Ayah 60:1(1) اے ایمان والو ! تم میرے دشمنوں کو اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بنائو درآں حالیکہ تم ان کو مروت اور دوستی کے پیغام بھیجنے لگو اور ان سے دوستی کا اظہار کرنے لگو حالانکہ جو دین حق تمہارے پاس آیا ہے وہ اس دین حق کے منکر ہیں ان کی دشمنی کا یہ حال ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو اور تم کو اتنی بات پر شہر بدر اور جلاوطن کرچکے ہیں کہ تم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے ہو جو تمہارا پروردگار ہے۔
اگر اے مسلمانو ! تم میری راہ میں جہاد کرنے اور میری رضا جوئی اور میری رضامندی کو تلاش کرنے کے لئے اپنے گھروں سے نکلے ہو تو ان منکروں کو دوست نہ بنائو تم دوستی کی وجہ سے ان کی طرف پوشیدہ پیغام بھیجتے ہو اور ان سے خفیہ اور چپکے چپکے دوستی کی باتیں کرتے ہو حالانکہ تم جو کچھ علانیہ اور ظاہر کرکے کرتے ہو اس سب کو میں خوب جانتا ہوں اور جو شخص تم میں ایسا کریگا یعنی دشمنوں کو دوستانہ پیغام دے گا تو یقین جانو وہ سیدھی راہ سے بھٹک گیا۔
6 ھجری کا واقعہ ہے کہ بنی ہاشم کی ایک باندی سارا نامی مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ آئی سرکار دوعالم ﷺ نے دریافت کیا کہ اے سارا تو مسلمان ہوکر آئی ہے اس نے کہا نہیں میں محتاج ہوکر آئی ہوں آپ نے عبدالمطلب کی اولاد کو ترغیب دلائی کہ یہ خاندان ہاشم کی باندی ہے اور محتاج ہوکر آئی ہے ان لوگوں نے اس کے کپڑے اور دیگر سامان وغیرہ کی مدد کی جب یہ واپس جانے لگی تو حاطب بن بلتعہ ؓ جو ایک مشہور بدری صحابی ہیں انہوں نے ایک خفیہ خط اس کو دے دیا جو کفار مکہ کے نام روانہ کیا گیا تھا اس میں لکھا تھا کہ نبی کریم ﷺ حملہ کا ارادہ رکھتے ہیں تم لوگ باخبر رہنا۔
غرض کفار مکہ سے ہمدری کا اظہار کرتے ہوئے یہ خفیہ اطلاع دی تھی اور چونکہ حاطب ؓ یمن کے رہنے والے تھے اور مکہ میں ان کے اہل و عیال تھے اور کوئی ان کا قرابت دار مکہ میں نہ تھا اس لئے حاطب نے یہ ہمدردی کی تاکہ کفار مکہ ان کے بال بچوں کو گزند نہ پہنچائیں اور ان کی حفاظت کریں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو اس خفیہ خط سے آگاہ کردیا۔
چنانچہ آپ نے حضرت علی ؓ ، عمار ؓ ، طلحہ ؓ ، مقداد ؓ اور ابامرثد کو روانہ کیا اور ان کو یہ حکم دیا کہ تم روضہ خاخ پر پہنچو وہاں تم کو ایک عورت ملے گی تم اس سے خفیہ خط کی تحقیق کرو اور اس کے پاس سے وہ خط لے کر آجائو اور اس عورت کو چھوڑ دو چناچہ ان لوگوں نے روضہ خاخ پر پہنچ کر اس عورت کو پکڑا اس نے انکار کیا اور اس کے سامان کی تلاشی میں بھی وہ خط نہ نکلا۔
حضرت علی ؓ نے اس کو قتل کی دھمکی دی تب اس نے اپنے بالوں کے جوڑے میں سے نکال کر وہ خط دیا۔ یہ لوگ خط لے کر واپس آئے اور حضور ﷺ نے حاطب ؓ سے دریافت کیا ، حاطب نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ میں نے کسی قسم کے نفاق یا خیانت کی وجہ سے یہ خط نہیں لکھا بلکہ اپنے اہل و عیال کی حفاظت کے خیال سے یہ خط لکھا تاکہ کفار مکہ اس احسان کی بنا پر میرے اہل و عیال کو قتل نہ کردیں اور میرا مکان نہ لوٹ لیں کیونکہ میں ایک پردیسی آدمی ہوں اور مکہ میں میرا کوئی رفیق نہیں ہے۔
آپ ﷺ نے حاطب بن بلتعہ ؓ کا عذر قبول فرمالیا حضرت عمر ؓ نے حاطب کے قتل کی اجازت طلب کی مگر آپ ﷺ نے منع فرمادیا اور فرمایا کہ حاطب جنگ بدر کے شرکاء میں سے ہے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں اب آگے کفار کی عداوت کا مزید بیان ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت کو مکہ والوں سے صلح ہوئی انا فتحنا میں آچکا دو برس رہی پھر کافروں کی طرف سے ٹوٹی تب حضرت نے فوج جمع کرکے ارادہ کیا مکہ کا اور خبر بند کی کہ کبھی کافر پھر نہ لڑنے لگیں کہ حرم میں لڑنا ضرور ہو ایک مسلمان تھے حاطب مکہ والوں کو خط لکھاحضرت کو وحی سے معلوم ہوا اس کو راہ سے پکڑوامنگایا۔ حاطب نے عذر میں کہا کہ میرے اہل و عیال مکہ میں ہیں ان کافروں سے سلوک رکھتا ہوں تاعیال کی خبر لیتے رہیں یہ خطا بڑی ہوئی لیکن حاطب بہشتی ہیں بدر کے لوگوں میں اس پر یہ سورت اتری۔
Ayah 60:2(2) اگر یہ منکر تم پر قابو پالیں اور ان کو تم پر دسترس ہوجائے تو یہ تمہارے حق میں دشمن ہوں اور عداوت کا اظہار کرنے لگیں اور برائی کے ساتھ تم پر دست درازی اور زبان درازی کریں اور وہ اس بات کے متمنی ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ تم کسی طرح کافر بن جائو اور کفر اختیار کرلو۔ یعنی یہ لوگ دوستی کے قابل نہیں ان کی دوستی میں دنیوی نقصان بھی ہے اور دینی نقصان بھی ہے ۔ دنیوی نقصان یہ کہ اگر برسراقتدارہوجائیں تو کھلم کھلا دشمنی کریں۔ ہاتھ سے برائی پہنچائیں۔ زبان طعن دراز کریں دینی نقصان یہ کہ ان کی دلی خواہش اور تمنا یہ ہے کہ تم اسلام کو چھوڑ کر کفر اختیار کرلو چونکہ مکہ والوں کے یہ خیالات اور ان کی یہ ذہنیت ہے اس لئے مکہ والے اس قابل نہیں کہ ان سے خفیہ یا علانیہ دوستی کریں۔
Ayah 60:3(3) قیامت کے دن تمہاری رشتہ داریاں اور قرابت داریاں تم کو کچھ نفع نہیں دے سکتیں اور نہ تمہاری اولاد تمہارے کچھ کام آسکتی ہے اللہ تعالیٰ تمہارے مابین فیصلہ فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ ان تمام اعمال کو جو تم کررہے ہو دیکھتا ہے۔ یعنی قرابت داری اور اولاد وغیرہ کی وجہ سے اس قسم کی کمزوریاں ظہور پذیر ہوتی ہیں۔ اسی کو فرمایا کہ یہ چیزیں نفع دینے والی نہیں ہیں قیامت کے دن ان میں سے کوئی بھی چیز کام آنے والی نہیں اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان فیصلہ فرمادے گا مومن جنت میں ہوں گے اور یہ منکروں کو جہنم میں بھیج دیا جائے گا لہٰذا کام آنے اور نفع دینے کا کوئی سوال ہی نہیں۔ تمہارے تمام اعمال کو اللہ تعالیٰ دیکھنے والا ہے پس ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کے حق کو مقدم سمجھو اور کسی دوسرے کے حق کو اللہ تعالیٰ کے حق پر ترجیح نہ دو ۔ آگے ترغیب وتحریص کے لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا۔
Ayah 60:4(4) بلا شبہ تمہارے لئے ابراہیم (علیہ السلام) میں اور ان لوگوں میں جو ان کے ساتھی اور شریک حال تھے ایک عمدہ نمونہ اور بیشک تم کو چال چلنی ہے اچھی ابراہیم (علیہ السلام) کی اور جو اس کے ساتھ تھے جبکہ ان سب نے اوقات مختلفہ میں اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ ہم تم سے اور ان سے جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا پوجتے ہو اور جن کی پرستش کیا کرتے ہو سخت بیزار ہیں ہم تمہارے عقائد باطلہ کے منکر ہیں اور ہم میں اور تم میں ہمیشہ کے لئے عداوت اور دشمنی ظاہر ہوگئی تاوقتیکہ تم اللہ واحد پر ایمان نہ لے آئو مگر ہاں ابراہیم (علیہ السلام) کی اتنی بات جو اس نے اپنے باپ سے کہی تھی کہ میں تیرے لئے استغفار ضرور کروں گا اور میں اللہ تعالیٰ کے سامنے کسی تیرے بھلے کا کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ اے ہمارے پروردگار ہم آپ پر بھروسہ کرتے ہیں اور آپ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں اور تیری ہی طرف سب کی بازگشت ہے۔ یعنی کفار سے تعلقات کے بارے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی جو بتدریج بڑھتے رہے ابتداء میں بہت کم تھے پھر اور بڑھ گئے۔
بہرحال ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کا پیروی کرنے کے لئے ایک اچھا نمونہ اور ان کی سیرت قابل اقتدا اور واجب الاتباع ہے پھر وہ روش اور ان کا طرز عمل بیان فرمایا کہ ان سب نے صاف طور پر کہہ دیا کہ ہم تمہارے طرز عمل اور تمہارے معبودان باطلہ سے بیزار بری الذمہ اور الگ ہیں ہم تم سے یعنی تمہارے باطل عقیدوں کے منکر ہیں اور باعتبار معاملات اور برتائو کے بھی ہمارا تمہارا کوئی تعلق نہیں بلکہ ہمیشہ کے لئے دشمنی اور عداوت وبغض قائم ہے جب تک کہ تم اپنے عقائد باطلہ سے توبہ کرکے اللہ تعالیٰ جو وحدہ لاشریک ہے اس پر ایمان نہ لے آئو اس وقت تک یہ عداوت اور دشمنی قائم رہے گی یعنی شرک اور مشرکین کی عداوت کی غایت مشرکین کا اللہ تعالیٰ پر جو وحدہ لاشریک ہے ایمان لے آنا ہے ہاں ابراہیم (علیہ السلام) کی اتنی بات اپنے باپ سے ضرور ایک وعدے کی بنا پر تھی کہ میں تیرے لئے بخشش کی دعا کرتا رہوں گا اور یہ بھی کہہ دیا تھا کہ میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تجھے کچھ نفع نہ پہنچا سکوں گا اور میں تیرے بھلے کا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ سے مالک نہیں ہوں چونکہ کفار کے ساتھ نہایت صاف الفاظ میں بیزاری کا اظہار فرمایا تھا آگے ان ابراہیم (علیہ السلام) اور مومنین کی دعا ذکر فرمائی۔
اے ہمارے پروردگار ہم نے تجھی پر توکل کیا تاکہ کفار کے شر سے اور ضرر سے محفوظ رہیں اور تجھ پر ایمان لانے میں تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں اور اپنے اس اعتقاد کا اظہار کرتے ہیں کہ ہم سب کی بازگشت تیری ہی طرف ہے اور سب کو تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
Ayah 60:5(5) اے ہمارے پروردگار نہ جانچ ہم پر کافروں کو اور ہم کو کافروں کے لئے محل آزمائش نہ بنا اور اے ہمارے پروردگار ہم کو بخش دے اور ہمارے گناہوں کو معاف کردے بلا شبہ تو کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ابراہیم (علیہ السلام) نے ہجرت کی پھر اپنی قوم کی طرف منہ نہ کیا تم بھی وہی کرو ایک ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا چاہی تھی بات کے واسطے جب تک معلوم نہ تھا تم کو معلوم ہوچکا تم کافر کی بخشش نہ مانگو نہ جانچ ہم پر کافروں کو یعنی ہم کو کافروں کے واسطے محل آزمائش نہ کر۔
خلاصہ : یہ ہے کہ تم کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور اس کے ساتھیوں کی پیروی کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح انہوں نے ہجرت کی تم بھی ہجرت کر جائو اور اپنے ہم وطن کافروں کی طرف رخ کر کینہ دیکھو۔ البتہ ابراہیم جو اپنے باپ کے حق میں دعا کیا کرتے تھے وہ اجازت سے کیا کرتے تھے جب ان کو معلوم ہوگیا کہ وہ کفر پر مرا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو منع کردیا تو وہ رک گئے اور چونکہ تم کو اپنے رشتہ داروں کے مرنے کا حال معلوم ہے اس لئے تم ان کے لئے استغفار نہ کیا کرو اور یہ جو فرمایا ربنا لا تجعلنا فتنۃ للذین کفروا اس کا مطلب یہ ہے کہ کافروں کے ظلم وستم کے لئے ہم کو تختہ مشق نہ بنا اور ان کو ایسا غلبہ اور اقتدار نہ دے کہ ہمارے اعلان بیزاری اور بتری سے وہ ہم پر ظلم کرنے لگیں اور ہم پر نئے نئے ستم توڑنے شروع کردیں آپ عزیز بھی ہیں حکیم بھی ہیں اپنی طاقت اور حکمت کی وجہ سے ہم کو ان کے شر سے محفوظ رکھ۔
Ayah 60:6(6) البتہ تم کو بھلی چال چلنی ہے ان کی جو کوئی ایمد رکھتا ہو اللہ تعالیٰ کی اور پچھلے دن کی اور جو کوئی منہ پھیرے تو اللہ تعالیٰ وہی ہے بےپروا سب خوبیوں سراہا۔ ترجمہ اور تیسیر میں حاصل ترجمہ اور لفظی ترجمہ کی وجہ سے فرق ہوگیا۔ لمن کان یرجو اللہ ہے بدل ہے لقد کان لکم سے ترجمہ کا خلاصہ اس طرح ہے بیشک ابراہیم اور ان کے متبعین میں تمہارے لئے یعنی ایسے شخص کے لئے عمدہ اور قابل اتباع نمونہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے سامنے جانے اور قیامت کے آنے کا اعتقاد رکھتا ہو اور جو شخص اس حکم سے یا ان کا اتباع سے روگردانی کرے گا تو بلا شبہ اللہ تعالیٰ بالکل بےنیاز اور سزاوار حمد ہے۔
خلاصہ : یہ ہے کہ جو بات اوپر ارشاد فرمائی تھی یہ اسی کی تاکید ہے یا یہ کہ پہلے ان کی شان مقتدی بہ کے لئے فرمایا اور دوسری مرتبہ اس اعتقاد کے تقاضے کے اعتبار سے فرمایا یعنی تم لوگ جو اللہ کے روبرو حاضر ہونے کے امیدوار ہو اور قیامت کے آنے معتقد ہو اس اعتقاد کا تقاضا یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) اور اس کے ساتھیوں کی پیروی کی جائے۔
یرجو اللہ کا مطلب یہ کہ اس کی ملاقات اور اس کے روبرو حاضر ہنے کا یا اس کی رحمت کا امیدوار ہے ایسا ہی روز آخرت کی ملاقات اور حساب وکتاب کا معتقد ہے تو اس کے لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کی زندگی ایک قابل تقلید اور قابل اتباع نمونہ ہے اور اس کو چاہیے کہ ان پیشوائوں کی پیروی کری اور اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے اس حکم اتباع سے روگردانی کرے اور منہ پھیرے تو اللہ تعالیٰ بےنیاز اور سب خوبیوں سراہا ہے۔
یعنی اگر کوئی روگردانی کرتا ہے تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے اللہ تعالیٰ کو کوئی ضرر نہیں پہنچتا۔ ان آیتوں کے نزول کے بعد مسلمانوں نے اپنے کافر متعلقین سے بالکل ترک تعلق کرلیا اور اللہ تعالیٰ نے آگے ان کو امید دلائی کہ عنقریب ان حالات میں تبدیلی کی امید ہے۔
یہ منافرت اور ترک تعلق اختلاف دین کی وجہ سے ہے شایدآگے چل کر کافر مسلمان ہوجائیں اور منافرت باقی نہ رہے۔
Ayah 60:7(7) امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تم میں اور ان لوگوں میں جن سے تمہاری دشمنی اور عداوت ہے دوستی پیدا کردے اور اللہ تعالیٰ کو سب قدرت ہے اور اللہ تعالیٰ نے بڑی مغفرت کرنے والا نہایت مہربان ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ان کو مسلمان کردے پھر تمہاری دوستی بجا رہے ایسا ہی ہوا اس سفر میں مکہ کے لوء سارے مسلمان ہوئے۔
یعنی اگرچہ اس وقت دشمنی اور عداوت کی وجہ سے ترک تعلقات کا حکمدیا گیا ہے لیکن وہ دن دور نہیں کہ شاید اللہ تعالیٰ ان کے جن سے تم عداوت رکھتے ہو اور تمہارے درمیان دوستی اور اخوت کے سامان پیدا کردے جس کی سہل صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان دین حق کے منکروں کو مسلمان کردے اور ان کے سابقہ گناہوں کو بخش دے کیونکہ وہ غفور رحیم ہے یا یہ کہ اس حکم کی تعمیل میں اگر کسی سے کچھ کوتاہی ہو تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔
بہرحال آگے ان غیر متعصب کافروں کے ساتھ خواہ وہ ذمی ہوں یا مصالح ہوں حسن سلوک اور نیک برتائو کا ذکر ہے۔
Ayah 60:8(8) اللہ تعالیٰ تم کو ان لوگوں کے ساتھ احسان اور انصاف کرنے سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑے اور نہ انہوں نے تم کو تمہارے گھروں پر نکالا۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے - بر اور اقساط بھلائی نیکی اور حسن سلوک کی اجازت دی اور انصاف کرنے کا حکم دیا ایسے لوگوں کے معاملے میں انصاف کرو اور ظلم نہ کرو۔
مشرکین میں سب قسم کے آدمی تھے بعض جارحانہ کاروائیاں کرتے تھے بعض سخت برتائو کی مخالفت کرتے تھے اور اگر ان کی بات نہ چلتی تو وہ مسلم آزار کاروائیوں سے بالکل علیحدہ رہتے تھے ان کے لئے خصوصی برو اقساط کا حکم دیا ورنہ عام برداقساط کا حکم تو ہر ذی روح کے ساتھ ہے خواہ وہ آدمی ہو یاجانور۔
بعض لوگوں نے فرمایا قبیلہ خزاعہ کے لوگ مراد ہیں جو اپنی مصالحت اور اپنے عہد قائم رہے۔
بہرحال کوئی خاص قبیلہ ہو یا مکہ کے لوگ ہوں جن کا رویہ امن پسندانہ رہا ہو سب کے ساتھ اچھے سلوک اور انصاف خصوصی کا حکم ہے۔
بعض حضرات نے قتیلہ بنت عبدالعزی کے حق میں شان نزول کا ذکر کیا ہے کہ وہ مشرکہ تھیں اور اسماء بنت ابی بکر ؓ کے لئے کچھ تحائف اور ہدایا لے کر آئی تھی لیکن اسماء بنت ابی بکر ؓ نے اس کے قوبل کرنے سے انکار کردیا اس پر یہ آیت اتری اور ان کے ساتھ اکرام اور احسان کرنے کا حکم دیا گیا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں مکہ کے لوگوں میں بعضے ایسے بھی تھیے کہ آپ مسلمان نہ ہوئے اور ہونے والوں سے ضد بھی نہ کی۔
Ayah 60:9(9) سوائے اس کے نہیں کہ اللہ تعالیٰ تم کو ان لوگوں سے دوستی کرنے کو منع کرتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی کی ہو اور تم کو تمہارے گھروں سے اجاڑا اور نکالا ہو اور تمہارے خلاف تمہارے نکالنے والوں کی مدد کی ہو اور جو لوگ ایسے کفار اور اس قسم کی جارحانہ کاروائیاں کرنے والے کفار سے دوستی کریں گے اور دو ستانہ برتائوکریں گے تو یہی لوگ ہیں گنہگار۔ یعنی صرف ان لوگوں سے موالات اور دوستی کو اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے جو تم سے دین کے حق میں لڑتے رہے اور دین کے بارے میں تم سے جنگ کرتے رہے تم کو تمہارے وطن سے نکالا تم کو تمہارے گھروں سے اجاڑا اور ان لوگوں کی اعانت کی اور ان کی مدد کی جو تم کو تمہارے وطن اور تمہارے گھروں سے نکالنے والے تھے ایسے لوگوں سے کسی قسم کی دوستی یعنی خصوصی برواحسان اور خصوصی انصاف نہ کرو جو لوگ باوجود اس حکم ممانعت کے پھر بھی ان سے موالات اور دوستی کا برتائو کریں گے تو ایسے ہی لوگ ظالم اور بےانصاف ہیں۔
لوصنعھم الولایۃ فی موضح العداوۃ کیونکہ ان لوگوں نے عداوت کی جگہ ولایت کو رکھا اس لئے ان کو ظالم فرمایا۔
اب آگے صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جو عہد نامہ کفار مکہ اور مسلمانوں کے درمیان ہوا تھا اور جس کو چند سال کے بعدخود کفار مکہ نے توڑ دیا تھا اس کے بعض تشریحات مذکور ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 60:10(10) اے ایمان والو ! جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں دارالحرب سے ہجرت کرکے آجائیں تو ان کے ایمان کو پرکھ لیا کرو اور ان کے ایمان کا امتحان لے لیا کرو یعنی یہ معلوم کرلیا کرو کہ انہوں نے صرف ایمان کی خاطر ہجرت کی ہے یا کسی کے عشق میں مبتلا ہو کر آئی ہیں یا خاوند سے دنیوی معاملات میں ناراض ہوکر چلی آئی ہیں یوں تو ان کے ایمان کو اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتا ہے گھر اگر تم واقعی ان کو مسلمان سمجھو تو ان کو کافروں کی طرف واپس مت کرو کیونکہ نہ تو وہ مسلمان ہجرت کرنے والی عورتیں ان کافروں کے لئے حلال ہیں اور نہ وہ کافر ان عورتوں کے لئے حلال ہے۔
یعنی یہ مہاجر عورتیں نے اپنے کافر خاوندوں کے لئے حلال ہیں اور نہ وہ کافر خاوند ان مسلمان عورتوں کے لئے حلال ہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ جو مہران کے کافر خاوندوں نے ان کو دیا ہو وہ ان خاوندوں کو واپس کردو اور لوٹادو اور تم کو ان ہجرت کرکے آنے والی عورتوں سے نکاح کرنے میں کوئی گناہ نہیں جبکہ تم ان عورتوں کو ان کا مہر ادا کردو اور تم اے مسلمانو ! ان کافرہ عورتوں سے زوجیت کا کوئی تعلق قائم نہ رکھو۔ یعن جو دارالحرب میں رہ گئیں یاد الاسلام سے مرتد ہوکر واپس ہوگئیں۔
ہاں ! جو مہر تم نے ان کو دیا ہو وہ ان کافروں سے واپس طلب کرلو اور اسی طرح جو مہر کافروں نے دیا ہو وہ اپنا دیا ہوا تم سے واپس طلب کرلیں یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے وہ تمہارے مابین فیصلہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ سب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس صلح کے وقت قرار ہوا تھا کہ جو کوئی ہمارا تم پاس جاوے اس کو پھر بھیجو حضرت نے قبول کیا کئی مرد آئے ان کو پھیر دیا پھر کئی عورتیں آئیاں ان کو پھیریں تو کافر مرد کے گھر عورت کو حرام کروانا پڑے تب یہ آیت اتری۔
شاید یاد ہوگا ہم نے صلح حدیبیہ کے موقعہ پر بتایا تھا کہ کفار مکہ کے ساتھ جو صلح نامہ لکھا گیا تھا اس میں علاوہ اور شرائط کے یہ شرط بھی تھی کہ جو شخص مکہ سے بھاگ کر مدینے پہنچ جائے یا معکراسلام یعنی حدیبیہ میں آجائے جو اس وقت عارضی طور پر دارالاسلام تھا اس مسلمان کو واپس کرنا ہوگا اور اگر کوئی مسلمان مرتد ہوکر مکہ بھاگ جائے اس کو مکہ والے واپس بھی مسلمان ہوکر آگئیں اور ان کے پیچھے ان کا خاوند مخزومی جو کافر تھا وہ بھی آگیا مخزومی نے مطالبہ کیا کہ میری بیوی مجھ کو واپس کی جائے اس وقت یہ آیت نازل ہوئی اور آپ ﷺ نے فرمایا واپسی کی بات مردوں کے ساتھ ہے جو عورت مسلمان ہوکر آئے گی اس کو واپس نہیں کیا جائے گا غالباً کفار نے بھی اس شرط کو منظور کرلیا عورت کے امتحان کا مطلب ہمعرض کرچکے ہیں کہ اس کی ہجرت صرف رغبت اسلام کی وجہ سے ہو اور وہ ان شرائط پر بیعت کرنے کو آمادہ ہو جو اسی سورت کے آخر میں ابھی آتی ہیں۔
یہ ایک اجمال کی تفصیل تھی اس لئے معاہدہ بھی نہیں ٹوٹا اور بالاتفاق صلح قرار پائی۔
اگرچہ بعض حضرات اب ان احکام کیقائل نہیں اور ان کو منسوخ بتاتے ہیں لیکن حضرت شاہ ولی اللہ (رح) کی رائے یہ ہے کہ ان احکام کا نسخ ثابت نہیں اب بھی اگر کسی موقعہ رپ اہل حرب سے صلح ہو تو ان احکام پر عمل کیا جاسکتا ہے۔
بہرحال مزید تفصیل کے لئے کتب فقہ کا مطالعہ کیا جائے آیت میں جو کچھ فرمایا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے۔
1 ۔ جو عورت دارالحرب سے مسلمان ہوکر آئے تو اس کا نکاح کا فر شوہر سے ٹوٹ جاتا ہے چناچہ اسی بنا پر سبیعہ بنت حارث کو واپس نہیں کیا گیا۔
2 ۔ آنے والی عورت کو جانچ لیا جائے کہ وہ واقعی اسلام کی محبت اور رغبت کی وجہ سے آئی ہے یا کوئی اور دنیوی غرض ہے اور جب یہ معلوم ہوجائے کہ واقعی دین کی حفاظت کے لئے آئی ہے تو اس کے سابق نکاح کو فسخ سمجھا جائے۔
3 ۔ ایسی عورت کے نکاح کے بارے میں تھوڑی سی تفصیل ہے اگر حاملہ ہو تو وضع حمل کے بعد اور اگر حاملہ نہ ہو تو امام صاحب کے نزدیک بغیر عدت اور صاحبین کے نزدیک عدت کے بعد اس کا نکاح کسی مسلمان سے ہوسکتا ہے۔
4 ۔ جو عورت کافرہ دارالحرب میں ہو اور اس کا خاوند مسلمان ہوجائے تو اس کا نکاح بھی فسخ ہوجائے جیسا کہ مکہ کی عورتوں کے متعلق ارشادہوا۔
ولا تمسکو ابعصھم الکوافر۔
5 ۔ جو مسلمان عورت دارالحرب یعنی مکہ سے آجائے تو مسلمان اس عورت کا مہر کافر اصل کو واپس کردیں یہ مہر وہ شخص واپس کرے جو اس سے نکاح کرے ورنہ بیت المال سے ادا کردیاجائے اگر کوئی مسلمان اس سے نکاح کرے تو وہ اس کے پہلے خاوند کا مہر واپس کردے اور مکہ سے آنے کے بعد جو نکاح کرے اس کا مہر الگ مقرر کرے یعنی نئے نکاح کا مہر بھی دے اور سابقہ خاوند کا مہر بھی ادا کرے۔
6 ۔ واتوھم ماانفقرا کے ترجمہ میں عام طور سے مہر کہا گیا ہے۔
7 ۔ مسلمانوں کی جو عورتی مکہ میں رہ گئیں ان سے مسلمان مردوں کا نکاح فسخ ہوگیا اور ان کا نکاح ٹوٹ گیا اگرچہ بعض صحابہ ؓ سے اپنی بیویوں کو طلاق دینا بھی ثابت ہے شاید حضور ﷺ کو طلاق دینے کا علم نہ ہوا ہو کیونکہ طلاق دینے کی ضرورت نہ تھی۔
8 ۔ جو عورتیں مکہ میں رہ گئیں ان کے خاوندوں سے ترک تعلق کے بعدان کے مسلمان خاوندوں کا مہر کافروں سے وصول کیا جائے گا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ حکم کہ اگر کسی کافر کی عورت مسلمان ہوکر آوے اس مرد نے جو اس پر خرچ کیا تھا وہ پھیر دینا چاہیے جو مسلمان اس کو نکاح کرے وہ پھیر دے اور اس عورت کو جدا مہر دے تب نکاح کرے اور اس کے مقابل یہ حکم ہوا کہ جس مسلمان کی عورت کافررہ گئی وہ اس کو چھوڑ دے پھر جو کافر اس کو نکاح کرے اس مسلمان کا خرچ کیا پھیر دے یہ حکم اترا تو مسلمان موجود ہوئے دینے کو بھی اور لینے کو بھی لیکن کافروں نے دینا قبول نہ کیا تب اگلی آیت اتری۔
اگرچہ ہماری تفصیل کے بعد بھی آیت دارالحرب اور دارالاسلام کے بہت سے مسائل کو شامل ہے اس لئے مزید تفصیل کے لئے کتب فقہ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔
Ayah 60:11(11) اور اگر تمہاری بیویوں میں سے کوئی عورت کافروں کی طرف چلے جانے سے تم کو چھوڑ جائے اور کافر اس کا مہر تم کو واپس نہ کریں پھر تمہاری نوبت آجائے یعنی مہر واپس کرنے کی مثلاً کوئی کافرہ عورت مسلمان ہوکر آجائے تو وہ مہر بجائے کافروں کے ان مسلمانوں کو اس قدر دو جتنا کہ انہوں نے خرچ کیا تھا جن کی بیویاں ہاتھ سے نکل گئی ہیں اور اس اللہ سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔ یعنی اگر کفار تمہارے مہر نہ دیں جیسا کہ انہوں نے نقص عہد کیا کہ اپنی عورتوں کے مہر تو وصول کرتے اور جب کسی مرتدہ کا جو مدینے سے نکل کر مکہ بھاگ آئی مہر دینا پڑتا تو انکار کردیتے تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر ایسا موقعہ آجائے تو تم بھی ہجرت کرنے والی عورتوں کا مہر روک لو اور تم خود ان مسلمانوں کو دے دو جن کی بیویاں مرتد ہوکر نکل گئیں اگر مہر کی رقم برابر سرابر ہو تب تو کوئی دشواری نہیں اور اگر کفار کا کچھ بچے اور بڑھ جائے تو ان کو دے دو اور اگر اس لین دین کے بعد تمہارا نکلتا ہے تو اس کا مطالبہ جاری رکھو بعض حضرات نے عاقبتم کا ترجمہ عذاب اور جہاد سے کیا ہے تو اب مطلب یہ ہوگا کہ اگر تمہارا یعنی مسلمانوں کا مطالبہ کافرادا نہ کریں اور ان عورتوں کا جو مرتد ہوکر بھاگی ہیں ان کا مہر مسلمانوں کو واپس نہ کریں اور ان سے کبھی لڑنے اور جہاد کرنی کی نوبت آجائے تو جو مال غنیمت تمہارے ہاتھ آئے اس میں سے ان مسلمانوں کے مہر کا مطالبہ پورا کرو جیسا کہ منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ نے چھ مرتدہ عورتوں کا مہران کے مسلمان خاوندوں کو غنیمت کے مال سے ادا کیا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جس مسلمان کی عورت گئی اور کافر اس کا خرچ کیا ہوا نہیں پھیرتے تو جس کافر کی عورت آئی اس کا خرچ دینا تھا اس کو نہ دیں اسی مسلمان کو دیں یہ مال گنتی میں رکھا اس مال کے لئے یہ حکم جب تھا کہ وہ کافروں سے صلح ٹھہر گئی تھی پھیر دینے پر اب یہ حکم نہیں مگر کہیں ایسی صلح کا اتفاق ہوجائے اور عورتوں کا جانچنا فرمادیا کہ دل کی خبر اللہ کو ہے مگر ظاہر میں جانچنا یہ کہ اگلی آیت میں جو حکم ہے وہ قبول کریں تو ان کا ایمان ثابت رکھو۔
یہ آیت ہے بیعت کی حضرت کے پاس بیعت کرتیاں تھیں تو یہی قرار لیتے تھے۔ آگے وہ آیت مذکور ہے اور یہ جو فرمایا مثل ماانفقوا اس کا مطلب یہ ہے کہ کافروں کے زر مہر میں سے اس قدر رقم مسلمانوں کو دی جائے جتنی انہوں نے اپنی بیویوں کے مہر میں خرچ کی ہو اور چونکہ یہ لین دین کے معاملات میں ہیں۔ اس لئے آخر میں فرمایا واتقوا اللہ الذی اس تم بہ مومنون یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور لین دین میں احتیاط سے کام لو ایسا نہ ہو کہ غیر مسلموں کی رقم میں سے مسلمانوں کو کچھ زیادہ دے دو بلکہ جس قدر مہر میں ان کا خرچ ہوا ہے حساب سے اسی قدر دو اور اگر کافروں کی رقم بچ جائے تو ان کو واپس کردو اور کافروں کی رقم وصول کرنے کے بعد بھی تمہارا کچھ نکلے تو اس کا مطالبہ کرتے رہو اور ان سے عہد نامہ کی پابندی کرائو۔
خلاصہ : یہ کہ کسی شخص کی حق تلفی نہ کرو خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم۔
Ayah 60:12(12) اے پیغمبر جب مسلمان عورتیں آپ کے پاس آئیں کہ آپ سے ان باتوں پر وہ بیعت کریں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز چیز کو شریک نہ کریں گی اور یہ کہ وہ چوری نہ کریں گے اور یہ کہ وہ نہ بدکاری کریں گی اور یہ کہ نہ وہ اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی۔ اور یہ کہ وہ کوئی ایسا بہتان نہیں لائیں گی جو اپنے ہاتھوں اور پائوں کے درمیان گھڑ لیا ہو اور کسی امر شرعی میں آپ کی نافرمانی کریں گی اگر ان امور پر آپ سے بیعت کریں تو آپ ان عورتوں کو بعیت کرلیا کیجئے اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت اور بخشش طلب کیا کیجئے بلاشبہ اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔
مطلب یہ ہے کہ جو عورت مومنہ ان امور پر آپ سے بیعت کرنا چاہے اس کو بیعت کرلیا کیجئے یہی اس کا امتحان ہے اور اس سے اس کے مسلمان ہونے کا ظن غالب ہوسکتا ہے باقی یوں تو ہر ایک کے صحیح ایمان کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے سب سے پہلی بات فرمائی کہ خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں کیونکہ یہ تمام امور کی اساس اور بنیاد ہے چوری نہ کریں گی کہ یہ حق العباد میں کبیرہ گناہ ہے جس کی سزا قطع ید ہے اور نہ بدکاری کی مرتکب ہوں گی اور نہ اپنے بچوں کو قتل کریں گی جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں دستور تھا اور نہ کوئی ایسا بہتان گھڑیں گی اپنے ہاتھوں اور پاوئوں کے درمیان۔
کنایہ ہے حرام کے حمل کو خاوند کا بتادینا یا کسی غیر کا بچہ اٹھا لائیں اور اپنا بتادیا اور اپنے خاوند سے اس کا نسب قائم کردیا یہ سب امور زمنہ جاہلیت میں کئے جاتے تھے اور امور شرعیہ اور احکام شرعیہ میں پیغمبر کی نافرمانی نہ کریں گی۔ اگر وہ عورتیں ان باتوں پر بیعت کریں تو پیغمبر ﷺ ان سے بیعت کرلیں۔
استغفار کا مطلب یہ ہے کہ ان کے ایمان اور ان کی توبہ کی قبولیت کے لئے دعا کیجئے کیونکہ توبہ اور ایمان پر بیعت کے بعد گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے اولاد کا قتل مفلسی کی وجہ سے ہو یا عامہ کی وجہ سے حرام ہے۔ عرب کی عورتیں زمانہ جاہلیت اس قسم کا ارتکاب کیا کرتی تھیں قتل اولاد کی ممانعت میں حمل کا گرانا بھی داخل ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں طوفان باندھنا ہاتھ پائوں میں یہ کہ کسی پر جھوٹا دعویٰ کریں یا جھوٹی گواہی دیں یا کسی معاملے میں جھوٹی قسم کھاجاویں ، اپنی عقل سے بنا کر اور ایک معنی یہ کہ بیٹا جنا اور سے اور لگادیں اور کو یا بن جنا ہوا ڈال لیں اور باپ پر لگادیں۔
حدیث میں فرمایا ہے جو عورت بیٹا لگادے کسی کا کسی کو تو اس پر بہشت کی بوحرام ہے۔
خلاصہ : یہ کہ ان شرطوں پر جو عورتیں بیعت کریں ان پر مسلمانوں کے احکام جاری ہوں فتح مکہ کے دن نبی کریم ﷺ جب مردوں کی بیعت سے فارغ ہوئے تو صفا کی پہاڑی پر بیٹھ کر آپ عورتوں اقرار کرتیں یہی آیت پڑھتے تھے اور اس پر بیعت لیتے تھے۔
اب آگے پھر مسلمانورں کو دین حق کے دشمنوں سے موالات کو منع فرمایا اور جس مضمون سے سورت کو شروع فرمایا تھا اسی مضمون کی تاکیدپر سورت کو ختم فرمایا چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 60:13(13) اے دعوت ایمانی کے قبول کرنے والو ! ان لوگوں سے دوستی اور موالات نہ کرو جن پر اللہ تعالیٰ نے غصہ اور غضب فرمایا ہے ان کی حالت یہ ہے کہ وہ آخرت کے اجروثواب سے ایسے ہی ناامید ہوئے جیسے وہ کافر ناامید ہیں جو قبروں میں مدفون ہیں۔ کہتے ہیں کہ بعض فقراء مسلمین یہود سے اس بنا پر تعلق رکھتے تھے کہ وہ ان کو اپنے باغات کی کوئی خدمت دے دیا کرتے تھے اور اس سے کچھ منفعت ہوجاتی تھی اور یہ ہوسکتا ہے کہ جب کوئی آدمی خدمت کرتا ہے تو اس سے کسی وقت کوئی بات بلا قصد ایسی بھی نکل جاتی ہوگی جو مفاد عامہ مسلمین کے خلاف ہوتی ہوگی۔
اس بنا پر ارشاد ہوا کہ مغضوب قوم سے دوستی اور موالات وموادات نہ کرو جو اپنے اعمال و افعال کی بنا پر آخرت کے ثواب سے اسی طرح مایوس اور ناامید ہوئے بیٹھے ہیں جس طرح وہ کفار جو قبروں والے ہیں یعنی وہ کفار جو مر کر قبروں میں مدفون ہیں انہوں نے عالم برزخ میں معائنہ عذاب کرلیا اور وہ آخرت کے ثواب سے ناامید ہوگئے اسی طرح یہ یہود بھی ناامید ہیں آخرت سے اور اس کے اجروثواب سے کافر معائنہ کرنے کے بعدناامید ہوئے اور یہ چونکہ اہل کتاب ہیں یہ برے بھلے کو پہلے ہی سے جانتے ہیں اور ان کو معلوم ہے کہ یہ نبی آخرالزماں کی رسالت کے منکر ہیں اور آخری دین کو نہیں مانتے اس لئے یہ یقینا عذاب کے مستحق ہیں اور ان کو آخرت میں ثواب کا کوئی حصہ نہیں یعنی وہ اصحاب قبور معائنہ اور مشاہدہ کرنے کے بعد مایوس اور ناامید ہوئے اور یہ دنیا ہی میں ناامید ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ مغضوب علیہم ہیں اور ان کو آخرت میں کوئی فلاح نہیں۔
بعض اہل تفسیر نے کہا کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ قوم مغضوب علیہم آخرت کے ثواب سے اسی طرح مایوس اور ناامید ہیں جس طرح کافران لوگوں کی بعثت سے اور دوبارہ زندہ ہونے سے مایوس ہیں جو مرچکے ہیں اور اصحاب قبور ہیں اور قبر والوں میں سے ہیں یعنی جس طرح کافر اپنے مردوں کے دوبارہ زندہ ہونے اور قیامت کے دن اٹھنے سے مایوس ہیں اسی طرح یہود آخرت کے اجروثواب سے مایوس ہیں۔ مطلب قریب قریب دونوں کا یکساں ہے اور مراد یہود کی مایوسی کا اظہار ہے کہ یہ لوگ خود بھی دل سے جانتے ہیں کہ یہ ناجی نہیں ہیں اور یہی وجہ ان کے سخت ترین کافر ہونے کی ہے کہ جانتے بوجھتے دین حق کو قبول نہیں کرتے۔
ایسے لوگوں سے مسلمانوں کو ہرگز دوستی نہ کرنی چاہیے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی منکروں کو توقع نہیں کہ قبر سے اٹھے گا یہ کافر بھی ویسے ہی ناامید ہیں۔
الحمد للہ والمنہ ثم تفسیر سورة الممتحنۃ
فی یوم الخمیس بین صلوٰۃ الظھر والعصر ثلثۃ
من صفر المظفر 1375 ھ مطابق 22 ستمبر 1955 ء
ولہ الحمد یارب لک الحمد کما ینبغی لجلال وجھک
ولعظیم سلطانک قد سخ لی سانحۃ فی وسط
الممتحنۃ اعنی صال علی بالسکین شیطان الانس
فجرحنی وابتلیت ثلثۃ اشھرثم بمافنی اللہ
تعالے وبراۃ والحمد للہ علی ذلک وقعۃ الواقعۃ
9 ستمبر 1955 بعد صلوۃ الجمۃ علی الطریق