60. Surah Al-Mumtahana

الممتحنةShe that is to be examined · 13 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 60:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِیَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَ قَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَآءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّ١ۚ یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَ اِیَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْ١ؕ اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِیْ١ۖۗ تُسِرُّوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ١ۖۗ وَ اَنَا اَعْلَمُ بِمَاۤ اَخْفَیْتُمْ وَ مَاۤ اَعْلَنْتُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 60:1 in the Quran reader

اے ایمان والو ! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ تم ان کی طرف محبت کی طرح ڈالتے ہو۔ حالانکہ جو حق تمہارے پاس 1 آیا ہے وہ اس کا انکار کرچکے ہیں۔ وہ رسول کو اور خود تمہیں بھی اس بنا پر جلاوطن 2 کرتے ہیں کہ تم اپنے رب اللہ پر ایمان لاتے ہو۔ اب اگر تم (برائے فتح مکہ) میری راہ میں جہاد اور میری رضاجوئی کی خاطر نکلے ہو تو خفیہ 3 طور پر انہیں دوستی کا نامہ و پیام بھیجتے ہو ؟ حالانکہ جو کچھ تم چھپاتے ہو یا ظاہر کرتے ہو میں اسے خوب جانتا 4 ہوں۔ اور تم سے جو بھی ایسا کام کرے وہ سیدھی راہ 5 سے بھٹک گیا

1 غزوہ مکہ کا فوری سبب :۔ معاہدہ حدیبیہ، جسے اللہ نے فتح مبین قرار دیا ہے، کی دوسری شرط کے مطابق بنو خزاعہ مسلمانوں کے اور بنوبکر قریش کے حلیف بن چکے تھے۔ اس صلح کے ڈیڑھ سال بعد بنوخزاعہ اور بنوبکر کی آپس میں لڑائی ہوگئی تو قریش مکہ نے معاہدہ کے برخلاف کھلم کھلا بنوبکر کی بھرپور مدد کی اور جب بنوخزاعہ نے حرم میں پناہ لی تو انہیں وہاں بھی نہ چھوڑا۔ اس واقعہ کے بعد بنوخزاعہ کے چالیس شتر سوار فریاد کے لیے مدینہ پہنچے۔ آپ کو قریش کی اس بدعہدی پر سخت افسوس اور صدمہ ہوا۔ لہذا آپ نے قریش کے لیے مندرجہ ذیل تین شرطیں پیش کیں : 1۔ بنوخزاعہ کے مقتولین کا خون بہا ادا کیا جائے، (2) قریش بنوبکر کی حمایت سے دستبردار ہوجائیں، (3) اعلان کیا جائے کہ حدیبیہ کا معاہدہ ختم ہوگیا۔ قاصد نے جب یہ شرائط قریش کے سامنے پیش کیں تو ان کا نوجوان طبقہ بھڑک اٹھا اور ان میں سے ایک جوشیلے نوجوان فرط بن عمر نے قریش کی طرف سے اعلان کردیا کہ صرف تیسری شرط منظور ہے جب قاصد واپس چلا گیا تو ان لوگوں کا جوش ٹھنڈا ہو کر ہوش و حواس درست ہوئے اور سخت فکر دامنگیر ہوگئی۔ چناچہ ابو سفیان کو تجدید معاہدہ کے لیے مدینہ بھیجا گیا۔ اس نے آپ سے تجدید معاہدہ کی درخواست کی مگر آپ نے کوئی جواب نہ دیا۔ پھر اس نے علی الترتیب سیدنا ابوبکر ؓ سیدنا عمر حتیٰ کہ سیدہ فاطمہ ؓ تک سے سفارش کے لیے التجا کی لیکن سب نے یہی جواب دیا کہ ہم اس معاملہ میں دخل نہیں دے سکتے۔ لاچار اس نے مسجد نبوی میں کھڑے ہو کر یکطرفہ ہی اعلان کردیا کہ میں نے معاہدہ حدیبیہ کی تجدید کردی۔ غزوہ مکہ کی مہم میں رازداری :۔ قریش کی بدعہدی ہی حقیقتاً اعلان جنگ کے مترادف تھی۔ پھر ان کے صرف تیسری شرط منظور کرنے سے مزید تاخیر کی گنجائش بھی ختم ہوچکی تھی۔ چناچہ آپ نے نہایت رازداری سے مکہ پر چڑھائی کی مہم کا آغاز کیا۔ حلیف قبائل کو جو پیغامات بھیجے گئے ان میں بھی یہ راز داری ملحوظ رکھی گئی تھی اور جس وقت ابو سفیان مدینہ پہنچا اس وقت آپ اس مہم کا آغاز فرما چکے تھے۔ لہذا اب تجدید معاہدہ کا وقت گزر چکا تھا۔ اسی لیے آپ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ جس قدر رازداری سے آپ نے اس موقع پر کام لیا۔ پہلے کبھی نہ لیا تھا۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ مکہ حرم تھا اور وہاں لڑائی کرنا مکہ کے احترام کے خلاف تھا۔ آپ یہ چاہتے تھے کہ کفار مکہ کو خبر تک نہ ہو اور آپ ایک عظیم لشکر لے کر وہاں پہنچ جائیں۔ جس سے کفار مرعوب ہو کر مقابلہ کی جرأت ہی نہ کرسکیں۔ گویا آپ اس راز داری سے دو فائدے حاصل کرنا چاہتے تھے۔ ایک یہ کہ مکہ فتح ہوجائے دوسرا یہ کہ وہاں کشت و خون بھی نہ ہو۔ حاطب بن ابی بلتعہ کا کفار مکہ کو خط بھیجنا اور راز فاش ہونے کا خطرہ :۔ انہی دنوں ایک نہایت سچے مسلمان حاطب ابن ابی بلتعہ سے ایک فاش غلطی ہوگئی۔ ان کے بال بچے مکہ میں تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ قریش مکہ کو اس راز سے مطلع کرکے ان پر ایک احسان کردیں تاکہ وہ اس دوران اس احسان کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان کے بال بچوں کو گزند نہ پہنچائیں۔ مکہ سے سارہ نامی ایک عورت مدینہ آئی ہوئی تھی۔ حاطبص نے اس عورت کی خدمات حاصل کیں۔ ایک خط لکھ کر اس کے حوالہ کیا جو سرداران قریش کے نام تھا۔ اور اسے یہ تاکید کی کہ نہایت راز سے یہ خط کسی قریشی سردار کے حوالے کردے اور اس عورت کی اس خدمت کے عوض اسے دس دینار بھی دے دیئے۔ اس طرح اس عورت کی حیثیت سیدنا حاطبص کے قاصد کی بن گئی تھی۔ سیدنا حاطبص کا یہ خط چونکہ بنے بنائے سارے کھیل پر پانی پھیر دینے کے مترادف تھا۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی مدینہ سے روانگی کے فوراً بعد آپ کو بذریعہ وحی اس معاملہ سے مطلع فرما دیا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے جو اقدام کیا وہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے : آپ کا خط واپس لانے کے لئے وفد بھیجنا :۔ سیدنا علی ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے مجھے، زبیر اور مقداد تین آدمیوں کو (ایک مہم پر) روانہ کیا۔ فرمایا (مکہ کے رستہ پر) روضہ خاخ (ایک مقام کا نام) تک جاؤ۔ وہاں تمہیں ایک عورت (سارہ) ملے گی جو اونٹ پر سوار ہوگی۔ اس کے پاس ایک خط ہے وہ لے آؤ۔ چناچہ ہم تینوں گھوڑے دوڑاتے روضہ خاخ پہنچ گئے تو فی الواقع وہاں ایک شتر سوار عورت ملی۔ ہم نے اسے کہا : جو تمہارے پاس خط ہے وہ نکال دو وہ کہنے لگی : میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہم نے کہا : نکال دو تو خیر ورنہ ہم تمہارے کپڑے اتار دیں گے چناچہ اس نے اپنے جوڑے میں سے وہ خط نکال کر ہمیں دے دیا اور ہم وہ خط آپ کے پاس لے آئے۔ اس خط کا مضمون یہ تھا : حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے چند مشرکین مکہ کے نام۔ اور اس میں انہیں نبی اکرم کے معاملہ (مکہ پر چڑھائی) کی خبر دی گئی تھی۔ حاطب بن بلتعہ سے باز پرس :۔ نبی اکرم نے حاطبص سے پوچھا : حاطبص ! یہ کیا بات ہے ؟ (تم نے جنگی راز کیوں فاش کردیا ؟ ) حاطب نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میرے معاملہ میں جلدی نہ کیجئے۔ (اور میری بات سن لیجئے) میں ایک ایسا آدمی ہوں جو اصل قریشی نہیں۔ آپ کے ساتھ جو دوسرے مہاجر ہیں (وہ اصل قریشی ہیں) ان کے رشتہ دار قریش کے کافروں میں موجود ہیں جن کی وجہ سے ان کے گھر بار اور مال و اسباب محفوظ رہتے ہیں۔ میں نے یہ چاہا کہ میرا ان سے کوئی نسبی رشتہ تو ہے نہیں میں ان پر کچھ احسان کرکے اپنا حق قائم کروں تاکہ وہ میرے رشتہ داروں کی حمایت کریں۔ آپ کا سیدنا حاطب کی معذرت قبول کرنا :۔ میں نے یہ کام کفر یا اپنے دین سے پھرجانے کی بنا پر نہیں کیا یہ سن کر نبی اکرم نے (مسلمانوں سے) کہا : حاطب نے تم سے سچ سچ بات کہہ دی سیدنا عمر کہنے لگے : یارسول اللہ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں آپ نے فرمایا : دیکھو ! یہ جنگ بدر میں شریک تھا اور تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ نے اہل بدر پر (عرش معلی سے) جھانکا پھر فرمایا : (ماسوائے شرک کے) تم جو بھی عمل کرو میں نے تمہیں بخش دیا عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ یہ آیت اسی باب میں نازل ہوئی۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر) 2 یعنی کفار مکہ کا تم سے یہ سلوک تھا کہ انہوں نے تمہاری زندگی اس قدر اجیرن بنا رکھی تھی کہ تم ترک وطن پر مجبور ہوگئے تھے اور تمہارا ان سے یہ سلوک ہو کہ تم ان کے لیے جنگی راز تک فاش کر ڈالتے ہو۔ تاکہ وہ اپنی ٹھیک ٹھاک مدافعت کا انتظام کرسکیں۔ اور اس معاملہ میں تم مسلمانوں کے اجتماعی مفادات کو بھی نظرانداز کر رہے ہو ؟ علاوہ ازیں ان لوگوں نے تمہیں ہجرت پر مجبور کردیا۔ حالانکہ تم نے ان کا کچھ بھی نہ بگاڑا تھا۔ ان کی نظروں میں اگر تمہارا کچھ جرم تھا تو صرف یہ کہ تم اللہ پر ایمان لے آئے تھے ؟ 3 اب اگر تم محض میری رضا کی خاطر اس مہم میں شریک ہو رہے ہو تو کیا یہ کام تم نے میری رضا کے مطابق کیا ہے یا اس کے خلاف ؟ اللہ تعالیٰ کے اس عتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمر کو جو سیدنا حاطب ص پر غصہ آیا تھا اور رسول اللہ سے سیدنا حاطب کو قتل کرنے کی اجازت مانگی تھی۔ تو وہ بھی بہت حد تک حق بجانب تھے کیونکہ سیدنا عمر جنگی اسرارورموز اور ان کے نتائج سے پوری طرح واقف تھے۔ مگر رسول اللہ نے سیدنا حاطب کو اس لیے معاف فرما دیا کہ ان کی نیت میں کوئی فتور نہ تھا۔ نیز سیدنا حاطبص ایسے راز کے فاش کردینے کے نتائج سے پوری طرح واقف نہ تھے۔ لہذا آپ نے اپنی نرمی طبع کی بنا پر خیر کے پہلو کو ترجیح دیتے ہوئے سیدنا حاطبص کو معاف فرما دیا۔ بالخصوص اس صورت میں کہ اللہ نے مسلمانوں کو سیدنا حاطبص کے اس فعل کے برے نتائج سے بچا لیا تھا۔ 4 ان آیات سے کن کن چیزوں پر ثبوت مہیا ہوتا ہے ؟ :۔ تم کیا سمجھتے ہو کہ اگر تم نے نہایت رازداری سے کوئی خط قریش مکہ کو بھیجا ہے تو اللہ کو بھی اس کا علم نہ ہوگا ؟ اور تمہاری اتنی فاش غلطی کو بھی وہ چھپا ہی رہنے دے گا ؟ یہ آیات بھی منجملہ ان آیات کے ہے جن سے اللہ تعالیٰ کی ہستی، آپ کے اللہ کا رسول ہونے، قرآن کے منزل من اللہ ہونے اور اللہ تعالیٰ کے عالم الغیب والشہادۃ ہونے کے صریح ثبوت مہیا ہوتے ہیں۔ 5 اگر کوئی مسلمان دانستہ راز فاش کردے تو وہ قابل گردن زدنی ہے :۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی سچا مسلمان غلطی سے یا نتائج سے اپنی نافہمی کی بنا پر کوئی جنگی راز فاش کر دے تو وہ کافر نہیں ہوجاتا۔ مسلمان ہی رہتا ہے۔ البتہ اس کا یہ جرم قابل مواخذہ ضرور ہے۔ لیکن اگر کوئی مسلمان دانستہ طور پر اور جان بوجھ کر ایسا کام کرے تو وہ منافق بھی ہے کافر بھی ہوجاتا ہے اور گردن زدنی بھی اس کا یہ جرم معاف نہیں کیا جاسکتا۔
Ayah 60:2

اِنْ یَّثْقَفُوْكُمْ یَكُوْنُوْا لَكُمْ اَعْدَآءً وَّ یَبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ وَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَؕ Open ayah 60:2 in the Quran reader

اگر وہ تمہیں پالیں تو تمہارے دشمن بن جائیں اور برے ارادوں سے تم پر دست درازی اور زبان درازی 6 کریں۔ اور یہ چاہیں کہ تم (پھر) کافر بن جاؤ

6 اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ جس خوش فہمی کی بنا پر سیدنا حاطبص نے یہ کام کیا تھا۔ وہ توقع بھی عبث اور لاحاصل تھی۔ ان کافروں کے دلوں میں تمہارے لیے اس قدر بغض وعناد ہے کہ وہ تمہیں زندہ دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے۔ کسر صرف اتنی ہے کہ ان کا بس نہیں چل رہا۔ اور اگر کسی وقت تم پر ان کا بس چل جائے تو پھر وہ وہی کچھ کریں گے جو پہلے کرچکے ہیں۔ ان کی چیرہ دستیوں سے بچنے کے لیے صرف ایک صورت ہے اور وہ یہ کہ تم بھی انہی کی طرح پھر سے کافر بن جاؤ اور ان کی جمعیت میں شامل ہوجاؤ۔ بتاؤ کیا تم یہ پسند کرو گے ؟
Ayah 60:3

لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ١ۛۚ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۛۚ یَفْصِلُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 60:3 in the Quran reader

قیامت کے دن نہ تمہارے رشتے ناطے کچھ فائدہ دیں گے اور نہ تمہاری اولاد۔ وہ تمہارے درمیان 7 جدائی ڈال دے گا اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے خوب دیکھتا ہے

7 تم نے یہ کام صرف اس لیے کیا کہ مکہ میں تمہارے بال بچے کافروں کی ایذا رسانی سے محفوظ رہیں۔ تم نے اپنے بال بچوں کے مفاد کو اسلام کے اجتماعی مفاد کے مقابلہ میں ترجیح دی۔ حالانکہ قیامت کے دن تمہارے یہ بال بچے تمہارے کسی کام نہ آسکیں گے۔ بال بچوں کی خاطر جس خطرناک غلطی کا تم نے ارتکاب کیا ہے۔ اگر اللہ تمہیں اس کی پاداش میں پکڑے تو کیا یہ بال بچے تمہیں اللہ سے بچا سکیں گے ؟
Ayah 60:4

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ١ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنْكُمْ وَ مِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١٘ كَفَرْنَا بِكُمْ وَ بَدَا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَ الْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗۤ اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَ مَاۤ اَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ رَبَّنَا عَلَیْكَ تَوَكَّلْنَا وَ اِلَیْكَ اَنَبْنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 60:4 in the Quran reader

تمہارے لئے ابراہیم اور اس کے ساتھیوں میں ایک اچھا نمونہ 8 ہے۔ جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے صاف کہہ دیا کہ : ہم تم سے قطعی بیزار ہیں اور ان سے بھی جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پوجتے ہو۔ ہم تمہارے (دین کے) منکر ہیں۔ اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دشمنی اور بیر پیدا ہوچکا تاآنکہ تم اللہ اکیلے پر ایمان لے آؤ مگر ابراہیم 9 کا اپنے باپ سے یہ کہنا : (اس سے مستثنیٰ ہے) کہ میں تیرے لئے (اللہ سے) معافی کی درخواست کروں گا حالانکہ میں تیرے لیے اللہ کے سامنے کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا 10 ۔ اے ہمارے پروردگار ! ہم نے تجھی پر بھروسہ کیا اور تیری طرف ہی رجوع 11 کیا اور تیری ہی طرف ہمیں لوٹنا ہے۔

8 سیدنا ابراہیم اور ان کے ساتھیوں کا اپنی قوم کو دو ٹوک جواب تمہارے لئے نمونہ ہے :۔ تم سے پہلے تمہارے لیے ایک اچھی مثال موجود ہے اور وہ تمہارے لیے قابل تقلید ہے۔ جس طرح تم اللہ کے رسول پر ایمان لائے ہو، اسی طرح سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) پر بھی کچھ لوگ ایمان لائے تھے۔ جوں جوں وہ ایمان لاکر سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ملتے گئے۔ اپنی قوم اور اپنے گھر والوں سے بیزار ہوتے گئے اور انہوں نے واضح طور پر اپنی قوم اور اپنے تعلق داروں سے کہہ دیا تھا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان اب کوئی تعلق نہیں رہا، نہ رشتہ داری کا نہ دوستی کا۔ بلکہ اس کے بجائے ہم تمہارے دشمن ہیں۔ اور ہماری یہ دشمنی تم سے اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک تم شرک سے دستبردار ہو کر اللہ اکیلے پر ایمان نہ لے آؤ۔ عبادت کرو تو صرف اسی کی کرو۔ دعا کرو تو اسی سے کرو۔ اپنی حاجت روائیوں اور مشکل کشائیوں کے لیے اسی کو پکارو اور اپنے بتوں سے کچھ توقع نہ رکھو۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے پیروکاروں نے تو برملا یہ کہہ دیا تھا اور تم لوگ مشرکوں کو خفیہ خط لکھ کر ان سے دوستی گانٹھتے ہو ؟ 9 باپ کے حق میں دعائے مغفرت پھر رجوع :۔ آپ لوگوں کے لیے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی سب باتیں قابل تقلید ہیں مگر یہ بات قابل تقلید نہیں جو انہوں نے اپنے مشرک باپ کے حق میں اللہ سے مغفرت کی دعا کی تھی۔ ہوا یہ تھا کہ جب باپ نے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے گھر سے نکال دیا تھا تو اس وقت سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے دعائے مغفرت کا وعدہ کیا تھا۔ (16: 147) اسی وعدہ کو پورا کرنے کی غرض سے آپ نے دو بار اپنے باپ کے حق میں دعائے مغفرت کی بھی تھی۔ پہلی بار کی دعا کا ذکر سورة ابراہیم کی آیت نمبر 41 میں ہے اور دوسری بار کی دعا کا ذکر سورة الشعراء کی آیت نمبر 86 میں ہے۔ پھر جب آپ کو پوری طرح معلوم ہوگیا کہ باپ شرک سے دستبردار ہونے کو قطعاً تیار نہیں۔ اور مشرک کی معافی کی اللہ کے ہاں کوئی صورت نہیں تو آپ نے اپنے اس قول اور وعدہ سے رجوع کرلیا اور اس کے حق میں دعائے مغفرت کرنا چھوڑ دی۔ ضمناً اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ انبیاء کا آخری عمل قابل تقلید ہوتا ہے :۔ ایک یہ کہ انبیاء کا کوئی عمل جو ان کی زندگی میں مختلف رہا ہو، قابل تقلید وہ صورت ہوتی ہے جو ان کی آخری زندگی میں ہو۔ اور پہلی صورت سے انہوں نے خود رجوع کرلیا ہو یا بذریعہ وحی اس کی اصلاح کردی گئی ہو اور شریعت میں اس کی ممانعت وارد ہوچکی ہو۔ مشرک کے لئے دعائے مغفرت بھی جائز نہیں :۔ اور دوسری یہ کہ اہل ایمان کا مشرکوں سے اتنا تعلق بھی نہ ہونا چاہئے کہ وہ ان کے حق میں دعائے مغفرت ہی کردیں۔ خواہ وہ ان کے قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ 10 یعنی میں تیرے لیے صرف دعائے مغفرت ہی کرسکتا ہوں۔ آگے اللہ تمہیں بخشے یا نہ بخشے یہ اللہ کے اختیار میں ہے۔ میرے اختیار میں کچھ نہیں۔ 11 یہ ہے وہ دعا اور عمل جس پر سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی عمل پیرا ہوئے تھے۔ اور اس کی تمہیں تقلید کرنا چاہیے۔
Ayah 60:5

رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ اغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 60:5 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ! ہمیں کافروں (کے مظالم) کا تختہ مشق 12 نہ بنانا۔ اور اے ہمارے رب ! ہمیں معاف فرما دے۔ بیشک تو ہی زبردست ہے، حکمت والا ہے

12 یہاں فتنہ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جو بڑا وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ فتنہ کے معنی آزمائش، دکھ، رنج، رسوائی، دیوانگی، عبرت، عذاب، مرض سب کچھ آسکتا ہے اور یہ لفظ عموماً برے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے اس جملہ یا دعا کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک تو ترجمہ سے واضح ہے۔ دوسرا یہ کہ اگر خدانخواستہ کافر ہم پر غالب آگئے تو ہمیں ہمارے دین پر قائم نہ رہنے دیں گے۔ اور پھر سے کفر و شرک میں مبتلا کرنے کا باعث بن جائیں گے۔ نیز وہ یہ سمجھیں گے کہ ہم ہی سچے دین پر ہیں۔ تیسرا مطلب یہ ہے کہ ہمیں ایسے اخلاق فاضلہ اور اعمال صالحہ کی توفیق دے کہ کافر لوگ ہماری طرف انگشت نمائی نہ کرسکیں اور طعنے نہ دے سکیں۔
Ayah 60:6

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْهِمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 60:6 in the Quran reader

انہیں لوگوں میں تمہارے لئے ایک اچھا نمونہ 13 ہے جو اللہ اور آخرت کے دن کی امید رکھتا ہو اور جو کوئی سرتابی 14 کرے تو بلاشبہ اللہ بےنیاز اور اپنی ذات 15 میں محمود ہے۔

13 سیدنا ابراہیم کے ساتھیوں کے تین اوصاف :۔ یعنی سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے پیروکاروں کے یہاں اللہ تعالیٰ نے تین اوصاف بیان فرمائے۔ ایک یہ کہ انہوں نے مشرکوں سے مکمل طور پر قطع تعلق کرلیا تھا اور یہ قطع تعلق دائمی تھا، تاآنکہ مشرک شرک سے باز آجائے۔ دوسرے وہ صرف اللہ پر توکل رکھتے تھے، تیسرے وہ اپنے حق میں اخلاق فاضلہ اور اعمال صالحہ کی توفیق کی دعائیں بھی کرتے رہتے تھے اور بجا بھی لاتے ہیں۔ یہ صفات بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ اگر تم لوگ فی الواقع اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے اور اس سے جزائے اعمال کی امید رکھتے ہو تو تمہیں بھی ان جیسے کام کرنے چاہئیں۔ 14 تَوَلَّ کا ایک معنی تو وہی ہے تو ترجمہ میں مذکور ہے۔ اس کا دوسرا معنی دوست بنانا، دوستی گانٹھنا ہے۔ یعنی جو شخص سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کے قابل تقلید نمونہ کے باوجود اللہ اور آخرت پر ایمان لانے اور توقع رکھنے کے باوجود مشرکوں سے دوستی گانٹھتا ہے تو اللہ کو اس کے ایسے ایمان کی کوئی پروا نہیں۔ کیونکہ وہ تو بےنیاز ہے۔ اور یہ مطلب اصل مضمون سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ 15 یہ صورت نہیں کہ اگر کوئی اللہ کی حمد و ثنا بیان کرے تو تب ہی وہ محمود ہے۔ وہ کسی کے حمد و ثنا بیان کرنے کا محتاج نہیں۔ کیونکہ وہ اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔ اس کی حمدو ثنا بیان کرنے سے حمد کرنے والے کو ہی فائدہ پہنچتا ہے۔ اللہ کا اس سے کچھ نہیں سنورتا اور حمد و ثنا نہ کرنے سے اس کا بگڑتا بھی کچھ نہیں۔
Ayah 60:7

عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْهُمْ مَّوَدَّةً١ؕ وَ اللّٰهُ قَدِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:7 in the Quran reader

کچھ بعید نہیں کہ اللہ تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان دوستی پیدا کر دے 16 جن سے تم عداوت رکھتے ہو۔ اور اللہ بڑی قدرتوں والا ہے، اور وہ بہت بخشنے والا 17 ہے رحم کرنے والا ہے

16 فتح مکہ سے پیشتر کفار مکہ کے ایمان لانے کی خوشخبری :۔ اس آیت میں مسلمانوں کو فتح مکہ سے پہلے ہی فتح مکہ کی خوشخبری دے دی گئی ہے۔ اور ابتداء میں عسیٰ کا لفظ محض شاہانہ انداز بیان کی رعایت سے آیا ہے۔ جیسے کوئی بادشاہ اپنے کسی ملازم کو کہے کہ ہوسکتا ہے کہ تمہیں ترقی دے دی جائے۔ تو اس کا مطلب ایک یقینی خبر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صرف فتح مکہ کی خبر ہی نہیں دی۔ بلکہ یہ بھی بتلا دیا کہ مکہ کے کافر جو آج تمہارے سخت دشمن ہیں۔ اسلام قبول کرلیں گے اور تم لوگ پھر آپس میں شیروشکر بن جاؤ گے۔ 17 یعنی اللہ کو یہ قدرت حاصل ہے کہ حالات کا رخ اس طرح موڑ دے کہ مکہ بھی فتح ہوجائے۔ کشت و خون بھی نہ ہو اور کافروں کی اکثریت بھی مسلمان ہو کر تمہارے ساتھ مل جائے۔ رہی وہ غلطی جو اس سلسلہ میں تم نے کی ہے۔ تو اللہ اس غلطی کو بھی اور اسی طرح تمہاری دوسری غلطیوں اور لغزشوں کو بھی ازراہ کرم معاف کردینے والا ہے۔
Ayah 60:8

لَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ لَمْ یُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 60:8 in the Quran reader

اللہ تمہیں ان لوگوں سے منع نہیں کرتا جو نہ تم سے دین کے بارے میں لڑے 18 اور نہ ہی تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا، اس بات سے کہ تم ان سے بھلائی کرو اور ان کے حق میں انصاف کرو۔ اللہ تو یقینا انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے

18 لڑنے کا حکم صرف ان کافروں سے ہے جو دکھ پہنچاتے اور معاندانہ سرگرمیوں میں مشغول ہوں۔ عام کافروں سے نہیں محض کفر لڑائی کا سبب نہیں بن سکتا :۔ اس آیت کی رو سے اللہ تعالیٰ نے کافروں کو دو گروہوں میں تقسیم فرمایا ہے۔ ایک وہ جو معاند تھے۔ مسلمانوں کو ایذائیں پہنچاتے، اسلام کی راہ روکتے اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے میں سرگرم تھے۔ دوسرے مسالم جو کافر تو تھے مگر روادار تھے۔ غیر جانبدار بن کر رہے۔ مسلمانوں کو نہ کوئی دکھ پہنچایا نہ ان کے خلاف کسی کارروائی میں حصہ لیا۔ اور یہ دونوں قسم کے لوگ مکہ میں بھی رہتے تھے اور ارد گرد بھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے لیے الگ الگ احکام بیان فرمائے۔ پہلی قسم کے لوگوں سے سلوک کا بیان ابتدائے سورة سے چلا آرہا ہے۔ رہے دوسری قسم کے بےضرر قسم کے کافر تو ان کے ساتھ رواداری کا حکم فرمایا۔ یعنی ان سے تم کو بھی عداوت نہ رکھنی چاہئے۔ اور رشتہ داری کے حقوق کا بھی خیال رکھنا چاہئے اور ان سے بہتر سلوک کرنا چاہئے۔ کیونکہ انصاف کا یہی تقاضا ہے کہ ان دونوں سے سلوک میں فرق رکھا جائے۔ اس سے دو اہم باتوں کا پتہ چلتا ہے ایک یہ کہ مسلمانوں کی عداوت کی بنیاد محض کفر نہیں بلکہ اسلام کے خلاف معاندانہ سرگرمیاں ہیں۔ اسی وجہ سے اسلام نے دوران جنگ بچوں، بوڑھوں، عورتوں، عبادت گزار اور درویش قسم کے لوگوں اور جنگ میں شریک نہ ہونے والے کافروں کو قتل کرنے سے منع فرما دیا ہے۔ اور دوسری یہ کہ اسلام ایک حق پسند، انصاف پسند اور امن پسند دین ہے۔ جو صرف ان لوگوں سے تعرض کرتا ہے۔ جو اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں یا اس کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
Ayah 60:9

اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 60:9 in the Quran reader

اللہ تو تمہیں صرف ان لوگوں سے منع کرتا ہے جنہوں نے دین کے بارے میں تم سے لڑائی کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا، اور تمہارے نکالنے میں ایک دوسرے کی مدد کی، اس بات سے کہ تم انہیں دوست بناؤ۔ اور جو انہیں دوست بنائے تو ایسے لوگ ظالم 19 ہیں۔

19 معاند قسم کے کافر ہی اسلام، پیغمبر اسلام، اہل اسلام اور اللہ کے دشمن ہیں۔ اور ایسے لوگوں سے دوستی دراصل اسلام اور اہل اسلام سے دشمنی کے مترادف ہے۔ لہذا اس قسم کے کافروں کو دوست بنانا یا ان سے راز و نیاز کی باتیں کہنا یا بتانا بڑے ظلم کی بات ہے۔
Ayah 60:10

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا جَآءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْهُنَّ١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِهِنَّ١ۚ فَاِنْ عَلِمْتُمُوْهُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوْهُنَّ اِلَى الْكُفَّارِ١ؕ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَ لَا هُمْ یَحِلُّوْنَ لَهُنَّ١ؕ وَ اٰتُوْهُمْ مَّاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ؕ وَ لَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَ سْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقْتُمْ وَ لْیَسْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ حُكْمُ اللّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 60:10 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تمہارے پاس مومن عورتیں 20 ہجرت کرکے آئیں تو ان کی جانچ پڑتال 21 کرلیا کرو۔ اللہ ان کے ایمان کو خوب جانتا ہے۔ پھر اگر تمہیں یہ معلوم ہو کہ وہ (فی الواقع) مومن ہیں تو انہیں کافروں کی طرف واپس نہ کرو۔ ایسی عورتیں ان (کافروں) کے لئے حلال نہیں اور نہ ہی وہ ان عورتوں 22 کے لئے حلال ہیں۔ اور کافروں نے جو کچھ (ایسی مومن عورتوں پر) خرچ کیا ہو انہیں دے دو ۔ اور ان سے نکاح کرلینے میں تم پر کچھ گناہ نہیں جبکہ تم انہیں ان کے حق مہر ادا کردو۔ اور تم خود بھی کافر عورتوں کو اپنے نکاح میں نہ رکھو 23 ۔ اور جو کچھ تم نے ان پر خرچ کیا ہے وہ ان (کافروں) سے مانگ لو۔ اور جو مہر کافروں نے اپنی (مسلمان) بیویوں کو دیئے تھے وہ ان (مسلمانوں) سے مانگ لیں۔ یہ اللہ کا حکم ہے جو تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا ہے، دانا ہے۔

20 ہجرت کرنے والوں کی تین قسمیں :۔ آیت نمبر دس اور گیارہ میں ایک نہایت اہم معاشرتی مسئلہ کا حل پیش کیا گیا ہے جو آغاز ہجرت سے ہی کئی طرح کی الجھنوں کا باعث بنا ہوا تھا۔ مکہ میں بہت سے ایسے لوگ تھے جو خود تو مسلمان ہوچکے تھے مگر ان کی بیویاں کافر تھیں یا بیویاں مسلمان ہوچکی تھیں تو شوہر کافر تھے۔ ہجرت کرنے سے یہ مسئلہ مزید سنگین بن گیا تھا۔ ہجرت کرنے والوں کی تین قسمیں تھیں۔ (1) میاں بیوی دونوں مسلمان اور ہجرت کرکے مدینہ آگئے :۔ ایک وہ جو دونوں میاں بیوی مسلمان ہوں اور دونوں نے ہجرت کی ہو۔ جیسے سیدنا عثمان ؓ اور ان کی اہلیہ یعنی رسول اللہ کی صاحبزادی۔ ایسے لوگوں کا کوئی مسئلہ نہ تھا۔ اور عموماً ایسے جوڑے آگے پیچھے یا ایک ساتھ مدینہ پہنچ ہی جاتے تھے۔ (2) میاں مسلمان مدینہ میں بیوی کافر مکہ میں :۔ دوسرے وہ جو خاوند مسلمان تھے مگر بیوی یا بیویاں کافر جیسے سیدنا عمر خود تو ہجرت کرکے مدینہ آگئے لیکن ان کی دو کافر بیویاں مکہ ہی میں رہ گئیں۔ (3) بیوی مسلمان مدینہ میں میاں کافر مکہ میں :۔ تیسرے وہ جو بیوی مسلمان ہوچکی ہو اور خاوند کافر مکہ میں رہ جائے۔ جیسے رسول اللہ کی بڑی صاحبزادی سیدہ زینب تو مدینہ میں پہنچ گئیں مگر ان کا کافر خاوند عمرو بن عاص مکہ میں ہی رہ گیا۔ مردوں کے لیے یہ مسئلہ اس لحاظ سے زیادہ سنگین نہ تھا کہ وہ دوسرا نکاح کرسکتے تھے اور کرلیتے تھے۔ مگر عورتوں کے لیے اتنی مدت تک رشتہ ازدواج میں منسلک رہنا بڑا سنگین مسئلہ تھا۔ پھر جب صلح حدیبیہ ہوئی تو اس کا ایک شرط یہ بھی تھی کہ جو مسلمان مکہ سے مدینہ آئے گا۔ مسلمان اسے واپس مکہ کافروں کے ہاں لوٹانے کے پابند ہوں گے۔ اور اس شرط کے تحت مسلمانوں نے کافروں کے مطالبہ پر کچھ لوگ لوٹا بھی دیئے۔ اسی دوران جب ام کلثوم بنت عقبہ ہجرت کرکے مدینہ آگئیں تو کافروں نے ان کی واپسی کا بھی مطالبہ کردیا۔ لیکن آپ نے کافروں کے اس مطالبہ کو درست تسلیم نہیں کیا۔ وجہ یہ تھی کہ یہ شرط کافروں کے تیسرے اور آخری سفیر سہیل بن عمرو نے ان الفاظ میں لکھوائی تھی (علی ان لا یاتیک منا رجل فان کان علٰی دینک الا رددتہ الینا) (بخاری۔ کتاب الشروط۔ باب الشروط فی الجھاد والمصالحۃ اھل الحرب) ترجمہ : (ور یہ کہ اگر ہم میں سے کوئی مرد، خواہ وہ تمہارے دین پر ہی کیوں نہ ہو، تمہارے پاس آئے تو تمہیں اسے ہمارے طرف واپس کرنا ہوگا) چناچہ آپ نے صاف کہہ دیا کہ اس شرط کے الفاظ کی رو سے عورتیں از خود مستثنیٰ ہیں۔ اس وقت جاکر قریشیوں کی یہ غلط فہمی دور ہوئی۔ ورنہ وہ یہی سمجھے بیٹھے تھے کہ ہم عورتیں بھی واپس لاسکتے ہیں۔ ان آیات میں ایسی ہی مہاجر عورتوں کے ازدواجی مسائل کا حل بتایا گیا ہے۔ 21 ہجرت کرکے آنے والی عورتوں کے امتحان :۔ یعنی ان ہجرت کرنے والی عورتوں کے ایمان یا دلوں کا حال تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے لیکن تم ظاہری طور پر ان کا امتحان لے لیا کرو کہ آیا وہ واقعی مسلمان ہیں اور محض اسلام کی خاطر وطن چھوڑ کر آئی ہیں ؟ کوئی دنیوی یا نفسانی غرض تو اس ہجرت کا سبب نہیں تھی ؟ یا کہیں خاوندوں سے لڑ کر یا خانگی جھگڑوں سے بیزار ہو کر یا محض سیر و سیاحت یا کسی دوسری غرض سے تو یہاں نہیں آئیں ؟ اس حکم کے مخاطب چونکہ مومن ہیں، نبی نہیں۔ لہذا آپ نے اس غرض کے لیے سیدنا عمر کا انتخاب کیا تھا اور وہی مدینہ پہنچنے والی عورتوں کا امتحان لیتے تھے۔ 22 ایسی عورتوں کے متعلق جو امتحان میں کامیاب ثابت ہوں پہلا حکم یہ ہوا کہ انہیں کسی صورت کافروں کی طرف واپس نہیں کیا جائے گا اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ اس حکم کے بعد وہ اپنے کافر خاوندوں کے لیے حلال نہیں رہیں۔ اس سے دو مسئلے مستنبط کئے گئے ہیں ایک یہ کہ اختلاف دین سے نکاح از خود ختم ہوجاتا ہے۔ کافر اور مومنہ عورت کا یا مومن مرد اور کافر عورت کا رشتہ نکاح از خود ٹوٹ جاتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اختلاف دارین سے بھی نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ مثلاً ایک زوج دارالاسلام میں ہو اور دوسرا دارالحرب میں تو نکاح ازخود ختم ہوجائے گا کیونکہ ان کے درمیان یہ رشتہ قائم رکھنا محال ہے۔ اس حکم کے بعد تمام مہاجر عورتوں کو نکاح کرنے کی اجازت مل گئی۔ 23 کافر عورتوں کے نکاح کی تنسیخ اور حق مہر کی ادائیگی کے طریقے :۔ اب رہا حق مہر کا مسئلہ، جو مسلمان عورتیں ہجرت کرکے مدینہ آگئی تھیں ان کے متعلق یہ حکم ہوا کہ جو مسلمان ان سے نکاح کرے۔ وہ اس عورت کا سابقہ حق مہر اس کافر کو بھی ادا کرے گا۔ جس کے نکاح میں وہ پہلے تھی۔ اور اس نئے نکاح میں جو حق مہر طے ہو وہ بھی ادا کرے گا اور مسلمانوں کی جو عورتیں کافر تھیں اور کافروں کے پاس مکہ میں ہی رہ گئی تھیں ان کے متعلق یہ حکم ہوا کہ جن کافروں کے قبضہ میں یا نکاح میں وہ ہیں۔ وہ مسلمانوں کو یا اس خاص مسلمان کو حق مہر ادا کردیں یا لوٹا دیں جس کے نکاح میں وہ پہلے تھی۔ اور مسلمانوں کو اس رقم کا کافروں سے مطالبہ کرنا چاہیے۔ یعنی اس سلسلہ میں کافر مسلمانوں سے اور مسلمان کافروں سے اپنی سابقہ بیویوں کے حق مہر کی رقم کا مطالبہ کرسکتے ہیں اور یہ حکم اس لیے نازل ہوا کہ ان دنوں معاہدہ حدیبیہ کی رو سے صلح تھی۔ کافروں اور مسلمانوں میں ایسے لین دین کا معاملہ یا تبادلہ ہوسکتا تھا۔
Ayah 60:11

وَ اِنْ فَاتَكُمْ شَیْءٌ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ اِلَى الْكُفَّارِ فَعَاقَبْتُمْ فَاٰتُوا الَّذِیْنَ ذَهَبَتْ اَزْوَاجُهُمْ مِّثْلَ مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 60:11 in the Quran reader

اور اگر تمہاری کافر بیویوں کے مہروں میں سے تمہیں (کفار سے) کچھ نہ ملے۔ پھر تم نے کفار کا تعاقب 24 (کرکے مال غنیمت حاصل) کیا۔ تو اس مال میں سے ان مسلمانوں کو ان کی کافر بیویوں کے حق مہر کے برابر مال دے دو جو انہوں نے خرچ کیا تھا۔ اور اس اللہ سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔

24 اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ فریقین کے حق میں نہایت منصفانہ اور حکیمانہ تھا۔ جو مسلمانوں کے لیے تو بہرحال واجب الاطاعت تھا لیکن کافروں نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ وہ ان کافر عورتوں کا سابقہ حق مہر ان مسلمانوں کو دینے کے لیے تیار نہ ہوئے جن کے نکاح میں وہ پہلے تھیں۔ اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے دو طریقے بتائے۔ جن سے مسلمانوں کو اس رقم کی ادائیگی ہوسکتی تھی جو انہوں نے اپنی کافر بیویوں کو دی تھی اور یہ دونوں طریقے لفظ عاقَبْتُمْ سے ماخوذ ہیں۔ اس لفظ کا ایک مفہوم تو ترجمہ میں واضح کردیا گیا ہے۔ کہ ایسے مسلمانوں کو ان کا حق اموال غنائم سے اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو بیت المال سے ادا کردیا گیا ہے۔ اور عاقَبْتُمْ کے معنی جب تمہاری باری آئے یا تمہارا داؤ لگے بھی کیے گئے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جمع تفریق کے ذریعہ حساب برابر کرلو۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ مثلاً الف اور ب دو مسلمان ہیں۔ جنہوں نے کافروں کی مدینہ پہنچ جانے والی مومن عورتوں سے نکاح کرنا ہے اور ان کا سابقہ حق مہر جو کافروں سے طے ہوا تھا، دو دو سو درہم ہے۔ دوسری طرف ج اور د دو کافر ہیں جو مکہ میں مسلمانوں کی کافر بیویوں پر قابض ہیں اور ان کا سابقہ حق مہر مثلاً ڈیڑھ ڈیڑھ سو درہم تھا۔ اب مسلمانوں نے کافروں کو ادا تو چار سو درہم کرنا ہے اور کافروں سے لینا تین سو درہم ہے۔ تو مسلمان کافروں کو اب صرف ایک سو درہم دے کر حساب بیباق کردیں گے۔ اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہو تو مسلمانوں کو دینے کے بجائے کچھ لینا آتا ہو اور کافر دینے کو تیار نہ ہوں یا پورے کا پورا ہی نہ دے رہے ہوں تو اس کی صورت وہی ہوگی جو پہلے مذکور ہوچکی۔ یعنی انہیں اس وقت ادائیگی ہوگی جب کافروں سے مال غنیمت ہاتھ لگ جائے یا پھر یہ رقم بیت المال سے بھی ادا کی جاسکتی ہے۔
Ayah 60:12

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَكَ عَلٰۤى اَنْ لَّا یُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْرِقْنَ وَ لَا یَزْنِیْنَ وَ لَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَ لَا یَاْتِیْنَ بِبُهْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَهٗ بَیْنَ اَیْدِیْهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ وَ لَا یَعْصِیْنَكَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْهُنَّ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:12 in the Quran reader

اے نبی ! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ان امور پر بیعت 25 کرنے آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں گی، نہ چوری کریں گی، نہ زنا کریں گی، نہ اپنی اولاد کو قتل 26 کریں گی، اپنے ہاتھ اور پاؤں کے آگے 27 کوئی بہتان گھڑ کر نہ لائیں گی اور کسی نیک امر میں آپ کی نافرمانی 28 نہ کریں گی تو آپ ان سے بیعت کرلیجئے 29 اور ان کے لئے اللہ سے معافی مانگئے۔ اللہ تعالیٰ یقینا بخشنے والا ہے رحم کرنے والا ہے

25 عورتوں کی بیعت کن باتوں پر :۔ یعنی امتحان کے بعد ان مہاجر عورتوں کو نیز عام مسلمان عورتوں کو بیعت کا حکم ہوا۔ اور یہ بیعت صرف رسول اللہ لیں گے۔ کیونکہ اس آیت کے مخاطب آپ ہی ہیں۔ اور جن گناہوں سے اجتناب پر بیعت لی جائے گی وہ سب کبیرہ گناہ ہیں۔ ان میں سب سے بڑا گناہ تو شرک ہے جو بالخصوص اللہ کے حق سے تعلق رکھتا ہے۔ دوسرے سب گناہ حدی جرائم ہیں۔ اور حقوق العباد سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان پانچ گناہوں میں سے شرک کے علاوہ باقی چار گناہ ایسے ہیں جن پر حد لگتی ہے۔ یہ تو وہ گناہ ہیں جن کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی آپ کئی ایسے گناہ کے کاموں سے اجتناب پر بیعت لیتے تھے جن کا ذکر احادیث میں مذکور ہے۔ اور یہ سب ایسے جرائم ہیں جن کا عرب میں عام رواج تھا۔ 26 جیسا کہ جاہلیت میں رواج تھا کہ رسمی ننگ و عار کی وجہ سے لڑکیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے۔ یا فقر و فاقہ کے خوف کی وجہ سے لڑکیوں کے علاوہ لڑکوں کو بھی مار ڈالتے تھے۔ نیز اس میں اسقاط حمل بھی شامل ہے۔ خواہ یہ جائز حمل کا اسقاط ہو یا ناجائز حمل کا۔ 27 بہتان کی قسمیں :۔ اس بہتان کی بھی کئی صورتیں ہیں۔ ایک تو معروف و مشہور ہے یعنی کوئی عورت دوسری عورت پر کسی غیر مرد سے آشنائی کا الزام لگا دے جسے عموماً تہمت کہا جاتا ہے۔ دوسری یہ کہ خود زانیہ ہو، بچہ تو کسی دوسرے کا جنے اور شوہر کو یہ یقین دلائے کہ یہ تیرا ہی ہے۔ تیسری یہ کہ کسی دوسری عورت کی اولاد لے کر مکروفریب سے اپنی طرف منسوب کرلے۔ 28 بیعت کا سلسلہ چونکہ نبی کی ذات تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ امت کا امیر اور دوسرے بزرگ حضرات بھی بیعت لے سکتے ہیں۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے اطاعت کے ساتھ معروف کی شرط بھی لگا دی۔ حالانکہ آپ سے یہ ناممکن تھا کہ آپ کسی غیر معروف یا معصیت کے کام پر بیعت لیں اس سلسلہ میں آپ نے ایک واضح قانون ان الفاظ میں ارشاد فرمایا کہ لا طاعۃ فی معصیۃ انما الطاعۃ فی المعروف) (متفق علیہ) یعنی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا کام ہو تو کسی کی بھی اطاعت ضروری نہیں۔ اطاعت صرف بھلائی کے کاموں میں ہوتی ہے۔ اس آیت سے دوسری بات جو مستنبط ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ آپ کی ہر بات واجب الاتباع ہے خواہ اس کا ذکر قرآن میں موجود ہو یا نہ ہو۔ 29 عورتوں سے بیعت کا طریقہ :۔ آپ جب مردوں سے بیعت لیتے تو بیعت کرنے والا ہاتھ میں ہاتھ دے کر عہد کرتا تھا۔ لیکن عورتوں کے لیے یہ طریقہ نہیں تھا۔ آپ نے کبھی کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا، کبھی تو آپ عورتوں سے عہد لے کر کہہ دیتے کہ بس تمہاری بیعت ہوگئی۔ اور کبھی ایک چادر کا ایک سرا آپ پکڑے دوسرا بیعت کرنے والی عورت پکڑ کر عہد کرتی اور کبھی آپ پانی کے کسی پیالہ وغیرہ میں ہاتھ ڈالتے۔ پھر بیعت کرنے والی عورت دوسرے سرے سے ڈال دیتی اور جن باتوں پر آپ عورتوں سے یا مردوں سے بیعت لیتے رہے اس کی تفصیل کے لیے درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے : خ بیعت سے متعلق چند احادیث :۔ 1۔ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جو عورتیں ہجرت کرکے آپ کے پاس آتیں۔ آپ اس آیت کے مطابق ان کا امتحان لیتے۔ پھر جو عورت ان شرطوں کو قبول کرتی۔ آپ زبان سے ہی فرما دیتے کہ میں نے تجھ سے بیعت کی۔ اللہ کی قسم ! بیعت لیتے وقت آپ کے ہاتھ نے کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوأ۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر) خ 2۔ میت پر نوحہ کی مخالفت :۔ سیدہ ام عطیہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم نے آپ سے بھی بیعت کی تو آپ نے یہی آیت سنائی۔ پھر ہم کو مردے پر نوحہ کرنے سے منع فرمایا تو ایک عورت (یہ خود ام عطیہ ہی تھی) نے اپنا ہاتھ روکے رکھا اور کہنے لگی : فلاں عورت نے نوحہ کرنے میں میری مدد کی تھی میں اس کا بدلہ اتار لوں۔ یہ سن کر آپ خاموش رہے۔ وہ چلی گئی۔ پھر (نوحہ کرکے) واپس آئی تو آپ نے اس سے بیعت لے لی۔ (حوالہ ایضاً ) 3۔ سیدنا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے عید کی نماز نبی اکرم، ابوبکر ؓ ، عمر ؓ اور عثمان ؓ سب کے ساتھ پڑھی۔ آپ خطبہ سے پہلے نماز پڑھاتے پھر اس کے بعد خطبہ سناتے تھے۔ خطبہ کے بعد آپ منبر سے اترے گویا میں آپ کو دیکھ رہا ہوں جبکہ آپ ہاتھ کے اشارے سے لوگوں کو بٹھا رہے تھے۔ پھر ان کی صفیں چیرتے ہوئے آگے بڑھے عورتوں کے پاس آئے۔ بلال ؓ آپ کے ساتھ تھے۔ اور ان کے سامنے یہ (بیعت والی) پوری آیت پڑھی۔ اس سے فراغت کے بعد عورتوں سے پوچھا : کیا ان شرطوں پر قائم ہوتی ہو ؟ ایک عورت کے سوا کسی نے کوئی جواب نہ دیا (شرما گئیں) اس عورت (اسما بنت یزید) نے کہا : ہاں یارسول اللہ اس کے بعد آپ نے ان سے کہا کہ وہ صدقہ کریں۔ بلال ؓ نے اپنا کپڑا بچھا دیا۔ اور وہ چھلے اور انگوٹھیاں بلال ؓ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔ (حوالہ ایضاً ) 4۔ سیدنا عبادہ بن صامتؓ فرماتے ہیں کہ آپ نے (لیلۃ العقبہ) میں ہم سے فرمایا : تم مجھ سے ان باتوں پر بیعت کرتے ہو۔ ( أنْ لاَ تُشْرِکُوْا باللّٰہِ شَیْئًا وَلاَ تَزْنُوْا وَلاََ تَسْرِقُوْا) پھر جو ان شرطوں کو پورا کرے اس کا ثواب اللہ پر ہے اور جو کوئی کام کر بیٹھے پھر اس پر حد لگ جائے تو وہ اس کے گناہ کا کفارہ ہوجائے گا اور اگر کوئی گناہ کر بیٹھے اور اللہ اس کا گناہ چھپا دے تو پھر قیامت کے دن اللہ اگر چاہے تو اسے سزادے اور چاہے تو معاف کردے۔ (حوالہ ایضاً ) بیعت کرنے کے بعد آپ کو ارشاد ہوا کہ آپ ان بیعت کرنے والیوں کے حق میں دعائے مغفرت بھی کیا کریں۔ کہ ان امور میں ان سے جو کو تاہیاں پہلے ہوچکی ہیں۔ یا آئندہ اس عہد کی تعمیل میں کچھ تقصیر رہ جائے تو اللہ انہیں معاف فرما دے۔
Ayah 60:13

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ قَدْ یَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ كَمَا یَئِسَ الْكُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ۠ Open ayah 60:13 in the Quran reader

اے ایمان والو ! ایسے لوگوں کو دوست نہ بناؤ جن پر اللہ کا غضب 30 ہوا، وہ تو آخرت سے ایسے ہی مایوس ہیں جیسے کافر اہل قبور 31 سے مایوس ہیں۔

30 سورة کے آخر میں ایک دفعہ پھر تاکید مزید کے طور پر اسی بات کو دہرایا گیا ہے کہ معاند قسم کے کافر کبھی تمہارے خیر خواہ نہیں ہوسکتے۔ لہذا ان سے دوستی کی پینگیں مت بڑھاؤ۔ نہ ہی ان پر اعتماد کرو۔ جن پر اللہ ناراض ہے۔ اللہ کے دوستوں کو ان سے ناراض ہی رہنا چاہئے۔ 31 اصحاب قبور سے کافروں کی مایوسی کی مختلف توجہیات :۔ اس جملہ کے دو مختلف مطلب صحابہ سے منقول ہیں۔ ایک یہ کہ کافروں کا نہ آخرت پر ایمان ہے، نہ ہی قبروں سے مردوں کے دوبارہ جی اٹھنے پر۔ وہ آخرت میں جزاء و سزائے اعمال کی ویسے ہی توقع نہیں رکھتے جیسے مردوں کے قبروں سے جی اٹھنے کی توقع نہیں رکھتے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ جو کافر قبروں میں پہنچ چکے ہیں حقیقت حال ان کے سامنے کھل کر آچکی ہے اور آخرت میں اللہ کی رحمت اور مہربانی سے ایسے ہی مایوس ہوچکے ہیں۔ جیسے کہ یہ کافر آخرت کے قیام سے ہی مایوس ہیں۔ یہ دونوں مطلب درست ہیں۔ لیکن اس کے علاوہ بعض لوگوں نے، جو قبروں میں پڑے ہوئے اولیاء اللہ کے تصرفات کے قائل ہیں، ایک تیسرا مطلب بھی کشید کرلیا ہے جو یہ ہے کہ اہل قبور کے تصرفات سے جو لوگ مایوس ہیں اور اس بات کا یقین نہیں رکھتے وہ کافر ہیں۔ گویا اہل قبور کے تصرفات کو تسلیم نہ کرنا کافروں کا کام ہے۔ (نعوذ باللہ من شرور انفسا)