64. Surah At-Taghaabun

التغابنMutual Disillusion · 18 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 64:1

یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 64:1 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین میں جو بھی مخلوق موجود ہے اللہ کی تسبیح کرتی ہے۔ اسی کی بادشاہی 2 ہے اور اسی کے لیے تمام تر تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

2 یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو پیدا کیا تو پھر اس سے بےتعلق نہیں ہوگیا۔ جیسا کہ قدیم فلاسفہ کا نظریہ تھا۔ بلکہ ہر آن اس پر حکومت بھی کر رہا ہے۔ اور جس چیز کی تخلیق سے جو مقصد درکار تھا اسے اس کام پر لگا دیا ہے اور اس سے مطلوبہ مقصد حاصل کرنے کی وہ پوری قدرت رکھتا ہے۔
Ayah 64:2

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّ مِنْكُمْ مُّؤْمِنٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 64:2 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تمہیں پیدا کیا۔ پھر تم میں سے کوئی کافر ہے 3 اور کوئی مومن، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے خوب 4 دیکھتا ہے

3 اس آیت کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ پیدا تو تمہیں اللہ نے کیا ہے پھر کوئی تو یہ بات تسلیم کرلیتا ہے کہ واقعی ہمارا خالق اللہ ہے اور کوئی یہ بات بھی تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ وہ سرے سے اللہ کی ہستی کا انکار کردیتا ہے کہ ہم تو زمانہ کی گردش کے تحت پیدا ہوتے اور مرتے رہتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ اللہ نے انسان کو فطرت سلیمہ پر پیدا کیا تھا۔ کہ وہ بھی اللہ کی باقی تمام مخلوق کی طرح اس کا مطیع و منقاد بن کر رہے۔ لیکن کچھ لوگ تو اس فطرت سلیمہ پر قائم رہتے ہیں اور کچھ ماحول سے متاثر ہو کر کفر کی راہیں اختیار کرلیتے ہیں اور اس مطلب کی توثیق اس ارشاد نبوی سے ہوجاتی ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ : (انسان کا) ہر بچہ فطرت (سلیمہ) پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی (وغیرہ) بنا دیتے ہیں (بخاری۔ کتاب القدر۔ باب جف القلم علیٰ علم اللّٰہ۔۔ ) اور تیسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو قوت ارادہ و اختیار اور عقل وتمیز دے کر پیدا کیا تھا۔ اب جو شخص ان اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کا غلط استعمال کرتا ہے۔ وہ کفر کی راہ پر جا پڑتا ہے اور جو صحیح استعمال کرتا ہے۔ وہی مومن ہوتا ہے۔ 4 صرف دیکھتا ہی نہیں بلکہ اس کی تمہیں جزا یا سزا بھی دے گا۔ وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ اگر کسی مومن نے کوئی نیک کام کیا تھا تو اس میں خلوص نیت کا کتنا حصہ تھا۔ اسی کے مطابق وہ اس کی جزا میں کمی یا اضافہ بھی کرے گا۔
Ayah 64:3

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 64:3 in the Quran reader

اس نے آسمانوں اور زمین کو حقیقی مصلحت سے پیدا 5 کیا اور تمہاری صورتیں 6 بنائیں تو بہت عمدہ 7 بنائیں اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا 8 ہے

5 وہ حقیقی مصلحت یہ تھی کہ انسان کی پیدائش سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے ایسی تمام چیزیں پیدا کردیں جو انسان کی زندگی اور زندگی کی بقا کے لئے ضروری تھیں۔ تمام اشیاء کو انسان کا خادم بنادیا اور وہ تمام چیزیں انسان ہی کی خدمت پر مامور ہیں۔ 6 انسان میں دوسری مخلوق سے کیا کیا صفات زائد ہیں ؟ : یعنی انسان کو سیدھا کھڑا ہو کردو پاؤں پر چلنے والی مخلوق بنایا۔ اسے بولنے ایک دوسرے کی بات کو سمجھنے اور جواب دینے کی قوتیں عطا فرمائیں۔ پھر اس کو یہ عقل و شعور بھی بخشا کہ وہ تمام مخلوق سے اپنے حسب ضرورت کام لے سکے، انہیں اپنا مطیع و منقاد بنا سکے اور ان پر حکومت کرسکے۔ اور یہ صفات انسان کے علاوہ اور کسی مخلوق کو عطا نہیں کی گئیں۔ اس کے اعضاء کی ساخت بھی ایسی بنائی کہ ایک ایک عضو سے وہ کئی کئی کام لے سکتا ہے۔ اور اپنی عقل اور اعضاء سے کام لے کر ایک طرف تو کائنات کی تسخیر کیے چلا جاتا ہے۔ دوسری طرف نت نئی ایجادات کو وجود میں لاتا رہتا ہے۔ 7 یعنی انسان کا ڈیزائن بھی عمدہ بنایا پھر اس کی صورت بھی بہت خوب بنائی۔ یہ نہیں کیا کہ کسی انسان کی ایک آنکھ بڑی ہو اور دوسری چھوٹی یا ایک آنکھ کالی ہو دوسری نیلی یا ایک نتھنا بڑا ہو اور دوسرا چھوٹا یا ایک ہاتھ لمبا ہو اور دوسرا چھوٹا۔ جس سے انسان بدصورت ہی نہیں بلکہ خوفناک اور ڈراؤنا بھی معلوم ہونے لگے۔ پھر اتنی ہمہ گیر یکسانیت کے باوجود ہر ایک کی شکل اور نقش و نگار الگ الگ بنائے۔ اگر اللہ تعالیٰ انسان کی ناک یا اس کی آنکھیں پیچھے گردن پر یا پیٹھ کو لگا دیتا تو اندازہ کرلیجئے کہ انسان کتنی بدصورت مخلوق ہوتا۔ 8 اللہ کا اس کائنات کو بنانا۔ اس کا مربوط انتظام کرنا۔ اس کے بعد انسان جیسی اشرف المخلوقات اور احسن تقویم والی مخلوق کو پیدا کرنا پھر اس میں لگاتار زندگی اور موت کا سلسلہ جاری کرنا۔ یہ سب کام تو تم دیکھ ہی رہے ہو۔ پھر کیا مرنے کے بعد اسے تمہیں اپنے پاس حاضر کرلینا ہی مشکل بن جائے گا ؟
Ayah 64:4

یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 64:4 in the Quran reader

وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر 9 کرتے ہو۔ اور اللہ تو دلوں کے راز تک جاننے والا ہے۔

9 یعنی جو باتیں تم دل میں چھپاتے یا چھپائے رکھتے ہو انہیں بھی جانتا ہے اور جو کچھ زبان سے کہہ دیتے ہو اسے بھی۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ جو اعمال تم لوگوں سے چھپ چھپا کر کرتے ہو۔ اللہ انہیں جانتا ہے اور جو لوگوں کے سامنے کرتے ہو انہیں بھی۔ اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ جو کام تم نے کیا ہے وہ کس نیت اور کس ارادہ سے کیا ہے پھر اسی کے مطابق تمہیں بدلہ دیا جائے گا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی عدل صرف اللہ تعالیٰ ہی کرسکتا ہے۔ کیونکہ اس دنیا میں صرف ظاہری اعمال اور ان کی ظاہری صورت پر ہی انحصار کیا جاسکتا ہے۔
Ayah 64:5

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١٘ فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 64:5 in the Quran reader

کیا تمہیں ان لوگوں کی کوئی خبر نہیں پہنچی جنہوں نے اس سے پہلے کفر کیا تھا پھر انہوں نے اپنے کام کا مزا چکھ 10 لیا۔ اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

10 ان لوگوں سے مراد وہ سابقہ اقوام ہیں جن پر اللہ کی نافرمانیوں کی وجہ سے عذاب آیا تھا۔ اور یہ سزا نہ تو ان کی اصل سزا تھی اور نہ پوری سزا تھی۔ یہ عذاب تو انہیں محض اس لئے چکھایا گیا تھا کہ آئندہ جرائم سے باز آجائیں اور مظلوم ان کے مظالم سے نجات پاجائیں۔ اس لحاظ سے دنیا کا یہ عذاب محض ایک مجرم کی گرفتاری کی حیثیت رکھتا ہے۔ رہی اصل اور پوری سزا تو وہ انہیں آخرت میں ملے گی۔
Ayah 64:6

ذٰلِكَ بِاَنَّهٗ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالُوْۤا اَبَشَرٌ یَّهْدُوْنَنَا١٘ فَكَفَرُوْا وَ تَوَلَّوْا وَّ اسْتَغْنَى اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 64:6 in the Quran reader

یہ اس لیے ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل 11 لے کر آئے تو وہ کہنے لگے : کیا آدمی ہماری رہنمائی 12 کریں گے چناچہ انہوں نے انکار کردیا اور منہ موڑ لیا اور اللہ بھی ان سے بےپروا 13 ہوگیا اور اللہ تو ہے ہی بےنیاز اور اپنی ذات میں محمود

11 یعنی ایسے دلائل جن سے یہ یقین حاصل ہوسکتا تھا کہ یہ رسول فی الواقع اللہ کے فرستادہ ہیں۔ اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اپنی تعلیمات کے لئے وہ جو دلائل پیش کرتے تھے وہ نہایت معقول اور واضح ہوتے تھے۔ ان میں کسی قسم کا ابہام یا پیچیدگی نہیں ہوتی تھی۔ اور حق و باطل کی پوری پوری وضاحت ہوجاتی تھی۔ 12 انہیں اپنے رسول پر بنیادی اعتراض یہ ہوتا تھا کہ یہ تو ہم جیسا ہی ایک بشر ہے اسے ہم اپنا رہنما کیسے مان لیں ؟ کوئی فرشتہ ہماری رہنمائی کے لئے نازل ہوتا تب بھی کوئی بات تھی۔ گویا ان کے نزدیک بشریت اور رسالت میں منافات تھی۔ اسی بنا پر انہوں نے رسولوں کی بات ماننے سے انکار کردیا اور کفر کا راستہ اختیار کرلیا۔ کافروں کے اس اعتراض کا جواب قرآن میں بیشمار جگہ پر دیا گیا ہے کہ انسانوں کے لئے ہدایت کی صرف یہی صورت ہے کہ رسول بشر ہو اور بشر بھی وہ ہو جو ان کی قوم سے ہو اور انہی کی زبان میں بات کرتا ہو۔ اس کے علی الرغم ہمیں تو ان دوستوں کی داد دینا پڑتی ہے جو اسی آیت کا یہ مطلب لیتے ہیں کہ رسول کو بشر کہنے والا کافر ہے۔ کیونکہ کافر ہی رسولوں کو بشر کہتے تھے۔ اور رسولوں کو بشر کہنا کافروں کا شیوہ ہے۔ اقبال (رح) نے کیا خوب کہا تھا : زمن بر صوفی و ملا سلامے۔۔ کہ پیغام خدا گفتند مارا۔۔ ولے تاویل شان در حیرت انداخت۔۔ خدا و جبرئیل و مصطفٰے را ترجمہ : (میری طرف سے صوفی اور ملا پر سلام ہو کہ انہوں نے ہمیں اللہ کا پیغام پہنچایا۔ لیکن ان کی تاویل نے اللہ کو جبرئیل کو اور اللہ کے رسول سب کو حیرت میں ڈال دیا (کہ ہم نے کہا کیا تھا اور ان لوگوں نے اس سے کیا مطلب نکال لیا) خ ہر رسول بشر ہوتا ہے :۔ مزید برآں یہی نہیں کہ کافر ہی رسولوں کو بشر کہتے تھے۔ بلکہ اللہ نے بھی رسولوں کو بشر ہی کہا ہے اور رسول خود بھی اپنے آپ کو بشر ہی کہتے تھے خواہ مخاطب کافر ہوں یا مسلمان ہوں۔ (تشریح کے لئے دیکھئے سورة کہف کی آیت نمبر 110 کا حاشیہ) 13 یعنی اللہ نے تو انہیں کی بھلائی اور رہنمائی کے لئے رسول بھیجے تھے اب اگر یہ گڑھے میں ہی گرنا چاہتے ہیں تو گرا کریں۔ اللہ کو ان کی کیا پروا ہے اگر یہ اللہ اور اس کے رسول کو نہیں مانتے تو اس سے اللہ کی حکومت اس سے چھن تو نہیں جائے گی نہ اس میں کچھ کمی واقع ہوگی۔
Ayah 64:7

زَعَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ١ؕ وَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 64:7 in the Quran reader

(آخرت کا) انکار کرنے والوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ قطعاً اٹھائے نہیں 14 جائیں گے۔ آپ ان سے کہئے : کیوں نہیں۔ میرے پروردگار کی قسم ! تم ضرور اٹھائے جاؤ گے پھر جو کچھ تم کرتے رہے اس سے تمہیں آگاہ کیا جائے گا اور یہ بات اللہ کے لئے آسان ہے

14 معاد کے انکار پر کوئی دلیل نہیں لائی جاسکتی :۔ حالانکہ ان کے پاس کوئی ایسا ذریعہ علم نہیں ہے۔ جس کی بنیاد پر وہ یقینی طور پر کہہ سکیں کہ دوبارہ زندگی نہیں ہوسکتی۔ انسان کے پاس ایسا ذریعہ علم نہ کبھی آج سے پہلے تھا، نہ آج ہے اور نہ ہی آئندہ کبھی ہوسکے گا۔ پھر اس دعویٰ کو اس زور شور سے پیش کرنا کیا معنی رکھتا ہے ؟ انسان زیادہ سے زیادہ یہی کچھ کہہ سکتا ہے کہ مرنے کے بعد جی اٹھنے اور نہ اٹھنے کے دونوں احتمال موجود ہیں۔ لیکن وہ جی اٹھنے کی تردید میں کوئی دلیل پیش نہیں کرسکتا۔ 15 تمہارے اس دعویٰ کے مقابلہ میں، میں اللہ کی طرف سے وحی کے علم کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں۔ تم لوگ میری صداقت کے معترف رہے ہو اور میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تمہیں ضرور زندہ کیا جائے گا اور اس لئے زندہ کیا جائے گا کہ آج جو کچھ تم کر رہے ہو اس کا تم سے مؤاخذہ کیا جائے۔ ظالم کو اس کے ظلم کی سزا دی جائے اور مظلوم کی دادرسی کی جائے۔ کائنات کا یہ نظام ہی اس بات پر شہادت دے رہا ہے کہ یہ کوئی اندھیر نگری نہیں ہے۔ کہ تم جو کچھ چاہو کرتے رہو، کرکے مرجاؤ اور تمہیں کوئی پوچھنے والا نہ ہو۔
Ayah 64:8

فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ النُّوْرِ الَّذِیْۤ اَنْزَلْنَا١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 64:8 in the Quran reader

لہٰذا اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ اور اس نور (قرآن) پر بھی جو ہم نے نازل 16 کیا ہے۔ اور جو کام تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

16 یعنی قرآن ایسی کتاب ہے جس کی روشنی میں تم اقوام سابقہ کے حالات سے باخبر ہوتے ہو جن کو ٹھیک طور پر معلوم کرنے کا تمہارے پاس کوئی ذریعہ نہ تھا۔ پھر وہ تمہارے موجودہ حالات میں تمہاری پوری رہنمائی کرتا ہے اور زندگی کے ہر شعبہ کے لئے تمہیں ایسی ہدایات دیتا ہے، جس سے تم فتنہ و فساد اور بدامنی کی پریشان کن زندگی سے بچ کر امن وامان کی اور اطمینان کی زندگی گزار سکو، پھر وہ تمہیں تمہارے مرنے کے بعد کے حالات سے بھی پوری طرح خبردار کر رہا ہے۔ حالانکہ ان باتوں پر اطلاع پانے کے لئے کوئی ذریعہ علم نہ تھا اور نہ ہی عقل انسانی کی ایسے حالات معلوم کرنے تک رسائی ہوسکتی ہے۔ لہذا اس روشنی کی قدر کرو اور اسے غنیمت سمجھو اور اللہ اور اس کے رسول کے پوری طرح فرمانبردار بن جاؤ۔
Ayahs 64:9–10

یَوْمَ یَجْمَعُكُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِكَ یَوْمُ التَّغَابُنِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 64:9 in the Quran reader

وہ اجتماع کے دن تم سب کو اکٹھا کرے گا اور یہی ایک دوسرے کے مقابلہ میں ہار جیت 17 کا دن ہوگا۔ اور جو شخص اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے اللہ اس سے اس کی برائیاں دور کردے گا اور اسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی وہ ابدالاباد تک اس میں رہیں گے یہی بڑی کامیابی ہے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 64:10 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا تو یہی لوگ اہل دوزخ ہیں۔ وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

17 تغابن کی لغوی تشریح اور مفہوم :۔ تغابن۔ غبن معروف لفظ ہے بمعنی چوری چھپے کسی دوسرے کا حق مار لینا، اور تغابن بمعنی چوری چھپے ایک دوسرے کے حقوق، خواہ ان کا تعلق مال و دولت سے ہو یا دوسرے حقوق سے مارنے کی کوشش کرنا۔ لیکن دنیا میں جو تغابن ہوتا ہے اور ہر وقت ہوتا رہتا ہے۔ یہ حقیقی نہیں بلکہ اس کے نتائج اس کے برعکس ہوتے ہیں۔ مثلاً زید نے بکر کا حق غصب کیا تو یہاں دنیا میں اس کی ظاہری صورت یہ ہے کہ زید فائدہ میں رہا اور بکر خسارے میں رہا۔ لیکن قیامت کے دن جب زید سے بکر کا غبن کیا ہوا حق زید کو واپس دلایا جائے گا تو بکر فائدے میں رہے گا اور زید خسارے میں رہے گا۔ گویا آخرت میں فائدے اور خسارے کے نتائج دنیا کے نتائج کے برعکس ہوں گے۔ اس لحاظ سے زید ہار گیا اور بکر جیت گیا۔ اس مطلب کی تائید اس حدیث سے بھی ہوجاتی ہے کہ رسول اللہ نے صحابہ ؓ سے پوچھا : جانتے ہو مفلس کون ہوتا ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا ! مفلس وہ ہے جس کے پاس کوئی روپیہ پیسہ نہ ہو آپ نے فرمایا : حقیقتاً مفلس وہ ہے کہ قیامت کے دن بہت سی نیکیاں لے کر آئے گا تو اس سے حق وصول کرنے والے اللہ کے دربار میں اپنے اپنے حق کا مطالبہ کرنے لگیں گے تو اس کی نیکیاں حقداروں کو دے دی جائیں گی حتیٰ کہ اس کے پاس کوئی نیکی نہ رہے گی۔ (مسلم۔ کتاب البر والصلۃ والادب۔ باب تحریم الظلم) اب انفرادیت سے آگے اجتماعیت کی طرف آئیے۔ ایک فریق وہ ہے جس نے مسلمانوں پر مظالم ڈھا کر ان کا جینا دو بھر کر رکھا ہے۔ اور وہ سمجھتا یہ ہے کہ ہم ہی غالب اور کامیاب ہیں۔ ان لوگوں نے اپنی تمام تر صلاحیتیں اور قابلیتیں، وقت اور مال و دولت اس کام پر لگا رکھے ہیں کہ اسلام کو صفحہ ہستی سے نابود کردیں۔ دوسرا گروہ وہ ہے جو ان ظالموں کے مظالم کی چکی میں پس رہا ہے اور بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہی لوگ مغلوب و مقہور ہیں۔ جبکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ جب قیامت کو ان سب لوگوں کے اعمال کے نتائج سامنے آئیں گے تو معلوم ہوجائے گا کہ کون خسارے میں رہا اور کون فائدے میں اور کون ہارا اور کون جیتا ؟
Ayahs 64:11–12

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ یَهْدِ قَلْبَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 64:11 in the Quran reader

جو مصیبت بھی آتی ہے وہ اللہ کے اذن سے ہی آتی ہے اور جو شخص 18 اللہ پر ایمان لائے تو اللہ اس کے دل کو ہدایت بخشتا 19 ہے اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 64:12 in the Quran reader

اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ پھر اگر تم سرتابی کرو تو ہمارے رسول کے ذمہ تو صاف طور پر پہنچا دینا ہی ہے۔

18 اس آیت میں ان دنیادار لوگوں کے اس نظریہ کی تردید کی گئی ہے جو یہ سمجھتے تھے کہ اگر مسلمان حق پر ہوتے تو اس قدر مصائب میں کیوں گھرے ہوتے اور مسلمانوں کو یہ تسلی دی جارہی ہے کہ کوئی مصیبت کسی کے لانے سے نہیں آتی۔ بلکہ اللہ کے علم میں ہوتی ہے اور اسی کے اذن سے آتی ہے۔ اور اس میں اللہ تعالیٰ کی کئی حکمتیں ہوتی ہیں۔ مصیبتوں کے ذریعہ آزمائش سے مقصود تمہارے ایمان کا امتحان ہوتا ہے۔ تاکہ منافقین کھل کر سامنے آجائیں۔ اور تم ان سے محتاط رہنے لگو۔ ان کے علاوہ کئی حکمتیں قرآن میں جابجا مذکور ہیں۔ خ مصائب کی تین قسمیں :۔ واضح رہے کہ مصائب تین قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو لوگوں کے اپنے اعمال کے نتیجہ یا شامت اعمال کے طور پر آتے ہیں۔ جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے : (ظَھَرَ الْفَسَادُ فِیْ البَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ أیْدِیْ النَّاسِ ) دوسرے وہ مصائب جن میں سے ایمانداروں کو آزمائش اور تربیت کے لئے گزارا جاتا ہے۔ جیسے فرمایا : (وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ۭ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَ 155؁ۙ ) 2 ۔ البقرة :155) تیسرے وہ جن کا تعلق مندرجہ بالا دونوں اقسام سے نہیں ہوتا اور وہ محض اتفاقی قسم کے حوادث ہوتے ہیں۔ ایسے مصائب مومنوں کے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ بموجب ارشاد نبوی کسی مسلمان کو کوئی کانٹا بھی چبھے تو وہ اس کے کسی نہ کسی گناہ کا کفارہ بن جاتا ہے بشرطیکہ مسلمان اس مصیبت پر صبر کرے۔ 19 یعنی جو شخص ان مصائب میں ثابت قدم رہے تو اس کا اللہ پر ایمان مزید بڑھ جاتا ہے اور اسی نسبت سے اسے اللہ مزید ہدایت بخشتا ہے اور یاد رکھو کہ اللہ کو تمہارے ان مصائب کا پورا پورا علم ہے۔ وہ اپنے بندوں کو خواہ مخواہ مصائب میں مبتلا نہیں کرتا۔ بلکہ کسی عظیم مقصد کے لئے تمہیں تیار کرنا چاہتا ہے۔
Ayah 64:13

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 64:13 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ 20 کرنا چاہیے

20 توکل اللہ پر ہی کیوں ؟ اس کائنات میں تصرفات کا اختیار صرف اللہ کو ہے اور پورے کا پورا اختیار اسی کو ہے۔ دوسرا کوئی اس اختیار میں اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں ہوسکتا۔ لہذا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کا ایک لازمی نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ صرف اس اللہ پر بھروسہ کیا جائے جس کے قبضہ قدرت میں جملہ اختیارات ہیں۔ ہر طرح کے ظاہری اور باطنی اسباب پر اسی کا کنٹرول ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی اس صفت پر دل سے یقین رکھتا ہے اس کے لئے یہ ممکن ہی نہیں رہتا کہ وہ اس کا در چھوڑ کر کسی دوسرے کے دروازے پر جائے۔
Ayah 64:14

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَ اَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعْفُوْا وَ تَصْفَحُوْا وَ تَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 64:14 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تمہاری بیویوں میں سے اور تمہاری اولاد میں سے بعض 21 تمہارے دشمن ہیں لہذا ان سے ہشیار رہو۔ اور اگر تم معاف کرو 22 اور درگزر کرو اور انہیں بخش دو تو اللہ یقینا بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے

21 بیوی اور اولاد کس صورت میں انسان کی دشمن ہوتی ہے :۔ یعنی ساری بیویاں یا ساری اولاد تمہاری دشمن نہیں بلکہ بعض بیویاں اور بعض اولاد تمہاری دشمن ہے۔ اور یہی وہ رشتے ہیں جو انسان کے بہت قریبی اور اسے بہت عزیز ہوتے ہیں۔ یہ اگر اللہ کے فرمانبردار ہوں گے تو تمہارے دوست اور نافرمان ہوں گے تو تمہارے دشمن ہیں۔ گویا ان سے بھی تمہاری محبت اور دوستی کی اصل بنیاد اللہ کی فرمانبرداری ہونی چاہئے۔ انہیں کی وجہ سے لوگ کسب حرام اور دوسرے گناہوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ انہی کی وجہ سے بعض مسلمان مدینہ کی طرف ہجرت کی جرأت نہیں کر رہے تھے۔ انہیں کی ہمدردیاں اگر کفار کے ساتھ ہوں تو تمہارے لئے کئی طرح کی مصیبتوں اور پریشانیوں کا سبب بھی بن سکتے ہیں اور تمہاری عاقبت بھی خراب کرسکتے ہیں۔ لہذا ان کے معاملہ میں تمہیں بالخصوص محتاط رہنا چاہئے۔ 22 یعنی اگر تم ان میں کچھ غلط رجحانات دیکھو تو ایسا نہ کرو کہ ان پر اندھا دھند سختی شروع کردو۔ بیویوں کو طلاق دے دو یا بچوں کو گھر سے نکال دو ۔ بلکہ ایسا کرو گے تو معاشرتی نظام درہم برہم ہوجائے گا۔ ایسے حالات میں بہتر صورت یہ ہے کہ ان کی اصلاح کی کوشش کرو اور درگزر سے کام لو۔ اور نرمی اور حسن سلوک سے کام لے کر انہیں اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرو۔ یہ طریق کار اس لحاظ سے بہتر ہے کہ اللہ تعالیٰ خود بھی از راہ کرم لوگوں کی خطائیں معاف کرتا رہتا ہے۔
Ayah 64:15

اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 64:15 in the Quran reader

بلاشبہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد ایک آزمائش 23 ہیں اور اللہ ہی ہے جس کے ہاں بڑا اجر ہے۔

23 مال اور اولاد ہر انسان کی آزمائش ہے :۔ یہاں آزمائش کے لئے فتنۃ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ فتنۃ میں عام طور پر ایسی چیزوں سے آزمائش ہوتی ہے جن سے انسان محبت کرتا ہے اور ان سے اس کا دلی لگاؤ ہوتا ہے اور یہ آزمائش اس طرح آہستہ آہستہ ہوتی ہے کہ دوسرے تو کیا بسا اوقات خودمفتون کو بھی پتہ نہیں چلتا کہ وہ کسی آزمائش میں پڑچکا ہے۔ یہاں بتایا یہ گیا ہے کہ بیویوں اور اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں۔ لیکن مال اور اولاد ایسی چیزیں ہیں جو ساری کی ساری اور سب انسانوں کے لئے آزمائش کا سبب بن جاتی ہیں۔ اور ان چیزوں سے اللہ آزمائش اس طرح کرتا ہے کہ کون ان فانی اور زائل ہونے والی چیزوں میں پھنس کر آخرت کی دائمی نعمتوں کو فراموش کردیتا ہے اور کون انہی چیزوں کو اپنے لئے آخرت میں ذخیرہ کا ذریعہ بناتا ہے اور وہاں کے اجر عظیم کو دنیا کی دلفریبیوں پر ترجیح دیتا ہے۔
Ayah 64:16

فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَ اسْمَعُوْا وَ اَطِیْعُوْا وَ اَنْفِقُوْا خَیْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 64:16 in the Quran reader

لہٰذا جہاں تک ہوسکے اللہ سے ڈرتے 24 رہو اور سنو اور اطاعت کرو اور (اپنے مال) خرچ کرو۔ یہ تمہارے ہی لیے بہتر ہے اور جو شخص اپنے نفس 25 کی حرص سے بچا لیا گیا تو ایسے ہی لوگ کامیاب ہیں۔

24 مؤاخذہ صرف اس حد تک ہوگا جہاں تک انسان کا اختیار ہے :۔ اس جملہ سے معلوم ہوا کہ انسان گناہوں سے اجتناب اور اوامر کی تکمیل میں اسی حد تک مکلف ہے جس قدر اس کی استطاعت ہے اسی مضمون کو سورة بقرہ میں یوں بیان فرمایا۔ (لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا 286؀ ) 2 ۔ البقرة :286) یعنی جس مقام پر انسان مجبور ہوجائے وہاں اس پر کوئی مواخذہ نہیں۔ مواخذہ صرف اس صورت میں ہے کہ جہاں انسان استطاعت رکھنے کے باوجود اللہ کی اطاعت نہ کرے۔ رہی یہ بات کہ انسان اپنے متعلق کوئی غلط اندازہ قائم کرلے۔ مثلاً وہ یہ فرض کرلے کہ فلاں کلام میری استطاعت سے باہر ہے۔ حالانکہ وہ اسکی استطاعت میں ہو۔ تو ایسی بات پر اس کا ضرور مواخذہ ہوگا۔ کیونکہ اللہ کو ہر بات کا علم ہے۔ 25 اس کی تشریح کے لیے دیکھئے سورة حشر کی آیت نمبر 9 کا حاشیہ۔
Ayahs 64:17–18

اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْهُ لَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَكُوْرٌ حَلِیْمٌۙ Open ayah 64:17 in the Quran reader

اگر تم اللہ کو قرض حسن 26 دو تو وہ تمہیں کئی گنا بڑھا کر دے گا اور تمہیں معاف فرما دے گا اور اللہ بڑا قدردان 27 اور بردبار ہے

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 64:18 in the Quran reader

وہ غائب اور حاضر ہر چیز کو جاننے والا ہے، وہ زبردست ہے اور دانا ہے۔

26 تشریح کے لئے سورة الحدید کی آیت نمبر 11 کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔ 27 قدردانی کی بات یہ ہے کہ اس کے دیئے ہوئے مال میں سے ہی کچھ مال اس کی راہ میں خرچ کرنے پر بھی ثواب عطا فرماتا ہے اور تھوڑے سے عمل پر بہت زیادہ ثواب دیتا ہے اور اس کا تحمل یہ ہے کہ نافرمانی کرنے پر فوراً سزا نہیں دے ڈالتا۔ پھر بہت سے مجرموں کو معاف بھی کردیتا ہے اور بہت سے لوگوں کی سزا میں تخفیف بھی کردیتا ہے۔