Ayah 58:1(1) اللہ تعالیٰ نے یقینا اس عورت کی بات سن لی جو اے نبی آپ سے اپنے خاوند کے بارے میں جھگڑتی تھی ۔
اور اللہ تعالیٰ کی جناب میں شکوہ و شکایت کرتی تھی اور اللہ تعالیٰ نے تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا بلاشبہ اللہ تمہارے سب سننے والا دیکھنے والا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اسلام سے پہلے مرد اگر اپنی عورت کو کہتا کہ تو میری ماں ہے تو ساری عمر وہ اس پر حرام گنتے حضرت کے وقت میں ایک مسلمان کہہ بیٹھا اپنی عورت کو پھر دونوں پچھتائے عورت آئی حضرت کے پاس ، حضرت نے فرمایا اب کیوں کہ تم مل سکتے ہو وہ شکوہ کرنے لگی کہ گھرویران ہوتا ہے اولاد پریشان ہوتی ہے اس میں یہ حکم اترا فرمایا کہ جن نے جنا نہیں وہ ماں کیونکر ہو مگر اپنی گستاخی کا بدلا کفارہ دے تو اس عورت کے پاس جاوے نہیں تو نہ جاوے نہیں تو نہ جاوے پر عورت اس کی رہی اس ماں بہن کہنے کو ظہارکہتے ہیں۔
ظہار ایک قسم تھی طلاق موہد کی زمانہ جاہلیت میں اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے انت علی کظھر امی کہدے تو وہ اس پر ہمیشہ کے لئے حرام ہوجایا کرتی تھی یعنی تو مجھ پر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ تو یہ کہنا دائمی طلاق کے حکم میں ہوتا تھا۔
اسلام کے بعد اوس بن صامت کو ایک دن یہ واقعہ پیش آگیا انہوں نے اپنی زوجہ جن کا نام خوار تھا اور ثعلبہ کی بیٹی تھیں ان سے غصہ میں کہہ دیا انت علی کظھر امی اس کے بعد ان کو اپنے کہنے پر افسوس ہوا خولہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آکر اپنے بچوں کا تذکرہ کرنے لگی اور کہنے لگیں میرے خاوند نے طلاق کا تو ذکر نہیں کیا لیکن حضور ﷺ نے معذرت فرمائی اور فرمایا تو اس پر حرام ہوگئی۔
عورت چونکہ بار بار اپنی مصیبت کو دوہراتی تھی اس لئے فرمایا تجادلک فی زوجھا حضور ﷺ بار بار معذرت فرماتے تھے اور وہ اللہ تعالیٰ سے شکوہ کرتی تھی یعنی یوں کہتی تھی۔
اللھم اشکوالیک فانزل علی لسان نبتیک فرجی یعنی اے اللہ تجھ سے فریاد کرتی ہوں کہ اپنے نبی کی زبان پر ایسا حکم نازل فرما جس سے میری مصیبت دور ہوجائے۔
یہ اس وقت کی باتیں ہیں جب حضرت عائشہ صدیقہ ؓ آپ ﷺ کا سر مبارک دھلارہی تھیں یہ عورت اس قدر چپکے چپکے اپنا معاملہ پیش کررہی تھی کہ بیوی عائشہ صدیقہ ؓ بھی باوجود قریب ہونے کے پوری طرح نہ سمجھ سکیں اسی وقت حضور پر وحی کے آثار ظاہر ہوئے تو بیوی عائشہ ؓ نے خولہ کو اشارہ کیا کہ تو خاموش ہوجا جب وحی کے آثار منکشف ہوئے تو آپ نے سورة مجادلہ کی یہ آیتیں تلاوت فرمائیں آگے ظہار کا کفارہ مذکور ہے اور سابقہ خیالات کی غلطی کا اظہار ہے۔
Ayah 58:2(2) جولوگ تم سے اپنی بیویوں کے ساتھ ظہار کرتے ہیں یعنی بیویوں کو ماں کے ساتھ تشبیہہ دے بیٹھتے ہیں تو وہ بیویاں درحقیقت ان کی مائیں نہیں ہیں ان کی مائیں تو صرف وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے مگر ہاں یہ ظہار کرنے والے اور بیوی کو ماں کے ساتھ تشبیہہ دینے والے ایک نامعقول اور جھوٹی بات کہتے ہیں اور یقینا اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔ یعنی بیوی کو ماں سے یا اس کے کسی عضو خاص سے مثلاً پیٹ یا پیٹھ وغیرہ سے تشبیہہ دینے کے کوئی معنی نہیں اور نہ ایسا کہنے سے وہ اس شخص کی ماں بن جاتی ہے بلکہ حقیقی مائیں تو وہ ہیں جنہوں نے پیٹ میں رکھا اور ان کو جنا یہ ایک غلط بات ہے اور منکر بھی ہے یعنی حق بات سے انحراف اور ایسی نامعقول اور جھوٹی بات کوئی کہہ دے تو اللہ تعالیٰ درگزر کرنے والا اور بخشنے والا ہے یہاں فرمایا ہے ان امھتھم الاالی ولدنھم اس پر یہ شبہ نہ کیا جائے کہ رضاعی ماں بھی تو ماں ہوتی ہے اور ازواج مطہرات بھی تو مائیں ہیں رضاعی ماں کی دودھ پلانے کی وجہ سے ملحق کردیا ہے اصلی ماں کے اور اسی طرح ازواج مطہرات نبی کریم ﷺ سو وہ اپنے احترام کی وجہ سے مائیں ہیں بہرحال جب وہ عورتیں جن سے ظہار کیا ہے وہ حقیقی مائیں نہیں تو حرمت موہدہ نہیں قائم ہوتی۔
Ayah 58:3(3) اور جو لوگ اپنی بیویوں کو ماں کہہ دیں پھر وہ اپنی کہی ہوئی بات سے رجوع کرنا اور کہی ہوئی بات کی تلافی کرنا چاہیں تو ان کے ذمے اس سے پہلے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں ایک بردہ آزاد کرنا ہے یعنی ایک لونڈی یا غلام آزاد کرنا ہے اس حکم کفارہ سے تم کو نصیحت کی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارے ان کاموں سے جو تم کرتے ہو پوری طرح باخب رہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پھر وہی کام جس کو کہا ہے یعنی یہ لفظ کہا ہے صحبت موقوف کرنے کو پھر چاہیں کہ صحبت کریں تو پہلے بردہ آزاد کرلیں۔
خلاصہ : یہ کہ بیوی کو ماں کہہ دینے کے بعد اگرچہ وہ ماں نہیں ہوجاتی لیکن ایک بیہودہ اور نامعقول بات کہنے کے لئے پھر اگر ان سے ملنا چاہیں اور اپنی بیویوں سے متمتع ہونا چاہیں اور میاں بیوی کا تعلق کرنا چاہیں یعنی جو کہہ چکے ہیں اس سے پلٹنا چاہیں تو آپس میں اختلاط کرنے اور صحبت کرنے یا دواعی صحبت مثلاً بوسہ اور مس وغیرہ کرنے سے پہلے ایک بردہ آزاد کرنا ضروری ہے یہ بردہ غلام ہو یا باندی خواہ وہ مومن ہو یا کافر یعنی لونڈی یا غلام کسی مذہب وملت کا ہو مومن ہونا شرط نہیں۔
ہاں ! مدبر مکاتب یا ام ولد نہ ہو بلکہ رقیت تام ہو یعنی پوراغلام ہو اس حکم سے تم کو نصیحت کی جاتی ہے تاکہ تم اس سے نصیحت پکڑو یہ حکم تمہارے سیات اور خطائوں کی معافی کے ساتھ ساتھ ایک قسم کا زجر اور تنبیہہ ہے اور یہ کفارہ تمہارے لئے زاجر بھی ہے تاکہ آئندہ احتیاط کرو اور اپنی زبان کو قابو میں رکھو اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ کو اس کی پوری طرح خبر ہے۔ یعنی کفارہ ادا کرنے میں کوئی کوتاہی کرو گے تو وہ اس سے باخبر ہے۔
Ayah 58:4(4) پھر جو بردہ یعنی غلا یا باندی آزاد کرنے کی توفیق نہ رکھتا ہو تو اس کے ذمے اس سے پہلے کہ وہ میاں بیوی آپس میں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں دو مہینے کے لگاتار اور پے درپے روزے ہیں پھر جو دو مہینے کے روزوں کی بھی استطاعت نہ رکھتا ہو تو اس کے ذمے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے یہ حکم اس لئے ہے تاکہ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا حکم مانو اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور یہ احکام اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود ہیں اور منکروں کے لئے درد ناک عذاب ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بردے کا مقدور ہو تو روزہ نہیں روزہ ہوسکے تو کھانا نہیں آخر کو کھانا ہے اگر پکار کر کھلادے تو سالن روٹی دو وقت کھلادے پیٹ بھر کر اور اگر اناج دے تو ہر ہر کو دوسیر گیہوں۔
خلاصہ : یہ کہ کفارے میں ترتیب ہے اگر کسی عاقل بالغ مسلمان نے اپنی بیوی سے ظہار کیا ظہار یہ کہ اپنی بیوی کے پیٹ یا پیٹھ کو یا سر کو یا اور کسی عضو کو جس کو چھپانا اور مستور رکھنا ضرور ی ہے اس عضو کو اپنی ماں بہن یا کسی ذی رحم محرم کے عضو سے تشبیہہ دے یہ ذی رحم محرم نسب سے ہو یا رضاعت سے یا مصاہرت سے یا جماع سے بہرحال یہ ظہار ہے مثلاً کوئی مسلمان اپنی بیوی سے یوں کہے۔
انت علی کظھر احتی من الرضاع اور عمتی من النسب اور امراۃ ابنی اوابی ادام امر اتی اوابن تھا یعنی تو مجھ پر ایسی ہے جیسے میری دود شریک بہن کی پیٹھ یا میری پھوپھی کی پیٹھ یا میرے بیٹے کی بیوی یا میرے باپ کی بیوی کی پیٹھ یا میری بیوی کی ماں کی پیٹھ یا میری مدخول بہا بیوی کی لڑکی کا پیٹ۔
غرض یہ تمام صورتیں ظہار کی ہیں ظہار کے بعد اگر عورت سے ملنے کا قصد کرے یعنی پھر اس کو بیوی بنا کر رکھنا چاہے تو ہاتھ لگانے سے قبل کفارہ ادا کرے کفارہ یہی پہلے غلام یا لونڈی آزاد کرے اگر اس کی توفیق نہ ہو یعنی قوت خرید نہ ہو یا اس کے ملک میں لونڈی غلام کا دستور نہ ہو تو پے درپے روزے رکھے اگر بیچ میں کوئی روزہ رہ گیا تو ازسر نو شروع کرے، دو مہینوں کے روزوں کی استطاعت نہ ہو تو پھر ساٹھ مساکین کو دو وقت کھانا کھلائے اگر کفارہ ادا کرنے کے درمیان عورت سے مل لیا تو کفارہ پھر سے ادا کرنا ہوگا، مثلاً نصف غلام آزاد کیا اور عورت کے پاس چلا گیا اور نصف غلام بعد میں آزاد کیا تو کفارہ بےکار ہوگیا یا ساٹھ روزے پورے کرنے سے پہلے عورت سے مل گیا تب بھی دوبارہ روزے رکھنے ہوں گے ۔ البتہ مساکین کو کھانا کھلانے میں یہ بات نہیں اگر مساکین کو کھانا کھلانے کے درمیان ایسی حرکت کی تو دوبارہ کفار ہ ادا کرنے کی ضرورت نہیں۔ مزید تفصیل مقامی علما سے دریافت کی جائے یا کتب فقہ کا مطالعہ کیا جائے۔
لتومنوا باللہ ورسولہ اس لئے فرمایا تاکہ تم اس کے حکم کی بجاآوری سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی تصدیق کرنے والے بنو اور آسمانی شریعت کو اپنے باپ دادا کی رسموں کے مقابلے میں سچا سمجھو یہ اللہ تعالیٰ کے ضابطے اور اس کی باندھی ہوئی اور مقرر کی ہوئیں حدود ہیں۔
آخر میں منکروں کو تنبیہہ فرمائی کہ جو لوگ اللہ کی حدود کا انکار کرتے ہیں ان کو درد ناک عذاب ہونے والا ہے آگے اسی عذاب کا ذکر ہے دنیا میں بھی اس کا ہونا ممکن ہے اور آخرت میں تو اہل انکار کے لئے وہ عذاب یقینی ہے۔
Ayah 58:5(5) بلا شبہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ اسی طرح ذلیل ورسوا کئے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے لوگ ذلیل ورسوا کئے گئے اور بیشک ہم نے کھلے کھلے اور واضح احکام نازل کئے ہیں اور ان لوگوں کے لئے جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کر رکھا ہے ذلیل ورسوا کن اور خوار کرنے والا عذاب ہے۔
یعنی جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کا شیوہ اختیار کررکھا ہے اور اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کے درپے رہتے ہیں تو دنیا میں بھی ان کی ذلت و رسوائی اختیار کررکھا ہے اور اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کے درپے رہتے ہیں تو دنیا میں بھی ان ذلت و رسوائی ہوگی جس طرح سابقہ منکرین کے ساتھ بھی یہ سلوک ہوتا رہا ہے اور چونکہ ہم نے احکام واضح طور پر نازل کئے ہیں اور جو لوگ ان احکام واضحہ کا انکار کریں گے تو وہ سزا کے مستوجب ہوں گے اور قیامت میں ان کی توہین اور ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا۔
Ayah 58:6(6) اس عذاب کا وہ دن ہوگا جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو زندہ کرکے اٹھائے گا پھر ان کے تمام اعمال سے ان کو آگاہ کرے گا اور ان تمام وہ اعمال ان کو جتائے گا جو انہوں نے کئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان سب اعمال کو جو انہوں نے کئے تھے شمار کررکھا ہے اور گن رکھا ہے حالانکہ یہ خود اعمال کو کرنے کے بعد بھول گئے اور فراموش کرچکے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز سے مطلع اور ہر چیز پر نگراں ہے اور ہر چیز اللہ تعالیٰ کے سامنے ہے۔ یعنی ان کے عذاب کا وہ دن ہوگا جس دن تمام مردے اٹھائے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے تمام اعمال سے باخبر کرے گا جو دنیا میں کرچکے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان اعمال کو گن رکھا ہے حالانکہ یہ اعمال کرنے والے اپنے اعمال کو بھول چکے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز سے باخبر ہے خواہ یہ اعمال ہوں یا کوئی اور چیز اور جب وہ تمام اعمال سے باخبر ہے تو ہر ایک کو اس کے کئے کی سزادے گا۔
Ayah 58:7(7) کیا آپ نے اس پر نظر نہیں فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ان سب چیزوں کو جانتا ہے جو آسمانوں میں اور زمین میں ہیں کہیں تین شخصوں کا خفیہ مشورہ ایسا نہیں ہوتا جہاں چوتھا وہ اللہ تعالیٰ موجود نہ ہو اور نہ کہیں پانچ کا خفیہ مشورہ مگر یہ کہ چھٹا ان کا وہ اللہ تعالیٰ ہوتا ہے اور نہ تین سے کم اور نہ پانچ سے زائد کوئی خفیہ مشورہ مگر یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہوتا ہے خواہ وہ مشورہ کرنے والے کہیں بھی ہوں پھر جو کچھ انہوں نے کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ ان کو قیامت کے دن آگاہ کرے گا اور جتادے گا یقینا اللہ تعالیٰ ہر بات کو خوب جانتا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ بعض یہود اور بعض منافق نبی کریم ﷺ کی مجلس میں سرگوشیاں کرتے تھے اور کبھی علیحدہ بیٹھ کر بھی چپکے چپکے باتیں کیا کرتے تھے۔
ذیل کی آیتوں میں آداب مجلس کی تعلیم دی ہے اور اس قسم کے شرارت پسندوں کو جو بلا وجہ مسلمانوں کو مشتبہ بنائیں یا پیغمبر (علیہ السلام) کی بدگوئی کریں ان کو تنبیہہ کی گئی ہے اور اس قسم کی سرگوشیوں سے منع کیا گیا ہے جس سے مجلس کے سکون کو نقصان پہنچے اور مسلمانوں کو اذیت اور تکلیف ہو۔
الم تر میں بعض لوگوں نے عام خطاب رکھا ہے اور بعض نے بنی کریم ﷺ کو مخاطب بنایا ہے ہم نے ترجمے اور تیسیر میں دونوں باتوں کی طرف اشارہ کردیا ہے۔ نجویٰ بمعنی التناجی کا لشکوی بمعنی الشکایۃ نجاہ نجوی سارہ والنجوی السرالذی یکتم اور یہ جو فرمایا نعو معھم این ما کانوا۔ حضرت حق تعالیٰ کے قرب علمی کی طرف اشارہ ہے۔
حضرت عارف رومی نے فرمایا ہے۔ ؎
ایں معیت در نیا بدعقل وہوش
زیں معیت دم مزن بنشیں خموش
قرب حق یا بندہ دوراست از قیاس
ہر قیاس خود منہ آں را اساس
اس امت کے حق میں فرمایا من نجویٰ ثلاثۃ الاھورابعہم ولا خمسۃ الا ھو سادسھم اور اصحاب کہف کے متعلق فرمایا ثلثۃ رابعھم کلیھم ویقولون خمسۃ سادسھم کلبھم سبحان اللہ فانظرکم من فرق بین من کان اللہ رابعھم و سادسمھم وبین من کان اخس الحیوانات رابعھم وسادسھم۔
Ayah 58:8(8) کیا اے پیغمبر آپ نے ان لوگوں کی طرف نظر نہیں کی جن کی سرگوشیوں سے روکا گیا تھا اور منع کیا گیا تھا اور وہ پھر وہی کام کرتے ہیں جس سے ان کو منع کیا گیا تھا اور روکا گیا تھا اور وہ آپس میں گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کے چپکے چپکے مشورے اور سرگوشیاں کیا کرتے ہیں اور جب آپ کے پاس آتے ہیں اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں تو ان الفاظ سے آپ کو سلام کرتے اور دعا دیتے ہیں جن الفاظ سے اللہ تعالیٰ نے آپ پر سلام نہیں بھیجا اور دعا نہیں دی اور اپنے دل میں اور اپنے جی میں یوں کہتے ہیں کہ جو الفاظ سلام اور دعا کے ہم کہتے ہیں ان پر اللہ تعالیٰ ہم کو سزا کیوں نہیں دیتا اور ہم کو عذاب کیوں نہیں کرتا ایسے لوگوں کے لئے جہنم کافی ہے اس جہنم میں یہ لوگ داخل ہوں گے سو وہ بری جگہ اور برا ٹھکانہ ہے دوزخ۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت ﷺ کی مجلس میں بیٹھ کر منافق کان میں باتیں کرتے مجلس کے لوگوں پر ٹھٹھے کرتے اور عیب پکڑتے اور حضرت کی بات سن کر کہتے یہ مشکل بات ہے ہم سب کب ہوسکے گی پہلے سورہو نسآء میں منع آچکا تھا پھر وہی کرتے تھے اور دعا یہ کہ یہود آتے سلام علیک کے بدلے السام علیک کہتے۔ یہ دعا ہے کہ تجھ پر پڑے مرگ پھر آپس میں کہتے کہ اگر یہ رسول ہے تو اس کہنے سے ہم پر عذاب کیوں نہیں آتا اور کوئی منافق بھی کہتا ہو۔
خلاصہ : یہ کہ یہود کو اور منافقین کو اس قسم کی دل آزار حرکات سے منع کردیا گیا تھا کہ مجلس میں بیٹھ کر اس قسم کی ناشائستہ حرکات نہ کیا کرو جو آداب مجلس کے خلاف ہوں اور آواز سے توازے نہ پھینکا کرو باوجود منع کردینے کے پھر انہی حرکات کا ارتکاب کرتے ہیں اور ایسی سرگوشیاں کرتے ہیں جن میں مسلمانوں کی کبیدگی اور حزن اور ظلم و زیادتی کی باتیں ہوتی ہیں اور رسول کے منع کردینے کے بعد رسول کی نافرمانی بھی ہوتی ہے نیز جب مجلس میں آتے ہیں تو بجائے سلام علیک اور السلام علیکم کے السام علیکم زبان کو دبا کر کہتے ہیں۔
سام کے معنی ہیں موت کے یہ الفاظ اللہ تعالیٰ کے الفاظ وسلام علی المرسلین کو بدل کر کہتے ہیں اور بجائے سلامتی کی دعا کے موت کی دعا کرتے ہیں اور پھر آپس میں یا ہر ایک ان میں سے اپنے دل میں کہتا ہے کہ اگر یہ واقعی اللہ کا رسول ہے تو اس بےادبی اور گستاخی پر اللہ تعالیٰ ہم کو سزا کیوں نہیں دیتا اور عذاب کیوں نہیں کرتا۔ اسی کو فرمایا کہ ان کو جہنم بس اور کافی ہے اس میں یہ داخل ہوں گے اور وہ دوزخ بری جگہ اور برا ٹھکانا ہے روایت میں آتا ہے کہ جب لوگ السام علیکم کہتے ہیں تو حضور ﷺ جواب میں صرف وعلیکم فرمادیا کرتے ۔ حضرت عائشہ ؓ نے ایک دن یہود کے ان الفاظ کو سن کر بہت برا بھلا کہا کہ تم پر موت پڑے اور تم پر خدا کی پھٹکار ہو۔
حضور ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو سمجھایا کہ ناراض نہ ہو میں تو خودہی اس بددعا کے جواب میں صرف وعلیکم کہہ دیا کرتا ہوں آگے مسلمانوں کو خطاب فرماتے ہیں اور ان کے خطاب سے منافقین کو سنانا مقصود ہے کہ اگر تم ایمان کے مدعی ہو تو تم کو ان احکام کی پابندی کرنی چاہیے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 58:9(9) اے ایمان والو جب تم آپس میں سرگوشی اور بھید کی باتیں کرو تو گناہ کی اور ظلم و زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشیاں نہ کیا کرو بلکہ بھلائی اور پرہیزگاری کی باتوں پر ہم مشورہ کیا کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو جس کے روبرو تم سب جمع کئے جائو گے۔ مطلب یہ ہے کہ جب آپس میں کوئی خفیہ بات اور خفیہ مشوروہ کرو تو وہ مشورہ گناہ کے لئے یا ظلم کے لئے یارسول کی نافرمانی کے لئے نہ ہوا کرے بلکہ بھلائی اور تقویٰ کے کاموں پر باہمی مشورہ کیا کرو یعنی دوسروں کو نفع پہنچانا مقصود ہو کوئی ظلم یا پیغمبر کی نافرمانی کی بات کے لئے مشورہ نہ ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرو کیونکہ اسی کی جناب میں سب کو حاضرہونا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں سورة نساء میں ہوچکا کہ کان میں کون سی بات کہنی چاہیے۔
سورہ نساء میں گزرا ہے لا خیر فی کثیر من نجوھم اس تسہیل کا مطالعہ کیجئے۔
Ayah 58:10(10) اس قسم کی بری سرگوشی محض شیطان کا کام ہے تاکہ وہ مسلمانوں کو رنج میں ڈالے اور مبتلا کرے حالانکہ وہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر توکل اور بھروسہ رکھنا چاہیے۔ یعنی یہ اس قسم کی قابل اعتراض سرگوشیاں اور مشورے شیطان کے بہکانے سے ہوتے ہیں اور ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مسلمان پریشان ہوں اور تردد میں پڑھ جائیں کہ خدا جانے مخالف پارٹی کیا مشورہ کررہی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کے ارادے کے بغیر شیطان اور اس کی طاغوتی طاقتیں مسلمانوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں اور جب اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر شیطان سے کوئی ضرر نہیں پہنچ سکتا تو مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔
اب آگے مجلس کی تہذیب اور مجلس کے آداب دوسرے طریق پر مذکور ہیں۔
حدیث میں آتا ہے جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کردو آدمی خفیہ سرگوشی نہ کیا کریں کیونکہ اس حرکت سے تیسرے آدمی کو حزن وملال ہوگا۔
Ayah 58:11(11) اے دعوت ایمانی کو قبول کرنے والو ! جب تم سے کہا جائے کہ مجالس میں کھل کر بیٹھو اور جگہ کشادہ کردو تو جگہ کھولدیا کرو اللہ تعالیٰ تمہارے لئے کشادگی کردے گا اور جب تم سے کہا جائے کہ کھڑے ہوجائو تو کھڑے ہوجایا کرو اللہ تعالیٰ تم میں سے جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کے اور ان لوگوں کے جن کو علم عطا کیا گیا ہے درجے بلند کردے گا اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ آداب ہیں مجلس کے کوئی آوے اور جگہ نہ پاوے تو چاہیے سب تھوڑا تھوڑا ہٹیں مکان حلقے کا کشادہ ہوجائے یا اٹھ کر پرے حلقہ کرلیں اتنی حرکت کرنے میں غرور نہ کریں خو نیک پر اللہ مہربان ہے اور خوبد سے اللہ بیزار ہے۔
ایک دن اصحاب صفہ تشریف رکھتے تھے کچھ اہل بدر آگئے لیکن مجلس میں ان کو جگہ نہ ملی لوگوں نے جگہ کشادہ نہ کی نبی کریم ﷺ نے بعض حضرات کو مجلس سے اٹھ جانے کا حکم دے دیا اس پر بعض منافقین نے طعن کیا اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔
مطلب یہ ہے کہ جب میری مجلس یا صدر مجلس حکم دے کہ جگہ آنے والوں کے لئے کشادہ کردو تو جگہ کشادہ کردیا کرو یعنی تھوڑے تھوڑے سمٹ کر جگہ کھول دیا کرو تاکہ آنے والوں کو جگہ مل جائے اور وہ مجلس میں بیٹھ سکیں اور اگر میرمجلس کی طرف سے کہا جائے کہ کھڑے ہوجائو یعنی جگہ وسیع کرنے کی غرض سے کھڑے ہوجائو کیونکہ جب لوگ کھڑے ہوکر بیٹھتے ہیں تو جگہ وسیع ہوجاتی ہے اور جگہ نکل آتی ہے پھر میر مجلس اگر چاہے تو دوسری جگہ بیٹھنے کو کہہ دے یا مجلس سے بالکل علیحدہ کردے یاد ہیں بیٹھ جانے کو کہہ دے کیونکہ بعض دفعہ خلوت یا خاص مشورے یا آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔
بہرحال نبی کریم ﷺ تو واجب الاطاعت ہر حال میں تھے لیکن یہ حکم آپ کے بعد ہے کہ ہر مجلس میں مجلس کے منتظم کے حکم کی پابندی کرنی چاہیے حضرت حق تعالیٰ نے کھڑے ہوجانے والوں اور نشوز کی تعمیل کرنے والوں کے لئے رفع درجات کا وعدہ فرمایا ہے نبی کریم ﷺ کی مجلس میں منافق بھی تھے اور مسلم بھی مسلمانوں میں کچھ اہل علم لوگ تھے کچھ عوام یعنی بےپڑھے لکھے۔
والذین امنوا منکم فرمانے سے منافق خارج ہوگئے اور عدم ایمان کی وجہ سے رفع درجات سے محروم رہے باقی مسلمان خواہ وہ عام ہوں یا غیر عالم ان سب کو رفع درجات کی توقع دلائی اور وعدہ فرمایا اہل علم کا ذکر فرما اہل علم کے مراتب علیا کا اظہار فرمایا احادیث میں علم اور اہل علم کی بہت فضیلت آئی ہے۔
Ayah 58:12(12) اے دین حق کی دعوت کو قبول کرنے والو ! جب تم رسول سے کوئی سرگوشی اور خفیہ مشورہ کرنا چاہو تو اس سرگوشی اور خفیہ بات چیت سے پہلے کچھ خیرات دے دیا کرو اور صدقہ کردیا کرو یہ صدقہ دے دینا تمہارے لئے بہتر اور بہت پاکیزہ ہے پھر اگر تم کو کچھ میسر نہ ہو اور تم کچھ نہ پائو تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔
Ayah 58:13(13) کیا تم اس حکم سے کہ اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ صدقہ دے دیا کرو ڈر گئے پس جب تم نے اس کو نہ کیا اور تم ایسا نہ کرسکے اور اللہ تعالیٰ نے تم کو درگزر بھی فرمادیا تو اب تم نماز کی پابندی کرو اور زکوٰۃ ادا کیا کرو اور اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کیا کرو اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ کو اس کی پوری خبر ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں منافق بےفائدہ باتیں حضرت سے کان میں کرتے کہ لوگوں میں اپنی بڑائی جتائیں حضرت خلق کے سبب منع نہ کرتے جب یہ حکم اترا منافقوں نے مارے بخل کے وہ عادت چھوڑدی پیچھے پھر وہ حکم موقوف ہوا۔
پھر شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی وہ حکم جو ہرگز ہیں یعنی وہ حکم جو ہرگز موقوف نہیں انہیں پر لگے رہو معلوم ہوتا ہے کہ کسی نے یہ حکم نہیں کیا کہ موقوف ہوا۔
ہوسکتا ہے کہ کچھ اغنیا اور خوش حال لوگ بھی حضور ﷺ سے دیر تک چپکے چپکے باتیں کرنے کے عادی ہوں اور اس سے فقراء کو دل تنگی پیش آتی ہو یا خود حضور ﷺ کو بھی دیر تک کانوں میں باتیں کرنے اور جواب دینے میں اذیت ہوتی ہو اس لئے صدقہ دینے کا حکم دیا گیا تاکہ حضور سے سرگوشی کرنے والوں میں کمی واقع ہو چناچہ اس حکم میں جو مصلحت تھی وہ پوری ہوگئی اس لئے اس حکم کو موقوف کردیا گیا کہتے ہیں یہ حکم دس دن رات رہا اور بعض نے کہا کہ یہ حکم صرف ایک ساعت رہا۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ اس آیت پر نہ تو کسی نے مجھ سے پہلے عمل کیا اور نہ میرے بعد کوئی عمل کرے گا میرے پاس ایک دینار تھا جو میں نے حضور کی سرگوشی پر خرچ کیا بہرحال آیت میں کسی خاص مقدار کا ذکر نہیں فرمایا جو کچھ مقدور ہو وہ خیرات کردیجائے اور یہ جو فرمایا کہ یہ تمہارے لئے بہتر اور پاکیزہ تر ہے یہ اس لئے کہ حسنات سے برائیاں دور ہوتی ہیں چونکہ صدقہ اور خیرات حسنات میں سے ہیں اس لئے اس میں خطائیں دور ہوجائینگی پھر فرمایا اگر کسی کو مقدور نہ ہو اور اس کے پاس صدقہ دینے کو نہ ہو تو اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے اس سے معلوم ہوا کہ حکم شاید وجوبی تھا لیکن فقراء کو اس حکم سے مستثنا کردیا گیا اور جب حکم کا منشا پورا ہوگیا تو وہ حکم موقوف ہوا چناچہ ارشاد ہوا کہ سرگوشیوں کی قلت اور پیغمبر سے چپکے چپکے باتیں کرنے میں جو کمی واقع ہوگئی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تم سرگوشی سے پہلے مساکین کو صدقہ دینے سے ڈرگئے پھر جب تم ایسانہ کرسکے اور اللہ تعالیٰ نی درگزر فرما دیا اور تمہارے حال پر توجہ فرمائی۔
غرض یہ حکم مرتفع ہوا اور اللہ نے تخفیف فرمادی اور یہ حکم موقوف ہوا منافقوں کا بار بار خدمت اقدس میں حاضر ہوکر سرگوشیوں کی خواہش کرنا ختم ہوا۔ لہٰذا اب تم اس دائمی فرائض کی پابندی کرو جو تم پر مقرر فرماتے ہیں یعنی نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور ہر بات میں اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول ﷺ کا کہا مانو جو کام بھی تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے یعنی اگر قابل اعتراض کام کرو گے تو سزا دے گا اور فرائض کی بجا آوری پر تم کو صلہ عنایت فرمائے گا۔
Ayah 58:14(14) اے پیغمبر کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں ملاحظہ فرمایا جو اس قوم سے دوستی کرتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے غضب نازل کیا ہے اور جن پر اللہ تعالیٰ غصے ہوا یعنی یہود یہ لوگ پوری طرح نہ تم سے ہیں اور نہ ان میں سے ہیں اور یہ لوگ جھوٹی بات پر قسم کھا جاتے ہیں حالانکہ یہ جانتے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اللہ غصہ ہوا کافروں پر خصوصی یہود اور ان کے رفیق منافق۔
خلاصہ : یہ کہ منافق مسلمانوں سے ملے رہتے اور حضور کی خدمت میں آتے جاتے پھر یہاں کے بھید یہود کو بتاتے اور جب ان سے کہا جاتا تو قسمیں کھاتے کہ ہم نے نہیں کہا عبداللہ بن نبتل کے متعلق مشہور ہے کہ وہ منافق تھا حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا اور یہود کو بھید بتایا کرتا۔
ایک دن نبی کریم ﷺ حجرے میں تشریف رکھتے تھے آپ نے صحابہ کرام ؓ سے فرمایا کہ تم میں ابھی ایک شخص آگے گا کہ دل اس کا متکبر ہے اور شیطان کی نظر سے دیکھتا ہے تھوڑی دیر میں عبداللہ بن نبتل آیا حضور ﷺ نے اس سے شکایت کی کہ تو ہماری جماعت کو کیوں گالیاں دیتا ہے اس پر اس نے اور اس کے ساتھیوں نے قسم کھالی اور کہ اہم نے کبھی آپ کو یا آپ کی جماعت کو برا نہیں کہا۔
اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ منافق نہ تم میں سے ہیں یعنی نہ مسلمان ہیں اور نہ ان میں سے ہیں یعنی نہ یہودی ہیں بلکہ غیر مذہب ہیں نہ ادھر نہ ادھر تمہارے بھید بتاتے ہیں اور جب ان پر اعتراض کرو تو جانتے بوجھتے جھوٹی قسم کھا کر انکار کرجاتے ہیں۔
Ayah 58:15(15) اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے سخت عذاب تیارکررکھا ہے بیشک وہ کام بہت برے ہیں جو وہ کررہے ہیں۔ یعنی نفاق اور کفر وغیرہ۔
Ayah 58:16(16) ان منافقوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں پس ان لوگوں کے لئے ذلیل و خوار کرنے والا عذاب ہے۔ یعنی سخت بھی اور رسوا کن بھی۔
Ayah 58:17(17) ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ تعالیٰ کے ہاتھ سے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ان کو ذرا بھی نہ بچا سکیں گے اور یہ لوگ اہل دوزخ اور دوزخ والے ہیں یہ اس آگ میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ یعنی اس سخت اور رسوا کن عذاب سے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے تیار کررکھا ہے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں نہ ان کے اموال کچھ کام آئیں گے اور نہ ان کی اولاد کچھ کام آئے گی یہ لوگ اہل جہنم ہیں جس میں ہمیشہ رہیں گے۔
Ayah 58:18(18) یہ عذاب اس دن ہوگا جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو قبروں سے اٹھائے گا اور دوبارہ زندہ کرے گا پھر یہ جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھایا کرتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کے روبرو قسمیں کھائیں گے اور یہ سمجھتے ہوں گے کہ وہ کچھ بھلی راہ پر ہیں آگاہ رہو بلا شبہ یہ لوگ بہت جھوٹے ہیں اور یہی ہیں اصل جھوٹے۔ یعنی ان کے حقیقی عذاب کا اور سزا بھگتنے کا وہ دن ہوگا جس دن اللہ تعالیٰ ان کو دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے گا اور سب کو جمع کرے گا سو یہ لوگ اس وقت خدا کے سامنے بھی اسی طرح قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں یعنی دنیا میں کہ ہم کسی بھلی بات پر ہیں۔ یا قیامت میں یہ سمجھتے ہوں گے کہ ہم کسی اچھی حالت میں ہیں کہ جھوٹی قسمیں کھا کر بچ جائیں گے۔
بعض حضراتے ویحسبون انھم علی شی کو دنیا کے ساتھ رکھا ہے اور بعض نے قیامت کے ساتھ ہم نے دونوں باتیں عرض کردی ہیں۔
مطلب یہ کہ قسمیں جھوٹی دونوں جگہ کھائیں گے یہاں بھی یہ سمجھ کر جھوٹی قسم کھاتے ہیں کہ ہم نے بھلی بات کی ہے اور مسلمانوں کو یقین دلانے میں کامیاب ہیں وہاں بھی جھوٹی قسمیں کھائیں گے۔ واللہ ربنا ماکنا مشرکین اور یہ سمجھیں گے کہ ہم کچھ نفع کے کام پر ہیں کہ جھوٹی قسمیں کھا کر عذاب سے نجات حاصل کرلیں گے ان کے جھوٹ پر تاکید ہے کہ سن لو یہی لوگ ہیں جھوٹے ان کا جھوٹ یہاں بھی ان کے لئے نافع نہیں اور وہاں بھی نفع دینے والا نہیں۔
Ayah 58:19(19) ان لوگوں پر شیطان نے پوری طرح قابو پالیا ہے سو اس شیطان نے ان کو اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی یاد بھلا رہی ہے یہ لوگ شیطان کا لشکر ہیں اور یہ جماعت شیطان کا گروہ ہے خوب سن لوگروہ شیطان کا یقینا خسارہ اٹھانے والا اور برباد ہونے والا ہے۔ یعنی ان منافقوں اور مشرکوں پر شیطان نے پورا پورا غلبہ حاصل کرلیا ہے اور اس کا یہ اثر ہے کہ ان کے دل سے خدا کی یاد بالکل نکل گئی اور یہ شیطان اثرات نے اللہ تعالیٰ کی یاد کو بھلا دیا اور یہ صرف شیطان کے ہورہے بھولے سے بھی کبھی اللہ تعالیٰ کو یاد نہیں کرتے یہ سب لوگ شیطان کا ایک گروہ ہے اور شیطانی گروہ یقینا ٹوٹا پانے والا اور برباد ہونے والا ہے آخرت میں بھی اور کبھی دنیا میں بھی کیونکہ قاعدہ کلیہ یہ ہے۔
Ayah 58:20(20) جولوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں وہ ذلیل ترین اور بےقدر لوگوں میں سے ہیں۔ یعنی قیامت میں نہ ان کی کوئی عزت نہ قدروقیمت ۔
Ayah 58:21(21) اللہ تعالیٰ یہ بات لکھ چکا ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ضرور غالب ریں گے بلا شبہ اللہ تعالیٰ بڑا زور آور زبردست ہے۔ یعنی غلبہ تو انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو حاصل ہوتا ہے اور ان کے متبعین کو اللہ تعالیٰ کا ذکر یہاں تشریفاً کیا گیا ہے جیسا کہ سورة مومن میں گزرچکا ہے جب انبیاء (علیہم السلام) کو غلبہ ہوگا تو مومنین کی بھی عزت بلند ہوگی یہاں تک منافقین کی اس دوستی اور محبت کی مذمت تھی جو وہ خفیہ طور پر یہود اور کافروں کے ساتھ رکھتے تھے اور مسلمانوں کے بھید دشمنوں تک پہنچایا کرتے تھے اب آگے مخلفین اہل ایمان کا ذکر فرماتے ہیں چناچہ ارشاد ہے۔
Ayah 58:22(22) اے پیغمبر آپ ان لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ پر اور پچھلے دن پر ایمان رکھتے ہیں ان لوگوں سے محبت کرتے ہوئے نہ دیکھیں گے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کے برخلاف ہیں خواہ وہ مخالفت کرنے والے ان اہل ایمان کے باپ ہوں یا بیٹے ہوں یا ان کے بھائی ہوں یا ان کے اور عزیز اقارب ہوں یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کو ثبت کردیا ہے اور مضبوط کردیا ہے اور جما دیا ہے اور اپنے غیبی فیضان سے ان کی مدد اور تائید فرمائی ہے اور آخرت میں ان کو ایسے باغوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور جن کے پائیں نہریں بہہ رہی ہوں گی وہ ان باغوں میں ہمیشہ رہیں گی اللہ تعالیٰ ان سے راضی اور خوش ہوا اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی اور خوش ہوئے یہ لوگ اللہ تعالیٰ کا لشکر اور جماعت اللہ تعالیٰ کا گروہ ہے خوب سن لو اللہ تعالیٰ کا گروہ ہی فلاح پانے والا اور اپنے مقصد میں کامیاب ہونے والا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جو دوستی نہیں رکھتے اللہ کے مخالف سے اگرچہ باپ بیٹا ہو وہی سچے ایمان والے ہیں ان کو یہ درجے ہیں۔
خلاصہ : یہ کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرنے والوں کے دوست نہیں ہیں خواہ وہ ان کے باپ بیٹے بھائی اور دوسرے قرابت دار ہی کیوں نہ ہوں وہ پکے ایمان دار ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایمان کو منقش کردیا ہے اور جمادیا ہے اور ان کی باطنی طور پر امداد فرمائی ہے جس کا بڑا اثر یہ ہے کہ نیک اعمال کی توفیق اور قلب کو سکون و اطمینان میسر ہوتا ہے۔
بعض نے کہا اس سے نور قرآن مراد ہے بعض نے کہا دشمنوں پر مدد مراد ہے ۔ یا قلب کا نور مراد ہے یا اسلام کا نور مراد ہے ، بہرحال ایک باطنی کیفیت ہے اس کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے جس پر کیفیت وار ہوتی ہے قرآن نے بروح منہ سے تعبیر کیا ہے اور اپنے حضرات نے فیضان غیبی سے ترجمہ کیا ہے یہ ایک باطنی قوت اور باطنی سکون و اطمینان ہے جو اللہ تعالیٰ کے مخصوص بندوں کو عطا کیا جاتا ہے یہ دولت روحانی تو دنیا میں عظا ہوتی ہے اور آخرت میں بہشت میں داخل کئے جاتے ہیں اور رضائے الٰہی کی دولت سے بہرہ مند ہوتے ہیں یہ جماعت اللہ تعالیٰ کا گروہ اور اس کے لشکر ہے اور یہی لوگ مراد کو پہنچنے والے ہیں کفار کی دوستی جو اسلام اور مسلمانوں کے لئے ضرررساں ہو حرام اور ممنوع ہے تلک الرسل کی تسہیل ملاحظہ کی جائے۔
تم تفسیر سورة المجادلہ