62. Surah Al-Jumu'a

الجمعةFriday · 11 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 62:1

یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 62:1 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین میں موجود تمام 1 مخلوق اللہ کی تسبیح کرتی 1 ہے۔ جو بادشاہ ہے، مقدس 2 ہے، زبردست ہے، دانا ہے

1 یہ تسبیح زبان قال سے بھی ہوتی ہے مگر ہم اسے سمجھ نہیں سکتے اور زبان حال سے بھی۔ یعنی کائنات کی ایک ایک چیز اس بات پر شاہد ہے کہ اس کا بنانے والا ہر طرح کے عیوب و نقائص سے پاک ہے۔ 2 ان صفات کی تشریح کے لیے سورة حشر کی آیت نمبر 23 ملاحظہ فرمائیے۔
Ayah 62:2

هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۗ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 62:2 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے ان پڑھ 3 لوگوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو انہیں اللہ کی آیات پڑھ کر سناتا ہے ان کی زندگی سنوارتا اور انہیں کتاب و حکمت 4 کی تعلیم دیتا ہے۔ اگرچہ وہ اس سے پہلے صریح 5 گمراہی میں پڑے تھے

3 یہود امی کا لفظ حقارت اور طنز کے طور پر بولتے تھے :۔ لفظ اُمِّیْ کی تشریح سورة اعراف کی آیت نمبر 155 (حاشیہ 154) کے تحت گزر چکی ہے۔ لیکن اس سورة میں آگے چونکہ یہود کو خطاب ہو رہا ہے۔ لہذا یہاں وہی مفہوم مراد ہوگا جو یہودی اس لفظ سے لیا کرتے تھے۔ یہودی خود تو اپنے آپ کو بہت پڑھے لکھے اور عالم فاضل سمجھتے تھے اور اپنے سوا سب غیر یہودیوں کو حقیر سمجھ کر امی کہتے تھے۔ یعنی ان کے سوا سب لوگ ان پڑھ اور بدھو ہیں اور رسول اللہ پر ایمان نہ لانے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ نبی آخرالزمان ہم جیسے عالم فاضل لوگوں میں سے ہوگا۔ گویا انہوں نے اس بات میں اپنی توہین سمجھی کہ وہ ایک ان پڑھ یا غیر یہود قوم میں مبعوث ہونے والے نبی پر ایمان لائیں۔ 4 اس نبی امی یا نبی آخرالزمان کی چار ذمہ داریاں تھیں۔ ان ذمہ داریوں کی تفصیل پہلے سورة بقرہ کی آیت نمبر 129 کے حواشی میں گزر چکی ہے۔ وہ ملاحظہ کرلی جائے۔ 5 دور جاہلیت میں عرب معاشرہ کی حالت :۔ کَانُوْا سے مراد یہود قوم بھی ہوسکتی ہے۔ مشرکین عرب بھی اور پورا عرب معاشرہ بھی۔ قوم یہود جن اخلاقی بیماریوں میں مبتلا تھی اور ان میں جس قدر اخلاقی انحطاط رونما ہوچکا تھا اس کی داستان بڑی طویل ہے اور قرآن میں جا بجا مذکور ہے۔ رہا عرب معاشرہ جس میں یہود بھی شامل تھے۔ ایسی نہ ختم ہونے والی قبائلی لڑائیوں میں مبتلا ہوچکا تھا۔ جس سے گھروں کے گھر برباد ہوگئے تھے۔ لیکن اس بیماری کا کوئی علاج انہیں نظر نہیں آتا تھا۔ شرک عام تھا ہر قبیلے کے الگ الگ بت بھی ہوتے تھے اور کچھ بڑے بت مشترکہ بھی ہوتے تھے۔ لوٹ مار قتل و غارت فحاشی زنا کاری اور شراب نوشی یہ سب باتیں ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی۔ اگرچہ سودی لین دین کا بھی رواج تھا تاہم اس کام میں یہودی قوم سب سے پیش پیش تھی۔ اور اس بات کے باوجود کہ سود ان کی شریعت میں حرام تھا۔ انہوں نے غیر یہود سے سود وصول کرلینا صرف جائز ہی نہیں بنا رکھا تھا۔ بلکہ اسے ایک مستحسن فعل سمجھتے تھے۔ انہی بیماریوں کی وجہ سے اہل عرب کی زندگی انتہائی تلخ صورت اختیار کرچکی تھی۔
Ayah 62:3

وَّ اٰخَرِیْنَ مِنْهُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِهِمْ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 62:3 in the Quran reader

اور انہی کے کچھ دوسرے لوگوں (کی طرف بھی بھیجا) جو ابھی ان سے 6 نہیں ملے اور وہ زبردست 7 ہے حکمت والا ہے

6 آپ تمام لوگوں کے لئے تاقیام قیامت رسول ہیں :۔ نبی آخرالزمان صرف ان امی اہل عرب ہی کی طرف مبعوث نہیں کیے گئے تھے بلکہ بعد میں قیامت تک آنے والے لوگوں کے بھی نبی ہیں گویا آپ کی نبوت اور رسالت صرف اہل عرب کے لیے اور صرف اس دور کے لیے ہی نہیں تھی بلکہ اس دور کے اور بعد میں تاقیامت آنے والے سب انسانوں کے لیے یکساں ہے۔ اس سلسلہ میں درج ذیل حدیث بھی ملاحظہ فرمائیے۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ : جب سورة جمعہ نازل ہوئی تو ہم آپ کے پاس بیٹھے تھے۔ میں نے آپ سے پوچھا کہ ( وَّاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ۝) 62 ۔ الجمعة :3) سے کون لوگ مراد ہیں ؟ آپ نے کوئی جواب نہ دیا۔ میں نے تین بار یہی سوال کیا۔ اس وقت ہم لوگوں میں سلمان فارسی بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے ان پر اپنا ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ : اگر ایمان ثریا پر بھی ہوتا تو ان لوگوں (فارس والوں) سے کئی لوگ وہاں تک پہنچ جاتے (بخاری۔ کتاب التفسیر) اہل فارس کی خدمت اسلام :۔ آپ نے پہلے دو بار اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔ اس لیے کہ اس سے مراد کوئی خاص لوگ نہیں تھے۔ بلکہ اس سے مراد عامۃ الناس تھے۔ پھر جب سیدنا ابوہریرہ ؓ نے تیسری بار بھی یہی سوال کیا تو آپ نے اہل فارس کا نام لیا کہ یہ لوگ دوسروں سے بڑھ چڑھ کر دین اسلام کی خدمت کریں گے۔ چناچہ عملاً ہوا بھی ایسا ہی، صحابہ کرام کے دور کے بعد اسلام کی نشرواشاعت کا جتنا کام اہل فارس نے سرانجام دیا۔ دوسروں کے حصہ میں یہ سعادت نہ آسکی۔ بڑے بڑے محدثین اور فقہاء کی اکثریت اسی علاقہ سے تعلق رکھتی ہے۔ 7 اللہ تعالیٰ کے زبردست اور حکمت والا ہونے کی اس سے بڑھ کر کیا دلیل ہوسکتی ہے کہ اس نے اپنا رسول بھیج کر بائیس تئیس سال کی مختصر مدت میں عرب بھر کی کایا پلٹ کے رکھ دی۔ شرک کی جڑ کٹ گئی۔ اور خالصتاً اللہ کے پرستار پیدا ہوگئے۔ پہلے سب ایک دوسرے کے دشمن تھے اب بھائی بھائی بن کر شیروشکر ہوگئے۔ پہلے بہت سے گناہوں اور اخلاقی امراض میں ڈوبے ہوئے تھے۔ اب اخلاق فاضلہ کے بلند مقام پر فائز ہوگئے۔
Ayah 62:4

ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 62:4 in the Quran reader

یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا 8 ہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے

8 یہود اگر جلتے ہیں تو جلتے رہیں۔ وہ کوئی اللہ کے فضل کے ٹھیکیدار نہیں ہیں کہ رسول اگر آنا تھا تو انہی کی قوم میں سے آنا چاہیے تھا۔ اور یہ فضل بھی کیا کم ہے کہ تاقیامت تمام روئے زمین کی قیادت پیغمبر اسلام اور آپ کی امت کے سپرد کردی گئی۔
Ayah 62:5

مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا١ؕ بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 62:5 in the Quran reader

جن لوگوں کو تورات کا حامل بنایا گیا پھر انہوں نے یہ بار نہ اٹھایا ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جو کتابیں اٹھائے 9 ہوئے ہو۔ (اس سے بھی) بری مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا 10 اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

9 پڑھے لکھے یہود کا اخلاقی انحطاط :۔ اس آیت اور اس سے آگے کی آیات میں براہ راست یہود کو خطاب کیا گیا ہے۔ جو اپنے آپ کو بڑا عالم فاضل سمجھتے تھے۔ انہوں نے تورات کی کئی شرحیں بھی لکھ رکھی تھیں۔ جنہیں تلمود کہتے تھے۔ ان میں سے اکثر لوگ لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ اور بہت سے تورات کے عالم بھی تھے۔ عرب بھر میں ان کے علم و فضل کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ اسی لیے وہ دوسرے سب لوگوں کو امی، ان پڑھ، بدھو کہتے تھے اور انہیں حقیر سمجھتے تھے لیکن ان کی عملی زندگی کا یہ حال تھا کہ وہ بےعمل بھی تھے اور بدعمل بھی۔ دنیا کے لالچ میں پھنس کر اللہ کو بھول چکے تھے۔ اللہ کے صرف ان احکام پر عمل کرتے تھے جو ان کی طبیعت اور مزاج کے موافق ہوں۔ خعالم بےعمل کی گدھے سے تشبیہ :۔ حرام خوری اور علی الاعلان جھوٹ بولنا۔ بدعہدی۔ دغا بازی۔ کتاب اللہ میں اپنی مرضی کے موافق تحریف کرلینا۔ سود کھانا اور غیر یہود کے مال کو ناجائز طور پر حاصل کرکے اسے اپنے لیے حلال و طیب سمجھنا ان کی طبیعت ثانیہ بن چکی تھی۔ اسی لیے اللہ نے ان کی مثال ایسے گدھے سے دی ہے جس کی پیٹھ پر کتابیں لاد دی گئی ہوں۔ وہ نہیں جانتا کہ اس کی پیٹھ پر علم و حکمت کے خزانے لادے ہیں یا پتھر ہیں۔ بالفاظ دیگر اللہ نے ان لوگوں کو گدھا قرار دیا جو علم و فضل کے دعویدار تھے۔ اس سے از خود یہ اصول مستنبط ہوتا ہے کہ جو عالم بےعمل یا بدعمل ہو وہ عالم نہیں بلکہ گدھا ہوتا ہے۔ جو مفت میں اپنی پیٹھ پر کتابوں کا اور علم کا بوجھ اٹھائے پھرتا ہے۔ 10 یہاں اللہ کی آیات سے مراد وہ بشارتیں اور نبی آخرالزماں کی صفات ہیں جو تورات میں موجود تھیں اور اس نبی آخرالزماں کو جھٹلا دینا ہی گویا اللہ کی آیات کو جھٹلا دینے کے مترادف تھا۔
Ayah 62:6

قُلْ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ هَادُوْۤا اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّكُمْ اَوْلِیَآءُ لِلّٰهِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 62:6 in the Quran reader

آپ ان سے کہیے : اے لوگو ! جو یہودی بنے ہوئے ہو، اگر تمام یہ سمجھتے ہو کہ تمام لوگوں کو چھوڑ کر بس تم ہی اللہ کے دوست ہو 11 تو اگر تم اس بات میں سچے ہو تو موت کی تمنا کرو

11 ان سب قباحتوں کے باوجود یہ سمجھتے تھے کہ ہم چونکہ انبیاء کی اولاد ہیں لہذا ہم ہی تمام دنیا میں اس کے چہیتے اور پیارے ہیں۔ مرنے کے بعد صرف ہم ہی جنت میں جائیں گے۔ باقی سب لوگ دوزخ میں جائیں گے۔ نیز یہ کہ مرتے ہی ہم سیدھے جنت میں پہنچ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس نظریہ کو مردود قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم اپنے اس دعویٰ میں سچے ہو تو پھر تو تمہیں جلد از جلد مرنے کی آرزو کرنا چاہیے تاکہ اس دنیا کے جھنجھٹوں اور جنجالوں سے تمہیں نجات مل جائے۔
Ayah 62:7

وَ لَا یَتَمَنَّوْنَهٗۤ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 62:7 in the Quran reader

اور یہ لوگ کبھی بھی موت کی تمنا نہ کریں گے۔ اپنے ان کرتوتوں کی وجہ سے 12 جو یہ کرچکے ہیں اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے

12 یہودی موت کی آرزو کیوں نہیں کرتے ؟ مگر حقیقت حال اس کے بالکل برعکس تھی۔ اس آیت کے نزول کے بعد محض اپنے دعوے کو سچا قرار دینے کی خاطر انہوں نے جھوٹ موٹ یا زبانی طور پر موت کی آرزو نہیں کی۔ اس لیے کہ انہیں اپنی بداطواریوں کا پوری طرح علم ہے اور انہیں دل سے یہ یقین ہے کہ مرنے کے ساتھ ہی جنت کی بجائے سیدھے جہنم رسید ہوں گے۔ لہذا نہ صرف یہ کہ مرنے کی آرزو نہیں کرتے بلکہ زیادہ سے زیادہ مدت زندہ رہنے پر انتہائی حریص واقع ہوئے ہیں۔
Ayah 62:8

قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْهُ فَاِنَّهٗ مُلٰقِیْكُمْ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 62:8 in the Quran reader

آپ ان سے کہیے : جس موت سے تم بھاگتے ہو وہ تو تمہیں آکے رہے 13 گی پھر تم اس کے ہاں لوٹائے جاؤ گے جو غائب اور حاضر کا جاننے والا ہے اور وہ تمہیں بتادے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ؟

13 یہود کا دنیا کی ذلت کی زندگی سے پیار اور سب یہودی قبائل کا لڑنے کی بجائے قلعہ بند ہونا :۔ ان کی دنیا کی زندگی سے محبت اور موت سے فرار کا یہ حال ہے کہ ذلیل سے ذلیل تر زندگی کو بھی موت پر ترجیح دیتے ہیں۔ اسی زندگی کی حرص نے انہیں مال و دولت، سازو سامان، اسلحہ اور سامان رسد کی فراوانی کے باوجود ایک بزدل قوم بنادیا تھا۔ شیخیاں بگھارنے میں بڑے ہوشیار اور تیز طرار، مگر مقابلے میں انتہائی ڈرپوک، اسی وجہ سے یہودیوں کے تینوں قبیلوں میں سے کسی نے بھی مسلمانوں سے میدان میں آکر جنگ نہیں کی۔ بنو قینقاع بھی قلعہ بند ہوئے۔ بنونضیر بھی اور بنو قریظہ بھی۔ کیونکہ یہود موت سے ڈرتے تھے جبکہ مسلمان موت سے بہت محبت رکھتے تھے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس موت سے تم بہرصورت بچنا چاہتے ہو وہ تو تمہیں آکے رہے گی۔ اور تمہیں اللہ کے حضور پیش بھی ہونا ہی پڑے گا۔ پھر وہ تمہیں بتادے گا کہ تم اللہ کے چہیتے اور لاڈلے تھے یا اس کی لعنت اور اس کے غصہ میں گرفتار تھے۔
Ayah 62:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 62:9 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جمعہ کے دن جب نماز کے لیے اذان دی جائے تو ذکر الٰہی کی طرف 14 دوڑ کر آؤ اور خریدو فروخت چھوڑ دو ۔ اگر تم جانو تو یہی بات تمہارے لیے بہتر ہے۔

14 سنت کے واجب الاتباع ہونے پر دلیل :۔ انداز بیان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان آیات کے نزول سے پیشتر اذان اور جمعہ دونوں چیزوں سے خوب متعارف تھے۔ انہیں ہدایت صرف یہ دی جارہی ہے کہ جب جمعہ کے لیے اذان ہوجائے تو خریدو فروخت اور دوسرے دنیوی مشاغل سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر فوراً جمعہ کا خطبہ سننے اور نماز ادا کرنے کے لیے مسجد میں پہنچ جاؤ۔ حالانکہ قرآن میں نہ کہیں اذان کے کلمات کا ذکر ہے اور نہ نماز جمعہ کی ترکیب کا۔ یہ باتیں رسول اللہ کی بتائی ہوئی ہیں۔ جن کی قرآن سے توثیق کردی گئی ہے۔ اس سے صاف واضح ہے کہ جس طرح قرآن کے احکام واجب الاتباع ہیں اسی طرح رسول اللہ کے احکام بھی واجب الاتباع ہیں اور جو شخص صرف قرآن کو واجب الاتباع سمجھتا ہے وہ دراصل قرآن کا بھی منکر ہے۔ اذان کی ابتدا کیسے ہوئی ؟ اس کے کلمات اور مسائل و فضائل کیا ہیں ؟ اس کے لیے درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے :۔ خ اذان سے متعلق احادیث اور مسائل :۔ 1۔ عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ مسلمان جب مدینہ آئے تو نماز کے لیے یوں ہی جمع ہوجایا کرتے۔ ایک وقت ٹھیرا لیتے نماز کے لیے اذان نہیں ہوتی تھی۔ ایک دن انہوں نے اس بارے میں گفتگو کی تو بعض کہنے لگے نصاریٰ کی طرح ایک گھڑیال بنا لو اور بعض کہنے لگے یہود کی طرح ایک بگل بنالو۔ سیدنا عمر نے کہا : ایک آدمی کیوں نہیں مقرر کرلیتے جو نماز کے لیے ندا کردیا کرے۔ چناچہ آپ نے (اسی رائے کو پسند کرتے ہوئے) بلال ؓ سے فرمایا : بلال اٹھو اور نماز کے لیے اذان کہو۔ (بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب بدء الاذان) 2۔ سیدنا انس ؓ کہتے ہیں کہ بلال ؓ کو یہ حکم دیا گیا کہ اذان کے الفاظ دو دو بار اور تکبیر کے الفاظ ایک ایک بار کہیں۔ بجز قد قامت الصلوۃ کے۔ (بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب الاذان مثنیٰ مثنیٰ ) 3۔ سیدنا انس فرماتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ جہاد کرتے۔ آپ صبح ہونے تک ہمیں چڑھائی کرنے سے روکے رکھتے۔ پھر اگر وہاں (صبح کی) اذان سن لیتے تو ان پر حملہ نہ کرتے اور اگر اذان کی آواز نہ آتی تو پھر حملہ کرتے (بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب ما یحقن بالاذان من الدمائ) 4ـ۔ ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جب تم اذان سنو تو جو کچھ مؤذن کہے وہی کچھ تم بھی کہتے جاؤ (بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب مایقول اذاسمع المنادی) البتہ جب وہ حی علی الصلٰوۃ کہے تو لاحول ولا قوۃ الا باللٰہ کہے۔ 5۔ جابر بن عبداللہ انصاری ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : اذان سننے کے بعد جو شخص یہ دعا کرے : اللٰہم ربَّ ھذہ الدعوۃِ التامۃ والصلٰوۃ القائمۃ اٰتِ محمد نالوسیلۃَ والفضیلۃَ وابعثہ مقامًا محمودَ نِ الذی وعدتہ قیامت کے دن میری شفاعت کا مستحق ہوگا۔ (بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب الدعاء عندالندائ) 6۔ عبداللہ بن حارث بصری کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے ہم کو (جمعہ کا) خطبہ سنایا۔ اس دن کیچڑ تھی۔ جب مؤذن حی علیٰ الصلوۃ کہنے کو تھا تو انہوں نے اسے حکم دیا کہ یوں پکارے الصلوٰۃ فی الرحال (اپنے اپنے ٹھکانوں پر ہی نماز پڑھ لو) یہ سن کو لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ ابن عباس ؓ نے کہا : یہ کام تو اس ہستی نے کیا جو مجھ سے بہتر تھے اور اس میں شک نہیں کہ جمعہ واجب ہے۔ (بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب الکلام فی الاذان) 7۔ عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : بلال تو رات رہے سے (سحری کی) اذان دیتا ہے اور جب تک ام مکتوم کا بیٹا اذان نہ دے۔ تم لوگ کھاتے پیتے رہو اور ام مکتوم کے بیٹے (عبداللہ) اندھے تھے۔ وہ اس وقت تک اذان نہ دیتے جب تک لوگ یہ نہ کہتے کہ صبح ہوگئی، صبح ہوگئی۔ (بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب اذان الاعمٰی۔۔ ) 8۔ ابو جحیفہ کہتے ہیں کہ میں نے بلال ؓ کو اذان دیتے دیکھا اور میں بھی (ان کی طرح اذان میں ادھر ادھر منہ پھیرنے لگا۔ (بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب ھل یتبع الموذن فاہ) خ نماز جمعہ سے متعلق احادیث اور مسائل :۔ آپ جب ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے تو نماز جمعہ کا آغاز کردیا گیا تھا۔ اب جمعہ کے متعلق درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے : 1۔ سیدنا ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جمعہ کے دن ہر جوان پر غسل واجب ہے اور مسواک کرنا اور اگر میسر ہو تو خوشبو بھی لگانا۔ (بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب الطیب للجمعۃ) 2۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جب کوئی تم میں سے جمعہ کی نماز کے لیے آئے تو غسل کرے۔ (بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب فضل الغسل یوم الجمعۃ) ان دو احادیث سے معلوم ہوا کہ : 1۔ جمعہ فرض کفایہ ہے فرض عین نہیں۔ نہ یہ بچوں پر فرض ہے نہ بوڑھوں پر، نہ عورتوں پر نہ مسافروں یا مریضوں پر نیز بارش کے دن کسی پر بھی فرض نہیں جیسا کہ اذان سے متعلق حدیث نمبر 6 سے بھی واضح ہوتا ہے۔ 2۔ جمعہ کے دن غسل کرنا ہر اس شخص پر واجب ہے جس پر جمعہ واجب ہے وہ غسل کرکے نماز کے لیے جائے جیسا کہ ابو سعید خدری کی حدیث سے واضح ہے۔ تاہم بعض علماء نے یہاں رسول اللہ کے حکم کو وجوب کے لیے نہیں استحباب کے معنوں میں لیا ہے اور ان کی دلیل سیدہ عائشہ ؓ کی وہ حدیث ہے جس میں مذکور ہے کہ لوگ دور دور سے اور بلند مقامات سے آتے۔ انہوں نے اون کی عبائیں پہنی ہوتیں اور گردوغبار اور پسینہ کی وجہ سے ان سے بو آتی تھی۔ تو آپ نے انہیں نہا کر آنے کا حکم دیا تھا۔ (مسلم۔ کتاب الجمعہ) اور جب ایسی صورت نہ ہو تو نہا کر آنا واجب نہیں۔ البتہ مستحب ضرور ہے۔ 3۔ مسواک کرنا اور خوشبو لگانا سنت اور مستحب ہے واجب نہیں۔ 4۔ سیدنا انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ آپ جمعہ کی نماز اس وقت پڑھتے جب سورج ڈھل جاتا۔ (بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب وقت الجمعۃ۔۔ ) 5۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جمعہ کی اذان ہوتے ہی خریدو فروخت حرام ہوجاتی ہے اور عطاء بن ابی رباح نے کہا کہ ہر پیشہ (اور شغل) حرام ہوجاتا ہے۔ (بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب المشی الی الجمعۃ) 6۔ سیدنا سائب بن یزید کہتے ہیں کہ آپ کے زمانہ میں اور ابوبکر صدیق ؓ اور عمر کے زمانہ میں جمعہ کے دن ایک ہی اذان ہوا کرتی۔ جب امام منبر پر بیٹھ جاتا۔ سیدنا عثمان ؓ کے زمانہ میں جب مدینہ کی آبادی بہت بڑھ گئی تو انہوں نے زوراء (مدینہ کے بازار میں ایک مقام کا نام) پر تیسری اذان (یعنی اقامت سمیت) بڑھائی۔ (بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب الاذان یوم الجمعۃ) 7۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ آپ (جمعہ کے دن) دو خطبے پڑھتے اور ان کے درمیان بیٹھتے۔ (بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب القعدۃ بین الخطبتین یوم الجمعۃ) 8۔ سیدنا جابر ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص جمعہ کے دن اس وقت آیا جب آپ خطبہ دے رہے تھے۔ آپ نے اس سے پوچھا : تو نے (تحیۃ المسجد کی) نماز پڑھی ؟ اس نے کہا : نہیں، آپ نے فرمایا : اٹھ دو رکعتیں (ہلکی پھلکی) پڑھ لے۔ (بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب من جاء والامام یخطب صلٰٰی رکعتین خفیفتین) 9۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ آپ جمعہ کے بعد مسجد میں کچھ نہ پڑھتے۔ جب اپنے گھر لوٹ کر آتے تو دو رکعتیں پڑھتے۔ (بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب الصلٰٰوۃ بعد الجمعۃ و قبلہا) 10۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جب تو اپنے ساتھی سے جمعہ کے دن یوں کہے : چپ رہ اور امام خطبہ دے رہا ہو تو تو نے لغو حرکت کی۔ (بخاری۔ کتاب الجمعۃ۔ باب الانصات یوم الجمعۃ۔۔ ) 11۔ سیدنا ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ مسجد نبوی کے بعد پہلا جمعہ جو ہوا وہ عبدالقیس کی مسجد میں ہوا جو بحرین میں جواثیٰ (جگہ کا نام) میں تھی۔ (بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب الجمعۃ فی القریٰ والمدن) اس سے معلوم ہوا کہ جمعہ ہر گاؤں میں ادا کرنا چاہیے۔ شہر ہونا کوئی شرط نہیں۔ 12۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جمعہ کے دن فرشتے جامع مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو کر آنے والوں کے باری باری نام لکھتے ہیں۔ جو پہلے آتا ہے اس کی مثال ایسے شخص کی ہے جو اونٹ کی قربانی کرے پھر دوسرے کی جیسے گائے کی قربانی کرے پھر تیسرے کی جو مینڈھا، پھر چوتھے کی جو مرغی، پھر پانچویں کی جو انڈا قربانی دے۔ پھر جب امام (خطبہ کے لئے) نکلتا ہے تو فرشتے اپنے دفتر لپیٹ لیتے ہیں اور خطبہ سننے لگ جاتے ہیں۔ (بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب الاستماع الی الخطبۃ) 13۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی نے فرمایا کہ : جن دنوں میں سورج طلوع ہوتا ہے ان میں سے سب سے بہتر دن جمعہ کا دن ہے۔ اسی جمعہ کے دن سیدنا آدم (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔ اسی دن جنت میں داخل کیے گئے اور اسی دن نکالے گئے۔ اور قیامت بھی اسی دن قائم ہوگی (مسلم۔ کتاب الجمعہ) خلاف سنت امور :۔ اب ہم چند ایسی خلاف سنت باتوں کا ذکر کرتے ہیں جو آج کل ہم اپنے معاشرہ میں اور بالخصوص ہمارے علماء میں پائی جاتی ہیں : 1۔ ان میں پہلی چیز جمعہ کے وقت میں تاخیر ہے۔ چناچہ ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب ہم جمعہ کی نماز آپ کے ساتھ ادا کرکے واپس لوٹتے تھے تو ہم دیواروں کا سایہ نہ پاتے تھے جس کی آڑ میں آئیں۔ اور جابر بن عبداللہ کی حدیث کے مطابق زوال آفتاب شروع ہوتے ہی آپ کے ساتھ نماز جمعہ ادا کرلیا کرتے تھے۔ (مسلم۔ کتاب الجمعہ) خ نماز جمعہ کی ادائیگی میں تاخیر :۔ ان دونوں احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ آپ جمعہ کا خطبہ زوال آفتاب تک دے کر فارغ ہوجایا کرتے تھے مگر ہمارے ہاں یہ رواج بڑھ چکا ہے کہ جمعہ کا خطبہ بھی زوال آفتاب سے کافی دیر بعد شروع ہوتا ہے اور بعض مساجد کا تو یہ حال ہے کہ ان کے جمعہ ختم ہونے تک عصر کا اول وقت آجاتا ہے۔ سنتوں کے لئے وقفہ :۔ 2۔ بعض مساجد بالخصوص احناف کی مساجد میں پہلے خطبہ کے بعد نماز جمعہ کی سنتوں کے لیے وقفہ دیا جاتا ہے۔ یہ بات واضح طور پر سنت کے خلاف ہے۔ آپ نے ایسے دیر سے آنے والے کو خطبہ کے دوران ہی دو ہلکی رکعات ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ لہذا خطبہ کے بعد سنتوں کے لیے وقفہ دینے کا کوئی جواز نہیں۔ خطبہ کو لمبا اور نماز کو مختصر کرنا :۔ 3۔ تیسری خلاف سنت بات خطبہ کو لمبا کرنا اور نماز کو مختصر کرنا ہے۔ چناچہ واصل بن حیان کہتے ہیں کہ ابو وائل نے کہا کہ ہمیں عمار ؓ نے نہایت جامع اور بلیغ خطبہ دیا۔ پھر جب وہ منبر سے اترے تو ہم نے کہا : اے ابو الیقظان ! اگر آپ ذرا اس خطبہ کو لمبا کرتے تو بہت بہتر ہوتا۔ تب عمار ؓ نے کہا : میں نے رسول اللہ سے سنا ہے آپ فرماتے تھے کہ آدمی کا نماز کو لمبا کرنا اور خطبہ کو مختصر کرنا اس کے سمجھدار ہونے کی نشانی ہے۔ سو تم نماز کو لمبا کیا کرو اور خطبہ کو چھوٹا۔ اور بعض بیان تو جادو ہوتا ہے (یعنی جامع اور مختصر بیان جادو کا سا اثر رکھتا ہے) (مسلم۔ کتاب الجمعہ) اور جابر بن سمرۃ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ کی نماز بھی درمیانہ تھی اور خطبہ بھی درمیانہ (مسلم۔ کتاب الجمعہ) اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ رسول اللہ کی جمعہ کی نماز کتنی لمبی ہوتی تھی تو اس کے متعلق ابن ابی رافع کہتے ہیں کہ مروان نے ابوہریرہ ؓ کو مدینہ میں خلیفہ مقرر کیا اور ابوہریرہ ؓ نے جمعہ کی نماز پڑھائی تو آپ نے پہلی رکعت میں سورة جمعہ اور دوسری میں المنافقون پڑھی۔ پھر میں ان سے ملا اور کہا کہ آپ نے وہی سورتیں پڑھیں جو سیدنا علی کوفہ میں پڑھتے تھے۔ اس پر ابوہریرہ ؓ کہنے لگے کہ میں نے خود رسول اللہ کو جمعہ کے دن یہی سورتیں پڑھتے سنا ہے (یعنی سیدنا علی ؓ کی تقلید میں نہیں بلکہ رسول اللہ کی اتباع میں، میں نے یہ سورتیں پڑھی ہیں) (مسلم۔ کتاب الجمعہ) اور سیدنا لقمان بن بشیر کہتے ہیں کہ رسول اللہ عیدوں اور جمعہ میں سبح اسم ربک الاعلیٰ اور ھل اتاک حدیث الغاشیۃ پڑھا کرتے تھے اور جب جمعہ اور عید دونوں ایک دن میں ہوتیں تب بھی انہیں دونوں سورتوں کو دونوں نمازوں میں پڑھتے تھے (مسلم۔ کتاب الجمعہ) یہ تو آپ کی درمیانہ درجہ کی نماز کا حال تھا اور آپ کے خطبات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا کوئی بھی خطبہ بیس منٹ سے زیادہ لمبا کبھی نہیں ہوا۔ گویا سنت طریقہ یہ ہے کہ خطبہ پر زیادہ سے زیادہ بیس منٹ اور دو رکعت نماز پر کم از کم دس منٹ صرف ہوں۔ اب اس کے مقابلہ میں موجودہ صورت حال پر غور فرما لیجیے اہلحدیثوں کی مساجد میں، جو ہر ہر بات میں کتاب و سنت کے متبع ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں، کوئی ہی مسجد ایسی ہوگی جہاں خطبہ کا وقت نصف گھنٹہ ہو۔ ورنہ پون گھنٹہ بلکہ اکثر مساجد میں ایک گھنٹہ خطبہ کے لیے وقت مقرر کیا جاتا ہے اور احناف اور بالخصوص بریلوی علماء تو ڈیڑھ گھنٹہ بلکہ اس سے بھی زیادہ وقت خطبہ میں صرف کردیتے ہیں۔ یہ بات صریحاً خلاف سنت ہے۔ علماء حضرات اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ ہمیں عربی کے علاوہ مقامی زبان یا اردو میں بھی اس کی تشریح کرنا پڑتی ہے اگر اس کا لحاظ رکھا جائے تو بھی آدھ گھنٹہ اور زیادہ سے زیادہ پون گھنٹہ بہت کافی ہے۔ کیونکہ تجربہ شاہد ہے کہ مختصر وقت میں بھی بہت سی کام کی باتیں کہی جاسکتی ہیں۔ پھر جب خطیب حضرات خطبہ میں کافی دیر لگا دیتے ہیں تو اس کی کسر جمعہ میں چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھنے سے نکالتے ہیں۔ حتیٰ کہ میں نے خود ایک ایسے ہی خطیب کو نماز جمعہ کی پہلی رکعت میں سورة الفیل اور دوسری میں سورة القریش پڑھتے سنا ہے۔ گویا خطبہ اور نماز دونوں ہی خلاف سنت ہوئے۔ خطبہ انتہائی لمبا اور نماز انتہائی مختصر۔ اب اس طویل خطبہ کا رد عمل یہ ہوتا ہے کہ اکثر لوگ آتے ہی اس وقت ہیں جب نماز جمعہ کا وقت قریب ہو۔ پھر خطیب حضرات ان دیر سے آنے والوں کو وہ حدیث سنانے لگتے ہیں کہ جو شخص خطبہ جمعہ سننے کے لیے خطبہ شروع ہونے سے پیشتر سب سے پہلے آئے اس کو ایک اونٹ کی قربانی کا ثواب ملتا ہے اور دوسرے نمبر پر آنے والے کو۔۔ الحدیث۔ گویا انہیں اپنے خلاف سنت کام کا تو احساس تک نہیں ہوگا۔ اور اس کے نتیجہ میں دیر سے پہنچنے والوں کو حدیث سنا کر کو سنے لگتے ہیں۔ اس تطویل خطبہ کی وجہ جو میں سمجھ سکا ہوں وہ یہ ہے کہ خطیب حضرات کی اصل آرزو یہ ہوتی ہے کہ ان کی تقریر کو زیادہ سے زیادہ لوگ سنیں اور اسے سراہا اور پسند کیا جائے۔ لہذا وہ مزید لوگوں کی انتظار میں دیر کرتے جاتے ہیں۔ اور جمعہ پڑھنے والوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ ابھی مولوی خطبہ میں بہت دیر لگائے گا۔ لہذا نماز سے ذرا پہلے چلے جائیں گے۔ اس دوہرے عمل سے خطبہ تو خوب لمبا ہوجاتا ہے۔ پھر اس کی کسر نماز سے نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انداز خطاب اور موضوع خطاب :۔ 4۔ چوتھی خلاف سنت بات انداز خطاب اور موضوع خطاب ہے۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ جب خطبہ پڑھتے تو آپ کی آنکھیں سرخ ہوجاتیں اور آواز بلند ہوجاتی اور غصہ زیادہ ہوجاتا۔ گویا وہ ایک ایسے لشکر سے ڈرانے والے تھے جو بس صبح و شام ہی تم پر پہنچنے والا ہے اور فرماتے کہ میں اس وقت بھیجا گیا ہوں کہ میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح ہیں پھر آپ اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو ملا دیتے۔ پھر آپ اللہ کی حمد کے بعد فرماتے کہ ہر بات سے بہتر اللہ کی کتاب ہے اور ہر طریقہ سے بہتر محمد ﷺ کا طریق ہے اور نئے نئے کام نکالنا سب سے برا کام ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ پھر فرماتے میں ہر مومن کا اس کی اپنی جان سے بھی زیادہ خیرخواہ ہوں۔ جو شخص مال چھوڑ جائے وہ تو اس کے گھر والوں کا ہے اور جو قرض یا چھوٹے بچے چھوڑ جائے تو اس قرض کی ادائیگی یا بچوں کی پرورش میرے ذمہ ہے (مسلم۔ کتاب الجمعہ) نیز ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان فرماتی ہیں کہ ہمارا اور رسول اللہ کا تنور ایک ہی تھا۔ دو برس یا ایک برس اور کچھ ماہ تک (یعنی اتنی مدت ہم ان کی ہمسائیگی میں رہے) اس دوران میں نے رسول اللہ ہی کی زبان سے سورة ق سیکھی تھی۔ آپ اس کو ہر جمعہ میں منبر پر پڑھتے تھے جب لوگوں کو خطبہ سناتے (مسلم۔ کتاب الجمعہ) ان دو احادیث سے مندرجہ ذیل امور پر روشنی پڑتی ہے : 1۔ آپ کا خطاب یا تقریر جوشیلی ہوتی تھی۔ راگ اور سرتال والی نہیں ہوتی تھی جبکہ آج کل خطیب حضرات اپنی پوری کوشش سے راگ اور سر والا لہجہ سیکھتے ہیں۔ وہ قرآنی آیات کے علاوہ اپنی باتوں کو بھی اس طرح سریلی آواز میں پیش کرتے ہیں سامعین جھومنے اور سبحان اللہ، سبحان اللہ کے نعرے لگانے لگیں۔ اور جتنے زیادہ ایسے نعرے لگیں اتنے ہی خطیب حضرات اسے اپنی تقریر کی پذیرائی سمجھ کر پھولے نہیں سماتے۔ اور ان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کی تقریر کے دوران ایسے نعرے لگتے رہیں۔ 2۔ خطاب کے دوران آپ کا موضوع ایک نہیں بلکہ متفرق ہوتے تھے۔ گویا آپ کا انداز خطاب تقریر کا نہیں بلکہ وعظ و نصیحت کا ہوتا تھا۔ آپ کتاب اللہ اور سنت رسول سے تمسک کی تاکید فرماتے اور بدعات سے اجتناب کا حکم دیتے اور اس کے انجام سے ڈراتے تھے اور سب سے پہلے اللہ کی حمدوثنا بیان فرماتے تھے اور یہی خطبہ مسنونہ کے موضوع ہیں۔ خطبہ جمعہ کا موضوع دراصل ذکر اللّٰہ ہے جیسے اس سورة میں فرمایا : (فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ ۝) 62 ۔ الجمعة :9) اور ذکر اللہ سے مراد سارا قرآن ہے۔ تاہم حدیث نمبر 2 سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ خطبہ میں سورة ق پڑھنا زیادہ پسند فرماتے تھے۔ آپ سورة ق کو مدنظر رکھیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے بعث الموت پر دلائل پیش کئے ہیں۔ آخرت کا انکار کرنے والی چند اقوام کا مختصراً انجام بتایا ہے۔ اور انسان کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اس کے اعمال کا ریکارڈ ساتھ ساتھ تیار کیا جارہا ہے اور اس کے مطابق اس کا مؤاخذہ ہونے والا ہے۔ پھر کچھ جنت اور دوزخ کا ذکر ہے اور سورت کے آخر میں خلاصہ کے طور پر فرمایا کہ : (فَذَكِّرْ بالْقُرْاٰنِ مَنْ يَّخَافُ وَعِيْدِ 45؀ ) 50 ۔ ق :45) اور حدیث نمبر 1 سے بھی واضح ہوتا ہے کہ آپ کا اصل موضوع لوگوں کو ان کے اخروی انجام سے ڈرانا ہوتا تھا اور یہ بات آپ بڑے جوش و خروش سے بتایا کرتے تھے۔ اب دیکھئے ہمارے ہاں خطبات جمعہ میں وعظ و نصیحت اور انذار وتبشیر کا بیان تقریباً مفقود ہے۔ ہمارے ہاں عمومی رواج ایک موضوع پر تقریر کرنے کا ہے یہ بھی اس صورت میں تو درست ہے کہ جو کچھ بیان کیا جائے کتاب و سنت سے ہی اور اس کی حدود میں رہ کر بیان کیا جائے۔ مگر ہمارے ہاں تو خطبہ مسنونہ اور قرآن کی ایک آدھ آیت محض برکت کے لیے پڑھ لی جاتی ہے جسے عامۃ الناس سمجھتے ہی نہیں بعد میں اولیاء اللہ کی حکایات، ان کے تصرفات اور ان کی کرامات اس انداز سے بیان کی جاتی ہیں کہ اگر وہ خدا نہیں تو کم از کم اس سے کم درجہ کے بھی نہیں ہوتے مثلاً مولانا روم کا یہ شعر آپ نے خطبات جمعہ میں اکثر سنا ہوگا۔ اولیاء را ہست قدرت از الٰہ۔۔ تیر جستہ باز گرد انند زراہ یعنی اولیاء کو اللہ کی طرف سے اس قدر قدرت حاصل ہوتی ہے کہ وہ چھوڑے ہوئے تیر کو راستہ سے ہی واپس لاسکتے ہیں۔ یہ واضح رہے کہ مشرکین مکہ بھی اپنے بتوں کے متعلق یہی عقیدہ رکھتے تھے کہ ان کو جو تصرفات حاصل ہیں وہ اللہ کے عطا کردہ ہیں۔ (مسلم۔ کتاب الحج۔ تلبیۃ المشرکین) پھر ان کی محیرالعقول اور مہیب قسم کی کرامات بیان کی جاتی ہیں جن پر عوام کی طرف سے سبحان اللہ کے نعرے لگنا شروع ہوجاتے ہیں۔ اور اگر کسی کو زیادہ جوش آجائے تو اجتماعی نعرے شروع ہوجاتے ہیں۔ پہلے نعرہ تکبیر، نعرہ رسالت اور پھر نعرہ حیدری۔ اب سوال یہ ہے کہ صدر اول میں مساجد میں ایسے نعرے بازی ہوتی تھی ؟ اور کیا یہ خالص بدعت نہیں ؟ خ ہمارے پسندیدہ موضوع :۔ ہمارے خطیب حضرات کا دوسرا پسندیدہ موضوع اپنے اختلافی عقائد کی نشرواشاعت اور ان کو فروغ بخشنا ہے۔ پھر ان عقائد کو سنجیدہ طریق پر پیش نہیں کیا جاتا بلکہ فریق مخالف کو طنزو مزاح، تضحیک اور طعن و ملامت کا ہدف بنا کر فرقہ وارانہ فسادات کی راہ ہموار کی جاتی ہے۔ اور خطیب مخالف فریق پر جتنا زیادہ کیچڑ اچھالنا اور انہیں طعن و ملامت کرنا جانتا ہو اتنا ہی وہ اپنے لوگوں میں ہر دلعزیز اور کامیاب خطیب متصور ہوتا ہے۔ جس خطیب کو یہ فن آگیا۔ بس اس کے وارے نیارے ہوگئے اسے جلسوں جلوسوں میں مدعو کیا جاتا اور گرانقدر نذرانے پیش کئے جاتے ہیں۔ عوام کا ذوق بھی کچھ ایسا بن جاتا ہے کہ وہ ایسے خطیب کو پسند کرتے ہیں۔ جو ایک تو گیت کے انداز میں سریلی آواز سے تقریر کرسکتا ہو دوسرے طعن وتشنیع میں اتنا فن کار ہو کہ فریق مخالف کے بخیے ادھیڑ کے رکھ دے۔ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا تھا کہ (اِدْفَعْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ السَّيِّئَةَ 96؀) 23 ۔ المؤمنون :96) مگر یہ بات نہ ہمارے خطیب حضرات کو اچھی لگتی ہے اور نہ ہمارے عوام کو۔ کیا یہی چیز اللہ کا ذکر ہے جس کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ (فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ ۝) 62 ۔ الجمعة :9) علاوہ ازیں فرقہ بازی اور بدعات کے فروغ میں لاؤڈ سپیکر نہایت کارگر ہتھیار ثابت ہوا ہے۔ جب لاؤڈ سپیکر کی ایجاد معرض وجود میں آئی تو اس وقت علماء نے کہا تھا کہ اس میں سے شیطان بولتا ہے لہذا اس کے استعمال کو ممنوع قرار دیا گیا مگر آج یہ صورت حال ہے کہ جو نئی مسجد تعمیر ہوتی ہے اس کی چھت پڑنے سے پیشتر یہی لاؤڈ سپیکر کا اہتمام ضروری سمجھا جاتا ہے اور ہر فریق اس کا فائدہ یہی بتاتا ہے کہ اس سے کتاب و سنت کا پیغام لوگوں کے گھروں تک پہنچایا جائے گا۔ مگر عملاً اس سے دوسرے فریق پر سنگ باری مقصود ہوتی ہے۔ اگر مخالف فریق کے لاؤڈ سپیکر کے ہارن دو ہوں تو یہ فریق چار ہارن لگوائے گا۔ اور اس کے چار ہارن ہو تو یہ چھ لگوائے گا۔ حالانکہ مسجد میں جمع ہونے والے لوگوں کے لیے سرے سے لاؤڈ سپیکر کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ پھر ہمارے خطیب اور علماء حضرات کا بھی مزاج کچھ ایسا بن چکا ہے کہ وہ لاؤڈ سپیکر کے بغیر تقریر کرنا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ چناچہ عام طور پر مشاہدہ میں آیا ہے کہ صرف گنتی کے چند نمازی سامنے بیٹھے ہیں اور خطیب صاحب لاؤڈ سپیکر کھول کر درس یا خطبہ جمعہ ارشاد فرما رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں لاؤڈ سپیکر کی قطعاً ضرورت نہیں ہوتی مگر اس بات کا کیا علاج کہ مولانا لاؤڈ سپیکر کے بغیر درس یا خطبہ ارشاد فرمانا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں اور اس کا فائدہ یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کی یہ آواز لوگوں کے گھروں تک پہنچ رہی ہے۔ اور عملاً یہ ہوتا ہے کہ جب ہر طرف سے اور ہر مسجد سے لوگوں کے گھروں تک یہ آوازیں پہنچنا شروع ہوجاتی ہیں۔ تو لوگ ایسے شوروغل اور سمع خراشی سے بیزار اور متنفر ہوجاتے ہیں اور بعض لوگ تو محض اسی وجہ سے کسی مسجد کے قرب و جوار میں مکان بنانا پسند نہیں کرتے۔ پھر معاشرہ میں کچھ لوگ مریض بھی ہوتے ہیں جنہیں اس قسم کے شوروغل سے بہت تکلیف ہوتی ہے۔ خ لاؤڈ سپیکر کے نقصانات :۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ لاؤڈ سپیکر بدعات اور بدعی عقائد و اعمال کے فروغ کے لیے ایک نہایت کامیاب ہتھیار ہے۔ مثلاً اذان سے پہلے درودشریف پڑھنے کی بدعت کو لاؤڈ سپیکر ہی کی وجہ سے فروغ حاصل ہوا ہے۔ اگر لاؤڈ سپیکر کو قانوناً بند کردیا جائے تو یہ بدعت تھوڑی ہی مدت بعد از خود دم توڑ دے گی۔ کیونکہ اس کی اصل بنیاد ہے ہی نہیں جس پر یہ قائم رہ سکے۔ یہی حال دوسری بدعات کا ہے اور یہ بات بھی مشاہدہ میں آچکی ہے کہ جہاں فرقہ وارانہ تقریروں کی وجہ سے فسادات ہو رہے ہوں وہاں حکومت لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر پابندی لگا دیتی ہے۔ تو اس کے نتائج نہایت مفید برآمد ہوتے ہیں۔ اور وہاں فرقہ وارانہ فضا ماند پڑجاتی ہے۔ گویا آج کے دور میں بدعات اور بدعی عقائد کا سب سے بڑا سہارا یہی لاؤڈ سپیکر ہے۔ اور ہمیں یہ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ علماء نے لاؤڈ سپیکر سے متعلق ابتدائ ً جو رائے قائم کی تھی کہ : اس میں شیطان بولتا ہے وہ بہت حد تک درست تھی۔ رہے وہ عقائد و اعمال جو کتاب و سنت سے ثابت ہیں تو ان کے لیے لاؤڈ سپیکر کی قطعاً ضرورت نہیں۔ وہ اس کے بغیر بھی ہر دور میں زندہ و ثابت رہ سکتے ہیں کیونکہ وہ مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔ جمعہ کی غرض وغایت :۔ اب ذرا موضوع خطاب سے متعلقہ سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ سے مروی پہلی حدیث کا آخری حصہ سامنے لائیے۔ آپ فرماتے ہیں کہ : میں ہر مومن کا اس کی اپنی جان سے بھی زیادہ خیر خواہ ہوں جس سے معلوم ہوا کہ جمعہ کی ایک اہم غرض مسلمانوں کی خیرخواہی اور ان کی باہمی صلاح و فلاح ہے نہ کہ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا، سنگ باری کرنا اور فرقہ وارانہ فسادات کو پھیلا کر عوام الناس کو سرے سے اسلام ہی سے متنفر بنادینا۔ اس کے بعد فرمایا کہ : جو شخص مال چھوڑ جائے وہ تو اس کے وارثوں کا ہے اور جو قرض یا چھوٹے بچے چھوڑ جائے تو اس قرض کی ادائیگی یا بچوں کی پرورش میرے ذمہ ہے اس سے معلوم ہوا کہ جمعہ کے دن مسلمانوں کے اس اجتماع کی ایک اہم غرض ان کی معاشی حالات کا جائزہ لینا اور محتاج اور ناتواں افراد کی کفالت اور مقروضوں کے قرض کی ادائیگی کا اہتمام کرنا بھی ہے۔ گویا جمعہ فرض تو اس غرض کے لیے کیا گیا تھا کہ مسلمان زیادہ سے زیادہ تعداد میں اکٹھے ہو کر اللہ کا ذکر سنیں اس کی حمد و ثنا بیان کریں۔ ایک دوسرے کی خیر خواہی اور باہمی اصلاح و فلاح کے امور پر غور کریں۔ اپنے معاشی حالات کا جائزہ لیں۔ محتاج اور یتیموں، بیواؤں اور ناداروں کی کفالت کا اہتمام کریں تاکہ ان میں محبت، مروت، ہمدردی، ایثار اور اخوت جیسے بلند پایہ اخلاق فروغ پائیں۔ لیکن ہمارے سامنے جمعہ کی ادائیگی کے اغراض ان سے یکسر مختلف ہوتے ہیں جنہیں ہم غیر شعوری طور پر اور عادتاً بجا لاتے ہیں۔
Ayah 62:10

فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 62:10 in the Quran reader

پھر جب نماز ادا ہوچکے تو زمین میں منتشر ہوجاؤ 15 اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور اللہ کو بکثرت یاد کرتے رہو شاید کہ تم فلاح پاؤ

15 یہ اجازت ہے حکم نہیں یعنی اگر تم نماز جمعہ کے بعد مسجد میں ہی بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتے رہو تو بھی اچھا ہے، جانا چاہو تو بھی اجازت ہے۔ اور اگر جمعہ کی نماز کے بعد کاروبار یا کام کاج کرنا چاہو تو بھی مکمل اجازت ہے ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ جو بھی کام کاج کرو دل میں ہر وقت اللہ کی یاد ضرور رہنی چاہیے اور اگر ہوسکے تو زبانی بھی اللہ کا ذکر کرو۔ یہ یاد تمہیں معاصی میں پڑنے سے روکے گی۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جمعہ کے دن بھی سارا دن ہمیں کام کاج سے چھٹی منانے کی ضرورت نہیں۔ ضروری یہ ہے کہ جمعہ کے دن جس پر جمعہ واجب ہے وہ بر وقت غسل کرے، مسواک کرے۔ صاف ستھرے کپڑے پہنے، تیل اور خوشبو لگائے پھر خطبہ جمعہ شروع ہونے سے پہلے پہلے بلکہ خطبہ کی اذان سے پہلے مسجد پہنچ جائے۔ اور خطبہ بڑے غور سے سنے ہاں اگر ہفتہ میں ایک دن کاروبار سے چھٹی کرنا ہی ہے تو مسلمانوں کو جمعہ کے دن ہی کرنا چاہئے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے : سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ : ہم سب امتوں کے بعد دنیا میں آئے لیکن قیامت کے دن سب سے آگے ہوں گے۔ بات صرف اتنی ہے کہ یہود و نصاریٰ کو ہم سے پہلے اللہ کی کتاب ملی۔ ان کے لیے بھی جمعہ کا دن ہی (عبادت کے لئے) مقرر ہوا تھا لیکن انہوں نے اس میں اختلاف کیا اور ہم کو اللہ نے اسی دن کی ہدایت فرمائی۔ پھر سب لوگ ہمارے پیچھے ہوگئے۔ یہود کا دن کل (ہفتہ کا دن) ہے اور نصاریٰ کا پرسوں (اتوار) کا دن (بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب فرض الجمعۃ)
Ayah 62:11

وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوَا اِ۟نْفَضُّوْۤا اِلَیْهَا وَ تَرَكُوْكَ قَآئِمًا١ؕ قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَ مِنَ التِّجَارَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ۠ Open ayah 62:11 in the Quran reader

اور جب انہوں نے کوئی سودا بکتا یا کھیل تماشا ہوتے دیکھا تو ادھر بھاگ گئے اور آپ کو (اکیلا) کھڑا چھوڑ دیا 16 ۔ آپ ان سے کہیے کہ : جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اس تماشے اور تجارت سے بہتر ہے اور اللہ ہی سب سے بہتر روزی رساں ہے

16 مدنی دور کی ابتدائی زندگی معاشی لحاظ سے بھی مسلمانوں کے لیے سخت پریشان کن تھی۔ مہاجرین کی آباد کاری کے علاوہ کفار مکہ نے بھی اہل مدینہ کی معاشی ناکہ بندی کر رکھی تھی۔ جس کی وجہ سے غلہ کم یاب بھی تھا اور گرانی بھی بہت تھی۔ انہی ایام میں ایک دفعہ رسول اللہ جمعہ کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ کہ ایک غلہ کا تجارتی قافلہ مدینہ آن پہنچا اور انہوں نے اپنی آمد کی اطلاع کے طور پر طبلے بجانا شروع کردیئے۔ یہ خبر مژدہ جانفزا سے کم نہ تھی۔ چناچہ خطبہ سننے والے مسلمان بھی، محض اس خیال سے کہ اگر دیر سے گئے تو سارا غلہ بک ہی نہ جائے، خطبہ چھوڑ کر ادھر چلے گئے اور آپ کے پاس صرف بارہ آدمیوں کے سوا کوئی نہ رہا۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ (بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب اذا نفرالناس عن الامام۔۔ ) جس میں مسلمانوں پر میٹھی زبان میں عتاب نازل ہوا کہ یہ قافلہ والے کوئی تمہارے رازق تو نہ تھے۔ رزق کے اسباب مہیا کرنے والا تو اللہ ہے۔ لہذا آئندہ تمہیں ایسی باتوں سے اجتناب کرنا چاہئے۔ ضمناً اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ امام کو خطبہ کھڑے ہو کردینا چاہیے اور یہی آپ کا معمول تھا۔ اس سلسلہ میں دو احادیث ملاحظہ فرمائیں :۔ 1۔ جابر بن سمرۃ ؓ فرماتے ہیں نبی اکرم خطبہ کھڑے ہو کردیتے۔ پھر بیٹھ جاتے۔ پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے۔ جو تمہیں یہ بتائے کہ آپ نے خطبہ بیٹھ کردیا اس نے جھوٹ بولا۔ (مسلم) 2۔ کعب بن عجرہ ؓ مسجد میں تشریف لائے اور عبدالرحمن بن ام الحکم بیٹھ کر خطبہ دے رہے تھے۔ کعب نے فرمایا۔ اس خبیث کو دیکھو۔ یہ بیٹھ کر خطبہ دیتا ہے اور قرآن مجید میں ( وَاِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوَۨا انْفَضُّوْٓا اِلَيْهَا وَتَرَكُوْكَ قَاۗىِٕمًا 11۝ۧ) 62 ۔ الجمعة :11) جب انہوں نے خریدو فروخت یا کھیل کے مشغلہ کو دیکھا تو اس طرف بھاگ نکلے اور تمہیں کھڑا ہوا چھوڑ گئے۔ (مسلم)