56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 56:39–56

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 56:39 in the Quran reader

(یہ) بہت سے تو اگلے لوگوں میں سے ہیں

وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ Open ayah 56:40 in the Quran reader

اور بہت سے پچھلوں میں سے

وَ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الشِّمَالِؕ Open ayah 56:41 in the Quran reader

اور بائیں ہاتھ والے (افسوس) بائیں ہاتھ والے کیا (ہی عذاب میں) ہیں

فِیْ سَمُوْمٍ وَّ حَمِیْمٍۙ Open ayah 56:42 in the Quran reader

(یعنی دوزخ کی) لپٹ اور کھولتے ہوئے پانی میں

وَّ ظِلٍّ مِّنْ یَّحْمُوْمٍۙ Open ayah 56:43 in the Quran reader

اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں

لَّا بَارِدٍ وَّ لَا كَرِیْمٍ Open ayah 56:44 in the Quran reader

(جو) نہ ٹھنڈا (ہے) اور نہ خوشنما

اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُتْرَفِیْنَۚۖ Open ayah 56:45 in the Quran reader

یہ لوگ اس سے پہلے عیش نعیم میں پڑے ہوئے تھے

وَ كَانُوْا یُصِرُّوْنَ عَلَى الْحِنْثِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 56:46 in the Quran reader

اور گناہ عظیم پر اڑے ہوئے تھے

وَ كَانُوْا یَقُوْلُوْنَ١ۙ۬ اَئِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 56:47 in the Quran reader

اور کہا کرتے تھے کہ بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے اور ہڈیاں (ہی ہڈیاں رہ گئے) تو کیا ہمیں پھر اٹھنا ہوگا

اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 56:48 in the Quran reader

اور کیا ہمارے باپ دادا کو بھی ؟

قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِیْنَ وَ الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 56:49 in the Quran reader

کہہ دو کہ بیشک پہلے اور پچھلے

لَمَجْمُوْعُوْنَ١ۙ۬ اِلٰى مِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ Open ayah 56:50 in the Quran reader

(سب) ایک روز مقرر کے وقت پر جمع کئے جائیں گے

ثُمَّ اِنَّكُمْ اَیُّهَا الضَّآلُّوْنَ الْمُكَذِّبُوْنَۙ Open ayah 56:51 in the Quran reader

پھر تم اے جھٹلانے والے گمراہو !

لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍۙ Open ayah 56:52 in the Quran reader

تھوہر کے درخت کھاؤ گے

فَمَالِئُوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَۚ Open ayah 56:53 in the Quran reader

پھر اسی سے پیٹ بھرو گے

فَشٰرِبُوْنَ عَلَیْهِ مِنَ الْحَمِیْمِۚ Open ayah 56:54 in the Quran reader

پھر اس پر کھولتا ہوا پانی پیو گے

فَشٰرِبُوْنَ شُرْبَ الْهِیْمِؕ Open ayah 56:55 in the Quran reader

اور پیو گے بھی تو اس طرح جیسے پیاسے اونٹ پیتے ہیں

هٰذَا نُزُلُهُمْ یَوْمَ الدِّیْنِؕ Open ayah 56:56 in the Quran reader

جزا کے دن یہ ان کی ضیافت ہوگی

ترجمہ : ایک بڑی جماعت اولین میں سے ہوگی اور ایک بڑی جماعت آخرین میں سے ہوگی اور اصحاب الشمال کیا ہی برے ہیں یعنی بائیں ہاتھ والے یہ لوگ آگ کی گرم ہوا (لو) میں ہوں گے جو مسامات میں نفوذ کر جائے گی اور کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے جو نہایت ہی گرم ہوگا اور سیاہ دھوئیں کے سایہ میں ہوں گے یحموم وہ دھواں جو نہایت سیاہ ہو، جو نہ ٹھنڈا ہوگا جیسا کہ دیگر سائے ٹھنڈے ہوتے ہیں اور نہ فرحت بخش یعنی خوش منظر یہ لوگ اس سے پہلے دنیا میں بڑی خوشحالی میں رہتے تھے طاعت کے لئے مشقت نہیں اٹھاتے تھے بڑے بھاری گناہ پر اصرار کرتے تھے یعنی شرک پر اور یوں کہا کرتے تھے کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں رہ جائیں گے تو کیا ہم دوبارہ زندہ کئے جائیں گے ؟ (او) وائو مفتوح کے ساتھ عطف کے لئے ہے اور ہمزہ استفہام کے لئے ہے اور یہ استفہام یہاں اور اس سے پہلے استبعاد کے لئے ہے اور ایک قرأت میں وائو کے سکون کے ساتھ ہے عطف کے طور پر اور معطوف علیہ ان اور اس کے اسم کا محل ہے آپ کہہ دیجیے اگلے پچھلے سب جمع کئے جائیں گے ایک معین وقت پر یعنی قیامت کے دن پھر تم کو اے گمراہو ! جھٹلانے والو ! تھوہڑ کے درخت سے کھانا ہوگا (من زقوم) شجر کا بیان ہے پھر اس سے پیٹ بھرنا ہوگا پھر اس پر یعنی زقوم کے کھانے کے بعد کھولتا ہوا پانی پینا ہوگا اور پھر پینا بھی پیاسے اونٹوں کے مانند شرب شین کے ضمہ اور فتحہ کے ساتھ مصدر ہے الھیم پیاسے اونٹ کو کہتے ہیں، یہ ھیمان کی جمع ہے ھیمی اس کی مئونث ہے پیاسی اونٹنی، جیسے عطشان و عطشی (غرض یہ کہ) یہ ان کی ضیافت ہوگی جو ان کے لئے قیامت میں تیار کی گئی ہے ہم نے تم کو پیدا کیا یعنی عدم سے وجود میں لائے پھر تم کس لئے بعث بعد الموت کی صموت کے بعد زندہ ہونے کی) تصدیق نہیں کرتے ؟ اس لئے کہ جو ذات ابتداء پیدا کرنے پر قادر ہے وہ اعادہ پر بھی قادر ہے کیا تم نے کبھی اس بات پر غور کیا کہ منی کا جو نطفہ تم عورتوں کے رحم میں پہنچاتے ہو کیا تم اس منی کو انسان بناتے ہو ؟ (انتم) میں دونوں ہمزوں کی تحقیق اور دوسرے کو الف سے بدل کر اور اس کی تسہیل کے ساتھ اور مسہلہ اور دوسرے ہمزہ کے درمیان الف داخل کر کے اور ترک ادخال کر کے چاروں جگہ پر اور ہم نے تم میں سے ہر ایک کی موت کا وقت مقرر کیا ہے (قدرنا) میں دال کی تشدید اور تخفیف کے ساتھ اور ہم اس سے عاجز نہیں ہیں کہ ہم تمہاری جگہ تمہارے جیسے پیدا کردیں اور تمہاری ایسی صورت بنادیں کہ تم جانتے بھی نہیں ہو جیسا کہ بندر اور خنزیر اور تم کو اول پیدائش کا علم ہے اور ایک قرأت میں (نشاۃ) میں شین کے سکون کے ساتھ ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے ؟ (تذکرون) میں تائے ثانیہ کا اصل میں ذال میں ادغام ہے کیا تم نے کبھی اس بات پر غور کیا ؟ جو تم کاشت کرتے ہو (یعنی) زمین کو جو تتے ہو اور اس میں تخم ریزی کرتے ہو کیا اس کو تم اگاتے ہو ؟ یا اس کو ہم اگاتے ہیں ؟ اگر ہم چاہیں تو اس (پیداوار) کو چورہ چورہ کردیں یعنی خشک گھاس کردیں کہ اس میں ایک بھی دانہ نہ ہو تو تم دن بھر تعجب کرتے رہ جائو (ظلتم) کی اصل ظلتم لام کے کسرہ کے ساتھ ہے لام کو تخفیفاً حذف کردیا گیا ہے، یعنی تم دن بھر حیرت زدہ رہ جائو (تفکھون) میں اصل میں ایک تاء حذف کردی گئی ہے یعنی تم اس سے تعجب میں رہ جائو اور کہنے لگو ہم پر تو کھیتی کی لاگت کا بھی تاوان پڑگیا، بلکہ ہم تو رزق سے بالکل ہی محروم ہوگئے یا تم نے کبھی اس پانی میں غور کیا ؟ جس کو تم پیتے ہو کیا اس کو بادل سے تم برساتے ہو یا ہم برساتے ہیں ؟ (مزن) مزنۃ کی جمع ہے بمعنی بادل اگر ہم چاہیں تو اس کو نمکین کردیں کہ اس کا پینا ہی ممکن نہ رہے تو تم شکر کیوں نہیں کرتے ؟ کیا تم نے کبھی اس آگ پر غور کیا جس کو تم روشن کرتے ہو ؟ (یعنی) سبز درخت سے نکالتے ہو کیا تم نے اس درخت کو پیدا کیا ؟ جیسا کہ مرخ، عفار اور کلخ، یا ہم پیدا کرنے والے ہیں ہم نے اس کو یعنی ان درختوں کو نار جہنم کے لئے یاد دہانی کی چیز اور مسافروں کے لئے کامل فائدہ کی چیز بنایا ہے (مقوینض اقوی القوم سے ماخوذ ہے یعنی چٹیل میدان میں پہنچ گئے (القوی) قاف کے کسرہ اور ریاء کے مد کیساتھ یعنی قفر (چٹیل میدان) ایسا جنگل کہ جس میں آب وگیاہ کچھ نہ ہو سو اپنے عظیم ال شان رب کی یعنی اللہ کی با کی بیان کیجیے اسم کا لفظ زائد ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : ھم ثلۃ من الاولین الخ یہ ھم مبتداء محذوف کی خبر ہے جیسا کہ مفسر علام نے اشارہ کردیا ہے۔ قولہ : مسموم، لو، تیز بھاپ، وہ گرم ہوا جو زہر کے مانند اثر کرے، مئونث سماعی ہے (ج) سمائم، سموم کو سموم اس لئے کہتے ہیں کہ وہ جسم کے مسامات میں داخل ہوجاتی ہے اسی سے السم بمعنی زہر ماخوذ ہے، اس لئے کہ زہر بھی مسامات میں داخل ہو کر ہلاک کردیتا ہے۔ قولہ : انھم کانو قبل ذلک مترفین یہ جملہ ماقبل کی علت ہونے کی وجہ سے تعلیلیہ ہے، یعنی اصحاب شمال مذکورہ عذاب کے مستحق اس لئے ہوں گے کہ وہ اپنی خوشحالی میں مگن اور مست ہونے کے ساتھ ساتھ شرک و کفر پر جو کہ سب سے بڑا گناہ ہے مصر تھے اور بعث بعد الموت کے منکر۔ قولہ : ادخال الف بینھما علی الوجھین مفسر علام کے لئے مناسب تھا کہ وتر کہ کا اضافہ فرماتے تاکہ چار قراءتیں ہوجاتیں، مفسر علام کی عبارت سے صرف دو قراءتیں مفہوم ہوتی ہیں۔ قولہ : والمعطوف علیہ محل ان واسمھا ان واسمھا میں وائو بمعین مع ہے یعنی ابائونا الاولون کا طعف ان کے محل پر ہے مع اس کے اسم کے اسی وجہ سے آبائونا الاولون مرفوع ہے، یہ اس صورت میں ہے جبکہ معطوف کو انا کی خبر لمبعوثون پر مقدم مانا جائے تقدیر عبارت یہ ہوا النا وابائونا لمبعوثون ورنہ تو عط لمبعوثون کی ضمیر مرضوع مستتر یر ہوگا۔ سوال : ضمیر مرفوع مستتر متصل پر عطف کے لئے ضروری ہے کہ ضمیر مرفوع منفصل کے ذریعہ تاکید لائی جائے جو یہاں موجود نہیں ہے، تقدیر عبارت لمبعوثون نحن ہونی چاہیے۔ جواب :۔ ضمیر منفعل کے ذریعہ تاکید اس وقت ضروری ہے جب معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان فصل نہ ہو ورنہ تو ضروری نہیں ہے، یہاں او آبائونا میں ہمزہ استفہام کا فصل موجود یہ۔ قولہ : لوقت ای فی وقت میقات بمعنی وقت ہے اور لام بمعنی فی ہے۔ سوال : لمجموعون کا صلہ فی آتا ہے نہ کہ الیٰ حالانکہ یہاں الیٰ لایا یا ہے۔ جواب :۔ لمجموعون لمسوقون کے معنی کو متضمن ہونے کی وجہ سے اس کا صلہ الیٰ لایا گیا ہے۔ قولہ : مالئون منھا، منھا کی ضمیر شجر کی طرف لوٹ رہی ہے اسم جنس ہونے کی وجہ سے سے اس لئے کہ اسم جنس میں مذکر اور مئونث دونوں کی گنجائش ہوتی ہے۔ ( ٖحم) قولہ : الھیم شدید پیاسے اونٹ کو کہتے ہیں، ھیام مرض استقاء جس میں پیاس زیادہ لگتی ہے پانی پینے سے سیرابی نہیں ہوتی، اس مرض کو جلندھر بھی کہتے ہیں، مفسر علام کے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہیم ہیمان مذکر اور ہیمی مئوث دونوں کی جمع ہے، مفسر علام کا ھیم کو ھیمان کی جمع لکھنا سبقت قلم ہے، درست یہ ہے کہ اھیم کی جمع ہے، اس لئے کہ ھیم اصل میں ھیم تھا، ضمہ ہاء کے ساتھ ہے بروزن حمر ہاء کے ضمہ کو یاء کی موافقت کے لئے کسرہ سے بدل دیا اور فعل افعل کی جمع ہے جیسے حمر احمر کی جمع ہے۔ قولہ : لونشاء جعلنا اجاجاً سوال : لو کے جواب میں لام لام ضروری ہوتا ہے لہٰذا لجعلناہ ہونا چاہیے، لام تاکید کو کس مصلحت کے لئے حذف کیا گیا ؟ جواب : یہاں لام تاکید کی حاجت نہیں ہے اس لئے کہ بادلوں کی ملکیت اور ان کے پانی کو کھارا بنانا یہ کسی بشر کی قدرت میں نہیں ہے یہ کام تو مالک الکل اللہ رب العالمین ہی کا ہے، بخلاف کھیتی اور زمین کے، اس میں ملک کا شائبہ ہے اسی وجہ سے سابق میں لونشاء لجعلناہ خطاماً میں لام تاکید لایا گیا ہے۔ تفسیر و تشریح ثلۃ من اولین وثلۃ من الاخرین، ثلۃ بڑی جماعت کو کہتے ہیں، اولین و آخرین کی تفسیر میں حضرات مفسرین کے دو قول اوپر سابقون کے بیان میں بیان ہوچکے ہیں، اگر اولین سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر آپ ﷺ کی بعثت تک کے لوگ مراد ہوں اور آخرین سے آپ ﷺ کی امت تا قیامت مراد ہوجی اس کہ بعض مفسرین نے فرمایا ہے تو اس آیت کا حاصل یہ ہوگا کہ اصحاب الیمیمن یعنی مومنین متقین کی تعداد پچھلی امتوں کے مجموعہ میں ایک بڑی جماعت ہوگی اور تنہا امت محمدیہ میں ایک بڑی جماعت ہوگی، اس صورت میں اول تو امت محمدیہ کی فضیلت کے لئے یہ بھی کچھ کم نہیں کہ پچھلے لاکھوں انبیاء (علیہم السلام) کی امتوں کی برابر یہ امت ہوجائے جس کا زمانہ بہت مختصر ہے، اس کے علاوہ لفظ ثلۃ میں اس کی بھی گنجائش ہے، یہ ثلۃ آخرین تعداد میں اولین سے بڑھ جائیں۔ اور اگر دوسری تفسیر مراد لی جائے کہ اولین و آخرین دونوں اسی امت کے مراد ہیں، جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ سے بغوی نے اور ابن مردویہ نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ھما من امتی یعنی یہ اولین و آخرین میری امت ہی کے دو بقے ہیں، اس معنی کے لحاظ سے ثابت ہوتا ہے کہ سابقین اولین صحابہ و تابیعن وغیرہ جیسے حضرات سے بھی یہ امت آخر تک محروم نہ ہوگی اگرچہ آخری دور میں ایسے لوگ بہت کم ہوں گے اور مومنین و متقین اولیا اللہ تو اس پوری امت کے اول و آخر میں بھاری تعداد میں رہیں گے، اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو صحیح بخاری و مسلم میں حضرت معاویہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی اور ہزاروں مخالفوں کے نرغے میں بھی وہ اپنا رشد و ہدایت کا کام کرتی رہے گی، اس کو کسی کی مخالفت نقصان نہ پہنچا سکے گی، حتی کہ یہ جماعت تا قیامت اپنے کام میں لگی رہے گی۔ (معارف القرآن)
Ayahs 56:57–59

نَحْنُ خَلَقْنٰكُمْ فَلَوْ لَا تُصَدِّقُوْنَ Open ayah 56:57 in the Quran reader

ہم نے تم کو (پہلی بار بھی تو) پیدا کیا ہے، تو تم (دوبارہ اٹھنے کو) کیوں سچ نہیں سمجھتے ؟

اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تُمْنُوْنَؕ Open ayah 56:58 in the Quran reader

دیکھو تو کہ جس (نطفے) کو تم (عورتوں کے رحم میں) ڈالتے ہو

ءَاَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَهٗۤ اَمْ نَحْنُ الْخٰلِقُوْنَ Open ayah 56:59 in the Quran reader

کیا تم اس (سے انسان) کو بناتے ہو یا ہم بناتے ہیں ؟

نحن خلقنکم فلولا تصدقون الخ شروع سورت سے یہاں تک محشر میں انسانوں کی تین قسموں کا ذکر تھا، مذکورۃ الصدر آیات میں ان گمراہ لوگوں کو تنبیہ ہے جو سرے سے قیامت قائم ہونے اور دوبارہ زندہ ہونے کے قائل نہیں اور اس کی توحید کے قائل ہونے کے بجائے مختلف مظاہر قدرت کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ مذکورہ مختصر فقرے میں ایک بڑا اہم سوال انسان کے سامنے پیش کیا گیا ہے دنیا کی تمام چیزوں کو چھوڑ کر انسان صرف اسی ایک بات پر غور کرے کہ وہ خود کس طرح پیدا ہوا ہے، تو اسے نہ قرآن کی تعلیم توحید میں کوئی شک رہ سکتا ہے نہ اس کی تعلیم آخرت میں، انسان آخر اسی طرح تو پیدا ہوتا ہے کہ مرد اپنا نطفہ عورت کے رحم تک پہنچا دیتا ہے مگر کیا اس نطفہ میں بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت خود بخود پیدا ہوگئی ہے ؟ یا انسان نے خود پیدا کی ہے یا خدا کے سوا کسی اور نے پیدا کردی ہے ؟ پھر استقرار حمل سے وضع حمل تک ماں کے پیٹ میں بچے کی درجہ بدرجہ تخلیق و پرورش اور ہر بچہ کی الگ الگ صورت گری اور ہر بچہ کے اندر مختلف ذہنی صلاحیتوں اور جسمانی قوتوں کو ایک خاص تناسب کے ساتھ رکھنا جس سے وہ ایک خاص شخصیت کا انسان بن کر اٹھے کیا یہ سب کچھ ایک خدا کے سوا کسی اور کا کام ہے ؟ اگر کوئی شخص ضد اور ہٹ دھرمی میں مبتلا نہ ہو تو وہ خود محسوس کرے گا کہ شرک یا دہریت کی بنیاد پر ان سوالات کا کوئی معقول جواب نہیں دیا جاسکتا۔ ظاہر بیں نظریں ظاہری اسباب میں الجھ کر رہ جاتی ہیں اور تخلیق کائنات کو ان ہی اسباب کی طرف منسوب کرنے لگتی ہیں، اصل قدرت اور حقیقی قوت فاعلہ جو ان اسباب و مسببات کو گردش دینے والی ہے اس کی طرف التفاق نہیں کرتی۔
Ayah 56:60

نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْنَكُمُ الْمَوْتَ وَ مَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَۙ Open ayah 56:60 in the Quran reader

ہم نے تم میں مرنا ٹھہرا دیا ہے اور ہم اس بات سے عاجز نہیں ہیں

نحن قدرنا بینکم الموت وما نحن بمسبوقین یعنی جس طرح ہم انسانی زندگی کے خلاق اور مالک ہیں اس میں ہمارا نہ کوئی شریک ہے اور نہ مددگار، اسی طرح ہم ہر متنفس کی موت کے بھی تنہا مالک ہیں اور ہر شخص کی موت کا وقت مقرر کردیا ہے جس سے کوئی تجاوز نہیں کرسکتا چناچہ کوئی رحم مادر میں تو کوئی بچپن میں تو کوئی جوانی میں تو کوئی بڑھاپے میں فوت ہوتا ہے۔
Ayah 56:61

عَلٰۤى اَنْ نُّبَدِّلَ اَمْثَالَكُمْ وَ نُنْشِئَكُمْ فِیْ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 56:61 in the Quran reader

کہ تمہاری طرح کے اور لوگ تمہاری جگہ لے آئیں اور تم کو ایسے جہان میں جس کو تم نہیں جانتے پیدا کردیں

علی ان نبدل امثالکم یعنی اگر ہم چاہیں تو تمہاری صورتیں مسخ کر کے بندر اور خنزیر بنادیں اور تمہاری جگہ کوئی دوسری مخلوق پیدا کردیں۔
Ayahs 56:62–63

وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَةَ الْاُوْلٰى فَلَوْ لَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 56:62 in the Quran reader

اور تم نے پہلی پیدائش تو جان ہی لی ہے پھر تم سوچتے کیوں نہیں ؟

اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَؕ Open ayah 56:63 in the Quran reader

بھلا دیکھو تو جو کچھ تم بوتے ہو

ولقد علمتم النشاہ الاولی یعنی تم یہ کیوں نہیں سمجھتے جس طرح اس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا جس کا تمہیں علم ہے وہ دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے۔
Ayah 56:64

ءَاَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَهٗۤ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ Open ayah 56:64 in the Quran reader

تو کیا تم اسے اگاتے ہو یا ہم اسے اگاتے ہیں ؟

ء انتم تزرعونہ ام نحن الزرعون پہلا سوال لوگوں کو اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا رہا تھا کہ تم از خود پیدا نہیں ہوگئے بلکہ اللہ کے ساختہ پرداختہ ہو اور اس کی تخلیق سے وجود میں آئے ہو، اب یہ دوسرا سوال ایک دوسری اہم حقیقت کی طرف توجہ دلا رہا ہے کہ جس رزق پر تم پلتے ہو وہ بھی اللہ ہی تمہارے لئے پیدا کرتا ہے جس طرح تمہاری پیدائش میں انسانی کوشش کا دخل اس سے زائد کچھ نہیں کہ تمہارا باپ تمہاری ماں کے رحم میں نطفہ ڈالدے اسی طرح تمہارے رزق کی پیداوار میں بھی انسان کی کوشش کا دخل اس سے بڑھ کر کچھ نہیں کہ کسان زمین میں بیج ڈالدے، زمین جس میں کسان بیچ ڈالتا ہے تمہاری بنائی ہوئی نہیں ا ہے اس کے اندر جو بیج تم ڈالتے ہو اس کو نشو و نما کے قابل تم نے نہیں بنایا، ان میں سے کوئی چیز بھی تمہاری تدبیر کا نتیجہ نہیں ہے یہ سب کچھ اللہ ہی کی قدرت اور اسی کی پروردگاری کا کرشمہ ہے، جب تم وجود میں اسی کے لانے سے آئے ہو اور اسی کی پیدا کردہ رزق سے پل رہے ہو تو تم کو اس کے مقابل ہمیں خود مختاری کا یا اس کے سوا کسی اور کی ندگی کرنے کا حق آخر کیسے پہنچتا ہے ؟
Ayahs 56:65–73

لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنٰهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُوْنَ Open ayah 56:65 in the Quran reader

اگر ہم چاہیں تو اسے چورا چورا کردیں اور تم باتیں بناتے رہ جاؤ

اِنَّا لَمُغْرَمُوْنَۙ Open ayah 56:66 in the Quran reader

(کہ ہائے) ہم تو مفت تاوان میں پھنس گئے

بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ Open ayah 56:67 in the Quran reader

بلکہ ہم ہیں ہی بدنصیب

اَفَرَءَیْتُمُ الْمَآءَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَؕ Open ayah 56:68 in the Quran reader

بھلا دیکھو تو جو پانی تم پیتے ہو

ءَاَنْتُمْ اَنْزَلْتُمُوْهُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ Open ayah 56:69 in the Quran reader

کیا تم نے اسکو بادل سے نازل کیا ہے یا ہم نازل کرتے ہیں ؟

لَوْ نَشَآءُ جَعَلْنٰهُ اُجَاجًا فَلَوْ لَا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 56:70 in the Quran reader

اگر ہم چاہیں تو ہم اسے کھاری کردیں پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے ؟

اَفَرَءَیْتُمُ النَّارَ الَّتِیْ تُوْرُوْنَؕ Open ayah 56:71 in the Quran reader

بھلا دیکھو تو جو آگ تم درخت سے نکالتے ہو

ءَاَنْتُمْ اَنْشَاْتُمْ شَجَرَتَهَاۤ اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُوْنَ Open ayah 56:72 in the Quran reader

کیا تم نے اس کے درخت کو پیدا کیا ہے یا ہم پیدا کرتے ہیں ؟

نَحْنُ جَعَلْنٰهَا تَذْكِرَةً وَّ مَتَاعًا لِّلْمُقْوِیْنَۚ Open ayah 56:73 in the Quran reader

ہم نے اسے یاد دلانے اور مسافروں کے برتنے کو بنایا ہے

اقراء یتم الماء الذین تشربون تمہاری بھوک مٹانے کا ہی نہیں تمہاری پیاس بجھانے کا انتظام بھی ہمارا ہی کیا ہوا ہے، یہ پانی جو تمہاری زندگی کے لئے روٹی سے بھی زیادہ ضروری ہے تمہارا اپنا فراہم کیا ہوا نہیں ہے بلکہ اسے ہم نے فراہم کیا ہے۔ نحن جعلنھا تذکرۃ و متاعاً للمقوین مقوین اقواء سے مشتق ہے اور وہ قواء بمعنی صحرا سے مشتق ہے مقوی کے معنی ہوئے صحرا میں فروکش ہونے والا، مراد اس سے وہ مسافر ہے جو جنگل میں کہیں ٹھہر کر اپنے کھانے کے انتظام میں لگا ہو مراد آیت کی یہ ہے کہ سب تخلیقات ہماری ہی قدرت و حکمت کا نتیجہ ہیں۔
Ayah 56:74

فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 56:74 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار بزرگ کے نام کی تسبیح کرو

فسبح باسم ربک العظیم اس کا لازمی اور عقلی نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ انسان حق تعالیٰ کی قدرت کا ملہ اور توحید پر ایمان لائے اور اپنے رب عظیم کی تسبیح پڑھا کرے کہ یہی اس کی نعمتوں کا شکر ہے۔
Ayahs 56:75–78

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِۙ Open ayah 56:75 in the Quran reader

مجھے تاروں کی منزلوں کی قسم

وَ اِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌۙ Open ayah 56:76 in the Quran reader

اور اگر تم سمجھو تو یہ بڑی قسم ہے

اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِیْمٌۙ Open ayah 56:77 in the Quran reader

کہ یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے

فِیْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍۙ Open ayah 56:78 in the Quran reader

(جو) کتاب محفوظ میں (لکھا) ہوا ہے

ترجمہ : سو میں قسم کھاتا ہوں غروب ہونے کے لئے چھپنے والے ستاروں کی اگر تم سمجھو تو یہ یعنی ان کی قسم ایک بڑی قسم ہے یعنی اگر تم اہل علم میں سے ہو تو اس قسم کی عظمت کو جان لو گے یہ یعنی جو تم کو سنایا جا رہا ہے مکرم قرآن ہے جو ایک محفوظ کتاب میں ہے اور وہ مصحف ہے اس کو پاک (لوگ) ہی چھوتے ہیں (لایمسہ) نہی بمعنی خبر ہے یعنی وہ جنہوں نے خود کو احداث سے پاک کرلیا رب العالمین کی جانب سے نازل کردہ ہے تو کیا اس کلام یعنی قرآن کو سرسری کلام سمجھتے ہو اہمیت نہیں دیتے ہو تکذیب کرتے ہو کیا تم نے اس کی تکذیب ہی کو غذا (دھندا) بنا لیا ہے ؟ اور تم بارش کے ذریعہ اس کے رزق کے شکر کے بجائے ناشکری کرتے ہو یعنی اللہ کی سیرابی کی مطرنا بنواء کذا کہہ کر ناشکری کرتے ہو (یعنی فلاں ستارے کے طلوع یا غروب کی وجہ سے بارش ہوئی ہے) پس جب روح نزع کے وقت نرخرے تک پہنچ جائے اور وہ کھانے کی نلی ہے، اور اے میت کے پاس حاضر لوگو ! تم اس مرنے والے کو دیکھ رہے ہو اور ہم منے والے سے تمہاری بہ نسبت علم کے اعتبار سے زیادہ قریب ہوتے ہیں لیکن تم دیکھ نہیں سکتے (تبصرون) بصیرت سے ماخوذ ہے، یعنی تم کو ہماری موجودگی کا علم نہیں ہوتا، پس اگر تم کو زندہ کر کے تمہارا حساب کتاب ہونے والا نہیں ہے یعنی تمہارے اعتقاد کے مطابق تم کو زندہ کیا جانے والا نہیں ہے تو کس لئے تم روح کو حلق میں پہنچنے کے بعد جسم کی طرف نہیں لوٹا لیتے اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو ثانی لولا پہلے لولا کی تاکید ہے اور اذا بلغت میں اذا، ترجعون کا ظرف ہے اور ترجعون سے دو شرطیں متعلق ہیں یعنی اگر بعث کی نفی میں تم سچے ہو تو اس کو کیوں نہیں لوٹا لیتے ہو، تاکہ موت نفس کے محل سے منتفی ہوجائے پس اگر میت مقربین میں سے ہے تو اس کے لئے راحت ہے اور رزق حسن ہے اور آرام والی جنت ہے (فروح) یا تو اما کا جواب ہے یا ان کا یا دونوں کا (اس میں) تین قول ہیں اور جو شخص اصحاب الیمین میں سے ہے تو تیرے لئے یعنی اصحاب الیمین کے لئے عذاب سے سلامتی ہے اس وجہ سے کہ وہ اصحاب الیمین میں سے ہے لیکن اگر کوئی جھٹلانے والوں گمراہوں میں سے ہو تو کھولتے ہوئے گرم پانی کی ضیافت ہے اور دوزخ میں جانا ہے یہ خبر سراسر حق قطعاً یقینی ہے، موصوف کی اپنی صفت کی طرف اضافت کے قبیل سے ہے، پس تو اپنے عظیم الشان رب کی تسبیع بیان کر جیسا کہ سابق میں گذر چکا ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : فلا اقسم بمواقع النجوم، لا جمہور مفسرین کے نزدیک تاکید کے لئے زائدہ ہے معنی میں فاقسم کے ہے، جیسے لا واللہ اور بعض حضرات نے یہ توجیہ کی ہے کہ لامخاطب کے گمان کی نفی کرنے کے لئے اور منفی محذوف ہے اور وہ کفار کا کلام ہے اور یہ لیس کما تقول کے معنی میں ہے، فراء نے کہا ہے کہ یہ لانفی کے لئے ہے اور لیس الامر کماتقولون کے معنی میں ہے بعض حضرات نے اس کو ضعیف کہا ہے۔ (فتح القدیر شوکانی) قولہ : مواقع، موقع کی جمع ہے، جس کے معنی ہیں ستاروں کے غروب ہونے کی جگہ یا وقت، بعض حضرات نے مواقع سے مراد نجوم کی منزلیں اور بعض نے نزول قرآن مراد لیا ہے، اس لئے کہ قرآن کریم بھی بتدریج آپ پر نازل ہوا ہے۔ قولہ : وانہ لقسم لوتعلمون عظیم، لا اقسم قسم ہے اور لقرآن کریم جواب قسم ہے اور انہ لقسم لو تعلمون عظیم، قسم اور جواب قسم کے درمیان جملہ معترضہ ہے اور جملہ معترضہ میں بھی موصوف و صفت کے درمیان جملہ معترضہ اور وہ لوتعلمون ہے۔ قولہ : لعلمتم عظم ھذا القسم اس کے اضافہ سے مفسر علام نے جواب لو کے حذف کی طرف اشارہ کردیا۔ قولہ : وھو المصحف بعض حضرات نے کتاب مکنون سے لوح محفوظ مراد لی ہے، اس صورت میں لایمسہ کے معنی ہوں گے لایطلع علیہ الا الملائکۃ المطھرون اس صورت میں یہ آیت بغیر طہارت قرآن کو چھونے کے عدم جواز کی دلیل نہ ہوگی۔ قولہ : خبر بمعنی النھی اس اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : قرآن میں کہا گیا ہے لایمسہ الا المطھرون یہ خلاف واقعہ ہے اس لئے کہ بہت سے لوگ قرآن بغیر طہارت کے چھوتے ہیں اور قرآن خلاف واقعہ کی خبر نہیں دے سکتا۔ قولہ : خبر بمعنی نہی ہے۔ قولہ : منزل اس سے اشارہ کردیا کہ تنزیل مصدر بمعنی منزل اسم مفعول ہے۔ قولہ : افبھذا الحدیث میں استفہام تو بیخی ہے یعنی تمہارے لئے یہ مناسب نہیں ہے۔ قولہ : مدھنون یہ ادھان سے ہے ادھان اور تدھین کے معنی ہیں کسی چیز پر تیل لگا کر چکنا اور نرم کرنا، مداھنت فی الدین اسی سے ہے دین میں مداہنت اختیار کرنا اور اس کے لازم معنی نفاق کے بھی ہیں، جس چیز پر تیل وغیرہ لگا کر نرم اور چکنا کیا جاتا ہے اس کا باطن ظاہر کے خلاف ہوتا ہے اوپر سے نرم اور چکنی معلوم ہوتی ہے حالانکہ اندر اس کے عکس ہوتا ہے نفاق میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے، یہاں مراد مطلقاً کفر ہے اور قرآن کو سرسری، معمولی سمجھنا اور حیثیت نہ دینا بھی ادھان کا مصداق ہے۔ قولہ : من المطر اس میں اشارہ ہے کہ رزق سے مراد سبب رزق ہے اور ای شکرہ سے اشارہ کردیا کہ عبارت حذف مضاف کے ساتھ ہے، تقدیر عبارت یہ ہے، تکفرون شکر المطر یعنی خدا کی نعمتوں کی ناشکری کرنا تم نے اپنا مغشلہ اور اپنی غذا بنا لیا ہے، حتی کہ خدا داد بارش کو بعض ستاروں کے طلوع و غروب کی طرف منسوب کرتے ہو۔ قولہ : بسقیا اللہ یہ مصدر اپنے فاعل کی طرف مضاف ہے اصل میں سقی اللہ ہے۔ قولہ : اذا ظرف لترجعون اذا بلغت الحلقوم، ترجعون کا ظرف مقدم ہے ترجعون سے دو شرطیں متعلق ہیں اور وہ ان کنتم غیر مدینین اور ان کنتم صادقین ہیں، متعلق ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ دونوں کی جزاء ہیں۔ فائدہ : کلام میں قلب ہے معنی یہ ہیں ھلاتر جعونھا ان نفیتم البعث صادقین فی نفیہ قولہ : فلہ روح اس میں اشارہ ہے کہ روح مبتداء ہے اور فلہ خبر مقدم ہے۔ قولہ : ھل الجواب لاما اور لان اولھما فروح الخ جواب غیہ، اس میں تین قول ہیں (1) اما کا جواب (2) ان کا جواب (3) دونوں کا جواب ہو، راجح یہ ہے کہ فروح و ریحان الخ، اما کا جواب ہے اور ان کا جواب محذوف ہے اس لئے کہ ان کے جواب کا حذف کثیر الوقوع ہے۔ قولہ : ای لہ السلام ۃ من العذاب اس میں اشارہ ہے کہ سلام بمعنی سلامت ہے۔ قولہ : من جھۃ انہ منھم اس میں اشارہ ہے کہ من اصحب الیمین میں من تعلیلیہ ہے ای من اجل انہ منھم قولہ : فنزل مبتداء ہے اس کی خبر لہ محذوف ہے ای لہ نزل قولہ : تقدم یعنی سبح نزہ اور لفظ اسم زائدہ ہے۔ تفسیر و تشریح سابقہ آیات میں عقلی اور مشاہداتی دلائل سے دوبارہ زندہ ہونے کا ثبوت حق تعالیٰ کی قدرت کا ملہ اور اس دنیا کی تخلیق کے ذریعہ دیا گیا تھا، آگے حق تعالیٰ کی طرف سے قسم کے ساتھ نقلی دلیل پیش کی گئی ہے۔ فلا اقسم بمواقع النجوم اگر لا کو قرآن کے بارے میں مزعوم اور ظن باطل کی نفی کے لئے لیا جائے جیسا کہ بعض مفسرین کا یہی خیال ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ قرآن شاعری یا کہانت نہیں ہے جیسا کہ تمہارا خیال ہے بلکہ ستاروں کے گرنے یا ان کے مطلع و مغرب کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ قرآن بڑا باعظمت ہے۔ ستاروں اور تاروں کے مواقع سے مراد ان کے مقامات، ان کے مدار، اور منزلیں ہیں اور قرآن کے بلند پایہ کتاب ہونے پر ان کی قسم کھانے کا مطل بیہ ہے کہ عالم بالا میں اجرام فلکی اور نظام جیسا کہ محکم اور مضبطو ہے ویسا ہی مضبوط اور محکم یہ کلام بھی ہے جس خدا نے وہ نظام بنایا ہے اسی خدا نے یہ کلام نازل فرمایا ہے۔ بعض حضرات نے یہ ترجمہ کیا ہے، میں قسم کھاتا ہوں آیتوں کے پیغمبروں کے دلوں پر اترنے کی، نجوم سے مراد آیات لی ہیں اور مواقع النجوم سے پیغمبروں کے قلوب ( موضح القرآن) اور عض حضرات نے قیامت کے دن ستاروں کا گرنا اور جھڑنا مراد لیا ہے۔ فی کتاب مکنون کے معنی ہیں چھپی ہوئی کتاب، مراد اس سے لوح محفوظ ہے