بہت کم خالی ہوتی ہیں اور (مقعد صدق) کو (ان) خبر ثانی کے طور پر بھی اعراب دیا گیا ہے اور (جنت) سے بدل کر طور پر بھی اور وہ بدل البعض وغیرہ پر صادق آتا ہے قدرت والے بادشاہ کے پاس یعنی عند ملیک مثال بطور مبالغہ ہے (حقیقتاً عندیت مراد نہیں ہے) یعنی وہ غالب و سعت والا بادشاہ ایسا قادر ہے کہ کوئی شئی اس کو عاجز نہیں کرسکتی اور وہ اللہ تعالیٰ ہے عند سے قربت رتبی کی رف اشارہ ہے اور قدرت (قربۃ) اللہ کے فضل سے ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : الاندار مفسر علام نے نذر کی تفسیر الانذر سے کر کے اشارہ کردیا کہ نذر مصدر ہے بمعنی ڈراوا، ڈرانے والی نشانیاں، یہاں نذر کی جمع بھی ہوسکتی ہے، ڈرانے والے صالآیات التسع) (1) اعلصاء (2) الید البیضاء (3) والسنین (4) الطمس (5) الطوفان (6) الجراد (ٹڈی) (7) ( ْ 3 ﷺ (8) الضفادع (مینڈک) (9) الدم قولہ : خیر من اولئکم یعنی اے قریش کیا تمہارے کافر سابقہ قوموں کے کافروں سے قوت و شدت میں بڑھے ہوئے ہیں، ظاہر ہے کہ نہیں۔ قولہ : ادھی یہ داھیۃ سے اسم تفضیل ہے بمعنی بڑی آفت جس سے خلاصی ممکن نہ ہو۔ قولہ : امر سخت تر، تلخ تر قولہ : سعر ای نار مسعرۃ دہکتی ہوئی آگ۔ قولہ : یوم یسحبون یوم فعل مقدر کا ظرف ہے تقدیر عبارت یہ ہے ویقال لھم یوم الخ نیز سعر کا بھی ظرف ہوسکتا ہے۔ قولہ : انا کل شیء منصوب بفعل الخ کل کے نصب کے ساتھ ما اضمر کے قاعدہ سے جمہور کی قرأت ہے اور یہی راجح ہے اس لئے کہ کل کا رفع اعتقاد فاسد کی طرف موہم ہے، اس طریقہ پر کہ کل کو مبتداء قرار دیں، اور خلقناہ جملہ ہو کر شیء کی صفت ہو اور بقدر اس کی خبر اب اس کا ترجمہ ہوگا ہر وہ چیز جس کو اللہ نے پیدا کیا ہے اندازہ سے ہے، اس سے وہم ہوتا ہے کہ بعض چیزیں ایسی بھی ہیں جو اللہ کی مخلوق نہیں ہیں، حالانکہ اہل سنت والجماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ ہر شئی اللہ کی مخلوق ہے اور اندازہ سے ہے نصب کی صورت میں ترجمہ یہ ہوگا، ہم نے ہر چیز ایک تقدیر (منصوبہ) کے ساتھ پیدا کی ہے۔ خلاصہ کلام : انا کل شیء خلقنہ بقدر، کل میں دو احتمال ہیں رفع اور نصب، پھر رفع کی صورت میں دو احتمال ہیں ایک صحیح اور دوسرا فائد، خلقناہ کو کل کی خبر بنایا جائے تو یہ صورت صحیح ہوگی، معنی یہ ہوں گے کہ ہر شئی ہم نے اندازہ سے پیدا کی ہے، یہی اہل سنت والجماعت کا مسلک ہے، لیکن رفع کی صورت میں ایک دوسرا احتمال بھی ہے جو کہ فاسد ہے اور وہ یہ ہے کہ خلقناہ شیء کی صفت ہو اور بقدر کل کی خبر ہو تو یہ معنی اہل سنت کے نزدیک فاسد ہیں اس کا مطلب ہوگا ہر وہ چیز جو ہم نے پیدا کی ہے وہ اندازہ سے ہے، اس سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ بعض چیزیں ایسی بھی ہیں جو غیر اللہ کی پیدا کردہ ہیں، اور وہ ادنازہ سے نہیں ہیں، یہ مذہب معتزلہ کا ہ، بخلاف کل پر نصب پڑھنے کے کہ اس میں فاسد معنی کا احتمال نہیں ہے اور نصب کی صورت یہ ہوگی کہ کل فعل محذوف کا مفعول ہوگا جس کی تفسیر بعد والا فعل (خلقناہ) کر رہا ہے اس کو باب اشغال اور ماضمر عاملہ علی شریطۃ التفسیر کا قاعدہ کہتے ہیں بقدر، بتقدیر کے معنی میں ہے اور فعل سے متعلق ہے، اس صورت میں خلقناہ کو کل شیء کی صفت بنانے کا احتمال نہیں ہے کہ فساد معنی کا وہم ہو اس لئے کہ صفت، موصوف میں عامل نہیں ہوا کرتی اور جو عامل نہ ہو وہ عامل کی تفسیر بھی نہیں کرسکتی۔ (اعراب القرآن، للدرویش) قولہ : وکل شی فعلوہ فی الزبریہاں سابق کے برخلاف کل پر رفع متعین ہے اس لئے کہ نصب کی صورت میں معنی کا فساد ظاہر ہے، اس لئے کہ اگر کل پر نصب پڑھا جائے تو تقدیر عبارت یہ ہوگی فعلوا کل شیء فی الزبر انہوں نے ہر شئی کہ لوح محفوظ میں داخل کیا ہے، حالانکہ لوح محفوظ میں داخل کرنے کا کام اللہ کا ہے نہ کہ مخلوق کا اس کے علاوہ عاملین کے افعال کے علاوہ لوح محفوظ میں اور بہت سی چیزیں ہیں کا جن عا ملین سے کوئی تعلق نہیں ہے اور رفع کی قرأت کی صورت میں طملب یہ ہوگا کہ جو عمل بھی وہ کرتے ہیں وہ لوح محفوظ میں محفوظ ہے۔ قولہ : اریدبہ الجنس، نھر اگرچہ واحد ہے مگر جنت چونکہ جمع ہے لہٰذا اس کی مناسبت سے جنس مراد ہے تاکہ اس میں جمع کے معنی کا لحاظ ہوجائے فواصل کی رعایت کے لئے مفرد لایا گیا ہے اور بعض قراءتوں میں نھر جمع کے صیغہ کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ قولہ : فی مقعد صدق ای مقام حسن میں موصوف کی اضافت صفت کی طرف ہے فی مقعد صدق میں دو ترکیبیں ہوسکتی ہیں اول یہ کہ ان کی خبر ثانی ہوا اور فی جنتا خبر اول ہ، دوسری یہ کہ جنتا سے بدل البعض ہو اس لئے کہ مقعد صدق جنات کا بعض ہے۔ قولہ : وغیرہ یہ اشارہ کہ فی مقعد صدق بدل الاشتمال بھی ہوسکتا ہے اس لئے کہ جنتا، مقعد صدق پر مشتمل ہے۔ قولہ : عند ملیک اگر مقعد صدق کو بدل قرار دیا جائے تو عند ملیک ان کی خبر ثانی ہوگی اور اگر مقعد صدق کو ان کی خبر ثانی قرار دیا جائے تو عند ملیک خبر ثالث ہوگی۔ قولہ : عند اشارۃ الی الرتبۃ عند ملیک میں عندیۃ بطور مبالغہ تقرب فی المرتبۃ کی تمثیل ہے اور عند سے قرب رتبی کو بیان کرنا مقصود ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ سے قرب مکانی مقصود نہیں ہے چونکہ وہ جسم سے منزہ اور پاک ہے اور قرب و بعد مکانی جسم و جسمیات کا خاصہ ہے۔ تفسیر و تشریح اکفار کم خیر من اولئکم (الآیۃ) یہ مشرکین قریش سے خطاب ہے، مطلب یہ ہے کہ آخر تم میں کیا خوبی ہے یا تم میں کونسے سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں یا تمہارے لعل لٹکے ہوئے ہیں کہ جس کفر و تکذیب اور ہٹ دھرمی کی روش پر دوسری قوموں کو سزا جا چکی ہے وہی روش تم اختیار کرو تو تمویں سزا نہ دی جائے ؟ اور یہ کہ طاقت و قوت نیز دولت و ثروت میں بھی تم ان سے بڑھے ہوئے نہیں ہو بلکہ ان سے بدرجہا کمزور و ناتواں ہو جب ہم نے ان کو ان جرائم کی پاداش میں ہلاک کردیا تو تمہاری کیا حقیقت و حیثیت اور تمہارا وجود ” چہ پدی چہ پدی کا شوربا “ تم بلاوجہ اپنے منہ میاں مٹھو بنے ہوئے ہو۔ یا آسمانی کتابوں میں تمہارے لئے کوئی معافی نامہ لکھا ہوا ہے کہ تم جو چاہو کرتے رہو تم سے کوئی مواخذہ نہ ہوگا اور نہ تم پر کوئی غالب آسکتا ہے۔ یا ان کا کہنا یہ ہے کہ تعداد کی کثرت اور وسائل کی قوت کی وجہ سے کسی اور کا ہم پر غالب آنے کا امکان نہیں ہے یا مطلب یہ ہے کہ ہمارا معاملہ مجتمع ہے اور ہم جتھا بند ہیں ہم دشمن سے انتقام لینے پر قادر ہیں۔
Ayah 54:45

سَیُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ یُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ Open ayah 54:45 in the Quran reader

عنقریب یہ جماعت شکست کھائے گی اور یہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے

ایک پیشنگوئی : سیھزم الجمع ویولون الدبر اللہ تبارک و تعالیٰ نے مشرکین مکہ کے زعم باطل کی تردید فرمائی ہے، یہ صریح پیشنگوئی ہے جو ہجرت سے پانچ سال پہلے کردی گئی تھی کہ قریش کی جمعیت جس کی طاقت کا انہیں بڑا زعم تھا، عنقریب مسلمانوں سے شکست کھاجائے گی، اس وقت کوئی شخص یہ تصور تک نہیں کرسکتا کہ مستقبل قریب میں یہ انقلاب کیسے ہوگا ؟ مسلمانوں کی بےبسی کا یہ حال تھا کہ ان میں سے ایک گروہ ملک چھوڑ کر حبش میں پناہ لینے پر مجبور ہوگیا تھا اور باقی ماندہ اہل ایمان شعب ابی طالب میں محصور تھے جنہیں قریش کے مقاطعہ اور محاصرہ نے بھوکوں مار دیا تھا، اس حالت میں کون یہ سمجھ سکتا تھا کہ سات ہی برس کے اندر نقشہ بدل جائے گا ؟ حضرت عبداللہ بن عباس کے شاگرد عکرمہ کی روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ فرماتے تھے کہ جب سورة قمر کی یہ آیت نازل ہوئی تو میں حیران تھا کہ آخر یہ کونسی جمعیت ہے جو شکست کھاجائے گی، مگر جب جنگ بدر میں کفار شکست کھا کر بھگا رہے تھے اس وقت میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ زرہ پہنے ہوئے آگے کی طرف جھپٹ رہے ہیں اور آپ کی زبان مبارک پر یہ الفاظ جاری ہیں سیھزم الجمع ویولون الدبر جب میری سمجھ میں ایٓا کہ یہ تھی وہ ہیزیمت جس کی خبر دی گئی تھی۔ (ابن جریر، ابن ابی حاتم)
Ayahs 54:46–48

بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَ السَّاعَةُ اَدْهٰى وَ اَمَرُّ Open ayah 54:46 in the Quran reader

ان کے وعدے کا وقت تو قیامت ہے اور قیامت بڑی سخت اور بہت تلخ ہے

اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍۘ Open ayah 54:47 in the Quran reader

بیشک گناہگار لوگ گمراہی اور دیوانگی میں (مبتلا) ہیں

یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ١ؕ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ Open ayah 54:48 in the Quran reader

اس روز منہ کے بل دوزخ میں گھسیٹے جائیں گے (اب) آگ کا مزہ چکھو

بل الساعۃ موعدھم والساعۃ ادھی وامر مطلب یہ ہے کہ دنیا میں غزوہ بدر کے موقع پر جو مشرکین مکہ کو سزا ملی قتل کئے گئے اور قیدی بنائے گئے یہ ان کی آخری سزا نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت سزائیں ان کو قیامت والے دن دی جائیں گی جن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔
Ayah 54:49

اِنَّا كُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ Open ayah 54:49 in the Quran reader

ہم نے ہر چیز اندازہ مقرر کے ساتھ پیدا کی ہے

مسئلہ تقدیر :۔ انا کل شیء خلقناہ بقر ائمہ اہل سنت نے اس آیت اور اسی جیسی دیگر آیات سے استدلال کرتے ہوئے تقدیر الٰہی کا اثبات کیا ہے جس کا فرقہ قدر یہ انکار کرتا ہے، مطلب یہ ہے کہ دنیا کی کوئی چیز الل ٹپ نہیں پیدا کردی گئی ہے، بلکہ ہر چیز کی ایک تقدیر اور منصوبہ بندی ہے جس کے مطابق وہ ایک مقرر وقت پر بنتی ہے اور خاص شکل و صورت اختیار کرتی ہے ایک خاص مدت تک نشو و نما پاتی ہے ا ایک خاص مدت تک باقی رہتی ہے اور ایک خاص وقت پر ختم ہوجاتی ہے، اسی عالمگیر ضابطہ کے مطابق خود اس دنیا کی بھی ایک تقدیر ہے جس کے مطابق ایک وقت خاص تک یہ چل رہی ہے اور ایک وقت خاص پر اسے ختم ہونا ہے۔
Ayah 54:50

وَ مَاۤ اَمْرُنَاۤ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۭ بِالْبَصَرِ Open ayah 54:50 in the Quran reader

اور ہمارا حکم تو آنکھ کے جھپکنے کی طرح ایک بات ہوتی ہے

وما امرنا الا واحدۃ (الآیۃ) یعنی قیامت برپا کرن کے لئے ہمیں کوئی بڑی تیاری نہیں کرنی ہوگی اور نہ اسے لانے میں کوئی بڑی مدت صرف ہوگی، ہماری طر سے ایک حکم صادر ہونے کی دیر ہے، حکم صادر ہوتے ہی پلک جھپکتے قیامت برپا ہوجائے گی۔
Ayah 54:51

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَاۤ اَشْیَاعَكُمْ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:51 in the Quran reader

اور ہم تمہارے ہم مذہبوں کو ہلاک کرچکے ہیں تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے ؟

ولقد اھلکنا اشیا عکم فھل من مد کر یعنی اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ کسی خدائے حکیم و عادل کی خدائی نہیں بلکہ کسی اندھے راجا کی چوپٹ نگری ہے جس میں آدمی جو کچھ چاہے کرتا پھرے، کوئی اس سے باز پرس کرنے والا نہیں تو تمہاری آنکھ کھولنے کے لئے انسانی تاریخ موجود ہے جس میں اس روش پر چنلے والی قومیں پے در پے تباہ کی جاتی رہی ہیں۔
Ayahs 54:52–55

وَ كُلُّ شَیْءٍ فَعَلُوْهُ فِی الزُّبُرِ Open ayah 54:52 in the Quran reader

اور جو کچھ انہوں نے کیا (انکے) اعمال ناموں میں (مندرج) ہے

وَ كُلُّ صَغِیْرٍ وَّ كَبِیْرٍ مُّسْتَطَرٌ Open ayah 54:53 in the Quran reader

(یعنی) ہر چھوٹا اور بڑا کام لکھ دیا گیا ہے

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَهَرٍۙ Open ayah 54:54 in the Quran reader

جو پرہیزگار ہیں وہ باغوں اور نہروں میں ہوں گے

فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیْكٍ مُّقْتَدِرٍ۠ Open ayah 54:55 in the Quran reader

(یعنی) پاک مقام میں ہر طرح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بارگاہ میں

وکل شیء فعلوہ فی الزبر (الآیۃ) یعنی یہ لوگ اس غلط فہمی میں بھی نہ رہیں کہ ان کے کئے ہوئے کالے کرتوت غائب اور مفقود ہوگئے ہیں، نہیں، ہر شخص، ہر گوہ اور ہر قوم کا پورا پورا ریکارڈ محفوظ ہے اور اپنے وقت پر وہ سامنے آجائے گا۔