61. Surah As-Saff

الصفThe Ranks · 14 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 61:1

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 61:1 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین میں جو مخلوقات ہے اللہ کی تسبیح 1 کر رہی ہے اور وہ غالب ہے، دانا ہے

1 یہ اس سورة کے افتتاحی کلمات ہیں جن کی تشریح پہلے بہت سے مقامات پر گزر چکی ہے۔
Ayahs 61:2–3

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 61:2 in the Quran reader

اے ایمان والو ! ایسی 2 بات کیوں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں۔

كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 61:3 in the Quran reader

اللہ کے ہاں یہ سخت ناپسندیدہ بات ہے کہ تم ایسی بات کہو جو تم کرتے نہیں

2 قول وفعل کا تضاد بہت بری خصلت ہے :۔ دوسری اور تیسری آیت کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ انسان دوسروں کو ایسی باتوں کی نصیحت کرے جن پر وہ خود عمل نہ کرتا ہو۔ مثلاً دوسروں کو اور بالخصوص اپنی اولاد کو یہ نصیحت کرے کہ سچ بولنا بہت اچھی عادت ہے لہذا ہمیشہ سچ بولا کرو۔ لیکن خود ان سے ایسی باتیں کہے جن سے اس کا جھوٹ واضح ہوجائے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ایسی لاف زنی مت کرو یا ایسی شیخیاں مت بگھارو جن پر تم عمل پیرا ہو ہی نہیں سکتے، انسان کے قول اور فعل کا تضاد بہت بری خصلت ہے۔ جس سے انسان لوگوں کی نظروں میں گر جاتا ہے اور اللہ تو ایسی بات کو سخت ناپسند کرتا ہے۔ زبان سے ایک بات کہہ دینا آسان ہے لیکن اس کو نباہنا آسان نہیں ہوتا لہذا جو بات کرو سوچ سمجھ کر کرو۔
Ayah 61:4

اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ Open ayah 61:4 in the Quran reader

اللہ یقینا ان لوگوں کو پسند 3 کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں جیسے کہ وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔

3 جہاد کے سلسلہ میں تین ہدایات :۔ یہ ارشاد الٰہی تو ایک عام حکم کا درجہ رکھتا ہے کہ قول و فعل کا تضاد اللہ کے ہاں سخت ناپسندیدہ چیز ہے اور اس کا خصوصی پہلو یہ ہے کہ مکی زندگی کے دوران جبکہ مسلمانوں کو صرف صبر اور برداشت کا حکم تھا کئی مسلمان یہ آرزو کرتے تھے کہ انہیں کافروں سے لڑائی کی اجازت ملنی چاہیے اور اگر ہمیں یہ اجازت مل جائے تو ہم کافروں کو تہس نہس کردیں۔ مگر جب اجازت مل گئی تو بعض لوگ یوں کہنے لگے کہ پروردگار ! ہم پر قتال کو فرض کرنے کی اتنی بھی کیا جلدی پڑی تھی (4: 77) اور کچھ لوگوں کے تو یہ حکم سن کر رنگ ہی اڑ گئے۔ انہیں یوں محسوس ہونے لگا تھا کہ بس ابھی موت آئی کہ آئی (47: 20) قول و فعل میں اس قدر تضاد اللہ کو سخت ناپسند ہے۔ اور جو بات اللہ کو پسند ہے وہ یہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں جہاد کرو۔ جہاد کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں تین شرطیں بیان فرمائیں۔ ایک یہ کہ یہ جہاد محض اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے ہو، کوئی دوسری غرض اس سے وابستہ نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ دشمن کے سامنے اس طرح صف بندی کی جائے کہ اس میں کوئی رخنہ باقی نہ رہنے پائے۔ تیسرے یہ کہ تمہارے پائے ثبات میں کسی طرح کی لغزش یا تزلزل نہ آنے پائے۔ اور اپنی جگہ پر اس قدر جم کر مضبوطی سے کھڑے ہو کہ یوں معلوم ہو، جیسے وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے۔
Ayah 61:5

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ وَ قَدْ تَّعْلَمُوْنَ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ١ؕ فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 61:5 in the Quran reader

اور (وہ بات یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا : اے میری قوم ! تم مجھے کیوں دکھ پہنچاتے 4 ہو حالانکہ تم جان چکے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا (بھیجا ہوا) رسول ہوں۔ پھر جب انہوں نے کجروی 5 اختیار کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دل ٹیڑھے کردیئے اور اللہ نافرمان لوگوں کو کبھی ہدایت نہیں دیتا

4 بنی اسرائیل کا اپنے نبی سیدنا موسیٰ کو تکلیفیں پہنچانا :۔ تمام انبیاء کو اپنے مخالفین اور دشمنوں سے دکھ اور مصائب پہنچتے ہی رہے ہیں اور اس سے بھی زیادہ قابل افسوس بات یہ ہوتی ہے کہ اپنے ہی لوگ دکھ پہنچانے لگیں۔ اس سلسلہ میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو جس قدر پریشان کیا اور دکھ پہنچایا تھا۔ شاید ہی کسی دوسری قوم نے پہنچایا ہو۔ حالانکہ انہیں خوب معلوم تھا بلکہ یقین تھا کہ وہ اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے رسول ہیں۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں اللہ کے حکم کے مطابق ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیا تو طرح طرح کی کٹ حجتیاں اور سوال کر کرکے آپ کو پریشان کردیا۔ فرعون سے نجات پاکر آگے روانہ ہوئے ہی تھے کہ ایک قوم کو بت پوجتے دیکھ کر کہنے لگے : موسیٰ ! ہمیں بھی اس طرح کا ایک بت بنادو۔ جس کی ہم پوجا کیا کریں۔ میدان تیہ میں ان کو بلا مشقت من وسلویٰ مل رہا تھا تو کہنے لگے : موسیٰ ! ہم تو یہ غذا کھا کر تنگ آگئے ہیں اور جی بھر گیا ہے۔ لہذا اب سبزیاں اور دالیں کھانا چاہتے ہیں۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) طور پر تورات لینے گئے تو بعد میں ایک بچھڑا بنا کر اس کی پوجا شروع کردی اور کہنے لگے کہ موسیٰ (علیہ السلام) تو بھول کر طور پر چلے گئے۔ ہمارا اور اس کا معبود تو یہ ہے وہ وہاں کیا لینے چلے گئے۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کتاب تورات لے کر آئے تو کہنے لگے۔ ہمیں کیسے معلوم ہو کہ یہ واقعی اللہ کی طرف سے ہی نازل شدہ کتاب ہے۔ ہم تو جب تک واضح طور پر اللہ کو دیکھ نہ لیں یہ کتاب ماننے کو تیار نہیں۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں ارض شام میں جہاد کرنے کو کہا تو کہنے لگے موسیٰ ! وہاں تو بڑے طاقتور لوگ رہتے ہیں ہم ان سے کیسے لڑ سکتے ہیں۔ اگر جہاد اتنا ہی ضروری ہے تو تم اور تمہارا رب دونوں جا کر ان سے جہاد کرو۔ ہم تو یہیں بیٹھیں گے۔ اپنی قوم کی ایسی ہی باتوں سے تنگ آکر سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ سے دعا کی تھی۔ پروردگار ! میرا اختیار تو صرف اپنی ذات پر اور اپنے بھائی پر ہے لہذا اس نافرمان قوم سے ہمارا ساتھ چھڑا دے (5: 25) انبیاء اپنی دشمن قوم کے لیے تو ایسی دعا مانگتے ہی رہے ہیں۔ مگر کسی نبی نے غالباً اپنی قوم کے حق میں ایسی دعا کبھی نہیں مانگی۔ 5 اپنے نبی کی شان میں گستاخیاں کرتے کرتے اور دکھ پہنچاتے پہنچاتے ان کی فطرت ہی کچھ ایسی ٹیڑھی بن چکی تھی کہ کسی حکم کو بھی وہ سچے ایمانداروں کی طرح تسلیم کرلینے کو تیار نہ ہوتے تھے۔ بلکہ اس میں میں میخ نکال کر اس کا کچھ الٹا ہی مطلب نکال لیتے تھے۔ پھر جب انہوں نے کجروی کی راہ اختیار کی تو اللہ نے بھی انہیں اسی راہ پر ڈال دیا۔ کیونکہ اللہ کا یہ دستور نہیں کہ وہ ٹیڑھی راہ اختیار کرنے والوں کو زبردستی سیدھی راہ پر ڈال دے۔ اس لیے کہ ایسا کرنے سے اس دنیا میں انسان کی آزمائش کا مقصد ہی ختم ہوجاتا ہے۔
Ayah 61:6

وَ اِذْ قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ اَحْمَدُ١ؕ فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 61:6 in the Quran reader

اور جب عیسیٰ ابن مریم نے کہا۔ اے بنی اسرائیل ! میں یقینا تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں اور اس تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں جو مجھ سے پہلے نازل 6 ہوئی۔ اور ایک رسول کی بشارت دینے والا ہوں جو میرے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد 7 ہوگا۔ پھر جب وہ رسول واضح دلائل 8 لے کر ان کے پاس آگیا تو کہنے لگے : یہ تو صریح جادو ہے

6 (مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ ۝) 61 ۔ الصف :6) کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ سیدنا عیسیٰ ابن مریم اپنے سے پہلے کی نازل شدہ کتاب کی تصدیق کرنے والے تھے وہ شریعت موسوی یعنی تورات کی تعلیم کے ہی پیرو تھے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ میرا وجود تورات کی باتوں کی تصدیق کرتا ہے کیونکہ میں ان چیزوں کا مصداق بن کر آیا ہوں جن کی خبر میرے متعلق تورات میں دی گئی تھی۔ 7 تورات اور انجیل دونوں کے صرف تراجم ہی ملتے ہیں۔ اصل نسخے کہیں بھی موجود نہیں :۔ احمد کے دو معنی ہیں ایک اپنے پروردگار کی بہت زیادہ حمد بیان کرنے والا۔ دوسرے وہ جس کی بندوں میں سب سے زیادہ تعریف کی گئی ہو۔ اور یہ دونوں صفات آپ کی ذات اقدس میں پائی جاتی ہیں۔ علاوہ ازیں آپ نے خود ہی فرمایا ہے کہ میرے کئی نام ہیں۔ میں محمد ہوں، میں احمد ہوں۔ میں ماحی ہوں، اللہ میری وجہ سے کفر کو مٹائے گا، میں حاشر ہوں۔ یعنی لوگ میری پیروی پر حشر کئے جائیں گے اور میں عاقب (تمام پیغمبروں کے بعد آنے والا) بھی ہوں۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ تفسیر سورة الصف) رہی یہ بات کہ آیا یہ نام موجودہ بائیبل میں موجود ہے یا نہیں ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ تورات اور انجیل دونوں میں تحریف ہونے کے باوجود آپ کی ایسی واضح صفات اب بھی مذکور ہیں۔ جن کو دیکھ کر آپ کو پہچانا جاسکتا تھا۔ یہود مدینہ نبی آخرالزمان کے منتظر تھے۔ اور ان میں سے بعض منصف مزاج لوگ انہی مذکورہ صفات کی بنا پر ایمان بھی لے آئے تھے۔ خ انجیل سیدنا عیسیٰ کے بہت بعد تالیف ہوئی :۔ رہی موجودہ انجیل تو یہ منزل من اللہ کتاب تو ہے نہیں۔ مختلف لوگوں کے تالیف کردہ نسخے ہیں۔ جو آپ کی زندگی کے بڑی مدت بعد تالیف کئے گئے۔ آج کل جو چار اناجیل بائیبل ہمیں ملتی ہیں۔ ان کے مؤلفین میں سے کوئی بھی سیدنا عیسیٰ کا صحابی یا حواری نہ تھا۔ البتہ انجیل برناباس کے مولف کا دعویٰ ہے کہ وہ آپ کا صحابی ہے۔ لیکن اس انجیل کی اشاعت اور طباعت پر کلیسا کی طرف سے پابندی لگادی گئی۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ انجیل برناباس توحید باری تعالیٰ کو واضح طور پر بیان کرتی تھی۔ جبکہ چوتھی صدی مسیح میں عیسائیوں میں عقیدہ تثلیث سرکاری طور پر رائج ہوچکا تھا۔ لہذا کلیسا نے اس انجیل پر پابندی لگا دینے میں ہی عافیت سمجھی۔ اس انجیل کے شاذ و نادر نسخے آج بھی مختلف لائبریوں میں مل جاتے ہیں۔ خ تحریف کے باوجود ان کتابوں میں آپ کی ایسی علامات موجود ہیں جن کی بنا پر عبداللہ بن سلام اور نجاشی نے تصدیق کی :۔ تحریف کے علاوہ دوسری مشکل یہ ہے کہ تورات ہو یا انجیل کوئی بھی الہامی کتاب اپنی اصلی زبان میں محفوظ نہیں ہے۔ صرف مختلف زبانوں میں ترجمے ہی ملتے ہیں۔ ان کی اصلی زبان سریانی تھی۔ اور تراجم یونانی، لاطینی، انگریزی اور اردو وغیرہ میں ہیں۔ لہذا پوری تحقیق کرنا نہایت مشکل کام ہے۔ ان سب باتوں کے باوجود جب نجاشی شاہ حبشہ نے مہاجرین حبشہ کو اپنے دربار میں بلایا اور سیدنا جعفر بن ابی طالب سے آپ کی تعلیمات سنیں تو اس نے کہا : مرحبا تم کو اور اس ہستی کو جس کے ہاں سے تم آئے ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور وہی ہیں جن کا ذکر ہم انجیل میں پاتے ہیں اور وہی ہیں جن کی بشارت سیدنا عیسیٰ بن مریم نے دی تھی (مسند احمد بروایت عبداللہ بن مسعود ؓ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک بھی انجیل میں آپ کی ایسی واضح علامات موجود تھیں جن کی وجہ سے نجاشی کو یہ رائے قائم کرنے میں ذرہ بھر تامل نہ ہوا۔ 8 جَائَ ھُمْ میں جاءَ کی ضمیر کے مرجع عیسیٰ (علیہ السلام) بھی ہوسکتے ہیں اور احمد بھی۔ پہلی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے پاس آئے جو اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کردیتے تھے۔ مٹی کے پرندے بنا کر ان میں پھونک مارتے تو وہ اڑنے لگتے تھے یا کوڑھی اور پھلبہری والے پر ہاتھ پھیرتے تو وہ تندرست ہوجاتا تھا تو ایسی باتیں دیکھ کر بنی اسرائیل نے ان معجزات کو صریح جادو کہہ دیا۔ اور دوسری صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت اور بتائی ہوئی صفات کے مطابق جب آپ مبعوث ہوگئے تو انہیں بنی اسرائیل نے آپ کی تعلیمات کو فریب کاری اور شعبدہ بازی پر محمول کیا۔ اور ایمان نہ لانے کی خاطر طرح طرح کے الزام عائد کرنے لگے۔
Ayah 61:7

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُوَ یُدْعٰۤى اِلَى الْاِسْلَامِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 61:7 in the Quran reader

اور اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہوگا کہ اللہ پر جھوٹے بہتان 9 باندھے جبکہ اسے اسلام کی طرف بلایا جارہا ہو۔ اور اللہ ایسے ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

9 نصاریٰ نے اللہ پر کیا کیا بہتان باندھے ؟ اس سے مراد عیسائیوں کے وہ مختلف قسم کے بہتان ہیں جو انہوں نے اللہ پر لگا رکھے تھے۔ کبھی کہتے کہ عیسیٰ ابن مریم اللہ کا بیٹا ہے۔ کبھی کہتے کہ یہ تین خداؤں میں کا تیسرا ہے اور کبھی کہتے کہ عیسیٰ ہی اللہ ہے۔ اور اللہ عیسیٰ کے جسم میں حلول کر آیا ہے۔ ان کے علاوہ ان کی بہتان بازیاں یہ تھیں کہ اناجیل کی عبارتوں میں خود ہی اپنی حسب پسند اضافے بھی کرلیتے تھے اور جو چیزیں موجود تھیں ان کی تاویل یا انکار بھی کردیتے تھے۔ اور ان سب باتوں سے بڑھ کر ظلم یہ کیا کہ جب نبی آخرالزمان نے انہیں اسلام لانے کی دعوت دی تو اپنے اختراع کردہ بہتانوں کو حقیقی بنیادبنا کر بنائے فاسد علی الفاسد کے مصداق اس نبی کو جھٹلا دیا۔ جو لوگ اللہ پر افترا کرنے میں بھی اتنے جری اور دلیر ہوگئے ہوں انہیں ہدایت کیسے نصیب ہوسکتی ہے ؟ اللہ کا یہ دستور نہیں کہ ایسے ظالموں کو زبردستی راہ ہدایت پر لے آئے۔
Ayah 61:8

یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 61:8 in the Quran reader

یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو پورا کرکے رہے گا۔ خواہ کافروں کو کتنا ہی 10 ناگوار ہو

10 اسلام کو نیست ونابود کرنے کے لیے دشمن اقوام کے منصوبے :۔ اس آیت کی مخاطب ساری ہی دشمن اسلام قومیں ہیں۔ خواہ وہ عیسائی ہوں یا یہودی یا مشرکین ہوں یا منافقین۔ فتح مکہ سے پہلے تک یہ سب طاقتیں یہی سمجھ رہی تھیں کہ اسلام بس ایک ٹمٹماتا چراغ ہے۔ جو ہوا کے ایک ہی جھونکے سے بجھ سکتا ہے اور بجھ جائے گا۔ بلکہ فتح مکہ کے بعد یہ تاثر پوری طرح زائل نہ ہوا۔ فتح مکہ کے بعد قبیلہ ثقیف اور ہوازن نے اسی ارادہ سے جنگ کی کہ اسلام کو ملیا میٹ کردیں۔ پھر اس کے بعد ایک عامر نامی عیسائی راہب نے منافقین مدینہ سے ساز باز کی اور قیصر روم کو مسلمانوں پر چڑھا لانے کے لیے روانہ ہوگیا۔ جس کے نتیجہ میں غزوہ تبوک بپا ہوا۔ روایات کے مطابق اس موقع پر عیسائیوں کے دو لاکھ افراد پر مشتمل لشکر کا آنا متوقع تھا۔ لیکن اللہ نے انہیں میدان مقابلہ میں آنے کی توفیق ہی نہ دی۔ سب اسلام دشمن طاقتیں آغاز اسلام سے لے کر جلتی بھنتی اور کڑھتی ہی رہیں اور انجام کار ہوا یہ کہ اسلام کی روشنی سارے عرب پھر اس کے بعد ساری دنیا میں پھیل گئی۔ واضح رہے کہ یہ آیات اس دور میں نازل ہوئیں جبکہ اسلام کا مستقبل بالکل مبہم تھا اور بعض غیر جانبدار قسم کے قبائل اس انتظار میں بیٹھے تھے کہ دیکھیے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ؟
Ayah 61:9

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 61:9 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا تاکہ اسے سب دینوں 11 پر غالب کر دے اگرچہ مشرکوں 12 کو کتنا ہی ناگوار ہو۔

11 اس آیت کی تشریح کے لیے سورة توبہ کی آیت نمبر 33 پر حاشیہ نمبر 33 ملاحظہ فرمائیے۔ 12 مشرکوں کو خالص توحید ناگوار گزرتی ہے :۔ یعنی مشرک تو یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کی بندگی کے ساتھ دوسروں کی بندگیاں بھی چلاتے رہیں۔ بڑے خدا کے ساتھ چھوٹے خداؤں یا اس کے اپنے پیاروں کو کائنات کے تصرف میں، حاجت روائیوں اور مشکل کشائیوں میں شامل اور شریک کرتے رہیں۔ اللہ کے دین میں دوسرے دینوں کی اور غیر اسلامی فلسفوں اور نظریات کی آمیزش کرتے رہیں۔ مگر اللہ کو ایسی شراکت اور ایسے سمجھوتے قطعاً منظور نہیں۔ وہ ہر قسم کے شرک سے پاک سچے اور ستھرے دین کو ہر دین پر غالب کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اسے پورا کرکے رہے گا اگر مشرکوں کو یہ بات ناگوار ہے تو وہ اپنا ایڑی چوٹی کا زور لگا دیکھیں۔
Ayahs 61:10–12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى تِجَارَةٍ تُنْجِیْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 61:10 in the Quran reader

اے ایمان والو ! کیا میں تمہیں ایسی تجارت 13 بتاؤں جو تمہیں دردناک عذاب سے بچا لے ؟

تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 61:11 in the Quran reader

تم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں اپنے اموال اور جانوں سے جہاد کرو۔ اگر تم جان لو تو یہی تمہارے لیے بہتر ہے

یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَ یُدْخِلْكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۙ Open ayah 61:12 in the Quran reader

وہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے تلے نہریں بہ رہی ہیں اور ہمیشہ رہنے والے باغوں میں پاکیزہ گھر عطا کرے گا۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔

13 یعنی تمام دنیا میں اسلام کا نور پھیلانے والی اور دین اسلام کو تمام ادیان باطلہ پر غالب کرنے والی اللہ کی ذات ہے تاہم اللہ تعالیٰ نے اس کا ذریعہ اہل ایمان کو بنایا ہے۔ اس کا کام یہ ہے کہ جو وہ ارادہ کرچکا ہے وہ پورا کرکے رہے گا اور یہ کام تمہارے ہاتھوں ہوگا۔ تم سچے دل سے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ اللہ کے وعدوں پر مکمل اعتماد کرو اللہ کے رسول کی پوری طرح اطاعت کرو۔ پھر اپنا مال، اپنا وقت، اپنی قابلیت حتیٰ کہ اپنی جانیں بھی اللہ کی راہ میں جہاد کرنے میں لڑا دو ۔ اور یہ تمہارے لیے ایسی پُر منفعت تجارت اور نفع کا سودا ہے جس میں کبھی خسارے کا احتمال نہیں ہوسکتا۔ اس کے عوض آخرت میں تمہیں دو فائدے یقینی طور پر حاصل ہوں گے ایک یہ کہ تمہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے گا اور دوزخ کے عذاب سے بچ جانا بھی بذات خود بڑی کامیابی ہے۔ دوسرا یہ کہ تمہارے گناہ اور خطائیں معاف کرکے نعمتوں والے باغات میں داخل کرے گا۔ جہاں تم ہمیشہ کے لیے جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے رہو گے اور یہ بھی بہت بڑی کامیابی ہے۔ (اسی سے ملتا جلتا مضمون پہلے سورة توبہ کی آیت نمبر 111 کے تحت حاشیہ نمبر 124 میں گزر چکا ہے۔ وہ بھی ملاحظہ فرما لیا جائے)
Ayah 61:13

وَ اُخْرٰى تُحِبُّوْنَهَا١ؕ نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 61:13 in the Quran reader

اور ایک دوسری چیز (بھی عطا کرے گا) جسے تم پسند کرتے ہو اور وہ ہے اللہ کی مدد اور جلد ہی (حاصل ہونے والی) فتح 14 ۔ آپ مومنوں کی اس کی بشارت 15 دے دیجئے

14 اللہ تعالیٰ نے پہلے اخروی نعمتوں کا ذکر فرمایا جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اصل اور پائیدار نعمتیں وہی ہیں ان کے علاوہ ایک اور تیسری نعمت جو اس دنیا سے متعلق ہے۔ اس کا بعد میں ذکر فرمایا۔ اور یہ پسندیدہ اس لحاظ سے ہے کہ انسان طبعاً نقد چیز کو زیادہ پسند کرتا ہے۔ اور وہ نعمت ہے اللہ کی مدد سے مکہ کی فتح جو عنقریب حاصل ہوگی۔ گویا اللہ سے ایمانداروں کا یہ سودا ہر لحاظ سے منفعت بخش اور بارآور ہے۔ دنیا میں فتح حاصل ہوتی ہے اور اموال غنیمت وغیرہ بھی ملتے ہیں۔ عزت حاصل ہوتی ہے اسلام کی فتح سے روحانی خوشی حاصل ہوتی ہے۔ اور آخرت میں جو فائدے حاصل ہوں گے وہ ان سب سے بڑھ کر ہیں۔ 15 یعنی اس مدد اور قریبی فتح کی بشارت بذات خود ایک مستقل انعام ہے۔
Ayah 61:14

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْۤا اَنْصَارَ اللّٰهِ كَمَا قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیّٖنَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ فَاٰمَنَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ كَفَرَتْ طَّآئِفَةٌ١ۚ فَاَیَّدْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰى عَدُوِّهِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰهِرِیْنَ۠ Open ayah 61:14 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ (کے دین) کے مددگار 16 بن جاؤ۔ جیسے عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے کہا تھا کہ : اللہ کی طرف (بلانے میں) کون میرا مددگار ہے ؟ تو حواریوں نے جواب دیا۔ ہم اللہ (کے دین) کے مددگار ہیں۔ پھر بنی اسرائیل کا ایک گروہ تو ایمان لے آیا اور دوسرے گروہ نے انکار کردیا۔ پھر ہم نے ایمان لانے والوں کی ان کے دشمنوں کے مقابلے میں مدد کی کہ تو وہی 17 غالب رہے۔

16 بعضبعض مفسرین کے نزدیک یہ دھوبی تھے۔ گو تعداد میں کم تھے مگر انتہائی مخلص ایماندار تھے۔ انجیل کی تعلیم کی اشاعت میں ان لوگوں نے سردھڑ کی بازی لگا دی تھی۔ (مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورة آل عمران کی آیت نمبر 52 اور سورة المائدہ کی آیت نمبر 111، 112 کے حواشی) 17 سیدنا عیسیٰ کا انکار کرنے والے تو یہود ہیں۔ اور ان پر ایمان لانے والے عیسائی ہیں جو سیدنا عیسیٰ کے بعد آپس میں دست و گریبان رہے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے اس بحث و مناظرہ اور خانہ جنگیوں میں ایمان لانے والوں کو یہودیوں پر غالب کیا پھر ان نصاریٰ میں شرک کی عام گمراہی پھیل گئی۔ ان میں سے جو بچے کھچے افراد توحید پر قائم رہ گئے تھے انہیں اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزمان کے ذریعہ غلبہ عنایت فرمایا۔ حجت وبرہان کے لحاظ سے بھی وہی غالب رہے اور سیاسی طور پر بھی انہیں ہی غلبہ حاصل ہوا۔