Ayah 61:1(1) ہروہ چیز اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور وہ کمال قوت و حکمت کا مالک ہے۔ مخلوق کی تسبیح کرنے کا ذکر سورة حشر میں ہوچکا ہے تمام مخلوق کی تسبیح اور پاکی بیان کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ چیز قالاً تسبیح کرتی ہو یا اس کے حال اور اس کی کیفیت سے اللہ تعالیٰ کی تسبیح کا اظہار ہوتا ہو۔
Ayah 61:2(2) اے ایمان والو ! تم ایسی بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں۔ یعنی ایسی بات زبان سے کیوں نکالتے ہو جو پوری نہیں کرتے کہتے ہیں نبی کریم ﷺ نے اصحاب بدر کی تعریف فرمائی تھی اور ان کے اجروثواب کا ذکر فرمایا تھا بعض صحابہ ؓ نے شوق ظاہر کیا اور کہا اگر اب کی کوئی جنگ ہوئی تو ہم بھی خوب دل کھول کر لڑیں گے لیکن اس کے بعد جنگ احدہوئی تو اس میں وہ بہادری ظاہر نہیں ہوئی جس کا اظہار کرتے تھے اس پر فرمایا کہ ایسی بات زبان سے کیوں کہتے ہو جو پوری نہیں کرتے۔
بعض حضرات نے فرمایا یہ آیت ان لوگوں کے حق میں جو دوسروں کو نصیحت کرتے اور خود اس کے خلاف کرتے ہیں یعنی بےعمل عالم یا بےعمل واعظ۔
مطلب یہ ہے کہ اے ایمان والو دوسرے لوگوں کو ایسی بات کیوں کہتے ہو جو خود نہیں کرتے۔
Ayah 61:3(3) اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ امر سخت مبغوض ہے اور بہت ناراضی کی بات ہے کہ تم ایسی بات کہو جو کرو نہیں۔ یعنی یہ بات اللہ تعالیٰ کی جناب میں بہت ناپسندیدہ اور مبغوض ہے کہ تم جو بات زبان سے کہتے ہو اس کو کرتے نہیں یا جو بات دوسروں سے کہتے ہو وہ خود نہیں کرتے۔
مطلب یہ ہے کہ امربالمعروف کرو لیکن خودبھی اس پر عمل کرو حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے ایک شخص نے وعظ کہنے کی اجازت طلب کی کہ میں لوگوں کو نصیحت کرنے اور واعظ کہنے کی اجازت چاہتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا کہ تونے قرآن شریف کی تین آیتوں پر غور کرلیا ہے اس نے عرض کیا کہ وہ تین آیتیں کون سی ہیں۔
آپ نے فرمایا کہ ایک تو سورة بقرہ کی آیت ہے ۔ اتامرون الناس بالبرو تنسون انفسکم، یعنی کیا تم لوگوں کو حکم کرتے ہو بھلائی کا اور خود اپنے نفسوں کو فراموش کردیتے ہو۔
دوسری آیت سورة ہود کی ہے۔ وما اریدان اخالفکم الی ما انھکم عنہ۔
یعنی حضرت شعیب نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ میرا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ جس بات سے تم کو روکتا اور منع کرتا ہوں وہ خود کرنے لگوں۔
تیسری آیت سورة صف کی ہے۔ یآیھا الذین امنوا لم تقولون مالا تفعلون۔
یعنی اے مسلمانو ! لوگوں سے وہ بات کہتے ہو جو تم خود نہیں کرتے۔
اس شخص نے کہا میں نے تو ان آیتوں پر کبھی غور نہیں کیا، حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ تجھ کو وعظ کہنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
خلاصہ : یہ کہ آیت امر بالمعروف سے نہیں روکتی بلکہ عالم کو اپنے علم پر عمل کرنے کی تاکید کرتی ہے۔ جو لوگ آیت کا تعلق جہاد سے بتاتے ہیں ان کا مطلب ہم اوپر بتا چکے ہیں کہ ایسی باتیں کیوں کہا کرتے ہو جن کو پورا نہیں کرسکتے۔ جہاد کا شوق ظاہر کرتے ہو اور جہاد کے موقعہ پر کوتاہی کرتے ہو۔
بعض حضرات نے فرمایا آیت عام ہے اور ایسے لوگوں کے لئے تہدید ہے جو محض لفاظی اور بڑھ بڑھ کر باتیں کرنے کے عادی ہیں اور عمل کے اعتبار سے کمزور اور تہی دامن ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بندے کو دعوے کی بات سے ڈراچاہیے کہ اس کے پیچھے مشکل پڑتا ہے ایک جگہ مسلمان جمع تھے کہنے لگے ہم اگر جانیں کہ اللہ کو کیا کام بہت بھاتا ہے تو وہی اختیار کریں تب یہ آیت اتری اگلی۔
خلاصہ : یہ کہ اوپر غضب اور غصے والی بات کا اظہار فرمایا تھا اور مبغوض بات بتائی تھی اب اگلی آیت میں محبوب چیز مذکور ہے چناچہ ارشاد فرماتے ہیں۔
Ayah 61:4(4) بلا شبہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو پسند فرماتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف باندھ کر لڑتے اور جنگ کرتے ہیں گویا وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں یعنی ایک محکم اور مضبوط عمارت کی طرح جمے ہوئے ثابت قدمی کے ساتھ لڑتے ہیں۔ یعنی یہی تو وہ چیز ہے جو تم جنگ احد میں پوری نہ کرسکے اور جم کر مقابلہ کرنے میں تم نے کمزوری اور سستی دکھائی۔
اب آگے اسی مناسبت سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کا ذکر فرماتے ہیں کہ ان کی امتوں نے اپنے اپنے رسولوں کو ایذادی اور تکلیف پہنچائی اس کا انجام ان کے حق میں برا ہوا اگر اسی طرح اس نبی آخر الزماں کو تکلیق پہنچائی گئی اور پیغمبر کو ستایا گیا اور نافرمانی کی گئی تو اس کا انجام بھی ایک دن برا ہوگا اور جہالت کی علت کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اس کی وجہ رسول کی مخالفت اور دین حق کا انکار اور پیغمبر کی ایذارسائی ہوا کرتی ہے اور ایسے ہی لوگوں کے خلاف جہاد کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔
Ayah 61:5(5) اور وہ واقعہ قابل ذکر ہے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا اے برادران قوم تم مجھے کیوں ایذا دیتے اور تکلیف پہنچاتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو اور تم کو معلوم ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں اور اللہ تعالیٰ کافرستادہ اور تمہارے پاس اس کا بھیجا ہوا آیا ہوں پھر جب وہ اس کہنے پر بھی اپنی کج روی اور کج راہی پر جمے رہے اور کجی پر قائم ہی رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو اور ٹیڑھا کردیا اور اللہ تعالیٰ ایسے نافرمانوں اور بےحکموں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا۔
بنی اسرائیل کی ایذارسانی کے واقعات قرآن میں کئی جگہ مذکور ہوچکے ہیں بنی اسرائیل کی نافرمانی اور بدگوئی پیغمبر کا مقابلہ وغیرہ سورة بقرہ سورہو اعراف میں متعدد جگہ مذکور ہے نبی کریم ﷺ نے بھی متعدد بار فرمایا کہ اللہ تعالیٰ میرے بھائی موسیٰ (علیہ السلام) پر رحم فرمائے ان کو تو مجھ سے بھی زیادہ ان کی قوم نے ایذا دی ہے بہرحال جب ان کی قوم نے اپنی حالت کی اصلاح نہ کی اور نافرمانی ہی پر قائم رہے اور دل کی کجی کا علاج نہیں کیا، تو بالآخر مریض کو اس کی حالت پر چھوڑ دیا گیا۔
جیسا کہ معمول ہے کہ دوام علی العصیان اور نافرمانی کا عادی اور خوگر ہونا اطاعت اور انا بت الی اللہ سے بندے کو دور کردیتا ہے وہی حشران کا ہوا اور ان کے دل کج اور ٹیڑھے ہوتے چلے گئے ہم تیسیر میں متعدد جگہ عرض کرچکے ہیں کہ گناہ سے گناہ بڑھتے ہیں جب گناہ کے بعد توبہ نہ ہوگی تو کسی اور گناہ میں مبتلا ہونے کا انتظار کرو عادت اللہ اسی طرح جاری ہے اور یہی بدپرہیزی اور دوا کا ترک ایک دن انسان کی روحانی موت کے کنارے پر لگا دیتا ہے اسی معمول کی طرف آخر میں اشارہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ایسے نافرمانوں کو جو نافرمانی کے خوگر ہوچکے ہیں ہدایت کی توفیق نہیں دیا کرتا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی بنی اسرائیل ہر بات میں ضد کرتے اپنے رسول سے آخر مردود ہوگئے۔
خلاصہ : یہ کہ یہی ایذارسانی کے وہ ککام تھے جو ایک دن قوم کو مغضوب اور ملعون بنانے کا سبب ہوئے اللھم انا نعوذ بک مندومن مخالفۃ رسولک ﷺ۔
Ayah 61:6(6) اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) نے فرمایا اے بنی اسرائیل میں تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کا فرستادہ اور اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا آیا ہوں اور منجانب اللہ تمہاری طرف بھیجا گیا ہوں اور میں اس توریت کی تصدیق کرنے والا اور اس کو سچا بتانے والا ہوں جو مجھ سے پہلے ہے اور میں ایک ایسے رسول کی بشارت اور خوشخبری دینے والا ہوں جو میرے بعد تشریف لائیں گے اور ان کا نام احمد ﷺ ہوگا پھر جب وہ رسول احمد ﷺ ان بنی اسرائیل ……کے پاس صاف وصریح اور کھلے دلاگل لے کر آیا تو وہ بنی اسرائیل ان کے معجزات کو دیکھ کر کہنے لگے یہ تو ایک کھلا ہوا جادو ہے۔
نبی کریم ﷺ کی کتب سابقہ میں پیشین گوئیاں موجود ہیں اور آپ ﷺ کا مختلف ناموں سے تعارف کیا گیا ہے مثلاً توریت میں آپ کا نام احید ہے زبور میں آپ کو ماحی کہا گیا ہے انجیل میں آپ ﷺ کا نام احمد بتایا ہے اسی کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں ایک طرف میں توریت کی تصدیق کرنے والاہوں اور اس کو سچا بتانے والا ہوں دوسری طرف اپنے بعد آپ آخر الزماں کے آنے کی بشارت اور خوشخبری دیتا ہوں کہ اس آخری نبی کا نام احمد ﷺ ہوگا چناچہ حضور ﷺ کا یہ نام بربناس کی انجیل میں اب تک بھی موجود ہے دوسری اناجیل میں اس کا رجمہ لفظ فار قلیط سے کیا گیا ہے۔
بہرحال اناجیل کا مطالعہ کرنے والے آج بھی جانتے ہیں کہ باوجود تحریف لفظی اور معنوی کے اس پیشین گوئی کا پتہ موجود ہے اگرچہ نصاریٰ نے اس قسم کی پیشین گوئیوں کو اپنی تاویلات بعیدہ اور فاسدہ سے بالکل مسخ کردیا ہے پھر جب وہ نبی آخرالزماں حسب بشارت تشریف لائے اور کھلے اور صاف وصریح دلائل اور معجزات اپنے ہمراہ لائے تو بنی اسرائیل اس پر ایمان لانے کی بجائے ان دلائل و معجزات کو کھلا جادو کہنے لگے اور اس پیغمبر پر ایمان نہیں لائے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت کا نام رکھا گیا دنیا میں محمد ﷺ اور فرشتوں کے درمیان احمد ہے۔ بعض حضرات نے فلما جآء بالبینت کی ضمیر سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ذات گرامی مراد لی ہے اس تقدیر پر مطلب یہ ہوگا کہ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے پاس آئے تو انہوں نے اس عیسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر بتایا ۔ واللہ اعلم بظاہر یہ قول مرجوع ہے۔
Ayah 61:7(7) اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹ افترا کرے حالانکہ اس ک واسلام کی طرف دعوت دی جائے اور اس کو اسلام کی طرف بلایا جاتا ہو اور اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا اور ایسے گناہ گاروں کو ہدایت کی توفیق نہیں دیتا۔ یعنی پیغمبر اسلام کی دعوت دے رہا ہے دین حق کی طرف بلارہا ہے اور وہ اس کو جادو گر اور مفتری علی اللہ کہتا ہے تو گویا جو چیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثابت ہے اسکو نفی کرتا ہے اسی کو افترا علی اللہ الکذب فرمایا جھوٹ باندھنا اللہ پر یہی کہ مرسل من اللہ کی تکذیب کرے اس کو ساحر کہے اس قسم کے ظالموں سے توفیق ہدایت کی نفی فرمائی۔
کہتے ہیں کہ نضر بن حارث کی جانب اشارہ ہے اور اس کے حق میں نازل ہوئی ہے ہوسکتا ہے کہ آیت عام ہو اور ہر ظالم جو افترا کرنے والا ہو وہ مراد ہو۔
Ayah 61:8(8) یہ دین حق کے منکر یہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نور اور اس کی روشنی کو اپنے منھوں سے بجھا دیں اور اس روشنی کو اپنے منھوں سے پھونک کر ختم کردیں اور بجھادیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنے نور اور اپنی روشنی کو پورا کرنے والا ہے اگرچہ منکر کتنا ہی برا مانیں۔ اللہ تعالیٰ کا نور یعنی پیغمبر اور اس کے دین کی روشنی جس سے کفر کی تاریکی اور کفر کا اندھیرا کم ہورہا ہے منکر یہ چاہتے ہیں کہ اس روشنی کو پھونک مار مار کر گل کردیں اور بجھادیں حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنے نور کو پورا کرکے ہی رہے گا اور اس کی روشنی تمام اقوام عالم میں پہنچ کررہے گی اگرچہ دین حق کے منکر برامانا کریں۔
کہتے ہیں ایک دفعہ کئی دن رسول خدا ﷺ پر وحی نازل نہ ہوئی تو کعب بن اشرف جو بڑا متعصب یہودی تھا اس نے یہود سے کہا خدا نے محمد کا نور بجھادیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اس میں کفار کی عام خواہش کا اظہار فرما کر اس کا رد کیا گیا ہے۔
Ayah 61:9(9) وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت و رہنمائی اور دین حق دے کر بھیجا ہے تاکہ وہ اس دین حق کو تمام ادیان باطلہ پر غالب کردے اگرچہ مشرک کتناہی برا مانیں اور مشرکوں کو کتنا ہی برا لگے۔ ہدی اور دین حق یہی قرآن اور اسلام ہے غلبہ یا بطور شوکت اور قہر یا بطور دلائل اگر دلائل کا غلبہ مراد ہو تو وہ ہر وقت بحمداللہ موجود ہے اور اگر شوکت کا غلبہ مراد ہو تو وہ بھی حاصل ہوچکا۔
بعض نے کہا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں سوائے دین اسلام کے اور کون دین نہ ہوگا۔ سورہو براءت میں تفصیل گزر چکی ہے اسی غلبہ کو اوپر کی آیت میں تمام فرمایا ہے آیت کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام کے علاوہ کوئی مذہب ہی باقی نہ رہے گا بلکہ مطلب یہ ہے کہ اسلام کے مخالف ادیان باطلہ بھی رہیں گے لیکن غلبہ اور قہر اور تفوق اسلام کو حاصل ہوگاجیسا کہ ہم عرض کرچکے ہیں۔
Ayah 61:10(10) اے ایمان والو ! کیا میں تم کو ایسی سوداگری اور ایسی تجارت بتائوں جو تم کو ایک دردناک عذاب سے بچا لے۔ یعنی ایسی تجارت اور ایسا کاروبار جو تم کو دوزخ کے عذاب سے نجات دلادے اور جہنم کے دردناک عذاب سے تم کو چھڑا دے۔
Ayah 61:11(11) وہ یہ کہ تم اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائو اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کرو۔ یعنی اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جانیں لڑادو۔ یہ ایمان اور جہاد تمہارے لئے بہت بہتر ہے اگر تم سمجھ رکھتے ہو۔ یعنی یہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنا اور اپنے مال اور اپنی جانوں کی پروانہ کرنا یہ تمہاری بقا اور تحفظ کے لئے بہت ہی بہتر ہے بشرطیکہ م کو کچھ سمجھ ہو اور جہاد کے منافع اور فوائد تمہارے پیش نظر ہوں۔
Ayah 61:12(12) اس پر اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف کردے گا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہرہیہوں گی اور ان عمدہ نفیس اور پاکیزہ مکانوں میں داخل کرے جو دائمی باغات میں واقع ہوں گے یہ بہت بڑی کامیابی ہے - یعنی اگر تم ایسا کرو گے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لائو گے اور جان ومال سے جہاد کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تم کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے پائیں نہریں بہتی ہوں گی اور ایسے نفیس اور پاکیزہ مکانات میں داخل فرمائے گا جو جنات عدن یعنی دائمی باغوں میں واقع ہوں گے اور ان نعمتوں کا حصول یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
Ayahs 61:13–14(13) اور ان نعمتوں اور اس بڑی کامیابی کے علاوہ تمہارے لئے ایک اور نعمت بھی ہے جس کو تم چاہتے اور دوست رکھتے ہو وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے مدد اور قریب الحصول فتح ہے اور اے پیغمبر آپ ان مسلمانوں کو بشارت اور خوشخبری دے دیجئے۔ یعنی ان ثمرات اور نتائج حقیقیہ کے علاوہ جو تمہارے ایمان اور جہاد پر مرتب ہوں گے ایک اور نعمت عاجلہ بھی ہے جو تم کو محبوب ہے۔
تحبونھا فرمایا کیونکہ عام طور سے انسانی طبائع فوائد عاجلہ کو محبوب اور مرغوب رکھتی ہیں وہ محبوب نعمت کیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے غیبی مدد اور قریب ملنے والی فتح آخر میں اپنے پیغمبر کی زبانی اس فتح کی بشارت دلوائی۔
اس فتح سے اشارہ یا تو مکہ کی فتح کی طرف ہے یا شاید روم کی فتح مراد ہو یا فارس کی بہرحال ایک بڑی فتح کی بشارت اور خوشخبری فرمائی چونکہ سورت کی ابتداء میں صف باندھ کر اور جم کر لڑنے کا ذکر فرمایا تھا اس لئے اسی مضمون کا یہاں تتمہ فرمایا اور آخر ایک پیغمبر کی امت اور اس کے جاں نثار حواریوں کی کامیابی کا ذکر فرمایا۔