58. Surah Al-Mujaadila

المجادلةThe Pleading Woman · 22 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 58:1–4

قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُكَ فِیْ زَوْجِهَا وَ تَشْتَكِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ۖۗ وَ اللّٰهُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 58:1 in the Quran reader

(اے پیغبر) جو عورت تم سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث وجدال کرتی اور خدا سے شکایت (رنج وملال) کرتی تھی خدا نے اس کی التجا سن لی۔ اور خدا تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا کچھ شک نہیں کہ خدا سنتا دیکھتا ہے

اَلَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآئِهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ١ؕ اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا الّٰٓئِیْ وَلَدْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 58:2 in the Quran reader

جو لوگ تم میں سے اپنی عورتوں کو ماں کہہ دیتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں ہوجاتیں۔ ان کی مائیں تو وہی ہیں جن کے بطن سے وہ پیدا ہوئے ہیں بیشک وہ نامعقول اور جھوٹی بات کہتے ہیں۔ خدا بڑا معاف کرنیوالا اور بخشنے والا ہے

وَ الَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ؕ ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:3 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنی بیویوں کو ماں کہہ بیٹھیں پھر اپنے قول سے رجوع کرلیں تو (ان کو) ہم بستر ہونے سے بہلے ایک غلام آزاد کرنا (ضرور) ہے (مومنو) اس (حکم) سے تم کو نصحیت کی جاتی اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے خبردار ہے

فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْكِیْنًا١ؕ ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 58:4 in the Quran reader

جس کو غلام نہ ملے وہ مجامعت سے پہلے متواتر دو مہینے کے روزے (رکھے) جس کو اس کا بھی مقدور نہ ہو (اسے) ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا (چاہیے) یہ (حکم) اس لے ہے کہ تم خدا اور اس کے رسول کے فرمانبردار بن جاؤ۔ اور یہ خدا کی حدیں ہیں اور نہ ماننے والوں کے لئے درد دینے والا عزاب ہے۔

شکوہ والتجاخاتون پریشان حال دربارگاہ رب العزت ذی الجلال ونزول حکم ظہار : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” قد سمع اللہ قول التی تجادلک ....... الی ....... عذاب الیم “۔ (رابط) گذشتہ سورت کا مضمون انبیاء (علیہ السلام) کی بعثت اور ان کے ذریعہ عالم دنیا کے لیے سامان ہدایت و رحمت کا ذکر تھا اب اس سورت کی ابتداء اس مضمون سے کی جارہی ہے کہ اللہ رب العزت رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ ایسے ہدایات و احکام نازل فرماتا ہے جن سے لوگ اپنی پریشانیوں سے چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں اگر وہ اپنی زندگی کے کسی شعبہ میں بھی وقت پریشان ومضطرب ہوں تو خدا تعالیٰ کس طرح ان کی التجاء سنتا ہے اور احکام شریعت کے ذریعہ کس طرح ان کی پریشانیاں دور فرماتا ہے، چناچہ ارشاد فرمایا : بیشک اللہ نے سن لی ہے اس عورت کی بات جو اے ہمارے پیغمبر آپ سے جھگڑرہی تھی اپنے خاوند کے حق میں اور شکایت کررہی تھی اپنی مصیبت و پریشانی کی اللہ کے سامنے اور اسی کی بارگاہ میں التجاکررہی تھی اور اللہ سن رہا تھا تم دونوں کے سوال و جواب کو اور آپس کی ردوقدح کو کہ خولہ ؓ کہہ رہی تھی، یارسول اللہ ﷺ اس نے مجھے طلاق نہیں دی اور اب میں کس طرح زندگی گزاروں کہ اس کے یہ کہنے سے کہ ” تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے “ میں حرام ہوگئی۔ اور آپ ﷺ کہتے تھے کہ مجھ پر تو کوئی اور حکم اللہ کی طرف سے نازل نہیں ہوا۔ بیشک اللہ خوب سنتادیکھتا ہے تو اس نے ایک دکھی عورت کی آواز والتجاء کو سنا اور اس کی مصیبت و پریشانی سے نجات پانے کا راستہ پیدا کردیا اور آئندہ کے لیے اس قسم کی بات کرنے والوں کے واسطے یہ حکم نازل کردیا کہ جو لوگ ظہار کربیٹھیں تم میں سے اپنی عورتوں سے اور ان کو اپنی ماں کہہ بیٹھیں اور ماں کے بدن سے انکو تشبیہ دیدیں تو وہ نہیں ہوجاتیں انکی مائیں، ان کی مائیں تو صرف وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا اور یقیناً وہ بول رہے ہیں ایک بہت ہی ناپسندیدہ اور جھوٹی بات کہ جس عورت نے ان کو جنا نہیں وہ کیسے ان پر ماں کی طرح حرام ہوسکتی ہے یہ بیہودہ بات ایسی تو نہ تھی کہ اس پر درگذر کیا جاتا لیکن اللہ بہت ہی درگزر کرنیوالا ہے جو اپنے بندوں کو بخشنے والا ہے تو اب ایسی صورت حال میں قانون خداوندی اور حکم شرعی یہ ہے، اور وہ لوگ جو اپنی عورتوں سے ظہار کرلیں اور پھر وہ لوٹنا چاہیں اسی چیز کی طرف جس کے واسطے انہوں نے یہ کہا یعنی حرمت تعلق اور وہ پھر اس علاقہ زوجیت کی طرف لوٹنا چاہیں تو ایک غلام آزاد کرنا ہے اس سے قبل کہ وہ ایک دوسرے کو چھوئیں۔ 1 حاشیہ (حنفیہ کے یہاں ظہار میں یہی حکم ہے کہ کفارہ ادا کرنے سے قبل مردو عورت آپس میں نہیں مل سکتے جماع اور دواعی جماع سب ممنوع ہیں چناچہ متعدد احادیث ہیں اس کی تصریح ہے۔ زہری (رح) نے تصریح کی ہے کہ لمس وتقبیل وغیرہ بھی جائز و حلال نہیں ہے جب تک کہ کفارہ نہ ادا کرے عکرمہ ؓ ، ابن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آکر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں نے اپنی عورت سے قربت کرلی قبل اس کے کہ میں کفارہ ادا کروں، آپ ﷺ نے اس پر نکیر فرمائی اور فرمایا اس بات پر آخر تجھے کس بات نے آمادہ کیا اس نے اپنا عذر بیان کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا، لا تقربھا حتی تفعل ماامرک اللہ عزوجل، کہ تو اس کے قریب بھی نہ جا جب تک کہ تو اس بات کی تکمیل نہ کرلے جس کا اللہ عزوجل نے تجھے حکم دیا ہے یعنی کفارہ ادا کرلے امام ترمذی (رح) نے اس حدیث کو حسن غریب صحیح فرمایا ہے، اور امام ابوداؤد ونسائی نے اس کو عکرمہ ؓ سے مرسلا روایت کیا ہے، (تفسیر ابن کثیر ج 4) ظہار کے تفصلی احکام کیلئے کتب فقہ کی مراجعت فرمائی جاوے 12۔ ) اے مسلمانو ! یہ بات جس کی نصیحت تم کو کی جارہی ہے، اور اس حاکم کا تم کو پابند کیا جارہا ہے، اور اللہ تو خوب خبر رکھنے والا ہے ان تمام کاموں کی جو تم کرتے ہو پھر اگر کوئی شخص نہ پائے غلام اور اس کی قدرت نہ ہو کہ غلام آزاد کرے تو دو مہینہ کے روزے ہیں پے درپے قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو چھوئیں پھر اگر کوئی اس کی بھی کوئی استطاعت نہیں رکھتا تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے یہ حکم مذکورہ بالاکفارہ کی تین صورتوں میں ہے اس لیے کہ تم ایمان لاؤ اللہ پر اور تابع دار ہو اللہ کے ہر حکم کے اور اس کے رسول کے اور یہ اللہ کی حدود ہیں جو اللہ نے اپنے بندوں پر مقرر کردی ہیں ان پر ایمان لانا اور ان کی اطاعت و فرمانبرداری لازم ہے اور کافروں کے واسطے بڑا ہی درد ناک عذاب ہے، اللہ کے حکم سے روگردانی درحقیقت انسان کا خود اپنے اوپر ظلم ہے جس کی سزا سے وہ ہرگز نہیں بچ سکتا اسی وجہ سے اللہ نے حدود مقرر کردیں تاکہ ان سے کوئی تجاوز نہ کرے۔ ظہار کا مفہوم اور اس کا حکم شرعی : جیسا کہ تفسیری کلمات سے معلوم ہوچکا ظہار کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی مرد اپنی عورت کو یہ کہے، انت علی کظہرامی، کہ تو مجھ پر میری ماں کی پشت کی طرح حرام ہے، اصطلاح شریعت میں ظہار اپنی بیوی کو یہ اس کے کسی ایسے جزء شائع کو جس سے سارے جسم کو اور ذات کو تعبیر کیا جاسکتا ہو، اپنی ماں سے یا اس کے کسی ایسے حصہ سے تشبیہ دینا جس کا دینا جائز نہیں ہے اسی طرح دیگر محرمات ابدیہ سے تشبیہ دینا ظہار ہے لفظ ظہار ظہر بمعنی پشت سے مشتق ہے یہ لفظ اگرچہ تلفظ اور ذکر کیا جاتا ہے مگر مراد مجازا پیٹھ یا مقام مخصوص ہوتا ہے، حیاء لفظ ظہار بولنا اختیار کیا گیا کلام عرب میں اس طرح کا مجازا استعمال شائع اور معروف ہے، ان آیات کے نزول سے پیشتر ظہار کو قطعی طلاق شمار کیا جاتا تھا اور اس وقت اسلام میں اس صورت خاص کا کوئی حکم بھی نازل نہ ہوا تھا اسی وجہ سے آنحضرت ﷺ نے ابتداء فرمادیا تھا کہ اب تو اس پر حرام ہوچکی اور اب کوئی صورت تیرے واسطے نہیں یہاں تک کہ یہ کفارہ کا حکم قرآن کریم میں نازل ہوگیا اب ظہار کرنے پر شریعت کے نزدیک کفارہ کی یہ شکل نکل آئی اور اس طرح کفارہ ادا کر کے مرد اپنی بیوی کی طرف رجوع کرسکتا ہے۔ فقہاء کے نزدیک یہ بات تو بلاجماع ہے کہ ان الفاظ کے کہنے سے ظہار ہوجائے گا۔ لیکن ان الفاظ یعنی ” انت علی کظھر امی “۔ کے علاوہ اور کوئی لفظ کہے اس کی متعدد صورتیں ہوسکتی ہیں۔ مثلا ” ظہر “ تو کہے لیکن ” ام “ کا لفظ نہ کہے تو اگر ام کے علاوہ کسی غیر محرم کا ذکر کیا یعنی محرم سے تشیبہ نہیں دی تو اس صورت میں بالاتفاق ظہار نہ ہوگا، اس لیے کہ اپنی عورت سے قربت کو اگر ایسی عورت کی قربت سے تشبیہ دی جس سے نکاح ہوسکتا ہے تو کوئی مضائقہ نہیں، البتہ اگر ماں کے سوا ان عورتوں کے ساتھ تشبیہ دی جو اس پر ہمیشہ کے لیے حرام ہیں خواہ نسبا ہوں مثلا بہن۔ پھوپھی، بیٹی، تو اسی یا رضاعت کے رشتہ سے مثلا جیسے کہ رضاعی بہن اور رضاعی بیٹی وغیرہ تو ان سورتوں میں امام ابوحنفیہ (رح) کے نزدیک ظہار ہوگا امام شافعی (رح) کے نزدیک اس میں دو قول ہیں پہلا قول یہ تھا کہ ظہار نہ ہوگا، دوسرا یہ کہ ظہار ہے، دوسری شکل یہ کہ ماں کی پشت سے تو تشبیہ نہیں دی بلکہ اس کے کسی عضو کے ساتھ تشبیہ دی ہے تو اس کی دو صورتیں ہیں ایک ایسے عضو کے ساتھ تشبیہ دی ہے کہ ان کا دیکھنا حرام نہیں مثلا ہاتھ۔ پاؤں، چہرہ۔ آنکھ، تو اس میں ظہار نہیں اور اگر ایسے اعضاء سے تشیبہ دی ہے کہ ان کا دیکھنا حرام ہو مثلا ران، سرین، اور پیٹ تو امام ابوحنفیہ (رح) کے نزدیک ظہار ہے۔ تیسری شکل یہ کہ نہ ماں کا ذکر ہو اور نہ پشت کا بلکہ یہ کہے کہ تو مجھ پر میری بہن یا بیٹی کی طرح ہے تو اس شکل میں فقہاء حنابلہ وشافعیہ ظہار نہیں کہتے لیکن امام ابوحنفیہ (رح) کے نزدیک اس شکل میں بھی ظہار ہے، لفظ ” منکم “ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ظہار مسلمان کرسکتا ہے کافر ذمی کو ظہار کا حق نہیں تفصیل کیلئے کتب فقہ کی مراجعت فرمائیں۔
Ayahs 58:5–6

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ كُبِتُوْا كَمَا كُبِتَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ قَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌۚ Open ayah 58:5 in the Quran reader

جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں اور اسی طرح ذلیل کئے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے لوگ ذلیل کئے گئے تھے اور ہم نے صاف اور صریح آیتیں نازل کردی ہیں اور جو نہیں مانتے ان کو ذلت کا عذاب ہوگا۔

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اَحْصٰىهُ اللّٰهُ وَ نَسُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ۠ Open ayah 58:6 in the Quran reader

جس دن خدا ان سب کو جلا اٹھائے گا تو جو کام وہ کرتے رہے انکو جتائے گا۔ خدا کو وہ سب (کام) یاد ہیں اور یہ انکو بھول گئے ہیں اور خدا ہر چیز سے واقف ہے۔

تنبیہ ووعید پر بغاوت ونافرمانی از حکم خدا اور رسول ﷺ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” گزشتہ آیات میں کفارۂ ظہار کا حکم بیان فرما کر اخیر میں فرما دیا گیا تھا یہ احکام اللہ کی حدود ہیں۔ اور حدود خداوندی سے تجاوز کرنا اللہ کو ہرگز گوارا نہیں ہوسکتا تو اب ان آیات میں احکام خداوندی سے بغاوت کرنے والوں اور اللہ کی حدود سے تجاوز کرنے والوں پر وعیدوتنبیہ ہے فرمایا۔ بیشک جو لوگ مخالفت کرتے ہیں اللہ کی اور اس کے رسول کی وہ ذلیل و خوار ہوئے جیسا کہ ذلیل ہوئے وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے اور ہم نے اتار دی ہیں کھلی کھلی نشانیاں اور واضح احکام جن کے بعد نہ کوئی تردد ہوسکتا ہے اور نہ ہی کوئی ابہام باقی رہ سکتا ہے اور کافروں کے واسطے بڑا ہی ذلیل کردینے والا عذاب ہے، جس دن کے اٹھائے گا اللہ ان سب کو پھر کھول کر رکھ دے گا انکے سامنے انکے وہ کام جو انہوں نے کیئے، اللہ نے تو اس کا احاطہ کر رکھا ہے اور انہوں نے اس کو بھلا دیا ہے، ہر انسان اور اس کا عمل اور اس کی ہر حالت خدا کے احاطہ میں ہے کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں گوانسان اپنے اعمال اور احوال کو بھلا دیتا ہے اور نہ ہی اس کو قیامت یاد رہتی ہے، اور اللہ کے سامنے ہر چیز حاضر ہے کوئی ذرہ آسمانوں اور زمین میں اس سے پوشیدہ نہیں، ہر ایک کے سامنے اس کے اعمال کا دفتر کھول کر رکھ دیا جائے گا زبان پر مہر لگا دی جائے گی اور انسان کے ہاتھ پاؤں گواہی دیتے ہوں گے، الغرض اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے کسی بھی نافرمان اور اللہ کی حدود سے تجاوز کرنے والے کو دھوکہ میں نہ رہنا چاہئے کہ وہ اللہ کی گرفت اور عذاب سے بچ جائے گا۔
Ayahs 58:7–13

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَا یَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَ لَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَ لَاۤ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَیْنَ مَا كَانُوْا١ۚ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 58:7 in the Quran reader

کیا تم کو معلوم نہیں کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے خدا کو سب معلوم ہے۔ (کسی جگہ) تین (شخصوں) کا (مجمع اور) کانوں میں صلاح و مشورہ نہیں ہوتا مگر وہ ان میں چوتھا ہوتا ہے اور نہ کہیں پانچ کا مگر وہ ان میں چھٹا ہوتا ہے اور نہ اس سے کم یا زیادہ مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے خواہ وہ کہیں ہوں۔ پھر جو جو کام یہ کرتے رہے ہیں قیامت کے دن وہ (ایک ایک) ان کو بتائے گا۔ بیشک خدا ہر چیز سے واقف ہے

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ یَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ١٘ وَ اِذَا جَآءُوْكَ حَیَّوْكَ بِمَا لَمْ یُحَیِّكَ بِهِ اللّٰهُ١ۙ وَ یَقُوْلُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ لَوْ لَا یُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ١ؕ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 58:8 in the Quran reader

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو سرگوشیاں کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ پھر جس (کام) سے منع کیا گیا تھا وہی پھر کرنے لگے اور یہ تو گناہ اور ظلم اور رسول (خدا) کی نافرمانی کی سرگوشیاں کرتے ہیں اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو جس (کلمے) سے خدا نے تم کو دعا نہیں دی اس سے تمہیں دعا دیتے ہیں۔ اور اپنے دل میں کہتے ہیں کہ (اگر یہ واقعی پیغمبر ہیں ٫) جو کچھ ہم کہتے ہیں خدا ہمیں اسکی سزا کیوں نہیں دیتا ؟ (اے بیغمبر) ان کو دوزخ (ہی کی سزا) کافی ہے یہ اسی میں داخل ہونگے اور وہ بری جگہ ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ وَ تَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 58:9 in the Quran reader

مومنو ! جب تم آپس میں سرگوشیاں کرنے لگو تو گناہ اور زیادتی اور پیغمبر کی نافرمانی کی باتیں نہ کرنا بلکہ نیکو کاری اور پرہیزگاری کی باتیں کرنا اور خدا سے جس کے سامنے جمع کئے جاؤ گے ڈرتے رہنا۔

اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّیْطٰنِ لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیْسَ بِضَآرِّهِمْ شَیْئًا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 58:10 in the Quran reader

کافروں کی) سرگوشیاں تو شیطان (کی حرکات) سے ہیں (جو) اس لئے (کی جاتی ہیں) مومن (ان سے) غمناک ہوں مگر خدا کے حکم کے سوا ان سے انہیں کچھ نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ تو مومنوں کو چاہیے کہ خدا ہی پر بھروسا رکھیں۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ١ۚ وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ۙ وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:11 in the Quran reader

مومنو ! جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں کھل جاؤ تو کھل کر بیٹھا کرو خدا تم کو کشادگی بخشے گا۔ اور جب کہا حائے کہ اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہوا کرو جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں اور جن کو علم عطا کیا گیا ہے خدا ان کے درجے بلند کریگأ۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةً١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 58:12 in the Quran reader

مومنو ! جب تم پیغمبر کے کان میں کوئی بات کہو تو بات کہنے سے پہلے (مساکین کو) خیرات دے دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہت بہتر اور پاکیزگی کی بات ہے۔ اور أگر خیرات تم کو میسر نہ ہو تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ١ؕ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 58:13 in the Quran reader

کیا تم اس سے کہ پیغمبر کے کان میں کوئی بات کہنے سے پہلے خیرات دیا کرو ڈر گئے پھر جب تم نے (ایسا) نہ کیا اور خدا نے تمہیں معاف کردیا تو نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے رہو اور خدا اور اس کے پیغبر کی فرمانبرداری کرتے رہو اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے خبردار ہے

بیان عظمت خداوندی وآداب حاضری دربار گاہ رسالت ﷺ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الم تران اللہ یعلم ...... الی ...... واللہ خبیر بما تعملون “۔ (ربط) اس سے قبل ان غافلوں اور نافرمانوں پر وعید تھی جو اللہ کے رسول کے احکام سے بغاوت کریں روز قیامت اور اپنے اعمال کے نتیجہ کو فراموش کردیں ان کو آگاہ فرمایا گیا کہ اللہ رب العزت ہر چیز کا احاطہ کرنے والا ہے اس کے علم اور قدرت سے کوئی چیز خارج نہیں اب ان آیات میں حق تعالیٰ شاہ کی عظمت و جلال کا ذکر ہے اور یہ کہ اس کے رسول کی خدمت میں حاضری کے آداب کیا ہیں اور جو منافقین یہود آپ ﷺ کے پاس محض آپ ﷺ کا وقت ضائع کرنے یا آپ ﷺ کو ایذاء پہنچانے کی غرض سے آتے ہیں اس کے پیش نظر مسلمانوں پر کچھ احکام آداب و عظمت کے بیان فرمائے گئے تاکہ مخلص کا فرق ظاہر ہوسکے، ارشاد فرمایا : اے مخاطب کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ جانتا ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے انسانوں کے اعمال تو کیا ہر ذرۂ کائنات اس کی نظروں کے سامنے ہے کوئی بھی سرگوشی اور مشورہ تین آدمیوں کا نہیں ہوتا ایسا کہ وہ ان کا چوتھا نہ ہو اور نہ پانچ کا جہاں وہ نہ ہوتا ہو ان کا چھٹا اور نہ اس سے کم اور نہ اس سے زائد کا کوئی مشورہ و سرگوشی مگر یہ کہ وہ پروردگار ان کے ساتھ ہوتا ہے جہاں بھی کہیں وہ ہوں غرض کوئی مکان وزمان اور کوئی حالت اور مجلس و سرگوشی اور کوئی مخفی سے مخفی عمل ایسا نہیں ہوسکتا کہ اس کا علم اس کو محیط نہ ہو چھپ کر مشورہ کرنے والوں کو اس دھوکہ میں نہ رہنا چاہئے کہ ہم خدا کی نظروں سے چھپے ہوئے ہیں اس کو سب کچھ معلوم ہے اور وہ ہر چیز محفوظ رکھتا ہے، اس لیے پھر ان کو آگاہ کردے گا اور جتلا دے گا قیامت کے روز ان اعمال کو جو انہوں نے کیے بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے، اس بناء پر نہ تو کسی کو حق تعالیٰ کی عظمت وکبریائی سے غفلت برتنی چاہئے جیسا کہ کچھ منافقین و یہود کرتے تھے تو کیا اے مخاطب تو نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جو آپس میں سرگوشیوں سے منع کئے گئے لیکن پھر وہ لوگ وہی کام کرتے ہیں جس کی ان کو ممانعت کی گئی اور آپس میں سرگوشی کرتے ہیں گناہ کی اور زیادتی کی اور رسول کی نافرمانی کی اور جب آئیں اے پیغمبر یہ لوگ آپ کے پاس تو تحیہ وسلام کرتے ہیں اس طرح سے کہ اللہ نے آپ کو تحیہ نہیں کیا اور ان الفاظ سے آپ ﷺ کو دعاء سلامتی نہیں دی، اللہ نے تو اپنے رسولوں کو (آیت) ” سلام علی المرسلین “۔ فرمایا اور (آیت) ” سلام علی عبادہ الذین اصطفی “ کہا اور اسی طرح ”۔ السلام علیک ایھا النبی ‘۔ التحیات میں فرمایا مگر یہ منافق اور یہودی جب آپ ﷺ کو تحیہ کرتے تو ” السلام علیک “ ، کے بجائے السام علیک “ ، کہتے اور سام کے معنی موت ہیں تو اسی طرح نازبناالفاظ کہہ کر آپ کو سلام کرتے ہیں۔ حاشیہ (ایک روایت میں ہے کہ ایک دفعہ ایک یہودی نے اسی لفظ سے آپ ﷺ کو مخاطب کیا۔ السام علیک حضرت عائشہ ؓ سن رہی تھیں انکو غصہ آیا اور فرمانے لگیں ’ بل علیک السام والعنۃ ‘۔ کہ بلکہ تجھ ہی پر موت اور لعنت ہو، آنحضرت ﷺ نے فرمایا، اے عائشہ ؓ نرمی کرو، حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ نے کیا نہیں محسوس فرمایا کہ اس نے کیا کہا، آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم نے نہیں سنا کہ میں نے کیا جواب دیا میں نے اس کو کہہ دیا ”، وعلیک “ ، یعنی اس کی بات اسی پر لوٹا دی اور میری بات تو اس کے حق میں قبول ہوگی، اور اس کی بات میرے حق میں قبول نہ ہوگی۔ 12) اور مومنین کو ایذاء بھی پہنچاتے ہیں اور خود اپنی باطنی گندگی وخبث کی وجہ سے اپنے دلوں میں کہتے ہیں کیوں نہیں ہم کو اللہ عذاب دیتا ہمارے اس کہنے پر اگر ہم اس کے پیغمبر کی توہین ودل آزاری کررہے ہیں ظاہر ہے کہ عالم دنیا میں اس طرح کا نظام اللہ کی حکمت کے پیش نظر ممکن نہ تھا کہ جو گستاخ اور یہودی یا کافر کوئی بھی بیہودہ لفظ زبان سے نکالے تو فورا ہی اس پر آسمان سے عذاب نازل ہوجائے ایسی صورت میں تو پھر ایمان بالغیب کا کوئی درجہ نہیں رہتا اس وجہ سے فرمایا بس کافی ہے ان کو دوزخ جس میں یہ داخل ہوں گے قیامت کے روز سو وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے جس کی طرف ان کو لوٹنا ہے۔ یہودیوں اور منافقوں کی یہ کس قدر خباثت تھی کہ باوجود اس طرح سرگوشیوں کی ممانعت کے پھر بھی سرگوشیاں کرتے اور آنحضرت ﷺ کی خدمت میں بیٹھنے والے مسلمانوں کا مذاق اڑاتے اور عجیب عجیب قسم کے آنکھوں سے اشارے کنائے کرتے تو اس کے بالمقابل مسلمانوں کو ہدایت فرمائی گئی اے ایمان والو، ! جب تم ایک دوسرے سے کوئی پوشیدہ کرو تو ہرگز کسی گناہ کی بات کی سرگوشنی نہ کرو اور نہ زیادتی اور رسول کی نافرمانی کرنے کی، اور سرگوشی ومشورہ کیا کرو نیکی اور تقوی کے کاموں کی اور اس خدا سے ڈرتے رہو جس کی طرف تم سب اٹھائے جاؤ گے ہر عمل واخلاص کا بدلہ روز محشرہر ایک کو مل جائے گا اگر یہود اور منافقین مسلمانوں اور رسول خدا ﷺ کی دل آزاری کے واسطے ایسی حرکتیں کرتے ہیں تو اس پر مسلمانوں کو رنجید نہ ہونا چاہئے ان کو یہ بات ہر وقت پیش نظر ہی رکھنی چاہئے کہ یہ جو کچھ سرگوشی اور کانا پھوسی ہے وہ صرف شیطان ہی کی طرف سے ہے تاکہ غمگین کردے۔ 1 حاشیہ 1 (حضرت شاہ عبدالقادر (رح) اپنے فوائد میں لکھتے ہیں ” مجلس میں دو شخص کان میں بات کریں تو دیکھنے والے کو غم ہو کہ مجھ سے کیا حرکت ہوئی جو یہ چھپ کر کہتے ہیں “۔ احادیث میں اس بات کی ممانعت آئی ہے کہ مجلس میں ایک آدمی کو چھوڑ کر دو شخص آپس میں سرگوشی کرنے لگیں کیونکہ اس صورت میں لامحالہ تیسرا شخص غمگین ہوگا۔ 12) اہل ایمان کو اور حال یہ ہے کہ وہ انکا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکے گا بجز اللہ کے حکم کے کہ اگر کسی بات کے متعلق اسی کا حکم ہوا تو وہ بہرکیف ہوجائے گی اور ایمان والوں کو چاہئے کہ اللہ ہی پر بھروسہ کریں اور اللہ پر بھر وسہ کرنے سے ان پر اس قسم کی دل آزار حرکتیں زیادہ اثر انداز نہ ہوں گی، اور ان کا یہ اعتقاد ” کہ کوئی چیز اور کوئی بھی سازش بغیر بغیر اذن الہی کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتی “ ان کے دلوں کے ایمان وتقوی کو اور مضبوط کردے گا اگر منافق و یہود برائی کی باتوں کی سرگوشیوں میں مصروف ہیں تو اہل ایمان کو نیکی اور تقوی کے مشوروں میں لگ جانا چاہئے، ان آداب وہدایات کے ساتھ اس ادب کا بھی لحاظ رکھنا چاہئے کہ اے ایمان والوجب تم کو کہا جائے کھل کر بیٹھومجلس میں تو کھل جاؤ اللہ تعالیٰ تمہارے واسطے کشادگی فرمائے گا، اس لیے ایسا نہ کرنا چاہئے کہ منتشر بیٹھیں اور دوسرے آنے والوں کے لئے جگہ کشادہ نہ رہے بلکہ قریب قریب حلقہ بنا کر بیٹھتے رہیں اور اگر کہا جائے اٹھ جاؤ تو اٹھ جایا کرو حلقہ بنانے اور جگہ کشادہ کرنے لیے مجلس میں بعد میں آنے والوں کو جگہ دینے کے لئے اللہ تعالیٰ بلند کرتا ہے تم میں سے ایمان لانے والوں اور علم والوں کے درجات حقیقت یہی ہے ایمان، اخلاص اور تہذیب وشائستگی جہاں انسان کو تواضع سکھانے کا ذریعہ ہے اسی کے ساتھ مراتب ودرجات کی بلندی کا بھی باعث ہے اور اللہ خوب جانتا ہے ان تمام کاموں کو جو اے لوگوتم کرتے ہو، اس وجہ سے ہر ایک کو اس کے اخلاص اور صلاحیت کے اعتبار سے اجر وثواب ملے گا ایمان اور علم یہی دو نعمتیں ہیں جن سے انسانوں کی صلاحیتوں اور استعداد میں جلا اور خوبی حاصل ہوتی ہے تو ان ہی پر درجات و مراتب کی بلندی مرتب فرمائی گئی۔ منافق چونکہ ہر طرح اسی کی کوشش کرتے تھے کہ مسلمانوں کو ایذاء پہنچے اور اسی طرح وہ آنحضرت ﷺ کے فیوض وبرکات سے مستفیض نہ ہوں تو آنحضرت ﷺ کی خدمت میں غیرضروری باتیں کرنے لگتے اور وقت ضائع کرتے اور آپ ﷺ اپنی مروت واخلاص کے باعث کسی کو منع نہ فرماتے تو اس وجہ سے یہ حکم نازل فرمایا گیا کہ آنحضرت ﷺ سے جو بھی کوئی خصوصی مجلس کی طرح مشورہ کرنا چاہے تو اس کو چاہئے کہ پہلے وہ ان غرباء کے واسطے صدقہ دے جو اصحاب صفہ اور دیگر غرباء مسجد نبوی میں شب وروز رہتے ہوں تاکہ ان غرباء کی اعانت بھی ہو اور اس کے باعث جو درحقیقت ضرورت مند اور مخلص ہوگا وہی خصوصی مشورہ اور سرگوشی کے لئے حاضری چاہے گا تو فرمایا اے ایمان والو جب تم کوئی سر گوشی اور مشورہ کرو رسول اللہ ﷺ سے تو اپنی سرگوشی سے پہلے کوئی صدقہ بھیج دیا کرو، یہی بہتر ہے تمہارے واسطے اور زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے کیونکہ صدقات سے انسان کی باطنی کدورتوں اور کثافتوں کا ازالہ ہوتا ہے اور تقوی و طہارت کے آثار رونما ہوتے ہیں پھر اگر تم نہ پاؤ کوئی چیز صدقہ کی پہلے بھیج دینے کے لیے تو بس اللہ بڑا ہی بخش دینے والا مہربان ہے، اس طرح غیر مستطیع لوگوں کے حق میں پہلے ہی سہولت فرما دی گئی۔ یہ جو کچھ مقرر ہوا تھا محض نفس کے تزکیہ اور منافق ومخلص کے امتیاز کے لیے، منافقین نے تو بخل کی وجہ سے پہلے ہی مجلس میں خصوصی سرگوشی کا سلسلہ بند کردیا اور جو مسلمان بلاوجہ ہی خصوصی ملاقات کا ارادہ کرتے تھے، انہوں نے بھی یہ سوچ کر کہ یہ سرگوشیاں اللہ کو پسند نہیں بالآخر اس طرح اس حکم کو تبدیل فرما دیا گیا، کیا تم اس بات سے ڈر گئے ہو کہ اپنی سرگوشی سے پہلے صدقات بھیجا کرو، بہرحال جب تم نے ایسی بات نہی کی اور اللہ نے تمہیں معاف کردیا تو اب تم قائم رکھو نماز اور زکوٰۃ دیتے رہو اور اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی اطاعت کرتے رہو اسی میں تمہارے واسطے نجات و کامیابی اور فلاح وسعادت ہے اور اللہ خوب جانتا ہے ان کاموں کو جو تم کرتے ہو، نہ کسی کا عمل خدا سے مخفی ہے اور نہ کسی کے اخلاص اور سعادت سے اللہ تعالیٰ بیخبر ہے ہر ایک کو اس کے اخلاص وعمل کا ضرور پورا پورا اجر وثواب دے گا۔ مناجات و سرگوشی پر جو صدقہ کا حکم تھا وہ عارضی تھا اور اس کی غرض پوری ہوگئی تو اس کو تو اٹھایا گیا ہاں جو احکام ابدی اور دائمی ہیں وہ ہمیشہ قائم رہیں گے سوا ان کو قائم رکھو نماز پڑھتے رہو، زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور ہر حکم کی اطاعت وفرمانبرداری میں مستعد وتیاررہو۔ استاذی محترم شیخ الاسلام (رح) فرماتے ہیں کہ (آیت) ” فاذلم تفعلوا “۔ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حکم پر عام طور سے عمل کرنے کی نوبت ہی نہیں آئی بعض روایات میں ہے کہ حضرت علی ؓ فرمایا کرتے تھے ” امت میں صرف میں ہی ایک شخص ہوں جس نے اس حکم پر عمل کیا (باقی اور کسی کو نوبت ہی نہیں آئی)
Ayahs 58:14–22

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لَا مِنْهُمْ١ۙ وَ یَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 58:14 in the Quran reader

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر خدا کا غضب ہوا وہ نہ تم میں ہیں نہ ان میں اور جان بوجھ کر جھوٹی باتوں پر قسمیں کھاتے ہیں

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 58:15 in the Quran reader

خدا نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے یہ جو کچھ کرتے ہیں یقینا برا ہے۔

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 58:16 in the Quran reader

انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا لیا اور (لوگوں کو) خدا کے راستے سے روک دیا ہے سو ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے۔

لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 58:17 in the Quran reader

خدا کے (عذاب کے) سامنے نہ تو ان کا مال ہی کچھ کام آئے گا اور نہ اولاد ہی (کچھ فائدہ دے گی) یہ لوگ اہل دوزخ ہیں اسمیں ہمیشہ (جلتے) رہیں .

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰى شَیْءٍ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 58:18 in the Quran reader

جس دن خدا ان سب کو جلا اٹھائے گا تو جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں (اسی طرح) خدا کے سامنے قسمیں کھائیں گے اور خیال کریں گے گہ ایسا کرنے سے کام لے نکلے ہیں۔ دیکھو یہ جھوٹے (اور برسر غلط) ہیں۔

اِسْتَحْوَذَ عَلَیْهِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰىهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 58:19 in the Quran reader

شیطان نے ان کو قابو میں کرلیا ہے اور خدا کی یاد ان کو بھلا دی ہے یہ (جماعت) شیطان کا لشکر ہے۔ اور سن رکھو کہ شیطان کا لشکر نقصان اٹھانے والا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اُولٰٓئِكَ فِی الْاَذَلِّیْنَ Open ayah 58:20 in the Quran reader

جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ نہایت ذلیل ہوں گے۔

كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 58:21 in the Quran reader

خدا کا حکم ناطق ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ضرور ضورر غالب رہیں گے بیشک خدا زور آور (اور) زبردست ہے۔

لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ١ؕ وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 58:22 in the Quran reader

جو لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں تم ان کو خدا اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ دیکھو گے خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان ہی کے لوگ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں خدا نے ایمان (پتھر پر لکیر کی طرح) تحریر کردیا ہے اور فیض غیبی سے ان کی مدد کی ہے۔ اور وہ ان کو بہشتوں میں جن کے تلے نہریں بہ رہی ہیں جا داخل کرے گا ہمیشہ ان میں رہیں گے خدا ان سے خوش اور وہ خدا سے خوش۔ یہی گروہ خدا کا لشکر ہے (اور) سن لکھو کہ خدا ہی کا لشکر مراد حاصل کرنیوالا ہے۔

تنبیہ ووعید برموالات ودوستی از قوم مغضوب علیہم وذلت وناکامی حزب الشیطان و فلاح وکامیابی حزب اللہ :۔ (ربط) گزشتہ آیات میں ان منافقین و یہود کا ذکر تھا جو آنحضرت ﷺ کی مجلس میں حاضر ہو کر آپ ﷺ کو اور مسلمان کو ایذا پہنچانا چاہتے تھے اور مختلف طریقوں سے یہی چاہتے تھے کہ رسول خدا ﷺ کی توہین وبہحرمتی کی جائے تو اب ان آیات میں مسلمانوں کو اس بات پر تنبیہ کی جارہی ہے کہ ایسے گستاخوں اور مغضوب علیہم لوگوں کے ساتھ کسی طرح موالات ودوستی نہ رکھی جائے مقصود یہ کہ جو اسلام اور اللہ کے پیغمبر ﷺ کے دوست ہیں ان کے واسطے یہ بات زیب نہیں دیتی کہ ایسے گستاخوں اور اسلام دشمن عناصر سے تعلقات ودوستی قائم کریں اسی کے ضمن میں ان کی سازشوں اور اسلام کے خلاف ان حربوں کو بیان کیا جارہا ہے جو وہ اختیار کیا کرتے تھے تو ارشاد مبارک ہے، اے مخاطب کیا نہیں دیکھا تو نے ان لوگوں کو جو دوست رکھتے ہیں۔ اس قوم کو جس پر غصہ ہو اللہ کا، اور ان کو خدا نے مغضوب علیہم قرار دیا اور یہ گروہ منافقین ہے جنہوں نے یہود سے دوستی اور موالات قائم کی جو نہ تو تم میں سے ہیں کیونکہ ان کے دل ایمان سے خالی ہیں محض زبانی اسلام کا دعوی ہے اور نہ ان کافروں سے ہیں جو کھلم کھلا کفروانکار کرتے ہیں بلکہ یہ لوگ زبان سے کہنے والے ہیں ”(آیت) ” امناباللہ وبالیوم الاخر “ ‘۔ اور حقیقت یہ ہے کہ (آیت) ” وما ھم بمومنین “۔ اور قسم کھاتے ہیں جھوٹ بات پر اور حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ جھوٹے ہیں تیار کر رکھا ہے اللہ نے ان منافقوں کے واسطے ایک سخت عذاب جو ” درک الاسفل من النار “۔ ہے بیشک بہت ہی برے ہیں وہ کام جو یہ لوگ کرتے ہیں نفاق دھوکہ ایذاء رسانی اور لوگوں کو راہ ہدایت سے روکنے کی پوری پوری کوشش، یقیناً یہ کام عمل اور فطرت کی رو سے بدترین کام ہیں جس کے باعث یقیناً انکے واسطے دنیا میں بھی ذلت اور آخرت میں بھی شدید عذاب ہے، ان لوگوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اپنے بچاؤ اور اعتراض و گرفت سے بچنے کے لیے پھر اس ڈھال اور رکاوٹ کے ساتھ روک رہے ہیں لوگوں کو اللہ کی راہ سے تو یقیناً ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے ان کو ان گمان میں نہ رہنا چاہئے کہ کوئی تدبیر اور ذریعہ ان کو عذاب خداوندی سے بچا دے گا، ان کو آگاہ ہونا چاہئے کہ ہرگز کام نہیں آئیں گے انکے مال اور انہ ان کی اولاد اللہ کے حکم اور اس کے فیصلہ کے مطابق ذرہ برابر بھی اور یہ لوگ جہنم والے ہوں گے ہمیشہ عذاب جہنم میں ہی رہیں گے جس روز اللہ ان سب کو قیامت کے روز جمع کرے گا تو دنیا کی عادت کی طرح وہاں بھی یہی کریں گے کہ پھر اس کے سامنے بھی قسمیں کھائیں گے جس طرح دنیا میں اے مسلمانو ! تمہارے سامنے قسمیں کھایا کرتے تھے اور کہیں گے اے پروردگار ہم تو ایسے نہیں تھے ہم تو ایمان ویقین رکھتے تھے اور گمان کریں گے کہ وہ کسی راہ پر ہیں خبردار ہوجاؤ یقیناً یہ لوگ جھوٹے ہی ہیں، ان کی کسی بات میں صداقت کا امکان ہی نہیں اور نہ ہی ممکن ہے کہ یہ کسی صحیح راستہ پر ہوں، حقیقت تو یہ ہے شیطان ان پر مسلط ہوچکا پھر ان کو خدا کی یاد سے قطعا غافل بنادیا ایسے ہی لوگ شیطان کی پارٹی ہیں، آگاہ ہوجانا چاہئے کہ شیطان کے گروہ والے ہی وہ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں اور ناکام و ذلیل ہوں گے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی شیطان اور شیطان کے گروہ کے منصوبے نہ دنیا میں کامیاب ہوں گے اور نہ ہی آخرت میں ان کو نجات نصیب ہوگی اور نہ عذاب شدید ومہین سے چھٹکارے کی کوئی سبیل ہوگی، بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت ودشمنی کرتے ہیں یہ سب ذلیل ہونے والوں میں شامل ہیں حق وصداقت کے خلاف جنگ اور مقابلہ ذلت وناکامی ہی کا سبب ہوگا۔ فیصلہ لکھ دیا ہے اللہ نے اس بات کا کہ یقیناً میں غالب ہوں گے اور میرے رسول کامیاب و غالب ہوں گے، بیشک اللہ بڑا قوت وعزت والا ہے، خدا کی طاقت کو نہ کوئی زیر کرسکتا ہے اور نہ کوئی باطل کی طاقت خدا کے ارادوں کو مغلوب کرسکتی ہے، حق تعالیٰ کے اس فیصلہ اور قانون کے پیش نظر اے ہمارے پیغمبر ہم آپ ﷺ پر یہ بات واضح کررہے ہیں، آپ ہرگز کسی بھی ایسی قوم کو جو اللہ پر اور روز قیامت پر ایمان لانے والی ہے نہیں پائیں گے کہ وہ دوستی کریں ایسی قوم سے جو اللہ اور اس کے رسول سے مقابلہ کرتے ہوں اور ان کے احکام سے بغاوت کررہے ہوں اگرچہ وہ ان کے باپ دادا ہوں یا ان کے بیٹے یا بھائی ہوں یا ان کے قبیلے وخاندان ہوں ایسے ہی لوگ ہیں وہ جن کے دل میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے اور ان کے دلوں کی گہرائیوں میں ایمان راسخ ہے اور تائید کی ہے ان لوگوں کی اپنی طرف سے ایک غیبی فیض سے اور روحانی برکات سے ان کو ایسا مضبوط کردیا ہے کہ وہ ایسے احوال کا مقابلہ کرتے رہیں اور ہر مخالفت اور مانع کی دور کرنے کی ہمت اپنے میں پاتے ہیں اس تائید غیبی یا جبریل امین (علیہ السلام) (جن کا لقب روح الامین ہے) کی مدد سے انکو ایک خاص معنوی حیات وقوت نصیب ہوتی ہے کفر اور کافروں کے مقابلہ میں اس تائید غیبی سے مومن کامیاب و غالب ہوتا ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ حسان بن ثابت ؓ کو منبر پر فرمایا کرتے تھے کہ کفر وشرک کا رد کرو اور کفار مکہ کی ہجو میں وہ اشعار پڑھتے اور آنحضرت ﷺ فرمایا کرتے، اللہم ایدہ بروح القدس، کہ اے اللہ تو ان کی مدد فرما روح القدس کے ذریعے، اور داخل کرے گا اللہ ان کو جنت کے ایسے باغوں میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی جن میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے کیونکہ جنت کی تمام نعمتیں دائمی ہیں ان انعامات وکرامتوں پر مزید انعام یہ ہوگا کہ راضی ہوگا اللہ ان سے اور وہ اللہ سے راضی ہوں گے اس کے انعامات پر خوش ہوں گے یہ اللہ کی رضا و خوشنودی اور اہل ایمان کا اللہ کا نعمتوں پر خوش ہونا اس بات کا ثمرہ ہوگا کہ خدا ایسے ایمان والوں سے دنیا میں بھی راضی ہوا اور وہ مومنین بھی اس کی اطاعت وفرماں برداری پر راضی رہے تو اس کا نتیجہ آخرت میں رضا الہی کی صورت میں رونما ہوا اور اہل ایمان ان کے انعامات پر خوش ہوئے جب کہ ان کو اپنے اعمال کی نسبت سے بہت زیادہ گراں قدرت نعمتیں ملیں جن کا یہ تصور بھی نہ کرسکتے تھے، یہی لوگ ہیں حزب اللہ (خدا کا گروہ) بیشک خدا کا گروہ ہی کامیاب ہونے والا ہے اور خدا کے گروہ والے ہی دنیا میں بھی غالب آتے ہیں اپنی مراد پاتے ہیں اور آخرت میں بھی ان ہی کو کامرانی و خوشی نصیب ہوئی ہے اور ظاہر ہے کہ جن اللہ کے برگزیدہ بندوں نے خدا کی رضا و خوشنودی کے لیے اپنے خویش و اقارب کو ناراض کیا ان کی دشمنی مول لی بلاشبہ اس کا بدلہ یہی ہونا چاہئے کہ وہ خداوند عالم کو خوشنودی ورضا سے سرفراز فرمائے جائیں اور ایسی نعمتیں اور راحتیں ملیں کہ وہ خود بھی خوش ہوجائیں۔ اللہم اجعلنی منھم آمین یا رب العلمین۔ حافظ ابن کثیر (رح) نے (آیت) ” لا تجد قوما یؤمنون باللہ “ کی تفسیر میں سعید بن عبدالعزیز (رح) کی سند سے روایت کیا کہ یہ آیت حضرت ابوعبیدہ بن جراح ؓ کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے اپنے مشرک باپ کو غزوہ بدر میں قتل کیا تھا اور حضرت عمر فاروق ؓ نے جب مجلس شوری قائم فرمائی تو ان چھ حضرات کی خاص خصوصیت میں یہ فرمایا، اولئک الستۃ الذین ؓ ‘ کی یہ وہ چھ حضرات ہیں جن سے اللہ راضی ہوا تو ابو عبیدہ ؓ (آیت) ” ولوکانوا اباء ھم “۔ کا مصداق ہوئے اور (آیت) ” ابنآء ھم “۔ کا مصداق حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہوئے جب کہ وہ یہ چاہتے تھے کہ ان کے بیٹے عبدالرحمن جو اس وقت مشرکین مکہ کی فوج میں تھے کہ اگر سامنے آجائے قتل کردوں گا اور (آیت) ” اخوانھم “ کا مصداق حضرت مصعب بن عمیر ؓ ہیں انہوں نے اپنے بھائی عبید بن عمیر کو بدر میں قتل کیا اور (آیت) ” عشیرتھم “۔ کا مصداق عمر فاروق ؓ بنے جب کہ انہوں نے اپنے خاندان کے بعض افراد کو قتل کیا۔ اس آیت مبارکہ میں بیان کردہ اہل ایمان کی شان اس وقت بھی ظاہر ہوئی جب کہ بدر کے قیدیوں کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے مشورہ لیا تو صدیق اکبر ﷺ نے یہ خیال کیا کہ فدیہ لینے میں کچھ مسلمانوں کے واسطے مدد اور تقویت کا سامان ہوجائے گا مزید یہ لوگ جب کہ خود اپنے عشیرہ وقبیلہ ہی کے ہیں تو اس طرح کے انعام و احسان سے ممکن ہے اسلام کی طرف مائل ہوجائیں، مگر عمر فاروق ؓ نے فرمایا یا رسول اللہ ﷺ میری یہ رائے نہیں ہے جو ابوبکر ؓ کی ہے، میری تو رائے یہ ہے کہ یا رسول اللہ ﷺ یہ لوگ ائمۃ الکفر ہیں ان کو قتل کردیا جائے تاکہ کفر کی طاقت و شوکت پامال ہو مجھے آپ اجازت دیں کہ اپنے فلاں رشتہ دار (بھائی) کو قتل کروں اور علی ؓ کو فرمائیے کہ وہ عقیل اپنے بھائی کو قتل کرے اور فلاں کو فرمائیے کہ فلاں کو قتل کرے تاکہ اللہ تعالیٰ یہ دیکھ لے کہ ہمارے دلوں میں مشرکین اور خدا کے دشمنوں کی قطعا کوئی محبت نہیں، قصہ کی تفصیل کے لیے کتب سیرت کی مراجعت فرمائی جاوے، (تفسیر ابن کثیر، روح المعانی)