65. Surah At-Talaaq

الطلاقDivorce · 12 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 65:1

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَ اَحْصُوا الْعِدَّةَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْ١ۚ لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ لَا تَدْرِیْ لَعَلَّ اللّٰهَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا Open ayah 65:1 in the Quran reader

اے نبی ! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت 1 کے لیے طلاق دیا کرو اور عدت کے زمانے کا ٹھیک ٹھیک حساب رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہارا پروردگار ہے۔ (زمانہ عدت میں) انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ ہی وہ خود نکلیں 2 اِلا یہ کہ وہ کسی صریح برائی کی مرتکب ہوں 3 ۔ یہ اللہ کی حدیں 4 ہیں۔ اور جو شخص حدود الٰہی سے تجاوز کرے تو اس نے اپنے اوپر خود ظلم 5 کیا۔ (اے مخاطب) تو نہیں جانتا شاید اللہ اس کے بعد (موافقت کی) کوئی نئی صورت پیدا 6 کردے۔

1 عورتوں کی عدت کی کمی بیشی کی مختلف صورتیں :۔ طلاق اور عدت کے بہت سے احکام سورة بقرہ میں گزر چکے ہیں۔ اور کچھ سورة احزاب میں بھی مذکور ہیں۔ اور ان کی تکمیل سورة طلاق میں مذکور احکام سے ہوئی۔ لہذا سابقہ احکام پر بھی ایک نظر ڈالنا ضروری ہے۔ چونکہ طلاق کی صورت میں عورتوں کی حالت مختلف اور ان کی عدت بھی مختلف ہوتی ہے۔ لہذا پہلے عدت کی وضاحت کی جاتی ہے : 1۔ بیوہ غیرحاملہ کی عدت چار ماہ دس دن ہے۔ (2: 239) 2۔ بیوہ حاملہ کی عدت وضع حمل تک ہے۔ (65: 4) جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ظاہر ہے : ابو سلمہ کہتے ہیں کہ ابن عباس ؓ کے پاس ایک شخص آیا۔ اس وقت ابوہریرہ ؓ بھی ان کے پاس بیٹھے تھے۔ وہ شخص کہنے لگا : ایک عورت کے ہاں اس کا خاوند مرنے کے چالیس دن بعد بچہ پیدا ہوا ؟ اس کی عدت کے بارے میں آپ کیا فتویٰ دیتے ہیں۔ ابن عباس ؓ نے کہا کہ وہ لمبی عدت (چار ماہ دس دن) پوری کرے ابو سلمہ کہنے لگے : پھر اس آیت کا کیا مطلب ہوا کہ : حاملہ عورتوں کی عدت ان کے وضع حمل تک ہے اور سیدنا ابوہریرہ ؓ کہنے لگے : میں تو اپنے بھتیجے ابو سلمہ کی رائے سے متفق ہوں آخر ابن عباس ؓ نے اپنے غلام کریب کو ام المومنین ام سلمہ ؓ کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لئے بھیجا۔ ام سلمہ ؓ نے فرمایا : سبیعہ اسلمیہ کا خاوند (سعد بن خولہ) اس وقت فوت ہوا جبکہ اس کی بیوی حاملہ تھی۔ خاوند کے چالیس دن بعد اس کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو اسے نکاح کے پیغام آنے لگے۔ اور آپ نے اسے نکاح کی اجازت دے دی۔ ان پیغام دینے والوں میں سے ایک ابو السنابل بھی تھا (بخاری۔ کتاب التفسیر) 3۔ غیر مدخولہ عورت خواہ وہ بیوہ ہو یا مطلقہ اس کی کوئی عدت نہیں۔ (32: 49) 4۔ بےحیض عورت، اسے خواہ ابھی حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہو یعنی نابالغہ ہو یا بڑھاپے یا بیماری کی وجہ سے آنا بند ہوچکا ہو، کی عدت تین ماہ قمری ہے۔ (65: 4) یعنی اس صورت کی آیت نمبر 4 5۔ مطلقہ حاملہ کی عدت وضع حمل تک ہے۔ (65: 4) یعنی اسی سورة کی آیت نمبر 4 6۔ حیض والی غیر حاملہ کی عدت تین قروء ہے (2: 228) قرء کا معنی حیض بھی ہے اور حالت طہر بھی۔ احناف اس سے تین حیض مراد لیتے ہیں جبکہ شافعی اور مالکی تین طہر مراد لیتے ہیں۔ اس فرق کو درج ذیل مثال سے سمجھئے۔ طلاق دینے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ عورت جب حیض سے فارغ ہو تو اسے طہر کے شروع میں ہی بغیر مقاربت کے طلاق دے دی جائے اور پوری عدت گزر جانے دی جائے عدت کے بعد عورت بائن ہوجائے گی۔ اب فرض کیجئے ایک عورت ہندہ نامی کو ہر قمری مہینہ کے ابتدائی تین دن ماہواری آتی ہے۔ اس کے خاوند نے اسے حیض سے فراغت کے بعد 4 محرم کو طلاق دے دی۔ اب احناف کے نزدیک اس کی عدت تین حیض پورے یعنی 3 ربیع الثانی کی شام کو جب وہ حیض سے غسل کرے گی۔ اس کی عدت ختم ہوجائے گی۔ جبکہ شوافع اور موالک کے نزدیک تیسرا حیض شروع ہونے تک اس کے تین طہر پورے ہوچکے ہوں گے یعنی یکم ربیع الثانی کی صبح کو حیض شروع ہونے پر اس کی عدت ختم ہوجائے گی یعنی تین دن کا فرق پڑجائے گا۔ خ عدت کی اہمیت :۔ اس کے بعد اب ارشادربانی کی طرف آئیے۔ فرمایا : عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے لیے طلاق دو جس سے معلوم ہوا کہ عدت کا ٹھیک ٹھیک شمار نہایت اہم چیز ہے۔ لہذا اس کی طرف پوری پوری توجہ دیا کرو۔ اس کی اہمیت کی وجوہ درج ذیل ہیں : 1۔ عدت کا مقصد تحفظ نسب اور وراثت کے تنازعات کو ختم کرنا ہے۔ عدت کے اندر اندر یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ حاملہ ہے یا نہیں۔ اگر حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل تک ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ جس عورت کو صحبت سے پہلے ہی طلاق دے دی جائے اس پر کوئی عدت نہیں (33: 49) کیونکہ اس صورت میں نہ نسب کے اختلاط کا کوئی امکان ہے اور نہ وراثت کے تنازعہ کا۔ 2۔ عدت کے دوران مطلقہ عورت اپنے خاوند کی بیوی ہی رہتی ہے۔ اور اس دوران خاوند کے حقوق کی نگہداشت کو ملحوظ رکھا گیا ہے جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا : (فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا 49؀) 33 ۔ الأحزاب :49) یعنی خاوند کے ہاں عدت گزارنا مطلقہ عورت کی ذمہ داری ہے اور مرد کا یہ حق ہے کہ عورت اسی کے ہاں عدت گزارے اس دوران مرد اس سے صحبت کرنے کا پورا پورا حق رکھتا ہے۔ اور وہ عورت کی رضا مندی کے بغیر بھی اپنا یہ حق استعمال کرسکتا ہے۔ 3۔ عدت کے دوران کسی دوسرے کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اس عورت سے نکاح تو دور کی بات ہے منگنی کے لیے پیغام تک بھی دے سکے۔ اور اگر خاوند نے عورت کو اس حالت میں طلاق دی کہ وہ گھر پر موجود ہی نہ تھی یا اپنے میکے گئی ہوئی تھی یا اسے اس کے میکے پیغام بھیج دیا گیا تھا اور عورت عدت کے دوران نکاح کرلے تو وہ نکاح باطل ہوگا۔ 2 عدت کا عرصہ خاوند کے ہاں گزارنے کا حکم اور مصلحت۔ خاوند کے گھر کے علاوہ کسی دوسری جگہ عدت گزارنا غیر شرعی اور گناہ کا کام ہے :۔ ہمارے ہاں عموماً ایسا ہوتا ہے کہ میاں بیوی میں لڑائی ہوئی تو بیوی روٹھ کر میکے چلی گئی یا خود میاں نے اسے میکے روانہ کردیا۔ بعد میں کسی وقت بیک وقت تین طلاق لکھ کر بھیج دیں۔ یا خاوند بیوی کو طلاق دے کر گھر سے نکال دیتا ہے یا بیوی خود ہی اپنے میکے چلی جاتی ہے۔ ان سب صورتوں میں عورت کی عدت اس کے میکے میں ہی گزرتی ہے۔ یہ سب باتیں خلاف شرع اور گناہ کے کام ہیں۔ کیونکہ اللہ کا یہ حکم ہے کہ عورت عدت اپنے طلاق دینے والے خاوند کے ہاں گزارے گی۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے عدت کے دوران سکنیٰ اور نفقہ کی ذمہ داری مرد کے سر پر ڈال دی ہے۔ اور بیوہ کے اخراجات کی ذمہ داری میت کے لواحقین پر جو ترکہ کے وراث ہوں گے۔ اور اس حکم میں کئی مصلحتیں ہیں۔ سب سے بڑی مصلحت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ جس مرد اور عورت کے درمیان رشتہ ازدواج قائم ہوچکا ہے۔ اسے زوجین کو اپنی اپنی امکانی حد تک نبھانا ہی چاہئے۔ طلاق کی اجازت صرف ناگزیر حالات کی بنا پر دی گئی ہے۔ جبکہ حالات کنٹرول سے باہر ہوجائیں۔ چناچہ ارشاد نبوی ہے۔ ان ابغض الحلال الی اللہ الطلاق (ابوداؤد۔ کتاب الطلاق) یعنی طلاق جائز اور حلال تو ہے مگر یہ اللہ کے ہاں سخت ناگوار چیز ہے۔ اب عورت اگر اپنے خاوند کے گھر میں رہے گی تو ان کے ملاپ، صلح صفائی، رضا مندی اور رجوع کی کئی صورتیں پیش آسکتی ہیں۔ جو عدت باہر گزارنے کی حالت میں ناممکن ہوجاتی ہیں۔ 3 صریح برائی کے مختلف پہلو :۔ یعنی صریح برائی کی مرتکب ہوں تو انہیں گھر سے نکال دینے کی اجازت ہے۔ صریح برائی سے مراد زنا بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ قرآن میں زنا کے لئے یہ الفاظ متعدد مقامات پر استعمال ہوئے ہیں۔ اور نشوز بھی یعنی عورت کا ہر بات میں ضد اور کھینچا تانی کا رویہ اختیار کرنا اور مرد کی رائے کی بہرحال مخالفت پر آمادہ رہنا یا بدزبانی کرنا اور کرتے رہنا یعنی ایسے حالات پیدا کردینے سے مصالحت کے بجائے مزید بگاڑ اور تناؤ کی فضا بن جائے۔ اور یہ بدزبانی یا کھینچا تانی مرد سے بھی ہوسکتی ہے اور اس کے قریبی رشتہ داروں مثلاً اس کے والدین وغیرہ سے بھی اور اس سے چوتھی مراد بذات خود ایسی عورتوں کا گھر سے نکل جانا بھی ہے۔ یعنی عدت کے دوران عورتوں کے از خود مرد کے گھر سے نکل جانے کو ہی (فَاحِشَۃً مُّبَیِّنَۃً ) قرار دیا گیا ہے۔ ایسی صورت میں بھی انہیں واپس گھر لے جانے کی ضرورت نہیں۔ 4 اللہ کی حدوں کا صحیح مفہوم سمجھنے کے لیے پہلے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے : سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ نے اپنی بیوی (آمنہ بنت غفار) کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی۔ سیدنا عمر نے اس بات کا ذکر رسول اللہ سے کیا۔ آپ کو اس بات پر غصہ آگیا اور سیدنا عمر سے فرمایا کہ ابن عمر ؓ کو حکم دو کہ رجوع کرلے اور اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھے تاآنکہ وہ پاک ہو۔ پھر اسے حیض آئے۔ پھر وہ اس سے پاک ہو۔ پھر اگر طلاق ہی دینا چاہے تو دے دے لیکن طہر کی حالت میں دے اور اس دوران صحبت نہ کرے۔ یہ ہے وہ عدت جس کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ اور (طَلِّقُوْھُنَّ لِعِدَّتِھِنَّ ) سے یہی مراد ہے۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر) خ طلاق دینے کا صحیح اور مسنون طریقہ :۔ اس حدیث میں طلاق دینے کا اور عدت کو ٹھیک طور پر شمار کرنے کا طریقہ بتایا گیا ہے اور اس سے درج ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں : 1۔ حالت حیض میں طلاق دینا اتنا گناہ کا کام اور اللہ کی حد یا قانون کی خلاف ورزی ہے جس پر رسول اللہ کو غصہ آگیا۔ کیونکہ حیض کی حالت میں طلاق دینے سے تین قروء کا شمار درست طور پر نہیں سکتا خواہ قرء کو حیض کے معنی میں لیا جائے یا طہر کے معنی میں۔ طہر کے معنی میں لیا جائے تو طلاق کے بعد حیض کے بقایا ایام عدت سے زائد شمار ہوجاتے ہیں اور اگر حیض کے معنی میں لیا جائے تو سوال پیدا ہوگا کہ آیا اس حیض کو جس میں طلاق دی گئی ہے، شمار کیا جائے یا چھوڑ دیا جائے ؟ جو صورت بھی اختیار کی جائے وہ اللہ کے قانون کی خلاف ورزی ہی ہوگی۔ 2۔ آپ کے الفاظ اسے حکم دو کہ رجوع کرلے سے معلوم ہوا کہ اگرچہ حیض کی حالت میں طلاق دینا خلاف سنت اور گناہ کا کام ہے۔ تاہم قانونی لحاظ سے وہ ایک طلاق شمار ہوجائے گی ورنہ رجوع کرنے کا کچھ مطلب ہی نہیں نکلتا۔ اسی بات پر قیاس کرتے ہوئے فقہاء کہتے ہیں کہ اگرچہ ایک ہی مجلس میں تین طلاق دیناخلاف سنت اور حرام ہے تاہم تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔ قیاس کی حد تک تو ان کی یہ بات درست معلوم ہوتی ہے۔ مگر اس نص کی موجودگی میں کہ دور نبوی، دور صدیقی اور دور فاروقی کے ابتدائی دو سال تک ایک ہی مجلس میں دی ہوئی تین طلاقیں ایک ہی طلاق شمار ہوتی تھی۔ (مسلم۔ کتاب الطلاق۔ باب طلاق الثلاث) اس قیاس کی چنداں وقعت باقی نہیں رہتی۔ کیونکہ نص کی موجودگی میں قیاس کرنا ناجائز ہے۔ 4۔ طلاق طہر کی حالت میں دینا چاہیے جس میں صحبت نہ کی گئی ہو، اور بہتر صورت یہی ہے طہر کے ابتدا میں طلاق دی جائے۔ البتہ غیر مدخولہ عورت کو طہر اور حیض دونوں صورتوں میں طلاق دی جاسکتی ہے۔ کیونکہ اس سے نہ نسب کے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور نہ وراثت کے۔ اسی طرح بےحیض عورت یا حاملہ عورت کو مباشرت کے بعد بھی طلاق دی جاسکتی ہے۔ کیونکہ ان صورتوں میں عدت کا کوئی مقصد مجروح یا مشکوک نہیں ہوتا۔ 5۔ طلاق کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ جس طہر میں مرد طلاق دینا چاہے اس میں صحبت نہ کرے۔ پھر ایک ہی بار کی طلاق کو کافی سمجھے اور پوری عدت گزر جانے دے۔ اس طرح عورت پر طلاق بائن واقع ہوجائے گی اور اس کے دو فائدے ہیں۔ ایک یہ کہ عدت کے آخری وقت تک مرد کو رجوع کا حق باقی رہتا ہے اور دوسرا یہ کہ طلاق واقع ہوجانے کے بعد بھی اگر فریقین رضامند ہوں تو تجدید نکاح کی گنجائش باقی رہتی ہے۔ خ طلاق کی تین قسمیں :۔ احناف کے ہاں طلاق کی تین اقسام ہیں۔ (1) احسن، (2) حسن، (3) بدعی (ہدایہ اولین۔ کتاب الطلاق۔ باب طلاق السنۃ) احسن تو یہی صورت ہے جو مندرجہ بالا حدیث میں مذکور ہے۔ اسے طلاق السنۃ بھی کہتے ہیں اور صحابہ کرام ؓ اسی طریق کو پسند فرماتے تھے اور طلاق حسن یہ ہے کہ ہر طہر میں مقاربت کیے بغیر ایک طلاق دے۔ یعنی ایک طہر میں پہلی، دوسرے طہر میں دوسری، اور تیسرے طہر میں تیسری۔ اس صورت میں تیسری طلاق دیتے ہی مرد کا حق رجوع ختم ہوجاتا ہے۔ جبکہ عدت ابھی باقی ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں فریقین تجدید نکاح بھی نہیں کرسکتے۔ تاآنکہ عورت کسی دوسرے سے غیر مشروط نکاح کرے۔ پھر وہ نیا خاوند اپنی رضا مندی سے کسی وقت اسے طلاق دے دے یا مرجائے تو بعد میں عورت اپنے پہلے خاوند سے نکاح کرسکتی ہے۔ اس طریقہ طلاق کو عموماً شرعی طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن میری معلومات کی حد تک یہ طریقہ کسی مرفوع حدیث سے ثابت نہیں۔ اس کا ماخذ سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کی وہ رائے ہے جو مسند احمد ج 1 ص 265 پر حدیث رکانہ کے آخر میں بایں الفاظ مذکور ہے۔ فکان ابن عباس یری انما الطلاق عندکل طھر یعنی ابن عباس ؓ کی رائے یہ تھی کہ تین طلاقیں ایک ساتھ نہیں بلکہ ہر طہر میں الگ الگ ہونی چاہئیں۔ اور امام شافعی اس طرح کی طلاق کو بھی خلاف سنت کہتے ہیں۔ خ بدعی طلاق کی صورتیں :۔ اور بدعی طلاق یہ ہے کہ کوئی شخص (1) بیک وقت تین طلاق دے دے، (2) ایک طہر میں ہی الگ الگ موقعہ پر تین طلاقیں دے دے، (3) حالت حیض میں طلاق دے اور (4) ایسے طہر میں طلاق دے جس میں اس سے صحبت کی ہو۔ ان میں جو فعل بھی کرے گا، گنہگار ہوگا۔ واضح رہے کہ بدعی طریقہ طلاق کو سب فقہاء حرام سمجھتے ہیں۔ 5 غیر شرعی طلاق کے نقصانات :۔ یعنی جو شخص بھی ان قوانین کی پابندی نہیں کرے گا اس کا کچھ نہ کچھ نقصان اسے دنیا میں پہنچ کے رہے گا۔ صحیح طور پر سنت کے مطابق طلاق نہ دینے سے عدت کی گنتی میں اختلاف بھی پیدا ہوگا۔ اور مشکل بھی پھر نسب اور وراثت کے مسائل بھی اٹھ کھڑے ہوں گے، حق رجوع کی عدت یا اس کا کچھ حصہ ساقط ہوجائے گا اور تجدید نکاح کی بھی بغیر تحلیل کے کوئی صورت باقی نہ رہے گی۔ اس آیت سے بھی بعض علماء نے یہ دلیل لی ہے کہ بیک وقت تین طلاق دینے سے تین ہی واقع ہوجاتی ہیں۔ ورنہ اگر اسے ایک ہی رجعی طلاق شمار کیا جائے اور اس کا حق رجوع باقی رہنے دیا جائے تو اس کو کیا نقصان پہنچا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دلیل بھی بہرحال ایک قیاس ہے۔ اور نص کے مقابلہ میں قیاس کی کچھ حقیقت نہیں ہوتی۔ خ بیک وقت تین طلاق دینا گناہ کبیرہ اور حرام ہے :۔ رہی اس کے نقصان کی بات تو کیا یہ تھوڑا نقصان ہے کہ وہ ایک حرام کام اور گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوا ہے اور اس بات پر سب فقہاء کا اتفاق ہے اور یہ اتنا بڑا گناہ ہے کہ دور نبوی میں ایک شخص نے بیک وقت تین طلاقیں دیں تو آپ یہ سن کر غصہ سے اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ میری موجودگی میں کتاب اللہ سے اس طرح کا تلاعب اور مذاق ؟ یہاں تک کہ ایک شخص کھڑا ہو کر کہنے لگا : یارسول اللہ ! میں اسے قتل نہ کردوں (نسائی۔ کتاب الطلاق۔ باب الطلاق الثلاث المجموعۃ ومافیہ من التغلیظ) علاوہ ازیں یہ انداز فکر ہی درست نہیں کہ جسے کسی گناہ کبیرہ کے ارتکاب پر دنیا میں کوئی سزا نہ ملے یا اس کا کوئی نقصان نہ ہو وہ اپنے نفس پر کچھ ظلم نہیں کرتا۔ بلکہ اصل نقصان تو آخرت کا نقصان ہے۔
Ayah 65:2

فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّ اَشْهِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ وَ اَقِیْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ۬ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ Open ayah 65:2 in the Quran reader

پھر جب وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو پھر انہیں یا تو بھلے طریقے سے 7 (اپنے نکاح میں) روکے رکھو یا پھر بھلے طریقے سے انہیں چھوڑ دو اور اپنے میں سے دو صاحب عدل 8 گواہ بنا لو۔ اور (اے گواہو ! ) ! اللہ کے لئے شہادت ٹھیک ٹھیک 9 ادا کرو۔ یہی بات ہے جس کی اس شخص کو نصیحت 10 کی جاتی ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے۔ اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے (مشکلات سے) نکلنے کی کوئی راہ پیدا 11 کردے گا۔

6 نئی صورت سے مراد مصالحت، رضا مندی اور رجوع کی وہ راہیں ہیں جو طلاق کے بعد فریقین کو ہوش میں آنے اور طلاق کے نقصانات پر غور کرنے کے بعد درست نظر آنے لگتی ہیں۔ 7 دور جاہلیت میں طلاق کے سلسلہ میں عورتوں کی حالت زار :۔ یعنی تمہارے ہی گھر میں تمہاری مطلقہ بیوی کی عدت ختم ہونے کو آئے، تو تمہارے سامنے دو راستے ہیں ایک یہ کہ بہرحال تم انہیں چھوڑنا ہی چاہتے ہو ایسی صورت میں ان کے سب حقوق انہیں ادا کرو اور علاوہ ازیں ان سے فیاضانہ سلوک کرتے ہوئے کچھ مزید بھی اپنی استطاعت کے مطابق دے دو ۔ جاتے جاتے اس پر کوئی الزام تراشی نہ کرو نہ اسے کسی طرح کا دکھ پہنچاؤ۔ بلکہ اپنی زندگی کے ساتھی کو شکر رنجیوں کے باوجود بھلے مانسوں اور شریفوں کی طرح رخصت کرو۔ اور اگر تم انہیں اپنے گھر میں ہی آباد رکھنا چاہتے ہو تو رجوع کرلو۔ اور اس معاملہ میں تمہاری نیت بخیر اور اس عورت کو فی الواقع آباد رکھنے کی ہونی چاہئے۔ ایسا نہ ہو کہ اپنی بیوی کو مزید سزائیں دینے کی خاطر اس سے رجوع کرکے اپنے ہاں روکے رکھو۔ یہ حکم دے کر اللہ تعالیٰ نے عورتوں پر ان بےپناہ مظالم کا خاتمہ کردیا جو دور جاہلیت میں ان پر ڈھائے جاتے تھے۔ عورتوں کی اس دردناک کیفیت کو امام ترمذی نے یوں بیان فرمایا : سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک مرد جتنی بھی طلاقیں چاہتا اپنی بیویوں کو دیئے جاتا اور عدت کے اندر پھر رجوع کرلیتا۔ اگرچہ وہ مرد سو بار یا اس سے بھی زیادہ طلاقیں دیتا جائے۔ یہاں تک کہ ایک (انصاری) مرد نے اپنی بیوی سے کہا : اللہ کی قسم ! میں نہ تو تجھے طلاق دوں گا کہ تو مجھ سے جدا ہوسکے اور نہ ہی میں بساؤں گا۔ اس عورت نے پوچھا وہ کیسے ؟ کہنے لگا : میں تجھے طلاق دونگا اور جب تیری عدت گزرنے کے قریب ہوگی تو رجوع کرلوں گا یہ سن کر وہ عورت سیدہ عائشہ ؓ کے پاس گئی اور اپنا یہ دکھڑا سنایا۔ سیدہ عائشہ ؓ خاموش رہیں تاآنکہ رسول اللہ تشریف لائے۔ سیدہ عائشہ ؓ نے آپ کو یہ ماجرا سنایا تو آپ بھی خاموش رہے تاآنکہ قرآن (کی یہ آیت) نازل ہوئی۔ طلاق صرف دو بار ہے پھر یا تو ان عورتوں کو بھلے مانسوں کی طرح اپنے پاس رکھو یا پھر اچھی طرح سے رخصت کردو (ترمذی۔ ابو اب الطلاق واللعان۔ باب بلا عنوان) 8 رجوع وطلاق پر گواہ بنانے کا فائدہ :۔ یعنی اگر رجوع کرکے اسے اپنے پاس رکھ لیا ہے تو بھی دو معتبر گواہ بنا لے تاکہ بعد میں زوجین متہم نہ ہوں۔ اور اگر رخصت کرنا ہے تو بھی گواہ بنا لو۔ واضح رہے کہ یہ گواہی رجوع اور طلاق کے لیے شرط نہیں کہ اگر گواہ نہ بنائے جائیں تو رجوع اور طلاق غیر موثر ہوتے ہیں اور واقع نہیں ہوتے۔ بلکہ یہ حکم اس احتیاط کے لیے دیا گیا ہے کہ بعد میں کوئی فریق کسی واقعہ کا انکار نہ کردے اور نزاع پیدا ہونے کی صورت میں بآسانی فیصلہ ہوسکے اور شکوک و شبہات کا دروازہ بھی بند ہوجائے۔ 9 یعنی اگر رخصتی یا رجوع کے بعد فریقین میں کسی بات میں نزاع پیدا ہوجائے تو گواہ جانبداری سے ہرگز کام نہ لیں نہ گول مول بات کریں نہ ہیرا پھیری سے کام لیں بلکہ صاف اور سیدھی سچی گواہی دیں۔ 10 طلاق سے متعلق اخلاقی ہدایات :۔ یعنی یہ ہدایات تمہاری ہی خیرخواہی کے لئے ہیں اور بطور پندونصیحت ہیں۔ ان کی حیثیت قانونی نہیں ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص اپنی عورت کو حالت حیض میں یا اس طہر میں جس میں اس نے صحبت کی ہو طلاق دے دے گا تو اگرچہ اس نے خلاف سنت اور گناہ کا کام کیا تاہم طلاق واقع ہوجائے گی اسی طرح اگر اس نے ستانے کی خاطر ہی رجوع کیا ہو تو یہ بھی رجوع قانوناً تسلیم کیا جائے گا۔ یا عورت کو رخصت کرتے وقت حسن سلوک کے بجائے دھکے مار کر نکال دیا ہو تب بھی طلاق کے واقع ہونے میں کوئی شک نہ رہے گا۔ یہ ہدایات تو اس شخص کے لئے ہیں جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا اور اللہ سے ڈرتا ہو۔ وہ ان پر اس لئے عمل کرے گا کہ یہ اس کے ایمان کا تقاضا ہے۔ اور اس لئے بھی کہ ان احکام کی نافرمانی کرنے پر آخرت میں اس سے باز پرس بھی ہوگی اور گرفت بھی۔ 11 گھریلو مسائل اور بالخصوص میاں بیوی کے تعلقات بعض دفعہ ایسی پیچیدہ صورت اختیار کر جاتے ہیں کہ انسان انہیں جس قدر حل کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ اور زیادہ پیچیدہ ہوتے جاتے ہیں اور الجھتے ہی چلے جاتے ہیں۔ ایسے پریشان کن حالات میں انسان کا طرز عمل یہ ہونا چاہئے کہ جو کام بھی کرے اللہ سے ڈر کر کرے۔ اگر واضح احکام موجود ہیں تو ان پر عمل کرے اور اگر واضح احکام نہیں ملتے تو بھی اللہ کے ڈر کو ہی مشعل راہ بنائے اور اللہ کی منشا معلوم کرنے کی کوشش کرنے کے بعد اس پر عمل کرے اور انجام اللہ کے سپرد کر دے۔ آگے ان پیچیدہ حالات سے نکالنا اور ان سے نجات دینا اللہ کا کام ہے۔ وہ خود کوئی راہ اسے سمجھا دے گا یا نئی راہ پیدا کر دے گا۔
Ayah 65:3

وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ١ؕ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا Open ayah 65:3 in the Quran reader

اور اسے ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں اسے وہم و گمان 12 بھی نہ ہو اور جو شخص اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے اللہ اپنا کام پورا کرکے رہتا 13 ہے۔ بلاشبہ اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر 14 کر رکھا ہے۔

12 اس مقام پر رزق کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ انسان دوران عدت مطلقہ عورت پر خرچ کرنے اور اس کو بھلے طریقے سے رخصت کرنے میں بخل سے کام نہ لے بلکہ اس سے جتنا بہتر سلوک کرسکتا ہے، کرے۔ نیز بعض دفعہ صورت حال یہ ہوتی ہے کہ میاں بیوی کی آپس میں ٹھنی رہتی ہے۔ مگر عورت صاحب جائیداد ہوتی ہے یا اچھا کما سکتی ہے۔ تو خاوند اس کو چھوڑنے پر ہی آمادہ نہیں ہوتا۔ مگر اس سے اچھا سلوک کرنے میں بھی ناکام ثابت ہوتا ہے۔ لہذا وہ عورت کو اپنے ہاں لٹکائے رکھتا ہے۔ ایسی سب صورتوں میں اللہ سے ڈرتے ہوئے وہی کام کرنا چاہئے جو اللہ کا حکم ہو۔ تنگدستی سے نہیں ڈرنا چاہئے۔ کیونکہ اللہ کا وعدہ ہے کہ جو شخص اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اور اس سے ڈر کر اسی کے حکم کے مطابق چلے گا تو اس کی تنگدستی کو دور کرنا اللہ کے ذمہ ہے۔ وہ اس کو ایسی جگہ سے رزق پہنچانے کا انتظام فرما دے گا جو پہلے اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی۔ 13 اس لیے کہ ہر قسم کے ظاہری اور باطنی اسباب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ جبکہ انسان کی نظر صرف چند ظاہری اسباب تک محدود ہوتی ہے۔ لہذا وہ اللہ سے ڈرنے والے کے لیے پریشانیوں سے نجات کی راہ بھی پیدا کرسکتا ہے۔ اور تنگدستی کو دور کرنے کے لیے نئے اسباب بھی پیدا کرسکتا ہے۔ نیز یہ کہ اللہ کی قدرت اسباب کی پابند نہیں۔ بلکہ اسباب بھی اس کی مشیت کے تابع ہیں۔ وہ ظاہری اسباب سے ایسے نتائج حاصل کرنے کی قدرت رکھتا ہے جو انسانی عقل کے برعکس ہوں۔ جیسے اللہ کی مشیت نہ ہو تو مجرب دوائی بھی الٹا اثر دکھا دیتی ہے۔ یا ایک مضر دوائی سے بعض دفعہ انسان صحت یاب ہوجاتا ہے۔ 14 یعنی اگر کسی الجھنوں میں گرفتار شخص کو اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرنے پر نجات کی راہ نہیں مل سکی یا کسی شخص نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر اپنی مطلقہ بیوی سے فیاضانہ سلوک کیا مگر اس کی تنگدستی فوراً دور نہیں ہوئی تو اس سے اسے گھبرانا نہیں چاہیے کیونکہ اس کے ہاں ہر چیز کے لیے ایک اندازہ مقرر ہے اسی کے مطابق وہ ظہور پذیر ہوتی ہے۔
Ayahs 65:4–5

وَ الّٰٓئِیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ١ۙ وَّ الّٰٓئِیْ لَمْ یَحِضْنَ١ؕ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ یُسْرًا Open ayah 65:4 in the Quran reader

اور تمہاری عورتوں سے جو حیض سے مایوس ہوچکی ہوں، اگر تمہیں کچھ شبہ ہو تو ان کی عدت تین ماہ ہے اور ان کی بھی جنہیں 15 ابھی حیض شروع ہی نہ ہوا ہو۔ اور حمل والی عورتوں کی عدت 16 ان کے وضع حمل تک ہے۔ اور جو شخص اللہ سے ڈرے 17 تو اللہ اس کے لئے اس کے کام میں آسانی پیدا کردیتا ہے۔

ذٰلِكَ اَمْرُ اللّٰهِ اَنْزَلَهٗۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یُكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُعْظِمْ لَهٗۤ اَجْرًا Open ayah 65:5 in the Quran reader

یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہاری طرف نازل کیا ہے اور جو شخص اللہ سے ڈرے اللہ اس کی برائیاں دور کردیتا ہے اور اسے بڑا اجر دیتا ہے۔

15 نکاح نابالغاں :۔ یعنی جو عورتیں اتنی بوڑھی ہوچکی ہوں کہ انہیں حیض آنا بند ہوچکا ہو یا وہ نابالغ لڑکیاں جنہیں ابھی حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہو۔ اور بعض عورتیں ایسی بھی ہوتی ہیں کہ انہیں عمر کی نسبت سے بڑی دیر کے بعد حیض آتا ہے اور ایسا بھی ممکن ہے کہ کسی عورت کو عمر بھر حیض نہ آئے۔ ایسی سب عورتوں کی عدت تین ماہ ہے اور یہ اس دن سے شروع ہوجائے گا جس دن سے اسے طلاق دی گئی اور تین ماہ قمری شمار ہوں گے، شمسی نہیں۔ ضمناً اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ نابالغ بچیوں کی شادی بھی جائز ہے اور ان سے صحبت کرنا بھی جائز ہے۔ اسی طرح جن بڑی عورتوں کو بھی حیض نہ آیا ہو یا اتنی بوڑھی ہوچکی ہوں کہ ان کا حیض بند ہوچکا ہو ان سے بھی صحبت کرنا جائز ہے۔ اس آیت میں (ارْتَبْتُمْ ۝) 65 ۔ الطلاق :4) کے الفاظ بڑے ذومعنی ہیں۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اگر تمہیں ایسی عورتوں کی عدت معلوم کرنے میں تشویش ہو اور تم ان کی عدت معلوم کرنا چاہتے ہو تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان کی عدت تین ماہ ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ بےحیض عورت کے ہاں عموماً اولاد پیدا نہیں ہوتی۔ تاہم ایسی عورتوں کے ہاں اولاد کا پیدا ہوجانا اللہ کی قدرت سے کچھ بعید بھی نہیں۔ اور اس کی مثالیں بھی اس دنیا میں پائی جاتی ہیں اگرچہ ایسی مثالیں شاذ ہیں۔ تاہم ناممکن اور مفقود بھی نہیں۔ اسی لئے ایسی عورتوں کی عدت مقرر کردی گئی۔ 16 عورت مطلقہ ہو یا بیوہ ہو یعنی اس کا خاوند فوت ہوجائے اس کی عدت وضع حمل تک ہوگی۔ جیسا کہ اسی سورة کی پہلی آیت کے حاشیہ نمبر 1 میں اس کی وضاحت پیش کی جاچکی ہے۔ 17 اس سورت میں بار بار اللہ سے ڈرتے رہنے کی تاکید کی گئی ہے وجہ یہ ہے کہ ازدواجی زندگی کے مسائل بھی کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ جب تک انسان ہر وقت اللہ سے ڈرتا نہ رہے وہ اپنی بیوی کے معاملہ میں بےراہ رو ہوجاتا ہے اور اسی لیے کتاب و سنت میں اپنی بیویوں سے حسن سلوک کی بار بار تاکید آئی ہے۔
Ayah 65:6

اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ وَ لَا تُضَآرُّوْهُنَّ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْهِنَّ حَتّٰى یَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ۚ وَ اْتَمِرُوْا بَیْنَكُمْ بِمَعْرُوْفٍ١ۚ وَ اِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهٗۤ اُخْرٰىؕ Open ayah 65:6 in the Quran reader

مطلقہ عورتوں کو (ان کے زمانہ عدت میں) وہیں رکھو جہاں تم خود رہتے ہو 18 ، جیسی جگہ تمہیں میسر ہو، اور انہیں تنگ کرنے کے لئے ایذا 19 نہ دو ۔ اور اگر وہ حمل والی ہوں تو وضع حمل تک ان پر خرچ 20 کرتے رہو۔ پھر اگر وہ تمہارے لیے (نومولود) کو دودھ پلائیں تو انہیں ان کی اجرت دو ۔ اور باہمی مشورہ سے بھلے طریقے سے (اجرت کا معاملہ) طے کرلو۔ اور اگر تم نے (اجرت طے کرنے میں) ایک دوسرے 21 کو تنگ کیا تو کوئی دوسری عورت دودھ پلائے گی۔

18 عدت کے دوران رہائش اور نان ونقہ خاوند کے ذمہ ہے :۔ مطلقہ عورت کی عدت کے دوران اس کی رہائش اور اس کی خوراک و پوشاک کا سارا خرچ طلاق دینے والے مرد کے ذمہ ہے۔ اس قطعی اصل سے استثناء کی ایک مثال دور نبوی میں ملتی ہے۔ وہ قصہ یہ تھا کہ فاطمہ بنت قیس کے خاوند عمرو بن حفص نے جب اپنی بیوی کو تیسری طلاق دی تو اس وقت وہ خود شام کے علاقے میں تھے۔ فاطمہ بنت قیس آپ کے پاس آئی اور انہیں یہ معاملہ بتایا تو آپ نے اسے حکم دیا کہ وہ اپنی عدت ام شریک کے گھر میں گزارے، پھر فرمایا : یہ عورت (ام شریک) ایسی ہے جس کے ہاں میرے صحابہ اکثر آتے جاتے ہیں لہذا تم ابن ام مکتوم کے ہاں عدت گزارو۔ کیونکہ وہ اندھا آدمی ہے تو اس کے ہاں کپڑے تک اتار سکتی ہے اور ایک روایت میں ہے کہ تو اپنے چچا ابن ام مکتوم کے ہاں چلی جا۔ اور سیدہ عائشہ ؓ نے فرمایا کہ فاطمہ بنت قیس اللہ سے نہیں ڈرتی جو کہتی ہے کہ جس عورت پر طلاق بائن پڑے اس کے لئے نہ رہائش ہے اور نہ نفقہ (خوراک و پوشاک) (بخاری۔ کتاب الطلاق۔ باب قصۃ فاطمۃ بنت قیس) خ فاطمہ بنت قیس کا استثنائی قصہ :۔ فاطمہ بنت قیس کا قصہ تقریباً سب کتب احادیث میں مذکور ہے۔ لیکن ان کی عدت گزارنے اور نفقہ کا قصہ بالکل اضطراری نوعیت کا تھا۔ یہ ایک درشت مزاج اور زبان دراز خاتون تھیں جب طلاق مغلظہ واقع ہوئی اس وقت ان کا خاوند شام میں تھا۔ تیسری طلاق کے بعد چونکہ خاوند کا حق رجوع ختم ہوجاتا ہے اور وہ اس کی بیوی نہیں رہتی۔ لہذا یہ مسئلہ بذات خود مختلف فیہ ہے۔ کہ طلاق مغلظہ کے بعد سکنیٰ اور نفقہ واجب بھی ہے یا نہیں۔ تاہم جمہور علماء کی یہی رائے ہے کہ پوری عدت کے دوران سکنیٰ اور نان و نفقہ واجب ہے۔ فاطمہ بنت قیس کا گھر جنگل میں تھا جہاں آس پاس مکانات نہیں تھے لہذا وہاں مال اور ناموس دونوں باتوں کا خطرہ تھا علاوہ ازیں اس کے خاوند نے جو کچھ سَرَاحًا جَمِیْلاً کے طور پر بھیجا تھا اسے فاطمہ بنت قیس نے حقیر سمجھ کر ٹھکرا دیا تھا۔ یہ تھے وہ خصوصی حالات جن کی بنا پر رسول اللہ نے فاطمہ کے حق میں یہ فیصلہ دیا تھا اور یہ انہی کے لئے خاص تھا۔ اسی لئے سیدنا عمر سیدہ عائشہ ؓ اور دوسرے صحابہ فاطمہ کے اس قول کو کہ : طلاق بائن والی عورت کے لئے سکنیٰ اور نفقہ نہیں ہے کا انکار کرتے اور اس کے ذاتی واقعہ کو رسول اللہ کی خصوصی اجازت سمجھتے تھے جو کسی دوسرے کے لیے جائز نہیں۔ 19 یعنی واجبی خرچ نہ دے کر یا دوسرے طریقوں سے اس طرح تنگ نہ کر ڈالو کہ وہ از خود نکلنے اور تمہارا گھر چھوڑنے پر مجبور ہوجائیں اور تم یہ سمجھنے لگو کہ جب وہ خود ہی چلی گئی ہے تو تم پر اس کا کچھ الزام نہیں۔ 20 بیوہ کا نان ونفقہ واجب نہیں :۔ حاملہ خواہ مطلقہ ہو یا بیوہ اس کی عدت تا وضع حمل ہے۔ خواہ یہ چند دن بعد ہی وضع حمل ہو یا چھ سات ماہ تک لمبی ہوجائے۔ اس دوران اگر مطلقہ ہے تو اس کے سکنیٰ اور نفقہ کا ذمہ دار اس کا خاوند ہوگا۔ اور اگر بیوہ ہے تو اس کا سکنیٰ تو مرد کے لواحقین کے ذمہ ہوگا اور وہ عدت اپنے خاوند کے گھر میں گزارے گی۔ لیکن نفقہ کی حقدار نہ رہے گی کیونکہ اب وہ وراثت کی حقدار بن گئی ہے وہ اپنے حصہ میں سے اپنی ذات پر خرچ کرے گی۔ یہ نہیں ہوگا کہ پہلے خاوند کے مشترکہ ورثہ سے اس کا نفقہ بھی اسے دیا جائے اور پھر وراثت کا حصہ بھی۔ 21 طلاق کے بعد بچہ کو دودھ پلانے سے متعلقہ مسائل :۔ اس آیت اور اگلی آیت سے مندرجہ ذیل باتیں مستفاد ہوتی ہیں : 1۔ عورت اپنے دودھ کی خود مالک ہے اور وہ طلاق دینے والے خاوند سے بھی اسی طرح اجرت لے سکتی ہے جس طرح دوسروں سے۔ 2۔ قانونی طور پر بچہ باپ کا ہوتا ہے، ماں کا نہیں ہوگا۔ اگر بچہ ماں کا ہو تو اجرت لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ 3۔ اگر ماں بھی وہی اجرت مانگے جو دوسری عورتیں مانگتی ہیں تو ماں دودھ پلانے کی زیادہ حقدار ہے۔ 4۔ اگر ماں کسی بیماری یا کمزوری کی وجہ سے دودھ پلانے سے انکار کر دے یا اجرت اتنی زیادہ مانگے جو اس کے خاوند کی استطاعت یا معروف رواج سے زیادہ ہو تو باپ کسی دوسری عورت سے بھی دودھ پلوانے کی خدمت لے سکتا ہے۔ 5۔ طلاق کے بعد اگر فریقین میں شکررنجی باقی رہ گئی ہو تب بھی بچہ کی تربیت کے سلسلہ میں ماں اور باپ کو بچہ کی اور ایک دوسرے کی بھلائی ہی سوچنا چاہئے۔ باپ محض ماں کو ستانے، تنگ کرنے اور اس کی نظروں سے بچہ غائب رکھنے کی خاطر کسی دوسری عورت سے دودھ نہ پلائے یا ماں کو اس کا بہت کم معاوضہ دے یا سرے سے کچھ دینے پر آمادہ ہی نہ ہو۔ اور نہ ہی ماں اتنا خرچ طلب کرے یا ایسے حالات پیدا کردے کہ باپ کسی دوسری عورت سے دودھ پلانے پر مجبور ہوجائے۔ 6۔ ہمارے ہاں یہ دستور بن چکا ہے کہ مطلقہ عورت اور طلاق دینے والا مرد بعد میں تازیست نہ ایک دوسرے کے سامنے ہوں اور نہ کلام کریں اور اسے غیرت کا مسئلہ بنا لیا گیا ہے۔ بلکہ بسا اوقات مرد اور عورت کے خاندان میں بغض اور عداوت چل جاتی ہے۔ شرعاً ان باتوں کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں بالخصوص (وَاْتَمِرُوْا بَيْنَكُمْ بِمَعْرُوْفٍ ۝ۭ ) 65 ۔ الطلاق :6) کے الفاظ قابل توجہ ہیں۔ نیز جب سیدنا زید بن حارثہ نے سیدہ زینب کو طلاق دے دی تو اس کے بعد نبی نے سیدہ زینب کو اپنے لیے نکاح کا پیغام سیدنا زید کی زبانی ہی بھیجا تھا۔
Ayah 65:7

لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ١ؕ وَ مَنْ قُدِرَ عَلَیْهِ رِزْقُهٗ فَلْیُنْفِقْ مِمَّاۤ اٰتٰىهُ اللّٰهُ١ؕ لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىهَا١ؕ سَیَجْعَلُ اللّٰهُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا۠ Open ayah 65:7 in the Quran reader

خوشحال آدمی کو چاہیے کہ اپنی حیثیت کے مطابق نفقہ دے اور جسے رزق کم دیا گیا ہے وہ اسی کے مطابق خرچ دے گا جو اللہ نے اسے دیا ہے۔ اللہ کسی کو اسی کے مطابق تکلیف دیتا ہے جو اس نے اسے دیا ہے۔ اللہ جلد ہی تنگی کے بعد آسانی 22 کر دے گا۔

22 اس آیت میں دوبارہ اس سلسلہ میں فیاضی سے کام لینے کی ترغیب دی گئی ہے کہ ہر باپ اپنی مقدور کے مطابق ماں کو دودھ پلانے کی اجرت ادا کرے۔ خواہ وہ مالدار ہے یا تنگدست اور اگر تنگدست ہے تو بھی اپنی حیثیت کے مطابق خرچ دینے میں بخل سے کام نہ لے۔ اگر وہ بخل سے کام نہ لے گا تو اللہ اس کی تنگی کو دور فرما دے گا۔ اور اس کے لیے رزق کی راہیں کھول دے گا۔
Ayahs 65:8–9

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّهَا وَ رُسُلِهٖ فَحَاسَبْنٰهَا حِسَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ عَذَّبْنٰهَا عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 65:8 in the Quran reader

کتنی بستیاں ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار اور اس کے رسولوں کے حکم سے سرتابی کی تو ہم نے 23 ان کا بڑا سخت محاسبہ کیا اور انہیں بری طرح سزا دی۔

فَذَاقَتْ وَبَالَ اَمْرِهَا وَ كَانَ عَاقِبَةُ اَمْرِهَا خُسْرًا Open ayah 65:9 in the Quran reader

چناچہ انہوں نے اپنے کیے کا وبال چکھ لیا اور ان کے کام کا انجام خسارہ ہی تھا۔

23 عائلی زندگی سے متعلق احکام بیان کرنے اور ہر ہر مقام پر اللہ سے ڈرتے رہنے کی تاکید کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا جنہوں نے اللہ کے احکام کے مقابلہ میں اکڑ دکھائی اور سرتابی کی راہ اختیار کی تھی۔ ان کا سب سے بڑا جرم یہی تھا کہ وہ اللہ کے احکام کی کچھ پروا نہیں کرتے تھے۔ تو ہم نے انہیں ان کی کرتوتوں کی ٹھیک ٹھیک سزا دے ڈالی۔ ان کا سختی سے مواخذہ کیا اور کسی کو بھی معاف نہیں کیا اور انہیں ایسی آفت میں پھنسایا جس سے وہ نکل نہ سکے۔
Ayah 65:10

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ١ۛۖۚ۬ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۛ۫ؕ قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكُمْ ذِكْرًاۙ Open ayah 65:10 in the Quran reader

اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ پس تم اللہ سے ڈرتے رہو، اے عقل والو ! جو ایمان لا چکے ہو۔ بلاشبہ اللہ نے تمہاری طرف ذکر نازل 24 کیا ہے

24 ذکر کے مختلف مفہوم :۔ آیت نمبر 10 میں ذکر سے مراد قرآن کریم ہے اور یہ لفظ ان معنوں میں قرآن کریم میں متعدد بار استعمال ہوا۔ مثلاً ارشاد باری ہے : ( اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ ۝) 15 ۔ الحجر :9) یعنی ہم ہی نے یہ قرآن نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں واضح رہے کہ ذکر کا لغوی معنی یاددہانی اور نصیحت ہے۔ یعنی یہ قرآن انسان کو عہد الست کی بھی یاددہانی کراتا ہے۔ اور سابقہ رسولوں کی تعلیمات کی بھی۔ اور ذکر کو اگر اس کے وسیع معنوں میں لیا جائے تو اس سے مراد وہ تمام وحی ہے جو آپ پر نازل ہوئی۔ اور جو قرآن کی ہی تفسیر و تعبیر پیش کرتی ہے۔ یعنی اللہ نے صرف قرآن کے الفاظ کی حفاظت کی ذمہ داری نہیں لی بلکہ اس کی صحیح تفسیر و تعبیر کی حفاظت کی بھی ذمہ داری لے رکھی ہے۔ جس سے ہر باطل پرست کے نظریہ کو پرکھا جاسکتا ہے۔
Ayah 65:11

رَّسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ مُبَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ قَدْ اَحْسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزْقًا Open ayah 65:11 in the Quran reader

ایک ایسا رسول 25 جو تمہیں اللہ کی واضح آیات پڑھ کر سناتا ہے تاکہ ایمان لانے والوں، اور نیک عمل کرنے والوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف 26 لائے۔ اور جو شخص اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے اللہ اسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ یہ لوگ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ نے ایسے شخص کے لئے بہت اچھا رزق رکھا ہے۔

25 یعنی صرف قرآن ہی نازل نہیں کیا بلکہ ایک رسول یعنی محمد رسول اللہ کو بھی مبعوث فرمایا جو اس کی واضح آیات پڑھ کر بھی سناتا ہے پھر اس کے احکام و ارشادات پر عمل کرنے کا طریقہ بھی سکھاتا ہے۔ 26 شرعی عائلی قوانین کی خوبیاں :۔ تاریکیوں سے مراد جہالت کی تاریکیاں ہیں۔ اور یہ تاریکیاں ایک نہیں بلکہ لاتعداد ہوتی ہیں۔ انسان اپنے مسائل کے حل کے لیے جتنے بھی قوانین بناتا ہے وہ ناقص ہی ہوتے ہیں۔ کیونکہ اس کی محدود عقلی فکر معاشرہ کے جملہ پہلوؤں کا احاطہ کرنے سے قاصر ہوتی ہے۔ اسی لیے ان قوانین میں آئے دن ترمیم و تنسیخ کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں روشنی سے مراد علم وحی کی روشنی ہے۔ جو ایک ہی رہی ہے اور ناقابل ترمیم و تنسیخ اور انسان کی دست برد سے پاک ہوتی ہے۔ اس مقام پر اس ارشاد کی پوری اہمیت اس وقت سمجھ میں آتی ہے جب ہم قدیم و جدید دنیا کے عائلی قوانین پر غور کرتے ہیں اس تقابلی مطالعہ سے یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ بار بار کی تبدیلیوں اور نت نئی قانون سازیوں کے باوجود معاشرے کے لئے آج تک کسی قوم کو ایسا معقول فطری اور مفید قانون میسر نہیں آسکا ہے جیسا کہ اس کتاب اور اس کے لانے والے رسول نے ڈیڑھ ہزار سال پہلے ہم کو دیا تھا۔
Ayah 65:12

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ١ؕ یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ١ۙ۬ وَّ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَیْءٍ عِلْمًا۠ Open ayah 65:12 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور زمین کی قسم سے انہی کے مانند 27 ۔ ان کے درمیان حکم نازل ہوتا رہتا 28 ہے۔ تاکہ تم جان لو کہ اللہ یقینا ہر چیز پر قادر ہے، اور یہ کہ اللہ نے علم سے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے۔

27 سات زمینوں کے مختلف مفہوم :۔ اس جملہ کے کئی مفہوم ہوسکتے ہیں۔ لغوی مفہوم یہ ہے کہ سماء اور ارض دونوں اسمائے نسبیہ سے ہیں۔ سماء یعنی بلندی ہے اور ارض بمعنی پستی۔ اس لحاظ سے ہم ہر بلندی کے مقابلہ میں پستی کو ارض کہہ سکتے ہیں اور ہر پستی کے مقابلہ میں بلندی کو سماء کہہ سکتے ہیں۔ گویا ہماری زمین پہلے آسمان کے مقابلہ ارض ہے۔ اور پہلا آسمان دوسرے آسمان کے مقابلہ میں ارض ہے۔ علی ہذا القیاس چھٹا آسمان ساتویں آسمان کے مقابلہ میں ارض ہے۔ اس طرح سات آسمانوں کی طرح زمینیں بھی سات بن جاتی ہیں۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اس سے ہماری زمین کے ہی سات طبقات یا سات پرت مراد ہوں۔ جنہیں طبقات الارض کہا جاتا ہے۔ اور ان میں سے ہر طبقہ ارض ہے یا اپنے سے اوپر والے طبقہ کے مقابلہ میں ارض ہے اور اس مفہوم کی تائید اس حدیث سے بھی ہوجاتی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ : جو شخص کسی دوسرے کی تھوڑی سی بھی زمین ناحق لے لے تو وہ قیامت کے دن سات زمینوں تک دھنستا چلا جائے گا (بخاری۔ کتاب المظالم۔ باب اثم من ظلم شیأا من الارض) اور تیسرا مفہوم یہ ہے کہ یہ عین ممکن ہے کہ ہماری ہی زمین جیسی ہی چھ اور زمینیں اس کائنات میں موجود ہوں اور وہاں کسی جاندار مخلوق کی آبادی بھی ہو۔ انسان آج تک کائنات کی وسعت کا اندازہ نہیں کرسکا اور نہ آئندہ کبھی کرسکے گا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان جس قدر جدید اور طاقتور قسم کی دوربینیں ایجاد کر رہا ہے اور رصدگاہیں تیار کر رہا ہے۔ اسے کائنات کے نئے سے نئے گوشے نظر آنے لگے ہیں اور وہ یہ سمجھنے لگا کہ کائنات میں ہر آن وسعت پیدا ہوتی جارہی ہے جیسا کہ ارشاد باری ہے : ( وَالسَّمَاۗءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ 47؀) 51 ۔ الذاریات :47) یعنی ہم نے آسمان (یہاں آسمان سے مراد فضائے بسیط ہے) کو اپنے دست قدرت سے پیدا کیا اور ہم اس میں ہر آن توسیع کر رہے ہیں اور اس مفہوم کی تائید میں چند احادیث مل جاتی ہیں۔ اگرچہ وہ ضعیف قسم کی ہیں۔ 28 یعنی عالم کے انتظام و تدبیر کے لئے اللہ کے احکام تکوینیہ اور شرعیہ ان آسمانوں اور زمینوں میں نازل ہوتے رہتے ہیں۔