59. Surah Al-Hashr

الحشرThe Exile · 24 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 59:1–7

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 59:1 in the Quran reader

جو چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو چیزیں زمین میں ہیں (سب) خدا کی تسبیح کرتی ہیں اور وہ غالب حکمت والا ہے

هُوَ الَّذِیْۤ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ دِیَارِهِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ١ؔؕ مَا ظَنَنْتُمْ اَنْ یَّخْرُجُوْا وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مَّانِعَتُهُمْ حُصُوْنُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ حَیْثُ لَمْ یَحْتَسِبُوْا١ۗ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ یُخْرِبُوْنَ بُیُوْتَهُمْ بِاَیْدِیْهِمْ وَ اَیْدِی الْمُؤْمِنِیْنَ١ۗ فَاعْتَبِرُوْا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 59:2 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے کفار اہل کتاب کو حشر اول کے وقت ان کے گھروں میں سے نکال دیا۔ تمہارے خیال میں بھی نہ تھا کہ وہ نکل جائیں گے اور وہ لوگ یہ سمجھے ہوئے تھے کہ انکے قلعے انکو خدا (خدا کے عذاب) سے بجا لیں گے مگر خدا نے ان کو وہاں سے آلیا جہاں سے ان کو گمان بھی نہ تھا اور ان کے دلوں میں دہشت ڈال دی کہ اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں اور مومنوں کے ہاتھوں سے اجاڑنے لگے۔ تو اے بصیرت کی آنکھیں رکھنے والو عبرت پکڑو۔

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمُ الْجَلَآءَ لَعَذَّبَهُمْ فِی الدُّنْیَا١ؕ وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ Open ayah 59:3 in the Quran reader

اور اگر خدا نے ان کے بارے میں جلا وطن کرنا نہ لکھ رکھا ہوتا تو انکو دنیا میں بھی عذاب دے دیتا اور آخرت میں تو ان کے لیئے آگ کا عذاب (تیار) ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَآقِّ اللّٰهَ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 59:4 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔ اور جو شخص خدا کی مخالفت کرے تو خدا سخت عذاب دینے والا ہے۔

مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَةٍ اَوْ تَرَكْتُمُوْهَا قَآئِمَةً عَلٰۤى اُصُوْلِهَا فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 59:5 in the Quran reader

(مومنو) کھجور کے جو درخت تم نے کاٹ ڈالے یا انکو اپنی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا سو خدا کے حکم سے تھا اور مقصود یہ تھا کہ نافرمانوں کو رسوا کرے۔

وَ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ فَمَاۤ اَوْجَفْتُمْ عَلَیْهِ مِنْ خَیْلٍ وَّ لَا رِكَابٍ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 59:6 in the Quran reader

اور جو (مال) خدا نے اپنے بیغمبر کو ان لوگوں سے (بغیر لڑائی بھڑائی کے) دلوایا ہے اس میں تمہارا کچھ حق نہیں کیونکہ اس کے لئے نہ تم نے گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ لیکن خدا اپنے پیغمبروں کو جن پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ كَیْ لَا یَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ١ۗ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِۘ Open ayah 59:7 in the Quran reader

جو مال خدا نے اپنے پیغمبر کو دیہات والوں سے دلوایا ہے وہ خدا کے اور پیغمبر کے اور (پیغمبر کے) قرابت والوں کے اور یتیموں کے اور حاجت مندوں کے اور مسافروں کے لئے ہے تاکہ جو لوگ تم میں دولت مند ہیں انہی کے ہاتھوں میں نہ پھرتا رہے سو جو چیز تم کو پیغمبر دیں وہ لے لو اور جس سے منع کریں (اس سے) باز رہو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بیشک خدا سخت عذاب دینے والا ہے

جلاوطنی یہود از ارض حجاز و غلبہ رسول خدا ﷺ برباغات وقلعہائے بنی نضیر : قال اللہ تعالیٰ : سبح للہ مافی السموت وما فی الارض ...... الی ...... ان اللہ شدید العقاب “۔ (ربط) گزشتہ سورت کے اختتامی مضمون میں اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت اور مقابلہ کرنے والوں پر وعید تھی اور ان کی ذلت ورسوائی کا بیان تھا اور خداوند عالم کی عزت وقدرت اور کبریائی کا ذکر تھا تو اب اس سورة حشر میں اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ اور دشمنی کرنے والوں کا انجام بیان کیا جارہا ہے، اور یہودیوں کی ذلت ورسوائی ذکر کی جارہی ہے کہ ان کی طاقت و شوکت اور ان کے محفوظ قلعے انکو عذاب خداوندی سے نہ بچا سکے ارشاد فرمایا۔ پاکی بیان کرتی ہے اللہ کے لیے ہر وہ چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے وہی زبردست قوت وعزت و حکمت والا ہے اسی کی عزت و حکمت کا یہ نتیجہ ہے کہ اسی نے نکال دیا کافروں کو اہل کتاب میں سے انکے گھروں سے پہلی مرتبہ وطن کرنے کے لیے کہ ان سب کو اجتماعی طور پر اپنے گھروں اور آبادی سے نکلنے کا حکم دے دیا گیا اور وہ سرمایہ دار اور بڑے بڑے جتھوں والے یہودی جو بنو نضیر تھے اپنے گھروں سے جلاوطن کرکے اریحاء اور تیماء کے علاقوں میں آباد کیے گئے یہ پہلا حشر اور جلاوطنی تھی جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ہوئی دوسری جلاوطنی جس کا اشارہ لفظ (آیت) ” لاول الحشر “ میں کردیا گیا تھا فاروق اعظم ؓ کے زمانہ میں پیش آئی جب کہ یہود کے ساتھ نصاری بھی خیبر سے نکال کر شام کی طرف جلاوطن کیئے گئے، اور اس طرح آنحضرت ﷺ کے فرمان ” اخرجوالیھودوالنصاری من جزیرۃ العرب “ کی تکمیل فرمائی گئی۔ اے لوگو ! تم گمان نہ کرتے تھے کہ وہ لوگ نکلیں گے اور ظاہری اسباب میں اس کی توقع نہ تھی اور ان لوگوں نے یہ خیال کیا ہوا تھا کہ ان کے قلعے ان کو بچا لیں گے اور ان کی حفاظت کرلیں گے خدا کے فیصلہ سے لیکن خدا کا فیصلہ ان پر آپہنچا ایسی صورت سے کہ وہ گمان بھی نہ کرتے تھے اور سوچ بھی نہ سکتے تھے کہ اس طرح محصور ہو کر بےبس ومجبور ہوجائیں گے اور ذلیل ومغلوب ہو کر نکلنا پڑے گا ان کے قلعے، ہتھیار اور سازوسامان کچھ بھی کام نہ آئے گا اور اللہ نے انکے دلوں میں رعب ڈال دیا کہ وہ خود ہی اپنے گھروں کو اجاڑنے لگے اپنے ہاتھوں اور مسلمانوں کے ہاتھوں اپنے سردار کعب بن الاشرف کے قتل سے پہلے ہی خوفزدہ ہوچکے تھے مگر پھر ناگہانی مسلمانوں کے حملے سے بچے کھچے ہوش وہوش و حواس بھی جاتے رہے، خود ہی اپنے ہاتھوں اپنے مکانوں کے دروازے کڑی تختے اکھاڑنے لگے جب کہ مسلمانوں کا لشکر بھی ان کے قلعوں کو مسمار کررہا تھا تو یہ ایسے حقائق وواقعات ہیں کہ عبرت حاصل کرو اے آنکھ والو کہ خدا کی نافرمانی کا انجام کس طرح دنیا میں ذلت ورسوائی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اور اگر اللہ نے ان پر یہ جلاوطنی کا فیصلہ نہ لکھ دیا ہوتا تو پھر ان کو دنیا میں عذاب دیتا جیسا کہ پہلی امتوں قوم عاد وثمود پر دنیا میں عذاب نازل کیا گیا اور ہوسکتا تھا کہ بنو قریظہ کی طرح مارے جاتے اور آخرت میں کچھ اس لیے کہ انہوں نے مخالفت کی اللہ کی اور اس کے رسول کی اور جو بھی کوئی مقابلہ کرے گا اللہ کا تو اس کو سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ بڑا سخت عذاب والا ہے جو مجرموں اور نافرمانوں پر واقع ہوتا ہے، تو بنو نضیر کے یہودیوں کے محاصرہ کے دوران اے مسلمانو ! جو بھی کچھ تم نے کاٹا کسی نرم کھیتی یا کھجور کے درخت کو یا تم نے رہنے دیا اس کو اپنی جڑوں پر کھڑا ہوا سو یہ سب کچھ اللہ کے حکم سے اور اس لیے کہ اللہ نافرمانوں کو ذلیل کرے، اس وجہ سے کافروں کے یہ طعن واعتراض لغ وہیں جو انہوں نے کرنے شروع کیے کہ دیکھو مسلمانوں نے کیسا ظلم کیا کس طرح کھیتیاں اجاڑیں اور کس طرح کھجور کے درخت کاٹ ڈالے اور اس صورت سے کیسا فساد برپا کیا حالانکہ خود یہ مسلمان فساد سے منع کرتے ہیں تو سن لینا چاہئے کہ یہ سب کچھ اللہ کے حکم سے تھا اور اس کی غرض یہ تھی کہ کافروں کا غرور ونخوت پامال کردیا جائے کہ جس دولت وجائداد پر ان کو غرور تھا وہ ان کے ہی سامنے ڈھائی جارہی ہے، یہ باغات اور کھیتیاں جن کے نشے نے ان کے دماغ خرب کر رکھے تھے ان کے سامنے جلائی جارہی ہوں تاکہ وہ دیکھ لیں یہ ہے ہماری عزت اور یہ ہے ہمارے غرور وسرکشی کا متاع باطل جو آگ کے شعلوں کی نذر ہورہا ہے یہود کی اس شکست ومغلوبی اور مسلمانوں کی فتح و کامرانی کی صورت کو ذکر کرتے ہوئے فرمایا اور جو کچھ مال لوٹایا اللہ نے اپنے رسول کی طرف ان لوگوں سے سو وہ ایسا مال ہے کہ نہیں دوڑائے ہیں تم نے اس پر گھوڑے اور نہ ہی اونٹ و لیکن اللہ اپنے رسولوں کو غلبہ دے دیتا ہے جس پر چاہے اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے تو یہ ہے حقیقت مال فئے کی اور اس کے مصارف و احکام یہ ہیں جو مال بھی لوٹایا اللہ نے اپنے رسول کی طرف ان بستیوں والوں سے وہ اللہ کے واسطے ہے اور اس کے رسول کے لیے اور رسول کے قرابت داروں کے لیے اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کے لیے ان سب کے حصے مال فئے میں مقرر کردیئے ہیں تاکہ نہ رہے یہ چیز گردش کرنے والی ایک دولت تمہارے میں سے مالداروں کے درمیان بلکہ ان سب مصارف میں تقسیم ہو کر ان سب اقسام و انواع کے افراد کے لیے اعانت وامداد کا ذریعہ بنے اور اس لینے میں کسی شخص کو یہ نہ سوچنا کہ یہ میرا حق ہے میں اس کو جس طرح سے چاہوں لوں بلکہ تمہیں قناعت اختیار کرنی چاہئے اور اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہی رجوع کرنا چاہئے اور جو کچھ تم کو رسول خدا دیں وہ لے لو اور جس چیز سے تمہیں منع کردیں اس سے رک جاؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ کسی بھی مرحلہ پر اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی نافرمائی نہ ہوسکے بیشک اللہ کا عذاب بڑا ہی سخت ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے کوئی عطا ہو یا احکام ہوں اور اوامر ونواہی جو بھی کچھ دیا جائے اس کو لینا چاہئے اس پر عمل کرنا چاہئے اور جس سے روکا جائے اور منع کیا جائے سعادت یہی ہے کہ اس سے باز رہا جائے اس کی خلاف ورزی بدنصیبی اور شقاوت ہے۔ جزیرۂ عرب سے یہود کی جلاوطنی : اس سورت کی ابتداء (آیت) ” ھو الذی اخرج الذین کفروا من اھل الکتب من دیارھم “۔ ان کے گھروں سے جلاوطنی کا مضمون ادا کررہی ہے اور لفظ (آیت) ” اول الحشر “۔ سے ظاہر کردیا گیا کہ اس پہلی مرتبہ کی جلاوطنی کے بعد پھر بھی کوئی اور وقت آئے گا کہ وہ اپنے گھروں سے نکالے جائیں گے ، امام بخاری (رح) اور امام مسلم (رح) نے مو سے بن عقبہ ؓ کی سند سے نیز امام بخاری (رح) نے دوسرے موقعہ پر باسناد عبدالرزاق عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے بنونضیر پر حملہ کیا اور قریظہ پر بھی تو بنو نضیر کو جلاوطن کیا اور قریظہ پر احسان وکرم کرتے ہوئے ان کو رہنے دیا، لیکن جب قریظہ نے بھی بغاوت کی تو ان پر بھی حملہ کیا گیا ان کے مردوں کو قتل کیا گیا، عورتوں اور بچوں کو قیدی بنایا گیا البتہ جن بعض اہل کتاب نے آنحضرت ﷺ کی پناہ لی تو آپ ﷺ نے ان کو پناہ دے دی اور وہ لوگ اسلام لے آئے۔ 1 حاشیہ (تفسیر ابن کثیر، صحیح بخاری و صحیح مسلم۔ روح المعانی۔ 12) پہلی مرتبہ کی جلاوطنی کا ذکر اس سورت میں وضاحت و تفصیل کے ساتھ کیا گیا اور دوسری مرتبہ کی جلاوطنی جو فاروق اعظم ؓ کے زمانہ میں ہوئی صرف (آیت) ” لاول الحشر “۔ کہہ کر اشارہ کردیا گیا، عمر فاروق ؓ نے ان کو اس طرح نکالا کہ ان کا نام ونشان بھی باقی نہ چھوڑا گویا جس کام کی ابتداء آنحضرت ﷺ نے فرمائی تھی اس کی تکمیل فاروق اعظم ؓ کے ہاتھوں ہوئی جو ان کی فضیلت کی عظیم ترین دلیل ہے۔ ابن عباس ؓ بیان فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے بنو نضیر کا محاصرہ کیا، یہاں تک کہ یہود بنو نضیر مجبور وبے بس ہوگئے تو ان لوگوں نے اپنی عاجزی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کا ہر فیصلہ ہمیں منظور ہے بشرطیکہ آپ ﷺ ہماری جان بخشی کردیں تو آپ ﷺ نے ان کے حق میں یہی فیصلہ فرمایا کہ وہ اپنی زمینوں، مکانوں اور وطن سے نکل جائیں اور شام کے علاقہ میں جاکر بس جائیں آپ ﷺ نے ہر تین کو ایک مشکیزہ اور ایک اونٹ کی اجازت دی تاکہ وہ اس پر سفر کرسکیں اور پینے کے لیے پانی رکھ سکیں تو یہ پہلی مرتبہ کی جلاوطنی تھی۔ غنیمت اور فئی کے درمیان فرق : بنو نضیر کے اموال شریعت کے نزدیک مال فئے ہوئے اور اسی حقیقت کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہاں قرآن کریم نے فئی کا مفہوم متعین کردیا جیسا کہ ارشاد فرمایا (آیت) ” ومآ افآء اللہ علی رسولہ منھم فمآاوجفتم علیہ من خیل ولارکاب “۔ کہ فئی وہ مال ہے جس پر مسلمانوں نے نہ گھوڑے دوڑائے ہوں اور نہ اونٹوں سے حملہ کیا ہو بلکہ کافر مرعوب ومغلوب ہوگئے ہوں، اور مرعوب ومغلوب ہو کر کافروں نے ہتھیار ڈال دیئے ہوں تو اس قوم سے حاصل شدہ اموال خواہ وہ منقولہ ہوں یا غیر منقولہ مال فئے کہلاتے ہیں، غنیمت تو اس مال کو کہا جائے گا جو قوت استعمال کرنے کے بعد بصورت فتح حاصل ہو، مال غنیمت کا حکم۔ (آیت) ” واعلموا انما غنمتم من شیء “۔ میں بیان کردیا گیا تھا کہ خمس نکالنے کے بعد بقیہ چار خمس مجاہدین کے درمیان برابر حصوں میں تقسیم کیا جائے لیکن فئے میں خمس بھی نہیں نکالا جائے گا اور یہ بھی لازم نہیں کہ ہر مجاہد کو برابر دیا جائے استعداد وصلاحیت کے پیش نظر حصوں میں کمی زیادتی کی جاسکتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہی فرق رکھا ہے غنیمت اور فئی میں جو مال لڑائی سے ہاتھ لگا وہ غنیمت ہے اور اس میں پانچواں حصہ اللہ کی نیاز اور چار حصے لشکر کو تقسیم کیے جاتے ہیں اور جو بغیر جنگ کے مسلمانوں کے ہاتھ لگے وہ سب کا سب مسلمانوں کے خزانے میں رہے جو ان ہی پر صرف کیا جائے۔ حضرات فقہاء نے بیان فرمایا ہے اگر ابتداء میں کچھ صورت جنگ کی ہوئی لیکن پھر کافروں نے مرعوب ہو کر قبل اس کے کہ جنگ کا کوئی فیصلہ ہو صلح کی طرف مسارعت کی اور مسلمانوں نے اس کو قبول کرلیا تو اس صورت میں بھی جو اموال حاصل ہوں گے وہ بھی ” فئے “ کے حکم میں شمار کیے جائیں گے اور بنو نضیر کے واقعہ میں صورت ایسی ہی پیش آئی۔ مال فئے کے متعلق آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں یہی حکم تھا کہ وہ خالصتا آپ ﷺ کے اختیار و تصرف میں آجاتے ہیں اور ان اموال پر آپ کا تصرف بعض فقہاء کی رائے کے مطابق مالکانہ تھا جیسا کہ الفاظ آیت سے ایسا ہی ظاہر ہوتا ہے، جو صرف آپ کے حق میں مخصوص تھا اور بعض فقہاء کی رائے کے مطابق آپ ﷺ کا تصرف متولیانہ تھا، یہ احتمال وبحث صرف آنحضرت ﷺ کے زمانہ تک مخصوص و محدود تھی اس کے بعد اس امر پر اجماع ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی خلیفہ اور امام کا تصرف مالکانہ نہیں ہوتا بلکہ متولیانہ ہے، جو اپنی صوابدید اور مشورہ سے مناسب مواقع پر مسلمانوں کے مصالح میں خرچ کرسکتا ہے اور اس میں یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ صرف ان ہی مجاہدین پر تقسیم کیا جائے جو اس مہم میں شریک تھے جس کے نتیجہ میں یہ فئے حاصل ہوا برخلاف غنیمت کے کہ وہ خمس نکالنے کے بعد صرف انہی مجاہدین میں تقسیم ہوتا ہے جو اس لشکر اور جہاد میں شامل تھے ہاں یہ دوسری بات ہے کہ کوئی مجاہد خود ہی اپنا حق چھوڑ دے یا کسی اور کو ہبہ کردے ، قاضی ابوبکر جصاص (رح) احکام القرآن میں بیان فرماتے ہیں ” یہ حکم اموال منقولہ کا ہے غیر منقولہ میں امام کو یہ اختیار ہے کہ مصلحت سمجھے تو لشکر پر تقسیم کردے اور مصلحت نہ سمجھے تو بجائے تقسیم کرنے کے مصالح عامہ کے لیے رہنے دے جیسا کہ سواد عراق میں حضرت عمر فاروق ؓ نے بعض جلیل القدر صحابہ کے مشورہ سے یہی عملدر آمد رکھا اسی مسلک اور رائے کے پیش نظر قاضی ابوبکر جصاص (رح) نے (آیت) ” واعلموآانما غنمتم “۔ کو اموال منقولہ پر اور سورة حشر کی آیات کو اموال غیرمنقولہ پر حمل کیا، اس طرح کہ یہاں پہلی (آیت) ” ومآ افآء اللہ علی رسولہ “۔ کا حکم فئی سے متعلق ہے اور دوسری (آیت) ” مآافآء اللہ علی رسولہ من اھل القری “ ، کا حکم غنیمت پر محمول ہے اور لغۃ غنیمت کو فئی سے تعبیر کرسکتے ہیں، واللہ اعلم بالصواب (از فوائد عثمانی) علامہ ابن الاثیر، جزری (رح) نے مال غنیمت اور فئے میں فرق کا یہی معیار تجویز فرمایا ہے کہ جو بغیر قتال و جہاد کافروں سے حاصل ہو وہ مال فئے ہے جیسا کہ سورة حشر کی ان آیات میں ہے لیکن قاضی ابوبکر جصاص (رح) اس مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے ہوئے فرماتے ہیں کہ جو مال کافروں سے کفر کی بناء پر مسلمانوں کو حاصل ہو خواہ وہ جہاد و قتال سے ہو یا بغیر جہاد و قتال کے وہ ہمارے نزدیک مال فئے ہے، (احکام القرآن ص 84 ج 3) اس لحاظ سے مال فئے عام ہوا اور مال غنیمت خاص حنین میں جو مال غنیمت مال تھا وہ بلاشبہ مقابلہ اور شدید مقاتلہ کے بعد حاصل ہوا تھا لیکن آپ ﷺ نے اس میں سے مؤلفۃ قلوبہم پر تقسیم فرمایا جیسا کہ مال فئے تقسیم کیا جاتا ہے اور پہلے معنی کے لحاظ سے حنین کی غنیمت تھی اس پر فئی کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔ غزوۂ خیبر میں جو قلعہ اور زمین آپ ﷺ نے اپنے واسطے محفوظ رکھی اور اس کو غائمین پر تقسیم نہی کیا، صحیح روایات میں اس پر بھی فئے کا اطلاق آیا ہے اور فدک اور وادی القری کی جو زمینیں آپ کو صلح سے ملی تھیں ان پر بھی فئی کا اطلاق آیا ہے تو ان نقول وروایات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جو مال یا زمین کسی بھی صورت سے مسلمانوں کو کافروں سے ملے اس کو فئے کہیں گے نصوص کتاب اللہ اور سنت سے یہی عموم معلوم ہوتا ہے اور بعض فقہاء ومثلا صاحب ہدایہ کے کلام سے بھی ایسا ہی مفہوم ہوتا ہے۔ مالک حقیقی کی عطا کردہ ولایت پیکر رسالت میں : آیت، مذکورہ : (آیت) ” فللہ وللرسول “ میں لام للہ پر تملیک کے لیے ہے جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا کہ اللہ رب العزت ان اموال کا حقیقی مالک ہے اور للرسول پر لام تولیت کا ہے کہ مالک حقیقی نے اپنی عطا اور ملک یا امانت بطور نیابت وتولیت آنحضرت ﷺ کے حوالہ فرمائی اور قانون مقرر ہوگیا کہ (آیت) ” وما اتکم الرسول فخذوہ وما نھکم عنہ فانتھوا “۔ تو ولایت ونیابت کا یہ مقام اور تولیت ایک برزرخی مقام ہوا جو ملک حقیقی اور ملک مستعار کے درمیان ہے اور یہ صرف رسول اللہ ﷺ کیلیے مختص ہے اس سے یہ نتیجہ واضح طور پر اخذ ہوتا ہے کہ جیسے مالک حقیقی خداوند مالک الملک کو یہ اختیار ہے کہ وہ جسے چاہے دے اور جسے چاہے نہ دے اسی طرح بوجہ خلافت خداوندی یہ مرتبہ متوسطہ یعنی مرتبہ تولیت رسول اللہ ﷺ کو حاصل ہے جس کے واسطے آیت مبارکہ (آیت) ” ما اتکم الرسول فخذوہ ومانھکم عنہ فانتھوا “۔ ناطق ہے۔ جو تولیت آنحضرت ﷺ کو خلافت الہیہ کے ضمن میں من جانب اللہ حاصل تھی اس کا ماحصل خلافت کی تقسیم ہے کہ آپ ﷺ کے بعد خلفائے راشدین وہ خدمت انجام دیتے رہیں جو انکے سپرد کی جائے، حضور اکرم ﷺ کو خلافت خداوندی حاصل تھی تو خلفائے راشدین کو خلافت نبوت حاصل تھی اور اس کا اصل سبب تولیت ہے نہ کہ ملکیت، اس لیے نقل خلافت میں وراثت و قرابت کا مسئلہ پیدا ہی نہیں ہوسکتا، پھر یہ فرما کر (آیت) ” ولکن اللہ یسلط رسلہ علی من یشآء “۔ یہ ظاہر فرما دیا کہ ہر عطا خواہ مال فئی وغنیمت ہو یا خلافت ونیابت رسالت ہو اس میں کسی کا استحقاق ودخل نہیں بلکہ رسول خدا کا فیصلہ اور ان کی عطا اور تعیین ہی بنیاد ہے جس کو چاہیں اپنی صوابدید سے عطا فرمادیں تو اسی معیار سے آپ ﷺ نے جس ہستی کو حضرات صحابہ کرام ؓ میں خلافت نبوت کا سب سے پہلا مستحق سمجھا اسی کو خود اپنی حیات مبارکہ میں جانشین بنادیا اور حکم دے دیا مروا ابابکر ؓ لیصل بالناس۔ کہ ابوبکر ؓ کو کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، مگر ازواج مطہرات میں سے حضرت عائشہ ؓ ، حفصہ ؓ نے بہت کوشش کی کہ ابوبکر ؓ کے بجائے کسی اور کو اس خدمت پر مامور کردیا جائے لیکن آپ ﷺ نے پوری قوت اور سختی سے ان کی بات رد کرتے ہوئے یہی فیصلہ برقرار رکھا کہ، مروابابکر لیصل بالناس، تاکہ دنیا کے سامنے یہ حقیقت واضح ہوجائے کہ آپ کا اپنے مصلے پر ابوبکر ؓ کو کھڑے ہونے کے لیے فرمانا کوئی اتفاقی بات نہ تھی بلکہ یہ ایک طے شدہ خداوندی فیصلہ تھا کہ اب پیغمبر خدا ﷺ کی نیابت وجانشینی صدیق اکبر ؓ کے واسطے بارگاہ خداوندی سے طے ہوچکی ہے، چناچہ خود حضرت علی ؓ اسی حقیقت کو اپنے خطبات میں ارشاد فرمایا کرتے اور فرماتے کہ جس وقت رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر ؓ کو امامت کے لیے فرمایا یہ بات نہیں کہ ہم غائب تھے بلکہ موجود تھے ہماری موجودگی میں یہ حکم صادر ہورہا تھا اور ہم تندرست تھے بیمار نہ تھے کہ کوئی ہم غائب تھے، بلکہ موجود تھے ہماری موجودگی میں یہ حکم صادر ہورہا تھا اور ہم تندرست تھے بیمار نہ تھے کہ یہ گمان کرنے لگے شاید علی ؓ بیمار ہوں گے اس وجہ سے یہ بات ہوگئی ورنہ علی ؓ ہی امام بنائے جاتے (نہج البلاغہ)
Ayahs 59:8–10

لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ Open ayah 59:8 in the Quran reader

(اور) ان مفلسان تارک الوطن کے لئے بھی جو اپنے گھروں اور مالوں سے خارج (اور جدا) کردیے گئے ہیں (اور) خدا کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلبگار اور خدا اور اس کے پیغمبر کے مددگار ہیں یہی لوگ سچے (ایماندار) ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ١۫ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 59:9 in the Quran reader

اور (ان لوگوں کے لئے بھی) جو مہاجرین سے پہلے (ہجرت کے) گھر (یعنی مدینے) میں مقیم اور ایمان میں (مستقل) رہے اور جو لوگ ہجرت کر کے انکے پاس آتے ہیں ان سے محبت کرتے ہیں اور جو کچھ ان کو ملا اس سے اپنے دل میں کچھ خواہش (اور خلش) نہیں پاتے اور انکو اپنی جانوں سے مقدم رکھتے ہیں خواہ ان کو خود احتیاج ہی ہو اور جو شخص حرص نفس سے بچا لیا گیا تو ایسے ہی لوگ مراد پانے والے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 59:10 in the Quran reader

اور (ان کے لئے بھی) جو ان (مہاجرین) کے بعد آئے (اور) دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں گناہ معاف فرما۔ اور مومنوں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ (وحسد) نہ پیدا ہونے دے۔ اے ہمارے پروردگار تو بڑا شفقت کرنے والا مہربان ہے۔

استحقاق مہاجرین وانصار ومحبین و مخلصین صحابہ کرام کرام ؓ درمال فئی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” للفقرآء المھجرین الذین اخرجوا ...... الی ...... انک رء وف رحیم “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں بنو نضیر کی جلاوطنی کا ذکر تھا اور یہ کہ ان کے اموال جو بطور فئی حاصل ہوئے ہیں ان کا متولی و متصرف کلیۃ اللہ نے اپنے پیغمبر کو بنایا پیغمبر ہی کو ان پر تسلط و غلبہ عطا کیا گیا اب ان ہی کے اختیار میں ہے کہ جس کو چاہیں اور جتنا چاہیں عطا کریں کسی کو اس میں ذرہ برابر نکتہ چینی کا حق نہیں، اور اللہ نے ان اموال کے مستحق، ذوی القربی، یتامی و مساکین اور اب السبیل بنائے ہیں ان مصارف کے ذکر کے بعد خاص طور پر اب ان آیات میں مہاجرین وانصار اور حضرات مہاجرین وانصار سے محبت رکھنے والوں کا استحقاق بیان کیا جارہا ہے ساتھ ہی مہاجرین وانصار کے ایسے عظیم فضائل اور وہ بلند پایہ قربانیاں ذکر فرمائیں جن کے سامنے ہر شخص گرویدہ ہوجائے جس کے دل میں ادنی درجہ کا بھی ایمان ہو اسی ضمن میں یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ جو بھی شخص یا گروہ مہاجرین وانصار سے العیاذ باللہ ثم الیعاذ باللہ بغض رکھتا ہے درحقیقت وہ ایمانی جذبات اور تقاضوں سے قطعا محروم ہے اور بےبہرہ ہے ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی شخص مسلمان ہو اور اس کو اسلام کی خاطر ہجرت کرنے والوں اور اس کی وجہ سے اپنے وطن جائیدادوں اور خاندانوں کو چھوڑ دینے والے محبوب نہ ہوں اسی طرح وہ شخص بھی ہرگز مومن نہیں ہوسکتا جو ایمان اور پیغمبر خدا کو ٹھکانا دینے اور مدد کرنیوالوں کو محبوب نہ رکھتا ہو تو ارشاد فرمایا۔ یہ مال فئی ان فقراء ومہاجرین کے لیے ہے جو اپنے گھروں سے اور اپنے مالوں سے نکالے گئے انہوں نے اپنی زندگی کی ہر محبوب چیز قربان کی صرف اللہ کا فضل اور رضا مندی چاہتے ہوئے اور اس لیے کہ مدد کریں اللہ کی اور اس کے رسول ﷺ کی بیشک یہی لوگ سچے ہیں جن کی صداقت پر انکی بےمثال قربانیاں وجانثاریاں اور اپنے جان ومال سے اللہ اور اس کے رسول کی امداد واعانت کے سورج سے زیادہ روشن دلائل و شواہد ہیں اور اسی طرح وہ لوگ جنہوں نے ٹھکانا بنایا اس گھر کا یعنی مدینہ منورہ کہ جس میں وہ بستے تھے اور اس سرزمین میں ایمان کو بھی بسایا ان مہاجرین کی مدینہ منورہ آمد سے قبل جن کی حالت یہ ہے کہ محبت کرتے ہیں ان لوگوں سے جو ہجرت کرکے ان کی طرف آئے ہیں نہ صرف محبت بلکہ کمال اخلاق اور بلندی حوصلہ کی نوبت یہاں تک ہے کہ اور اپنے دلوں میں کسی قسم کا حسد اور تنگی بھی محسوس نہیں کرتے اس شرف فضیلت سے کہ جو ان مہاجرین کو دی گئی اور اس سے بڑھ کر یہ کہ اپنے اوپر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ ان کو فاقہ ہی ہو اور سب پاکیزہ خصلتیں اس بنیاد پر قائم ہیں کہ ان حضرات کے قلوب حرص اور حب مال سے پاک ہیں اور بیشک جو بھی اپنے نفس کی حرص سے بچایا گیا تو بس ایسے ہی لوگ کامیاب ہیں اور یہ مال فئی ان لوگوں کے لیے بھی ہے جو ان کے بعد آئے، یہ کہتے ہوئے کہ اے ہمارے پروردگار مغفرت فرما ہماری اور ہمارے ان بھائیوں کی جو ہم سے پہلے ایمان کے ساتھ گزر چکے ہیں اور نہ رکھ ہمارے دلوں میں کوئی کھوٹ اور کینہ ایمان والوں کے لیے اے پروردگار اے ہمارے رب بیشک تو بہت ہی نرمی کرنیوالا مہربان ہے۔ تو یہ ہیں مصارف اور مستحقین اموال فئی جن کے اوصاف ایمان واخلاص کے یہ ہونے چاہئیں، سب سے مقدم اور اعلی مستحق مہاجرین وانصار ہیں کیونکہ وہ اصل اسلام کی عمارت ہیں جنہوں نے اسلام کی خاطر قربانیاں دیں اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مدد کی اور ایمان کو اپنی بستی ” مدینہ پاک “ میں بسایا، پھر ان کے بعد جو لوگ ان کے ساتھ اخلاص و محبت رکھنے والے ہوں ان کی دعائیں دیتے ہوں انکے قلوب ان نفوس قدسیہ سے بغض وحسد سے پاک ہوں وہ مستحق ہوں گے۔ اسی آیت مبارکہ کے مضمون کو مدنظر رکھتے ہوئے حضرت عمر فاروق ؓ نے اپنے ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا ” اوصی الخلیفۃ بعدی بالمھاجرین الاولین ان یعرف لھم حقھم ویحفظ لھم کر امتھم واوصیتہ بالانصار خیرا الذین تبوؤ الدار والایمان من قبل ان یقبل من محسنھم وان یعفوا عن مسیءھم “۔ کہ میں وصیت کرتا ہوں اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو اس بات کی کہ مہاجرین اولین کے ساتھ بہتر معاملہ کرے، ان کا حق پہچانے اور ان کی عظمت و کرامت کو محفوظ رکھے اور اسی طرح اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو انصار کے بارے میں بھی وصیت کرتا ہوں خیر اور بھلائی کے لیے، یہ لوگ وہ ہیں جو مدینہ کو پہلے سے مرکز ایمان بنا چکے ہیں اور اس بستی میں پہلے ہی انہوں نے ایمان کو بسالیا تھا اس امر کی وصیت کرتا ہوں کہ ان کی بھلائیاں قبول کرے، (اور ان کو سرا ہے) اور ان کی کوتاہیوں سے درگزر کرے۔ (صحیح بخاری) (آیت) ” ولایجدون فی صدورھم حاجۃ ممااوتوا “۔ مکارم اخلاق کی بلندی ترین تعلیم ہے۔ مکارم اخلاق کی بلند ترین تعلیم ہے اور انسان کا اصل شرف اسی میں مضمر ہے کہ وہ کسی دوسرے کی فضیلت و برتری پر حسد نہ کرے، اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے حافظ ابن کثیر (رح) نے انس بن مالک ؓ کی روایت نقل فرمائی کہ انس ؓ نے بیان کیا کہ ایک روز ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اے لوگو ! ابھی ایک شخص اہل جنت میں سے تمہارے سامنے رونما ہوگا، تو ناگہاں ایک انصاری صاحب نظر آئے، سامنے سے آرہے ہیں اور ان کی داڑھی سے وضو کے پانی کے قطرات ٹپک رہے ہیں اور بائیں ہاتھ میں انہوں نے اپنا جوتا لٹکایا ہوا ہے، راوی بیان کرتے ہیں کہ جب آئندہ روز ہوا تو بھی آنحضرت ﷺ نے ایسا ہی فرمایا، اور پھر وہی شخص اسی شان کے ساتھ رونما ہوئے، پھر تیسرا دن ہوا تو بھی آپ ﷺ نے ایسا ہی فرمایا اور پھر وہی شخص اسی طرح سامنے سے آئے، آنحضرت ﷺ جب مجلس سے اٹھ کر تشریف لے گئے تو عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ ان صاحب کے پیچھے پیچھے چلے اور ان سے الحاح واصرار سے درخواست کی کہ مجھے اپنے ساتھ تین روز رہنے کی اجازت دے دیں انہوں نے اس کو منظور کرلیا، تو عبداللہ بن عمرورضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے ساتھ تین راتیں گزاریں تو کوئی خاص قابل حیرت عمل نہ دیکھا بجز اس کے کہ رات کو آرام کرکے کچھ حصہ عبادت میں گزارتے اور پھر صبح کے لیے اٹھ جاتے، تین راتیں گزارنے پر میں نے ان سے دریافت کیا کہ اے بندۂ خدا میں نے تین روز تک رسول اللہ ﷺ سے اس طرح سنا جس کے باعچ تجسس میں رہا کہ دیکھوں تمہارا خاص عمل کیا ہے لیکن میں نے تمہارا کوئی حیرت ناک عمل نہیں دیکھا، اس پر ان صاحب نے جواب دیا بس میرے پاس یہی کچھ ہے جو تم نے دیکھا، بیان کرتے ہیں کہ جب واپس ہونے لگا تو مجھ کو پکارا اور فرمایا، اے بندہ خدا میرے پاس بیشک کوئی خاص عمل تو نہیں البتہ یہ بات ضرور ہے کہ میں کسی شخص سے کوئی حسد اور دل میں قطعا کوئی بغض نہیں رکھتا، عبداللہ بن عمرو ؓ اس کو سن کر فرمانے لگے بس یہی تو وہ خوبی ہے جس کی ہر شخص طاقت نہیں رکھتا، 1 حاشیہ (تفسیر ابن کثیر ج 4۔ ) حسن بصری (رح) سے بھی یہی منقول ہے۔ (آیت) ” یحبون من ھاجر “۔ کا تو یہ مقام تھا کہ مہاجرین جب مدینہ منورہ آئے تو انصار نے کہا اے ہمارے مہاجر بھائیو ! آجاؤ ہم اپنا مال زمینیں نصف نصف برابر اپنے اور تمہارے درمیان تقسیم کرلیں حتی کہ کسی کے پاس دو بیویاں تھیں وہ کہنے لگا میں ایک بیوی کو طلاق دے دیتا ہوں تاکہ تم اس سے شادی کرلو جو تم کو مناسب معلوم ہوبتاؤ اس ایثار واخوت کی دنیا میں ظاہر ہے کیا مثال مل سکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ مہاجرین نے بھی عزت نفس اور استغناء کا وہ ثبوت پیش کیا کہ تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے عاجز ہے، فرمایا خدا تعالیٰ تمہارے مال تمہیں مبارک فرمائے بس آپ لوگ ہمیں بازار بتا دو یعنی تعارف کرادو ہم محنت ومشقت سے کما لیں گے۔ (آیت) ” ویؤثرون علی انفسھم ولو کان بھم خصاصۃ “۔ کی تفسیر میں حضرات مفسرین (رح) نے وہ معروف روایت بیان کی ہے کہ ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ میں فاقہ کی مشقت میں مبتلا ہوں میری مدد فرمائیے۔ آپ ﷺ نے ازواج مطہرات کے حجروں کی طرف کسی کو بھیجا شاید کچھ مل جائے لیکن کچھ نہ مل سکا آپ ﷺ نے فرمایا ہے کوئی ایسا شخص جو آج رات اس کی مہمانی کرسکے تو ایک انصاری شخص کھڑے ہوئے اور عرض کیا میں حاضر ہوں اور اپنی اہلیہ کی طرف گئے اور بتایا کہ یہ صورت حال ہے، اہلیہ نے کہا آج تو بس بچوں ہی کے کھانے کے بقدر ہے اس کے سوا کچھ نہیں، انصاری نے کہا جب رات ہو تو بچوں کو کسی طرح بہلا کر سلا دینا اور پھر جب مہمان کھانے پر بیٹھے تو چراغ بجھا دینا تاکہ یہ بات مہمان کو نظرنہ آسکے کہ ہم نہیں کھا رہے ہیں چناچہ ایسا ہی کیا صبح کو جب یہ صحابی آنحضرت ﷺ کی خدمت میں گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کو اس مرد اور عورت کی یہ بات بہت ہی پسند آئی اور ان ہی کے متعلق اس نے یہ فرمایا (آیت) ” ویؤثرون علی انفسھم ولوکان بھم خصاصۃ “۔ 2 حاشیہ (صحیح بخاری، مسلم، نسائی، 12) یہ صحابی ابوطلحہ ؓ تھے، ایسا ہی وہ مشہور قصہ ہے جو جنگ یرموق میں پیش آیا تھا کہ چند زخمی لب دم تھے، ان میں سے جس کسی کے سامنے پانی لایا گیا اس نے یہ چاہا کہ بجائے میرے یہ پانی میرا بھائی پی لے اور اس کی جان بچ جائے تو اچھا ہے، ہر ایک دوسرے کی طرف لوٹا تا رہا کسی نے بھی نہ پیا اور سب کے سب اسی طرح پیاس میں تڑپتے ہوئے جاں بحق ہوگئے۔ (رضی اللہ تعالیٰ عنھم وارضاھم) ذوی القربی یتامی اور ابن السبیل میں مستحقین فئی کی قسم اول فقراء ومہاجرین : (آیت) ” مآافآء اللہ علی رسولہ “۔ میں عمومی طور پر ان اصناف و اقسام کا مال فئی میں استحقاق بیان فرمانے کے بعد ان مستحقین میں سب سے اعلی اور مقدم جو گروہ ہے اس کو ذکر فرمایا جارہا ہے کہ وہ فقراء مہاجرین کا گروہ ہے ان کے اوصاف میں سب سے پہلے تو انکی مظلومیت کو (آیت) ” اخرجوا من دیارھم “۔ سے ظاہر فرمایا گیا کہ ان کو ان کے مکانوں سے نکالا گیا اور ان کے اموال ضائع کیے گئے، پھر یہ مظلومیت ان کی محض اللہ کی رضا کے لیے واقع ہوئی تو جس طرح ہر مظلوم کے لیے خواہ وہ کسی طرح بھی مظلوم ہوہمدردی اور اعانت کا جذبہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے چہ جائیکہ وہ مظلوم اللہ کی راہ اور اس کی رضا تلاش کرتے ہوئے مظلوم ہوا ہو تو اس فرد پر جس کو خدا سے ذرہ برابر بھی تعلق ہے، ضروری ہے کہ وہ ان مظلومین کے ساتھ ہمدردی اور مدد کے لیے پوری طرح مستعد ہوجائے، مزید برآں یہ مظلوم باوجود مظلوم وبے سہارا ہونے کے وہ ہیں جنہوں نے خدا اور اس کے رسول کی مدد کی اور اسی جرم میں ان کو ان کے مالوں اور گھروں سے نکالا گیا مظلومیت اخلاص اور اللہ و رسول کی نصرت کے علاوہ ان کے کردار اور مجموعہ عملی زندگی نے یہ ثابت کیا کہ وہ راست باز اور سچے ہیں اور جب وہ لوگ (آیت) ” اولئک ھم الصادقون “۔ کا مصداق ہیں تو ہر ایمان وتقوی والے پر یہ حکم خداوندی عائد ہوتا ہے ، (آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصادقین “۔ اس کی تعمیل میں ہر صاحب ایمان کو ان صادقین کے ساتھ ہوجانا ضروری ہے جن کے صادق ہونیکا اعلان خداوند عالم نے فرمادیا۔ مستحقین کی قسم دوئم انصار اور ان کی خصوصیات : استحقاق مہاجرین کے بعد انصار کا استحقاق اور ان کے اوصاف میں سب سے پہلے (آیت) ” تبوؤ الدار والایمان من قبلھم “۔ کا وصف بیان فرمایا کہ انہوں نے ایمان واسلام کو اپنے شہر مدینہ میں ٹھکانہ دیا، دوسری صفت یہ کہ وہ مہاجرین سے محبت کرتے ہیں، تیسری صفت یہ کہ حسد سے ان کے قلوب پاک ہیں کہ مہاجرین کو جو شرف وفضل ملا اس پر ذرہ برابر حسد یا ملال نہیں، چوتھی، صفت (آیت) ” ویؤثرون علی انفسھم “۔ کہ اپنے اوپر دوسروں کو مقدم رکھتے ہیں خواہ وہ فقروفاقہ میں مبتلا ہوں اور پانچویں صفت یہ کہ وہ مال کی حرص سے منزہ ہیں اور ظاہر ہے کہ یہی اوصاف رشد و فلاح کے ضامن ہیں، لہذایہ گروہ مفلحین اور کامرانوں کا ہوا۔ قسم سوم عام اہل اسلام : (آیت) ” والذین جآء وا من بعدھم “۔ میں گروہ مہاجرین وانصار کے بعد عامۃ المسلمین کو بیان فرمایا کہ وہ مال فئی کے مستحق ہیں اور اس تیسری جماعت کو مال فئی میں حصہ ملنے کے اوصاف ووجوہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ سابقین اولین اور مفلحین کی توقیر وتعظیم کریں ان کے دعائے مغفرت کریں اور ان کے دل میں ان حضرات صحابہ کی طرف سے کسی قسم کی کدورت یا بغض نہ ہو، ان اوصاف سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جس کسی کے دل میں مہاجرین وانصار کی عظمت و محبت و خیرخواہی کا جذبہ نہ ہو بلکہ بعض ونفرت یا تکدریا طعن وتشنیع اور تحقیر وتوہین ہو، وہ کبھی ان حقوق میں شامل نہیں ہوسکتا جو حقوق اللہ رب العزت نے اہل اسلام کے لیے مقرر فرمائے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ ان آیات کو تلاوت کرکے فرمایا کرتے خدا کی قسم جو شخص مہاجرین کی طرف سے کدورت رکھتا ہو وہ ہرگز ان لوگوں میں سے نہیں ہوسکتا۔ 1 جن کو اس آیت میں بیان کیا گیا اور حق تعالیٰ شانہ نے مدح فرمائی۔ چناچہ شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہ (رح) ” منہاج السنۃ “ جلد اول میں ان آیات کا ذکر کرکے لکھتے ہیں۔ وھذہ الایات تتضمن الثناء علی المھاجرین والانصار وعلی الذین جاء وامن بعدھم یستغفرون لھم ویسئلون اللہ عزوجل ان لایجعل فی قلوبھم غلالھم، وتتضمن ان ھؤلاء الاصناف ھم المستحقون للفئی۔ ولاریب ان ھؤلاء الرافضۃ خارجون عن الاصناف الثلثۃ فانھم لم یستغفروا للسابقین وفی قولبھم غل علیھم۔ ففی الآیات الثناء علی الصحابۃ وعلی اھل السنۃ الذین یتولونھم واخراج الرافضۃ من ذلک، وھذا ایفتض مذھب الرافضۃ۔ اور یہ آیتیں مہاجرین وانصار کی مدح پر مشتمل ہیں اور ان لوگوں کی بھی تعریف پر مشتمل ہیں جو انصار ومہاجرین کے بعد آئیں گے اور یہ بعد میں آنیوالے سابقین اولین کے لیے دعاء مغفرت کریں گے اور اللہ تعالیٰ سے بھی دعا کریں گے کہ اے اللہ ہمارے دلوں کو مہاجرین وانصار کے کینہ سے بالک پاک وصاف رکھ، نیز ان آیات میں یہ مضمون بھی ہے کہ مال فئی کی مستحق یہ تین جماعتیں ہیں (ان کے سوا اور کسی کا اس میں استحقاق نہیں) اور اس میں کوئی شک نہیں کہ رافضی ان تینوں قسموں سے خارج ہیں اس لیے کہ وہ مہاجرین وانصار کے لیے دعاء مغفرت نہیں بلکہ ان کے دلوں میں تو مہاجرین وانصار کا کینہ بھرا ہوا ہے، تو ان آیات میں صحابہ کرام کی فضیلت ومدح ہے اور اسی طرح اہلسنۃ کی مدح ہے جو صحابہ کرام سے محبت رکھتے ہیں اور یہ آخری قید رافضیوں کے مذہب کو بالکل چاک کردیتی ہے۔ اور ان کے اس عیب وخبث کی پردہ دری کررہی ہے ان کے سینوں میں بھرا ہوا ہے، اللہم جنبنا عن کل رفض وسوٓء واملاقلوبنا عن حب اصحب نبیک ﷺ وعلی الہ و اصحابہ ...... اجمعین “۔ مستحقین ومصارف مال فئی : حق تعالیٰ شانہ نے مال فئی کے مصارف اور ان کا استحقاق بیان فرمانے کے لیے ارشاد فرمایا، (آیت) ” مآافآء اللہ علی رسول من اھل القری فللہ وللرسول الخ۔ یہ عنوان بالکل اسی طرح ہے جیسے مال غنیمت کے مصارف ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا۔ (آیت) ” واعلموآانماغنمتم من شیء فان للہ خمہ وللرسول “۔ الخ وہاں بھی تین لام ہیں، لام کلام عرب میں استحقاق کے مفہوم پر دلالت کرتا ہے لیکن ظاہر ہے کہ متعلق کے فرق سے استحقاق کی صورتوں میں بھی فرق ہوگا، اللہ کے لیے مال عنیمت اور مال فئی ہونا ملکیت کے معنی ظاہر کررہا ہے، کیونکہ اللہ ہی مالک الملک اور حقیقی مالک ہے اور للرسول میں تولیت کا مفہوم ادا کررہا ہے، جس سے یہ بتانا مقصود ہے ان اموال کے اصل متولی رسول اللہ ﷺ ہیں مالک حقیقی کی امانت کو بطور امانت ونیابت صرف کرنے کا حق آپ کو امانت ونیابت صرف کرنے کا حق آپ کو حاصل ہے کہ آپ مالک حقیقی کے حکم کے مطابق خرچ فرمائیں گے اور لذی القربی “ ، کالام صرف محل صرف ہونا ظاہر کررہا ہے کہ مال فئی کے یہ مستحق اور مصرف ہیں۔ حضرت ولی قدس سرۂ ازالۃ الخفاء میں فرماتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ مال فئی اللہ اور اس کے رسول کے اور قرابت داروں یتیموں اور مسافروں کے لیے ہے، فللہ میں خدا کی مالکیت کا بیان ہوا اور للرسول کا مطلب یہ ہوا کہ آپ رسول خدا ہیں۔ خدا کے کام میں لگے ہوئے ہیں، ان کو اتنی فرصت نہیں کہ کمائیں اور اطمینان سے بیٹھ کر کھائیں تو جب وہ خدا کے کام میں لگے ہوئے ہیں تو بمتقتضائے قدر شناسی رسول کانان ونفقہ بھی خدا ہی کے ذمہ ہونا چاہئے اس سے بہتر اور کیا صورت ہوسکتی ہے کہ جو مال خاص خدا کا دیا ہوا ہے اور بغیر منت غیر حاصل ہوا اس میں سے کچھ اس پروردگار کے رسول کے لیے تجویز کیا جائے اور یتیم ومسکین اور ابن السبیل اس وجہ سے کہ ان سے اسباب رزق منقطع ہوئے ہیں مورد رحم ہیں تو ان کی ضرورت کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان کو دینے کا حکم دیا گیا خواہ وہ ذوی القربی ہوں یا ان کے علاوہ ، اس کے بعداللہ رب العزت نے فرمایا، فقراء مہاجرین وانصار اور ان کے متبعین اور ان مہاجرین سے محبت رکھنے والوں کے لیے جن کی کوئی تحدید نہیں بلکہ انکے بعد آنے والے ان مومنین کے لیے جو ان حضرات کو واسطے دعاء مغفرت کرتے ہوں اور ان کے دلوں میں مہاجرین وانصار کے لیے بےپناہ جذبات محبت و عظمت ہوں۔ مالک بن اوس بن حدثان ؓ سے۔ 1 حاشیہ (صحیح بخاری، تفسیر روح المعانی، تفسیر ابن کثیر) سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ فاروق اعظم ؓ نے آیت مبارکہ (آیت) ” انما الصدقات للفقرآء والمساکین والعاملین علیھا ..... علیم حکیم “۔ تک تلاوت کی اور فرمایا یہ آیت مصارف صدقات کو بیان کررہی ہے اور وہ ان لوگوں کے لیے ہے جو صدقات کے مستحق ہیں، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت) ” واعلموآ انما غنمتم من شیء فان للہ خمسہ وللرسول ولذی القربی والیتامی والمساکین وابن السبیل “۔ اور فرمایا اس آیت نے ان لوگوں کو بیان کیا ہے جو مال غنیمت کے مستحق ہیں اس کے بعد سورة حشر کی یہ آیت تلاوت کی۔ (آیت) ” مآ افآء اللہ علی رسولہ من اھل القری ....... الی ....... للفقرآء المھاجرین “۔ اور فرمایا کہ یہ آیت مال فئی میں مہاجرین کا حق بیان کررہی ہے، پھر آیت ”۔ والذین تبوؤالدار والایمان من قبلھم “۔ پڑھ کر فرمانے لگے کہ اس آیت نے مال فئی میں انصار کا حق بیان کیا ہے اور اخیر میں (آیت) ” والذین جآء وا من بعدھم “۔ پڑھ کر فرمانے لگے کہ اس آیت نے تمام مسلمانوں کا احاطہ کرلیا ہے، جس سے ثابت ہوگیا کہ بیت المال اور مال فئی میں ہر مسلمان انصار کا حق بیان کیا ہے اور اخیر میں (آیت) ” والذین جآء وا من بعدھم “۔ پڑھ کر فرمانے لگے کہ اس آیت نے تمام مسلمانوں کا احاطہ کرلیا ہے جس سے ثابت ہوگیا کہ بیت المال اور مال فئی میں ہر مسلمان کا حق ہے، اگر میں زندہ رہا تو تم دیکھ لینا کہ ایک چرواہے کا حق بھی اس کے گھر پہنچا کرے گا بغیر اس کے کہ اس کی پیشانی پر پسینہ بھی آئے ہر مسلمان کا حق اس تک پہنچ کررہے گا خواہ وہ کسی بھی دور دراز مقام پر ہو۔ ، مافئی اور مال غنیمت میں فرق : مال فئی شریعت کی اصطلاح میں اس مال کو کہا جاتا ہے جو کافروں کے قبضہ سے مسلمانوں کو بغیر جہاد اور قتال کے حاصل ہوجائے کفار محض رعب سے یا صلح کرکے ان اموال اور علاقوں سے دست بردار ہوجائیں تو ان اموال کو فئی کہا جائے گا۔ مال غنیمت وہ ہے جو جہاد و قتال کے بعد مسلمانوں کو حاصل ہو اور مسلمانوں کی جانفشانیوں سے ملے پہلا مال یعنی مجاہدین کو ان کی سعی اور کوشش کے بغیر محض اللہ کے فضل سے حاصل ہوتا ہے اس وجہ سے اللہ نے اس میں تصرف کا حق کلیۃ اپنے پیغمبر کو عطا فرما دیا کہ جس طرح چاہیں وہ بیان کردوہ مصارف میں اس کو خرچ کریں برخلاف مال غنیمت کے کہ وہ مجاہدین کی محنت اور مشقت سے حاصل ہوتا ہے تو اس میں مجاہدین کا حصہ رکھا گیا اور خمس کے علاوہ وہی اس کے مستحق قرار دئیے گئے، یہی وجہ ہے کہ مال فئی کا کوئی مصرف متعین نہیں، جمیع مصالح مصلحین، مسلمین امیر و فقیر سب پر خرچ کیا جاسکتا ہے بخلاف زکوٰۃ، خمس اور مال غنیمت کے کہ مصارف متعین اور محدود کردیئے گئے ، جیسا کہ قرآن کریم نے ان کی وضاحت اور تعیین کردی۔ استحقاق کی اقسام : اصول شریعت کی رو سے استحقاق دو قسم کا ہے، ایک استحقاق قوی جس کو استحقاق فعلی اور استحقاق شخص بھی کہا جاتا ہے اور یہی استحقاق حقیقی ہے۔ دوسرا استحقاق ضعیف ہے جس کو استحقاق انفعالی اور استحقاق نوعی بھی کہا جاسکتا ہے اور یہ استحقاق مجازی ہے، استحقاق قوی وہ ہے جس کا منشاء امروجودی ہو جیسے مال غنیمت میں مجاہدین اور غانمین کے استحقاق کا منشاء ان کا جہاد ہے جو کہ امر وجود ہی ہے اسی بناء پر (آیت) ” واعلموا انما غنمتم من شیء فان للہ خمسہ “ میں غنیمت کو مجاہدین کی طرف منسوب کرکے یہ ظاہر کردیا کہ غنیمت کی تحصیل مجاہدین کی سعی اور جدوجہد کے باعث ہے۔ استحقاق ضعیف وہ ہے کہ جس کا منشاء امر عدمی ہو جیسے صدقات میں فقراء و مساکین کا استحقاق ان کی ناداری اور مفلسی کی وجہ سے ہے جو کہ امر عدمی ہے، اسی وجہ سے فقراء کو دعوی کا حق نہیں اور نہ ہی یہ ضروری ہے کہ کسی خاص شخص معین کو فقراء و مساکین میں سے دیا جائے، واللہ اعلم بالصواب، (ہذا من افاضات حضرۃ الوالد مولینا محمد ادریس کاندھلوی (رح))
Ayahs 59:11–17

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نَافَقُوْا یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِهِمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَ لَا نُطِیْعُ فِیْكُمْ اَحَدًا اَبَدًا١ۙ وَّ اِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 59:11 in the Quran reader

کیا تم نے ان منافقوں کو نہیں دیکھا جو اپنے کافر بھائیوں سے جو اہل کتاب ہیں کہا کرتے ہیں کہ اگر تم جلا وطن کئے گئے تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکل چلیں گے اور تمہارے بارے میں کبھی کسی کا کہا نہ مانیں گے اور اگر تم سے جنگ ہوئی تو تمہاری مدد کریں گے۔ مگر خدا ظاہر کئے دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔

لَئِنْ اُخْرِجُوْا لَا یَخْرُجُوْنَ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ قُوْتِلُوْا لَا یَنْصُرُوْنَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ نَّصَرُوْهُمْ لَیُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ١۫ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 59:12 in the Quran reader

اگر وہ نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہیں نکلیں کے۔ اور اگر ان سے جنگ ہوئی تو ان کی مدد نہیں کرینگے اور اگر مدد کرینگے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے پھر ان کو (کہیں سے بھی) مددنہ ملے گی۔

لَاَنْتُمْ اَشَدُّ رَهْبَةً فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 59:13 in the Quran reader

(مسلمانوں ! ) تمہاری ہیبت ان لوگوں کے دلوں میں خدا سے بھی بڑھ کر ہے۔ یہ اس لئے کہ وہ لوگ ایسے ہیں کہ سمجھ نہیں رکھتے۔

لَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوْ مِنْ وَّرَآءِ جُدُرٍ١ؕ بَاْسُهُمْ بَیْنَهُمْ شَدِیْدٌ١ؕ تَحْسَبُهُمْ جَمِیْعًا وَّ قُلُوْبُهُمْ شَتّٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 59:14 in the Quran reader

یہ سب جمع ہو کر بھی تم سے (بالمواجہہ) نہیں لڑسکیں گے مگر بستیوں کے قلعوں میں (پناہ لے کر یا دیواروں کی اوٹ میں (مستعور ہو کر) ان کا آبس میں بڑا رعب ہے۔ تم شاید خیال کرتے ہو کہ یہ اکٹھے (اور ایک جان) ہیں مگر ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں۔ یہ اس لئے کہ یہ بےعقل لوگ ہیں۔

كَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۚ Open ayah 59:15 in the Quran reader

ان کا حال ان لوگوں کا سا ہے جو ان سے کچھ ہی پیشتر اپنے کاموں کی سزا کا مزا چکھ چکے ہیں اور (ابھی) ان کے لئے دکھ دینے والا عذاب تیار ہے

كَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ١ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 59:16 in the Quran reader

منافقوں کی مثال شیطان کی سی ہے کہ انسان سے کہتا رہا کہ کافر ہوجا۔ جب وہ کافر ہوگیا تو کہنے لگا کہ مجھے تجھ سے کچھ سروکار نہیں مجھ کو تو خدائے رب العالمین سے ڈر لگتا ہے

فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ اَنَّهُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیْنِ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 59:17 in the Quran reader

تو دونوں کا انجام یہ ہوا کہ دوزخ میں داخل ہوئے ہمیشہ اس میں رہیں گے اور بےانصافوں کی یہی سزا ہے۔

احوال منافقین وکاذبین بعد بیان اوصاف مخلصین وصادقین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الم تر الی الذین نافقوا ...... الی ..... وذلک جزؤا الظلمین “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مال فئی اور اس کے مستحقین کا ذکر کرتے ہوئے ان اہل ایمان واخلاص کا بیان فرمایا جو اپنے ایمانی اوصاف میں وہ عظمت وبلندی حاصل کرنے والے ہیں کہ ان کو قرآن کریم نے ” الصادقون “ اور ” المفلحون “ کے لقب سے یاد کیا، ان کے برعکس اب ایک گروہ منافقین وکاذبین کا بیان ہے جن کے قبائح اور بدترین خصلتوں کو ذکر کے ان کی ذلت وناکامی کو بیان فرمایا جارہا ہے، ارشاد فرمایا۔ اے ہمارے پیغمبر کیا آپ ﷺ نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جنہوں نفاق کا پیشہ اختیار کر رکھا ہے، یہ منافق کہتے ہیں اپنے بھائیوں سے جو اہل کتاب میں سے کافر ہیں کہ اگر تم کو اپنے گھروں سے نکالا گیا تو ہم بھی ضرور بالضرور تمہارے ساتھ نکل جائیں گے اور ہم تمہارے معاملہ میں کسی کی بھی بات نہ مانیں گے کبھی بھی، اور اس طرح ہم تمہارے معاون و مددگار رہیں گے اور اگر تم سے قتال کیا گیا تو ہم ضرور تمہاری مدد کریں گے، رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی نے یہود بن نضیر کو یہ خفیہ پیغام بھیجا تھا اور تاکید سے کہلوایا کہ ہر گزنہ گھبرانا اور اپنے آپ کو اکیلا نہ سمجھنا، اگر مسلمانوں نے تم کو نکالنا چاہا تو ہم بھی احتجاجا تمہارے ساتھ نکل کھڑے ہوں گے اور اگر جہاد و قتال کی نوبت آئی تو ہم تمہاری پوری پوری مدد کریں گے یہ ہمارا ایسا قطعی اور یقینی فیصلہ ہے کہ اس کے خلاف ہم کسی کی بات ماننے کے واسطے ہرگز تیار نہ ہوں گے، ان کے اس طرح کے باطل دعوؤں پر قرآن کریم نے رد کرتے ہوئے فرمایا اور خدا گواہی دے رہا ہے کہ بیشک یہ منافق جھوٹے ہیں محض مسلمانوں کے خلاف اکسانے اور ورغلانے کے لیے یہ باتیں بنا رہے ہیں، آگاہ ہوجانا چاہئے اگر وہ اہل کتاب نکالے گئے تو یہ ہرگز ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے اور اگر ان سے قتال کیا گیا تو یہ کبھی بھی ان کی مدد نہ کریں گے اور اگر کچھ تھوڑی بہت دکھاوے کے طور پر مدد بھی کی تو پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے پھر کہیں سے بھی ان کی مدد نہیں کی جائے گی کسی اور کی کیا مدد کرتے اس طرح پیٹھ پھیر کر بھاگنے کے بعد تو یہ خود بھی ایسے بےیارومدد گار ہوجائیں گے کہ ان کی بھی کوئی مدد نہ کرسکے گا، چہ جائیکہ یہ دوسروں کی مدد کریں، ان کی اس منافقانہ روش سے معلوم ہوتا ہے کہ البتہ تمہارا ڈر زیادہ ہے ان کے دلوں میں بہ نسبت اللہ کے یہ اس وجہ سے کہ یہ ایک ایسی قوم ہے کہ سمجھ نہیں رکھتے، کیونکہ اللہ کی عظمت وہیبت اور قدرت وکبریائی کی کوئی حد نہیں اس سے تو معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا ڈر نہیں ورنہ تو نفاق کیوں اختیار کرتے اس کے بالمقابل مسلمانوں کی قوت و شجاعت سے ڈر رہے ہیں اور ان سے مرعوب وخوفزدہ ہو کر نفاق اختیار کیا اور کھلم کھلا کفر کے اعلان کی جرأت نہیں، تو ان کے اس طرز عمل نے ثابت کیا کہ مسلمانوں کا ڈر ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے ڈر سے زیادہ ہے، ان کے مرعوب اور خوفزدہ ہونے کی تو یہ حالت ہے کہ یہ لوگ نہیں لڑسکیں گے تم سے ایک جگہ جمع ہو کر اس طرح جیسے میدان جنگ میں کوئی فوج کسی فوج کا مقابلہ کرتی ہو مگر ایسی بستیوں میں جو احاطہ بندی کے ساتھ محفوظ ہوں اور قلعے کی شکل میں کہ اندر چھپ جانے والوں کو پناہ دے سکیں یادیواروں کے پیچھے سے تو جو قوم اس قدر بزدل ہو وہ کبھی کامیاب نہ ہوگی اور نہ ہی مسلمانوں کو ایسی بزدل قوم سے خائف ہونا چاہئے، یہ لوگ اگرچہ مسلمانوں کے مقابلہ میں بظاہر متحد نظر آتے ہیں اور اے مخاطب ! گمان کرتا ہے تو ان کو اکٹھا اور باہم متحد، لیکن ان کے دل جدا جدا ہیں یہ اس لیے کہ یہ لوگ عقل نہیں رکھتے، ہر ایک کی اپنی اپنی غرض اور خواہش جدا ہے اگرچہ مسلمانوں کی مخالفت میں سب متفق اور متحد ہیں مگر ہر ایک اپنی اغراض و خواہشات کے باعث مختلف اور متفرق ہے تو ایسے عناصر کے ظاہری اتحاد سے مسلمانوں کو فکرمند وپریشان نہ ہونا چاہئے اس صورت حال میں یہ دشمنان اسلام بلاشبہ کمزور ہیں اور اسلام کا مقابلہ ہرگز نہ کرسکیں گے، اگر انسان میں عقل ہو تو سمجھ سکتا ہے اگر اندر سے دل پھٹے ہوئے ہوں تو ظاہری اجتماعیت کچھ کام نہیں آتی، اس امر کو ملحوظ رکھتے ہوئے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی ذاتی اغراض و خواہشات سے کنارہ کش ہو کر سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لیں اور اپنا مرنا جینا سب اسی خدائے وحدہ لاشریک لہ کے لیے بنالیں۔ ان منافقین کی یہ حالت تو بالکل ایسی ہی ہوگئی جیسے کہ مثال ہے ان لوگوں کی جو ان سے پہلے قریب ہی وقت میں گزرے کہ مزہ چکھ لیا اپنے کام کا دنیا میں بھی ذلیل وناکام ہو کر اور مختلف قسم کے عذاب میں ہلاک وتباہ ہو کر اور آخرت میں بھی ان کے واسطے ایک درد ناک عذاب ہے، چناچہ یہود بنی قینقاع نے اپنی غداری کا مزہ چکھ لیا جب انہوں نے بدعہدی کی تو مسلمانوں نے ایک مختصر سی لڑائی کے بعد ان کو ان کے گھروں سے نکال باہر کیا اور اس سے پیشتر ماضی قریب میں مکہ والے ” بدر “ میں سزا پاچکے ہیں ایسا ہی انجام بنو نضیر کا دیکھ لو دنیا میں مسلمانوں کے ہاتھوں سزا مل چکی اور آخرت کا درد ناک عذاب اپنی جگہ باقی ہے۔ یہ حالت بالکل شیطان کے قصہ کی طرح ہے جب وہ انسان سے کہتا ہے کفر کر پھر جب انسان کفر کرتا ہے اور عذاب خداوندی اس کے سامنے ہوتا ہے اور شیطان پر وہ کافر ذمہ داری ڈالتا ہے کہ مجھ سے کفر تو اس نے کرایا ہے تو کہتا ہے کہ میں تجھ سے بری ہوں، میرا تجھ سے کوئی واسطہ نہیں میں تو اللہ سے ڈرتا ہوں جو رب ہے سارے جہانوں کا، پھر آخر کار انجام ان دونوں کا، کافر ہو یا کافر کو گمراہ کرنیوالا شیطان کہ وہ دونوں جہنم میں ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور کسی وقت یہ نہ ہوگا کہ وہ اس عذاب سے چھٹکارا حاصل کریں، اور یہی سزا ہوتی ہے ظالموں کی اس لیے ان منافقوں کو اپنی ان حرکتوں سے باز آجانا چاہئے اور مسلمانوں کو ایسی باتوں سے رنجیدہ اور پریشان نہ ہونا چاہئے کیونکہ ایسے گمراہوں کا انجام ذلت وناکامی طے ہوچکا ہے جس سے وہ ہرگز نہیں بچ سکتے۔ شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی (رح) فرماتے ہیں ” یعنی شیطان اول انسان کو معصیت پر ابھارتا ہے جب انسان دام اغواء میں پھنس جاتا ہے تو کہتا ہے کہ میں تجھ سے بری ہوں اور تیرے کام سے بیزار ہوں، مجھے تو اللہ سے ڈر لگ رہا ہے (یہ کہنا بھی ریاء اور مکاری ہوگا) جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خود دوزخ کا کندہ بنا اور اسے بھی بنایا “۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ” شیطان آخرت میں یہ بات کہے گا اور بدر کے دن بھی ایک کافر کی صورت میں لڑواتا تھا جب فرشتے نظر آجاتے تو بھاگ جاتا (تفصیل سورة انفال میں گزر چکی) تو یہی مثال منافقوں کی ہے کہ وہ نبو نضیر کو اپنی حمایت ورفاقت کا یقین دلا دلا کر بھرے پر چڑھاتے رہے، آخرجب وہ مصیبت میں پھنس گئے تو آپ الگ ہوبیٹھے، کیا وہ اس مکروعیاری کے بعد عذاب سے بچ گئے ؟ ہرگز نہیں دونوں کا ٹھکانہ جہنم ہے “۔ (فوائد عثمانی)