Ayahs 60:1–3قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الذین امنوا الا تتخذوا عدوی وعدوکم اولیآء ..... الی ..... واللہ بما تعملون بصیر “۔
(ربط) حاطب بن ابی بلتعہ ؓ اگرچہ ایک مخلص صحابی تھے جن کو عزوۂ بدر کی شرکت نصیب ہوئی تھی اور جملہ اہل بدر خدا کی نظر میں وہ مقدس ہستیاں تھے جن کے لیے بارگاہ خداوندی سے پروانہ مغفرت جاری ہوچکا تھا مگر بہرکیف غلطی خواہ کسی سے بھی ہو اچھی بات نہیں ہے اس سے بچنا ہر ایک کے لیے لازم ہے تو حکم خداوندی نازل ہوا کہ مسلمان کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ خدا کے دشمنوں اور خود اپنے دشمنوں کو اپنا دوست بنائیں اور ان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائیں، ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ مومن کے قلب میں کفر اور کافروں کی نفرت اور بغض ہو اور یہ بات تو انسانی حمیت بھی چاہتی ہے کہ جب کافر مسلمان سے دشمنی پر تلے ہوئے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ مسلمان ایسے دشمن سے محبت کرے، اسی حکم اور ہدایت کو اس طرح ارشاد فرمایا جارہا ہے۔
اے ایمان والو ! ہرگز نہ بناؤ میرے دشمن اور اپنے دشمن کو اپنا دوست کہ بھیجتے ہو تم ان کو پیغام دوستی کے ساتھ اور ایسی باتیں ان کی طرف بھیجتے ہو جن سے یہی سمجھا جاسکتا ہے کہ تم ان سے محبت ودوستی کرتے ہو۔ اور دوستی کا ہاتھ انکی طرف بڑھا رہے ہو، حالانکہ وہ انکار کرچکے ہیں اس حق کا جو تمہارے پاس آیا ہے نہ انہوں نے اس حق کو مانا اور نہ ایمان لائے بلکہ دشمنی ہی پر کمر بستہ رہے ایسی صورت میں تو عقلا وطبعا یہ توقع نہیں ہوسکتی کہ ان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایاجائے، ان کی دشمنی کی یہ انتہاء ہے وہ نکال رہے ہیں، رسول اللہ ﷺ کو اور تم کو تمہارے گھروں سے، اور ہجرت پر مجبور کیا اور اب تک بھی وہ اسی روش پر قائم ہیں محض اس وجہ سے کہ تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر جو تمہارا رب ہے، حالانکہ یہ کوئی قصور نہیں بلکہ حق وہدایت کو قبول کرنا تو عقلا مستحسن بات ہے پھر بھی وہ تمہاری دشمنی پر تلے ہوئے ہیں، اے مسلمانو ! اگر تم نکلے ہو میری راہ میں جہاد کرنے کیلئے اور میری رضا مندی حاصل کرنے کے لیے تو پھر دشمنوں کو دشمن سمجھو، اور جن کے ساتھ مقابلہ اور جہاد کرنے کیلئے اور میری رضا مندی حاصل کرنے کے لیے تو پھر دشمنوں کو دشمن سمجھو، اور جن کے ساتھ مقابلہ اور جہاد کے لیے نکلے ہو ان کے ساتھ دشمنوں کا سا معاملہ کرو، یہ بات قابل تعجب ہے کہ پوشیدہ طور پر تم ان کو بھیجتے ہو دوستی کا پیغام کوئی تصور کرنے والا یہ نہ سوچے کہ کسی خفیہ بات کا مجھے علم نہ ہوگا، حالانکہ میں تو خوب جاننے والا ہوں ان باتوں کا جو تم چھپاتے ہو اور ان باتوں کا بھی جو تم ظاہر کرتے ہو چناچہ حاطب ؓ کی بات کا پتہ چل ہی گیا حالانکہ اس کو مخفی رکھنے کی کوشش کی گئی تھی، الغرض یہ بات انتہائی خطرناک اور ناپسندیدہ ہے اور جو شخص بھی تم میں سے ایسا کرے گا وہ سیدھے راستہ سے بھٹک جائے گا، انسان کی یہ فطرت ہے اور حمیت کا تقاضا ہے کہ اپنے دشمن سے نفرت کرے، پھر جب کہ یہ دشمن تو ایسے ہیں اگر یہ تم پر قابو پالیں اور ان کا کسی طرح تم پر بس چل جائے تو یہ تمہارے کھلم کھلا دشمن بن جائیں اور دراز کریں تمہاری طرف اپنے ہاتھ ظلم وتعدی کے اور زبانیں بھی برائی کے ساتھ اور یہی چاہیں کہ کسی طرح تم کافر ہوجاؤ، اس لیے یہ کسی طرح بھی ممکن نہیں کہ ایسے دشمنوں سے بھلائی کی امید رکھی جائے تو آخر پھر یہ مسلمان ایسے دشمنوں سے کیوں رواداری برت رہے ہیں یہ تو سخت غلطی اور بہت بڑی بھول ہے، بلاشبہ ایسے خبیث اور بدباطن دشمن اس لائق نہیں ہیں کہ ان کو پیغام دوستی بھیجا جائے اور کافر تو غایت دشمنی میں یہی چاہتا ہے اور اس کی کوشش بھی یہی ہوتی ہے کہ وہ تم کو کافر بنا دے جو کافر تمہاری عزت و عظمت اور دین و ایمان کا دشمن ہے ان سے ہمدردی یا دوستی کا معاملہ کیسے عقل و فطرت کے لحاظ سے درست ہوسکتا ہے۔
اہل و عیال کی محبت میں ایسی غلطی کر بیٹھنا جس طرح کہ حاطب ؓ سے ہوئی، اے مسلمانو ! ہرگز تم سے ایسی غلطی کا ارتکاب نہ ہونا چاہئے، سمجھ لینا چاہئے کہ جس اولاد وخاندان کی محبت میں تم اس قسم کی غلطی کرو گے ہرگز کام نہ آئیں گی تمہاری قرابتیں اور نہ تمہاری اولاد قیامت کے دن اللہ رب العزت تو ہر ایک کا عمل دیکھتا ہے، وہ فیصلہ کریگا تمہارے درمیان اسی کے مطابق، اور اللہ تعالیٰ خوب دیکھتا ہے ہر وہ کام جو تم کرتے ہو پھر سوچو اور فیصلہ کرو یہ کہاں کی عقلمندی ہے کہ ایک مسلمان اہل و عیال یا خاندان کی محبت میں ایسا کام کربیٹھے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ناراض کردینے والا ہو حالانکہ مومن کی زندگی میں تو ہر چیز سے مقدم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خوشنودی ہے اس کی رضا سے وہ سب پریشانیاں بھی دور ہوجاتی ہیں، جن کے باعث بسا اوقات انسان ایسا کر گزرتا ہے۔
Ayahs 60:4–6ترغیب اہل اسلام برائے اسوہ حسنہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قد کانت لکم اسوۃ حسنۃ ...... الی ...... ھو الغنی الحمید “۔
(ربط) سورة ممتحنہ کی گزشتہ آیات میں کافروں کے ساتھ دوستی پر وعید ومذمت تھی اور اس طرح کا ایک واقعہ حاطب ؓ کے ساتھ پیش آگیا تھا اس پر تنبیہ کرکے فرمادیا گیا تھا کہ مسلمان کو اپنے اور خدا کے دشمن کے ساتھ دوستانہ روابط ومراسم قائم کرنے کی قطعی اجازت نہیں۔
تو اب ان آیات میں دشمنان اسلام اور دشمنان خدا کے ساتھ جو بغض ونفرت کے جذبات مسلمان کے قلب میں ہونے چاہئیں ان کی ہدایت وتاکید فرمائی جارہی ہے، فرمایا اے مسلمانو ! بیشک تمہارے واسطے ایک بہترین نمونہ ہے ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی میں اور ان کے ساتھیوں کی زندگی میں جب کہ انہوں نے کہہ دیا ہم نے بلاشبہ تمہارا انکار کیا اور ہم ہر چیز میں تمہارے سے نفرت وقطع تعلق کرچکے ہیں، اور کھل گئی ہے ہمارے اور تمہارے درمیان دشمنی اور بغض ونفرت ہمیشہ کے لیے یہاں تک کہ تم ایک اللہ پر ایمان لے آؤ، اور شرک چھوڑ کر خدا نے وحدہ لاشریک لہ پر ایمان نہ لے آؤ اس وقت تک ہمارے اور تمہارے درمیان یہ بغض ونفرت اور عداوت قائم رہے گی، اسوۂ ابراہیمی یہی ہے اور مسلمانوں کو اسی کا اتباع کرنا چاہئے، لیکن ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ کہنا اپنے باپ کے لئے کہ اے باپ میں تیرے واسطے ضرور بالضرور استغفار کروں گا اور میں تیرے واسطے کسی نفع کا مالک نہیں ہوں، خدا کے سوا وہی جو چاہتا ہے اور جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے میں تو صرف دعا ہی کرسکتا ہوں اصل عطا کرنے والا تو وہی رب ہے تو ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا اس اسوۂ ابراہیمی کے خلاف نہ تھی جس کا اے مسلمانوتم کو حکم دیا جارہا ہے کہ کافروں سے اعلان دشمنی اور نفرت کردیا جائے، اس لیے کہ اول تو ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا استغفار اس وقت تھی کہ جب ان کو اس بات کا علم نہ تھا کہ کافر کے لیے بخشش کی دعا کرنا درست نہیں لیکن جب معلوم ہوگیا تو ہر قسم کے جذبہ محبت اور اس کے تصور یا طلب سے براءت وبیزاری ظاہر کی جیسا کہ ارشاد فرمایا دیا گیا۔ (آیت) ” وما کان استغفار ابرھیم لابیہ الا عن موعدۃ وعدھا ایاہ فلماتبین لہ انہ عدو للہ تبرا منہ ان ابرھیم لاواہ حلیم “۔ ثانیا یہ بھی امکان ہے کہ یہ دعاء استغفار بمعنی طلب ایمان اور دعاء ہدایت ہو، اور کسی کافر کے واسطے ہدایت کی دعا مانگنا کفر اور کافر سے عداوت ونفرت کے منافی نہیں ہے اس لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ جو دعا مانگی یہ اعلان بغض وبراءت کے خلاف نہ تھی اس وجہ سے کسی کو ابراہیم (علیہ السلام) کے تو اسوۂ حسنہ میں یہ جذبات اور دعائیں بھی ہیں کہ اے ہمارے رب ہم نے تجھ ہی پر بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف ہم نے رجوع کیا کہ ہر چیز میں تو ہی کارساز ہے اگر ہم کافروں سے دشمنی وبراءت اختیار کریں گے تو ان کی دشمنی کا اور ان سے علیحدگی کا ہمیں کوئی خود واندیشہ نہیں اس لیے کہ ہم نے تجھ ہی پر بھروسہ کرلیا اور ہر پریشانی اور ضرورت کے لیے ہم نے دنیا سے اپنا رخ موڑ کر تیری ہی طرف اپنا رخ کرلیا اور کیوں نہ کریں جبکہ تیری ہی طرف لوٹنا ہے، اے اللہ ہم کمزور ہیں مصائب وشدائد برداشت کرنے کی طاقت نہیں تو اے پروردگار تو ہم کو کافروں کی آزمائش کا محل اور تختہ مشق نہ بنانا اور ہم کو معاف کردینا اگر کسی وقت صبر و استقامت کو ہاتھ سے چھوڑ دیں اے ہمارے رب بیشک تو بڑی ہی عزت و حکمت والا ہے کہ تیری ہی عزت وقوت سے ہم کافروں کے مقابلہ میں زور آور ہوسکتے ہیں اور ہمارے ایمان ہے کہ اگر کسی وقت کافروں کے ہم تختہ مشق بنیں اور وہ اپنی ظاہری اور عارضی کامیابی پر ہمارا مذاق اڑائیں تو یہ بھی تیری حکمت سے ہماری اصلاح وتنبیہ کے لیے ہوگا۔
یقیناً اس بیان کردہ ضابطہ میں اے مسلمانو ! ایک بہترین نمونہ ہے ہر اس شخص کے لیے اس میں ایک عظیم سامان ہدایت و استقامت ہے جو امید رکھتا ہے اللہ کی اور قیامت کے روز کی تو بیشک ایسے لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کی روش اختیار کریں گے اور ان کو اس بات کی ذرہ برابر پرواہ نہ ہوگی کہ دنیا ایسے لوگوں کو متعصب اور تنگ نظر کہے وہ دنیا کے موحد اعظم ہی کے نقش قدم پر چلیں گے اور اپنے ایمان و اعتقاد سے اسی بات پر یقین واعتماد رکھیں گے کہ مستقبل کی کامیابی اور عزت و عظمت کفر اور کافروں سے اعلان براءت وبیزاری ہی میں ہے وقتی مفاد اور عارضی منفعت کی خاطر کافروں سے دوستی گانٹھنا کوئی اچھی بات نہیں بلکہ مسلمان قوم کے لیے مہلک اور خطرناک ہے، یہ ہے وہ ضابطہ جس پر مسلمان کی فلاح و کامیابی اور عظمت و ترقی موقوف ہے جو اس نعمت کو اختیار کرے گا وہ اس نعمت سے سرفراز ہوگا اور جو شخص اس سے منہ موڑے گا وہ خود ہی کو ذلیل وناکام بنائے گا بس اللہ تو ہر حال میں بےنیاز قابل تعریف ہے اس کو نہ کسی کو اطاعت کی ضرورت ہے اور نہ کسی کی روگردانی سے اس کو کچھ نقصان ہے۔
Ayahs 60:7–9تسلی اہل ایمان بذکر بشارت و کامیابی مسلمین براعدائے اسلام و اجازت حسن سلوک از کافران امن پسند ومصالحین “۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عسی اللہ ان یجعل بینکم ..... الی فاولئک ھم الظلمون “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں کفار مشرکین کے ساتھ بغض ونفرت اور براءت وبیزاری کا ذکر تھا کہ یہی اسوۂ ابراہیمی ہے مسلمانوں کو اسی کو اختیاری کریں، اب ان آیات میں مستقبل قریب میں پیش آنے والے غلبہ اور کامیابی کا ذکر ہے اور ضمنا اشارہ ہے کہ کچھ تو میں کافروں میں سے ایمان لے آئیں گی اور یہ اجازت وہی جارہی ہے کہ جس کسی کافر نے اب تک مسلمانوں کے ساتھ کوئی قتال نہیں کیا اور نہ دشمنی کا کوئی معاملہ کیا اور نہ ہی انہوں نے مسلمانوں کو ہجرت پر مجبور کیا ان کے ساتھ مسلمانوں کو رواداری اور حسن سلوک کی اجازت دی جاتی ہے، فرمایا۔
امید ہے کہ اللہ تعالیٰ دوستی قائم کردے تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جن کے ساتھ تمہاری دشمنی ہے اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے دوستانہ اور برادرانہ تعلقات قائم ہوجائیں چناچہ فتح مکہ کے وقت ایسا ہی ہوا کہ ساری عمر دشمنی کرنے والے اور ایک دوسرے کے مقابلہ میں تلوار اٹھانے والے ایک دوسرے کے بھائی بن گئے اور وہ ابوسفیان ؓ جو بدر واحد میں کافروں کی فوجوں کی کمان کررہے تھے۔ اب وہ مجاہدین اسلام کے سپہ سالار ہوگئے اور کل گزشتہ ایک دوسرے کے خون کے دشمن اب ایک دوسرے پر جان قربان کرنے کو تیار ہوگئے اور کل گزشتہ ایک دوسرے کے خون کے دشمن اب ایک دوسرے پر جان قربان کرنے کو تیار کرکے نہ گھبرانا چاہئے، بیزاری اور باہمی بغض کی یہ فضا بہت جلد ختم ہو کر باہمی مودت اور اخوت کی فضا قائم ہوجائے گی اور اللہ تعالیٰ بڑی ہی مغفرت ومہربانی۔ فرمانے والا ہے، اور ایک عرصہ کفر کے بعد جو لوگ اسلام لے آئیں، خدا کی رحمت ومغفرت سے ان کو بھی نوازدیا جاتا ہے بارگاہ خداوندی میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ ماضی میں اس نے کیا کیا بلکہ اس کی بارہ گاہ سے تو یہی اعلان ہے، (آیت) ” یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا “۔
دوستی اور ہمدردی کے رشتے اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے قائم کرنے سے منع فرماتا ہے جنہوں نے مسلمانوں کے ساتھ دشمنی کی، اس کے برعکس اللہ تعالیٰ تم کو منع نہیں کرتا ہے ان لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے سے جنہوں نے تمہارے سے نہ تو قتال کیا دین کے معاملے میں اور نہ ہی تم کو تمہارے گھروں سے نکالا اور اس پر مجبور کیا تو اللہ تعالیٰ تم کو منع نہیں کرتا ہے اس چیز سے کہ تم ان کے ساتھ کوئی بھلائی کرو اور ان سے انصاف کا سلوک کرو بیشک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ تو صرف ایسے لوگوں کے ساتھ دوستی اور اچھا سلوک کرنے سے منع کرتا ہے جنہوں نے تم سے قتال کیا دین کے معاملہ میں اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا اور دوسروں کی بھی مدد کی تمہارے نکالنے پر اور گھروں سے تم کو اجاڑنے پر کہ ایسے لوگوں سے تم دوستی کرو ظاہر ہے کہ ایسے ظالموں اور دشمنوں سے دوستانہ برتاؤ بہت ہی بدترین چیز اور خود اپنے اوپر سخت ظلم ہے اس بناء پر یہ اصول فراموش نہ کرنا چاہئے کہ اور جو بھی ایسے ظالموں سے دوستی کریں وہ ظالم ہیں۔
اور گناہگار ہیں اس لیے کہ ظالموں کے ساتھ دوستی کا انجام خود ہی اپنے اوپر ظلم اور اپنی ہلاکت کا سامان مہیا کرنا ہے اور ظاہر ہے کہ اس بڑھ کر اور کیا ظلم ہوسکتا ہے، ہر برائی کا انجام صاحب عمل ہی کی طرف لوٹا کرتا ہے،
ابن ابی حاتم (رح) بروایت ابن شہاب زہری (رح) بیان کرتے ہیں کہ ابوسفیان بن صخر ؓ کو آنحضرت ﷺ نے یمن کے کسی علاقہ پر عامل بنا کر روانہ فرمایا تھا جب آنحضرت ﷺ کی رحلت ہوئی تو یہ واپس لوٹے راستہ میں ذوالخمار سے مقابلہ ہوا جو مرتد ہوچکا تھا اور اس سے قتال کی نوبت آئی تو یہ مثال ہوئی ان لوگوں کی جن سے قتال ہوا۔
صحیح مسلم میں ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ابوسفیان ؓ (جب فتح مکہ کی رات ایمان لے آئے) تو آنحضرت ﷺ سے درخواست کی یا رسول اللہ ﷺ تین چیزیں میں آپ ﷺ سے چاہتا ہوں مجھے عطا کردیجئے آپ ﷺ نے فرمایا (اچھا مانگو وہ کیا ہیں) ان میں ایک یہ بھی درخواست تھی کہ آپ ﷺ مجھے اب اجازت دیجئے کہ میں کافروں سے اسی طرح قتال کروں جیسا کہ میں (پہلے) مسلمانوں سے قتال کرتا تھا تو یہ ہے وہ بات جس کو حق تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا امیدا ہے کہ تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جنہوں نے تم سے قتال کیا اللہ تعالیٰ محبت پیدا فرما دے۔
ہشام بن عروہ ؓ فاطمہ بنت المذر ؓ سے بیان کرتے ہیں کہ اسماء بنت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا ایک دفعہ میری ماں مشرکہ میرے پاس آگئی اس زمانہ میں جب کہ قریش مکہ سے معاہدہ ہوا تھا تو میں نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میری ماں آئی ہے اور وہ مشرکہ ہے اور وہ چاہتی ہے کہ میں اس کے ساتھ کچھ سکوک کروں آپ ﷺ نے فرمایا ہاں تم اس کے ساتھ صلہ رحمی کرو تو یہ بات وہی ہے جس کو قرآن کریم کی یہ آیت اجازت دے رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کافروں کے ساتھ سلوک کرنے سے منع نہیں کرتا جو نہ تم سے لڑے اور نہ انہوں نے کوئی دشمنی کی یہ ممانعت صرف دشمنی اور قتال کرنے والوں سے ہے۔ کرام ؓ اجمعین
Ayahs 60:10–13حکم امتحان مہاجرات مومن ات و احکام بیعت و اطاعت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الذین امنوا ..... الی ...... من اصحب القبور “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں کافروں کے ساتھ دوستی اور موالات کے کچھ احکام بیان کیے گئے تھے اور یہ تلقین کی گئی تھی کہ مسلمانوں کو اس معاملہ میں اسوۂ ابراہیماختیار کرنا چاہئے اور نہایت واضح طور پر منع کردیا گیا کہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کے ساتھ کسی طرح موالات و دوستی جائز نہیں اسی کے ساتھ ان کافروں سے بہتر سلوک کرنے کی اجازت دے دی گئی جو نہ تو کبھی مسلمانوں سے لڑے اور نہ کسی قسم کی دشمنی کی اب ان آیات میں بعض خاص احکام ایسی عورتوں کے متعلق بیان کیے جارہے ہیں جو ہجرت کرکے دارالاسلام آجائیں، صلح حدیبیہ میں جو معاہدہ ہو اور جو شرائط معاہدہ طے ہوئی تھیں ان میں یہ تھا ” علی ان لایاتیک منا رجل وان کان علی دینک الا رددتہ الینا “۔ (ہم قریش مکہ اس پر معاہدہ کرتے ہیں کہ جو بھی مرد ہمارے پاس سے تمہارے پاس پہنچ جائے تو مسلمان اس کو واپس کرنے کے پابند ہوں گے، اگرچہ وہ تمہارے دین پر ہو) تو آنحضرت ﷺ نے اس معاہدہ کی رو سے جو مرد مسلمان مکہ سے مدینہ نکل کر آئے ان کو واپس فرمایا جیسے ابو جندل بن سہیل کو قریش مکہ کے حوالے فرمادیا جب کہ وہ کفار کی قید سے نکل کر آنحضرت ﷺ کے پاس پہنچ گئے تھے لیکن معاہدہ میں لفظ مرد تھا اس وجہ سے عورتوں کا واپس کرنا اس میں شامل نہ تھا چناچہ آپ ﷺ نے ایسی مہاجر خواتین کی واپس کا انکار فرمادیا جو کفار کی قید سے چھوٹ کر آپ ﷺ کے پاس پہنچیں، جیسے قبیلہ اسلم کی سبیعہ بنت حارث ؓ ان کا خاوند مسافر مخزومی دوڑا ہوا مقام حدیبیہ پہنچا چناچہ روایات میں ہے کہ اس معاہدہ کے جب ام کلثوم ؓ ہجرت کرکے آپ ﷺ کے پاس پہنچیں تو ان کے دو بھائی عمارہ اور ولید مکہ سے فورا آپ ﷺ کے پاس پہنچے اور واپسی کے لیے گفتگو کی تو آپ ﷺ نے واپس بھیجنے سے انکار کردیا اور اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرما دی (آیت) ” فلا ترجعوھن الی الکفار “۔ اور اس آیت نے واضح کردیا کہ یہ حکم عورتوں کے متعلق نہیں اور یہ حکم بھی اتارا گیا کہ ان کا امتحان لے لیا کرو تاکہ معلوم ہوجائے کہ وہ مومن ات ہیں اور احکام بیعت بھی نازل فرمائے تو ارشاد فرمایا۔
اے ایمان والو ! جب تمہارے پاس آجائیں ایمان والی عورتیں ہجرت کرتی ہوئی تو ان کا امتحان کرلو خوب جانچ لو کہ وہ ایمان اور اخلاص کیساتھ ہجرت کرکے آئی ہیں اللہ تو خوب جانتا ہے ان کے ایمان کو لیکن مسلمانوں کو اپنے درمیان احکام اسلام کسی پر جاری کرنے کے لیے یہ قانون نازل کیا جارہا ہے بہرحال اگر امتحان وتحقیق کے بعد جان لو کہ یہ ایمان والی ہیں تو ان کو کافروں کی طرف مت واپس کرو اب جب کہ یہ ایمان لاکر اور ہجرت کرکے دارالاسلام آگئیں تو نہ یہ عورتیں ان کافروں یعنی اپنے کافر خاوندوں کے لیے حلال ہیں اور نہ وہ مروان مہاجر عورتوں کے لیے حلال ہیں اور دیدو ان مردوں کو جو کچھ انہوں نے ان عورتوں پر خرچ کیا اور اس وجہ سے کہ اب وہ عورتیں اسلام لاکر ہجرت کرتی ہوئی دارالاسلام آگئی ہیں ان کا نکاح پہلے کافر شوہروں سے ختم ہوگیا تو عدت فسخ گزرنے پر کوئی حرج نہیں ہے اگر تم ان عورتوں سے نکاح کرلو جب کہ تم ان کے مہران کودے دو جو بھی مہر اس نکاح کے وقت مقرر کیا جائے وہ بہرحال مرد کے ذمے ہوتا ہے اور اس کا ادا کرنا ضروری ہے۔
اور نہ رکھو تم اپنے قبضہ میں ناموس کافر عوتوں کی اور طلب کرو جو کچھ تم نے خرچ کیا اور چاہئے کہ وہ بھی طلب کرلیں جو انہوں نے خرچ کیا یہی ہے تمہارے واسطے اے لوگو ! اللہ کا حکم جس حکم سے وہ تمہارے درمیان فیصلہ فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا ہی علم والا صاحب حکمت ہے، اس وجہ سے اس کا ہر حکم صحیح اور حکمت ومصلحت پر مبنی ہے تو جب اللہ نے یہ حکم مقرر فرمادیا کہ کافر عورتوں کی ناموس وعصمت نہ روکے رکھو اور اپنے قبضہ میں تھامے نہ رکھو تو اس سے یہ امر واضح ہوگیا کہ کسی مسلمان کو اپنی ان بیویوں کو جو اسلام نہیں لائیں اور کفر پر قائم رہیں ان کو اپنی منکوحہ کی طرح روکے رکھنا درست نہیں بلکہ ان کو چھوڑدیں کہ وہ پھر جس سے چاہیں نکاح کرلیں۔
زہری (رح) بیان کرتے ہیں، اس آیت کے نازل ہونیکے بعد عمر بن الخطاب ؓ نے اپنی دو بیویاں جو مکہ میں مشرک رہ گئی تھیں چھوڑ دیں ایک کا نام قریبہ تھا جو امیتہ بن المغیرہ کی بیٹی تھی جس نے بعد میں مکہ مکرمہ میں معاویۃ بن ابی سفیان ؓ سے نکاح کرلیا تھا اور اس وقت وہ دونوں مشرک تھے دوسری کا نام ام کلثوم تھا جو عمرو بن جرول کی بیٹی اور عبداللہ بن عمر ؓ کی ماں تھی اس نے ابو جہم حذافہ سے نکاح کرلیا اور وہ دونوں بھی اس وقت مشرک تھے۔ 1
حاشیہ 1 (تفسیر ابن کثیر جلد رابع)
اور اگر جاتی رہیں تمہارے ہاتھ سے کچھ عورتیں تمہاری ازواج میں سے کافروں کی طرف پھر تمہاری نوبت آئے تو تم اے مسلمانو ! دے دو ان کو جن کی عورتیں جاتی رہی ہیں جتنا کہ انہوں نے خرچ کیا اور اب وہ عورتیں ان کے پاس نہیں رہیں اس وجہ سے کہ وہ دارالکفر سے ہجرت کرکے مسلمانوں کے پاس نہ آسکیں اور سابق نازل کردہ حکم کی رو سے یہ درست تھا کہ مسلمان اپنی بیویوں پر خرچ کیے ہوئے خرچ کا مطالبہ کریں جیسا کہ مسلمانوں نے ان کافر کا وندوں کو ان کا کیا ہوا خرچ واپس کیا جن کی عورتیں مسلمان ہو کر مدینہ آگئی تھیں۔ 1
حاشیہ 1 (اصل حکم یہ نازل ہوا تھا کہ زوجین میں سے اگر کوئی ایک مسلمان ہو کر ہجرت کرکے دار الاسلام میں آجائے اور دوسرا شرک وکفر پر قائم رہتے ہوئے دارالاسلام کی طرف ہجرت نہ کرے تو اختلاف دارین کے بعد نکاح قائم نہ رہے گا ایسی صورت میں اگر کسی کافر کی عورت مسلمان ہو کر دارالاسلام میں آجائے تو جو مسلمان اس سے نکاح کرکے اس کے ذمہ یہ کیا گیا تھا کہ اس مسلمان عورت کے پہلے خاوند کافر نے جو مہر طے پائے وہ اپنی جگہ ادا کرے اس کے بالمقابل، صورت میں کہ اگر کسی مسلمان مرد کی عورت کافر رہ گئی اور وہ ہر ہجرت کرکے دارالسلام میں نہیں آئی اور یہی معنی ہیں (آیت) ” وان فاتکم شیء من ازواجکم الی الکفار “ کے کہ اگر تم سے تمہاری بیویوں میں سے جاتی رہیں کافروں کی طرف یعنی تم سے ضائع ہوگئیں اور کافروں کے پاس رہ گئیں نہ یہ کہ دارالاسلام العیاذ باللہ کسی مسلمان کی بیوی کافروں کی طرف چلی گئی کیونکہ نہ ایسا ممکن تھا اور نہ ایسا کوئی واقعہ پیش آیا، جس پر تاریخی شواہد موجود ہیں، اگرچہ بعض مفسرین نے محض لفظی وسعت کے باعث اس معنی کو بیان کیا کہ کوئی مسلمان عورت لعیاذ باللہ مرتد ہوکرچلی جائے لیکن جمہور مفسرین کے نزدیک اس کی یہی تفسیر ہے کہ وہ عورتیں بحالت کفر وہیں رہ جائیں اور یہی مفہوم ” جاتی رہنے کا “ بلاشبہ ہے تو اس صورت میں یہ حکم تھا کہ وہ کافر جو اس عورت سے نکاح کرنا چاہے اس کے پہلے خاوند کو اس کا ادا کردہ مہرواپس کردے، اس حکم کے نازل ہونے پر مسلمان تو تیار ہوگئے کہ اسلام لانے والی مہاجر عورتوں کا ہم مہر ادا کردیں، مگر کافر تیار نہ ہوئے اور اس صورت میں کہ دارالکفر میں رہ جانے والے اس عورت سے نکاح کریں جس کا خاوند اسلام لا کر دارالاسلام میں آچکا ہے اس مسلمان کو اس کا دیا ہوا مہر دینے سے انکار کردیا اس پر آیت نازل ہوئی (آیت) ” وان فاتکم شیء من ازواجکم ان الفاظ میں ایسی ہی صورت کا ذکر کرتے ہوئے گویا سابق حکم منسوخ کردیا گیا، اب وہ مسلمان جن کی بیویاں دارالکفر میں رہ گئی ہیں ان کا اپنا ادا کردہ مہر کافروں سے وصول نہیں ہورہا ہے، تو اب مسلمانوں کو چاہئے کہ دار الکفر سے ہجرت کرکے آنے والی مسلمان عورتوں کے ان خاوندوں کو کچھ نہ دین جو دار الکفر میں رہ گئے ہیں (بعض فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر کوئی مسلمان کافر کا دیا ہوا خرچ واپس نہیں کرسکتا تو بیت المال سے ادا کردیا جائے، سبحان اللہ کیسا عدل و انصاف ہے) الغرض (آیت) ” فعاقبتم “ کا مفہوم یہی راجح ہے کہ پھر تمہاری نوبت آئے یعنی مہر لینے کی، دوسرے معنی یہ بھی ہیں کہ کفار سے جہاد کرو اور مال غنیمت حاصل ہو تو اس مال غنیمت سے ان مسلمانوں مردوں کو وہ خرچ اور مہر ادا کردو جو انہوں نے اپنی بیویوں پر کیا تھا جو اسلام نہیں لائیں اور دارالکفر میں رہ گئیں کیونکہ کافر تو یہ خرچ واپس نہیں کررہے ہیں تو اب یہی صورت ہوسکے گی کہ مال غنیمت سے یا بیت المال اس کی تلافی کردے۔
یہ آیت یعنی ” وسئلؤا مآانفقتم ولیسئلوا مآانفقوا “ منسوخ ہے یا اپنے حکم پر باقی ہے ؟ جمہور مفسرین کی رائے یہ ہے کہ یہ حکم چونکہ دو طرفہ ذمہ داریوں پر مشتمل تھا جو صلح حدیبیہ میں طے کردہ معاہدہ کی رو سے تسلیم کیا گیا تھا، مسلمانوں نے تو بلا کسی تردو اور تامل اس پر عمل کیا لیکن کفار مکہ میں سے کسی ایک فرد نے بھی اس پر عمل نہ کیا اس وجہ سے یہ حکم خود بخود منسوخ ہوگیا اور برقرار نہ رہا یا یہ کہہ لیجئے کہ یہ حکم ابتداء ہی سے محدود اور مؤقت تھا کفار مکہ کے لیے بموجب عہد نامہ حدیبیہ، کفار عرب میں بھی مہر دینے کا دستور تھا اور وہ عورت کو پہلے ہی دے دیا جاتا تھا، اولا تو کفار کی طرف سے اس حکم کی پابندی نہیں ہوئی پھر فتح مکہ کے بعد اس حکم کی ضرورت ہی نہ رہی، قبائل عرب کی عورتیں مسلمان ہو کر آئیں، اور دارالاسلام میں بسنے والے مسلمانوں سے ان کے نکاح ہوئے، 12۔ واللہ اعلم باالصواب۔
ملحض من احکام القرآن للجصاص (رح)۔ و تفسیر روح المعانی، تفسیر حقانی ابن کثیر وما افادنی شیخی شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی (رح) وحضرت الوالد المحترم محمد ادریس الکاندھلوی (رح)۔ 12)
اور ڈرتے رہو اس اللہ سے جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔
حکم بیعت مہاجرات مومن ات :
اے ہمارے نبی جب آئیں آپ ﷺ کے پاس ایمان والی عورتیں ہجرت کرتی ہوئیں تو وہ بیعت کریں آپ سے اس بات پر کہ نہ تو وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائیں اور نہ چوری کریں اور نہ زنا کریں اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں اور نہ کسی پر وہ ایسا بہتان لگائیں جس کا افتراء والزام وہ اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان باندھتی ہوں اور نہ وہ کسی بھی بھلے کام میں آپ کی نافرمانی کریں تو آپ ان کو بیعت کرلیجئے اور طلب مغفرت کیجئے ان کے لیے اللہ سے، ان کی ہر قسم کی اس کوتاہی اور غلطی پر جو ان سے سرزد ہوچکی یا بیعت کے بعد کوئی خطا وغلطی نادانستہ طور پر ہوجائے، بیشک اللہ بڑا ہی بخشنے والا مہربان ہے اللہ رب العزت آپ ﷺ کے استغفار ودعا کی برکت سے ان کی مغفرت فرمائے گا اور اپنی عنایات ورحمتوں سے سرفراز فرمائے گا، یہ جملہ احکام جن میں مردوں اور عورتوں کے احکام تفصیل وتحقیق سے ذکر کیے گئے ان ہی میں سعادت و فلاح مضمر ہے ایمان والوں کو چاہئے کہ وہ ان احکام پر عمل کریں اگر وہ روگردانی کریں گے تو ان کو اپنے انجام کی تباہی و بربادی سے غافل نہ ہونا چاہیے۔
اللہ کے احاکم کی فرماں برداری اور ان کے دین پر استقامت اور ایمان کے تقاضوں کی تکمیل اسی میں ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں سے اجتناب و پرہیز کیا جائے ان سے دوستی اور روابط قائم کرنا خدا کے غضب کو دعوت دینا ہے اس لیے سن لینا چاہئے کہ اے ایمان والو ! ہرگز دوست نہ بناؤ ایسی قوم کو جن پر خدا غضب ہے جو مایوس ہوچکے ہیں آخرت سے اور آخرت کا تصور ہی دل سے نکال دیا جیسا کہ کافر قبر والوں سے ناامید ہوچکے ہیں، اور ان کو کوئی توقع نہیں کہ قبر والے اپنی قبروں سے پھر اٹھیں گے بلکہ وہ آخرت کے بھی منکر ہیں اور بعث بعد الموت کا بھی ان کو کوئی تصور نہیں۔
قصہ بیعت نسآء مومن ات :
عروۃ بن الزبیر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ام ال مومنین حضرت عائشہ ؓ آنحضرت ﷺ کا نسأ مومن ات سے بیعت لینے کا ذکر اس طرح فرمایا کرتی تھیں کہ جب یہ آیت مبارکہ ”۔ یایھا النبی اذا جآءک ال مومن ات “۔ الخ نازل ہوگئی تو آنحضرت ﷺ ایسی عورتوں کا امتحان لیتے اور پھر ان باتوں پر ان سے عہد لیتے جن کا آیت مبارکہ میں ذکر ہے کہ یہ شرک کریں گی نہ چوری کریں گی نہ زناوبدکاری اور نہ افتراء وبہتان اور کسی بھی حکم شرعی میں آپ ﷺ کی نافرمانی نہیں کریں گی تو جو عورت اس بات کا عہد واقرار کرلیتی آپ ﷺ اس کو بیعت فرما لیتے اور صرف زبان مبارک سے فرما دیتے ” اچھا میں نے تمہیں بیعت کرلیا “ فرمایا کرتی تھیں آپ ﷺ کے دست مبارک نے خدا کی قسم کسی عورت کے ہاتھ کو کبھی نہیں چھوا۔
ابن عباس ؓ بیان فرماتے ہیں کہ میں عید الفطر کی نماز میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ تھا اور ابوبکر وعمر اور عثمان کرام ؓ کا زمانہ بھی دیکھا ہے یہ سب حضرات خطبہ سے قبل نماز عید پڑھا کرتے تھے تو آنحضرت ﷺ پہلے نماز پڑھتے پھر خطبہ دیتے اور اس کے بعد منبر سے اترتے ایک دفعہ کا ذکر ہے گویا یہ منظر آج میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں، مجمع میں سے جو لوگ اٹھ کر منتشر ہورہے تھے آپ ﷺ ان کو اپنے ہاتھ کے اشارہ سے بٹھا رہے تھے پھر آپ مردوں کے مجمع کو چیرتے ہوئے آگے کی طرف بڑھنے لگے اور اس جگہ تک پہنچے جہاں عورتوں نے نماز پڑھی تھی آپ ﷺ کے ساتھ بلال ؓ تھے آپ وہاں تشریف لائے اور آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی اور تلاوت کے بعد ان سے دریافت فرمایا کیا تم اس پر قائم ہو اور اس کا عہد کرتی ہومجمع میں سے ایک عورت نے جواب دیا جی ہاں یا رسول اللہ ﷺ جو گویا سب کی طرف سے یہ کہہ رہی تھیں اور بظاہر اسی وجہ سے کسی اور نے جواب نہ دیا سب خاموش رہیں جیسا کہ ایک روایت میں ہے کہ اس عورت کے سو اکسی اور نے جواب نہ دیا۔
ایک روایت میں ابن عباس ؓ سے یہ منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ نے عمر بن الخطاب ؓ کو فرمایا یہ اعلان کردیں اے مسلمان عورتو ! رسول اللہ ﷺ تم سے بیعت لینا چاہتے ہیں اس بات پر کہ تم نہ شرک کرو گی نہ چوری نہ زناوبدکاری اور نہ بہتان طرازی اور نہ رسول خدا کی نافرمانی کرو گی، تو ان عورتوں میں ہندہ بنت عتبہ بن ربیعہ بھی تھی جس نے غزوۂ احد میں حضرت حمزہ ؓ کے شہید ہونے کے بعدان کے شکم مبارک کو چاک کرکے جگر کا ٹکڑا چبانا چاہا تھا اگرچہ اب اسلام لاچکی تھیں لیکن آنحضرت ﷺ سے ڈرتے ہوئے چھپی ہوئی تھیں، اور کیسی کو نہ میں بیٹھی تھیں، جب فاروق اعظم ؓ نے یہ کہا کہ عہد کرو چوری بھی نہ کروگی، تو کہنے لگی میں ابوسفیان ؓ کے مال سے کچھ لے لیتی ہوں کیونکہ وہ مال کے حریص اور بخیل انسان ہیں (تو گھر کے مصارف وغیرہ کے لیے ان سے چھپا کر کچھ لینا پڑتا ہے) ابوسفیان ؓ ان کے خاوند بھی وہاں موجود تھے فورا بولے اے ہندہ تو نے آج تک جو کچھ لیا یا آئندہ لے گی وہ سب تیرے واسطے حلال ہے، جب عمر فاروق ؓ نے یہ کہ تم اپنی اولاد کو قتل نہ کروگی تو کہنے لگی ہم نے تو ان کو پالا تھا مگر تم نے انہیں بدر میں قتل کردیا، اس جملہ پر فاروق اعظم ؓ کو بہت ہنسی آئی۔
ایک روایت میں یہ ہے کہ کچھ عورتوں نے کہا کہ ہم تو اپنی اولاد کو قتل نہیں کرتے ان کے باپ قتل کرتے ہیں۔
عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے تھے کہ (آیت) ” ولا یاتین ببھتان “ میں یہ چیز بھی داخل ہے، کوئی عورت اپنے شوہر کی طرف ایسے بچہ کی نسبت کرے جو درحقیقت اس شوہر سے نہیں جیسا کہ یہ فعل جاہلیت کے زمانہ میں ہوتا تھا، منی کی گھاٹی میں قبل از ہجرت آپ ﷺ نے انصار مدینہ سے بیعت لی تو یہی وہ امور تھے جن پر ان سے عہد لیا اور فرمایا یایعونی علی ان لا تشرکو ا باللہ ولا تسرقوا ولا تزلوا ولا تقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق۔ الخ۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا۔ ان وفیتم فلکم الجنۃ اگر تم ان باتوں کو پورا کرو گے تو تمہارے واسطے جنت ہے۔
حاشیہ (تفسیر ابن کثیر ج 4) (باسناد ابن ابی حاتم)
(تم بحمد للہ تفسیر سورة الممتحنہ)