57. Surah Al-Hadid

الحديدThe Iron · 29 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 57:1

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 57:1 in the Quran reader

جو مخلوقات آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے سب اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے اور وہ بڑا زبردست بڑی حکمت والا ہے۔

(1) اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہے جو مخلوقات آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور وہ کمال قوت اور کمال علم و حکمت کا مالک ہے۔ پاکی بیان کرنا یعنی ہر قسم کے نقص سے تنزیہہ و تقدیس عرب کہا کرتے ہیں سبحتہ بعدتہ عن السوء یعنی میں نے اس کو پاک ظاہر کیا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہر برائی کو اس سے دور کیا اور ہر برائی سے اس کی پاکی بیان کی ۔ تمام مخلوقات کا یہی حال ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور تنزیہہ کرتی ہے خواہ زبان حال سے یا زبان قال سے بڑی قوت کا مالک یعنی ہر ایک منکر سے بدلا سے سکتا ہے اور بڑی حکمت والا یعنی ہر مطیع و فرمانبردار کو اپنی حکمت اور اپنے علم کے موافق صلہ دیتا ہے۔
Ayah 57:2

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 57:2 in the Quran reader

آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اسی کی ہے وہی زندگی عطا کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے اور وہ ہر شئی پر پوری طرح قادر ہے۔

(2) آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اور حکومت اسی کی ہے وہی زندگی عطا کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے اور وہ ہر شئی پر پوری طرح قادر ہے۔ یعنی سب جگہ اسی کا راج اور موت و زندگی اسی کے اختیار میں ہے اور وہ ہر شئی پر قدرت رکھتا ہے۔
Ayah 57:3

هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 57:3 in the Quran reader

وہی سب سے اول اور سب سے آخر ہے اور وہی ظاہر ہے اور وہی مخفی ہے اور وہ ہر شئی کو بخوبی جاننے والا ہے۔

(3) وہی سب سے اول اور سب سے آخر ہے اور وہی ظاہر اور وہی باطن اور مخفی ہے اور وہ ہر چیز کو بخوبی جاننے والا ہے۔ یعنی تمام مخلوقات سے پہلے وہی تھا اور تمام مخلوقات کے بعد وہی رہے گا نہ اس پر عدم سابق طاری ہوا اور نہ عدم لاحق طاری ہوگا جیسا کہ عام مخلوقات دو عدموں کے درمیان ہے سابق میں بھی معدوم تھی اور عدم لاحق کے بعد پھر معدوم ہوگی اور وہ اپنے مطلق وجود او شئونات بےپایا کے اعتبار سے ظاہر اور کنہ ذات کے اعتبار سے بالکل مخفی اور پوشیدہ ہے یعنی کوئی اس کی ذات کا ادراک نہیں کرسکتا اور وہ ہر شئی سے خوب واقف ہے یعنی ہر شئی کو من کل الوجو وہ جانتا ہے اور خودمن وجہ معلوم اور من وجہ نامعلوم۔ سبحانہ ا اعظم شانہ۔
Ayah 57:4

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ مَعَكُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 57:4 in the Quran reader

وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو چھ دن کی مقدار میں پیدا کیا پھر اپنی شان کے موافق عرش پر قائم اور جلوہ گر ہوا جو چیز زمین میں داخل ہوتی ہے اور جو اس سے نکلتی ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو اس میں چڑھتا ہے وہ سب کو جانتا ہے اور وہ تمہارے ساتھ رہتا ہے خواہ تم کہیں بھی ہو اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سب کو دیکھتا ہے۔

(4) وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو چھ دن کی مقدار میں پیدا کیا پھر اپنی شان کے موافق عرش پر قائم اور جلوگر ہوا جو چیز زمین میں داخل ہوتی ہے اس کو بھی جانتا ہے اور جو چیز زمین سے نکلتی ہے اس کو بھی جانتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ آسمان میں چڑھتا ہے وہ سب کو جانتا ہے اور وہ تمہارے ساتھ رہتا ہے خواہ تم لوگ کہیں بھی ہو اور جو عمل تم لوگ کرتے ہو اللہ تعالیٰ نے اس سب کو دیکھتا ہے - چھ دن کی مقدار کا زمانہ اس زمانے میں آسمان و زمین کو پیدا کردیا۔ جیسا کہ سورة فصلت میں گزرچکا ہے عرش پر قائم ہونا اور جلوہ گر ہونا یعنی تمام احکام عرش الٰہی سے جاری ہوتے ہیں چونکہ اس کے استواء کی کیفیت مجہول اور ادراک سے مادرا ہے اس لئے ہم نے اپنی شان کے موافق جلوہ گر ہوا ترجمہ کیا ہے جو چیز زمین میں داخل ہوتی ہے مثلاً بارش ، حرارت، بیج اور گٹھلی وغیرہ زمین سے نکلتی ہے نباتات وغیرہ سونا ، چاندی، کوئلہ اور مختلف قسم کی دھاتیں آسمان سے اترنا فرشتے احکام بارش وغیرہ آسمان میں چڑھنا ملائکہ بندوں کے اعمال مظلوم کی دعائیں کلمہ توحید وغیرہ اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں کو دیکھتا ہے اور اپنے علم کے اعتبار سے ہر وقت تمہارے ساتھ رہتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کے احاطہ علمی سے تم اور تمہارے اعمال گھرے ہوئے ہیں خواہ تم کہیں بھی ہو۔
Ayah 57:5

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 57:5 in the Quran reader

آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اسی کی ہے اور اللہ ہی کی طرف تمام امور کی باگشت ہے۔

(5) اسی کا راج ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور آسمانوں اور زمین کی سلطنت اسی کے لئے ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف تمام امور کی بازگشت ہے - یعنی تمام اجسام ہوں یا اعمال سب اسی کے حضور میں پھرنے والے اور پیش ہونے والے ہیں۔
Ayah 57:6

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ؕ وَ هُوَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 57:6 in the Quran reader

وہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور وہی دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور ووہ سینوں کی تمام باتوں سے واقف ہے۔

(6) وہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور وہی دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور دل کی تمام پوشیدہ اور مخفی باتوں کو جانتا ہے۔ یعنی رات کے اجزاء دن میں شامل کردیتا ہے جس سے دن بڑا ہوجاتا ہے اور جب دن کے اجزا رات میں شامل کردیتا ہے تو رات بڑی ہوجاتی ہے جیسا کہ روز مرہ کا مشاہدہ ہے اور وہ سینوں تک کی تمام باتیں جانتا ہے۔
Ayah 57:7

اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْهِ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ اَنْفَقُوْا لَهُمْ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 57:7 in the Quran reader

تم لوگ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائو اور اس مال میں سے خیرات کرو جس مال میں خدا نے دوسروں ککا تم کو قائم مقام کیا ہے سو جو لوگ تم میں سے ایمان آئیں اور خیرات کریں ان کو بہت بڑا اجر ملے گا۔

(7) تم لوگ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لائو اور اس مال میں خیرات کرو جس مال میں اللہ تعالیٰ نے اگلے اور گزشتہ لوگوں کی جگہ تم کو قائم مقام اور جانشین کیا ہے سو جو لوگ تم میں سے ایمان لے آئیں اور خیرات کریں ان کو بڑا اجر ملے گا اور ان کے لئے بڑی مزدوری اور بڑا نیگ ہے۔ یعنی تم نے اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کے اقتدار اور اس کی وسعت حکومت کا حال سن لیا تو اتنے بڑے مالک املک کے احکام مانو اور اس کی توحید اور اس کی وحدانیت اور اس کے رسول ﷺ کی رسالت پر ایمان لے آئو اور ایمان لاکر اپنے اس مال میں سے خیرات کرو جس مال میں تم کو اللہ تعالیٰ نے دوسرے گزشتہ لوگوں کا جانشین بنایا ہے سبحان اللہ مال کی تعریف میں خوف فرمایا۔ وانہ قواما جعلکم مستخلفین فیہ کہ یہ مال وہی تو ہے جو تم سے پہلے کسی اور کے پاس تھا اور تمہارے مرنے کے بعد کسی اور کے پاس ہوگا تو اس مال میں سے کچھ حصہ خیرات کردو کیونکہ کل جب تمہارے پاس نہ رہے گا تو خالی ہاتھ رہ جائو گے آگے بشارت ہے کہ جو لوگ ایمان لے آئیں گے اور ایمان لاکر خیرات کریں گے تو ان کو اجر کبیر دیا جائے گا اس نفاق سے مراد یا تو زکوٰۃ ہے یا عام خیرات و صدقات مراد ہوسکتے ہیں۔
Ayah 57:8

وَ مَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّكُمْ وَ قَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 57:8 in the Quran reader

اور تم کو کیا ہوا کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ رسول تم کو اس بات کی دعوت دے رہا ہے کہ تم اللہ پر ایمان لائو اور تم سے تو خود اللہ تعالیٰ پختہ عہد لے چکا ہے بشرطیکہ تم باور کرو۔

(8) اور تم کو کیا ہوا کہ تم اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ رسول اللہ ﷺ تم کو اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی دعوت دے رہے ہیں اور تم کو ایمان باللہ کی جانب بلا رہے ہیں کہ تم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائو اور بلا شبہ تم سے تو خود اللہ تعالیٰ پختہ عہد لے چکا ہے بشرطیکہ تم باور کرو اور تم کو ایمان لانا ہو۔ یعنی ایمان لانے میں کیوں توقف کررہے ہو اور تم کو کیا چیز مانع اور حارج ہے جبکہ ایمان کے دواعی موجود ہیں اول تو رسول اللہ ﷺ تم کو ایمان کی دعوت دے رہے ہیں پھر تم سے اللہ تعالیٰ نے خودبھی عہد لے چکا ہے یعنی یوم میثاق میں الست بربکم فرما کر تم سے عہد لیات ھا اور تم نے بلیٰ کہا تھا تو اگر تم کو ایمان لانا ہو تو رسول کی دعوت اور تمہارا اپنا عدہ خدا کے ساتھ تمہارے ایمان لانے کے لئے کافی داعیہ اور متحرک موجود ہے۔ آگے رسول اللہ ﷺ کے مرتبے کی اور وضاحت فرماتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اللہ قرار لے چکا ہے دنیا میں آنے سے پہلے اور اس کا اثر رکھ دیا ہے دل میں۔
Ayah 57:9

هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰى عَبْدِهٖۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 57:9 in the Quran reader

وہ اللہ تعالیٰ وہ ہے جو اپنے بندے یعنی محمد ﷺ پر صاف صاف آیتیں نازل کرتا ہے تاکہ وہ تم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی جانب لاتے اور بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے حال پر بڑا شفیق اور نہایت مہربان ہے۔

(9) وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جو اپنے بندے محمد ﷺ پر صاف اور واضح آیتیں اور کھلی کھلی نشانیاں نازل فرماتا ہے تاکہ وہ تم کو تاریکیوں اور اندھیروں سے نکال کر روشنی اور اجالے کی جانب لے آئے بلا شبہ اللہ تعالیٰ تمہارے حال پر بڑا شفیق اور نہایت مہربان ہے - یعنی قرآن میں دلائل توحید بہت صاف اور واضح نازل فرمائے یا محمد ﷺ کو بڑے کھلے معجزات عطا فرمائے تاکہ وہ کفر کی تاریکیوں سے تم کو اسلام کی تعلیم اور اس کی ہدایات کی روشنی میں نکال لائے اس کی شفقت اور مہربانی یہی ہے کہ تمہارے لئے روحانی اور مادی سامان مہیا کرتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ لیخرجکم سے مراد عبد ہو یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں کہ محمد ﷺ تم کو کفر کی اندھیریوں سے ہدایت کی روشنیوں کی جانب نکال لائیں۔
Ayah 57:10

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْا١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 57:10 in the Quran reader

اور تم کو کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ آسمان و زمین کی سب میراث آخر میں اللہ ہی کے لئے ہے اور تم میں سے جن لوگوں نے فتح مکہ سے قبل خدا کی راہ میں خرچ کیا اور جہاد کیا وہ بعد والوں کے برابر نہیں ہیں بلکہ وہ پہلے لوگ مرتبہ کے اعتبار کے اعتبار سے ان لوگوں سے بہت بڑھے ہوئے ہیں جنہوں نے فتح مکہ کے بعد خدا کی را ہ میں خرچ کیا اور جہاد کیا ہاں اللہ تعالیٰ نے بھلائی یعنی جنت کا وعدہ ہر ایک سے کررکھا ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے پوری طرح باخبر ہے۔

(10) اور تم کو کیا ہوگیا کہ تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ آسمان و زمین کی سب میراث آخر میں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے اور تم میں سے جن لوگوں نے فتح مکہ سے پہلے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیا اور جہاد کیا وہ بعد والوں کے برابر نہیں ہیں بلکہ یہ پہلے حضرات ان لوگوں سے جنہوں نے فتح مکہ کے بعد اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیا اور فی سبیل اللہ جہاد کیا مرتبے اور درجے میں بہت بڑے ہیں اور ہاں اللہ تعالیٰ نے بھلائی ثواب اور جنت کا وعدہ ہر ایک سے کررکھا ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے پوری طرح باخبر ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ہر کچھ نہ بچ رہتا ہے یعنی مالک فنا ہوجاتا ہے اور ملک اللہ کو بچ رہتا ہے اور ہمیشہ اسی کا مال تھا۔ فتح سے پہلے یعنی فتح مکہ سے پہلے جنہوں نے خرچ کیا اور جہاد کیا دے بڑے درجے لے گئے۔ یعنی جب سب مال کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے کیونکہ میراث کا وارث وہی ہوا کرتا ہے جو مرنے کے بعد زندہ رہے اور اللہ تعالیٰ سب کے فنا ہوجانے کے بعد باقی رہنے والا ہے تو وہی سب کی میراث کا مستحق ہے اس لئے فرمایا آسمان و زمین کی میراث اسی کی ہے آسمان کا ذکر شاید اس لئے فرمایا کہ وہاں تو کسی کی ملک ہی نہیں جس طرح بلا شرکت غیرے وہ آسمان کا مالک ہے اسی طرح زمین کا بھی بلا شرکت غیرے مالک ہے لیکن یہاں چونکہ مجازاً زندہ انسانوں کو مالک کہا جاتا ہے اگرچہ حقیقی مالک وہی ہے اور اس کی مجاز کی بنا پر اور مستخلفین فیہ فرمایا تھا کہ ایک دوسرے کا جانشین ہوتا رہتا ہے لیکن جب سب فنا ہوجائیں اور مجاز مٹ جائے تو سب کچھ اللہ ہی کا ہے اس لئے لوگ کو ترغیب ہو کہ جب اولوآخر وہی مالک ہے تو لائو جو ہوسکے اسکی راہ میں خرچ کردو اور فتح مکہ سے قبل خیرات کرنے والوں اور جہاد کرنیوالوں اور فتح مکہ کے بعد خیرات کرنے والوں کا فرق بیان فرمایا اور یہ ایک کھلا ہوا فرق ہے۔ ابتدائی بےسروسامانی کی حالت جبکہ ترقی کی کوئی امید نہ ہو اس دور کے وفا دار یقینا قابل ستائش اور اس دور کے مسلمانوں سے درجے میں بلند ہوں گے جنہوں نے بعد میں اقتدار حاصل ہوجانے اور غلبہ حاصل ہوجانے کے بعد ہاتھ بڑھایا اور اپنی جانیں قربان کیں اگرچہ حسنیٰ یعنی بھلائی یا ثواب یا جنت کا وعدہ ہر ایک فریق سے ہے یعنی پہلے مجاہدین اور منفقین سے بھی اور بعد کے مجاہدین اور منفقین سے بھی یعنی جنت میں دونوں جائیں گے لیکن درجات میں تفاوت ہوگا۔ ہم والمحصنت پانچویں پارے کی تسہیل میں تفصیل عرض کرچکے ہیں انفاق فی سبیل اللہ اور جہاد میں خلوص کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ اس لئے آخر میں فرمایا کہ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے واقف اور باخبر ہے یعنی اعمال جوارح سے بھی واقف ہے اور قلب کے خلوص سے بھی آگے پھر خیرات کرے والوں کا ذکر ہے۔
Ayah 57:11

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَ لَهٗۤ اَجْرٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 57:11 in the Quran reader

کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرضہ حسنہ کے طور پر قرض دے پھر اللہ تعالیٰ اس شخص کے لئے اس دیئے ہوئے کو بڑھا دے اور اسی کے ساتھ اس کے لئے باعزت صلہ بھی ہو۔

(11) کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو خوش دی اور خلوص کے ساتھ قرض دے پھر اللہ تعالیٰ اس قرض کے ثواب کو بڑھا دے اور دوگنا کردی اور اسی کے ساتھ اس کے لئے باعزت صلہ اور اجر بھی ہو۔ قرض حسنہ یعنی اللہ تعالیٰ کی راہ میں خوش دلی اور خلوص کے ساتھ خیرات کرے خدا کی راہ میں خیرات کرنے کو قرض فرمایا تاکہ خیرات کرنے والے کو اطمینان ہو کہ اس کی ادائیگی اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے اس کو یعنی اس کے ثواب کو بڑھادیں گے دنیا میں خیرات کانفع پہنچے گا اور آخرت میں بھی باعزت اجر ملے گا۔ مطلب یہ کہ کمیت میں اجر کی زیادتی ہوگی اور کیفیت میں بھی ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں قرض کے معنی یہ کہ اس وقت خرچ کرو جہاد میں پھر تمہیں دولتیں برتو گے اور یہی معنی دونے کے مالک میں اور غلام میں بیاض نہیں جو دیا سوا اسکا جو نہ دیا سو اس کا۔ یہ شاید اس زمانے کے بعض جاہل سود خواروں کا جوب ہے کہ جب خدا خود سود دیتا ہے تو ہمارے سود کھانے کو کیوں حرام کرتا ہے نعوذ باللہ۔ شاہ صاحب (رح) نے خود فرمایا کہ آقا اور غلام میں سود کا بنج نہیں ہوا کرتا کیونکہ جو کچھ غلام کے پاس ہے وہ سب آقاہی کا ہے۔
Ayah 57:12

یَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۚ Open ayah 57:12 in the Quran reader

اے نبی وہ دن قابل ذکر ہے جس دن آپ ایمان دار مردوں اور ایمان دار عورتوں کو اس حال میں دیکھیں گے کہ ان کا نور تیز رفتار سے ان کے آگے اور ان کے داہنی جانب چلتا ہوگا کہا جائیگا کہ آج تم کو ای سے باغوں کی خوشخبری دی جاتی ہے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اور ان باغوں میں ہمیشہ رہیں گے یہ نور اور بشارت ہی تو بہت بڑی کامیابی ہے۔

(12) وہ دن قابل ذکر ہے جس دن آپ ایماندار مردوں اور ایمان دار عورتوں کو اس حال میں دیکھیں گے کہ ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں جانب تیز رفتار سے چلتا ہوگا اور دوڑتا ہوگا کہا جائیگا کہ آج تم کو ایسے باغوں کی خوشخبری ہو جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ نور اور بشارت ہی تو بڑی کامیابی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جس وقت پل صراط پر چلیں گے سخت اندھیرا ہوگا اپنے ایمان کی روشنی آگے ہوگی اور داہنے کو نیک عمل داہنی طرف جمع ہوتے ہیں۔ خلاصہ : یہ ہے کہ پل صراط پر گزرنے ہی میں نیکوں کو بشارتیں ملنے لگیں گی۔
Ayah 57:13

یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْ١ۚ قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا١ؕ فَضُرِبَ بَیْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ١ؕ بَاطِنُهٗ فِیْهِ الرَّحْمَةُ وَ ظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُؕ Open ayah 57:13 in the Quran reader

اس دن منافق مرد اور منافق عورتیں اہل ایمان سے یوں کہتے ہوں گے کہ ذرا ہمارا انتظار کرلو کہ ہم بھی تمہاری روشنی سے کچھ روشنی حاصل کرلیں ان سے کہاجائیگا اپنے پیچھے کی جانب الٹے ہی لوٹ جائو اور وہاں روشنی تلاش کرو اتنے میں ان منافقوں اور مومنوں کے درمیان ایک ایسی دیوارقائم کردی جائیگی جس میں ایک دروازہ ہوگا اس دیوار کے اندرونی جانب رحمت ہوگی اور بیرونی جانب اس کے عذاب ہوگا

(13) اس دن منافق مرد اور منافق عورتیں ایمان والوں سے کہیں گے ذرا ہمارا انتظار کرلو کہ ہم بھی تمہاری روشنی سے کچھ روشنی حاصل کرلیں ان سے کہا جائیگا تم اپنے پیچھے کی جانب الٹے ہی لوٹ جائو اور وہاں روشنی اور نور تلاش کرو۔ اتنے میں ان منافقوں اور مومنوں کے مابین ایک ایسی دیوار قائم کردی جائے گی جس میں دروازہ ہوگا اس دیوار کے باطنی اور اندرونی جانب رحمت ہوگی اور بیرونی جانب اس کے عذاب ہوگا۔ منافق وہ جس کا اعتقاد صحیح نہ ہو مسلمانوں کے دککھانے کو اچھے کام کرتا ہو ہوسکتا ہے کہ پہلے ان کو بھی کچھ روشنی ملے ظاہری اعمال کی پھر وہ سلب کرلی جائے اور مومن اپنی روشنی میں آگے بڑھتے چلے جائیں یہ اندھیرے میں ان کو پکاریں وہ کہیں جائو جہاں سے صراط پر چلے تھے وہاں سے روشنی حاصل کردیا دنیا میں جاکر اعمال کی روشنی لائو بہرحال بیچ میں دیوار قائم ہوجائیگی منافق کافروں کی طرف رہ جائیں گے اور مومن صراط سے پار ہوجائیں گے ۔ بعض نے کہا یہ اعراف کے لوگ ہوں گے۔ بہرحال : ایک فریق ادھر ہوجائیگا عذاب کی جانب اور دوسرا فریق رحمت یعنی جنت کی جانب۔
Ayah 57:14

یُنَادُوْنَهُمْ اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ وَ تَرَبَّصْتُمْ وَ ارْتَبْتُمْ وَ غَرَّتْكُمُ الْاَمَانِیُّ حَتّٰى جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ غَرَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 57:14 in the Quran reader

یہ منافق مسلمانوں کو پکارکر کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے وہ جواب دیں گے کہ تم ہمارے ساتھ تھے تو سہی لیکن تم نے اپنے کو گمراہی میں مبتلا کررکھا تھا اور تم ہم پر حوادثات کے منتظر رہا کرتے تھے اور تم دین کی طرف سے شک میں پڑے ہوئے تھے اور تمہاری غلط آرزوئوں نے تمکو دھوکے میں ڈال رکھا تھا یہاں تک کہ خدا کا حکم آپہنچا اور اللہ کے بارے میں تم کو اس دھوکے باز یعنی شیطان نے دھوکہ میں مبتلا رکھا۔

(14) یہ منافق مسلمانوں کو پکار کر کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے وہ کہیں گے بیشک تم ہمارے ساتھ تھے لیکن تم نے اپنے آپ کو گمراہی میں مبتلا کررکھا تھا اور تم ہم پر حوادثات کا انتظار کیا کرتے تھے اور تم شک رکھتے تھے اور تمہاری غلط امیدوں اور آرزوئوں نے تم کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا یہاں ت کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آپہنچا یعنی تم کو موت آگئی اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں تمکو اس دھوکے باز یعنی شیطان نے دھوکہ میں مبتلا رکھا۔ یعنی بظاہر نماز روزے میں شریک تھے لیکن تم نفاق کی گمراہی میں مبتلا تھے اور تم نے اپنے آپ کو نفاق کے فتنے میں ڈال رکھا تھا اور تم توحید اور پیغمبر کے متعلق شک کیا کرتی تھے اور حوادثات کے منتظر رہتے تھے کہ مسلمان کب مٹیں اور ان کا دین کب ختم ہو اور تم کو تمہاری بیہودہ تمنائوں نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا تم آخر تک اسی حالت میں رہے یہاں تک کہ موت آگئی اور تم کو شیطان نے اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ دھوکے میں ڈال رکھا تھا وہ دھوکہ یہ کہ اللہ تعالیٰ تم سے کوئی باز پرس اور مواخذہ نہیں کرے گا۔
Ayah 57:15

فَالْیَوْمَ لَا یُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْیَةٌ وَّ لَا مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ١ؕ هِیَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 57:15 in the Quran reader

غرض آج نہ تو تم منافقوں سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ ان لوگوں سے جنہوں نے کفر کیا اور تم سب کا ٹھکانا دوزخ ہے وہ دوزخ ہی تمہارے لائق ہے اور وہ بازگشت کی بہت بڑی جگہ ہے۔

(15) غرض آج نہ تو تم منافقوں سے کوئی معاوضہ اور فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ ان لوگوں سے جنہوں نے کھلے کفر اور انکار کا ارتکاب کیا اور تم سب کا ٹھکانہ جہنم اور آگ ہے وہی تمہارے لائق اور تمہاری رفیق ہے اور وہ پھرجانے اور بازگشت کی بری جگہ ہے۔ یعنی اول تو یہاں فدیہ دینے ہی کو کچھ نہیں اور بفرض محال کچھ ہو بھی تو آج معاوضے اور فدیہ کا سوال ہی نہیں نہ منافقوں سے اور نہ کافروں سے آج ٹھکانہ جہنم کی آگ ہے وہی تمہارے رہنے کی جگہ ہے اور وہی تمہارے لائق اور تمہاری رفیق ہے اور وہ لوٹ کر جانے کی بری جگہ ہے۔
Ayah 57:16

اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ لَا یَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْهِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:16 in the Quran reader

کیا مسلمانوں کے لئے ابھی تک وہ وہقت نہیں آیا کہ ان کے دل خدا کی نصیحت اور اس دین حق کے سامنے جو نازل ہوا ہے جھک جائیں اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو ان سے پہلے کتاب دی گئی تھی پھر ان پر ایک طویل مدت گزر گئی پس ان کے دل سخت ہوگئے اور اب ان کی حالت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر دین سے خارج ہیں۔

(16) کیا مسلمانوں کے لئے ابھی تک وہ وقت نہیں آیاکہان کے قلوب اللہ تعالیٰ کے ذکر اور چور دین حق منجانب اللہ نازل ہوا ہے اس کے سامنے جھک جائیں اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو ان سے پہلے کتاب دی گئی تھی پھر ان پر ایک طویل اور لمبی مدت گزر گئی ، سو ان کے دل سخت ہوگئے، اور اب ان کی حالت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر فاسق اور دین سے خارج ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی وہی ہے کہ دل نرم ہو پیغمبروں کی صحبت میں یہ پاتے تھے مدت کے بعد سخت ہوگئی اور اب یہ صفت مسلمانوں کو چاہیے۔ شاید مکہ میں جس مسلمان رہتے تھے اور تنگی سے گزر ہوتی تھی اور مدینے میں آکر وہ عسرت دور ہوگئی اور مسلمانوں میں کچھ سستی پیدا ہوئی اس پر یہ آیت اتری۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں ہمارا اسلام لانے اور اس سرزنش اور تنبیہ میں عرصہ چار سال کا ہے یعنی اتنے جلدی ہم کو تنبیہہ کی گئی بہرحال شان نزول کچھ بھی ہو عام طبائع کا یہ حال ہے کہ جوں جوں زمانہ گزرتا ہے دلوں سے ایمانی قوت اور اعمال صالحہ کا شوق اور مستحبات کی رعایت کم ہوتی جاتی ہے اس لئے فرمایا کہ مسلمانوں کو خشوع سے کام لینا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کی نصیحت اور دین حق کی خدمت کے لئے ہر وقت کمر بستہ اور جھکے رہنا چاہیے اہل کتاب کی طرح زمانے اور مدت دراز کے گزارنے سے تمہارے دل اہل کتاب کی طرح سخت نہ ہوجائیں اور اللہ تعالیٰ کے ذکر اور دین حق کی محبت کم نہ ہوجائے اور فسق تک نوبت نہ ہوجائے۔ ہوسکتا ہے کہ مکہ کی تکالیف کے مقابلے میں مدینے کے عیش اور راحت سے بعض لوگوں کے اعمال میں کچھ اخلال ہوا جیسا کہ ہم نے عرض کیا ہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے مراتب علیا کے اعتبار سے ان کو سردنش اور تنبیہ فرمائی ہو لیکن آج کل کا دور تو اس کا مقتضی ہے کہ اس آیت پر مسلمان بار بار غور کریں اور اپنی مجالس میں پڑھیں اور دیکھیں کہ ان کی حالت کہاں سے کہاں پہنچ چکی ہے۔ شاید یاد ہوگا میں نے تیسیر میں کہیں صراحتہً کہیں اشارۃً کئی مرتبہ عرض کیا کہ ایک کوتاہی سے دوسری غلطی اور کوتاہی نشونما پاتی ہے اور ایک غلطی سے دوسری غلطی پیدا ہوتی ہے یہاں تک کہ آہستہ آہستہ ان کوتاہیوں کے اثر سے قلب کی حالت بگڑتی جاتی ہے اور نوبت قساوت بلکہ غلف اور طبع اور ختم تک پہنچ جاتی ہے اور یہ آپ جانتے ہی ہیں کہ اس قسم کی سب بیماریوں کا علاج توبہ اور انابت الی اللہ اور حضرت حق کی جانب رجوع ہونا ہے لفظ خشوع سے اس آیت میں اسی کو ظاہر فرمایا ہے۔ ان تخشع قلوبھم لذکر اللہ مانزل من الحق۔ ہم نے ترجمہ میں جھک جانا کیا ہے۔ مطلب یہی ہے کہ جب کوئی ایسی حرکت سرزد ہو تو فوراً توبہ کرو اور اللہ کی طرف رجوع ہوجائو پھر حالت درست کردی جائیگی کوئی نعمت اسلام سے بہتر نعمت نہیں ہے اور کوئی شغل طاعت اور عبادت سے بڑھ کر شغل نہیں ہے اور کوئی عبرت موت سے بڑھ کر عبرت نہیں ہے۔ یہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے قول کا ترجمہ ہے جو میں نے عرض کیا۔ بہرحال صحابہ کرام ؓ بڑے مرتبے کے لوگ تھے پیغمبر خدا کی ان کو صحبت میسر تھی جب ان کو تھوڑی سی بات میں تنبیہ ہوگئی تو ہم کس شمار میں ہیں۔ بعض حضرات نے یہ بھی فرمایا کہ الم یان للذین امنوا سے مخلص مسلمان مراد نہیں ہیں بلکہ منافق مراد ہیں اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ زبان سے ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں کیا ان کے لئے یہ وقت نہیں آیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نصیحتوں اور دین حق اور قرآن کے لئے خشوع اختیار کریں اور سچے دل سے مسلمان ہوجائیں اس کی طرف آگے بھی اشارہ ہے کہ توبہ کرنا ایسا ہے جیسے مردہ زمین کا زندہ ہوجانا چناچہ ارشاد فرمایا۔
Ayah 57:17

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 57:17 in the Quran reader

اس بات کا یقین کرو کہ اللہ تعالیٰ زمین کو اس کے مرنے یعنی خشک ہوجانے کے بعد زندہ کردیتا ہے ہم نے تم سے اپنے دلائل واضح طور پر بیان کردیئے ہیں تاکہ تم عقل سے کام لو۔

(17) اس بات کو جان لو اور اس بات کا یقین کرلو کہ اللہ تعالیٰ زمین کو اس کے مرنے یعنی خشک ہوجانے کے بعد زندہ کردیتا ہے ہم نے تم سے اپنے دلائل واضح طور پر بیان کردیئے ہیں تاکہ تم سمجھو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی عرب کے لوگ جاہل تھے جیسے مردہ زمین اب ان کو جلایا اور ان میں سب کمال پیدا کردیئے۔ یعنی حالت کفر کو مری ہوئی زمین سے تشبیہہ دی ایمان لانا اور گناہوں سے توبہ کرنا ایسا ہے جیسے خشک زمین پر بارش ہوگئی اس لئے اگر توبہ کرتے رہو گے تو نیکیوں کی کھیتی خشک نہ ہوگی یہ سوچنے سمجھنے کی بات ہے۔
Ayah 57:18

اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَهُمْ وَ لَهُمْ اَجْرٌ كَرِیْمٌ Open ayah 57:18 in the Quran reader

بلا شبہ صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ یعنی خلوص کے ساتھ قرض دیتے رہتے ہیں ان کے لئے اس صدقہ کو دوچند کردیا جائے گا اور ان لوگوں کو باعزت اجر ملے گا۔

(18) بلاشبہ صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو خوش دلی اور خلوص کے ساتھ قرض دیا ان کے لئے اس صدقہ کے ثواب کو بڑھا دیا جائے گا اور دو چند کردیا جائیگا اور ان لوگوں کو باعزت اور پسندیدہ ثواب ملے گا۔ آیت کی تفسیر اوپر گزر چکی ہے صدقہ بڑھادیا جائے گا یعنی صدقہ کا ثواب بڑھادیاجائے گا۔
Ayah 57:19

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ١ۖۗ وَ الشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَ نُوْرُهُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ Open ayah 57:19 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں تویہی لوگ اپنے رب کے نزدیک سچے اور گواہی دینے والے ہیں ان لوگوں کے لئے ان کا اجر اور ان کا نور ہوگا اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کی تکذیب کی تو یہی لوگ اہل جہنم ہیں۔

(19) اور جو لوگ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں تو یہی لوگ اپنے پروردگار کے ہاں سچے اور گواہی دینے والے ہیں ان لوگوں کے لئے ان کا خاص اجر اور ان کا نور ہوگا اور جن لوگوں نے کفر کا شیوہ اختیار کیا اور ہماری آیتوں کی تکذیب کی تو یہی لوگ اہل جہنم ہیں۔ یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر کامل ایمان رکھتے ہیں تو یہی لوگ اپنے پروردگار کے پاس سچے یعنی صدیق ہوں گے اور گواہی دینے والے یا شہید ہوں گے ان کو جنت میں ان کے خاص اجر سے نوازا جائے گا ان کے لئے عالم آخرت کی ہر تاریکی کے موقع پر ان کو روشنی اور نور میسر ہوگا۔ شہید کا ترجمہ بعض حضرات نے گواہ کیا ہے تب یہ مطلب ہوگا کہ قیامت کے دن لوگوں پر گواہی دینے والے ہوں گے اور انبیاء کی تائید کرنے والوں میں شامل ہوں گے اور بعض حضرات نے شہید کیا ہے تب یہ مطلب ہوگا کہ کمال ایمان کے باعث یہ صدیق بھی ہوں گے اور شہید بھی۔ جیسا کہ پانچویں پارے میں گزرچکا ہے ہم نے دونوں ہی باتیں ذکر کردی ہیں ۔ بہرحال اللہ تعالیٰ کے ہاں صدیقیت اور شہادت کا مرتبہ انہی کو میسر ہوگا جو کامل ایمان والے ہوں گے رہے کافر اور مکذبین بآبت اللہ اہل جہنم ہوں گے اب آگے دنیا کی بےثباتی کا اظہار ہے۔
Ayah 57:20

اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ١ؕ كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًا١ؕ وَ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ۙ وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 57:20 in the Quran reader

تم خوب جان لو کہ دنیا کی زندگی تو بس یہی ایک جی کا بہلانا اور کھیل ہے اور ظاہری آرائش ہے اور آپس میں ایک دوسرے پر فخر کرنا اور اموال واولاد میں ایک دوسرے سے اپنے کو زیادہ بتلانا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے بارش کہ اس کی پیداوار کاشتکاروں کو خوش کرتی ہے پھر وہ خشک ہوجاتی ہے پھر اے مخاطب تو اس کو دیکھتا ہے کہ وہ زرد پڑگئی پھر وہ چورا چورا ہوجاتی ہے اور آخرت کی کیفیت یہ ہے کہ اس میں سخت عذاب ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفرت اور رضامندی ہے اور دنیا کی زندگی تو محض ایک سرمایہ فریب ہے۔

(20) خوب جان لو کہ دنیا کی زندگی تو بس یہی ایک جی کا بہلانا اور کھیل ہے اور ظاہری آرائش اور آپس میں ایک دوسرے پر فخر کرنا اور اموال اور اولاد میں ایک کا دوسرے سے اپنے کو زیادہ بتلانا اور مال و اولاد کی زیادہ طلبی اس کی مثال ایسی ہے جیسے بارش اور برکھا کہ اس کی نباتات کاشت کاروں کو خوش کرتی ہے۔ پھر وہ خشک ہوجاتی ہے پھر اے مخاطب تو اس کو دیکھتا ہے کہ وہ زرد پڑگئی پھر وہ چوراچورا ہوجاتی ہے اور آخرت کی کیفیت یہ ہے کہ اس میں سخت عذاب اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بخشش اور رضامندی و خوشنودی ہے اور دنیا کی زندگی نہیں ہے مگر ایک سرمایہ فریب اور دھوکے کی ٹٹی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں آدمی کو اول عمر میں کھیل چاہیے پھر تماشا پھر بنائو درست کرنا پھر ساکھے کرنے اور نام حاصل کرنا اور مرنا قریب آوے تب فکر مال اور اولاد کہ پیچھے میرا گھر بنا رہے آسودہ یہ سب دغا کی جنس ہے آگے کام آوے گا کچھ اور یہ کچھ کام نہ آوے۔ خلاصہ : یہ ہے کہ کھیل کود، بےہودہ شغل اور مشاغل اور آراستگی بڑے بڑے سامان شادی بیا ہوں میں تفاخر ایک دوسرے کے مقابلے میں شہرت اور مال واولاد کی کثرت یہ تمام دنیوی زندگی کا خلاصہ ہے اور یہ سب ایسا ہی ہے مینہ برسا کھیتی اگی وقت پر مزید پانی نہ ملنے سے زرد ہوگی خشک ہوئی اور ہوا میں چورا چورا ہوکر اڑتی پھری اور معاملہ تمام ختم ہوگیا تو یہ زندگی سوائے اس کے ایک دھوکے کا سودا ہے اس سے زیادہ اور کیا ہے۔ رہا عالم آخرت جس کو دارالجزاء کہتے ہیں وہاں نافرمان لوگوں کے لئے سخت ترین عذاب اور فرمانبرداروں کے لئے بخشش اور پروردگار عالم کی رضامندی اور خوشنودی اب آگے مغفرت کی جانب لپکنے اور مغفرت کا سامان مہیا کرنے کی ترغیب ہے۔
Ayah 57:21

سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 57:21 in the Quran reader

تم اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف بڑھے چلو جس کا عرض ایسا ہے جیسا آسمان و زمین کا پھیلائو وہ جنت ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں یہ مغفرت وجنت اللہ تعالیٰ کا فضل ہے وہاپنا فضل جس کو چاہے عنایت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے۔

(21) تم اپنے پروردگار کی بخشش و مغفرت اور اس جنت کی طرف لپکو اور بڑھے چلو اور بڑھنے میں جلدی کرو جس جنت کا عرض ایسا ہے جیسا آسمان و زمین کا پھیلائو اور جس کی وسعت ایسی ہے جیسے آسمان و زمین کی وسعت وہ جنت ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو اللہ تعالیٰ پر اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں یہ مغفرت اور جنت اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کا احسان ہے وہ اپنا فضل جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے اور بڑے فضل و احسان کا مالک ہے۔ اوپر کی آیت میں مغفرت اور رضوان کا ذکر فرمایا تھا اس آیت میں اس کی طرف بڑھے چلنے کا ذکر ہے۔ یعنی بھلائیوں میں سبقت کرو اور قدم بڑھائے چلو۔ یہ مغفرت اور جنت کی طرف بڑھنا یا یہ جنت اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور فضل ان کی مشیت پر ہے اس لئے اپنی بھلائیوں پر تکیہ اور بھروسہ نہ کرلو اگر چہ اس نے اپنی رحمت سے نیک عمل کرنے والوں سے اپنی مشیت متعلق کرلی ہے اس لئے جنت کی امیدرکھو اور اس کی گرفت سے ڈرتے رہو آگے ایک اور مرتبے کا ذکر ہے۔
Ayah 57:22

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌۚۖ Open ayah 57:22 in the Quran reader

کوئی آفت و مصیبت خواہ وہ دنیا میں واقع ہو یا خاص طور پر تم کو پہنچے الا یہ کہ وہ اس سے پہلے کہ ہم اس کو پیدا کریں وہ ایک کتاب یعنی لوح محفوش میں لکھی ہوئی ہے بیشک یہ قبل از وقوع کتاب میں لکھ دینا اللہ پر بہت آسان ہے۔

(22) کوئی آفت و مصیبت خواہ وہ دنیا میں واقع ہو یا خاص طور پر تم کو پہنچے الا یہ کہ وہ اس سے پہلے کہ ہم اس مصیبت کو پیدا کریں وہ ایک کتاب یعنی لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے بیشک یہ قبل از وقوع کتاب میں لکھ دینا اللہ تعالیٰ پر بہت آسان ہے۔ یعنی مصیبت کوئی داخلی ہو یا خارجی ہو عام ہو یا خاص ہو وہ دنیا میں واقع ہونے اور ظاہر ہونے سے پہلے لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہوتی ہے اور یہ ہم پر لوح محفوظ کا انداراج بہت آسان ہے کیونکہ وہ علم غیب رکھتا ہے اور اس کا علم سب کو محیط ہے۔
Ayah 57:23

لِّكَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِۙ Open ayah 57:23 in the Quran reader

تم کو یہ اس لئے بتادیا ہے تاکہ جو چیز تمہارے ہاتھ نہ لگے تم اس پر رنجیدہ نہ ہوا کرو اور جو وہ تم کو عطا کردے تم اس پر اترایا نہ کرو اور اللہ تعالیٰ کسی اترانے والے خود ستائی کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔

(23) اور تم کو اس لئے بتایا دیا اور سکھا دیا تاکہ جو چیز تم سے فوت ہوجائے اور تمہارے ہاتھ نہ لگے تم اس پر رنجیدہ نہ ہوا کرو اور وہ جو تم کو دیوے اور عطا کردے تم اس پر اترایا نہ کرو اور یہ سمجھا نہ کرو اور اللہ تعالیٰ کسی اترانے والے اور خود ستائی کرنے والے اور شیخی مارنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ یعنی ہاتھ نہ آنے والی چیز پر رنجیدہ تو اس لئے نہ ہو کہ ایسا ہی لکھا ہوا تھا کہ فلاں چیز مجھے نہ ملے اور اترایا اس لئے نہ کیا کرو کہ ملنے والی چیز بھی لکھے کے موافق ملی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ملی وہ لوح محفوظ میں نہ لکھتا تو کیسے ملتی اختیال اور فخر دونوں میں تھوڑا سا فرق ہے لیکن دونوں مذموم ہیں خواہ فضائل داخلیہ ہوں جیسے علم اور ہنر یا فضائل خارجیہ ہوں جیسے مال و دولت اور جائیداد چونکہ اترانے کا اثرانسان پر بسا اوقات بخل کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اس لئے آگے بخیلوں کی صراحتہً مذمت فرمائی۔
Ayah 57:24

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 57:24 in the Quran reader

جو ای سے ہیں کہ خود بھی بخل کرتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو بھی بخل کرنے کی تعلیم دیتے ہیں اور جو کوئی روگردانی کریگا تو بیشک اللہ تعالیٰ بےنیاز اور سب خوبیوں سے متصف ہے۔

(24) جو ایسے ہیں کہ خود بھی بخل کرتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو بھی بخل کرنے کی تعلیم دیتے ہیں اور جو کوئی روگردانی کرے گا تو بیشک اللہ تعالیٰ بےنیاز اور سب خوبیوں سے متصف ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا تقاضہ یہ تھا کہ مخلوق کی آگے جھکتا یعنی تواضع کرتا اور مخلوق کی خدمت کرتا لیکن کسی نے اگر بخل کیا اور اللہ تعالیٰ کے شکر سے روگردانی کی اور دین حق کے قبول کرنے سے پھر تو اللہ تعالیٰ کا کوئی ضرر اور نقصان نہ ہوگا کیونکہ وہ غنی بھی ہے اور حمید بھی ہے یعنی غیر محتاج اور سب صفات کمالیہ سے متصف اگر نقصان ہوگا تو اس روگردانی کرنے اور پھر کر چلے جانے والے ہی کا ہوگا۔
Ayah 57:25

لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۠ Open ayah 57:25 in the Quran reader

بلا شبہ ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل واحکامات دے کر بھیجا اور ہم نے ان کی معرفت کتابیں اور طریقہ عدل نازل کیا تاکہ لوگ انصاف یعنی اعتدال پر قائم رہیں اور ہم نے لوہا پیدا کیا کہ اس میں سخت لڑائی کا سامان ہے اور لوگوں کے اور منافع بھی اس سے وابستہ ہیں اور اس لئے پیدا کیا تاکہ اللہ تعالیٰ اس امر کو ظاہر کردے کہ اس کو بن دیکھے اس کی اور اس کے رسولوں کی کون مدد کرتا ہے بیشک اللہ تعالیٰ نہایت قوی اور زبردست ہے۔

(25) بلا شبہ ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل واحکامات دے کر بھیجا اور ہم نے ان کے ہمراہ اور ان کی معرفت کتابیں اور ترازو یعنی طریقہ ، عدل نازل کیا تاکہ لوگ انصاف و اعتدال پر قائم رہیں اور ہم نے لوہا نازل کیا……………یعنی پیدا کیا اس میں سخت لڑائی کا سامان اور لوگوں کے اور منافع بھی اس سے وابستہ ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ اس امر کو ظاہر کردے کہ اس کو بن دیکھے اس کی اور اس کے رسولوں کی کون مدد کرتا ہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ نہایت قوی اور زبردست ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو ہدایت کے لئے اپنے پیغمبروں کو کھلے کھلے دلائل یعنی صاف صاف احکام بھیجے اور اس نے رسولوں کے ساتھ کتابیں بھی نازل کیں اور ترازو اتاری یعنی احکام میں خاص طور پر انصاف وعدل کرنے کا حکم بھی اتارا تاکہ لوگ افراط اور تفریط سے بچ کر انصاف و اعتدال پر قائم رہیں اور ہم نے لوہا اتارا یعنی لوہے کو زمین سے پیدا کیا اور مخلوق کو لوہا دریافت کرادیا اس لوہے میں شدید جنگ اور سخت ہیبت ہے یعنی اس سے سامان جنگ بنتا ہے اور سامان جنگ کے علاوہ اور بھی لوگوں کے لئے طرح طرح کے فائدے ہیں اور آج کل کی مادی اور ترقی یافتہ دنیا میں تولو ہے کی ضروریات اور اس کے منافع کا حصر ہی کیا ہوسکتا ہے اور لوہے کو اس لئے بھی پیدا کیا تاکہ یہ بات ظاہر ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسولوں کی بن دیکھے کون مدد کرتا ہے۔ یعنی لوہے سے چونکہ جنگ کا سامان بنتا ہے اس لئے جہاد میں کام آتا ہے تو اس سے یہ بات ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بن دیکھے اللہ تعالیٰ کی اور اس کے پیغمبروں کی کون مدد کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ پیغمبروں کی تہذیب اور اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کے لئے کون ہتھیار استعمال کرتا ہے اور کون اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر اس کے دین کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کسی کی مدد کا محتاج نہیں ہے کیونکہ وہ قوی صاحب قوت اور عزیز ہے صاحب غلبہ اور غالب رہنے والا ہے بلکہ دین کی مدد کرنا اور دین کی اشاعت کرا اور دین حق کی حفاظت کرنا خالص انسانیت کی خدمت ہے اور دین حق کی بقا دنیا میں انسانیت اور صحیح اور خالص انسانیت کی بقا ہے۔ بعض حضرات نے یہاں رسولوں سے فرشتے مراد لئے ہیں جو انبیاء کے پاس کتابیں لے کرنا زل ہوتے تھے۔ بعض نے کہا جبرئیل (علیہ السلام) ترازو لے کر حضرت نوح (علیہ السلام) کے پاس آئے تھے بعض نے کہا آسمان سے لوہے کے بعض آلات نازل ہوئے تھے۔ (واللہ اعلم)
Ayah 57:26

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:26 in the Quran reader

اور بلا شبہ ہم نے نوح (علیہ السلام) اور ابراہیم (علیہ السلام) کو رسول بناکر بھیجا اور ہم نے ان دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب کا سلسلہ جاری رکھا پھر ان کی اولاد میں سے بعض ہدایت یافتہ ہوئے اور اکثر ان میں نافرمان رہے۔

(26) اور بلا شبہ ہم نے نوح (علیہ السلام) اور ابراہیم (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا اور ہم نے ان دونوں کی اولاد میں نبوت کا اور کتاب کا سلسلہ جاری رکھا سو ان کی امت میں سے بعض ہدایت یافتہ ہوئے اور اکثر ان میں سے نافرمان رہے۔ پیغمبروں کے سلسلے میں خاص طور پر حضرت نوح اور حضرت ابراہیم علیہما السلا م کا ذکر فرمایا کیونکہ تمام پیغمبرانہی کی اولاد میں سے ہوئے ہیں بعض ان میں سے دو تھے جو مستقل کتاب اور مستقل شریعت رکھتے تھے بعض پر وحی نازل ہوتی تھی لیکن مستقل کتاب ان کو نہیں ملی تھی۔ بعض حضرات نے کتاب کا ترجمہ وحی کیا ہے اور بعض نے کتاب سے کتابت مراد لی ہے بہرحال ان دونوں کی اولاد میں نبوت، کتاب یا وحی یاکتابت کا سلسلہ جاری رکھا پھر ان انبیاء کی امتوں میں سے کچھ راہ یافتہ ہوئے اور اسلام پابند رہے اور کچھ بےحکم رہے جو ایمان نہیں لائے۔
Ayah 57:27

ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَ قَفَّیْنَا بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ١ۙ۬ وَ جَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ رَهْبَانِیَّةَ اِ۟بْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَیْهِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللّٰهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَایَتِهَا١ۚ فَاٰتَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:27 in the Quran reader

پھر ان رسولوں کے پیچھے ہم اور رسولوں کے پے درپے بھیجتے رہے اور ان کے بعد ہم نے عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو بھیجا اور ہم نے اس کو انجیل عطا فرمائی اور جن لوگوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) بن مریم (علیہ السلام) کی پیروی کی ہم نے ان کے قلوب میں شفقت اور رحم پیدا کیا اور رہبانیت یعنی ترک دنیا کو خود انہوں نے ایجاد کیا ہم نے اس رہبانیت کو ان پر لازم نہیں کیا تھا مگر ہاں انہوں نے رہبانیت مذکور کو خدا کی خوشنودی کے لئے اختیار اور ایجاد تھا لیکن جو اس کی رعایت کا حق تھا انہوں نے اس کو پورا نہیں کیا پھر جو لوگ ان میں سے ایمان لائے یعنی نبی آخرالزمان پر تو ہم نے ان کو ان کا اجر عطا فرمایا اور اکثر ان میں نافرمان ہیں۔

(27) پھران رسولوں کے پیچھے ہم اور رسولوں کو پے درپے بھیجتے رہے اور ان رسولوں کے بعد ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا اور ہم نے اس کو انجیل عطا فرمائی اور جن لوگوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی کی اور عیسیٰ ابن مریم کی اتباع کی ہم نے ان کے قلوب میں شفقت اور رحم پیدا کیا اور رہبانیت اور گوشہ نشینی یعنی رک دنیا کو خود انہوں نے ایجاد کیا ہم نے اس رہبانیت اور گوشہ نشینی کو ان پر فرض اور ان پر لازم نہیں کیا تھا۔ مگر ہاں یہ ضرور ہے کہ انہوں نے رہبانیت مذکورہ کو اور گوشہ نشینی کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے اختیارا اور ایجاد کیا تھا لیکن ترک دنیا اور گوشہ نشینی کی رعایت کا جو حق تھا ویسا نباہ نہ سکے، پھر جو لوگ ان میں سے نبی آخرالزماں ﷺ پر ایمان لے آئے تو ہم نے ان کو ان کا اجروثواب عطا فرمایا اور اکثر ان راہبوں میں سے نافرمان ہیں۔ یعنی رسولوں کے بھیجنے کا سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھیجا اور ان کو مستقل شریعت اور کتاب عطا فرمائی یہ عیسیٰ بنی اسرائیل کے آخری نبی ہیں پھر کچھ لوگ تو ان پر ایمان لے آئے اور کچھ لوگوں نے ایمان لانے سے انکار کیا۔ جیسا کہ عام قاعدہ ہے۔ پھر جو لوگ ایمان لائے تھے ان میں سے بعض نے اپنے دین کے تحفظ اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کی غرض سے ترک دینا اور گوشہ نشینی کا طریقہ اختیار کیا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے رہبانیت کا حکم نہیں دیا تھا نہ رہبانیت کو عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم پر لازم کیا تھا لیکن کچھ لوگوں نے اس کا اختراع کرلیا اگرچہ اس ترک دنیا کے پورے پورے حق ادا نہیں کرسکے اور گوشہ نشینی اور ترک دنیا کو نباہ نہ سکے۔ جولوگ انجیل پر ایمان لائے تھے ان میں انجیل کی تعلیم کا یہ اثرہوا کہ ان کے قلوب میں شفقت اور رحمت پیدا کردی گئی جیسا کہ انجیل کی تعلیم سے ظاہ رہے۔ بہرحال جو لوگ رہبانیت کے پابند تھے اور راہب کہلاتے تھے ان میں سے بعض لوگ نبی آخرالزماں حضرت محمد ﷺ پر ایمان لائے اور شریعت محمدیہ ﷺ کرلیا تو جن راہبوں نے دین حق کو قبول کرلیا ان کو اللہ تعالیٰ نے ان کے اجروثواب عنایت فرمائے اور بہت سے ان راہبوں میں نافرمان اور فاسق ہوئے، یعنی انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا آگے پھر ان کو ایمان قبول کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
Ayah 57:28

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اٰمِنُوْا بِرَسُوْلِهٖ یُؤْتِكُمْ كِفْلَیْنِ مِنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهٖ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۚۙ Open ayah 57:28 in the Quran reader

اے گزشتہ رسولوں پر ایمان رکھنے والو خدا سے ڈرتے رہو اور اس کے رسول یعنی محمد ﷺ پر ایمان لائو تاکہ اللہ تعالیٰ تم کو اپنی رحمت سے دو حصے عطا فرمائے اور تم کو ایک ایسا نور عنایت فرمائے جس کو تم لئے پھرو اور تم کو معاف کردے اور اللہ بہت معاف کرنے والا نہایت مہربان ہے۔

(28) اے گزشتہ پیغمبروں پر ایمان لانے والو ! (گزشتہ پیغمبروں میں حضرت عیسیٰ ابن مریم بھی داخل ہیں) اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اس کے رسول محمد ﷺ پر ایمان لائو تاکہ اللہ تعالیٰ تم کو اپنی رحمت سے دو حصے عطا فرمائے اور تم کو ایک ایسا نور عطا فرمائے جس کو تم نے پھرو اور جس نور کے ساتھ تم چلو پھرو اور تم کو معاف کردے اور اللہ تعالیٰ بہت معاف کرنے والا نہایت مہربان ہے۔ یعنی جو لوگ سابقہ انبیاء پر ایمان لائے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ اس آخری نبی (علیہ السلام) پر ایمان لائیں یعنی اہل کتاب کو چاہیے کہ وہ محمد ﷺ پر ایمان لے آئیں تو اللہ تعالیٰ ان کو دو حصے عطا فرمائے گا جیسا کہ سورة قصص میں گزر چکا ہے۔ اولٓئک یوتون اجرھم مرتین ایک اپنے زمانے کے نبی پر ایمان لانے کا ثواب اور دوسرا ثواب نبی آخرالزمان حضرت محمد ﷺ پر ایمان لانے کا اور ان کو ایک نور عنایت فرمائے گا جس کی روشنی میں چلیں گے یعنی ایمان ان کا رفیق اور ہمراہی ہوگا جو صراط تک رفیق رہے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور معاف کردے گا کیونکہ ایمان لانے سے سابقہ گناہ معاف ہوجایا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا اور معاف کرنے والا مہربانی کرنے والا ہے۔
Ayah 57:29

لِّئَلَّا یَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَلَّا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 57:29 in the Quran reader

اس حسن سلوک کا ذکر اس لئے کیا گیا تاکہ غیر مسلم اہل کتاب اس امر سے واقف ہوجائیں کہ وہ فضل خداوندی کے کسی حصے پر بھی قدرت نہیں رکھتے اور یہ کہ فضل اللہ تعالیٰ ہی کے قبضے میں ہے وہ جس کو چاہے عطا فرمائے اور اللہ تعالیٰ ہی بڑے فضل والا ہے۔

(29) اہل کتاب کے ساتھ اس حسن سلوک کا ذکر اس لئے کیا گیا تاکہ غیر مسلم اہل کتاب کو یہ بات معلوم ہوجائے اور وہ اس امر سے واقف ہوجائیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل میں سے ان کو کسی حصے پر بھی قدرت نہیں ہے اور وہ خدا تعالیٰ کے فضل میں سے کسی چیز پر بھی قدرت نہیں رکھتے اور یہ کہ ہر قسم کا فضل اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے اور تمام انواع فضل اسی کے قبضہ قدرت میں ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا فضل والا ہے۔ اور بڑا صاحب فضل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اجروثواب اس لئے فرمایا کہ جو اہل کتاب ایمان نہیں لائے ان کو معلوم ہوجائے کہ ایمان نہ لانے کی وجہ سے ان کا اللہ تعالیٰ کے فضل میں کوئی حصہ نہیں اور نہ ان کا فضل خداوندی کی کسی چیز پر دسترس ہے اور یہ بات بالکل منکشف ہوجائے کہ ہر قسم کا فضل اللہ تعالیٰ ہی کے قبضے میں ہے اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل کا مالک ہے جس پر چاہتا ہے اپنا فضل فرماتا ہے اور چونکہ اس کی مشیت اس فضل کے ساتھ مسلمانوں سے متعلق ہوئی اس لئے ان کو مل گیا۔ اہل کتاب کو یآیھالذین امنوا فرمایا حالانکہ عام طور پر یہ خطاب مسلمانوں کو کیا جاتا ہے یہاں شاید اس لئے کہا ہو کہ نبی آخرالزماں پر ایمان لانے کے بعد ان کا پہلا ایمان بھی مقبول ہوجائے گا اور دوسری جگہ جو لئلا یعلم اھل الکتاب فرمایا اس جگہ وہ اہل کتاب مراد ہیں جو مسلمان نہیں ہوئے ان کو اس لئے اہل کتاب ہی فرمایا فضل کی تقسیم کے وقت ان کو اپنی محرومی اور اہل ایمان کی سعادت کا حال معلوم ہوگا۔