59. Surah Al-Hashr

الحشرThe Exile · 24 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayah 59:14

لَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوْ مِنْ وَّرَآءِ جُدُرٍ١ؕ بَاْسُهُمْ بَیْنَهُمْ شَدِیْدٌ١ؕ تَحْسَبُهُمْ جَمِیْعًا وَّ قُلُوْبُهُمْ شَتّٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 59:14 in the Quran reader

یہ سب جمع ہو کر بھی تم سے (بالمواجہہ) نہیں لڑسکیں گے مگر بستیوں کے قلعوں میں (پناہ لے کر یا دیواروں کی اوٹ میں (مستعور ہو کر) ان کا آبس میں بڑا رعب ہے۔ تم شاید خیال کرتے ہو کہ یہ اکٹھے (اور ایک جان) ہیں مگر ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں۔ یہ اس لئے کہ یہ بےعقل لوگ ہیں۔

لایقاتلونکم جمعاً (الآیۃ) یعنی یہ منفاقین اور یہدی مل کر بھی کھلے میدان میں تم سے لڑنے کا حوصلہ نہیں رکھتے، البتہ قعلوں میں محصور ہو کر یا دیواروں کے پیچھے چھپ کر تم پروار کرسکتے ہیں، جس سے یہ واضح ہے کہ یہ نہایت بزدل ہیں، اور تمہاری ہیبت سے لرزاں و ترساں ہیں۔ تحسبھم جمعاً وقلوبھم شتی یہ منافین کی دوسری کمزوری کا بیان ہے، پہلی کمزوری یہ تھی کہ وہ بزدل تھے خدا سے ڈرنے کے بجائے انسانوں سے ڈرتے تھے، دوسری کمزوری یہ ہے کہ جن کو تم محتد و متفق سمجھ رہے ہو یہ اپٓس میں ایک دوسرے کے سخت خلاف ہیں، جس بات نے ان کو جمع کردیا ہے وہ صرف یہ بات ہے کہ اپنے شہروں میں باہر سے آئے ہوئے (محمد ﷺ ) کی پیشوائی اور فرمانروائی چلتے دیکھ کر ان سب کے دل جل رہے ہیں اور اپنے ہی ہم وطن انصار کو مہاجرین کی پذیرائی کرتے دیکھ کر انکے سینوں پر سانپ لوٹ رہے ہیں، اس کے علاوہ اور کوئی چیز ایسی نہ تھی جو ان کو ملا سکے، ہر ایک اپنی چودھراہٹ چاہتا تھا کوئی کسی کا مخلص دوست نہ تھا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے غزوہ بنو نضیر سے پہلے ہی منافقین کی اندروین حالت کا تجزیہ کر کے مسلمانوں کو بتادیا کہ ان کی طرف سے فی الحقیقت کوئی خطرہ نہیں ہے، لہٰذا تمہیں یہ خبریں سن کر گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں کہ جب تم بنو نضیر کا محاصرہ کرنے کے لئے نکلو گے تو یہ منافق سردار دو ہزار کا لشکر لے کر پیچھے سے تم پر حملہ کردیں گے اور ساتھ ہی ساتھ نبی قریظہ اور بنی غطفان کو بھی تم پر چڑھا لائیں گے، یہ سب لاف زنیاں ہیں جن کی ہوا آزمائش کی پہلی گھڑی ہی نکال دے گی۔
Ayah 59:15

كَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۚ Open ayah 59:15 in the Quran reader

ان کا حال ان لوگوں کا سا ہے جو ان سے کچھ ہی پیشتر اپنے کاموں کی سزا کا مزا چکھ چکے ہیں اور (ابھی) ان کے لئے دکھ دینے والا عذاب تیار ہے

کمثل الذین من قبلھم قریباً (الآیۃ) یہ بنو نضیر کی مثال کا بیان ہے اور الذین من قبلھم کی تفسیر میں حضرت مجاہد رحمتہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کفار اہل بدر مراد ہیں اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا یہود کا قبیلہ بنو قینقاع مراد ہے دونوں کا انجام بد قریبی زمانہ میں واضح ہوچکا تھا، کیونکہ بنو نضیر کی جلاوطنی کا واقعہ غزوہ بدر واحد کے بعد واقع ہوا ہے اور بنو قینقاع کا واقعہ بھی واقعہ بدر کے بعد پیش آیا تھا۔ غزوہ بنی قینقاع : غزوہ بنی قینقاع 15 شوال بروز شنبہ 2 ھ میں واقع ہوا، بنی قینقاع عبداللہ بن سلام کی برادری کے لوگ تھے جو کہ نہایت شجاع اور بہادر تھے، زرگری کا کام کرتے تھے مدینہ کے جوہری بازار پر ان کا قبضہ تھا، مسلمان مردوں اور عورتوں کی بھی بازار میں آمد و رفت تھی، آپ ﷺ نے بنی نضیر اور بنی قریظہ کے ساتھ بنی قینقاع سے بھی معاہدہ فرمایا تھا، سب سے پہلے بنی قینقاع نے معاہدہ کی خلاف ورزی کی جس کے نتیجے میں آپ ﷺ نے باقاعدہ ان سے معاہدہ فسخ کرنے کا اعلان فرما دیا، اسی دوران بنو قینقاع کے ایک یہودی نے ایک مسلمان عورت کو چھیڑا اور اس کو برسر بازار برہنہ کردیا جس کی وجہ سے مسلمانوں اور یہود میں تکرار شروع ہوگئی اور یہ تو تو میں میں بڑھ جانے کی وجہ قیتل و قتال کی نوبت آگئی، جس میں ایک مسلمان اور ایک یہودی مارا گیا، اسی دوران آپ ﷺ ان کے بازار میں تشریف لے گئے اور سب کو جمع کر کے وعظ و نصیحت فرمائی، آپ نے فرمایا : ” اے گروہ یہود اللہ سے ڈرو جیسے بدر میں قریش پر خدا کا عذاب نازل ہوا کہیں اسی طرح تمہارے اوپر بھی نازل نہ ہوجائے، اسلام لے آئو اس لئے کہ تم یقینی طور پر خوب پہچانتے ہو کہ میں بالیقین اللہ کا نبی ہوں جس کو تم اپنی کتابوں میں لکھا ہوا پاتے ہو اور اللہ نے تم سے اس کا عہد لیا ہے۔ “ یہودیہ سنتے ہی مشتعل ہوگئے اور یہ جواب دیا کہ آپ اس غرہ میں ہرگز نہ رہنا جس کی وجہ سے ایک ناواقف اور نا تجربہ کار قوم یعنی قریش سے مقابلہ میں آپ غالب آگئے، واللہ اگر ہم سے مقابلہ ہوا تو خوب معلوم ہوجائے گا کہ ہم مرد ہیں، اس پر حق جل شانہ نے یہ آیت نازل فرمائی قد کان لکم آیۃ فیی فئتین التقتاً (الآیۃ) بنو قینقاع مضافات مدینہ میں رہتے تھے، آپ ﷺ نے بنی قینقاع کا محاصرہ فرمایا بنو قینقاع قلعہ بند ہوگئے یہ محاصرہ پندرہ شوال سے لیکر ذی قعدہ کی ابتدائی تاریخوں تک جاری رہا، بالآخر مجبور ہو کر سولہویں روز یہ قلوگ قلعے سے اتر آئے، آپ ﷺ نے ان کی مشکیں باندھنے کا حکم فرمایا ہے۔ راس المنافقین عبداللہ بن ابی کی الحاج وزاری اور بےحد اصرار کی وجہ سے قتل سے تو درگزر فرمایا مگر ان کو جلا وطن کر دا گیا اور ان کا تمام مال بطور مال غنیمت لیکر مدینہ واپس تشریف لائے اس مال میں سے ایک خمس خود لیا اور بقیہ چار خمس غانمین پر تقسیم فرما دیئے۔ (سیرت مصطفیٰ ملخصاً )
Ayahs 59:16–17

كَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ١ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 59:16 in the Quran reader

منافقوں کی مثال شیطان کی سی ہے کہ انسان سے کہتا رہا کہ کافر ہوجا۔ جب وہ کافر ہوگیا تو کہنے لگا کہ مجھے تجھ سے کچھ سروکار نہیں مجھ کو تو خدائے رب العالمین سے ڈر لگتا ہے

فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ اَنَّهُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیْنِ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 59:17 in the Quran reader

تو دونوں کا انجام یہ ہوا کہ دوزخ میں داخل ہوئے ہمیشہ اس میں رہیں گے اور بےانصافوں کی یہی سزا ہے۔

کمثل الشیطان اذ قال للانسان اکفر (الآیۃ) یہ یہود اور منفاقین کی ایک اور مثال بیان فرمائی ہے کہ منافقین نے یہودیوں کو اس طرح بےیارو مددگار چھوڑ دیا جس طرح شیطان انسان کے ساتھ معاملہ کرتا ہے، پہلے وہ انسان کو گمراہ کرتا ہے اور جب انسان شیطان کے پیچھے لگ کر کفر کا ارتکاب کرلیتا ہے تو شیطان اس سے برأت کا اعلان کردیتا ہے اور جھوٹے ہی کہہ دیتا ہے کہ میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں، اذقال للانسان میں انسان سے اسم جنس مردا ہے، اور ہا گیا ہے کہ شیطان نے جس انسان سے اکفر کہا تھا وہ برصیصانام کا ایک راہب تھا، اس کے پاس ایک عورت آئی شیطان نے راہب کے دل میں وسوسہ ڈالا اس راہب نے اس عورت کو اپنے پاس بلایا شیطان نے اس کو زنا میں مبتلا کردیا، جس کی وجہ سے وہ عورت حاملہ ہوگئی، راہب نے بدنامی کے خوف سے اس کو قتل کر کے دفن کردیا، ادھر شیطان نے قوم کو سارا واقعہ بتادیا اور دفن کی جگہ کی بھی نشاندہی کردی لوگوں نے عوتر کی لاش کو برآمد کرلیا اور راہب کو قتل کرنے کے لئے صومعہ سے نیچے اتار لائے، اسی وقت شیطان حاضر ہوا اور اس راہب سے وعدہ کیا کہ اگر وہ اسے سجدہ کرے تو وہ اسے ان کے ہاتھ سے بچا سکتا ہے، چناچہ راہب نے اس کو سجدہ کردیا، اس کے بعد شیطان نے اس سے برأت ظاہر کردی۔ (حمل)
Ayahs 59:18–20

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 59:18 in the Quran reader

اے ایمان والو ! خدا سے ڈرتے رہو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہئے کہ اس نے کل (یعنی فروائے قیامت) کیلئے کیا (سامان) بھیجا ہے اور ہم پھر کہتے ہیں کہ خدا ہی سے ڈرتے رہو۔ بیشک خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے۔

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰىهُمْ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 59:19 in the Quran reader

اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جنہوں نے خدا کو بھلا دیا تو خدا نے ایسا کردیا کہ خود اپنے تئیں بھول گئے یہ بد کردار لوگ ہیں۔

لَا یَسْتَوِیْۤ اَصْحٰبُ النَّارِ وَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ؕ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 59:20 in the Quran reader

اہل دوزخ اور اہل بہشت برابر نہیں اہل بہشت تو کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔

ترجہ : اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر شخص غور کرلے کہ کل (قیامت کے دن) کے واسطے (اعمال) کا کیا (ذخیرہ) بھیجا ہے ؟ اور (ہروقت) اللہ سے ڈرتے رہو اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے اور تم ان لوگوں کے مانند مت ہوجانا جنہوں نے اللہ (کے احکام) کو بھلا دیا یعنی اس کی اطاعت کو ترک کردیا تو اللہ نے بھی انہیں ان کی جانوں سے غافل کردیا اس بات سے کہ وہ اپنی ذات کے لئے نیکی آگے بھیجیں، ایسے ہی لوگ فاسق ہوتے ہیں، اہل نار اور اہل جنت ابہم برابر نہیں، جو اہل جنت ہیں وہی کامیاب ہیں، اور اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کرتے اور اس کے اندر انسان کے مانند شعور پیدا کردیا جاتا تو تو دیکھتا اس کو کہ خشیت الٰہی سے وہ پست ہو کر پھٹا جاتا ہے ہم ان مذکورہ مثالوں کو لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور کریں، پھر ایمان لے آئیں، ویہ اللہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں غائب اور حاضر یعنی پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے وہ مہربان اور رحم کرنے والا ہے وہی اللہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، بادشاہ ہے سب باتوں سے جو اس کی شایان شان نہیں پاک صاف ہے، تمام نقائص سے سالم ہے اپنے سرلووں کی ان کے لئے معجزات کی تخلیق کر کے نصرت کرنے والا ہے نگہبان ہے یہ ہیمن یھیمن سے مشتق ہے یعنی جب کسی شئی پر نگہبان ہو یعنی اپنے بندوں کے اعمال کا مشاہدہ کرنے والا ہے قوی ہے جبار ہے اس نے اپنی مخلوق کو بنایا جیسا چاہا، بڑائی والا ہے (برتر ہے) اس شئی سے جو اس کے لائق نہیں اللہ پاک ہے اس نے اپنی خود ہی پاکی بیان کی ہے ان چیزوں سے جن کو اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں وہی اللہ ہے پیدا کرنے والا عدم سے وجود بخشنے والا صورت بنانے والا اس کے ننانوے نہایت اچھے نام ہیں جن کے بارے میں حدیث وارد ہوئی ہے اور حسنی احسن کا مئونث ہے، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اس کی پاکی بیان کرتی ہے وہی غالب حکمت والا ہے ایسا ہی اس سورت کے شروع میں گذر چکا ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : ترکوا طاعتہ اس عباتر کے اضافہ سے اشارہ کردیا کہ یہاں نسیان کے لازم معنی مراد ہیں جو کہ ترک ہیں، اس لئے کہ نسیان کے لئے ترک لازم ہے، نہ کہ عدم حفظ و الذکر قولہ : ان قدموا لھا خیراً اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عبارت حذف مضاف کے ساتھ ہے، تقدیر عبارت یہ ہے کہ فانساھم تقدم خیر لانفسھم تفسیر و تشریح یایھا الذین آمنوا اتقوا اللہ اہل ایمان کو مخاطب کر کے انہیں نصیحت کی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے، کہ تقویٰ اختیار کرو، اور ہر نفس اس بات پر غور کرلے کہ اس نے آخرت کے لئے کیا سامان بھیجا ہے۔ اس آیت میں چند باتیں غور طلب ہیں اول یہ کہ اس آیت میں قیامت کو لفظ غد سے تعبیر کیا ہے جس کے معنی ہیں آنے والی کل، اور کل سے مراد ہے آخرت، گویا کہ دنیا کی پوری زندگی آج ہے اور کل وہ قیامت کا دن ہے جو اس آج کے بعد آنے والا ہے، غد کے لفظ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جس طرح آج کے بعد کل کا آنا یقینی ہے، اسی طرح دنیا کے بعد آخرت کا آنا ضروری اور یقینی ہے، جس طرح آج کے بعد کل کے آنے میں کسی کو شبہ نہیں ہوتا، اسی طرح قیامت کا آنا بھی بےریب ہے، دوسری بات یہ کہ اس میں قرب قیامت کی طرف اشارہ ہے جس طرح آج کے بعد کل جلدی ہی آجاتی ہے، اسی طرح قیامت جلدی آنے والی ہے، ایک قیامت تو پورے عالم کی ہے جس دن زمین آسمان سب فنا ہوجائیں گے وہ بھی اگرچہ ہزاروں لاکھوں سال بعد ہو مگر بمقابلہ آخرت کی مدت کے بالکل قریب ہی ہے، دوسری قیامت ہر انسان کی ہے جو اس کی اپنی ہے جو اس کی موت کے وقت آجاتی ہے جیسا کہ مقولہ مشہور ہے من مات فقد قامت قیامتہ یعنی جو شخص مرگیا اس کی قیامت قائم ہوگئی، کیونکہ عالم برزخ ہی سے قیامت کے آثار شروع ہوجاتے ہیں، کیونکہ عالم قبر جس کو عالم برزخ بھی کہتے ہیں اس کی مثال دنیا کی انتظار گاہ (ویٹنگ روم) کی سی ہے، جو فرسٹ کلاس سے لیکر تھرڈ کلاس تک کے لوگوں کے لئے مختلف قسم کے ہوتے ہیں اور مجرموں کا ویٹنگ روم، حوالات یا جیل خانہ ہوتا ہے اسی انتظار گاہ سے ہر شخص اپنا اپنا درجہ متعین کرسکتا ہے، اس لئے مرنے کے ساتھ ہی ہر شخص کی قیامت آجاتی ہے۔ دوسری بات جو غور طلب ہے وہ یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے اس میں انسان کو اس پر غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے کہ قیامت جس کا آنا یقینی بھی ہے اور قریب بھی، اس کے لئے تم نے کیا سامان بھیجا ہے ؟ اس سے معلوم ہوا کہ انسان کا اصلی وطن آخرت ہے دنیا میں تو یہ چند دن کے لئے ویزے پر آیا ہوا ہ، اس کی نیشنلٹی تو آخرت کی ہے یعنی یہ حقیقی طور پر آخرت ہے دنیا میں تو یہ چند دن کے لئے ویزے پر آیا ہوا ہے، اس کی نیشنلٹی تو آخرت کی ہے یعنی یہ حقیقی طور پر آخرت کا باشندہ ہے، جس طرح دنیا میں اپنے ملک سے ویزا لے کر دوسرے ملک جاتے ہیں اور وہاں جا کر کچھ کما کر اپنے وطن کو نہ بھیجے اور سراسر بھول جائے، اور یہ بات ظاہر ہے کہ یہاں سے دنیا کا سامان مال و دولت کوئی شخص وہاں ساتھ نہیں لے جاسکتا تو بھیجنے کی ایک ہی صورت ہے کہ ایک ملک سے دوسرے ملک مال منتقل کرنے کا جو طریقہ ہے کہ یہاں کی حکومت کے بینک میں جمع کر کے دوسرے ملک کی کرنسی حاصل کرے جو وہاں چلتی ہے، یہی صورت آخرت کے معاملہ میں بھی ہے کہ جو کچھ یہاں اللہ کی راہ میں اور اللہ کے احکام کی تعمیل میں خرچ کیا جاتا ہے وہ آسمانی حکومت کے بینک میں جمع ہوجاتا ہے اور وہاں کی کرنسی ثواب کی صورت میں اس کے لئے لکھ دی جاتی ہے اور وہاں پہنچ کر بغیر کسی دعوے اور مطالبہ کے اس کے حوالہ کردی جاتی ہے، کس قدر نادان ہے وہ شخص جو آج کے لطف و لذت میں اپنا سب کچھ لٹا رہا ہے اور نہیں سوچتا کہ کل اس کے پاس کھانے کو روٹی اور سرچھپانے کو جگہ بھی باقی نہیں رہے گی یا نہیں ؟ اسی طرح وہ شخص بھی اپنے پائوں پر کلہاڑی مار رہا ہے جو اپنی دنیا بنانے کی فکر میں ایسا منہمک ہے کہ اپنی آخرت سے بالکل غافل ہوچکا ہے۔ فانسھم انفسھم یعنی ان لوگوں نے اللہ کو بھول اور نسیان میں کیا ڈالا درحقیقت خود اپنے آپ کو بھول میں ڈال دیا کہ اپنے نفع نقصان کی خبر نہ رہی، یعنی خدا فراموشی کا لازمی نتیجہ خود فراموشی ہے، جب آدمی یہ بھول جاتا ہے کہ وہ کسی کا بندہ ہے تو لازما وہ دنیا میں اپنی ایک غلط حیثیت متعین کر یٹھتا ہے، اسی طرح جب وہ یہ بھول جاتا ہے کہ وہ ایک خدا کے سوا کسی کا بندہ نہیں ہے تو وہ اس ایک خدا کی بندگی تو نہیں کرتا جس کا وہ درحقیقت بندہ ہے اور ان بہت سوں کی بندگی کرتا رہتا ہے جن کا وہ فی الواقع بندہ نہیں ہے جو سراسر قانون دنیا کی بھی خلاف ہے۔
Ayahs 59:21–24

لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَیْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 59:21 in the Quran reader

اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو تم دیکھتے کہ خدا کے خوف سے دبا اور پھٹا جاتا ہے اور یہ باتیں ہم لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور و فکر کریں

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ۚ هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ Open ayah 59:22 in the Quran reader

وہی خدا ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا وہ بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 59:23 in the Quran reader

وہی خدا ہے جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں۔ بادشاہ حقیقی پاک ذات (ہر عیب سے) سالم امن دینے والا نگہبان غالب زبردست بڑائی والا۔ خدا ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے۔

هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ؕ یُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 59:24 in the Quran reader

وہی خدا (تمام مخلوقات کا) خالق ایجاد واختراع کرنیوالا صورتیں بنانے والا اسکے سب اچھے سے اچھے نام ہیں جتنی چیزیں آسمانوں اور زمین میں ہیں سب اس کی تسبیح کرتی ہیں اور وہ غالب حکمت والا ہے۔

لو انزلنا ھذا القرآن علی جبل لرایتہ خاشعاً متصدعاً من خشیۃ اللہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ قرآن جس طرح خدنا کی کبریائی اور اس کے حضو ربندے کی ذمہ داری اور جواب دہی کو صاف صاف بیان کر رہا ہے، اس کا فہم اگر پہاڑ جیسی عظیم مخلوق کو نصیب ہوتا اور اسے معلوم ہوجاتا کہ اس کو رب قدیر کے سامنے جواب دہی کرنی ہے تو وہ بھی خوف سے کانپ اٹھتا لیکن حیرت کے لائق ہے اس انسان کی بےحسی اور بےفکری کہ جس انسان کے دل پر قرآن کا کچھ اثر نہ ہو حالانکہ قرآن کی تاثیر اس قدر زبرسدت ہے کہ اگر وہ پہاڑ جیسی مضبوط اور سخت چیز پر اتارا جاتا اور اس میں سمجھ کا مادہ موجود ہوتا تو وہ بھی متکلم کی عظمت کے سامنے دب جاتا اور مارے خوف کے پارہ پارہ ہو جتا، حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی رحمتہ اللہ ت عالیٰ کے والد محترم کی ایک طویل نظم کے تین شعر جو محل اور موقع کے لحاظ سے موزوں ہیں نقل کئے جاتے ہیں۔ (فوائد عثمانی) سنتے سنتے نغمہ ہائے محفل بدعات کو کان بہرے ہوگئے دل بدمزہ ہونے کو ہے آئو سنوائیں تمہیں وہ نغمہ مشروع بھی پارہ جس کے لحن سے طور ہدیٰ ہونے کو ہے حیف گرتاثیر اس کی تیرے دل پر کچھ نہ ہو کوہ جس سے خاشعاً متصدعا ہونے کو ہے حضرت شاہ صاحب رحمتہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یعنی کافروں کے دل بڑے سخت ہیں کہ یہ کلام سن کر بھی ایمان نہیں لاتے اگر پہاڑ سنیں تو وہ بھی دب جائیں، یہ تو کلام کی عظمت کا ذکر تھا اگلی آیت ھو اللہ الذی لا الہ الا ھو الخ میں متکلم کی عظمت کا ذکر ہے، قرآن مجید میں اگرچہ جگہ جگہ اللہ تعالیٰ کی صفات بےنظیر طریقہ سے بیان کی گئی ہیں، جن سے ذات الٰہی کا نہایت واضح تصور حاصل ہوتا ہے لیکن دو مقامات ایسے ہیں جن میں صفات باری کا جامع ترین بیان پایاج اتا ہے، ایک سورة بقرہ میں آیت الکرسی دوسرے سورة حشر کی یہ آیات۔ روایات میں سورة حشر کی ان تین آیتوں ھو اللہ الذی لا الہ الا ھو سے آخر تک کی بہت فضیلت آئی ہے مومن کو چاہیے کہ صبح و شام ان آیات کی تلاوت کی پابندی رکھے۔