Ayah 59:1(1) جو مخلوقات آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے سب اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہے اور وہ بڑا زبردست بڑی حکمت والا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی مخلوق روحانی ہر یا مادی سب اپنی مخلوق کے اعتبار سے خالق اور صانع کی پاکی بیان کرتی ہے اسی طرح زبان سے بھی مخلوق اس کی پاکی بیان کرتی ہے۔
بہرحال تسبیح زبان حال سے ہو یا زبان قال سے ہو سب اس کی تسبیح کرتے اور اسی کے ثناخواں ہیں اس کی تسخیر اور مخلوق کا مطیع اور زیر فرمان ہونا یہ بھی اسی کی تسبیح اور تحمید ہے عزیز کمال قوت کا مالک حکیم کمال علم اور حکمت کا مالک ہے۔
Ayah 59:2(2) وہی ہے جس نے کفار اہل کتاب کو ان کے گھروں سے پہلی مرتبہ اکٹھا کرکے نکال دیا ہے اے مسلمانو ! تم کو ان کے نکل جانے کا گمان بھی نہ تھا اور تم کو یہ گمان بھی نہ تھا کہ وہ کبھی نکلیں گے اور وہ اہل کتاب یہ گمان کرتے تھے اور یہ خیال کئے بیٹھے تھے کہ ان کے مضبوط قلعے ان کو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ یعنی اس کے عذاب سے بچالیں گے پھر اللہ تعالیٰ یعنی اس کا عذاب ایسی جگہ سے آیا جس کا ان اہل کتاب کا خیال بھی نہ تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کے قلوب میں اور ان اہل کتاب کے دلوں میں ایسا رغب ڈال دیا کہ وہ منکر اہل کتاب اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں سے بھی اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے بھی برباد کررہے تھے اور اجاڑ رہے تھے پس اے آنکھوں والو اس عبرت انگیز واقعہ سے عبرت حاصل کرو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں مدینے کے چار پانچ کوس ایک قومی یہود کے گڑھ تھے بنی نضیر ان کا نام اول حضرت سے صلح رکھتے تھے پھر مکہ کے کافروں سے پیغام کرنے لگے اور حضرت جہاں بیٹھے تھے اوپر سے بھاری چکی ڈال دی تو آدمی مرجائے اللہ نے بچایا حضرت نے مسلمانوں کو جمع کیا ارادہ یہ کہ ان سے لڑیں جب ان کے گھر گھیر لئے وہ ڈر گئے۔
التجا کہ حضرت نے ان کی جان بخشی اور جو مال اٹھاسکیں اور گھر اور باغ اور کھیت قبضے میں آئے حق تعالیٰ نے وہ زمین غنیمت کی طرح تقسیم نہ کروائی حضرت کے اختیار پر رکھی۔ حضرت نے مہاجرین کو جن کا خرچ انصار کے ذمے تھا اکثر تقسیم کی مہاجر اور انصار دونوں کو فائدہ ہو اور اپنے گھر کا خرچ اور وارد کا خرچ اس پر مقرر رکھا وہی ذکر ہے اس سورت میں۔ بنی نضیر یہود کا پرانا قبیلہ ہے جو مدینہ منورہ سے تھوڑے فاصلے پر رہتا تھا۔ یہ مال دار لوگ تھے بہت مضبوط قلعے بنارکھے تھے اور تمام بستی ایک گڑھی کے مانند تھی جب حضور ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے اور یہود سے معاہدہ ہوا تو یہ لوگ بھی معاہدے میں شامل تھے بعد میں ان لوگوں نے عہد شکنی کی اور نقص عہد کیا۔ نبی کریم ﷺ کو قتل کرنے کی سازش کی اور کعب بن اشرف ان کا سردار ابوسفیان سے سازش کرنے گیا اور مدینے پر حملہ کرنے کے لئے سازش کی……اس نقض عہد کی بنا پر ان کو جلا وطن کرنے کا حکم دیا گیا اور دس روز کی مہلت دی گئی وہ نکلنے پر آمادہ ہوئے مگر مدینے کے منافقوں نے ان کو بہکا دیا وہ نکلنے سے منکر ہوگئے۔ چناچہ ان کا محاصرہ کرلیا گیا اور ان سے کہا گیا کہ تم اپنی منقول جائیداد اپنے ہمراہ لے جاسکتے ہو۔ چناچہ وہ اپنے مکانوں کے کڑی تختے اکھیڑنے لگے اور مسلمانوں سے درخواست کی کہ ہماری مدد کرو چناچہ مسلمانوں نے ان کی مدد کی اور ان کے مکان گرانے میں ان کی مدد دی تاکہ وہ آسانی سے جو لیجاسکتے ہیں وہ لیجائیں وہ سمجھتے تھے کہ ہمارے قلعے مضبوط ہیں ان کو کوئی فتح نہیں کرسکتا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو مرعوب کردیا۔
اسی کو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کے پاس وہاں سے آیاجہاں سیان کو گمان بھی نہ تھا۔ شاید مسلمان بھی اتنے جلدی ان پر فتح یابی کا گمان نہ کرتے ہوں گے جو فرمایا ماظننتم ان یخرجوا چونکہ یہود کا یہ پہلا اخراج تھا اس لئے اس کو اول الحشر فرمایا اور حشر ثانی فاروق اعظم ؓ کے زمانہ خلافت میں واقع ہوا۔ محاصرے کے زمانے میں ان کے بعض درخت مسلمانوں نے کاٹے تھے اور جو جائیداد غیر منقولہ وہ چھوڑ گئے تھے اس کا حکم آگے مذکور ہے۔
Ayah 59:3(3) اور اگر اللہ تعالیٰ ان کے جلاوطن مقدر نہ کردیتا اور ان کی قسمت میں جلاوطن نہ ہوتی تو ان کی دنیا ہی میں سزا دیتا اور آخرت میں تو بہرحال ان کے لئے عذاب ہے۔ یعنی اگر ان کے لئے جلاوطن ہوجانا مقدر نہ ہوتا اور اللہ تعالیٰ ان کی قسمت میں جلاوطن نہ لکھ دیتا مدعا یہ ہے کہ اگر یہ ترک وطن نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ ان کو دنیا میں عذاب کرتا اور قتل ہوتے اور قید کئے جاتے اور اس جلاوطنی نہ لکھ دیتا مدعا یہ ہے کہ اگر یہ ترک وطن نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ ان کو دنیا میں عذاب کرتا اور قتل ہوتے اور قید کئے جاتے اور اس جلاوطنی کے باوجود آخرت میں ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے۔
Ayah 59:4(4) یہ سزائی دینا اور آخرت کی اس بنا پر ہیں کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور اللہ اور اس کے رسول کے مخالف بنے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی مار سخت ہے اور اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے۔
Ayah 59:5(5) اے مسلمانو ! کھجور کے جن درختوں کو تم نے کاٹ ڈالا یا جن درختوں کو تم نے ان کی جڑوں پر کھڑا ہوا چھوڑ دیا اور جڑوں پر ان کو کھڑا چھوڑے رکھا تو یہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ہوا اور اس لئے ہوا تاکہ اللہ تعالیٰ کافروں اور بےحکموں کو رسوا کرے۔ ہم نے اوپر عرض کیا ہے کہ محاصرے کے زمانے میں بعض مسلمانوں نے پھل دار درخت کاٹ دیئے تھی اور اگرچہ پھل دار درختوں کا کٹنا معیوب سمجھا جاتا تھا بعض مسلمانوں نے محض اس بنا پر کہ یہود کو اس سے قلبی اذیت پہنچے گی کچھ درخت کاٹ دیئے اور بعض مسلمانوں نے یہ خیال کرکے کہ یہ درخت ان کو جلاوطنی کے بعد ہمارے ہی کام آئیں گے ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دیا۔ مدینے کے بعض یہود نے طعن بھی کیا کہ مسلمانوں نے پھل دار درخت کاٹ دیئے اور یہ فساد ہے اس لئے مسلمان مفسد ہیں حق تعالیٰ نے دونوں فریق کی تصویب فرما دی چونکہ دونوں کی نیت صحیح تھی اس لئے دونوں کو بری الذمہ فرمادیا۔
لینۃ کے معنی بعض لوگوں نے مطلق درخت یا کھجوروں کے درخت کئے ہیں اور بعض نے لیننہ خاص بیش قیمت کھجوروں کے درخت کر کہا ہے۔
غرض : یہ کام اس لئے ہوا تاکہ مسلمانوں کو عزت دے اور نافرمانوں کو رسوا کرے آگے اس مال غیر منقولہ کی تفصیل مذکور ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جب وہ قلعے میں بند ہوئے حضرت نے حکم دیا کہ ان کے باغ کاٹو اور کھیت اجاڑو تاکہ اس کے درد سے باہر نکل کر لڑیں پھر کاٹنے لگے وہ طعن کرنے کو ہم کو تو کافر کہتے ہو اس سے مارتے ہو کیا درخت بھی کافر ہے جو کاٹتے ہو یعنی مسلمانوں کو شبہ آنے لگا یہ آیت اتری۔
Ayah 59:6(6) اور جو مال اللہ تعالیٰ نے بطور نے اپنے رسول کو یہود سے دلوادیا اور جو ہاتھ لگایا اس میں تمہارا کوئی حق نہیں کیونکہ اس پر نہ تم نے گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ دوڑائے بلکہ اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے اپنے رسولوں کو مسلط کردیتا ہے اور غالب فرمادیتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہرچیز پر پوری طرح قادر ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہی فرق رکھا غنیمت میں اور فئے میں جو مال لڑائی سے ہاتھ لگا وہ غنیمت ہے اس میں پانچواں حصہ اللہ کی نیاز اور چار حصے لشکر کو بانٹتے اور جو بغیر جنگ ہاتھ لگا وہ سارا خزانوں میں مسلمانوں کے ہے جو کام ضرور ہوا اس پر خرچ ہو۔
خلاصہ : یہ کہ جو مال اہل حرب سے بلا قتال ہاتھ لگے وہ فئے ہے اور جو مال لڑکر حاصل ہو یعنی جنگ ہو اور کفار کی شکست کے بعد ہاتھ لگے اور دارالحرب پر عنوۃ قبضہ ہو وہ غنیمت ہے غنیمت کا مال کس طرح تقسیم ہو اور اس کا کیا حکم ہے وہ سورة انفال میں گزر چکا ہے۔
وہ یہی کہ تمام مال غنیمت میں سے خمس یعنی پانچواں حصہ نکال کر باقی مجاہدین پر تقسیم کردیاجاتا ہے اور فئے کا حکم یہ ہے کہ مال نے رسول اللہ ﷺ کی تاحیات ملک میں ہوتا تھا اور آپ کی وفات کے بعد ملک ختم اور اموال موقوفہ شمار ہوتے تھے ان میں ورثہ جاری نہ ہوتا تھا۔
چنانچہ نبی کریم ﷺ نے یہ مال مہاجرین اور بعض انصار کو تقسیم کیا یہ وہ انصار تھے جو بہت ہی مفلوک الحال تھے باقی اپنے اہل و عیال کو سال بھر کا نفقہ عطا فرماتے تھے اس کے بعد جو کچھ بچتا وہ جہاد اور اسلحہ وغیرہ کی تیاری میں خرچ فرماتے۔
کافر کا ل اور اث مال بھی نے میں شمار کیا جاتا تھا اور اس مرتد کا مال جو حالت ارتداد میں مارا جائے جزیہ کا بھی فئے میں شمار ہے اور بھی کئی قسم کے اموال ہیں جن کو فقہانے فئے میں شامل کیا ہے اس کا حکم یہ ہے کہ امام وقت اپنی حاجت کے موافق اپنی ضرورت کے مقدار نکال کر باقی مصالح مسلمین پر خرچ کردے یہود کی اکثر بستیاں اسی طرح قبضے میں آئیں اس لئے ان کے اموال کو مال فئے کہتے ہیں۔
جیسے بنی نضیر باغ فدک اور خیبرکا بعض حصہ امام اعظم (رح) کے نزدیک مال فئے میں پانچواں حصہ نکالنا شرط نہیں ہے بہرحال مال غنیمت میں سے خمس نکال کر مجاہدین کو دیاجاتا ہے اور مال فئے امام وقت کی صواب دید کے موافق خرچ ہوتا ہے ۔ اس خرچ میں اس کا ذاتی خرچ اور اس کے اہل و عیال کا خرچ اور مہمانوں وغیرہ کا خرچ بھی شامل ہے۔
حضور ﷺ کو یہ حق متصرف مالکانہ تھا اور آپ کے بعد یہ تصرف حاکمانہ ہے مالکانہ نہیں مزید تفصیل مذکور ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 59:7(7) جو مال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اور دوسری بستیوں سے بطور فئے دلوائے اس میں بھی تمہارا حق نہیں ہے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے اور رسول اللہ ﷺ کا حق ہے اور رسول اللہ ﷺ ککا حق ہے اور رسول کے قرابت داروں کا حق ہے اور یتیموں کا حق ہے اور مساکین یعنی محتاجوں کا حق ہے اور مسافروں کا حق ہے تاکہ وہ مال فئے تم میں سے سرمایہ داروں اور دولت مندوں کے ہاتھوں میں دست گرداں اور دائر اور ہر تا پھرتا نہ رہ جائے اور رسول جو کچھ تم کو دیدیا کرے اسے لے لیا کرو اور جس چیز سے تم کو منع کردیا کرے اس سے باز رہا کرو اور رک جایا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو کیونکہ اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے اور اس کی مار سخت ہے۔ یعنی جس طرح بنی نضیر کے مال فے کا حکم بیان کیا اسی طرح آس پاس کی دوسری بستیاں مثلاً فدک کچھ حصہ خیبر کا عرینہ اور نیبوع کی بستیاں اور بستیوں کے بھی تمام اموال جو بدون لڑے بھڑے حاصل ہوئے اس میں تھی تمہارا کوئی حق نہیں بلکہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کا حق ہے وہ جس طرح چاہے اس کے مصارف بیان فرمائے اور رسولک و اس مال پر مالکانہ تصرف کا حق ہے کہ جہاں مناسب سمجھیں خرچ کریں اور رسول کے قرابت داروں کا حق ہے یعنی بنی ہاشم جو زکوٰۃ نہیں لے سکتے تھے ان کا حق مال فے میں بیان فرمایا اور مساکین اور یتامیٰ اور مسافروں کا حق ہے۔
غرض ان مذکورہ مستحقین کو دیا جائے اور نبی کریم ﷺ اپنی ازواج مطہرات کو بھی سال بھر کا غلہ اسی آمدنی میں سے دیا کرتے تھے اب بھی یتامیٰ مساکین اور مسافروں کا حق باقی ہے اور نبی کریم ﷺ اور آپ کے ذوی القربیٰ کا حق مرتفع ہوگیا۔
الاعندالبعض ان کا قول یہ ہے کہ مال فے کے چھ حصے کئے جائیں اللہ تعالیٰ کا حصہ خانہ کعبہ اور دیگر مساجد کی مرمت میں خرچ کیا جائے اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کا نام تعظیماً اور تشریفاً بتاتے ہیں وہ پانچ حصوں پر تقسیم کرتے ہیں جن میں سے آپ کی وفات کے بعد چار حصے امام وقت کے لئے ہوں گے اور پانچویں حصے کی پھر پانچ حصے کئے جائیں گے ان پانچ میں سے ایک رسول کا ایک ذوی القربیٰ کا ایک یتامیٰ کا اور ایک ابن السبیل اور ایک مساکین کا۔
بہرحال مسائل اور ان کا مفصل بیان کتب فقہ میں مذکور ہے۔ زمانہ جاہلیت میں مال غنیمت میں بڑے بڑے لوگ آپس میں تقسیم کرلیا کرتے تھے اور مساکین کو کچھ نہیں ملتا تھا اس کو بیان فرمادیا کہ یہ تقسیم اور مستحقین کا ذکر اس لئے کردیا گیا تاکہ دولت تقسیم ہوجائے اور مال داروں ہی کے ہاتھوں میں تمام مال ہر تا پھرتا نہ رہ جائے اور جو کچھ رسول خدا دے دیں وہ لے لیا کرو اور جس سے منع فرمادیا کریں اس سے رک جایا کرو۔
بظاہر مال غنیمت سے اس کا کوئی تعلق معلوم ہوتا ہے لیکن آیت کا مفہوم عام ہے جو مال دیں یا جو حکم دیں اور جس بات سے منع فرمائیں اور جس کو حلال فرمائیں اسے حلال سمجھو اور جس کو حرام فرمائیں اس کو حرام سمجھو چونکہ مال کے معاملات میں خیانت کا اندیشہ رہتا ہے اس لئے فرمایا اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اللہ تعالیٰ کی پکڑ اور اس کا عذاب بڑا سخت ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی فے پر قبضہ رسول کا اور رسول کے پیچھے سردار کا سردار پر۔ یہ خرچ پڑتے ہیں اللہ سب ہی کا مالک ہے مگر کعبے کا خرچ اور مسجدوں کا بھی اس میں آگیا اور ناتے والے حضرت کے روبرو ان کے ناتے والے اور پیچھے بھی وہی لوگ ان پر چاہیے خرچ کرنا دولت مند کو اگر سردار دے تو لے لے منع نہیں۔
Ayah 59:8(8) اس مال فی میں ان فقرائے مہاجرین کا بھی خاص طور سے حق ہے جو اپنے گھروں سے نکالے گئے اور اپنے مالوں سے بےدخل کئے گئے دراں حالیکہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رضامندی کی متلاشی اور طلب گار ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول ﷺ کی مدد کیا کرتے ہیں یہی لوگ ہیں حقیقی سچے اور راست بازی۔ یعنی یوں تو تمام مساکین اس مال فئے کے مستحق ہیں لیکن وہ فقراء خاص طور پر حق دار ہیں جو کفار کے تنگ کرنے کی وجہ سے ہجرت پر مجبور ہوئے اور اپنا گھر بار مکہ معظمہ سے چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی اور اس کے فضل کی جستجو میں نکل آئے اور مدینے میں آکر اللہ تعالیٰ کے دین کی اور اس کے پیغمبر کی حتیٰ المقدور مدد کرتے ہیں اور چونکہ یہ محض اپنا دین بچانے کے لئے وطن چھوڑ کر آئے ہیں ان کا مقصد محض اللہ تعالیٰ اور اس کی رضاجوئی ہے اس لئے ان کو سچا اور راست باز فرمایا اور ان کی امداد پر خاص طور سے توجہ دلائی چناچہ نبی کریم ﷺ نے مہاجرین پر تین انصاریوں پر بنی نضیر کا مال تقسیم فرمایا۔
Ayah 59:9(9) اور اس مال فئے کہ وہ لو گ بھی حقدار ہیں جو ان مہاجرین کی ہجرت کے پہلے سے مدینے میں ٹھکانا رکھتے ہیں اور قرار پکڑے ہوئے ہیں اور انہوں نے ایمان میں اپنی ایک جگہ پیدا کرلی ہے جو شخص ان کے پاس ہجرت کرکے آتا ہے اس سے محبت کرتے اور نہیں پاتے خواہ ان کو کتنی ہی احتیاج اور کتنا ہی فقرو فاقہ کیوں نہ ہو وہ ان مہاجرین کو اپنی ذات سے مقدم رکھتے ہیں اور باوجود سخت احتیاج کے ان مہاجرین کو اپنے پر ترجیح دیتے ہیں اور جو اپنے طبعی بخل وحرص سے بچالیا گیا تو ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پہلی آیت سے مہاجرین مراد ہیں اور اس آیت سے انصار اور جو اس گھر میں رہتے ہیں پہلے سے یعنی مدینے میں اور مہاجرین کی خدمت کرتے ہیں اپنی حاجت بند رکھ کر اور ان کو ملے تو حسد نہیں کرتے بلکہ خوش ہوتے ہیں اول رکھتے ہیں اپنی جانوں سے اگرچہ ہو ان کو بھوک یعنی صدقہ کرتے ہیں اپنی جانوں پر اگرچہ ان کو احتیاج ہو۔
مدینہ منورہ میں بعض وہ مسلمان بھی تھے جو ہجرت شروع ہونے سے پہلے اسلام کی خبر سن کر اسلام لے آئے تھے یا مکہ جاکر مسلمان ہوئے اور اپنے گھرواپس چلے آئے۔ من قبلھم فرمایا یہ مطلب نہیں کہ مہاجرین سے بھی پہلے اسلام لائے۔
بہرحال یہ مدنی مسلمان نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری سے قبل مسلمانوں کی جو خدمت کیا کرتے تھے اس خدمت کو آیت میں سراہا گیا ہے کہ یہ لوگ جو مہاجر مکہ چھوڑ کر آتا ہے اس سے محبت کرتے ہیں اور ان کو اگر کہیں سے کچھ ملتا ہے تو اس پر ان کے دل میں کوئی خلش نہیں ہوتی اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر ان کو کھلاتے ہیں اپنے ہاں فاقہ ہو تب بھی بچوں کو بھوکا سلا دیتے ہیں اور مہاجر بھائی کو اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں، آخر میں فرماتے ہیں ومن یوق شح نفسہ فاولٓئک ھم المفلحون شح بخل آمیز حرص یا حرص آمیز بخل۔
جو شخص اپنی طبیعت کے بخل وحرص سے محفوظ رکھا گیا اور بچا لیا گیا تو ایسے ہی لوگ کامیا ب اور مراد کو پانے والے ہیں۔
بہرحال آیت میں جہاں مہاجرین کو مال فئے کا حق دار قرار دیا تھا وہاں اس قسم کے مخلص اور وفادار انصار کو بھی مال فئے میں حق دار ٹھہرایا اسی بنا پر شاید رسول اللہ ﷺ نے بعض انصار کو بھی مال فئے میں سے کچھ عطا فرمایا بڑی بات یہ کہ اگر ان مہاجرین کو کچھ دیا جاتا ہے تو ان انصار کے دل میں ذرا سی خلش بھی نہیں ہوتی کہ ان کو کیوں ملا اور ہم کو کیوں نہیں ملا۔
Ayah 59:10(10) اور وہ لوگ بھی اس مال فئے کے حقدار ہیں جوان انصار و مہاجرین کے بعد آئے اور جو اپنے پروردگار سے یوں دعا کیا کرتے ہیں اے ہمارے پروردگار ہم کو اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دیجئے جو ایمان لانے میں ہم سے سبقت کرچکے ہیں اور جو لوگ ایمان لاچکے ہیں ان کی طرف سے ہمارے دلوں میں کینہ بغض اور عداوت کو جگہ نہ دے۔
اے ہمارے پروردگار بیشک تو بڑی شفقت کرنے والا نہایت مہربان ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ آیت سب مسلمانوں کے واسطے ہے جو اگلوں کا حق مانیں اور انہی کے پیچھے چلیں اور ان سے بیر نہ رکھیں۔
بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس سے مراد تابعین ہیں بعض نے کہا تبع تابعین بعض نے ان کے بھی بعد کے لوگ مراد لئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ متاخرین متقدمین کے فضل اور بزرگی کے معترف رہیں اور آپس میں ایک مسلمان سے بیر نہ رکھے متقدمین کو اچھا سمجھیں اور معاصرین سے محبت کریں آیت میں یہ قید ترغیب کے لئے ہے کہ بعد کے لوگوں کو ایسا ہوناچاہیے یہ مطلب نہیں کہ جو ایسا نہ ہو وہ فئے کا حقدار نہیں اور مصرف فئے نہیں حضرت عمر ؓ کا قول مشہور ہے۔
لیس احد الا لہ فی المال حق کہ کوئی ایسا مسلمان نہیں ہے کہ جس کا اس مال میں حق نہ ہو یہ ہم عرض کرچکے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو جو مال فئے میں مالکانہ تصرف حاصل تھا وہ آپ کی وفات کے بعد ختم ہوگیا۔ البتہ مصارف خیر کا ذکر موجود ہے اب زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر کوئی حاکم وقت یا امام وقت ہو تو اس کو حاکمانہ تصرف حاصل ہوگا کہ اگر اس کے عہد امامت میں مال فئے حاصل ہو تو وہ ان مصارف خیر میں اس مال کی تقسیم کردے۔ لعل اللہ یحد شا بعد ذلک الزمان امراً وھوالمعین وھو المستعان ۔
اب پھر ان منافقین کا ذکر فرمایا جنہوں نے یہود کو اپنی مدد کا وعدہ دے کر دھوکا دیا تھا اور بنی نضیر کو اپنی مدد کا یقین دلا کر ابھارا تھا۔
Ayah 59:11(11) اے پیغمبر کیا آپ نے ان نفاق پیشہ لوگوں کی حالت ملاحظہ نہیں فرمائی جو اپنے ان بھائیوں سے جو اہل کتاب میں سے کافر ہیں اور منکرانہ روش رکھتے ہیں یوں کہتے ہیں کہ خدا کی قسم اگر تم جبراً نکالے گئے اور جلاوطن کئے گئے تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکل جائیں گے اور ملک بدر ہوجائیں گے اور ہم تمہارے معاملے میں کبھی کسی کا کہنا نہیں مانیں گے اور تمہارے بارے میں کسی دوسرے کی اطاعت نہیں کریں گے اور اگر تم سے جنگ کی گئی تو یقینا ہم تمہاری مدد کریں گے اور لڑائی میں ہم تمہارے معاون ہوں گے اور اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق سراسر جھوٹے اور کاذب ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ منافق ان کافروں کو چھپے چھپے پیغام دیتے تھے آخر وہ نکالے گئے ان سے کچھ نہ ہوا۔
یعنی بنی نضیر کو عبداللہ بن ابی منافق کی پارٹی بہکاتی تھی کہ تم جمے رہنا اگر تم سے اس نبی نے جنگ کی تو ہم تمہاری مدد کریں گے اور اگر تم کو انہوں نے ملک بدر کیا تو ہم بھی تمہارے ساتھ احتجاجاً مدینہ چھوڑ کر نکل جائیں گے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ منافق بالکل جھوٹے ہیں نہ کوئی مدد کریں گے اور نہ یہ کافر ان اہل کتاب کی ہمدردی میں اپنا وطن چھوڑیں گے۔
Ayah 59:12(12) خدا کی قسم اگر یہ کفر پیشہ اہل کتاب ملک بدر کئے گئے تو یہ مدینے کے منافق ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے اور ترک وطن نہیں کرینگے اور اگر ان اہل کتاب یعنی بنی نضیر سے لڑائی ہوئی تو یہ ان کی مدد بھی نہیں کریں گے اور اگر بفرض محال ان منافقوں نے ان کی مدد کی بھی اور ان کی مدد کے لئے میدان جنگ میں آئے بھی تو پیٹھ دے کر بھاگیں گے اور میدان چھوڑ کر بھاگ جائیں گے اور پھر ان منافقوں کے بھاگ جانے کے بعد ان اہل کتاب کی کوئی مدد نہ ہوگی - یعنی ان کا جھوٹ یہ کہ اگر وہ جلاوطن کئے گئے تو یہ منافق ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے اور اگر ان سے جنگ ھڑی تو یہ ان کی مدد نہیں کریں گے اور اگر بالفرض مدد کو آئیں گے تو میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ جائیں گے پھر ان اہل کتاب کی کوئی مدد نہیں کی جائیگی۔
یعنی جھوٹے مددگار تو بھاگ گئے اور کوئی مددگار نہیں پھر مدد کی کوئی مشکل نہیں ان آیتوں کا نزول بعد میں ہو تو محض استحضار واقعہ اور ان کا کذب اور خلف وعدہ کا اظہار مقصود ہوگا اور اگر واقعہ اخراج سے قبل نزول ہو تو ظاہر ہے کبعیسا فرمایا تھا ویسا ہی ہوا یعنی محاصرے کی حالت میں منافقوں نے ان اہل کتاب کی کوئی مدد نہ کی اور اخراج کے وقت کسی نے ان کو ہمراہ ترک وطن نہ کیا۔
Ayah 59:13(13) یقینا تم مسلمانوں کا خوف اور دہشت ان منافقوں کے قلوب میں اور ان کے سینوں میں اللہ تعالیٰ کے خوف سے بھی زایدہ ہے یہ اس وجہ سے ہے کہ یہ لوگ ناسمجھ واقع ہوئے ہیں۔
یعنی تم اے مسلمانو ! باعتبار خوف اور دہشت کے ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ سے بھی زیادہ ہو چونکہ یہ ناسمجھ لوگ ہیں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کی بڑائی کو جانتے نہیں اس لئے خدا تعالیٰ سے ڈرنے کی بجائے تم سے ڈرتے ہیں اور اس سے ڈرنے کا حق ادا نہیں کرتے۔
Ayah 59:14(14) ان کی بزدلی کا یہ عالم ہے کہ یہ کافر سب اکٹھے ہوکر بھی اور سب مل کر بھی تمہارے بالمقابل نہیں لڑ سکتے الایہ کہ قلعہ بند بستیوں اور دیواروں کی آڑ میں محفوظ ہوکر ان کے مابین آپس میں بڑی سخت جنگ ہے اے مخاطب تو ان کافروں کو متفق اور متحدالخیال سمجھتا ہے حالانکہ ان کے قلوب غیر متفق اور پھٹے ہوئے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کافر عقل نہیں رکھتے اور بےعقل واقع ہوئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان یہوں میں اور منافقوں میں اتنی ہمت نہیں کہ یہ سب مل کر بھی تمہارا مقابلہ کرسکیں سوائے اس کے کہ قلعہ بند بستیوں میں چھپ کر یا کسی مضبوط دیوار کی آڑ میں ہوکر جیسے شہر پناہ وغیرہ کی آڑلے کر مقابلہکریں تو کریں سامنے آمنے آکر مقابلہ کرنے کی ان میں ہمت نہیں یہ سب مل کر بھی مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں رکھتے مگر ہاں قلعوں میں گھس کر اور قلعہ بند بستیوں میں چھپ کر حملہ کرسکتے ہیں یا پھر کسی دیوار وغیرہ کے پیچھے اور دیوار کی آڑ لے کر مقابلہ کرلیں تو کرلیں ان کے مابین آپس ہی میں بڑی لڑائی ہے اور ان میں بڑے اختلاف ہیں دیکھنے والا تو ان کو دیکھ کر سمجھتا ہے کہ سب ایک ہیں اور ان کی بھیڑ کو دیکھ کر خیال کرتا ہے کہ یہ متفق الخیال اور باہم متحد ہیں حالانکہ ان کے دل پراگندہ اور ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے ہیں اور ان کے دل باہم متحد نہیں ہیں۔
اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو دین کی عقل نہیں اور یہ بےعقل واقع ہوئے ہیں اور اسی بےعقلی کی وجہ سے مختلف العقائد ہیں دین الٰہی کے بارے میں ان کے مختلف نظرئیے ہیں اور جب دل الگ الگ ہیں تو جم کر یہ مسلمانوں کا مقابلہ کیا کرسکیں گے۔
آگے دو مثالیں بیان فرمائیں۔
Ayah 59:15(15) مثال ان یہود بنی نضیر کی مانند ان لوگوں کے ہے اور ان لوگوں کی مثال ان لوگوں کی سی مثال ہے جو ان سے کچھ ہی پہلے ہوئے ہیں جو دنیا میں بھی اپنے کردار اور اپنے اعمال کی سزا کا مزہ چکھ چکے اور ان کو دردناک عذاب ہونے والا ہے۔ شاید بنی قینقاع کی طرف مثال میں اشارہ ہے کہ انہوں نے بھی عذر کیا اور نقض عہد کیا اور لڑائی کی پھر مغلوب ہوکر قلعے میں بندہوگئے اور بالآخر قلعے سے باہر نکلے ان سب کی مشکیں باندھ لی گئیں اور اس شرط پر رہا کئے گئے کہ مدینے سے چلے جائیں۔ چناچہ وہ شام کی جانب چلے گئے اور ان کے اموال میں غنیمت کی طرح تقسیم ہوئی۔
بعض حضرات فرماتے ہیں اس مثال میں بدر کی طرف اشارہ ہے۔
جیسا کہ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی نزدیک ہے کہ مکہ والے بدر کے دن سزا پاچکے ہیں وہی ڈول ان کا بھی ہوگا۔
قریباً من قبلھم کی وجہ سے بعض حضرات نے بدر اور بعض حضرات نے بنی قینقاع کے یہود مراد لئے ہیں واقعہ بدر اور واقعہ بنی قینقاع دونوں 2 ھجری کے واقعات میں سے ہیں۔
Ayah 59:16(16) اور ان منافقوں کی مثال شیطان کی سی مثال ہے کہ وہ انسان سے کہتا ہے کہ منکر ہوجا اور کافر بن جا پھر جب وہ کافر ہوجاتا ہے تو کہتا ہے میں تجھ سے بےتعلق اور الگ ہوں میں تو اس اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں جو اقوام عالم کا پروردگار ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں شیطان آخرت میں یہ کہے گا اور بدر کے دن بھی ایک کافر کی صورت بن کر لوگوں کو لڑوادیا جب فرشتے نظر آتے تو بھاگا سورة انفال میں بیان ہوچکا یہ کہاوت ہے منافقوں کی۔
خلاصہ : یہ ہے کہ ان منافقوں کی مثال شیطان کی سی ہے یہ بھی لوگوں کو ابھار کر جنگ پر آمادہ کردیتے ہیں اور اپنی امداد کا وعدہ دلاتے ہیں پھر جب میدان کار زار گرم ہوجاتا ہے تو وہ خود کھسک جاتے ہیں اور بھاگ کر علیحدہ ہوجاتے ہیں اور تماشائی بن جاتے ہیں۔
یہی شیطان کرتا ہے کہ انسان کو سبز باغ دکھا کر کفر پر آمادہ کردیتا ہے اور جب کافر پر کفر کا وبال آتا ہے تو خود بھاگ جاتا ہے اور تبری کرتا ہے کہ میں تمہارے ساتھ نہیں ہوں یہ وبال کفر کا دنیا میں بھگتنا پڑے جیسے بدر میں ہوا اور انفال میں گزر چکا یا آخرت میں ہو جیسا سوروہ ابراہیم (علیہ السلام) میں گزرا۔
Ayah 59:17(17) پھر ان دونوں یعنی شیطان اور انسان کا انجام یہ ہوا کہ دونوں آگ میں گئے اور دونوں اس آگ میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی سزا ہے گناہگاروں کی۔ یعنی دونوں کا انجام جہنم ہوا یعنی شیطان کا بھی اور کافر انسان کا بھی یہی انجام مدینے کے منافقین اور بنی نضیر اور بنی قینقاع کا ہوا کہ وہ دنیا میں تباہ و برباد ہوئے اور آخرت میں جہنم واصل ہوں گے۔
Ayah 59:18(18) اے دعوت ایمانی کو قبول کرنے والو ! اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور متنفس اور ہر شخص اور ہر جی کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اس نے کل کے لئے کیا آگے بھیجا ہے اور تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو یقین جانو ! جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ کو اس سب کی خبر ہے۔ اوپر منافقین اور بنی نضیر وغیرہ کا بیان تھا اس کے بعد مسلمانوں کو خطاب فرمایا چناچہ ارشاد فرمایا اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرا کرو یعنی طاعات اور اعمال صالحہ کے بجا لانے میں خوب سعی کیا کرو اور تم میں سے ہر شخص اس امرکا خیال رکھے اور دیکھتا رہے اور اس امر کی فکر کرتا رہے کہ کل کے لئے اس نے آگے کیا بھیجا۔ کل سے مراد قیامت ہے یعنی عالم آخرت کے لئے جو بھیج رہا ہے اس پر کڑی نظر رکھے موت کے لئے جو تیاری کررہا ہے اس کو دیکھتا رہے پھر فرمایا اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو یعنی معاصف اور گناہوں سے بچو کیونکہ تم جو کچھ کررہے ہو اور جن اعمال کا ارتکاب کررہے ہو ان سب اعمال سے اللہ تعالیٰ واقف اور خبردار ہے اعمال پر نظر کرتے رہنا یہی وہ چیز ہے جس کو صوفیائے کرام کی اصطلاح میں مرقبہ کہتے ہیں اور ان مراقبات کی مختلف صورتیں ہیں جو شیخ کامل سے معلوم کی جاسکتی ہیں۔
حضرت عمر ؓ کا ارشاد ہے حاسبوا قبل ان تحاسبوا یعنی اس سے پہلے کہ تم سے تمہارے اعمال کا حساب لیا جائے تم خود آپ اپنا حساب لے لیا کرو۔
غرض مراقبات کی بہت سی صورتیں ہیں اور مختلف حالات کے لئے مختلف مراقبے ہیں جو مرشد سے دریافت کئے جاسکتے ہیں جس طرح ولتنظر نفس ماقدمت لغد میں مراقبہ بعدالموت کی طرف اشارہ ہے اسی طرح ان الہ خبیر بما تعملون میں بھی مراقبہ من عرض الاعمال کی طرف اشارہ ہے۔
Ayah 59:19(19) اور تم ان لوگوں کی مانند نہ ہوجانا جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو فراموش کردیا اور اس کے احکام کو بھلا دیا پھر اللہ تعالیٰ نے خود ان کی جانوں سے ان کو غافل کردیا اور بھلا دیئے ان کو ان کے جی یہی تو وہ لوگ ہیں جو نافرمان اور بےحکم ہیں۔ یعنی تم اے مسلمانو ! ان لوگوں کی طرح مت ہوجانا جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام سے بےپروائی برتی اور احکام خدا ندی کو بھلا دیا اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے جی بھلادیئے اور اپنی ذات سے ان کو بےپروا بنادیا اور وہ اپنے نفع سے غافل ہوگئے اور اپنی جانوں کے بھلے کو بھلا بیٹھے تو ان لوگوں کو ان کے کئے کی سزا ملے گی اور یہ لوگ فاسق اور بےحکم ہیں……پہلی آیت میں اہل تقویٰ کا ذکر تھا اس آیت میں نافرمانوں اور کافروں کا ذکر ہے چناچہ دونوں کا انجام بیان فرمایا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ان کے جی بھلادیئے یعنی اپنے جی کے بچائو کا فکر نہ کیا۔
Ayah 59:20(20) اہل جہنم اور اہل جنت دونوں باہم برابر نہیں ہیں جو اہل جنت ہیں وہی اپنے مقصد میں کامیاب ہیں۔ یعنی متقی اہل ایمان اصحاب جنت ہیں اور یہ فاسق اور بےحکم اہل جہنم اور دوزخی ہیں۔ تو اے مسلمانو ! تم اصحاب جنت میں سے ہو تم ان کی طرح مت ہوجائو جو اصحاب نار ہیں امام شافعی (رح) نے جو استدلال عدم مساوات فی القصاص پر کیا ہے یہاں اس کی بحث نہیں ہے کتب حنفیہ میں اس کا جواب موجود ہے۔
Ayah 59:21(21) اور اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو اے مخاطب یقینا تو اس پہاڑ کو دیکھتا کہ وہ دب جاتا اور پھٹ جاتا اللہ تعالیٰ کے خوف اور ڈر سے اور ہم اس لئے ان مثالوں کو لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ سوچیں اور فکروتامل سے کام لیں۔ یعنی قرآن اپنی عظمت و جلال کی وجہ سے ایسی شان رکھتا ہے کہ اگر اس کو کسی پہاڑ پر نازل کردیتے اور پہاڑ کو فہم اور شعور دیا جاتا تو وہ اللہ تعالیٰ کے خوف اور خشیتہ سے دب جاتا اور پھٹ جاتا اور اے مخاطب تو اس کو دیکھتا کہ وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا لیکن ان منکروں کے دل پہاڑ کے پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہیں کہ یہ قرآن سنتے ہیں اور متاثر نہیں ہوتے۔
یہ مثالیں اس لئے بیان کی جاتی ہیں تاکہ لوگ سمجھیں اور غور کریں آیت میں کافروں کی قلبی قساوت کا اظہار ہے ۔
Ayah 59:22(22) وہ اللہ تعالیٰ ایسا معبود ہے جس کے سوا اور کوئی معبود ہونے کے قابل نہیں وہ ہر چھپے اور کھلے کا جاننے والا ہے وہ بےخد مہربان نہایت رحم والا ہے۔ یعنی وہ اللہ ہے جس کے سوا کسی کی بندگی نہیں جو چیز مخلوق سے پوشیدہ ہے وہ اس کو بھی جانتا ہے اور جو مخلوق سے پوشیدہ نہیں وہ اس کی بھی کنہ اور حقیقت کو جانتا ہے آگے پھر اسی توحید کی تاکید ہے۔
Ayah 59:23(23) وہ اللہ تعالیٰ ایسا معبود ہے کہ اس کے سوا اور کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ بادشاہ ہے وہ جملہ عیوب سے پاک ہے وہ تمام عیوب سے سالم اور تمام عیبوں سے سلامت ہے وہ امن دینے والا ہے وہ نگہبانی کرنے والا ہے یعنی ہر آفت سے کمال قوت کا مالک اور زبردست ہے بڑی عظمت والا اور بڑائی والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی ان لوگوں کے شرک سے پاک ہے۔
جبار کے معنی ہم نے زبردست کے کئے ہیں خرابی کا درست کرنے والا بھی ہوسکتا ہے اور خود اختیار بھی اس کے معنی ہوسکتے ہیں۔ قرآن میں مختلف معنی کے لئے استعمال ہوا ہے۔
Ayah 59:24(24) وہ معبود برحق ہے وہ ہر چیز کا خالق ہے وہ ایجاد واختراع کرنے والا ہے وہ صورت بنانے والا ہے ، سب اچھے اچھے نام اسی کے لئے خاص ہیں جو مخلوق آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے سب اس کی پاکی بیان کرتی ہے اور وہ کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ خالق اور باری کے معنی میں تھوڑا سا فرق ہے۔
خالق کے معنی کسی چیز کو اندازے کے ساتھ پیدا کرنا اور باری کے معنی ہیں عدم سے وجود میں لانا بعض حضرات نے باری کے معنی ٹھیک ٹھیک بنانے والا کئے اچھے اچھے اور نیک نام جو اچھی صفتوں پر دلالت کرتے ہیں سب اسی کو زیبا اور اسی کے نام ہیں۔
خلاصہ : یہ کہ سورت کے آخر میں پھر توجہ دلائی کہ ایسے زبردست مالک الملوک کی موجودگی میں دوسروں کو معبود سمجھنا کس قدر جہالت اور نادانی ہے ہر حالت میں وہی فرمانروا ہے اور اسی کے احکام کی بجاآوری ہونی چاہیے۔
تم تفسیر سورة الحشر