64. Surah At-Taghaabun

التغابنMutual Disillusion · 18 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 64:1

یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 64:1 in the Quran reader

جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو چیز زمین میں ہے وہ سب اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے اسی کی سلطنت ہے اور تمام تعریفیں اسی کو سزاوار ہیں اور وہ ہرچیز پر پوری طرح قادر ہے۔

(1) جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو چیز زمین میں ہے سب اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کو پاکی کیساتھ یاد کرتی ہے اسی کاراج اور اسی کی حکومت ہے اور تمام تعریفیں اسی کو سزا وار ہیں اور وہ ہرچیز پر پوری طرح قادر ہے۔ یعنی آسمان و زمین کی تمام چیزیں زبان حال یا زبان قال سے اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس بیان کرتی ہیں اسی کا راج ہے اور حکومت و سلطنت حقیقت میں اسی کی ہے اگر یہاں مجازاً کسی کی حکومت ہے تو وہ بھی اسی کے حکم سے ہے ہر قسم کی تعریف کا بھی وہی سزاوار ہے اگر یہاں کسی کی تعریف ہوتی ہے تو وہ بھی حقیقت میں اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے اور ہر چیز اس کی قدرت کاملہ کے ماتحت ہے۔
Ayah 64:2

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّ مِنْكُمْ مُّؤْمِنٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 64:2 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر بعضے تم میں سے کافر ہیں اور بعضے تم میں سے مومن ہیں اور جو کچھ تم کررہے ہو وہ سب خدا کی پیش نظر ہے۔

(2) وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر تم میں سے کوئی کافر ہے اور بعض تم میں سے مومن ہیں اور جو کچھ تم کررہے ہو وہ سب اللہ تعالیٰ کے پیش نظر ہے۔ یعنی اسی نے تم سب کو پیدا کیا ہے۔ اس احسان کا تقاضا یہ تھا کہ تم سب اہل ایمان اور مومن ہوتے لیکن ہوا یہ کہ تم میں سے بعض کافر ہیں اور بعض مومن ہیں یعنی اس نے تو سب کو صحیح فطرت پر پیدا کیا تھا لکین کوئی اس فطرت صحیحہ پر قائم رہا اور بعض نے دوسری راہ اختیار کرلی بہرحال اللہ تعالیٰ ہر شخص کے اعمال کو دیککھ رہا ہے جو ایمان کے ساتھ اعمال پر قائم رہے گا اس کو اس کا صلہ عطا فرمائے گا اور جو کفر کی راہ پر چلے گا ان کو ان کے اعمال کی سزادے گا۔
Ayah 64:3

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 64:3 in the Quran reader

اس نے آسمانوں کو اور زمین کو کمال حکمت کے ساتھ بنایا ہے اور اسی نے تمہاری صورتیں بنائیں سو تمہاری صورتیں بہت اچھی بنائیں اور سب کی بازگشت اسی کی طرف ہے۔

(3) اس نے آسمانوں کو اور زمین کو کمال حکمت کے ساتھ بنایا اور اسی نے تمہاری صورتیں بنائیں سو تمہاری صورتیں بہت اچھی بنائیں اور سب کی باز گشت اسی کی طرف ہے۔ یعنی آسمان و زمین کی ساخت اور بناوٹ میں کمال حکمت کی رعایت رکھی گئی ہے تمام مخلوق اسی رعایت کی وجہ سے فائدہ اٹھارہی ہے۔ ……اور تمام خلق کی ضروریات زندگی اسی آسمان و زمین سے وابستہ ہے پھر تمام مخلوق میں سے انسان کو بہترین صورت پر بنایا اور قدوقامت اور ناک نقشے کے اعتبار سے اس کو خوشنما اور موزوں طریق پر ترتیب دیا، حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں سب جانوروں سے انسان کی خلقت اچھی ہے۔ اس خوبی اور کمال حسن کو انسان بھی سمجھتا ہے یہی وجہ ہے کہ انسان کسی اور مخلوق کی صورت میں تبدیل ہونے کی خواہش نہیں کرتا الیہ المصیر کا مطلب ظاہر ہے کہ اس سارے کارخانے کو بیکار نہ سمجھو کیونکہ سب کی بازگشت اسی کی طرف ہے اور تمام امور کا فیصلہ اسی کے حکم سے ہونے والا ہے۔
Ayah 64:4

یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 64:4 in the Quran reader

وہ آسمانوں اور زمین کی ہر ایک چیز کو جانتا ہے اور وہ ان سب چیزوں کو بھی جانتا ہے جو تم چھپاتے اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ سینوں کی باتوں تک سے بخوبی واقف ہے۔

(4) وہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کی اور زمین کی ہر ایک چیز کو جانتا ہے اور وہ ان چیزوں کو بھی جانتا ہے جو تم چھپاتے اور پوشیدہ رکھتے ہو اور ان چیزوں کو بھی جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ سینوں کی پوشیدہ باتوں تک کو خوب جاننے والا ہے۔
Ayah 64:5

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١٘ فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 64:5 in the Quran reader

کیا تم کو ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو اب سے پہلے کفر کے مرتکب ہوچکے ہیں پھر انہوں نے اپنے اعمال کے وبال کا مزہ چکھا اور ان کو ابھی اور دردناک عذاب ہونے والا ہے۔

(5) کیا تم کو ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو اب سے پہلے یعنی تم سے پہلے کفر کے مرتکب ہوچکے ہیں پھر انہوں نے اپنے اعمال کے وبال کا مزہ چکھا اور ان کے لئے اور بھی دردناک عذاب ہونے والا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم سے پہلے جنہوں نے کفر کیا تھا ان کی خبر تم کو نہیں پہنچی اور کیا ان کی خبر تم تک نہیں آئی کہ ان کو ان کے اعمال کا بدلا دنیا میں بھی ملا۔ اور انہوں نے اپنے اعمال کے وبال کا مزہ چکھا یہ مزا چکھنا تو دنیا میں ہوا، اور آخرت میں ان کے لئے اور دردناک عذاب موجود ہے اور ان کو ابھی اور دردناک عذاب ہونے والا ہے یعنی یہاں تو جو وبال پڑا وہ تو پڑا بھی آخرت میں اور دردناک عذاب تیار ہے۔
Ayah 64:6

ذٰلِكَ بِاَنَّهٗ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالُوْۤا اَبَشَرٌ یَّهْدُوْنَنَا١٘ فَكَفَرُوْا وَ تَوَلَّوْا وَّ اسْتَغْنَى اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 64:6 in the Quran reader

یہ دنیا اور آخرت کا عذاب اس لئے ہے کہ ان کے پیغمبران کے پاس واضح دلائل لے کر آتے رہے اور یہ لوگ یہی کہتے رہے کہ کیا آدمی ہماری رہنمائی کریں گے غرض انہوں نے انکار کیا اور روگردانی کی اور اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی پروانہ کی اور اللہ بےنیاز اور جملہ صفات سے متصف ہے۔

(6) یہ دنیا اور آخرت کا عذاب اس لئے ہے کہ ان پیغمبران کے پاس واضح اور کھلے دلائل لے کر آتے رہے اور یہ لوگ یہی کہتے رہے کہ کیا بشر ہماری رہنمائی کریں گے اور آدمی ہم کو راہ دکھائیں گے غرض انہوں نے انکار اور کفر کا شیوہ اختیار کیا اور اعراض و روگردانی کی اور اللہ تعالیٰ نے بھی ان سے بےنیازی اور بےپروائی کی اور اللہ تعالیٰ بڑا بےنیاز اور جملہ صفات سے متصف ہے۔ یعنی رسول ان کے پاس معجزات اور دلائل لے کر آئے مگر انہوں نے یہ اعتراض کیا کہ ہماری ہدایت کے لئے بشر آئیں گے بشر کی ہدایت کے لئے آسمان سے فرشتے آنے چاہئیں چونکہ بشر کے لئے بشر کا ہادی ہونا ان کی سمجھ میں نہیں آیا اس لئے انہوں نے رسولوں کا انکار اور ان رسولوں پر ایمان لانے اور ان کی تعلیم پر عمل پیرا ہونے سے منکر ہوگئے اور رسولوں کی تعلیم سے اعراض کیا اور روگردانی کی اور اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دیا اور ان کی کوئی پروانہ کی اور اللہ تعالیٰ بےنیاز اور سب خوبیوں سراہا ہے۔ واستغنی اللہ کا مطلب یہ ہے کہ جب انکا اصرار اور کفر پر استمرار بڑھا تو آخر یہ ہوا کہ حضرت حق تعالیٰ نے اپنا دامن رحمت ان کو نصیبوں سے کھینچ لیا اور اپنے سایہ عاطفت سے ان کو محروم کردیا اور یہ حالت انتہائی شقاوت اور بدبختی کی حالت ہے ۔ اعاذنا اللہ منہ۔
Ayah 64:7

زَعَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ١ؕ وَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 64:7 in the Quran reader

منکر دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ہرگز دوبارہ زندہ نہ کئے جائیں گے آپ کہہ دیجئے کیوں نہیں قسم ہے میرے رب کی تم ضرور دوبارہ زندہ کئے جائو گے پھر جو کچھ تم نے کیا ہے اس سب سے تم کو آگاہ کیا جائیگا اور یہ بات اللہ پر بالکل آسان ہے۔

(7) دین حق کے منکر بڑے زور سے دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ہرگز دو بار اٹھائے نہ جائیں گے اور دوبارہ زندہ نہ کیے جائیں گے آپ فرمادیجئے کیوں نہیں قسم ہے میرے پروردگار کی تم سب ضرور مرنے کے بعد زندہ کئے جائو گے پھر جو کچھ تم نے کیا ہے اس سب سے تم کو آگاہ کیا جائے گا اور تم کو وہ جتایا جائے گا اور یہ دوبارہ زندہ کرنا اور اعمال کا حساب لینا اللہ تعالیٰ پر بہت آسان ہے۔ یعنی یہ کافر جب آخرت کا ذکر سنتے ہیں تو آخرت کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں وہ ہرگز دوبارہ زندہ نہ ہوں گے۔ حضرت حق نے فرمایا اے پیغمبر جس قدر یہ تاکید کے ساتھ کہہ رہے ہیں آپ اس سے بڑھ کر میرے نام کی قسم کھا کر اپنی بات کو ثابت کیجئے کہ تم سب ضرور زندہ کرکے اٹھائے جائو گے اور تم کو تمہارے اعمال جتائے جائیں گے اور یہ کام اللہ تعالیٰ پر کچھ مشکل نہیں بلکہ بہت آسان ہے۔
Ayah 64:8

فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ النُّوْرِ الَّذِیْۤ اَنْزَلْنَا١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 64:8 in the Quran reader

سو تم لوگ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس نور پر جو ہم نے نازل کیا ہے ایمان لائو اور اللہ تعالیٰ ان تمام اعمال سے جو تم کرتے ہو پوری طرح باخبر ہے۔

(8) لہٰذا جب دوسری زندگی آنے والی ہے اور جزا وسزا کا دن آنے والا ہے تو تم اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر اور اس نور پر جو ہم نے نازل کیا ہے یعنی قرآن پر ایمان لے آئو اور اللہ تعالیٰ ان تمام اعمال سے جو تم کرتے ہو پوری طرح باخبر ہے اور تمہارے سب اعمال کی خبر رکھتا ہے۔ یعنی جب دلائل عقلیہ اور نقلیہ سے یہ ثابت ہوچکا اور پیغمبر نے قسم کھا کر یہ بات کہہ دی کہ قیامت آنے والی ہے اور بعثت ہونے والی ہے تو اب تمہارے لئے اس کے سوا اور کیا چارہ کار ہے کہ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ اور قرآن حکیم پر جو اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ ہے ایمان لے آئو اور اس بات کو سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال کی خبر رکھتا ہے۔
Ayah 64:9

یَوْمَ یَجْمَعُكُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِكَ یَوْمُ التَّغَابُنِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 64:9 in the Quran reader

اس دن کو یاد کرو جس دن تم سب کو اس جمع ہونے کے دن خدا جمع کرے گا یہ دن نفع نقصان کے ظاہر ہونے کا دن ہے اور جو شخص اللہ پر ایمان لایا ہوگا اور اس نے نیک عمل کئے ہوں گے اللہ تعالیٰ اس سے اس کے گناہ دور کردے گا اور اس کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی وہ لوگ ان باغوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے یہ بڑی کامیابی ہے۔

(9) اس دن کو یاد کرو جس دن تم سب کو اس جمع ہونے کے دن میں اللہ تعالیٰ جمع کرے گا یہ دن نفع نقصان کے ظاہر ہونے اور ہار جیت کا دن ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا ہوگا اور نیک کام کرتا رہا ہوگا اللہ تعالیٰ اس سے اس کے گناہ دور کردے گا اور اس کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہ لوگ ان باغوں میں ہمیشہ رہیں گے یہی ہے بڑی مراد ملنی اور یہی بہت بڑ ی کامیابی ہے۔ تغابن ہار جیت کا دن سودوزیاں کے ظاہر ہونے کا دن۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں دن ہار جیت کا یہ کہ ہر آدمی کا ایک گھر ہے بہشت میں ایک دوزخ میں بہشت والوں نے اپنے گھر لئے اور دوزخیوں کے بھی دوزخی ہارے بہشتی جیتے۔ خلاصہ : یہ کہ اہل بہشت کا نفع اور اہل جہنم کا نقصان اس دن عملاً ظاہر ہوجائے گا۔
Ayah 64:10

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 64:10 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا ہوگا اور ہماری آیتوں کی تکذیب کی ہوگی تو یہ لوگ اہل جہنم ہیں وہ اس جہنم میں ہمیشہ رہیں گے اور وہ جہنم بہت برا ٹھکانہ ہے۔

(10) اورجن لوگوں نے کفر کیا ہوگا اور کفر کے مرتکب رہے ہوں گے اور ہماری آیتوں کی تکذیب کی ہوگی تو یہ لوگ اہل جہنم ہیں جو ہمیشہ جہنم میں رہیں گے اور وہ جہنم بہت برا ٹھکانا ہے۔ پہلی آیت میں مسلمانوں کے نفع کا اظہار تھا اور اسکی آیت میں منکرین اور مکذبین کے نقصان کا اظہار فرمایا ۔
Ayah 64:11

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ یَهْدِ قَلْبَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 64:11 in the Quran reader

کوئی مصیبت بغیر خدا تعالیٰ کے حکم کے نہیں آیا کرتی اور جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہے تو خدا اس کے قلب کو صحیح راہ دکھاتا ہے اور اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔

(11) اور کوئی مصیبت نہیں آئی اور کوئی مصیبت نہیں پہنچی مگر اللہ تعالیٰ کے حکم سے پہنچتی ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے قلبکو صحیح راہ دکھاتا ہے اور اس کے دل کی صحیح رہنمائی فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں راہ بتادے صبر کی۔ خلاصہ : یہ کہ کوئی تکلیف یا سختی بغیر اذن الٰہی کی نہیں آتی۔ طبعاً انسان مصیبت سے گھبراتا اور جزع فزع کرتا ہے لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہے اور کامل مومن ہے اللہ تعالیٰ اس کے قلب کو صبر ورضا کا راستہ بتادیتا ہے یعنی صبرورضا کی توفیق عطا فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے یعنی وہ جانتا ہے کہ کس نے مصیبت پر صبر ورضا کی راہ اختیار کی اور کن بےصبری اور شکایت کی ڈگر پڑگیا۔
Ayah 64:12

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 64:12 in the Quran reader

اور اللہ کی اور رسول کی اطاعت وفرماں برداری کرو اور اگر تم روگردانی کرو گے تو ہمارے رسول کے ذمہ صرف صاف صاف پہنچا دینا ہے۔

(12) اور اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کرو اور رسول ﷺ کا کہا مانو اور اطاعت کرو پس اگر تم روگردانی کرو گے اور منہ موڑو گے تو سوائے اس کے نہیں کہ ہمارے رسول کے ذمہ صاف صاف پہنچادینا ہے۔ یعنی ہر دکھ سکھ کی حالت میں اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری ضروری ہے اگر کوئی ایسا نہ کرے گا تو اللہ اور رسول کو کوئی ضرر نہیں رسول کا کام صرف کھول کر پہنچادینا ہے وہ کام اپنا کرچکا اب اگر نافرمانی کرو گے تو تم کو ہی نقصان پہنچے گا رسول اللہ ﷺ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوچکے۔
Ayah 64:13

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 64:13 in the Quran reader

اللہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور ایمان والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔

(13) اللہ تعالیٰ اس بن کسی کی بندگی نہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ یعنی اللہ تعالیٰ جل شانہ حقیقی معبود ہے اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں اور اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ ہی پر توکل کرنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھناچاہیے۔
Ayah 64:14

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَ اَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعْفُوْا وَ تَصْفَحُوْا وَ تَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 64:14 in the Quran reader

اے ایمان والو تمہاری بعض بیویاں اور تمہاری بعض اولاد تمہارے حق میں دشمن ہیں سو تم ان سے ہوشیار رہو اور اگر تم ان کو معاف کردو اور درگزر کرو اور بخش دو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

(14) اے ایمان والو ! تمہاری بیویوں میں سے بعض بیویاں اور تمہاری اولاد میں سے بعض اولاد تمہارے دشمن ہیں لہٰذا ان سے ہوشیار ہو اور تم ان کا کہنا ماننے سے بچتے رہو اور اگر تم ان سے معذرت کرنے پر ان کو معاف کردو اور ان سے درگزر کرو اور ان کو بخش دو تو اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ یعنی بعض ازواج اور بعض اولاد مانع عن الخیر ہوتی ہے اس سے ہوشیار رہنے کی تاکید فرمائی جیسا کہ بعض لوگوں کی بیویاں اور اولاد ہجرت کرنے سے مانع ہوتی تھیں یا جہاد میں جاتے وقت سمجھاتی تھیں کہ تم چلے جائو گے تو ہماری خبر گیری کون کرے گا اور ہم تباہ ہوجائیں گے اس لئے ان کو ہوشیاء فرمایا کہ ایسی بیویوں کا اور ایسی اولاد کا کہنا نہ مانو جو تم کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور رسول کی اطاعت سے مانع ہوں۔ چنانچہ جب لوگ اپنی بیوی اور اپنی اولاد کے منع کرنے اور روکنے کے باوجود ہجرت کر گئے اور وہاں جاکر امن و عافیت اور مذہب کی آزادی دیکھی تو بیوی بچے معذرت کرنے اور اپنی غلطی معاف کرانے لگے اس پر فرمایا معاف کردینا اور درگز کردینا اور بخش دینا اچھی بات ہے اللہ تعالیٰ بھی بخشنے والا مہربان ہے اس لئے وہ معافی اور بخشش کو بہت پسند کرتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی آدمی جو روبیٹے کے واسطے بہت نیکی کھوتا ہے اور بہت برائی میں پڑتا ہے مگر تو بھی چاہیے کہ سلوک ان سے نیک ہی رکھے اور آپ بچتا رہے۔ خلاصہ : یہ کہ تماری بیویاں اور تمہاری اولاد تمہارے حق میں دشمن ہیں کہ تم کو نیک کاموں سے روکتے ہیں پھر اگر تمہاری تنبیہ پر وہ اظہار معذرت کریں اور اپنی غلطی کا اعتراف کریں تو تم درگز کرو اور معاف کردو اور بخش دو بیشک اللہ تعالیٰ غفورورحیم ہے بخشنے والوں کو پسند کرتا ہے اور بہرحال بیوی بچے حسن سلوک کے مستحق ہیں، چناچہ جب ہجرت کرنے کے بعد گھر والوں نے اپنی غلطی تسلیم کرلی تو خاوندوں نے اور باپوں نے معاف کردیا آگے اموال اور اولاد کی طرف سے پھر آگاہ فرمایا کہ بسا اوقات ان چیزوں کا انہماک اور شغل آخرت کے کاموں میں سستی اور کاہلی کا موجب ہوتی ہیں چناچہ ارشاد فرمایا۔
Ayah 64:15

اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 64:15 in the Quran reader

تمہارے مال اور تمہاری اولاد بس تمہارے لئے ایک آزمائش کی چیز ہیں اور اللہ کے ہاں بہت بڑا اجر ہے۔

(15) سو ائے اسکے نہیں کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لئے ایک آزمائش کی چیز ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بڑا اجر ہے۔ یعنی جس طرح مصیبت میں صبر کا امتحان ہے اسی طرح اموال واولاد میں بھی شکر کا امتحان ہے یوں تو اس عالم میں ہر چیز ایک دوسرے کے لئے آزمائش ہے۔ وجعلنا بعضکم لبعض فتنۃ۔ سورة فرقان میں فرمایا ہے لیکن ہر نعمت حضرت حق تعالیٰ کی جانب سی آزمائش اور موجب امتحان ہے اس نعمت کا شکر کون ادا کرتا ہے اور ہر نعمت میں منہمک ہوکر آخرت کو کون فراموش کرتا ہے مال اور اولاد یہ دونوں چیزیں دنیاوی نعمتوں میں اہم ہیں اس لئے ان کو فتنہ فرمایا اور اجر عظیم کا وعدہ فرمایا۔ آگے حسب استطاعت تقوی کی تاکید ہے کیونکہ مال اور اولاد کے معاملے میں بسا اوقات انسان سے تقویٰ اور احتیاط کا دامن چھوٹ جاتا ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 64:16

فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَ اسْمَعُوْا وَ اَطِیْعُوْا وَ اَنْفِقُوْا خَیْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 64:16 in the Quran reader

پس جس قدر تم ڈر سکتے ہو اللہ سے ڈرتے رہو اور اس کا حکم سنو اور فرمانبرداری کرو اور خیرات کرتے رہو خیرات کرتے رہنا تمہارے لئے بہتر ہے اور جو کوئی اپنے نفسانی بخل وحرص سے بچا لیا گیا تو یہی لوگ فلاں پانے والے ہیں ۔

(16) پس جس قدر تم ڈر سکتے ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اس کا حکم سنو اور اس کی فرمانبرداری کرو اور خیرات کرتے رہو یہ خیرات کرتے رہنا تمہارے لئے بہتر ہے اور جو کوئی اپنے نفسانی بخل وحرص سے بچا لیا گیا تو یہی لوگ فلاں پانے والے ہیں اور مراد کو پہنچنے والے۔ سورہ آل عمران میں فرمایا اتقواللہ حق تقتہ یعنی اللہ تعالیٰ سے اتنا درو جو ڈرنے کا حق ہے لوگوں پر یہ بات شاق ہوئی کہ ڈرنے کا حق کون ادا کرسکتا ہے۔ یہاں ارشاد ہوا جس قدر ڈر سکتے ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو یعنی استطاعت سے باہر اگر کوئی چیز ہو تو اس کا مطالبہ نہیں ہے یا وہ درجہ تجا مقربین کا اور یہ حکم ہے ابرار کا اور اس کے نصائح اور مواعظ سنو اور اس کے اوامربجا لائو یا احکام سنو اور مانو اور خیرات کرتے رہو خیرات سے مراد حقوق واجبہ جیسا کہ ابن عباس سے مروی ہے یا مراد عموم ہے صدقات نافلہ اور واجبہ شامل ہیں۔ اطیعوا کہنے کے بعد انفاق کا ذکر شاید اس لئے فرمایا کہ یہ نفوس پر شاق ہے یہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا تمہاری جانوں کے لئے بہتر ہے یعنی دنیا میں بھی نافع ہے اور آخرت میں بھی مفید ہے اور جو شخص اپنے نفس کے بخل آمیز حرص سے بچا لیا گیا تو ایسے ہی لوگ کامیابی سے ہمکنار ہونے والے ہیں۔ شح کے معنی ہم سوروہ حشر میں عرض کرچکے ہیں ایسا بخل جس میں حرص شامل ہو یا ایسی حرص جس میں بخل شامل ہو، حضرت شاہ صاحب (رح) شح کا لالچ ترجمہ کرتے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بہترین معنی ہیں لالچ میں حرص اور بخل دونوں کا مفہوم آجاتا ہے ۔ کامیابی اور فلاح کا مطلب یہ ہے کہ جہنم سے بچ کر جنت میں داخل ہوجائے اور اللہ تعالیٰ کا قرب میسر ہوجائے۔
Ayah 64:17

اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْهُ لَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَكُوْرٌ حَلِیْمٌۙ Open ayah 64:17 in the Quran reader

اگر تم اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ کے طور پر قرض دو گے تو خدا تعالیٰ اس کے اجر کو تمہارے لئے بڑھاتا رہے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بڑا قدردان اور بڑے تحمل والا ہے۔

(17) اگر تم اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ کے طور پر قرض دو گے تو اللہ تعالیٰ اس قرض کو تمہارے لئے بڑھاتا رہے گا یعنی اس کے اجر کو زیادہ کرتا رہے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا قدردان اور بڑے تحمل والا ہے۔ قرض حسنہ کو ہم سورة حدید میں بیان کرچکے ہیں قرض حسنہ خلوص اور خوش دلی کے ساتھ دینا اور دینے پر احسان نہ رکھنا۔ بڑھانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے اجر کو دنیا اور آخرت میں بڑھاتا رہے گا دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ عطا فرمائے گا تم کو بخش دے گا یعنی تمہارے گناہ بخش دے گا اللہ تعالیٰ شکور یعنی قدر دان ہے کہ عمل صالح کو قبول کرتا ہے اور تھوڑی چیز کو بڑھاتا ہے حلیم ہے یعنی بردبار ہے اور تحمل والا ہے معصیت پر فوری نہیں پکڑتا بلکہ سننے اور توبہ کرنے کے لئے مہلت دیتا ہے اور فوراً ہی عذاب نازل نہیں کردیتا۔
Ayah 64:18

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 64:18 in the Quran reader

ہر چھپے اور کھلے کا جاننے ہوالا ہے کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے۔

(18) ہرچھپے اور کھلے کا جاننے والا ہے کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ یعنی قرض دینے والوں کو نیت کو خوب جانتا ہے جو عمل ظاہری ہیں ان سے بھی خوب واقف ہے بڑا زبردست اور بڑی حکمت کا مالک ہے۔ تم تفسیر سورہو التغابن