Ayahs 57:1–6اللہ تعالیٰ کی چند اہم صفات کا ذکر :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” سبح للہ ما فی السموت والارض ....... الی ....... وھو علیم بذات الصدور “۔
اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے زبان حال سے یاقال سے یا دونوں سے وہی بڑی عزت حکمت والا ہے کہ کائنات کی ہر چیز اسکی عزت وکبریائی اور اسکی شان حکیمی کی گواہی دے رہی ہے اسی کے واسطے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی وہی ان سب کا نظام چلارہا ہے اور اس کی حاکمیت میں کوئی شریک نہیں اسی کی یہ شان ہے کہ وہی جلاتا ہے اور وہی مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر بڑا ہی قادر ہے آسمانوں اور زمین پر صرف اسی کا حکم چلتا ہے اور کوئی طاقت اس کے حکم کو روک نہیں سکتی وہی اول ہے اور وہی آخر ہے ایسا اول کہ اس کی کوئی ابتداء نہیں اور ایسا آخرت کہ اس کی کوئی انتہاء نہیں اور وہی ظاہر ہے اور وہی باطن ہے اور وہی ہر شے کا خوب جاننے والا ہے۔
ہر شی کا وجود اس کا ظہور اس کا بقاء اور اس کے زمانہ بقاء کے تغیرات اور جملہ احوال اسی کے علم میں ہیں وہ ازلی ہے کہ اس کی کوئی ابتداء نہیں اور ایسا آخر کہ اس کی کوئی انتہاء نہیں اور وہی ظاہر ہے اور وہی باطن ہے اور وہی ہر شے کا خوب جاننے والا ہے۔
ہر شیء کا وجود اس کا ظہور اس کا بقاء اور اس کے زمانہ بقاء کے تغیرات اور جملہ احوال اسی کے علم میں ہیں وہ ازلی ہے کہ اس کی کوئی ابتداء نہیں وہ ذات ابدی ہے کہ ہر چیز فنا ہوجائے گی لیکن وہ باقی رہے گا۔ (آیت) ” کل من علیھا فان ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام “۔ عرش سے لے کر فرش تک ہر موجود اسکے وجود کی دلیل ہے اس سے بڑھ کر کیا کوئی چیز روشن ہوگی کہ چاند سورج ستارے اس کی خالقیت وقدرت کی گواہی دے رہے ہیں حتی کہ انسان کا سانس جو اسکی زندگی کو قائم رکھے ہوئے ہے اس کی ہر آمد ورفت قدرت خداوندی کی گواہی دے رہی ہے اس طرح روشن اور ظاہرو باہر ہونے کے ساتھ ایسا لطیف اور خفی ہے کہ نہ نگاہیں ادراک کرسکتی ہیں اور ہی اسکی ذات وصفات کا احاطہ انسانی عقول کرسکتی ہیں ایسا علیم کہ اس کی نظر اور علم سے ایک ذرہ بھی اوجھل نہیں ہے وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر قائم اور متمکن ہوا عرش پر جہاں سے کائنات پر اسکی حکمرانی جارہی ہے وہ جانتا ہے ہر چیز کو جو زمین کے اندر جاتی ہے جیسے وہ دانے اور تخم جو زمین میں بوئے جاتے ہیں یا وہ خزائن ومعاون جو زمین کی تہوں میں چھپے ہوئے ہیں اور ہر چیز کو جو زمین سے باہر نکلتی ہے جیسے کہ سبزے اور نباتات۔ 1
حاشیہ (ان مضامین کی تفصیلات پہلے گزرچکیں۔ )
اور جانتا ہے جو کچھ آسمان سے اترتا ہے بارش کا پانی اسکی مقدار اس کا زمانہ اور اسکی جگہ یہ سب کچھ اللہ ہی کے علم میں ہے اس طرح وہ فرشتے جو آسمانوں سے احکام اور تکوینی امور لے کر اترتے ہیں اور آسمانی فیصلے بھی اور قضاء وقدر کے امور سب کچھ اللہ ہی کے علم میں ہے اور اسی کے علم اور حکم کے مطابق ان سب چیزوں کا آسمان سے نزول ہوتا ہے اور جانتا ہے ہر اس چیز کو جو آسمانوں میں چڑہتی ہے انسانوں کے اعمال اور احوال سے اور وہ فرشتے جو بندوں کے اعمال لے کر آسمانوں پر چڑھتے ہیں اور بارگاہ خداوندی میں پیش کرتے ہیں غرض ہر نازل ہونے والی چیز اور اوپر چڑھنے والی چیز خدا کے علم میں ہے اسی کے حکم کے مطابق اور اسی کے فیصلہ سے ہے وہ پروردگار تمہارے ہی ساتھ ہے جہاں بھی کہیں تم ہو اور اللہ خوب دیکھتا ہے ان کاموں کو جو تم کرتے ہو اور کسی وقت اور کسی حال میں تم سے غائب نہیں اور اس سے کوئی عمل چھپا نہیں رہ سکتا خواہ کوئی عمل ظاہر ہو یا چھپ کر کیا جائے جب کہ وہ پروردگار دلوں کے حال واحوال پر مطلع ہے تو ظاہری اور حسی اعمال واحوال اس سے کیونکر پوشیدہ رہ سکتے ہیں۔
اسی کے واسطے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی کوئی بھی اس کی حدود سلطنت سے نہیں نکل سکتا جہاں بھی جائے گا اسی کی حکومت اور سلطنت میں گھرا ہوگا۔ اور اسی کی طرف تمام امور اور کام لوٹتے ہیں وہی ہر کام کا فیصلہ کرتا ہے اور وہی ہر عمل کی جزاء وسزا دیتا ہے کیونکہ ہر عمل اس کی بارگاہ میں اسی لئے پہنچایا جاتا ہے کہ وہ اسکی جزاء یا سزا دے رہی ہے جو داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور دن کو داخل کرتا ہے رات میں دن ورات کا گھٹانا بڑھانا اور دن کی روشنی کو مٹا کر رات کی تاریکی پھیلا دینا اور رات کی تاریکی کو دن کے نور سے زائل کردینا یہ سب کچھ اسی کی قدرت ہے ورنہ دنیا کی طاقت اگر تمام مادی وسائل بھی صرف کردے تو ایک لمحہ کا بھی تغیر وتبدل نہیں کرسکتی اور وہی خوب جاننے والا ہے دلوں کی چیزوں کو کہ کس کے دل میں کیا خیالات ہیں کیسے عقائد ہیں کس قسم کے ارادے اور عزائم ہیں وہ کیا سوچتا ہے اور کس چیز کی آرزو کررہا ہے اس کی نیت کس عمل میں کیسی ہے غرض یہ سب کچھ اللہ ہی کو معلوم ہے اور اس میں کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں۔
اسماء حسنی کی توضیح وتشریح آیت ” وللہ الاسمآء الحسنی “ میں گزر چکی حضرات قارئین وہاں مراجعت فرمالیں۔
عرباض بن ساریہ ؓ سے منقول ہے کہ یہ آیت مبارکہ ہزار آیتوں سے بڑھ کر افضل ہے عبداللہ بن عباس ؓ کی ایک حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وساوس قلبیہ کے محسوس ہونے پر اگر کوئی شخص آیت ”۔ والظاھر والباطن وھو بکل شی علیم “۔ پڑھ لے تو اس کے دل سے ہر قسم کے وساوس و خطرات زائل ہوجائیں گے۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ جب سونے کا ارادہ فرماتے تو یہ کلمات دعائیہ پڑھتے ” اللھم رب السموت السبع ورب العرش العظیم ربنا ورب کل شیء منزل التورات والانجیل والفرقان فالق الحب والنوی لاالہ الا انت اعوذ من شرکل شیء انت اخذ بنا صیتہ انت الاول فلیس قبلک شیء وانت الاخرفلیس بعدک شیء وانت الظاہر فلیس فوقک شیء وانت الباطن لیس دونک شیء، اقض عنا الدین واغننا من الفقر۔
(صحیح مسلم )
ان کلمات داعیہ میں مناجات ودعا کے ساتھ حق تعالیٰ کی معرفت اسکی شان ربوبیت اور عظمت وقدرت کے اوصاف بھی واضح ہیں اور ان کلمات کا تلفظ ایمان ویقین اور معرفت خداوندی کی قوت و برکت کا باعث ہے۔ اے اللہ ان کلمات مبارکہ کی معرفت و حقیقت ہماری زندگیوں میں رچادے اسی پر زندہ رکھ ایس پر اے اللہ ہمیں موت دے توفنا مسلمین والحقنا بالصالحین غیر خزایا ولا ندامی مفتونین امین یا رب العلمین۔
Ayahs 57:7–11دعوت ایمان بررب کون ومکان وحکم اطاعت رسول کریم ﷺ وترغیب بذل مال عزیز برائے رضائے خداوندذوالجلال :
قال اللہ تعالیٰ : امنوا باللہ ورسولہ ...... الی ...... ولہ اجر کریم “۔
(ربط) ابتداء سورت سے خداوند عالم نے اپنی صفات قدرت و عظمت کا بیان فرمایا ان صفات اور خوبیوں کو سن کر ہر مخاطب کو چاہئے کہ ایسی ذات سراپا عظمت وکبریائی پر ایمان لانے کے واسطے تیار ہوجائے اور اسکی اطاعت وفرمانبرداری جو اس کے رسول ہی کی ذریعے ہوسکتی ہے تیار ہوجائے اور کائنات کے خالق ومالک کی خوشنودی کے لئے اپنی جان ومال کی قربانی سے بھی دریغ نہ کرے اور جو مال صرف اللہ ہی نے اسکو عطا کیا ہے اس مال کو اس کی فرماں برداری اور حقوق کے ادا کرنے میں صرف کرنے سے قطعا بخل نہ کرے ارشاد فرمایا۔
ایمان لاؤ اے لوگو ! اللہ پر اور اس کے رسول پر یقین ومعرفت کے راستوں پر چلنے کے لئے تیار ہوجاؤ خدا اور اس کا رسول تم کو کسی ایسی بات کی طرف دعوت نہیں دے رہا ہے جو اجنبی اور پہچانی ہوئی نہ ہو خدا کی معرفت اسکی ربوبیت کا اعتقاد تو تمہاری فطرت میں رچا ہوا ہے اسی کی ربوبیت و بندگی کی طرف اس کا رسول دعوت دے رہا ہے پھر آخرکس وجہ سے سستی بےرخی اور اعرض ہے مال و دولت اور دنیا کی خواہشات اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے میں حائل نہ ہونی چاہئے بلکہ ہر طرح جان ومال سے اسکی اطاعت کے لئے تیار ہوجاؤ اور خرچ کرو اس کی رضا و خوشنودی کے لئے اس مال میں سے جو اس پروردگار نے تمہارے ہاتھوں میں دے دیا ہے تم کو اپنا نائب بنا کر اللہ کے مال کو خرچ کرنے میں مالک وہی اللہ ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور اسی نے تم کو وہ مال عطا کیا اور تم صرف اس کے نائب اور اس کا مال خرچ کرنے میں امین اور خزانچیھی ہو سو جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور انہوں نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا انکے واسطے بہت ہی بڑا ثواب ہے لہذا جو لوگ اس سعادت سے ابھی تک محروم ہیں انکو چاہئے کہ ہو بھی اس کی طرف رغبت کریں اور اس کے حاصل کرنیکے لئے دوڑیں اگر اے لوگو ! ان تمام حقائق کے علم کے بعد بھی اس کی طرف رغبت اور سبقت نہیں کرتے تو بڑے ہی افسوس کی بات ہے۔
اور کیا ہوگیا تم کو کہ تم ایمان نہیں لاتے ہو اللہ پر حالانکہ کہ اس کا رسول ﷺ تم کو دعوت دے رہا ہے اور بلارہا ہے اس بات کے لئے کہ تم اپنے رب پر ایمان لاؤ اور حال یہ ہے کہ تمہارے رب نے تم سے اس بات کا عہد لے لیا ہے عہد الست میں جب کہ تم کو تمہارے باپ آدم کی پشت سے نکال کر تم سے خطاب فرمایا تھا (آیت) ” الست بربکم “۔ اور تم سب نے اقرار کرلیا تھا اور اسی وقت خدا نے یہ بھی بتا دیا تھا کہ میرے رسول تمہارے پاس اس عہد ومیثاق کو یاد لانے کے لیے آئیں گے تم انکی بات ماننا اور ان پر ایمان لانا تو اس عہد کو پورا کرو اگر تم یقین رکھتے ہو اور ظاہر ہے کہ اس کے رد کرنے کی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں، یہی وجہ ہے کہ اس اقرار کا کچھ نہ کچھ اثر بنی آدم پر آج تک ظاہر ہے خواہ وہ زبان سے خدا کی الوھیت کا اقرار کرے یا نہ کرے لیکن اسکی فطرت کے تقاضے اور مظاہر اس امر کی گواہی دے رہے ہیں کہ حق تعالیٰ کی معرفت اس کی الوہیت اور توحید اس کی فطرت میں موجود ہے۔
وہی ہے پروردگار جو اتارتا ہے اپنے بندے محمد رسول اللہ ﷺ پر کھلی کھلی نشانیاں اور واضح احکام تاکہ تم کو گمراہیوں کے اندھیروں سے نکال کر نور ہدایت کی طرف لے آئے اور بیشک اللہ رب العزت تم پر بہت ہی نرمی کرنے والا مہربان ہے کہ تم کو تمہارے انکار وکفر اور نافرمانی پر سزا دیکر ہلاک نہیں کرتا بلکہ تم کو مہلت دے رہا ہے اور اپنی مہربانی سے تمہارے واسطے آیات بینات نازل کیں جن کے ذریعے تم گمراہیوں سے، نجات پاک کر فلاح وسعادت کی زندگی اختیار کرلو ایسے مہربان ورحیم پروردگار کے حکم پر تم کو ہر طرح کے ایثار پر تیار ہوجانا چاہئے اور مال و دولت کی محبت میں خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کررہے ہو تمہیں چاہئے کہ دنیا اور دنیا کے مال ومنال کی حقیقت کو سمجھو اور کیا ہوگیا کہ تم نہیں خرچ کرتے ہو اللہ کی راہ میں حالانکہ اللہ ہی کے واسطے ہے میراث آسمانوں اور زمین کی سب کچھ فنا ہوجائے گا اور بس اللہ ہی کی ذات باقی رہے گی (آیت) ” کل من علیھا فان ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام “۔ اس لیے عقل کا تقاضا تو یہ ہے کہ اپنی حیات اور زندگی میں ہی اللہ کی راہ میں خرچ کردو تاکہ تمہارے مرنے کے بعد وہ تمہارے واسطے ذخیرہ ہوسکے اس کے برعکس اگر تم نے کچھ خرچ نہ کیا تو ظاہر ہے کہ سب کچھ چھوڑ کر مرنا ہے اور ایسی صورت میں آخرت میں بھی کوئی ذخیرہ تمہارے کام آنے والا نہ ہوگا اور اللہ کی راہ میں خرچ کی قدر ومنزلت ضرورت اور حالت کے لحاظ سے ہے جب اللہ کے دین میں خرچ کرنے کی ضرورت ہے اور اسلام ومسلمین کمزور و محتاج ہیں تو یقیناً اس وقت اس کا درجہ اللہ کے یہاں بہت بڑا ہوگا اسکے برعکس یہ وقت اگر نکل گیا اور اسلام مستغنی ہوگیا اس طرح کی ظاہری امداد واعانت سے تو پھر یقیناً یہ درجہ نصیب نہ ہوگا اسلیئے معلوم ہوجانا چاہئے کہ برابر نہیں تم میں سے وہ شخص جس نے فتح مکہ سے قبل خرچ کیا اور فتح مکہ سے قبل جہاد کیا بیشک یہ لوگ بڑے درجہ والے ہیں بہ نسبت ان لوگوں کے جو بعد فتح مکہ کے خرچ کریں اور قتال کریں دونوں گروہوں میں ایثار وقربانی اور اسلام کی اعانت ومدد کے لحاظ سے بڑا فرق ہے اور یوں تو اللہ تعالیٰ نے ہر ایک ہی سے نیک بدلہ کا وعدہ کیا ہے۔
حاشیہ (بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض مفسرین فتح سے مراد صلح حدیبیہ لیتے تھے لیکن جمہور مفسرین کے نزدیک فتح مکہ ہی مراد ہے استاذ محترم شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی (رح) فرماتے ہیں کہ یوں تو اللہ کے راستہ میں کسی وقت بھی خرچ کیا جائے اور جہاد کیا جائے وہ اچھا ہی ہے خدا اس کا بہترین بدلہ دنیا اور آخرت میں دے گا لیکن جن مقدر والوں نے فتح مکہ یا صلح حدیبیہ سے پہلے خرچ کیا اور جہاد کیا اور بڑے درجے لے آڑے بعد والے مسلمان ان کو نہیں پہنچ سکتے کیونکہ وہ وقت تھا کہ حق کے ماننے والے اور اس پر لڑنے والے اقل قلیل تھے اور دنیا کافروں اور باطل پرستوں سے بھری ہوئی تھی اس وقت اسلام کو جانی اور مالی قربانیوں کی ضرورت زیادہ تھی اور مجاہدین کو بظاہر اسباب اموال وغنائم کی توقعات بہت کم ایسے حالات میں ایمان لانا اور خدا کے راستہ میں جان ومال لٹانا بڑے اولو العزم اور پہاڑ سے زیادہ ثابت قدم انسانوں کا کام ہے۔ فرضی اللہ عنھم ورضوا عنہ رزقنا اللہ تعالیٰ اتباعھم وحبھم امین یا رب العالمین 12 فوائد عثمانی۔
حافظ ابن کثیر (رح) نے اپنی تفسیر میں ابن عمر ؓ کی سند سے ایک روایت بیان کی ہے کہ ایک روز میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا مجلس میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ بھی تھے انہوں نے ایک عباپہنا ہوا تھا جو سینہ پر کئی جگہ سے پھٹا ہوا اور پیوند لگا ہوا تھا انہوں نے اپنا جو کچھ مال تھا وہ قبل الفتح (اور قبل از ہجرت) اللہ کی راہ میں خرچ کردیا تھا تو جبرائیل امین (علیہ السلام) اترے اور انہوں نے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ میں ابوبکر ؓ کو اس حالت میں دیکھ رہا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا کہ انہوں نے اپنا سارا مال فتح مکہ سے قبل مجھ پر خرچ کرڈالا ہے جبریل امین (علیہ السلام) کہنے لگے کہ اللہ رب العزت کا ان کو پیغام سلام ہے اور یہ کہ ان سے پوچھو کہ کیا تم مجھ سے راضی ہو اس فقر کی حالت میں یا ناراض ہو ؟ آنحضرت ﷺ نے ابوبکر ؓ کو مخاطب کرتے ہوئے یہ پیغام سنایا ابوبکر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا یہ ممکن ہے کہ میں اپنے رب سے ناراض ہوں (آپ ﷺ گواہ ہوں) میں اپنے رب سے راضی ہوں 12۔ (تفسیر ابن کثیر جلد 4)
کہ ہر شخص کو نیکی کا بدلہ جزاء حسن ونی کی کی صورت میں ملے گا اور اللہ ان تمام کاموں سے باخبر ہے جو تم کررہے ہو ہر ایک کو اسکے اخلاص اور جذبہ اور عمل کی قدر و قیمت کے مناسب جزاء عطا فرمائے گا ایسی صورت میں تو ایک لمحہ کے لئے بھی اللہ کی راہ میں ایثار وقربانی سے دریغ اور تاخیر نہ کرنی چاہئے لہذا یہ اعلان کیا جارہا ہے کون ہے ایسا جو قرض دے اللہ کو بہترین قرض دیناجس کو اللہ تعالیٰ بڑھائے گا خوب بڑھانا اس کے واسطے دنیا میں بھی اسکی برکت کی حد و انتہاء نہ وہو گی اور آخرت میں اس کے واسطے وجرو ثواب ہوگا عزت و کرامت والا وہ جنت کی بیشمار نعمتوں اور راحتوں میں ہوں گے جن کا نہ کسی انسان نے تصور کیا ہوگا نہ کسی آنکھ نے ایسی نعمتیں دیکھی ہوں گی اور نہ کسی کان نے سنا ہوگا ،
صدق اللہ فلا تعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین جزآء بما کانوا یعملون “۔ حافظ ابن کثیر (رح) نے ابن ابی حاتم (رح) کی اسناد سے روایت کیا ہے کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے بیان کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا اے لوگو ! اللہ فرما رہا ہے (آیت ) ” من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا “۔ صحابہ کی جماعت میں حاضر ایک صحابی ابو الدحداح ؓ کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ خدا تعالیٰ ہم سے قرض کا ارادہ فرمارہا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں ! یہ سن کر کہتے ہیں یا رسول اللہ ﷺ آپ اپنا دست مبارک بڑھائیے آپ نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا ابوالدحداح ؓ نے اپنا ہاتھ آپ کے دست مبارک پر رکھتے ہوئے گویا بصورت بعیت کہا یا رسول اللہ ﷺ بس میں نے اپنا باغ اپنے رب کو قرض دے دیا انکا بہت بڑا باغ تھا جس میں چھ سو درخت کھجور کے تھے باغ میں رہائشی جگہ بھی بنی ہوئی تھی جس میں انکی بیوی ام الدحداح ؓ اور انکے بچے تھے فورا باغ پر پہنچے اور باغ کے باہر ہی سے بیوی کو پکارا یا ام الدحداح ؓ ، اس نے جواب دیا لبیک کہا باغ سے باہر نکل آ میں نے یہ باغ اپنے پروردگار کو قرض دے دیا ہے (اور اپنے رب کو دیتے ہوئے اسکے رسول ﷺ کے حوالہ کردیا ہے) ایک روایت میں ہے کہ ام الدحداح ؓ فورا ہی انتہائی انبساب ومسرت سے بول اٹھی سبحان اللہ اے ابوالدحداح ؓ تمہارا یہ معاملہ نہایت ہی نفع بخش ہے یہ کہہ کر اسی وقت اپنے بچوں اور سامان سمیت باغ سے باہر نکل آئیں اسی پر آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ کس قدر خوشے ہیں ابو الدحداح ؓ کے واسطے جو میں جنت میں لٹکے ہوئے دیکھ رہا ہوں ایک روایت میں ہے کہ یہ خوشے یا قوت اور موتیوں کے ہیں۔
Ayahs 57:12–15احوال آخرت ومیدان حشر مع ذکر انعام واکرام، مومنین وذلت وناکامی منکرین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” یوم تری ال مومنین وال مومنت ..... الی ...... وبئس المصیر “۔
(ربط) ابتداء سورت سے حق تعالیٰ شانہ کی عظمت و پاکی بیان کی گئی اور یہ کہ ساری کائنات اس کی ربوبیت والوہیت کا اقرار کرتی ہے اور وہی اول وآخر ہے اور وہی ظاہر و باطن اور ہر چیز کا عالم اور ہر شیء پر قادر ہے تو اس کے بعد یہ بیان فرمایا جارہا ہے اس ذات رب العزت پر ایمان لانے والوں کا آخرت میں کیسا اعزاز ہوگا اور کیسے عظیم انعامات سے نوازے جائیں گے اور اسکے برعکس جو لوگ ایمان سے محروم رہے ان کی بدنصیبی اور بدحالی کا کیسا عالم ہوگا ارشاد فرمایا۔
وہ دن بھی بڑا عظیم الشان دن ہوگا جب کہ آپ دیکھیں گے ایمان والے مردوں کو اور ایمان والی عورتوں کو کہ دوڑتا ہوگا ان کا نور انکے آگے اور ان کے داہنی طرف۔
حاشیہ (اگرچہ بعض ضعیف روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ نور اہل ایمان کے بائیں جانب بھی ہوگا لیکن قرآن کریم کے الفاظ نے صرف داہنی طرف کے نور کو بیان کرنے پر اکتفا کیا ہے جس کی وجہ سے بظاہر یہ ہوگی کہ نامہ اعمال بھی انکا انکے دائیں ہاتھ میں ہوگا۔ )
جب کہ وہ میدان حشر میں ہوں گے اور پل صراط سے گذرتے ہوں گے اس وقت ان کو بشارت دی جارہی ہوگی یہ اعلان کرتے ہوئے کہ اے ایمان والو ! بشارت ہو تم کو آج کے دن کہ تم پر انعامات خداوندی کی کوئی حد نہیں، وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ نہیں کہ دنیوی نعمتوں اور راحتوں کی طرح دوام وخلود نہ ہو بلکہ نہ اہل جنت فنا ہوں گے اور نہ ہی انکی نعمتیں ختم ہوں گی یہی ہے بڑی کامیابی یہ انعام واکرام تو اہل ایمان کا ہوگا لیکن اس کے بالمقابل یہ وہ دن ہوگا کہ اس وقت منافق مرد اور منافق عورتیں کہتے ہوں گے اہل ایمان سے جب کہ اہل ایمان ان سے آگے نکلے جارہے ہیں ہوں گے انتظار کرو ذرا ہمارا تاکہ ہم کچھ روشنی حاصل کرلیں تمہارے نور سے کیونکہ اہل ایمان پر خود انکے ایمان کا نور ہوگا اور ایمان وعمل صالح کا نور ان سے آگے بھی ہوگا اور دائیں طرف بھی کہا جائیگا تم لوٹ جاؤ اپنے پیچھے کی طرف پھر تلاش کرو روشنی اسی حالت میں پھر قائم کردی جائے گی انکے درمیان ایک دیوار جس کا ایک دروازہ ہوگا اس کے اندر رحمت ہوگی اور باہر کی طرف اس کے آگے عذاب ہوگا کہ اس دروازہ کے اندر مومنین کا جنت میں داخلہ ہوجائے گا جس کے اندر رحمت ہی رحمت ہوگی اور اس طرح اس میں داخل ہو کر منافقین کی نظروں سے اوجھل ہوجائیں گے اس دروازہ کے اندر جنت کا سمان ہوگا اور ادھر دروازہ سے باہر جہاں منافقین ہوں گے وہاں عذاب الہی کا منظر ہوگا جو منافقین کو اپنے احاطہ میں لئے ہوئے ہوگا۔
منافقین، یہ سوچ کر کہ ہم دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ ملے جلے رہا کرتے تھے انکو پکاریں گے کیا ہم نہیں تھے تمہارے ساتھ اہل ایمان جواب دیں گے بیشک ظاہر میں تو تم ہمارے ساتھ لگے ہوئے تھے لیکن تم نے اپنی جانوں کو فتنوں میں ڈال دیا تھا اور تم راہ دیکھتے تھے اور انتظار میں رہا کرتے تھے کہ کب مسلمانوں کو نقصان وذلت اور ناکامی ہوتی ہے اور تم دھوکہ میں پڑے ہوئے تھے اور تم کو دھوکہ میں ڈال رکھا تھا تمہاری امیدوں اور آروزؤں نے یہاں تک کہ خدا کا حکم آپہنچا اور تمہاری وہ امیدیں کہ جو تم نے باندھ رکھی تھیں کہ دین اسلام (العیاذ باللہ) ختم ہوجائے گا اور مسلمانوں کو ذلت وناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا سب ختم ہوگئیں اور اس کے برعکس تم ہی کو ذلیل وناکام ہونا پڑا یہاں تک کہ تم اسی کفر ونفاق پر مرے اور اب قیامت کا عذاب اور جہنم کا مزہ چکھو اور تم کو دھوکہ میں ڈالا اللہ کے بارے میں ایک دغاباز نے اور اس دغاباز شیطان نے تم کو ایسا بہکایا اور ایسا بھٹکایا کہ اب کوئی راستہ ہی راستگاری کا باقی نہ رہا سو آج کا دن ایسا ہے تم سے اے منافقو ! کوئی فدیہ نہ لیاجائے گا کہ تم فدیہ دیکر ہی چھٹکارا حاصل کرو اور نہ کافروں سے کوئی فدیہ قبول ہوگا اور تم سب کا ٹھکانا دوزخ ہے یہی دوزخ تمہاری رفیق ہے اور بہت ہی برا ٹھکانا ہے نہ کسی اور کی رفاقت کی توقع رکھو اور نہ ہی یہ تصور کرو کہ تم کسی اور جگہ لوٹ کر جاسکوگے بس جہنم ہی ملجاوماوی ہے اور اس کا عذاب رفیق وساتھی ہے جس سے کبھی بھی مفارقت نہ ہوگی۔
میدان حشر میں منافقین کی مومنین سے التجاء :
(آیت ) ” یوم یقول المنافقون والمنافقات “۔ میں منافق مردوں اور منافق عورتوں کی اہل ایمان سے ایک درخواست والتجاء کا ذکر فرمایا جارہا ہے کہ وہ اس تاریکی میں جو ان پر مسلط ہوگی اور میدان حشر میں بدحواسی کا عالم ہوگا تو کس طرح وہ اہل ایمان سے التجاء کریں گے۔
حضرت ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ایسی ظلمت واقع فرمائے گا (ابتداء) کہ کوئی چیز بھی نظر نہ آتی ہوگی حتی کہ کسی مومن کو اور نہ کسی کافر کو اپنی ہتھیلی بھی نظر نہ آتی ہوگی یہاں تک کہ اللہ رب العزت مومنین کی طرف ایک نور بھیجے گا (جو انکے اعمال کے مناسب ہوگا اور ایمان اور تقوی کے درجہ کے مطابق) کسی کا پہاڑ کے برابر ہوگا اور کسی کا کھجور کے بقدر تو اس روشنی کو دیکھ کرمنافقین اہل ایمان کے پیچھے دوڑیں گے لیکن جب دیکھیں گے کہ ان تک رسائی نہیں ہورہی ہے تو کہیں گے (آیت ) ” انظرونا نقتبس من نورکم “۔
عبداللہ بن عباس ؓ بیان فرماتے ہیں کہ روز محشر جب تمام مخلوق ظلمت و تاریکی میں گھری ہوگی تو اللہ تعالیٰ ایک نور بھیجے گا جو اہل ایمان کو اللہ کی طرف سے جنت کی راہنمائی کررہا ہوگا منافقین کو جب اس طرح کا نور محسوس ہوگا تو وہ مومنین کے پیچھے چلنے لگیں گے مگر اللہ تعالیٰ ان پر تاریکی مسلط فرمادے گا اس وقت منافقین اہل ایمان سے التجاء کریں گے اور یہ بات یاد دلائیں گے کہ ہم تو دنیا میں تمہارے ساتھ لگے رہا کرتے تھے۔
ابن ابی ملیکہ ؓ کی روایت میں ابن عباس ؓ سے یہ منقول ہے فرمایا کہ یہی وہ نور ہوگا جس تکمیل اور زیادتی کی اہل ایمان اللہ سے دعا کرنے لگیں گے ” ربنااتمم لنا نورنا “۔ اور یہ وقت ایسا ہوگا کوئی کسی کو یاد کرتا نہ ہوگا بلکہ ہر ایک اپنی ہی فکر میں ہوگا اہل ایمان شوق جنت میں ہر ماسوا سے بےتعلق ہوں گے اور کافروں منافق آثار عذاب کے مشاہد سے بدحواس ہوں گے اور وقت مومنین کے نور سے منافقوں کو کچھ نظر نہ آسکے گا جیسے کہ نابینا انسان کو بینا کی آنکھ کی روشنی سے کچھ نظر نہیں آسکتا۔
حافظ ابن کثیر (رح) نے اپنی تفسیر میں بروایت ابن ابی حاتم (رح) بیان کیا کہ حضرت ابوامامہ ؓ باب دمشق پر ایک جنازہ کی تجہیز و تدفین میں شریک تھے جب نماز ہوچکی اور لوگ جنازہ دفن کرنے لگے تو فرمایا اے لوگو ! ابھی تم صبح وشام کررہے ہو ایسی جگہ جہاں تم نیکی اور بدی کی تقسیم کرسکتے ہو اور کررہے ہو لیکن عنقریب ایک وقت ایسا آنے والا ہے تم یہاں سے ایک دوسری منزل کی طرف کوچ کرو گے اور وہ یہ قبر کی منزل ہے اور ہاتھ سے قبر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا یہ تنہائی کا گھر ہے یہ تاریکی کی جگہ ہے یہ کیڑوں کا مقام ہے جو انسان کے جسم کو کھائیں گے یہ تنگی کی جگہ ہے بجز اس کے کہ اس پر اللہ کشادہ کردے پھر تم اس قبر سے میدان حشر کی منزلوں کی طرف منتقل ہوگے یہاں کے مراحل میں ایک مرحلہ پر تو یہ ہوگا تمام انسانوں کو خدا کا ایک امر ڈھانکے گا جس سے کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے پھر اس مرحلہ سے تم ایک دوسرے مرحلہ کی طرف منتقل ہوگے جہاں تاریکی ہی تاریکی ہوگی جو سب پر مسلط ہوگی اس وقت ایک نورظاہر ہوگا جو مومن کو عطا کیا جائے گا لیکن کافر و منافق اس سے محروم رہیں گے ان کو اس نور سے ذرہ برابر بھی کچھ نہ دیا جائے گا یہی وہ چیز ہے جس کو حق تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے (آیت ) ” او کظلمات فی بحر لجی یغشی موج من فوقہ موج من فوقہ سحاب ظلمت، بعضھا فوق بعض اذا اخرج یدہ لم یکدیرھا ومن لم یجعل اللہ لہ نورا فمالۃ من نور “۔ تو اس وقت کافر و منافق مومن کے نور سے کسی طرح بھی فائدہ نہیں حاصل کرسکے گا جیسے کہ کوئی نابنیاشخص بینا انسان کی آنکھ اور اس کی روشنی سے کچھ نہیں دیکھ سکتا۔
حاشیہ (تفسیر ابن کیثررحمۃ اللہ علیہ ج 4، روح المعانی ج 27)
روایات تفسیر سے یہ چیز ظاہر ہورہی ہے کہ جو کھلے کافر ہیں انکوابتداء ہی سے نور سے محروم رکھاجائے گا اور انکے لیے پل صراط پر چلنے کی نوبت ہی نہیں آئے گی شروع ہی سے انکے واسطے جہنم کے دروازے کھلے ہوں گے جن میں انکو دھکے دیکر کر جہنم میں جھونک دیا جائے گا البتہ جو کسی نبی کی امت میں ہیں خواہ وہ سچے ہیں یا کچے انہیں پل صراط پر سے گزرنے کا حکم ہوگا اور اس پر چڑھنے کے وقت سخت اندھیرا ہوگا اس وقت ایمان والوں کے ساتھ روشنی ہوگی منافق بھی کوشش کریں گے اسی روشنی میں اہل ایمان کے پیچھے پیچھے چلیں گے مگر اہل ایمان جلد ہی آگے بڑھ جائیں گے اس وقت منافق ان کو پکاریں گے (آیت ) ” انظرونا نقتبس من نورکم “۔ کہ ذرا ہمارا انتظار کرو تاکہ ہم تمہارے ساتھ مل کر چلیں، آخر دنیا میں بھی تو ہم تمہارے ساتھ تھے اس پر مومنین کہیں گے (آیت ) ” ارجعوا ورآئکم فالتمسوا نورا “۔ کہ پیچھے لوٹو اور وہاں روشنی تلاش کرو جیسے ہی لوٹیں گے فورا ہی ایک دیوار حائل کردیجائے گی اور اس کے اس طرف رحمت ہوگی جس طرف مومنین ہوں گے اور دوسری طرف عذاب ہوگا جس میں منافقین کو جھونک دیا جائے گا الغرض نفاق جب اصل سبب ظلمت و تاریکی کا ہوا تو ان اعمال اور خصلتوں کو قیامت کے روز نور کا ذریعہ فرمایا گیا جو ایمان واخلاص کی دلیل ہوتے ہیں مثلا رات کی تاریکیوں میں نمازوں اور جماعت کے لیے باہر نکلنا جیسا کہ ارشاد ہے بشر المشائین فی الظلم الی المساجد بالنور التام یوم القیامۃ (ابوداؤدوترمذی) یعنی بشارت سنادوان لوگوں کو جو کثرت سے رات کی تاریکیوں میں جماعت کی پابندی اور مسجد کی حاضری ایمان واخلاص والوں ہی کا کام ہے تو اس پر نور کی بشارت بیان فرمائی جارہی ہے اسی طرح جماعتوں کی پابندی بھی ایمان کی علامت ہے تو اس پر بھی بشارت ہے قیامت کے روز نور کی اور نجات و کامیابی کی۔
Ayah 57:16شکوۂ خداوندی از غفلت اہل اسلام وانہماک درنعمأ دنیا :
قال اللہ تعالیٰ : الم یان للذین امنوا ان تخشع قلوبھم ...... الی ...... اولئک اصحب الجحیم “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں میدان حشر کے کچھ مناظر بیان کئے گئے اور یہ کہ منافق اس وقت کیسی بےچینی اور کرب میں مبتلا ہوں گے اور اس وقت ایسی بےسروسامانی کا عالم ہوگا کہ اہل ایمان سے کچھ روشنی لینا چاہیں گے تو وہ بھی نہ مل سکے گی اور ہولناک تاریکیوں میں بدحواس ہی رہیں گے اب ان آیات میں مسلمانوں کو ایسی غفلت و لاپرواہی سے باز رھنے کی ہدایت وتاکید فرمائی جارہی ہے اور یہ بھی واضح کیا جارہا ہے کہ دنیا کی مادی نعمتیں و لاپرواہی سے باز رہنے کی ہدایت وتاکید فرمائی جارہی ہے اور یہ بھی واضح کیا جارہا ہے کہ دنیا کی مادی نعمتیں غفلت کا باعث بنتی ہیں اور اہل کتاب اسی طرح عیش و عشرت میں پڑ کر خدا سے غافل ہوگئے تھے اور جب ان پر اسی حالت میں ایک طویل مدت گزر گئی تو ایمان وتقوی اور تعلق مع اللہ کی تمام صلاحیتوں کو انہوں نے گنوا دیا اور انجام یہ کہ خدا کی اطاعت سے خارج ہوگئے تو عبرت کیلئے اہل کتاب کی ایک تاریخی مثال پیش کرتے ہوئے اس امر پر متنبہ کردیا گیا کہ غفلت اور نفاق ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ ہیں اور نفاق کا انجام روز محشر میں کیا ہوگا وہ بیان کردیا گیا ارشاد فرمایا۔
کیا ابھی وقت نہیں آیا ہے ایمان والوں کے لئے اس بات کا کہ ان کے دل گڑگڑائیں اللہ کی یاد سے اور اس کے لیے جو دین حق اترا ہے یعنی قرآن اور احکام دین کہ اس کی اطاعت کے لئے ان کے دل نرما جائیں اور خشیت وتقوی کے آثار ان میں پیدا ہوں اور نہ ہوجائیں ان لوگوں کی طرح جن کو ان سے پہلے کتاب دی گئی پھر ان پر ایک مدت دراز گزری کہ وہ دنیوی لذتوں اور عیش و عشرت میں پڑکر خدا سے غافل ہوگئے پھر ان کے دل سخت ہوگئے اس وجہ سے ان کو اس کا احساس بھی نہ رہا کہ یہ غفلت ونافرمانی ان کو کس منزل پر پہنچائے گی چناچہ وباغی ونافرمان ہوگئے اور ان میں سے بہت سے نافرمان ہیں تو مسلمانوں کو یہ نہ چاہئے کہ وہ اہل کتاب کی سی روش اور عادت اختیار کریں اے مسلمانو ! جان لو بیشک اللہ تعالیٰ زندہ کرتا ہے زمین کو اس کے مردہ ہوجانے بعد جیسے کہ مشاہدہ ہے کہ بنجر زمین پر رحمت کی بارشیں برستی ہیں اور پھر وہ سرسبز و شاداب ہوجاتی ہیں تو اسی طرح سے اے اہل عرب تم دور جاہلیت میں ایسے ہی ہوچکے تھے جیسے کہ بےآب وگیاہ بجز زمین مگر اللہ نے اپنے پیغمبر ﷺ کو مبعوث فرمایا، قرآن کریم نازل فرمایا اور روح وقلب کو شاداب کرنے والی اس بارش نے تمہارے قلوب کی دنیا زندہ تروتازہ اور شاداب بنادی اب ایسا نہ ہونا چاہئے کہ اس سرسبز و شاداب باغ کو اپنی غفلت اور قلبی قساوت سے پھر ویران وبجر بنادو۔
بیشک ہم نے تمہارے واسطے بہت سی نشانیاں کھول کھول کر بیان کردی ہیں امید ہے کہ تم سمجھ جاؤ اگر کوئی شخص اس قسم کی غفلت کا مرتکب ہوچکا ہے تو اس کے واسطے تو بہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے وہ تائب ہوجائے تو پھر اللہ کی رحمت اس کے ایمان وتقوی کے باغ کو شاداب بنا سکتی ہے ایمان اور اخلاص اگرچہ قلب کی گہرائیوں میں چھپی ہوئی صفت کا نام ہے لیکن ہر صفت کی ظاہری علامت اور نشانیاں ہوتی ہیں ان علامات میں سے ایثار و صدقہ بہترین علامت اور اخلاص کا ثبوت ہے اس بناء پر بات سمجھ لینی چاہئے کہ بیشک صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور وہ لوگ جو اللہ کو قرض حسن دیں دوگنا کیا جائے گا ان کے واسطے انکا دیا ہوا صدقہ، دنیا میں کم از کم دوگنا ورنہ زائد سات سوگنا تک ہوسکتا ہے اور اس کے علاوہ ان کے واسطے بہت ہی عزت کا ثواب ہوگا آخرت میں ظاہر ہے کہ جن لوگوں نے اپنا مال ایسے اخلاص اور صدق نیت سے اللہ کی راہ میں خرچ کیا وہ اس کے مستحق ہیں کہ دنیا میں بھی انکو بدلہ ملے اور آخرت میں بھی اجر عظیم اور ثواب کریم کے مستحق ہوں اور جو لوگ پورے اخلاص کے ساتھ ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسول پر بیشک یہ لوگ سچے ایمان والے ہیں اور گواہ ہیں اپنے رب کے یہاں جب کہ قیامت کے روز ساری امتیں پیش ہوں گی اور ان کے انبیاء (علیہم السلام) سے کہا جائے گا کہ تمہارے واسطے کون اس بات کا گواہ ہے کہ تم نے اپنے رب کا پیغام اور اس کے احکام اپنی اپنی قوموں کو پہنچا دیئے تھے تو امت محمدیہ لائی جائے گی اور یہ گواہ ہوں گے کہ بیشک اے اللہ ان پیغمبروں نے تیرے پیغام اور احکام پہنچا دیئے، کما قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” وکذلک جعلنا کم امۃ واسطا لتکونوا شھدآء علی الناس ویکون الرسول علیکم شھیدا “۔ 1
حاشیہ (بعض حضرات نے یہاں شہید کا ترجمہ اللہ کی راہ میں شہید ہونے والا ہی کیا ہے اور اس کا قرینہ یہ سمجھا کہ آیت کریمہ (فاولئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبین والصدیقین والشھدآء والصالحین “۔ میں صدیق کے بعد شہید کا ذکر کیا گیا ہے اور صدیقیت کے مقام کے بعد مقام شہادت ہے تو اس لحاظ سے (آیت ) ” والشھدآء عند ربھم “ کا مفہوم خدا کیلئے اپنی جان قربان کرنا اور اپنے رب کے یہاں شہید ہونا بیان کیا ہے۔
عوفی (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اولئک ھم الصدیقون “ یہ مابعد سے مفصول اور جدا ہے اور آگے لفظ (آیت ) ” والشھدآء عندربھم “ کلام مستقل اور مستأنف ہے یعنی اہل ایمان کے لیے تو وصف صدیقون ذکر فرمایا دیا اب اس کے بعد (آیت ) ” والشھدآء عندربھم “۔ جملہ مستقلہ میں شہداء کا عنداللہ ہونا بیان فرمایا۔ مسروق (رح) اور ضحاک (رح) نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے بھی اسی طرح نقل کیا ہے فرمایا یہ تین قسمیں ہیں جن کا حق تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔
(1) مصدقین۔ (2) صدیقین ، (3) اور شہداء، اور یہ وہی تین گروہ ہیں جن کو آیت مبارکہ (آیت ) ” ومن یطع اللہ والرسول فاولئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبین والصدقین والشھدآء والصالحین “ ، میں ذکر کیا گیا۔
حضرات مفسرین کی ایک جماعت یہ کہتی ہے کہ صدیقین وشہداء ایک ہی گروہ ہے اور شہداء صدیقین ہی کا وصف ہے اور معنی یہ ہیں کہ یہ گواہ ہوں گے اپنے رب کے یہاں حافظ ابن کثیر (رح) نے بروایت براء بن عازب ؓ مرفوعا یہی تفسیر کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا مومنوا امتی شھداء اور پھر یہ آیت تلاوت فرمائی اسی روایت کے پیش نظر ترجمہ میں الفاظ کا اضافہ اور وضاحت کی گئی 12 واللہ اعلم بالصواب ‘)
ان شچے ایمان والوں کے لیے ان کا ثواب ہوگا ایمان وتقوی اور اخلاص کا اور روشنی ہوگی جو میدان حشر میں انکے آگے اور ان کے دائیں ہوگی اور وہ اعزاز واکرام اور سکون و اطمینان کے ساتھ اس روشنی میں اپنی جنت کی طرف جاتے ہوں گے اور اس کے بالمقابل وہ بدنصیب جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور جہنم والے ہیں اور اصل جہنم تو ان ہی کے واسطے تیار کی گئی ہے ان کے علاوہ اگر اہل توحید کے کچھ مجرمین سزا کے لیے عذاب جہنم میں جائیں گے بھی تو سزا کے بعد یا شفاعت یا رحمت خداوندی سے آزاد کردیئے جائیں گے مگر یہ کافر تو ہمیشہ ہی ہمیشہ اس میں رہیں گے اس لئے اصل اصحاب الجحیم کفار ومشرکین ہیں۔
دنیوی نعمتوں اور راحتوں کی فراخی طبعا انسان کو غافل بناتی ہے :
انسانی طبیعت کا خاصہ ہے اور بہت ہی کم سعادت مند اس سے مستثنی ہوا کرتے ہیں کہ دنیوی انعامات اور راحتوں کی کثرت سے اس میں غفلت و لاپرواہی کے آثار پیدا ہوجائے ہیں اسی وجہ سے ارشاد فرمایا گیا ہے (آیت ) ” اعملوا ال داؤد شکرا وقلیل من عبادی الشکور “۔
حضرت حذیفہ ؓ فرمایا کرتے ہیں کہ ہمیں قدرت خداوندی کی طرف سے دو آزمائشوں میں آزمایا گیا، ابتلینا بالضراء فصبرنا ثم ابتلینا بالسراء فلم نصبر “۔ ایک امتحان مصائب اور مشقتوں کا ہوا جس پر ہم نے صبر کیا اور کامیاب ہوئے پھر راحتوں اور نعمتوں کے ساتھ امتحان ہوا تو اس میں ہم صبر نہ کرسکے اور اس امتحان میں ہم کامیاب نہ ہوئے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں، ماکان بین اسلامنا وبین ان عاتبنا اللہ تعالیٰ بھذہ الایہ ، (آیت ) ” الم یان للذین امنوا ان تخشع قلوبھم لذکر اللہ “۔ الا اربع سنین (صحیح مسلم) کہ ہماری اسلام لانے اور اس آیت کے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر عتاب فرمایا یعنی (آیت ) ” الم یان للذین امنوا ‘۔ کے نازل ہونے میں چار سال سے زائد مدت نہیں گزری یعنی فتح مکہ کے چار ہی سال بعد یہ صورت حال ہوتی کہ اس طرح کی آیت کے نازل ہونے سے ہماری غفلت و لاپرواہی پر عتاب فرمایا گیا۔
اہل کتاب کی قساوت کی تفصیل پہلے گزر چکی سورة بقرہ سے لے کر آخر قرآن کریم تک متعدد حصوں میں ان پر انعامات خداوندی اور انکی غفلت کا ذکر کیا گیا اور یہ کہ انکی قساوت قلبی نے نوبت یہاں تک پہنچائی کہ خدا کے اصل احکام کی صریح نافرمانی کرنے لگے اور اپنی نفسانی خواہشات کو اپنا اصل پیشوا بنالیا حتی کہ جو حکم خداوندی بھی انکی خواہش کے خلاف ہو اس میں تحریف شروع کی اور ایسے حیلے اختیار کئے کہ گویا خدا کو یہ بتا دیں کہ ہم تیرے احکام کی اطاعت کررہے ہیں اور درحقیقت کررہے ہوں نافرمانی جیسے کہ سنیچر کے دن مچھلیوں کے شکار کے معاملہ میں کیا جس کی تفصیل سورة اعراف میں گزر چکی۔
اور بنی اسرائیل کے قلوب کی قساوت کی نوعت سورة بقرہ میں (آیت ) ” ثم قست قلوبکم من بعد ذالک فھی کالحجاۃ اواشد قسوۃ وان من الحجارۃ لما یتفجر منہ الانھار “۔ میں ذکر فرما دی گئی، قساوت کے آثار میں سے سب سے پہلا اثر اور نتیجہ احکام خداوندی سے بغاوت اور نافرمانی ہے جس کو ارشاد فرمایا گیا (آیت ) ” وکثیر منھم فسقون “۔
Ayahs 57:17–24تمثیل بےثباتی دنیا و عظمت خداوند خالق کائنات وتعلیم صبر و قناعت وتاکید فکر آخرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اعلموا انما الحیوۃ الدنیا ...... الی ...... ھو الغنی الحمید “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں انسان کا دنیوی نعمتوں اور راحتوں میں لگ کریاد خدا اور فکر آخرت سے غلفت و لاپرواہی برتنے پر تنبیہ فرمائی گئی تھی اور یہ کہ یہ طریقہ اہل کتاب کا تھا اہل ایمان کو یہ بات زیب نہیں دیتی اب ان آیات میں دنیا اور دنیا کی لذتوں کی ناپائیداری بیان فرمائی جارہی ہے اور اسکی بےثباتی کا ایک نقشہ پیش کیا جارہا ہے تاکہ دنیا کی حقیقت سمجھی جاسکے، فرمایا ،
جان لو اس کے سوا کچھ نہیں کہ دنیا کی زندگی بس ایک کھیل اور تماشا اور بناؤ سنگار اور تمہارے درمیان آپس میں ایک دوسرے پر فخر کرنا برائیاں مارنا اور مال واولاد میں زیادتی کی کوشش کرنا بس ان ہی میں مصروف ومنہمک رہتے ہوئے انسان اپنی زندگی گزار دیتا ہے بچپن میں کھیل تماشا ہے جوانی آئی تو بناؤ سنگار میں پڑگیا پھر کچھ عمر پختہ ہوئی تو عزت وجاہ اور نام ونمود اور اپنی ساکھ جمانے کی فکر میں لگ گیا، مال اولاد کے غم میں لگے ہوئے ہے کہ مال خوب جمع کرلوں اولاد کے کام آئے گا عزت بڑھے گی قوم میں مقام بلند ہوگا تو از اول تاآخریہی منزلیں جن کو انسان طے کرتا چلا جاتا ہے اور اس بات کو سوچتا بھی نہیں کہ دنیا کی زندگی ہے کیا ؟ اور اس کی حقیقت کیا ہے نہ اس کی ناپائیداری کا خیال ہے اور نہ کبھی یہ تصور کہ ان تمام لذتوں نعمتوں اور راحتوں کا انجام کیا ہے دنیوی زندگی کی حالت بالکل ایسی ہی ہے جیسے بارش کہ جب برسی تو بہت ہی اچھا لگا اس کا سبزہ اور شادابی، کھیتی کرنیوالوں کو پھر یہ سبزہ زور پکڑتا ہے لہلہانے لگتا ہے تو اے مخاطب دیکھے گا تو اس کو سبزہ اور شادابی، کھیتی کرنیوالوں کو پھر یہ سبزہ زور پکڑتا ہے لہلہانے لگتا ہے تو اے مخاطب دیکھے گا تو اس کو کہ وہ زرد ہونے لگا ہے جب پکنے کا وقت قریب آتا ہے پھر جب وہ خشک ہوجائے تو ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے کہ آدمی اور جانور اسکو روند روند کر چورا چورا کردیتے ہیں اور شادابی و خوبصورتی کا نام ونشان بھی باقی نہیں رہتا جو اس کھیتی کے ابھرنے اور اس کے سرسبزوشاداب ہونے پر پہلے نظروں کو لبھارہی تھی اب جب کہ وہ کھیتی گھانس پھونس کے تنکے اور ریزے ہوچکی تو اس کی طرف کسی قسم کا میلان ہی باقی نہ رہا یہی حال بالکل دنیا کی زندگی کا ہے اور اسکے سازوسامان کا ہے میرے استاذ حضرت مولانا عثمانی (رح) فرماتے ہیں بس یہ ہی حال دنیا کی زندگانی اور اس کے سازوسامان کا سمجھو کہ وہ فی الحقیقت ایک دغا کی پونجی اور دھوکے کی ٹٹی ہے آدمی اسکی عارضی بہار سے فریب کھا کر اپنا انجام تباہ کرلیتا ہے حالانکہ موت کے بعد یہ چیزیں کام آنے والی نہیں وہاں کچھ اور ہی کام آئے گا یعنی ایمان اور عمل صالح جو شخص دنیا سے یہ چیز کما کرلے گیا سمجھو بیڑا پار ہے آخرت میں اس کے لئے مالک کی خوشنودی ورضا مندی ہے اور جو دولت ایمان سے تہی دست رہا اور کفروعصیان کا بوجھ لے کر پہنچا اس کے لئے سخت عذاب ہے اور جس نے ایمان کے باوجود اعمال میں کوتاہی کی اس کے لئے جدل یا بدیر دھکے مکہ کھا کر معافی ہے دنیا کا خلاصہ وہ تھا “ اور آخرت میں معاملہ یہ ہوگا کہ عذاب شدید مقدر ہوگا جس سے نجات کا کوئی امکان نہیں بجز اللہ کی رحمت اور مغفرت کے جو ایمان وعمل صالح ہی کی بدولت نصیب ہوسکتی ہے۔
اور مغفرت ومعافی بھی ہے اللہ کی طرف سے اگر کوئی صاحب ایمان شخص اپنی غفلت و لاپرواہی سے کسی گناہ کا ارتکاب کرلے اور نادم وشرمندہ ہو کر خدا کی بارگاہ میں تائب ہو اور اللہ کی طرف سے رضامندی بھی ہے ایمان وعمل صالح والوں کے لیے نیز ان لوگوں کے واسطے بھی جو گناہ اور خطاء کے بعد تائب ہوجائیں تو خداوند عالم انکی توبہ پر خوش ہوتا ہے اور دنیا کی زندگی تو بس دھوکہ ہی کا سامان ہے الغرض جب دنیا کی زندگی اور اس کی لذتیں فانی اور ناپائیدار ہیں اور دنیا کا سامان اور متاع زندگی درحقیقت دھوکہ ہی کا سامان ہے تو انسان کو چاہئے کہ موت سے غافل نہ ہو آخرت کی فکر میں لگا رہے اور دنیا کے دھوکہ میں مبتلا نہ ہو اس لئے بجائے دنیوی زندگی میں انہماک اور اس کے سازوسامان کی فکر وتیاری کے اے لوگو ! دوڑو اس مغفرت کی طرف جو تمہارے رب کی طرف سے ہے اور اس جنت کی طرف جس کا عرض آسمان و زمین کے پھیلاؤ کے برابر ہے جو تیار کی گئی ہے ان لوگوں کے واسطے جو اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے یہی اللہ کا فضل وانعام ہے کہ وہ اپنی تمام تر کوششیں اور دوڑ آخرت اور جنت کی نعمتوں کی طرف پھیر دے اور یہ کمال اللہ تعالیٰ عطا فرماتا ہے جس کے واسطے چاہے اسی کو علم محیط ہے وہ جانتا ہے کہ کس میں اس نعمت کی صلاحیت ہے اور کون اس صلاحیت اور سعادت سے محروم رہنے کے قابل ہے اور اللہ بڑے ہی فضل والا ہے جو اپنے انعامات سے بندوں کو نوازتا ہے اور یہ نوازا جانا اور جنت کے انعامات اعمال کا بدلہ نہیں بلکہ محض اللہ کا فضل وانعام ہے اور حقیقت کو بھی خوب سمجھ لینا چاہئے کہ جو بھلائی اللہ نے کسی کے واسطے مقدر فرما دی وہ اسکو ضرور حاصل ہو کر رہے گی اور جو چیز کسی کے مقدر میں نہیں ہو کبھی بھی ہاتھ نہیں آسکتی لہذا اگر کوئی خیر یا نفع کی چیز حاصل نہ ہو سکے تو اس پر غمگین ومضطرب ہونے کی ضرورت نہیں اور نعمتوں کے حصول پر غرور وتکبر نہ کرنا چاہئے اور مصائب وآفات سے مضطرب وبے چین ہونا بھی غلط ہے بلکہ یہ اعتقاد قلب کی گہرائیوں میں راسخ کرلینا چاہئے کہ کوئی بھی مصیبت ایسی نہیں ہے کہ جو زمین میں واقع ہو اور نہ کوئی ایسی مصیبت کہ جو تمہاری جانوں میں ہو مگر یہ کہ وہ اللہ کی طرف سے ایک لکھی ہوئی کتاب میں ہوتی ہے قبل اس کے کہ ہم اس کو پیدا کریں اور ظاہر کریں اس وجہ سے دنیا میں ہر آفت و تکلیف اور راحت ونعمت خدا کے لکھے ہوئے فیصلے ہی کے مطابق واقع ہوتی ہے بیشک یہ چیز اللہ پر بہت ہی آسان ہے اے لوگو ! یہ سب کچھ تم کو بتایا اور سمجھایا جارہا ہے اس وجہ سے کہ تم غم نہ کیا کرو ان چیزوں پر جو تم سے فوت ہوجائیں اور نہ شیخی جتایا کرو ان چیزوں پر جو اللہ نے تم کو عطا کیں بلکہ اللہ کے انعامات پر شکر کیا کرو اور آفاتومصائب کے آنے پر صبر کیا کرو اور اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا ہے ہر اس شخص کو جو شیخی جتانے والا بڑائی مارنے والا ہو ایسے لوگ کہ جو بخل کرتے ہیں خود بھی اور دوسروں کو بھی آمادہ کرتے ہیں کہ وہ بھی بخل کریں یقیناً ایسا رویہ اللہ سے اور اس کے احکام سے روگردانی کرنا ہے جو شخص بھی اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت سے منہ موڑے گا تو اس کو اپنے انجام سے آگاہ ہونا چاہئے اور یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ تو ہر چیز سے بےنیاز ہر خوبی کے ساتھ موصوف ہے اسکو کسی کی نافرمانی نقصان نہیں پہنچا سکتی اور نہ ہی اس کو کسی کی فرماں برداری کی کوئی حاجت ہے اس لیے کسی بھی انسان کو اللہ کی عطا کی ہوئی نعمتوں مال و دولت پر مغرور ومتکبر نہ ہونا چاہئے اور نہ شیخی اور بڑائی جتلانی چاہئے اور جو کچھ اللہ نے مال عطا کیا ہے اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا چاہئے نہ یہ کہ بخل کرے بلکہ اور ظلم یہ کہ دوسروں کو بھی بخل پر آمادہ کرے تو اس سے بڑھ کر انسان کے واسطے کوئی برائی نہیں ہوسکتی ساتھ ہی اس کو یہ بھی عقیدہ قلب کی گہرائیوں میں راسخ کرلینا چاہئے کہ ہر راحت اللہ کا انعام ہے اس وجہ سے اس پر شکر گزار ہو اور ہر تکلیف ومصیبت خدا ہی کے فیصلہ سے ہے اس لیے اس پر صبر و استقامت چاہئے اور خدا ہی سے اس مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے رجوع کرنا چاہئے کہ اس کی بارگاہ میں تضرع وزاری اور دعا والتجاء میں مشغول ہو نہ یہ کہ بےصبری اور بےقراری اختیار کرلے۔