Ayah 63:1(1) اے پیغمبر جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم اس بات کا اقرار کرتے ہیں اور دل سے گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول اور پیغمبر ہیں اور ہاں اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ بیشک آپ اس کے رسول ہیں اور باوجود اس کے اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق یقینا جھوٹے اور کاذب ہیں یعنی جو کہتے ہیں اس پر ان کا اعتقاد نہیں۔ پہلی صورت میں یہود کے بعض منافقین کا ذکر فرمایا تھا اس سورت میں مدینے کے بعض دیگر منافقین کا ذکر ہے جو ظاہر میں مسلمانوں کی طرح باتیں کرتے تھے لیکن علیحدگی میں مسلمانوں پر طعن وتشنیع اور عیب چینی اور بدگوئی کرتے تھے نووارد لوگوں کو بہکا کر اور غلط باتیں کہہ کر اسلام سے روکتے تھے اور اگر کبھی کوئی بات کھل جاتی تھی اور ان سے دریافت کیا جاتا تھا کہ تم نے ایسا کہا ہے تو صاف قسمیں کھا جاتے تھے کہ ہم نے ایسا نہیں کیا۔
بعض موقہ پر سفر کی حالت میں جبکہ ایک کنویں سے پانی لینے پر انصار اور مہاجر کی کچھ کہہ سن ہوگئی عبداللہ بن ابی منافق نے انصار سے یہ کہہ تھا کہ تم نے ان مہاجرین کو پرورش کرکے اور روٹیاں کھلا کر اپنے پر شیر کرلیا ہے اب یہ تمہارا مقابلہ کرتے ہیں اگر تم ان کی امداد بند کردو تو چند دن میں یہ بھاگتے نظر آیں اور یہ بھی کہا کہ اب کہ ہم مدینے واپس گئے تو عزت دار لوگ ذلیلوں کو وہاں سے نکال دیں گے۔
اشارہ اس طرف تھا کہ میں جو عزت دار ہوں اور محمد ﷺ جو معاذ اللہ ذلیل ہیں میں ان کو مدینے سے نکال باہرکردوں گا زیدبن ارقم نے اس بات کی اطلاع حضور ﷺ کو دی مگر یہ مکر گیا اور قسم کھالی کہ میں نے نہیں کہا زید بن ارقم بلاوجہ محجوب ہوئے۔
حضرت حق تعالیٰ نے زید بن ارقم ؓ کی توثیق فرمائی غرض اس سورت کے بڑے حصے میں انہی لوگوں کی شرارتوں کا ذکر ہے چناچہ فرمایا کہ جب منافق آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں تو کہتے ہیں ہم دل سے گواہی دیتے ہیں یعنی جو بات زبان سے کہتے ہیں ہمارا اعتقاد بھی یہی ہے اور ہمارا دل ہماری زبان کی موافقت اور مطابقت کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔
حضرت حق تعالیٰ نے نفس رسالت محمد ﷺ کی توثیق فرمائی کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں لیکن منافق چونکہ جھوٹ بول رہے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق جھوٹے ہیں ان کا اعتقاد اور ان کا قلب ان کی زبان کے موافق نہیں ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی وہ قائل نہیں غرض کو کہتے ہیں۔
خلاصہ : یہ کہ اعتقاد قلبی زبان سے موافقت نہیں کرتالہٰذا گواہی اعتقاد قلب سے نہیں محض لسانی ہے۔
Ayah 63:2(2) ان اہل نفاق نے اپنی قسموں کو ڈھال اور سپر بنارکھا ہے سو یہ منافق لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکتے ہیں بلاشبہ وہ کام بہت برے ہیں جو یہ کہہ رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب تک اسلام کا نام لیتے اور ایمان کا اظہار کرتے ہیں ان پر جہاد نہیں کیا جاسکتا اور ان کی جان اور اموال محفوظ ہیں تو گویا انہوں نے اپنی قسموں کو اپنے اموال اور اپنی جان کے بچائو کے لئے ڈھال بنارکھا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اپنی مجلس میں منافق طعن اور عیب مسلمانوں کا بکتے جب ان پر پکڑ ہوتی منکر ہوکر قسم کھاجاتے کہ ہم نے یہ بات نہیں کہی۔
خلاصہ : یہ کہ اس سے زیادہ برے کام ان کے اور کیا ہوں گے کہ کہیں اور قسم کی آڑ لے کر مکر جائیں۔
Ayah 63:3(3) یہ بسبب اس کے ہے کہ یہ لوگ اول ظاہر میں ایمان لائے پھر منکر ہوگئے سو ان کے دلوں پر مہر کردی گئی اب یہ لوگ حق بات کو سمجھتے ہی نہیں۔ یعنی یہ اس سبب سے ہوا کہ یہ لوگ پہلے ایمان کے مدعی بنے امنا کہتے پھرے ظاہر میں سب کو ایمان کا یقین دلاتے رہے پھر کافروں سے کہا، انامعکم کافروں کی طرح اسلام کو نقصان پہنچاتے رہے لہٰذا ان کے قلوب پر مہر کردی گئی اور استمرار علی الکفر کی وجہ سے دل مسخ ہوگئے اب ان کی سمجھ میں کوئی حق بات آتی ہی نہیں یہی ان کے وہ برے کام ہیں جن کو اوپر فرمایا تھا انھم ساء ماکانوا یعلون کو خود تو منافق ہیں دوسروں کو بھی مسلمان ہونے سے روکتے ہیں۔
Ayah 63:4(4) اے پیغمبران کی حالت یہ ہے کہ جب آپ ان کو دیکھیں تو ان کے قدوقامت اور ظاہری جسم آپ کو خوش نما معلوم ہوں اور ان کے ڈیل تجھ کو خوش لگیں اور جب یہ باتیں کریں تو آپ ان کی شیریں کلامی اور دلچسپ باتوں کی وجہ سے ان کی باتیں کان لگا کر سنیں گویا وہ خشک لکڑیاں ہیں جو کسی دیوار کے سہارے لگا دی گئی اور ٹکادی گئی ہیں وہ ہر بلند آواز کو اپنے ہی خلاف خطرہ سمجھتے ہیں جو کوئی پکارے یہ جانیں ہم پر ہی بلا ہے یہی لوگ حقیقی دشمن ہیں۔
اے پیغمبر آپ ان سے بچتے رہیے اللہ تعالیٰ ان کو ہلاک کرے اور خدا ان کو غارت کرے یہ کہاں پھر سے چلے جارہے ہیں۔ یعنی دیکھنے میں بڑے متین ڈیل ڈول ایسا کہ دیکھ کر اچنبھا ہو ظاہری قدوقامت کے اعتبار سے خوش نما باتیں ایسی دلچسپ اور شیریں کہ آپ کان لگا دیں لچھے دار گفتگو کریں حالت یہ کہ اندر سے بالکل خول اور بےکار جیسے خشک لکڑیاں کی دیوار کے سہارے رکھی ہیں محض بےکار کسی کام کے نہیں سوائے اس کے ایندھن کے کام آئیں اور آگ میں جلائے جاویں۔ ڈرپوک ایسے کہ ذرا غل غپاڑہ ہو کوئی چیخ کر بولے یا کہیں سے غل کی آواز آئے تو سمجھیں کہ ان پر ہی کوئی آفت آئی۔ یہ لوگ سخت اور کڑدشمن ہیں۔
اے پیغمبر ان کی شرارتوں اور ان کے دائوں پیچ اور ان کی ریشہ دوانیوں سے چوکنے اور ہوشیار رہیے خدا ان کو ہلاک کرے حق واضح ہوجانے کے بعد کہاں پھرے چلے جارہے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی دیکھنے میں مرد آدمی اور دل میں نامرد دغاباز۔
خلاصہ : یہ کہ دیکھنے میں مرد معقول اور دل ہیجڑوں جیسے۔
Ayah 63:5(5) اور جب ان منافقوں سے کہا جاتا ہے کہ آئو اور پیغمبر کی خدمت میں حاضر ہوکر اپنی غلطی پر ندامت کا اظہار کرو تاکہ اللہ کا رسول تمہارے لئے استغفار کرے اور بخشش طلب کرے تو یہ لوگ اپنے سروں کو مٹکاتے پھیر لیتے ہیں اور آپ ان کو دیکھیں گے کہ وہ اس تحصیل استغفار سے یا اس کہنے والے سے کہ آئو متکبرانہ انداز کے ساتھ بےرخی برتتے ہیں۔ شاید عبداللہ ابن ابی منافق کی کوئی غلطی اور شرارت ظاہر ہوگئی تھی اس پر کسی نے اس سے کہا کہ پیغمبر (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوکر عذر کردے تاکہ حضور ﷺ تیرے لئے استغفار کردیں تو اس منافق نے گردن کو مٹکا کر اور سر کر پھیر کر کہا مجھ سے تم نے ایمان کو کہا میں ایمان لے آیا تم نے زکوٰۃ دینے کو کہا میں نے زکوٰۃ بھی ادا کی بس اب محمد ﷺ کو سجدہ کرنا باقی رہ گیا ہے اور نہایت تکبر کے ساتھ بےرخی کا برتائو کیا اور خدتم اقدس میں حاضر ہوکر عذر کرنے کو آمادہ نہ ہوا۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
بہرحال منافقوں کی سرکشی اور تکبر کی یہ حالت تھی کہ خیانت اور بددیانتی کے ظہور پر اگر کوئی سمجھاتا تو اس کی پروانہ کرتے اور تکبر و غرور کا برتائو کرتے حضرت حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔
Ayah 63:6(6) اے پیغمبر ان کے حق میں دونوں باتیں برابر ہیں آپ ان کے لئے مغفرت طلب کریں یا مغفرت نہ طلب کریں اللہ تعالیٰ ان کو ہرگز معاف نہ فرمائے گا اور ہرگز ان کو نہ بخشے گا بلا شبہ اللہ تعالیٰ ایسے نافرمانوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا اور ایسے بےحکموں کو ہدایت کی توفیق عطا نہیں فرماتا۔
سورہ برات میں گزر چکا ہے کہ اگر آپ ستر بار بھی استغفار کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف نہیں کرے گا اس موقعہ پر منقول ہے کہ آپ ﷺ نے بعض صحابہ ؓ سے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ستر بار فرمایا ہے میں ستر بار سیزیادہ استغفار کی دعا کروں گا شاید پھر قبول ہوجائیگی۔
سورہ منافقون میں فرمایا استغفار کرنا یا نہ کرنا ان کے حق میں دونوں باتیں برابر ہیں سورة برات میں ہم مفصل عرض کرچکے ہیں کہ اس استغفار کی وجہ کیا تھی اور لوگوں کی تالیف قلوب کے لئے اس کی ضرورت کیوں پیش آئی تھی، بعض منافقوں کے رشتہ دار پختہ مسلمان ہوگئے تھے ان کی خواہش یہ ہوتی تھی کہ اگر حضور ﷺ ہمارے عزیزوں کے حق میں جو نفاق میں مبتلا ہیں دعا کردیں اور استغفار کردیں تو اللہ تعالیٰ ان کو مخلص مسلمان بنادے اور وہ بھی ہماری طرح پختہ مومن ہوجائیں۔
غرض بعض اور بھی اس قسم کی وجوہات تھیں جن کی بناپر دربار رسالت ﷺ سے استغفار کی جاتی تھی بالآخر منافقوں کو بڑھتی ہوئی شرارت اور اسلام کش پالیسی کے پیش نظر ان کی عدم مغفرت کا صاف اعلان فرمادیا گیا۔
Ayah 63:7(7) یہ لوگ وہوی تو ہیں جو یوں کہتے ہیں کہ جو لوگ رسو ل اللہ ﷺ کے پاس رہتے ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو تاکہ وہ خود بخود پیغمبر کا ساتھ چھوڑ کر منتشر اور متفرق ہوجائیں حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ آسمانوں کے اور زمین کے تمام خزانے اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں لیکن یہ منافق اتنی بات بھی نہیں سمجھتے۔
Ayah 63:8(8) نیز یہ منافق یوں کہتے ہیں اگر اب کی دفعہ ہم لوٹ کر مدینے پہنچے تو عزت والا مدینے سے ذلت والے کو نکال باہر کرے گا حالانکہ عزت تو صرف اللہ تعالیٰ کے لئے اور اس کے رسول کے لئے اور مسلمانوں کے لئے ہے لیکن یہ منافق اس بات کو نہیں جانتے۔ ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ بعض منافقین نے عموماً اور عبداللہ ابن ابی نے خصوصاً یہ الفاظ کہے تھے اور زید بن ارقم نے سن کر حضور ﷺ کو اطلاع دی تھی لیکن انہوں نے قسمیں کھا کر حضور ﷺ کو اپنی بےگناہی کا یقین دلایا تھا اور زید ابن ارقم ؓ محجوب ہوئے تھے، ان آیتوں کے بعد نبی کریم ﷺ نے زید بن ارقم ؓ کو بلا کر فرمایا کہ زید یہ تیری تصدیق اور تائید ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک سفر میں دو شخص لڑ پڑے ایک مہاجرین میں کا ایک انصار کا پھر حضرت ﷺ نے ان کو لایا منافق پیٹھ پیچھے کہنے لگے اگر ہم ان کو اپنے شہر میں جگہ نہ دیتے تو ہم سے مقابلہ کیوں کرتے ایک نے کہا تمہیں خبر گیری کرتے ہو تو یہ لوگ رسول کے ساتھ جمع رہتے ہیں خبر گیری چھوڑ دو ابھی متفرق ہوجاویں ایک نے کہا اب کے سفر سے ہم مدینے پہنچیں تو جس کا اس شہر میں زور ہے چاہے بےقدروں کو نکال دیں ایک صحابی نے یہ باتیں سنیں حضرت کے پاس نقل کیں حضرت نے بلا کر پوچھا تو قسمیں کھاگئے کہ اس نے ہماری دشمنی سے جھوٹ کہا اللہ تعالیٰ نے یہ نازل کیا۔
خلاصہ : یہ کہ منافق سمجھتے ہیں کہ ہمار دیئے سے کسی کی پوری پڑتی ہے ہم مہاجرین کی امداد بند کردیں تو یہ اپنے پیغمبر کی رفاقت چھوڑ کرمنتشر ہوجائیں کیونکہ جب کھانے کو نہ ملے گا توخودہی بھاگ جائیں گے حالانکہ یہ احمق اتنا نہیں سمجھتے کہ آسمانوں کے اور زمین کے خزانی اور رزق رسانی خدا کے قبضے میں ہے ایک دربند ستردرکھلے وہ چاہے تو تم کو دینے کے قابل ہی نہ رکھے اور چاہے تو مہاجرین کو سب کچھ دے کر مالا مال کردے۔
اسی طرح عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی اپنے کو عزت دار اور اعز سمجھتے ہیں اور محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں کو ذلیل اور بےقدر اور اذل سمجھتے ہیں اور یہ دھمکی دیتے ہیں عہ عزت دار ذلیل لوگوں کو نکال دیں گے حالانکہ یہ بیوقوف اتنا نہیں جانتے کہ حقیقی عزت کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے پھر جس کا تعلق اس مالک عزت سے جس قدر ہے اس کی اتنی ہی عزت پیغمبر کا مرتبہ زیادہ اسکی عزت بھی زیادہ پھر اس کے واسطے سے مسلمانوں کا درجہ اور ان کی عزت ان کے علاوہ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے واسطے سے اس کا رسول اور رسول کے واسطے سے مسلمان ان کے علاوہ عزت کا مالک اور وراث کون ہے۔
کہتے ہیں جب غزوہ بنی مصطلق سے یہ لوگ لوٹے تو ابن ابی منافق کا بیٹا عبداللہ جو مخلص مسلمان تھا مدینے کے باہر جاکھڑا ہوا وہ سن چکا تھا کہ میرے باپ نے ایسی ناشائستہ بات کہی ہے اس نے جب باپ کا اونٹ دیکھا تو اس کو بٹھا کر اور تلوار نکال کر کھڑا ہوگیا اور باپ سے کہا جب تک رسول ﷺ اجازت نہ دیں گے تجھ کو مدینے میں داخل نہ ہونے دوں گا تو محمد ﷺ کو ذلیل کہتا ہے حالانکہ محمد ﷺ کی عزت بہت بلند ہے اور تو بہت ذلیل ہے تجھ کو مدینے میں نہیں جانے دوں گا۔
جب حضور ﷺ کو یہ معاملہ معلوم ہوا تو آپ ﷺ نے اس کے بیٹے کو بلا کر سمجھایا اور ابن ابی کو اس کے بیٹے نے مدینے میں داخل ہونے دیا۔
Ayah 63:9(9) اے دعوت ایمانی کو قبول کرنے والو ! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تم کو اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی یاد سے غافل نہ کردیں اور جو ایسا کرے گا تو ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے اور ناکام رہنے والے ہوں گے۔ ذکر الٰہی سے بعض لوگوں نے پانچ وقت کی نمازیں لی ہیں ، صحیح چیز یہ ہے کہ مال واولاد سے مراد دنیا کا مجموعی سازو سامان اور ذکر اللہ سے دین و اطاعت کا پورا مجموعہ مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ دنیا کی کسی بات میں ایسے منہمک نہ ہوجانا کہ دین کا کوئی کام چھوٹ جائے جس قدر دین کو نقصان پہنچے گا اسی قدرآخرت میں ناکامی کا سامانا کرنا ہوگا۔
Ayah 63:10(10) اور ہم نے تم کو جو کچھ دیا ہے اس میں سے خیرات کرو قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کی موت آجائے اور مرنے کا وقت سر پر آکھڑا ہو اور وہ آثار موت کو مشاہدہ کرکے یوں کہنے لگے اے میرے پروردگار ! تونے مجھ کو اور تھوڑی مدت مہلت کیوں نہ دی اور میری موت کو تھوڑا سا موخر کیوں نہ کردیا کہ میں خوب صدقہ و خیرات کرتا اور حقوق واجبہ کو ادا کرلیتا اور میں نیک کام کرنے والوں میں شامل ہوجاتا۔ انفاق سے مراد حقوق واجبہ کی ادائیگی ہے چونکہ یہ عبادات میں اہم ہے اس کی تاکید فرمائی کہ مرنے سے پہلے پہلے حقوق واجب فی الحال خرچ کردو کہیں ایسا نہ ہو کہ موت آجائے اور آثار موت کا مشاہدہ کرنے کے بعد پروردگار سے یوں کہو کہ اے پروردگار مجھ کو تھوڑی سی مہلت اور کیوں نہ دی کہ میں حقوق واجبہ کی ادائیگی کردیتا اور نیک لوگوں میں سے ہوجاتا مگر ایسا کہنا یا اس خواہش کا اظہار کرنا محض بیکار اور بےمعنی ہوگا اور یہ حسرت و تمنا اس لئے غیر مفیدہوگی۔
Ayah 63:11(11) اور جب کسی جان دار کا مقررہ وقت آجاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اس کو ہرگز مہلت نہیں دیا کرتا اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سب سے پوری طرح باخبر ہے۔ یہ بات منافقوں کو سنائی کہ مال خرچ کرنے میں جلدی کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ موت آجائی اور پھر صدقے کی تمنا بھی کرو تو کامیابی نہ ہو عام طور پر موت سے مراد یہاں دنیا کے مرتے وقت کی تمنا ہے البتہ عبداللہ بن عباس ؓ کے ایک قول سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید اس قسم کی خواہش قیامت میں کریں گے اے پروردگار ! ہم کو دنیا میں پھر بھیج دے تو ہم خوب خیرات کریں گے اور نکوکاروں میں سے ہوجائیں گے۔
حضرت حق تعالیٰ نے فرمایا واللہ خبیر بما تعملون یعنی ہم ان کے تمام اعمال سے بخوبی واقف ہیں ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اگر ان کو مہلت دے دی جائے یا ان کو میدان حشر سے واپس کردیا جائے تو یہ پھر وہی کریں گے جواب تک کرتے رہے۔
الحمد للہ والمنہ تم تفسیر سورة المنافقون
فی عشرین صفر الخیر یوم الجمعۃ قبل صلاتھا
1375 ھ مطابق 7 اکتوبر 1955 واللہ
الحمد یارب لک الحمد کماینبغی لجلال
وجھک ولعظیم سلطانک