57. Surah Al-Hadid

الحديدThe Iron · 29 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 57:21–22

سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 57:21 in the Quran reader

(بندو ! ) اپنے پروردگار کی بخشش کی طرف اور جنت کی طرف جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کا سا ہے (اور) جو ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو خدا پر اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے ہیں لپکو یہ خدا کا فضل ہے جسے چاہے عطا فرمائے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌۚۖ Open ayah 57:22 in the Quran reader

کوئی مصیبت ملک پر اور خود تم پر نہیں پڑتی مگر پیشتر اس کے کہ ہم اس کو پیدا کریں ایک کتاب میں (لکھی ہوئی) ہے (اور) یہ (کام) خدا کو آسان ہے

سابقو الی مغفرۃ من ربکم، سابقوا، مسابقۃ سے ماخوذ ہے یعنی اپنے ہمعصروں سے مغفرت یعنی اسباب مغفرت کی جانب آگے بڑھنے کی کوشش کرو، یعنی جس طرح تم دنیا کی دولت و لذتیں اور فائدے سمیٹنے میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی جو کوشش کر رہے ہو اسے چھوڑ کر یا اس کے ساتھ ساتھ اس چیز کو ہدف اور مقصود بنائو اور اس طرف دوڑنے میں بازی لے جانے کی کوشش کرو۔ ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء واللہ ذوالفضل العظیم اس سے پہلی آیت میں جنت اور اس کی نعمتوں کے لئے مسابقت اور کوشش کا حکم تھا اس سے کسی کو یہ خیال پیدا ہوسکتا تھا کہ جنت اور اس کی لازوال نعمتیں ہمارے عمل کا ثمرہ ہیں اس آیت میں حق تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا کہ تمہارے اعمال حصول جنت کے لئے علت تامہ نہیں کہ جن پر حصول جنت کا مرتب ہونا لازمی ہو، انسان کے عمر بھر کے اعمال تو ان نعمتوں کا بدلہ بھی نہیں ہوسکتے جو دنیا میں اسے مل چکی ہیں، ہمارے یہ اعمال جنت کی لازوال نعمتوں کی قیمت نہیں بن سکتے، جنت میں جو بھی داخل ہوگا وہ محض اللہ کے فضل و کرم سے ہی داخل ہوگا، جیسا کہ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی مرفوع حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کہ تم میں سے کسی کو صرف اس کا عمل نجات نہیں دلا سکتا، صحابہ ؓ نے عرض کیا، کیا آپ کو بھی، آپ ﷺ نے جواب دیا، ہاں ! میں بھی، بجز اس کے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل و رحمت ہوجائے۔ (مظہری، معارف) اللہ کی یاد سے غافل کرنے والی دو چیزیں : دو چیزیں انسان کو اللہ کی یاد سے غافل کرنے والی ایک راحت و عیش جس میں منہمک ہو کر انسان اللہ کو بھلا بیٹھتا ہے اس سے بچنے کی ہدایت سابقہ آیات میں آچکی ہے دوسری چیز مصیبت اور غم ہے اس میں مبتلا ہو کر بھی بعض اوقات انسان مایوس اور خدا کی یاد سے غافل ہوجاتا ہے جس کو ما اصابکم من مصیبۃ فی الارض ولا فی انفسکم الا فی کتاب من قبل ان نبراھا میں بیان فرمایا ہے، یعنی جو مصیبت تم کو زمین میں یا تمہاری جانوں میں پہنچتی ہے وہ سب ہم نے کتاب یعنی لوح محفوظ میں مخلوقات کے پیدا کرنے سے بھی پہلے لکھ دیا تھا، زمین کی مصیبت سے مراد اور زمینی آفات مثلاً قحط زلزلے کھیت و باغ وغیرہ ہیں۔
Ayahs 57:23–24

لِّكَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِۙ Open ayah 57:23 in the Quran reader

تاکہ جو (مطلب) تم سے فوت ہوگیا ہے اس کا غم نہ کھایا کرو اور جو تم کو اس نے دیا ہو اس پر اترایا نہ کرو اور خدا کسی اترانے والے اور شیخی بگھارنے والے کو دوست نہیں رکھتا

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 57:24 in the Quran reader

جو خود بھی بخل کریں اور لوگوں کو بھی بخل سکھائیں اور جو شخص روگردانی کرے تو خدا بھی بےپرواہ (اور) سزاوار حمد (و ثنا) ہے

لکیلا تاسوا علی مافاتکم (الآیۃ) یہاں جس حزن و فرح سے روکا یا ہے، وہ وہ غم اور خوشی ہے جو انسانوں کو ناجائز کاموں تک پہنچادیتی ہے، ورنہ تکلیف پر رنجیدہ اور راحت پر خوش ہونا یہ ایک فطری عمل ہے، اور اسلام دنیا فطرت ہے اس میں خالق فطرت نے انسانی فطرت کا پورا پورا لحاظ رکھا ہے، لیکن مومن تکلیف پر صبر کرتا ہے کہ یہی اللہ کی مشیت اور تقدیر ہے جزع فزع کرنے سے اس میں تبدیلی نہیں ہوسکتی اور راحت پر اتراتا نہیں ہے بلکہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے کہ یہ صرف اس کی اپنی سعی کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ اللہ کا فضل و کرم ہے اور اس کا احسان ہے۔
Ayahs 57:25–26

لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۠ Open ayah 57:25 in the Quran reader

ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی نشانیاں دے کر بھیجا اور ان پر کتابیں نازل کیں اور ترازو (یعنی قواعد عدل) تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں اور لوہا پیدا کیا اس میں (اسلحہ جنگ کے لحاظ سے) خطرہ بھی شدید ہے اور لوگوں کیلئے فائدے بھی ہیں اور اس لئے کہ جو لوگ بن دیکھے خدا اور اس کے پیغمبروں کی مدد کرتے ہیں خدا ان کو معلوم کرلے بیشک خدا قوی (اور) غالب ہے

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:26 in the Quran reader

اور ہم نے نوح اور ابراہیم کو (پیغمبر) بنا کر بھیجا اور انکی اولاد میں پیغمبری اور کتاب (کے سلسلے) کو (وقتاً فوقتاً جاری) رکھا تو بعض تو ان میں سے ہدایت پر ہیں اور اکثر ان میں سے خارج از اطاعت ہیں

لقد ارسلنا رسلنا بالبینات (الآیۃ) میزان سے مراد انصاف ہے مطلب یہ ہے کہ ہم نے لوگوں کو انصاف کرنے کا حکم دیا ہے، بعض نے اس کے معنی ترازو کئے ہیں، ترازو کے اتارنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے ترازو کی طرف لوگوں کی رہنمائی کی، تاکہ اس کے ذریعہ لوگوں کو پورا پورا ان کا حق دیں وانزلنا الحدید یہاں بھی انزلنا خلقناہ اور اس کی صنعت سکھانے کے معنی میں ہے لوہے سے بیشمار اشیاء تیار ہوتی ہیں، جنگلی ضرورت کی بھی اور غیر جنگی ضرورت کی بھی۔
Ayah 57:27

ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَ قَفَّیْنَا بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ١ۙ۬ وَ جَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ رَهْبَانِیَّةَ اِ۟بْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَیْهِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللّٰهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَایَتِهَا١ۚ فَاٰتَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:27 in the Quran reader

پھر ان کے پیچھے انہی کے قدموں پر (اور) پیغمبر بھیجے اور ان کے پیچھے مریم کے بیٹے عیسیٰ کو بھیجا اور ان کو انجیل عنایت کی اور جن لوگوں نے ان کی پیروی کی ان کے دلوں میں شفقت اور مہربانی ڈال دی اور لذات سے کنارہ کشی تو انہوں نے خود ایک نئی بات نکال لی تھی ہم نے ان کو اس کا حکم نہیں دیا تھا مگر (انہوں نے اپنے خیال میں) خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے (آپ ہی ایسا کرلیا تھا) پھر جیسا اس کو نباہنا چاہیے تھا نباہ بھی نہ سکے پس جو لوگ ان میں سے ایمان لائے ان کو ہم نے انکا اجر دیا اور ان میں بہت سے نافرمان ہیں

ترجمہ : بیشک ہم نے نوح اور ابراہیم (علیہم السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا اور ہم نے ان دونوں کی ذریت میں نبوت اور کتاب جاری رکھی یعنی چاروں کتابیں، تورات، انجیل اور زبور اور قرآن، یہ سب ابراہمی (علیہ السلام) کی ذریت میں ہیں ان میں سے کچھ تو، راہ یافتہ ہوئے اور ان میں اکثر نافرمان رہے پھر بھی ان کے پیچھے پے در پے ہم رسولوں کو بھیجتے رہے اور ان کے پیچھے عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم کو بھیجا اور انہیں انجیل عطا کی اور ان کے ماننے والوں کے دلوں میں شفقت و رحمت پیدا کی اور رہبانیت، وہ عورتوں کو تزک کردینا ہے او خلوت خانے بنانا ہے تو انہوں نے از خود ایجاد کرلی ہم نے اسے ان پر واجب نہیں کیا تھا یعنی ہم نے ان کو اس کا حکم نہیں دیا تھا لیکن ان لوگوں نے رہبانیت کو اللہ کی رضا جوئی کے لئے اتخیار کیا سو انہوں نے اسکی پوری رعایت نہیں کی جب کہ ان میں سے اکثر نے اس کو ترک کردیا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے دین کے منکر ہوگئے اور اپنے بادشاہوں کے دین کو اختیار کرلیا اور بہت سے حضرت عییٰ کے دین پر قائم رہ، پھر ہمارے نبی ﷺ پر ایمان لائے، سو ان میں جو آپ ﷺ پر ایمان لائے ہم نے ان کو اجر عطا کیا اور زیادہ تر ان میں نافرمان رہے اے وہ لوگو ! جو عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول محمد ﷺ پر اور عبسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئو اللہ تعالیٰ تم کو اپنی رحمت سے تمہارے دو نبیوں پر ایمان لانے کی وجہ سے دو حصے (اجر) عطا فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ تم کو ایسا نور عطا کرے گا کہ جس کو لیکر تم پل صراط پر چلو گے اور وہ تم کو بخش دے گا اور وہ غفور رحیم ہے تاکہ جان لیں یعنی تم کو اس کے ذریعہ بتادیا کہ اہل کتاب یعنی تورات والے جو محمد ﷺ پر ایمان نہیں لائے، ان مخففہ عن الثقیلہ ہے اور اس کا اسم ضمیر شان ہے اور معنییہ ہیں کہ وہ اللہ کے فضل میں سے کسی شئی پر بھی قادر نہیں ہیں ان کے گمان کے برخلاف کہ وہ اللہ کے محبوب ہیں اور اس کی رضامندی والے ہیں اور بلاشبہ فضل، اللہ کے قبضہ میں ہے جس کو چاہے عطاء کرے ان (اہل کتاب) میں سے ایمان لانے والوں کو دوہرا اجر عطا کیا، جیسا کہ ماقبل میں گذر چکا ہے اللہ بڑے فضل والا ہے۔ تحقیق و ترکیب و تہسیل و تفسیری فوائد قولہ : ولقد ارسلنا نوحا و ابراہیم (الآیۃ) وائو عاطفہ ہے، معطوف علیہ لقد ارسلنا رسلنا ہے، لام جواب قسم کے لئے ہے اور قسم یعنی اقسم محذوف ہے، اعتناء اور تعظیم کی زیادتی کے لئیقسم کو مکرر لایا گیا ہے۔ سوال : حضرت نوح اور ابراہیم (علیہ السلام) ہی کو کیوں خاص کیا گیا ؟ جواب : مذکورہ دونوں حضرات کا بطور خاص اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ تمام انبیاء ان ہی کی ذریت میں سے ہیں، حضرت نوح (علیہ السلام) ابوالثانی ہیں اور حضرت ابراہیم ابوالعرب والروم و بنی اسرائیل ہیں۔ (صاوی) قولہ : وجعلنا فی ذریتھما مفعول ثانی مقدم کے محل میں سے النبوۃ مفعول اول ہے۔ قولہ : الکتب اس سے اشارہ ہے کہ الکتاب میں الف لام جنس کا ہے۔ قولہ : ورھبانیۃ رھبانیۃ اکثر کے نزدیک باب اشتغمال کے قاعدہ سے منصوب ہے، تقدیر عبارت یہ ہے ابتدعوا الرھبانیۃ ابتدعوھا اور بعض حضرات نے رافۃ پر عطف کی وجہ سے منصوب کہا ہے، اور ابتدعوھا رھبانیۃ کی صفت ہے۔ قولہ : لکن فعلوھا، الا کی تفسیر لکن سے کر کے اشارہ کردیا کہ یہ مستثنیٰ منقطع ہے اور کہا گیا ہے کہ مستثنیٰ متصل ہے، تقدیر عبارت یہ ہے کہ ماکتبنا ھا علیھم لشیء من الاشیاء الا لابتغاء مرضات اللہ اس صورت میں عموم احوال سے استثناء ہوگا اور کتب بمعنی قضیٰ ہے۔ قولہ : رھبانیۃ، رھبانیۃ کے معنی عبادت و ریاضت میں حد سے زیادہ مبالغہ کرنا اور لوگوں سے کنارہ کشی کر کے گوشہ تنہائی اختیار کرلینا ہے، راہ کے ضمہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے اس صورت میں رھبان کی طرف نسبت ہوگی جو کہ راھب کی جمع ہے جیسا کہ رکبان راکب کی جمع ہے۔ قولہ : ای اعلمکم بذلک لیعلم اس میں اشرہ ہے کہ لئلا میں لازائدہ ہے تاکید کے لئے۔ قولہ : واللہ ذوالفضل العظیم، اللہ مبتداء اور ذوالفضل اس کی خبر اور العظیم، الفضل کی صفت ہے۔ تفسیر و تشریح ربط آیات : سابقہ آیات میں اس عالم کی ہدایت اور اس میں عدل و انصاف قائم کرنے کے لئے انبیاء و رسل اور ان کے ساتھ کتاب و میزان نازل کرنے کا عمومی ذکر تھا، مذکورۃ الصدر آیات میں ان میں سے خاص خاص انبیاء و رسل کا ذکر ہے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) کا کہ وہ آدم ثانی ہیں اور طوفان کے بعد کے انسان ان کی نسل سے ہیں، دوسرے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر ہے جو ابو الانبیاء ہیں اس کے بعد ایک مختصر جملے وقفینا علی آثارھم برسلنا میں پورے سلسلہ انبیاء و رسل کا ذکر فرمایا، آخر میں خصوصیت کے ساتھ بنی اسرائیل کے آخری نبی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کر کے حضرت خاتم الانبیاء ﷺ اور آپ کی شریعت کا ذکر فرمایا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے والوں کی خاص صفت یہ بیان فرمائی گئی ہے وجعلنا فی قلوب الذین اتبعوہ رافۃ و رحمۃ یعنی جن لوگوں نے حضرت عیسیٰ علیہ الصلام والسلام یا انجیل کا اتباع کیا ہم نے ان کے دلوں میں رافت اور رحمت پیدا کردی یعنی یہ لوگ آپس میں مہربان اور رحیم ہیں مگر جب ایک ساتھ بولے جاتے ہیں تو رافت سے مراد رقیق القلبی ہوتی ہے جو کسی کو تکلیف و مصیبت میں دیکھ کر ایک شخص کے دل میں پیدا ہو اور رحمت سے مراد وہ جذبہ ہوتا ہے جس کے تحت وہ اس کی مدد کی کوشش کرے، حضرت عیسیٰ چونکہ نہایت رقیق القلب اور خلق خدا کے لئے رحیم و شفیق تھے اس لئے ان کی سیرت کا یہ اثر ان کے پیروئوں میں سرایت کر گیا وہ اللہ کے بندوں پر ترس کھاتے تھے اور ہمدردی کے ساتھ ان کی خدمت کرتے تھے۔ نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام ؓ کی صفات جو سورة فتح میں بیان فرمائی ہیں جن میں ایک صفت رحماء بینھم بھی ہے، مگر وہاں اس صفت سے پہلے صحابہ کرام ؓ کی ایک اور خاص صفت اشداء علی الکفار بھی بیان فرمائی ہے، فرق کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت میں کفار سے جہاد و قتال کے احکام نہ تھے، اس لئے کفار کے مقابلہ میں شدت ظاہر کرنے کا وہاں کوئی محل نہ تھا۔ (معارف ملخصاً ) رہبانیت کا مفہوم : اس کا تلفظ راء کے فتحہ اور ضمہ دونوں کے ساتھ ہے اس کا مادہ رھب ہے، جس کے معنی خوف کے ہیں، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد جب بنی اسرائیل میں فسق و فجور عام ہوگیا، خصوصاً سبادشاہوں اور رئوساء نے انجیل میں ترمیم کر کے اس سے کھلی بغات شروع کردی، ان میں جو علماء و صلحاء تھے انہوں نے اس بدعملی سے روکا تو ان کو قتل کردیا گیا جو کچھ بچ گئے انہوں دیکھا کہ اب نہ مقابلہ کی طاقت ہے اور نہ بچنے کی کوئی صورت، لہٰذا ان لوگوں نے اپنے دین کی حفاظت کی خاطر یہ صورت نکالی کہ اپنے اوپر یہ بات لازم کرلی کہ اب دنیا کی سب جائز لذتیں اور آرام بھی چھوڑ دیں، نکاح نہ کریں، کھانے پینے کی چیزیں جمع کرنے کی فکر نہ کریں اور رہنے کے لئے مکان کا انتظام نہ کریں، لوگوں سے دور کسی جنگل یا پہاڑ میں زندگی بسر کریں، تاکہ دین کے احکام پر آزادی کے ساتھ عمل کرسکیں ان کا یہ عمل چونکہ خدا کے خوف سے تھا اس لئے ایسے لوگوں کو راہب یا رہبان کہا جانے لگا، ان کی طرف نسبت کر کے ان کے طریقہ کو رہبانیت سے تعبیر کرنے لگے۔ ان کا یہ طریقہ کوئی شرعی طریقہ نہیں تھا بلکہ یہ طریقہ حالات سے مجبور ہو کر اپنے دین کی حفاظت کے لئے اختیار کیا گیا تھا اس لئے اصالتہ کوئی مذموم چیز نہ تھی، مگر جب ایک چیز کو اپنے اوپر لازم کرلیا تو اس کو نبھانا چاہیے تھا، مگر ان لوگوں نے اس کی رعایت نہیں کی بلکہ اس میں کوتاہی اور اس کی خلاف ورزی شروع کردی، قرآن مجید میں اس آیت میں ان کی اسی بات پر نکیر فرمائی۔ حضرت عبدا للہ بن مسعود ؓ کی ایک طویل حدیث اس پر شاہد ہے، ابن کثیر نے بروایت ابن ابی حاتم اور ابن جریر، ایک طویل حدیث نقل کی ہے، جس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کہ بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں تقسیم ہوگئے تھے، جن میں سے صرف تین فرقوں کو عذاب سے نجات ملی جنہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ظالم و جابر بادشاہوں اور دولت و قوت والے فاسقوں و فاجروں کو ان کے فسق و فجو سے روکا، ان کے مقابلہ میں حق کا کلمہ بند کیا اور دین عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف دعوت دی، ان میں سے پہلے فرقے نے قوت کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا مگر ان کے مقابلہ میں مغلوب ہوئے اور قتل کردیئے گئے، پھر ان کی جگہ ایک دوسری جماعت کھڑی ہوئی جن کو مقابلہ کی اتنی بھی طاقت نہیں تھی، مگر کلمہ حق پہنچانے کے لئے اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر ان کو حق کی دعوت دی، ان سب کو بھی قتل کردیا گیا، بعض کو آروں سے چیرا گیا، بعض کو زندہ آگ میں جلایا گیا، مگر انہوں نے اللہ کی رضا کے لئے ان سب مصائب پر صبر کیا، یہ بھی نجات پا گئے، پھر ایک تیسری جماعت ان کی جگہ کھڑی ہوئی جن میں نہ مقابلہ کرنے کی قوت تھی نہ ان کے ساتھ رہ کر خود اپنے دین پر عمل کرنے کی صورت بنتی تھی اس لئے ان لوگوں نے جنگلوں اور پہاڑوں کا راستہ لیا اور راہب بن گئے یہی وہ لوگ ہیں جن کا ذکر اللہ نے اس آیت میں کیا ہے ورھبانیۃ ابتدعوھا ماکتبناھا علیھم الا ابتغاء رضوان اللہ اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں : ایک یہ کہ ہم نے ان پر اس رہبانیت کو فرض نہیں کیا تھا بلکہ جو چیز ان پر فرض کی تھی وہ یہ تھی کہ وہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کریں اور دوسرا مطلب یہ کہ رہبانیت ہماری فرض کی ہوئی نہ تھی بلکہ اللہ کی رضا جوئی کے لئے خود انہوں نے اسے اپنے اوپر فرض کرلیا تھا۔ دونوں صورتوں میں یہ آیت اس بات کی صراحت کرتی ہے کہ رہبانیت ایک غیر اسلامی چیز ہے اور یہ کبھی دین حق میں شامل نہیں رہی، یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا لارہبانیۃ فی الاسلام اسلام میں کوئی رہبانیت نہیں (مسند احمد) ایک اور حدیث میں ہے رہبانیۃ ھذہ الامۃ الجھاد فی سبیل اللہ ہے ترک دنیا نہیں، یہ امت فتنوں سے ڈر کر جنگلوں اور پہاڑوں کی طرف نہیں بھاگتی بلکہ راہ خدا میں جہاد کر کے ان کا مقابلہ کرتی ہے، بخاری اور مسلم کی متفق علیہ روایت ہے کہ صحابہ ؓ میں سے ایک صاحب نے کہا میں کبھی شادی نہ کروں گا اور عورت سے کوئی واسطہ نہیں رکھوں گا، رسول اللہ ﷺ نے ان کی یہ باتیں سنیں تو فرمایا اما واللہ انی لاخشاکم للہ و اتقاکم لہ لکنی اصوم وافطر واصلی وارقد واتزروج النساء فمن رغب عن سنتی فلیس منی خدا کی قسم میں تم سے زیادہ خدا سے ڈرتا ہوں اور اس سے تقویٰ کرتا ہوں مگر میرا طریقہ یہ ہے کہ روزہ بھی رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا، راتوں کی نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عروتوں سے ناکح بھی کرتا ہوں جس کو میرا طریقہ پسند نہ ہو اس سے میرا کوئی واسطہ نہیں۔ رہبانیت مطلقا مذموم و ناجائز ہے اس میں کچھ تفصیل ہے ؟ صحیح بات یہ ہے کہ رہبانیت کا عام اطلاق ترک لذات، ترک مباحات کے لئے ہوتا ہے، اس کے چند درجے ہیں ایک یہ کہ کسی مباح و حلال چیز کو اعتقاد ایا عملاً حرام قرار دے، یہ تو دین کی تحریف و تغیر ہے، اس معنی کے اعتبار سے رہبانیت قطعاً حرام ہے اور قرآنی آیت یایھا الذین آمنوا لاتحرموا طیبات ما احل اللہ لکم میں اسی کی ممانعت ہے۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ کسی مباح کو اعتقاد احرامقرار نہیں دیتا مگر کسی دنیوی یا دینی ضرورت کی وجہ سے اس کو چھوڑنے کی پابندی کرتا ہے دنیوی ضرورت جیسے بیماری کے خطرہ سے کسی مباح چیز سے پرہیز کرے اور دینی ضرورت یہ ہے کہ یہ محسوس کرے کہ اگر میں نے اس مباح کو اختیار کیا تو انجام کار کسی گناہ میں مبتلا ہوجائوں گا، جیسے جھوٹ غیبتوغیرہ سے بچنے کے لئے کوئی شخص لوگوں سے اختلاط ہی چھوڑ دے یا کسی نفسانی رذیلہ کے علاج کے لئے چند روز بعض مباحات کو ترک کر دے اور اس ترک کی پابندی کو بطور علاج و دوا کے اس وقت تک کرے جب تک وہ رذیلہ دور نہ ہوجائے جیسے کہ صوفیاء کرام مبتدی کو کم کھانے اور کم سونے کم اختلاط کی تاکید کرتے ہیں کہ یہ ایک مجاہدہ ہے نفس کو اعتدال پر لانے کا جب نفس پر قابو ہوجانا ہے تو یہ پرہیز چھوڑ دیا جاتا ہے، درحقیقت یہ رہبانیت نہیں تقویٰ ہے جو مطلوب ہے، اور اسلاف اور صحابہ کرام وتابعین عظام اور ائمہ دین سے ثابت ہے، تیسرا درجہ یہ ہے کہ کسی مباح کو تو حرامقرار نہیں دیتا مگر اس کا استعمال جس طرح سنت سے ثابت ہے اس طرح کے اسعتمال کو بھی چھوڑنا ثواب اور افضل جان کر اس سے پرہیز کرتا ہے، یہ ایک قسم کا غلو ہے جس سے احادیث کثیرہ میں رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے اور جس حدیث میں لارہبانیۃ فی الاسلام آیا ہے اس سے ایسا ہی ترک مباحات مراد ہے کہ اس کے ترک کو افضل وثواب سمجھے۔ (معارف)
Ayah 57:28

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اٰمِنُوْا بِرَسُوْلِهٖ یُؤْتِكُمْ كِفْلَیْنِ مِنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهٖ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۚۙ Open ayah 57:28 in the Quran reader

مومنو ! خدا سے ڈرو اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاؤ وہ تمہیں اپنی رحمت سے دگنا اجر عطا فرمائے گا اور تمہارے لئے روشنی کر دے گا جس میں چلو گے اور تم کو بخش دے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

یا ایھا الذین آمنوا یہ لفظ عام طور پر صرف مسلمانوں کے لئے بولا جاتا ہے مگر یہاں اہل کتاب مراد ہیں، شاید اس میں حکمت یہ ہو کہ آگے ان کو حکم دیا گیا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) پر صحیح ایمان لانے کا تقاضا یہ ہے کہ خاتمہ الانبیاء ﷺ پر بھی ایمان لائو اور جب وہ ایسا کرلیں تو الذین آمنوا کے خطاب کے مستحق ہوں گے۔
Ayah 57:29

لِّئَلَّا یَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَلَّا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 57:29 in the Quran reader

(یہ باتیں) اس لئے (بیان کی گئی ہیں) کہ اہل کتاب جان لیں کہ وہ خدا کے فضل پر کچھ بھی قدرت نہیں رکھتے اور یہ کہ فضل خدا ہی کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے

لئلا یعلم اھل الکتاب اس میں لازائد ہے معنی لیعلم اھل الکتاب کے ہیں اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ مذکورۃ الصدر احکام اس لئے بیان کئے گئے تاکہ اہل کتاب سمجھ لیں کہ وہ اپنی موجودہ حالت میں کہ صرف حضرت عیسیٰ علیہ الصلاۃ و اسلام پر تو ایمان ہے، رسول اللہ ﷺ پر نہیں، اس حالت میں وہ اللہ کے کسی فضل کے مستحق نہیں جب تک حضرت خاتم النبین پر ایمان نہ لے آئیں۔ (معارف)