62. Surah Al-Jumu'a

الجمعةFriday · 11 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 62:1

یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 62:1 in the Quran reader

جو مخلوقات آسمانوں میں ہے اور جو مخلوقات زمین میں ہے وہ سب اسی اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہے جو بادشاہ ہے پاک ذات ہے اور بڑا زبردست بڑی حکمت والا ہے۔

(1) جو مخلوقات آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے سب اس اللہ تعالیٰ کو پاکی کے ساتھ یاد کرتی ہے اور اس کی پاکی بیان کرتی ہے جو بادشاہ ہے نہایت پاک ذات ہے بڑا زبردست بڑی حکمت والا ہے - یعنی زمین و آسمان ہر ایک چیز زبان حال سے یا زبان قال سے اس اللہ تعالیٰ کی پاکی کا اظہار کرتی ہے جو بادشاہ ہے جس کی سلطنت دائمی ہے جو جملہ عیوب سے پاک ومنزہ ہے کمال قوت کا مالک بڑی حکمت والا ہے۔
Ayah 62:2

هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۗ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 62:2 in the Quran reader

وہی ہے جس نے ناخواندہ لوگوں میں انہی ناخواندوں میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کے روبرو خدا کی آیتیں تلاوت کرتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کتاب یعنی قرآن کی تعلیم دیتا ہے اور ان کی دانائی کی باتیں سکھاتا ہے اور یقینا اس رسول کی بعثت سے پہلے یہ لوگ کھلی گمراہی میں تھے۔

(2) وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے ان پڑھ اور ناخواندہ لوگوں میں انہی ناخواندوں میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کو اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتا۔ اور ان کو سنوارتا اور پاک کرتا ہے اور ان کو قرآن سکھاتا ہے اور ان کو حکمت و دانش مندی کی باتوں کی تعلیم دیتا ہے اور بلاشبہ اس رسول کی بعثت اور تشریف آوری سے قبل یہ لوگ صریح اور کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔
Ayah 62:3

وَّ اٰخَرِیْنَ مِنْهُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِهِمْ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 62:3 in the Quran reader

اور دوسرے لوگوں کے لئے بھی جو آئندہ ان میں شامل ہونے والے ہیں مگر ابھی تک وہ ان میں شامل نہیں ہوئے اور وہ خدا بڑا زبردست بڑی حکمت والا ہے۔

(3) اوردوسرے لوگوں کے لئے بھی جو آئندہ ان میں شامل ہونے والے ہیں اور ابھی تک ان میں شامل نہیں ہوئے اور وہ اللہ تعالیٰ بڑا زبردست بڑی حکمت والا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے ان پڑھ لوگوں میں انہی میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا یعنی وہ رسول بھی امی اور ان پڑھ بھیجا اور عرب کی ہدایت کے لئے اس کو مقرر کیا آگے اس پیغمبر کے تعلیمی شعبوں کا ذکر فرمایا کہ وہ ان کو اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتا ہے جس سے ان کو ہدایت میسر ہوتی ہے اور ان کو عقائد باطلہ اور اخلاق ذمیمہ سے پاک کرتا ہے اور ان کی اخلاقی اصلاح کرتا اور ان کو سنوارتا ہے اور ان کو کتاب یعنی قرآن کی تعلیم دیتا ہے اور ان کو حکمت و دانش اور ان کو صحیح فہم کی تعلیم دیتا ہے اور یہ امر واقعہ ہے کہ یہ اہل عرب اس رسول کی بعثت سے پہلے کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے وہ گمراہی کفر وشرک کی گمراہی ہے جس میں تمام عرب کے لوگ مبتلا تھے اور آپ کو دوسرے لوگوں کے لئے بھی مبعوث فرمایا جو آئندہ ان میں شامل ہونے والے ہیں یعنی یا تو موجود ہیں مگر مسلمان نہیں ہوئے اور یا ابھی موجود ہی نہیں ہوئے اس لئے ابھی تک ان میں شامل نہیں ہیں مراد اس سے وہ لوگ ہیں جو قیامت تک آپ کے تابع اور پیرو ہوں گے۔ بعض حضرات نے صحابہ کرام کے تابعین مراد لئے ہیں بعض نے فارس کے لوگ بتائے ہیں لیکن صحیح یہ ہے کہ آخرین منہم سے تمام امت مراد ہے خواہ وہعربی ہوں یا عجمی ہوں قیامت تک کی تمام امت اس میں شامل ہے اور منھم جو فرمایا یہ اس بنا پر کہ مسلمان بااعتبار اسلام کے سب متحد اور ایک دوسرے کے شامل ہیں وہ زبردست حکمت والا ہے یعنی اس نے اپنی قدرت اور حکمت سے ایسا نبی بھیجا جس نے تمام دنیا کے انسانوں کے لئے رہنمائی کا سامان مہیا فرمایا، ﷺ
Ayah 62:4

ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 62:4 in the Quran reader

یہ مذکور نبوت خدا تعالیٰ کا فضل ہے وہ اپنا فضل جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل کا مالک ہے۔

(4) یہ پیغمبر کی بعث اور اس کے ذریعہ سے گمراہی سے نکل کر کتاب و حکمت کی طرف آنا یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے وہ اپنا فضل جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا فضل والا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی یہی رسول دوسرے ان پڑھوں کے واسطے بھی ہے وہ فارس کے لوگ وہ بھی نبی کی کتاب نہ رکھتے تھے حق تعالیٰ نے اول عرب پیدا کئے اس دین کے تھامنے والے پیچھے عجم میں ایسے کامل لوگ اٹھے۔ خلاصہ : یہ کہ بعض روایات میں چونکہ آخرین کی تفسیر میں فارس کا ذکر آیا ہے اس بنا پر حضرت شاہ صاحب (رح) نے وہ قول اختیار کیا ہے لیکن اس امر کی گنجائش ہے کہ تفسیر میں عام مفہوم کو اختیار کیا جائے تاکہ عموم میں اہل فارس بھی داخل ہوجائیں۔ بہرحال یہاں تک اس پیغمبر کی تعلیم اور اس کی تعلیم سے نفع کرنے والوں کا ذکر تھا اب آگے مخالفین رسالت کا ذکر فرمایا۔
Ayah 62:5

مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا١ؕ بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 62:5 in the Quran reader

ان لوگوں کی مثال جن پر توریت کے علم وعمل کا بار ڈالا گیا تھا پھر انہوں نے اس کا بار نہ اٹھایا اس گدھے کی سی مثال ہے جو بہت سی بڑی بڑی کتابیں اٹھاے ہوئے ہو جن لوگوں نے خدا کی آیتوں کی تکذیب کی ان کی بہت بری مثال ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

(5) ان لوگوں کی مثال جن پر توریت کے علم وعمل کا بار ڈالا گیا تھا پھر انہوں نے اس توریت پر عمل کے بار کو نہ اٹھایا اس گدھے کی سی مثال ہے جو بہت سی بڑی بڑی کتابیں اٹھائے ہوئے ہو جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی اور جھٹلایا ان کی بہت بری مثال ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے ظالم لوگوں کی رہنمائی نہیں فرماتا اور ان کو ہدایت کی توفیق نہیں دیا کرتا۔ یہ ان یہود کے علماء کی مثال ہے جن کو توریت کا علم دیا گیا تھا اور ان کو احکامالٰہی پر عمل کرنے کی تاکید کی گئی تھی لیکن انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا اور نبی کریم ﷺ کے متعلق جو پیشین گوئیاں توریت میں مذکور تھیں ان پر پردہ ڈالا اور ایک فریق نے مخالف بن کر نبی آخرالزماں کا مقابلہ کیا ان کے علم وعمل کی مثال سمجھائی کہ یہ توریت کے بےعمل علماء ایسے ہیں جیسے گدھے پر بڑی بڑی کتابیں لدی ہوئی ہوں کہ اس گدھے کو کچھ خبر نہیں کہ اس پر کیا لدا ہوا ہے۔ توریت میں حکم تھا کہ نبی آخرالزماں پر ایمان لانا انہوں نے انکار کیا تو ان کا انکار مستلزم ہے ان کی بےعملی کو اس لئے یہ ان کی مثال فرمائی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیت کو جھوٹا بتائیں اور ان کی تکذیب کریں یہ ان کی بری مثال ہے کہ ان کو چوپائے سے مثال دی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی جو جان بوجھ کر آیات الٰہی کو جھٹلائیں ہدایت و رہنمائی کا ذمہ دار نہیں ہے اور یہ بدبخت اس کے مستحق نہیں ہیں کہ ان کی رہنمائی کی جائے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہود کے عالم ایسے تھے کہ کتاب پڑھی اور دل میں کچھ اثرنہ ہوا اللہ ہم کو پناہ دے۔ احادیث صحیحہ میں بےعمل علماء کے لئے سخت وعید آئی ہے تفصیل کے لئے دوزخ کا کھٹکا ملاحظہ کیا جائے۔
Ayah 62:6

قُلْ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ هَادُوْۤا اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّكُمْ اَوْلِیَآءُ لِلّٰهِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 62:6 in the Quran reader

اے پیغمبر آپ ان سے کہئے کہ اے یہودیو اگر تم کو یہ دعویٰ ہے کہ اور سب لوگوں کے علاوہ صرف تم ہی اللہ کے دوست ہو تو تم موت کی تمنا کرو اگر تم اس دعویٰ میں سچے ہو۔

(6) اے پیغمبر آپ ان یہود سے فرمائیے اے یہودیو اور اے یہود ہونے والو ! اگر تم کو یہ دعویٰ ہے کہ اور سب لوگوں کے علاوہ تم ہی اللہ تعالیٰ کے دوست ہو تو تم موت کی تمنا کرو اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔ یعنی بےعمل کی یہ حالت کہ توریت کے احکام کی صریح خلاف ورزی کے مرتکب ہو اور دعویٰ یہ کرتے ہو کہ نحن ابنوا اللہ واحیاوہ اور لن تمسسنا النار الا ایاما معدودۃ اور لن یدخل الجنۃ الا من کان دودا او نصاریٰ ۔ غرض یہ کہ جب اللہ تعالیٰ کی نگاہ محبت والفت اور بخشش میں تم ہی تم ہو کوئی دوسرا یعنی مسلمان اور اصحاب رسول اللہ ﷺ اس کے مستحق ہی نہیں ہیں تو تم موت کی تمنا کرو جیسا کہ عاشقین الٰہی کا دستور ہے کہ وہ موت کو پسند کرتے ہیں اور موت سے گھبراتے نہیں جیسا کہ ہم سورة بقرہ میں اس پر سیر حاصل بحث کرچکے ہیں اور بتاچکے ہیں کہ لقائے الٰہی کے شوق میں موت کی تمنا مذموم نہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جس کو معلوم ہو کہ مجھ کو اللہ کے ہاں درجہ ہے اور خطرہ نہیں تو بیشک وہ مرنے سے خوش ہو اور نہ ڈرے۔ خلاصہ : یہ کہ اگر تم اس دعوے میں سچے ہو تو تم موت کی تمنا کرو اور مرنے کے نام پر خوشی کا اظہار کرو لیکن ان کی حالت یہ ہے کہ اس کو آگے بیان فرمایا۔
Ayah 62:7

وَ لَا یَتَمَنَّوْنَهٗۤ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 62:7 in the Quran reader

اور یہ ان اعمال کی وجہ سے جو اپنے ہاتھوں آگے بھیج چکے ہیں کبھی بھی موت کی تمنا نہیں کریں گے اور اللہ تعالیٰ ان ظالموں کو خوب جانتا ہے۔

(7) اور یہ ان اعمال کی وجہ سے جو اپنے ہاتھوں آگے بھیج چکے ہیں کبھی بھی موت کی تمنا نہیں کریں گے اور اللہ تعالیٰ ان ظالموں کو خوب جانتا ہے اور ان ناانصافوں سے خوب واقف ہے۔ یعنی جو اعمال یہ لوگ کرتے رہے ہیں ان کے انجام کو جانتے ہیں اس لئے یہ موت کی تمنا کبھی نہیں کریں گے کیونکہ یہ تو موت سے ڈرتے ہیں کہ مرنے کے بعد ان سب تحریفات کا حساب دینا ہوگا جو توریت میں صوری اور معنوی کرتے رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان ظالموں کو خوب جانتا ہے مرنے کے بعد ان کو ان کے کاموں کی سزا دے گا۔ آگے تنبیہہ فرماتے ہیں۔
Ayah 62:8

قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْهُ فَاِنَّهٗ مُلٰقِیْكُمْ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 62:8 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ جس موت سے بھاگتے ہو وہ یقینا تم کو پہنچ کر رہے گی پھر تم اس کی طرف لوٹائے جائو گے جو ہر چھپے اور کھلے کا جاننے والا ہے پھر جو کام تم کرتے رہے ہو وہ تم کو ان سب سے آگاہ کردے گا۔

(8) اے پیغمبر آپ ان سے فرمادیجئے کہ جس موت سے تم بھاگتے ہو وہ یقینا تم کو پہنچ کر رہے گی اور وہ موت تم سے ملنے اور ملاقات کرنے والی ہے پھر تم اس کی طرف لوٹائے جائو گے جو ہر چھپے اور کھلے کا جاننے والا ہے پھر جو جو کام تم کرتے رہے ہو وہ تم کو ان سب سے آگاہ کردے گا اور تمہارے کرتوت تم کو جتادے گا۔ یعنی جس موت سے ڈرتے اور گھبراتے ہو اور بھاگتے ہو اس سے چھٹکارا نہیں وہ ایک نہ ایک دن تم سے ملاقات کرنے والی اور تم کو دبوچ لینے والی ہے پھر تم جانتے ہو کہ تم اس اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹائے جائو گے جو کھلی اور چھپی سب چیزوں کو جاننے والا ہے پس جو عمل بھی تم کرتے رہے ہو وہ سب تمہارے روبرو رکھ دیئے جائیں گے اور ہر عمل تمہاراتم کو جتا دیا جائے گا اور جیسا عمل ہوگا ویسی ہی سزا دی جائے گی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہود کی خرابی یہی تھی کہ دین کو سمجھے بوجتے دنیا کے واسطے چھوڑ دیتے ایسی بات سے ہم کو منع کیا جمعہ کا تقید بھی ایسا ہے کہ اس وقت دنیا کے کام میں نہ لگو۔ خلاصہ : یہ کہ آگے جو جمعہ کا ذکر فرمایا اس کی مناسبت سے شاہ صاحب نے یہ فرمایا کہ اوپر کی آیت سے ربط رہے۔
Ayah 62:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 62:9 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب جمعہ کے روز نماز کے لئے اذان دی جائے تو تم خدا کی یاد کے لئے بلا تاخیر چل کھڑے ہوا کرو اور خریدوفروخت چھوڑ دیا کرو یہ بات تمہارے لئے بہت بہتر ہے بشرطیکہ تم کو کچھ سمجھ ہو۔

(9) اے دعوت ایمانی کے قبول کرنے والو ! جب جمعہ کے دن نماز کے لئے اذان دی جائے تو تم اللہ تعالیٰ کے ذکر اور خدا تعالیٰ کی یاد کے لئے بلا تاخیر چل کھڑے ہوا کرو اور اللہ تعالیٰ کی یاد کی طرف دوڑو اور خریدوفروخت چھوڑ دیا کرو یہ کاروبار کو چھوڑ کر نماز کی طرف تیزگامی سے چلنا تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم سمجھتے ہو۔ ندا اذان کے معنی میں استعمال ہوا ہے مطلب یہ ہے کہ جب جمعہ کی اذان ہو تو کاروبار چھوڑ کر نماز کی طرف اور خدا کے ذکر کی طرف چل پڑو۔ سعی سے مراد بھاگنا یا دوڑنا نہیں ہے بلکہ لین دین بیع وشرا کو چھوڑ کر چل کھڑے ہو اذان سے مراد خطبے کی اذان ہے جو امام کے ممبر پر بیٹھنے کے بعد دی جاتی ہے کیونکہ یہ دوسری اذان باجماع صحابہ حضرت عثمان ذوالنورین کے زمانے میں مقرر ہوئی ہے لیکن حرمت بیع اس پہلی اذان کے بعد بھی ہے جیسا کہ قاعدہ ہے کہ اشتراک علتہ کی وجہ سے حکم میں بھی اشتراک ہے۔ ہاں ! امام کے سامنے والی اذان میں یہ حکم قطعی اور منصوص ہے اور پہلی اذان میں یہ حکم ظنی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ہر اذان کا یہ حکم نہیں کیونکہ جماعت پھر بھی ملے گی اور جمعہ ایک ہی جگہ ہوتا تھا پھر کہاں ملے گا اللہ کی یاد کہا خطبے کو ایسے وقت جاوے کہ خطبہ سنے۔ خیر فرمایا ترک بیع اور سعی الی ذکر اللہ کو کیونکہ عبادت کانفع باقی رہنے والا ہے اور دوسرے منافع فنا ہوجانے والے ہیں مزید جمعہ کے مسائل اور اذان کے بعد بیع وشرا کی کراہت اور سعی وغیرہ کے مسائل فقہ سے معلوم کیجئے۔ یایھا الذین امنوا اگرچہ عام خطاب ہے لیکن جن لوگوں پر جمعہ فرض نہیں مثلاً عورت، مریض، مسافر وغیرہ وہ عام حکم سے مخصوص ہوں گے ۔ کمالانجفی۔
Ayah 62:10

فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 62:10 in the Quran reader

پھر جب نماز پوری ہوچکے تو اختیار ہے کہ تم زمین میں چلو پھرو اور اللہ ککا فضل یعنی اس کی روزی تلاش کرو اور اللہ کو بکثرت یاد کیا کرو تاکہ تم فلاح پائو۔

(10) پھر جب نماز پوری ہوچکے تو اختیار ہے کہ تم زمین میں چلو پھرو اور اللہ تعالیٰ کا فضل یعنی اس کی روزی کی تلاش کرو اور اللہ تعالیٰ کو بکثرت یاد کیا کرو تاکہ تم فلاح پائو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہود کے ہاں عبادت کا دن ہفتہ تھا سارے دن سودا منع تھا اسی واسطے روزی کی تلاش کرو اور روزی کی تلاش میں بھی اللہ کی یاد کو نہ بھولو۔ خلاصہ : یہ کہ یہود کے ہاں ہفتہ اور نصاری کے ہاں اتوار کا دن عبادت کے لئے مقرر تھا امت محمدیہ ﷺ کے لئے جمعہ کا دن مقرر فرمایا احادیث میں جمعہ کی بہت فضیلت آئی ہے ایک روایت میں ہے جو شخص جمعہ کے دن مرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے شہید کا اجر لکھتا ہے اور اس کی قبر کے فتنے سے محفوظ رکھتا ہے جمعہ کے دن صرف خطبے اور نماز کے لئے بیع وشرا کے بند کرنے کا حکم دیا گیا اور نماز کے بعد اجازت دی گئی اور کاروبار کی اباحت کا اعلان فرمایا تلاش معاش اور روزی کی جستجو کو اپنا فضل فرمایا۔ جیسا کہ قرآن کا عام قاعدہ ہے کہ رحمت روحانی ترقی کے لئے اور فضل مالی ترقی کے لئے عام طور پر استعمال کرتا ہے اگرچہ کبھی کبھی اس کے برعکس بھی ہوتا ہے پھر تاکید فرمائی کہ تلاش روزگار یا کاروبار اور تجارت کا یہ مطلب ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی یاد یا اس کے ذکر سے بالکل غافل ہوجائو کوئی شغل بھی ہو اللہ تعالیٰ کو ہر حال میں یاد کرتے رہو خواہ ذکر لسانی ہوی ا ذکر قلبی ہو اللہ تعالیٰ کا ذکر ہی حقیقی زندگی ہے ورنہ غافل میں زندگی کہاں آگے اس سلسلے میں ایک خاص واقعہ کا ذکر فرمایا جو ایک جمعہ کو عین خطبے کی حالت میں پیش آگیا تھا وہ یہ کہ مدینہ منورہ میں غلے کی کمی تھی لوگ مال کے آنے کے منتظر تھے۔ ایک دن نبی کریم ﷺ کھڑے ہوئے جمعہ کا خطبہ فرما رہے تھے یہ اس زمانے کا ذکر ہے جب خطبہ نماز کے بعد ہوا کرتا تھا یا شاید اسی دور کا ذکر ہے جب خطبہ پہلے اور نماز بعد میں ہوا کرتی تھی بہرحال آپ ﷺ خطبہ دے رہے تھے اور عین خطبے کی حالت میں کوئی قافلہ غلہ کا دف بجاتا ہو نقارہ پیٹتا ہوا بازار میں آگیا لوگ غلہ خریدنے کے خیال سے اٹھ اٹھ کر بازار میں چلنے شروع ہوگئے یہاں تک کہ مسجد میں صرف بارا آدم یخطبہ سنتے رہ گئے اور سب چلے گئے چاروں خلفائے راشدین اور آٹھ اور حضرات بیٹھے رہے اس پر حضرت حق تعالیٰ نے تنبیہہ فرمائی چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 62:11

وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوَا اِ۟نْفَضُّوْۤا اِلَیْهَا وَ تَرَكُوْكَ قَآئِمًا١ؕ قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَ مِنَ التِّجَارَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ۠ Open ayah 62:11 in the Quran reader

اور یہ لوگ جب کوئی تجارتی قافلہ یا کوئی کھیل تماشے کی بات دیکھتے ہیں تو اس کے لئے منتشر ہوجاتے ہیں اور آپ کو کھڑا ہوا چھوڑ جاتے ہیں آپ فرمادیجئے جو چیز اللہ کے پاس ہے وہ کھیل تماشے اور تجارت سے بدرجہا بہتر ہے اور اللہ سب روزی دینے والوں سے بہتر روزی دینے والا ہے۔

(11) اور یہ لوگ جب کوئی بنجارہ اور تجارتی قافلہ یا کوئی کھیل اور شغل دیکھتے ہیں تو اس کے دیکھنے کے لئے متفرق اور منتشر ہوجاتے ہیں اور آپ ﷺ کو کھڑا ہوا چھوڑ جاتے ہیں یعنی آپ ﷺ کو خطبہ فرماتے ہوئے کھڑے ہونے کی حالت میں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں آپ ان سے فرمادیجئے جو چیز اللہ کے پاس ہے اور جو اجر اللہ کے ہاں ہے وہ کھیل تماشے اور سوداگری سے بدرجہا بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ سب روزی دینے والوں سے بہتر روزی دینے والا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک بار جمعہ میں حضرت ﷺ خطبہ فرماتے تھے اسی وقت بنجارا آیا اس کے ساتھ نقارہ بجتا تھا پہلے سے شہر میں اناج کی کمی تھی لوگ دوڑے کہ اس کو ٹھہرا دیں نماز کو پھر پڑھ لیں گے حضرت ﷺ کے ساتھ بارا آدمی رہ گئے ، حضرت ﷺ نے انہی سے نماز پڑھی یہ اسی پر اترا۔ خلاصہ : یہ کہ اگر خطبہ پہلے ہوتا تھا اور نماز خطبہ کے بعد ہوتی تھی جیسا کہ دستور اور قاعدہ ہے ب یہ سمجھ کر چلے گئے کہ نماز قافلہ کو ٹھہرا کر پھر واپس آکر پڑھ لیں گے اور اگر ابتدائی دور میں خطبہ بعد میں ہوتا تھا تو یہ سمجھ کر چلے گئے کہ بنجارا دیکھ کر پھر واپس آجائیں گے۔ بہرحال اس کو ہی فرمایا کہ جب کوئی تجارت اور سوداگری دیکھیں یا کھیل اور مشغلہ کی کوئی بات دیکھیں جیسے لوگوں کا غل غپاڑہ اور دف کی یا ڈھول کی یا نقارے کی آواز تو آپ کو ممبر پر کھڑا ہوا چھوڑ کر چلے جائیں جیسا کہ جمعہ میں دوران خطبہ میں ان سے ایسی حرکت سرزد ہوئی آپ ان سے فرمادیجئے کہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں جو نماز اور خطبہ سننے کا ثواب موجود ہے اور نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صحبت اور مجلس ذکر کی شرکت کے جو منافع اور فوائد اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں وہ تمہاری سوداگری اور کھیل تماشے سے کہیں بہتر ہیں رہی غلے کی کمی اور قحط کے اندیشے سے ڈرنا اور رزق کی تلاش کرنا تو اللہ تعالیٰ بہترین روزی دینے والا ہے اور سب سے اچھا روزی رساں ہے اس لئے طاعات ضروریہ اور عبادات میں مشغول رہنے پر بھی رزق جو مقسوم ہے وہ ضرور ملتا پھر اطاعت ضروریہ کو کیوں ترک کیا جائے بلکہ حقوق الٰہی کی رعایت کرنے پر رزق کے اور زیادہ ملنے کی امید ہے جیسا کے بیشمار واقعات اہل اللہ کے سوانچ میں موجود ہیں۔ تم تفسیر سورہو الجمعۃ