Ayah 63:11 یعنی منافق بھی یہ شہادت دیتے تھے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ نے بھی یہی شہادت دی کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اس کے باوجود اللہ یہ بھی شہادت دیتا ہے کہ منافق جھوٹے ہیں۔ کیونکہ یہ شہادت وہ دل کے یقین سے نہیں بلکہ محض فریب کاری کی غرض سے زبانی طور پر دیتے تھے۔ علاوہ ازیں ان کے اعمال ان کے اس زبانی دعویٰ کی تائید نہیں کرتے تھے۔ اور قول و فعل میں دیدہ دانستہ تضاد منافقت کی دلیل ہے۔ ایمان کی نہیں۔
Ayah 63:22 یعنی قسموں سے وہ کام لیتے ہیں وہ جو ڈھال سے لیا جاتا ہے۔ وہ قسموں کے ذریعہ مسلمانوں کو اپنے ایمان کا یقین دلا کر اپنا جان و مال محفوظ کرلیتے تھے۔ نیز جب ان کی کوئی ناشائستہ حرکت یا سازش پکڑی جاتی ہے۔ تو جھوٹی قسمیں کھا کر مسلمانوں کی گرفت سے بچ جاتے ہیں۔ کیونکہ اسلام کا قانون یہ ہے کہ وہ صرف ظاہری افعال پر ہی گرفت کرتا ہے۔
3 صَدَّ کا لفظ لازم اور متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے خود تو ان منافقوں کا اسلام سے رکنا واضح ہے جو لوگ اسلام لانا چاہیں ان کے دلوں میں کئی طرح کے شکوک و شبہات پیدا کرکے ان کے اسلام لانے میں سدّراہ بن جاتے ہیں اور وہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جب یہ پہلے سے اسلام میں داخل ہونے والے لوگ بھی مطمئن نہیں تو ضرور دال میں کچھ کالا ہے۔
Ayah 63:34 یعنی اسلام تو لے آئے اور ایمان کا دعویٰ بھی کیا۔ مگر دل سے یہ کافر کے کافر ہی رہے۔ ان کی ہمدردیاں اور سرگوشیاں اور رازداریاں سب کافروں سے ہی وابستہ رہیں اور یہ عادت ان میں اس قدر پختہ ہوگئی کہ اب مسلمانوں کی کوئی بھلائی انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ لہذا اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی کیونکہ اللہ کسی کو جبراً اور کان پکڑ کر راہ ہدایت کی طرف نہیں لایا کرتا۔ اور وہ بیوقوف ایسے ہیں کہ انہیں یہ سمجھ بھی نہیں آرہی کہ جو کام وہ کر رہے ہیں وہ ان کے لیے مفید رہیں گے یا الٹا انہیں پکڑوا دیں گے اور ان کی ذلت و رسوائی کا باعث بن جائیں گے۔
Ayah 63:45 منافقوں کی عادات اور خصائل :۔ منافقوں کا رئیس عبداللہ بن ابی بن سلول معاشی لحاظ سے بھی رئیس تھا دیکھنے میں بڑا خوبصورت اور لمبے قدوقامت والا جوان تھا۔ جنگ بدر کے قیدیوں میں آپ کے چچا سیدنا عباس ننگے تھے تو اسی کی قمیص ان کو پوری آسکتی تھی۔ آپ نے عبداللہ بن ابی سے مانگی تو اس نے دے دی تھی۔ اسی بات کا معاوضہ آپ نے اس وقت دیا تھا جب عبداللہ بن ابی مرا تھا۔ اور اس کے بیٹے عبداللہ نے جو سچا مسلمان تھا آپ سے یہ التجا کی تھی کہ آپ اگر اپنی قمیص دے دیں تو میں یہ اپنے باپ کو پہنا دوں اور آپ نے دے دی تھی۔ لسان بھی تھا۔ باتیں کرنے کا اور باتوں سے خوش اور مطمئن کرنے کا اسے ڈھنگ آتا تھا۔ باتیں کرتا تو جی چاہتا تھا کہ اس کی باتیں سنتے ہی رہیں۔ اس کے کچھ خاص مصاحب بھی ایسی ہی صفات کے مالک تھے۔
6 یہ لوگ جب آپ کی مجلس میں آتے تو کسی دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ جاتے۔ دراصل وہ یہ کام اپنی برتری اور شان بےنیازی جتلانے کے لیے کرتے تھے۔ اور اللہ نے ان کو لکڑیوں سے تشبیہ اس لحاظ سے دی کہ لکڑیوں میں سننے، سوچنے سمجھنے کی اہلیت نہیں ہوتی۔ اسی طرح یہ لوگ بس دکھاوے کی خاطر آ تو جاتے ہیں۔ مگر نہ آپ کی باتوں کو دھیان سے سنتے ہیں اور کچھ سن بھی پائیں تو اسے سمجھنے اور سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتے اور جیسے آئے تھے ویسے ہی دامن جھاڑ کر چلے جاتے ہیں۔ ہدایت کی کوئی بات قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔
7 بزدل اور ڈرپوک ایسے ہیں کہ ادھر کوئی پتا کھٹکا ادھر ان کا دل دہل گیا۔ ایک عادی مجرم کی طرح انہیں ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں ہمارا فلاں راز فاش تو نہیں ہو چلا، یا فلاں حرکت پر گرفت تو نہیں ہونے لگی۔
8 کیونکہ یہ لوگ گھر کے بھیدی اور آستین کے سانپ ہیں۔ تمہاری سب باتیں دشمنوں تک پہنچاتے اور ہر کام سے انہیں باخبر رکھتے ہیں۔ یہ لوگ تمہارے ظاہری دشمنوں یعنی یہود کفار مکہ اور مشرکین سب سے زیادہ خطرناک ہیں۔ لہذا ان سے سخت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
Ayah 63:59 ویسے تو سب منافقوں کا یہی حال تھا۔ مگر ان کا سردار عبداللہ بن ابی اس بات میں بھی ان کا سردار تھا۔ جب بھی ان کی کوئی سازش یا ناشائستہ حرکت یا راز کی بات پکڑی جاتی تو مسلمان ان سے کہتے کہ : چلو، چل کر رسول اللہ سے معافی مانگ لو۔ وہ آپ کو خود بھی معاف کردیں گے اور اللہ سے بھی تمہاری مغفرت کی دعا کریں گے۔ ایسے ہی ایک موقعہ پر عبداللہ بن ابی نے مسلمانوں کو یہ جواب دیا کہ تم نے مجھے ایمان لانے کو کہا تو میں ایمان لے آیا۔ تم نے نمازیں ادا کرنے کو کہا تو وہ بھی میں نے ادا کیں۔ تم نے مال کی زکوٰۃ ادا کرنے کو کہا تو وہ بھی میں نے ادا کی۔ اب کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں محمد کو سجدہ کروں ؟ اس کا کبرونخوت سے بھرا ہوا یہ جواب سن کر آپ کیا سمجھتے ہیں کہ وہ رسول اللہ کے پاس گیا ہوگا ؟ یا مسلمانوں نے اسے آگے کچھ کہا ہوگا ؟ اس کی اسی متکبرانہ کیفیت کا نقشہ اللہ نے اس آیت میں کھینچا ہے۔
Ayah 63:610 اس کی تشریح کے لیے سورة توبہ کی آیات نمبر 80 اور 84 کے حواشی دیکھ لیے جائیں جو اس موقعہ پر نازل ہوئی تھیں۔ جب عبداللہ بن ابی کی وفات واقع ہوئی تھی۔
11 اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں کہ ایک یہ کہ دعائے مغفرت بھی صرف ان لوگوں کے لئے ہی قبول اور مفید ہوسکتی ہے جو خود بھی ہدایت کے راستے پر چلنا چاہتے ہوں یا چل رہے ہوں، خواہ دعائے مغفرت کرنے والے خود اللہ کے رسول ہی کیوں نہ ہوں۔ دوسری یہ کہ جو لوگ اللہ کی نافرمانی کی روش اختیار کئے ہوئے ہوں انہیں اللہ زبردستی ہدایت کی راہ پر نہیں لایا کرتا۔
Ayah 63:712 ہجرت سے پہلے مدینہ میں عبداللہ بن ابی کی حیثیت :۔ آیت نمبر 7 اور 8 کا صحیح مفہوم سمجھنے کے لئے ان کا تاریخی پس منظر سمجھنا ضروری ہے جو یہ ہے کہ جب رسول اللہ مدینہ تشریف لائے تو ان کی آمد سے پہلے مدینہ کے دونوں قبیلے اوس اور خزرج اسے اپنا بادشاہ تسلیم کرنے پر تیار ہوچکے تھے اور اس کے لیے سنہری تاج بھی تیار کرالیا گیا تھا۔ وہ خود قبیلہ خزرج سے تعلق رکھتا تھا۔ اوس اور خزرج اپنی باہمی جنگوں سے بہت تنگ آئے ہوئے تھے اور غالباً عبداللہ بن ابی ہی وہ پہلا شخص تھا جس کی سربراہی کو دونوں قبائل نے تسلیم کرلیا تھا۔ اس کی رسم تاجپوشی ادا ہونے ہی والی تھی کہ آپ مدینہ تشریف لے آئے اور جب تمام لوگ آپ کی طرف متوجہ ہوگئے تو عبداللہ بن ابی کا سارا بنا بنایا کھیل بگڑ گیا اور جو لوگ عبداللہ بن ابی کی بادشاہت کے دوران بڑے بڑے مناصب کی آس لگائے بیٹھے تھے۔ عبداللہ بن ابی کے اور ان کے اسلام لانے کے بعد بھی وہ لوگ اس کے دمساز و ہمراز رہے۔ یہ لوگ بظاہر اسلام تو لے آئے مگر بادشاہت اور مناصب کے چھن جانے کی وجہ سے عداوت کی چنگاری ان کے دلوں میں برقرار رہی۔
خ عبداللہ بن ابی کے اسلام لانے کی وجوہ :۔ عبداللہ بن ابی کے ان حالات میں اسلام لانے کی مجبوریاں تین تھیں ایک یہ کہ بدر کی فتح نے عرب بھر میں مسلمانوں کی دھاک بٹھا دی تھی۔ عبداللہ بن ابی بھی ایسے موقع شناس لوگوں میں سے تھا۔ جو چڑھتے سورج کو سلام کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ مدینہ میں اگرچہ یہود و مشرکین بھی آباد تھے مگر بااثر مسلمان ہی تھے تیسرے یہ کہ عبداللہ بن ابی کا اپنا بیٹا، اس کا نام بھی عبداللہ ہی تھا، مسلمان ہوچکا تھا اور وہ سچا مسلمان تھا۔
اسلام لانے کے باوجود ان لوگوں کے دلوں میں عداوت کی چنگاری انہیں ہر موقع پر اسلام کے خلاف مشتعل کرتی رہی۔ جنگ بدر سے پیشتر مشرکین مکہ نے عبداللہ بن ابی کو ہی اپنا ساتھی سمجھ کر یہ پیغام بھیجا تھا کہ تم لوگوں نے ہمارے صاحب کو پناہ دے رکھی ہے۔ واللہ ! یا تو تم اس سے لڑائی کرو اور اسے نکال باہر کرو، ورنہ ہم پوری جمعیت کے ساتھ تم لوگوں پر حملہ کرکے مردوں کو قتل کردیں گے اور تمہاری عورتوں کی حرمت پامال کر ڈالیں گے (ابوداؤد۔ کتاب الجہاد۔ باب خبر النضیر) یہ خط دراصل عبداللہ بن ابی کے دل کی آواز تھا۔ اس خط سے اسے بڑا سہارا مل گیا اور اس نے اپنے رفقاء کو اپنے پاس اکٹھا کرنا شروع کردیا۔ آپ کو جب ان حالات کی اطلاع ہوئی تو آپ اس کے ہاں خود تشریف لائے اور فرمایا کیا تم اپنے بیٹوں اور بھائیوں سے خود ہی لڑو گے ؟ عبداللہ کی سمجھ میں یہ بات آگئی کہ اس کے اپنے بہت سے قریبی رشتہ دار مسلمان ہیں لہذا اس کی کامیابی ناممکن ہے لہذا وہ لہو کے گھونٹ پی کے رہ گیا اور اس کے ساتھی بھی بکھر گئے۔
جنگ بدر کے دوران یہود اور عبداللہ بن ابی کی پارٹی نے مسلمانوں کی شکست کی غلط سلط خبریں پھیلا کر مدینہ کی فضا کو خاصا سنسنی خیز بنادیا تھا۔ پھر جب مسلمانوں کی شاندار فتح کی خبر آگئی۔ تو ان لوگوں کے قلب و جگر چھلنی ہوگئے۔ جنگ احد میں عین وقت پر جس طرح عبداللہ بن ابی نے غداری کی اس کا حال پہلے سورة آل عمران کی آیت نمبر 121 کے حواشی میں گزر چکا ہے۔
خ اسلام لانے کے بعد عبداللہ بن ابی کا مسلمانوں سے منافقانہ رویہ :۔ جب یہود بنو قینقاع کو قید کرلیا گیا۔ تو عبداللہ بن ابی نے پرزور سفارش کرکے انہیں آزادی دلائی اور وہ جلا وطن کئے گئے۔ جنگ بنونضیر میں اس نے جس طرح یہودیوں کے حوصلے بڑھائے اس کا حال سورة حشر میں گزر چکا ہے اور جنگ احزاب میں منافقوں نے جس عدم تعاون کا مظاہرہ کیا اور جس طرح مسلمانوں کو ہی طعنے دینے شروع کئے تھے اس کا حال سورة احزاب میں گزر چکا ہے۔ گویا عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی ہر وقت ایسے موقع کی تلاش میں رہتے اور اپنی منافقانہ سرگرمیاں دکھاتے تھے جن سے اسلام و مسلمانوں کو زک پہنچے۔ مسلمان مدینہ سے نکل جائیں یا ان کا اثر و رسوخ ختم ہوجائے تاکہ عبداللہ بن ابی کو اپنی کھوئی ہوئی بادشاہت پھر سے نصیب ہوجائے۔
خ غزوہ بنی مصطلق میں مہاجرین و انصار میں لڑائی اور عبداللہ بن ابی کا انصارکو بھڑکانا :۔ غزوہ بنی مصطلق جنگی لحاظ سے کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا۔ تاہم اس غزوہ میں دو واقعات ایسے پیش آئے۔ جنہوں نے اس غزوہ کو مشہور بنادیا ہے۔ اور یہ دونوں واقعات منافقوں اور بالخصوص عبداللہ بن ابی سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ دونوں واقعات نہیں بلکہ فتنے تھے۔ جنہیں برپا کرنے والا یہی عبداللہ تھا۔ ایک تو واقعہ افک ہے۔ جو واپسی کے دوران پیش آیا تھا اور اس کا تفصیلی ذکر سورة نور میں گزر چکا ہے۔ دوسرا واقعہ اسی مقام پر ہوا جہاں مسلمانوں نے اس مشرک قبیلے کو شکست دی تھی۔ اور شکست دینے کے بعد چند دن آرام کے لیے رک گئے تھے۔ وہاں ایک کنوئیں پر پانی لینے کے سلسلہ میں سیدنا عمر کے خادم جہجاہ بن قیس اور ایک انصاری کے درمیان کچھ تو تو، میں میں ہونے لگی۔ یہ واقعہ بخاری میں ان الفاظ میں مذکور ہے :
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری ؓ فرماتے ہیں کہ ہم ایک لڑائی پر گئے ہوئے تھے۔ وہاں ایک مہاجر (جہجاہ بن قیس) نے ایک انصاری (سنان بن وبرہ جہنی) کو ایک لات جمائی (جو اس کے سرین پر لگی) انصاری نے فریاد کی : اے انصار ! دوڑو۔ اور مہاجر نے فریاد کی : اے مہاجرین دوڑو۔ جب آپ نے یہ آوازیں سنیں تو وہاں پہنچ کر فرمایا : یہ کیا دور جاہلیت کی سی باتیں کرنے لگے ہو ؟ وہ کہنے لگے : یارسول اللہ ! ایک مہاجر نے ایک انصاری کے لات ماری تھی آپ نے فرمایا : ایسی باتیں چھوڑ دو ۔ یہ گندی باتیں ہیں (بخاری۔ کتاب بدء الخلق۔ باب ماینھی من دعوۃ الجاھلیۃ۔ مسلم۔ کتاب البروالصلۃ۔ باب نصر الاخ ظالما او مظلوما) جب عبداللہ بن ابی نے یہ بات سنی تو (انصار سے) کہنے لگا : یہ سب کچھ تمہارا ہی کیا دھرا ہے۔ اللہ کی قسم ! جب ہم مدینہ واپس جائیں گے تو عزت والا سردار ذلت والے کو وہاں سے باہر نکال دے گا جب یہ خبر نبی اکرم کو پہنچی تو سیدنا عمر کھڑے ہو کر کہنے لگے : یارسول اللہ ! مجھے اس منافق کی گردن اڑانے کی اجازت دیجئے۔ آپ نے فرمایا : ایسا نہ کرو۔ لوگ کہیں گے کہ محمد اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کرنے لگے ہیں مہاجر لوگ جب ہجرت کرکے مدینہ آئے اس وقت تھوڑے سے تھے اور انصار بہت تھے۔ مگر بعد میں مہاجرین بھی بہت ہوگئے۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر)
خعبداللہ بن ابی کی بکواس اور بعد میں قسم اٹھا کر انکار کرنا :۔ سیدنا زید بن ارقم فرماتے ہیں کہ میں نے ایک لڑائی (غزوہ تبوک) میں عبداللہ بن ابی کو یہ کہتے سنا : اے انصار ! پیغمبر کے پاس جو لوگ (مہاجرین) ہیں ان کو خرچ کے لیے کچھ نہ دو ۔ وہ خود ہی پیغمبر کو چھوڑ کر تتر بتر ہوجائیں گے۔ اور اگر ہم اس لڑائی سے لوٹ کر مدینہ پہنچے تو عزت والا (یعنی وہ خود) ذلت والے (یعنی پیغمبر) کو نکال باہر کرے گا۔ میں نے عبداللہ بن ابی کی یہ گفتگو اپنے چچا (سعد بن عبادہ) یا سیدنا عمر سے بیان کی اور انہوں نے آپ کو یہ بات بتادی۔ آپ نے عبداللہ بن ابی منافق اور اس کے ساتھیوں کو بلوایا تو وہ قسمیں کھانے لگے کہ ہم نے ایسا نہیں کہا۔ چناچہ رسول اللہ نے مجھے جھوٹا سمجھا اور اسے سچا سمجھا۔ مجھے اس بات کا اتنا دکھ ہوا جتنا کبھی کسی اور بات سے نہ ہوا تھا۔ میں گھر میں بیٹھ رہا۔ مجھے میرے چچا نے کہا : ارے تو نے یہ کیا کیا۔ آخر رسول اللہ نے تجھے جھوٹا سمجھا اور تجھ سے ناراض ہوئے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ (اِذَا جَاۗءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ ۚ ) 63 ۔ المنافقون :1) تا آخر۔ چناچہ آپ نے مجھے بلا بھیجا۔ سورة منافقون پڑھ کر سنائی اور فرمایا : زید ! تجھے اللہ نے سچا کیا (بخاری۔ کتاب التفسیر)
اس موقعہ پر عبداللہ بن ابی نے انصار کو خوب اشتعال دلایا۔ کہنے لگا کہ : یہ مہاجر لوگ ہمارے علاقہ میں آکر ہمارے ہی حریف بن گئے ہیں۔ ان پر تو یہ مثال صادق آتی ہے کہ کتے کو پال کر موٹا تازہ کرو تاکہ وہ تمہیں ہی پھاڑ کھائے۔ بخدا مدینہ واپس جاکر ہم میں کا معزز ترین آدمی (یعنی عبداللہ بن ابی) وہاں کے ذلیل ترین آدمی (یعنی پیغمبر اسلام) کو نکال باہر کرے گا۔ پھر کہنے لگا کہ یہ مصیبت تمہاری اپنی ہی پیدا کردہ ہے۔ تم نے انہیں اپنے شہر میں اتارا، اپنے اموال بانٹ دیئے اور یہ دلیر ہوگئے۔ اب بھی اس کا یہی علاج ہے کہ ان لوگوں کو دینا بند کردو۔ یہ خود ہی یہاں سے چلتے بنیں گے۔
Ayah 63:813 عبداللہ بن ابی کو جھوٹ بولنے کی کیا سزا ملی ؟ جھوٹی قسمیں کھا کر اپنے جرائم سے انکار کرنے کی سزا اس منافق کو ایک تو یہ ملی کہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی اس کے نفاق اور کذب کا بھانڈا پھوڑ دیا اور اسے رسوا کیا۔ اور دوسری سزا یہ ملی کہ خود اس کا بیٹا عبداللہ جو سچا مومن تھا۔ مدینہ کے دروازہ پر تلوار سونت کر کھڑا ہوگیا۔ اور اپنے باپ کی راہ روک کر کہنے لگا کہ جب تک رسول اللہ اجازت نہ دیں تم مدینہ میں داخل نہیں ہوسکتے کیونکہ معزز ترین تو اللہ کا رسول ہے اور ذلیل ترین تم ہو۔ کچھ دیر بعد رسول اللہ وہاں پہنچے جہاں بیٹا باپ کا راستہ روکے کھڑا تھا، آپ نے از راہ کرم عبداللہ بن ابی کو مدینہ میں داخل ہونے کی اجازت دے دی۔ تب جاکر بیٹے نے باپ کا راستہ چھوڑا۔ اس وقت اس منافق کو یہ بات معلوم ہوئی جسے وہ نہیں جانتا تھا کہ تمام تر عزت تو اللہ کے رسول اور مومنوں کے لیے ہے اور ان کے مقابلہ میں وہی ذلیل ترین آدمی ہے۔
جب سیدنا عمر نے عبداللہ بن ابی کے قتل کی اجازت چاہی تو آپ نے اس کے قتل کی اجازت نہ دی اور اس کی وجہ محض شماتت اعداء تھی۔ ورنہ اس کے جرائم اس قابل تھے کہ اسے قتل کرکے اس مجسم فتنہ سے زمین کو پاک کردیا جاتا اور صحابہ میں ایسی چہ میگوئیاں ہونے بھی لگیں تو عبداللہ بن ابی کے بیٹے سیدنا عبداللہ نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : یارسول اللہ اگر آپ میرے باپ کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں تو مجھے حکم فرمائیے میں اس کا سر آپ کی خدمت میں پیش کردوں گا۔ اگر اسے کسی اور نے قتل کیا تو مبادا میری رگ حمیت بھڑک اٹھے (ابن ہشام، 12: 290 تا 292)
Ayah 63:914 مال اور اولاد کا نام اس لیے لیا گیا کہ ہر انسان کی زیادہ تر دلچسپی انہیں سے ہوتی ہے ورنہ اس میں ہر وہ کاروبار یا شغل شامل کیا جاسکتا ہے جو اللہ کی یاد سے غافل کر دے۔ اور اللہ کی یاد سے غفلت کا نتیجہ فسق و فجور کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ کسب حلال کی تمیز اٹھ جاتی ہے اور انسان زندگی کے ہر میدان میں بےراہ رو ہوجاتا ہے۔
Ayah 63:1015 افضل ترین صدقہ وہ ہے جو اپنی ضروریات کے علی الرغم کیا جائے :۔ بخل یا شحّ اور ایمان دو متضاد چیزیں ہیں۔ جو ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتیں۔ بخل دراصل نفاق کی علامت ہے ایمان کی نہیں۔ بخیل آدمی ساری عمر پیسہ جوڑنے میں گزار دیتا ہے۔ کسی وقت بھی مال کی محبت اس کے دل سے جدا نہیں ہوتی بلکہ بڑھاپے میں اور زیادہ بڑھنے لگتی ہے۔ پھر جب موت سر پر کھڑی ہوتی ہے اور اسے یہ یقین ہوجاتا ہے کہ اب مجھے یہ مال و دولت چھوڑ چھاڑ کر خالی ہاتھ جانا پڑے گا اس وقت البتہ اس کا جی چاہتا ہے کہ صدقہ کرکے اپنے مال سے جتنا زیادہ فائدہ اٹھایا جاسکے اٹھا لوں۔ اس وقت بھی اس کا اصل مقصد کسی محتاج کی احتیاج دور کرنا نہیں ہوتا۔ بلکہ بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی کے مصداق وہ جبراً جدا ہونے والے مال سے صدقہ کرکے ثواب حاصل کرنا چاہتا ہے۔ حالانکہ اس وقت صدقہ کرنے کا کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ چناچہ ایک دفعہ ایک آدمی نے آپ سے پوچھا : یارسول اللہ ! اجر کے لحاظ سے کون سا صدقہ بڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا : جو تو تندرستی کی حالت میں کرے، حرص رکھتا ہو، فقر سے ڈرتا ہو اور دولت کی امید رکھتا ہو لہذا صدقہ کرنے میں جلدی کر۔ ایسا نہ ہو کہ جان لبوں پر آجائے تو کہنے لگے کہ اتنا مال فلاں کو دے دو ۔ اور اتنا فلاں کو۔ حالانکہ اس وقت یہ مال اس کا نہیں بلکہ اس کے وارثوں کا ہوتا ہے (مسلم۔ کتاب الزکوٰۃ۔ باب ان افضل الصدقۃ۔۔ ) ضمناً اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اعمال صالحہ میں صدقات کو خصوصی اہمیت ہے۔
Ayah 63:1116 یعنی اللہ اس بات کو خوب جانتا ہے کہ اگر بالفرض تمہیں کچھ مہلت بھی دے دی جائے تو تم پھر بھی بخل ہی کرو گے۔ صدقہ نہیں کروگے کیونکہ جو عادتیں زندگی بھر پختہ ہوتی رہتی ہیں، تھوڑی سی مہلت ملنے پر بدل نہیں جاتیں۔