Ayah 66:11 آپ کا شہد نہ پینے پر قسم کھانا اور رازداری کی تلقین کرنا :۔ رسول اللہ کا روز مرہ کا معمول تھا کہ آپ نماز عصر کے بعد اپنے سب گھروں میں اپنی بیویوں کے ہاں چکر لگایا کرتے تھے۔ تاکہ گھریلو حالات سے پوری طرح باخبر رہیں اور خیروعافیت کی صورت معلوم ہوتی رہے۔ ایک دفعہ جب آپ سیدہ زینب بنت جحش ؓ کے ہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ کو شہد کا شربت پلایا۔ اس طرح آپ کو وہاں کچھ دیر لگ گئی۔ دوسرے دن بھی آپ کو سیدہ زینب بنت جحش ؓ نے شربت پلایا اور چونکہ آپ کو شہد اور اس کا شربت بہت پسند تھا۔ لہذا یہ بھی ایک طرح سے روزمرہ کا معمول بن گیا کہ سیدنا زینب ؓ کے ہاں آپ کو کچھ دیر لگ جاتی تھی۔ یہ بات دوسری بیویوں اور بالخصوص سیدہ عائشہ ؓ اور سیدہ حفصہ ؓ کو ناگوار گزری۔ کیونکہ آپ کی بیویوں میں سے ہر ایک یہی چاہتی تھی کہ وہی زیادہ تر آپ کی توجہات کا مرکز بنے۔ چناچہ سیدہ عائشہ ؓ اور سیدہ حفصہ ؓ نے آپ کی اس عادت یعنی سیدہ زینب ؓ کے ہاں شہد کا شربت پینے کی عادت کو چھڑانے کی یہ ترکیب سوچی۔ کہ آپ سے کہا جائے کہ آپ کے منہ سے تو مغافیر (ایک قسم کا گوند جس کی بو ناگوار ہوتی ہے) کی بو آتی ہے پھر جب ایک بیوی نے بھی یہی بات کہی اور دوسری نے بھی ایسی بات کہی تو آپ کو وہم ہونے لگا کہ شاید ایسی بدبو واقعی آرہی ہو اور آپ کو بدبودار چیزوں سے سخت نفرت بھی تھی۔ اور ان بیویوں کی دلجوئی بھی مقصود تھی۔ لہذا آپ نے قسم کھالی کہ میں آئندہ سیدہ زینب ؓ کے ہاں سے شہد نہیں پیا کروں گا۔ امام بخاری نے مختصراً اس واقعہ کو یوں روایت کیا ہے :
سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ : رسول اللہ سیدہ زینب بنت جحش ؓ کے ہاں ٹھہرے رہتے اور شہد پیا کرتے تھے۔ میں اور حفصہ ؓ نے آپس میں طے کیا کہ ہم سے جس کے پاس آپ تشریف لائیں، وہ یوں کہے : کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے۔ مجھے تو آپ سے مغافیر کی بو آرہی ہے (پھر ایسا ہی کیا) آپ نے فرمایا : نہیں ! بلکہ میں نے زینب بنت جحش ؓ کے ہاں سے شہد پیا ہے۔ اب میں قسم کھاتا ہوں کہ آئندہ کبھی شہد نہ پیوں گا۔ اور تم یہ بات کسی کو مت بتانا (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ تفسیر سورة تحریم)
خ حلال وحرام کا اختیار صرف اللہ کو ہے :۔ ضمناً اس آیت سے کئی اہم امور پر روشنی پڑتی ہے۔ مثلاً :
1۔ کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دینے کا اختیار صرف اللہ کو ہے۔ کسی نبی حتیٰ کہ رسول اللہ کو بھی یہ اختیار نہ تھا کہ اپنی مرضی سے کسی چیز کو حلال یا حرام یا کسی حلال چیز کو حرام یا کسی حرام چیز کو حلال قرار دے دیں۔
2۔ رسول کی حیثیت عام لوگوں سے علیحدہ ہوتی ہے :۔ کسی انسان کا کسی مصلحت کی خاطر کسی حلال چیز کو اپنے لئے حرام قرار دے لینا، یا اسے کچھ عرصہ کے لئے ترک کردینا یا اسے چھوڑنے کی قسم کھا لینا بذات خود کوئی بڑا جرم نہیں ہے۔ جیسے بعض لوگوں کو بڑا گوشت نقصان پہنچاتا ہے تو اسے کھانا چھوڑ دیں یا نہ کھانے کی قسم اٹھا لیں تو یہ جرم نہ ہوگا۔ مگر رسول اللہ کا معاملہ ذاتی نوعیت کا حامل نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کی اصل اور بنیادی حیثیت رسول کی ہوتی ہے جس کا ہر کام امت کے لیے نمونہ اور واجب الاتباع ہوتا ہے۔ لہذا آپ کے اس فعل پر اللہ کی طرف سے گرفت ہوئی کہ مبادا آپ کی امت بھی شہد کو حرام یا کم از کم مکروہ ہی نہ سمجھنے لگے۔ بالفاظ دیگر نبی کا جو کام اللہ کی رضا اور منشا کے مطابق نہ ہو، خواہ وہ ترک اولیٰ قسم کا ہی ہو، اس کی فوراً بذریعہ وحی جلی اصلاح کردی جاتی ہے۔
3۔ وحی خفی کی اقسام :۔ جس طرح سنت کی تین اقسام ہیں۔ قولی، وہ جو آپ کے قول سے معلوم ہو یا ثابت ہو، فعلی، وہ جو آپ کے فعل سے معلوم ہو یا ثابت ہو اور تحریری سنت وہ ہوتی ہے کہ کوئی فعل آپ کے سامنے واقع ہو اور آپ نے اس پر گرفت نہ فرمائی ہو یا سکوت اختیار فرمایا ہو اور ایسی سنت بھی قابل حجت ہوتی ہے۔ اسی طرح وحی خفی (قرآن کے علاوہ دوسری قسم کی وحی) کی بھی تین اقسام ہیں۔ قولی وحی وہ اقوال ہیں جو جبرئیل کے ذریعہ آپ پر نازل ہوئے جیسے ادعیہ مسنونہ اور تشہد وغیرہ۔ فعلی وحی وہ کام ہے جس کے کرنے کا طریق آپ کو جبرئیل نے سکھایا ہو مثلاً نماز ادا کرنے کا طریقہ اور تقریری وحی وہ ہے جبکہ آپ کے کسی اجتہاد، قول یا فعل پر اللہ نے از راہ صواب سکوت اختیار فرمایا ہو۔ اور آپ کی زندگی کے بہت سے اقوال و افعال ایسے ہی ہیں۔ اور اگر آپ کے کسی قول یا فعل میں کوئی بات اللہ کی منشا کے خلاف ہو تو اس پر فوراً تنبیہ کرکے اس کی اصلاح کردی جاتی ہے۔
عصمت انبیا کا مفہوم :۔ کسی بڑے سے بڑے برگزیدہ انسان حتی کہ انبیاء سے بھی غلطی کا صدور ممکن ہے فرق صرف یہ ہے کہ انبیا کی غلطی کی فوراً بذریعہ وحی اصلاح کردی جاتی ہے جس سے ان کی زندگی بالکل بےداغ (جسے ہم اصطلاحی زبان میں عصمت انبیاء کہتے ہیں) ایک قابل تقلید نمونہ اور امت کے لیے واجب الاتباع بن جاتی ہے اور یہ مقام انبیاء کے علاوہ کسی دوسرے کو حاصل نہیں ہوتا۔
Ayah 66:22 قسم کے کفارہ کا تفصیلی ذکر سورة مائدہ کی آیت نمبر 89 کے تحت گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ قسم کا کفارہ ادا کرکے اس عہد اور قسم کو توڑ دیں جو آپ نے ایک حلال چیز کو اپنے آپ پر حرام کرلینے سے متعلق کیا ہے۔
3 یعنی اللہ تمہارے تمام معاملات کا نگران اور محافظ ہے اس نے جو چیزیں حلال کی ہیں وہ بھی اپنے علم و حکمت کی بنا پر کی ہیں۔ اور جو حرام کی ہیں وہ بھی علم و حکمت کی بنا پر ہی حرام کی ہیں۔ تمہارا کام بس یہ ہے کہ تمہیں کسی حکم کی حکمت سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ اس کے احکام کی اطاعت کرتے جاؤ۔
Ayah 66:34 افشائے راز کی آپ کو بذریعہ وحی خبر ملنا : نبی نے سیدہ حفصہ ؓ سے بات کی کہ میں آئندہ زینب ؓ کے گھر سے کبھی شہد نہ پیوں گا اور ساتھ ہی یہ تاکید بھی کردی کہ آگے میری بات کسی کو نہ بتانا۔ آپ کا یہ کہنے کا مقصد یہ تھا کہ اگر میری بات سیدہ زینب ؓ تک پہنچ گئی تو ان کا دل رنجیدہ ہوگا۔ لیکن سیدہ حفصہ ؓ نے اس رازداری کے عہد کو پورا نہ کیا۔ انہوں نے یہ بات سیدہ زینب ؓ کو تو نہ بتائی البتہ سیدہ عائشہ ؓ کو بتادی اور راز کی بات جب ایک سے دوسرے تک چلی جائے تو آگے بھی پھیلتی جاتی ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی اپنے نبی کو اس راز کے فاش ہونے کی اطلاع دے دی۔5 سیدہ حفصہ ؓ سے آپ کا مکالمہ :۔ اس جملہ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ نے سیدہ حفصہ ؓ سے صرف یہی راز کی بات نہیں کہی تھی بلکہ اس کے علاوہ کوئی اور بات بھی کہی تھی۔ جب آپ کو وحی کے ذریعہ معلوم ہوگیا کہ یہ راز افشا ہوچکا ہے تو آپ نے سیدہ حفصہ ؓ سے ان باتوں میں سے ایک بات کے متعلق کہا کہ کیا یہ بات تم نے افشا کردی ہے ؟ اور دوسری بات کا ذکر نہ کیا۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ دوسری بات یہ تھی کہ میرے بعد عائشہ ؓ کا باپ خلیفہ ہوگا اور اس کے بعد تیرا باپ اور یہ بات آپ راز میں رکھنا چاہتے تھے تاکہ بلاضرورت چرچا نہ ہو اور کچھ لوگ برا نہ مانیں۔ واللہ اعلم بالصواب
چونکہ سیدہ حفصہ ؓ نے اس افشائے راز میں بھی راز داری سے کام لیا تھا، اس لیے حیران ہو کر پوچھنے لگیں کہ آپ کو کیسے پتہ چل گیا ؟ آپ کو کس نے بتایا ؟ آپ نے جواب میں فرمایا : مجھے اسی ذات نے خبر دی ہے، جو تمام باتوں کو جانتا ہے اور ہر بات سے پوری طرح باخبر ہے۔
Ayah 66:46 سیدہ عائشہ ؓ اور حفصہ ؓ کی خطا۔ 1۔ نبی کے لیے حلال و حرام بنانے پر ایکا 2۔ افشائے راز :۔ سیدنا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر ؓ سے پوچھا : امیرالمومنین ! یہ دو عورتیں کون کون تھیں، جنہوں نے رسول اللہ کو ستانے کے لیے ایکا کیا تھا ؟ ابھی میں نے بات پوری بھی نہیں کی تھی کہ انہوں نے کہہ دیا : وہ عائشہ ؓ اور حفصہ ؓ تھیں (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ تفسیر سورة تحریم) ان پر اللہ کی طرف سے جو گرفت ہوئی اور کہا گیا کہ تم راہ راست سے ہٹ چکی ہو تو اس کی وجوہ دو تھیں کہ انہوں نے آپس میں باہمی رقابت کی بنا پر رسول اللہ کو ایک ایسی بات پر مجبور کردیا جو ان کے شایان شان نہ تھی اور اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب بھی نازل ہوا اور اس کا سبب یہی دونوں بنی تھیں اور دوسری یہ کہ انہوں نے نبی کی راز کی بات کو افشا کرکے غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے۔ کیونکہ وہ کسی عام آدمی کی بیویاں نہ تھیں بلکہ اس ہستی کی بیویاں تھیں جسے اللہ تعالیٰ نے انتہائی اہم ذمہ داری کے منصب پر مامور فرمایا تھا اور جسے ہر وقت کفار و مشرکین اور منافقین کے ساتھ ایک مسلسل جہاد سے سابقہ درپیش تھا۔ آپ کے ہاں بیشمار ایسی راز کی باتیں ممکن تھیں کہ اگر وقت سے پہلے افشا ہوجاتیں تو اس کار عظیم کے مقصد کو شدید نقصان پہنچ سکتا تھا جو آپ کے ذمہ ڈالا گیا تھا۔ اور اس غلطی پر انہیں ٹوکا اس لیے گیا تھا کہ ازواج مطہرات، بلکہ معاشرہ کے تمام ذمہ دار افراد کی بیویوں کو رازوں کی حفاظت کی تربیت دی جائے۔
Ayah 66:57 سیدہ عائشہ ؓ اور حفصہ ؓ پر عتاب :۔ ان دونوں ازواج مطہرات کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ اگر توبہ کرلو تو یہی تمہارے حق میں بہتر ہے اور نبی کو ستانا چھوڑ دو ۔ زوجین کے خانگی معاملات بعض دفعہ ابتدائ ً بالکل معمولی سے معلوم ہوتے ہیں لیکن اگر ذرا باگ ڈھیلی چھوڑ دی جائے تو نہایت خطرناک اور تباہ کن صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ خصوصاً عورت اگر کسی اونچے گھرانے سے تعلق رکھتی ہو تو اس کو طبعاً اپنے باپ، بھائی اور خاندان پر ناز ہوتا ہے۔ سیدنا عمر ؓ عورت کی اس فطرت کو خوب سمجھتے تھے۔ چناچہ انہی دنوں سیدنا عمر ؓ اپنی بیٹی حفصہ ؓ کے پاس گئے اور کہنے لگے : بیٹی ! کیا بات ہے تو رسول اللہ سے سوال و جواب کرتی رہتی ہے حتیٰ کہ وہ سارا دن غصہ میں رہتے ہیں۔ سیدہ حفصہ ؓ نے کہا : واللہ ! ہم تو سوال و جواب کرتی رہتی ہیں۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا : خوب سمجھ لے اور میں تجھے اللہ کی سزا اور اس کے رسول کے غصے سے ڈراتا ہوں۔ بیٹی ! تو اس عورت کی وجہ سے دھوکا مت کھانا جو اپنے حسن و جمال اور رسول اللہ کی محبت پر نازاں ہے اور اس سے ان کی مراد سیدہ عائشہ ؓ تھی۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ تفسیر سورة تحریم) اسی لئے ان دونوں کو اللہ تعالیٰ نے متنبہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر ایکا کرکے اسی طرح کی کارروائیاں اور مظاہرے کرتی رہیں تو اس سے اللہ کے رسول کا کچھ بھی نہیں بگڑے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ خود، اس کے فرشتے جبرئیل اور نیک بخت ایماندار سب درجہ بدرجہ اس کے مددگار ہیں اور ان کے سامنے تمہاری کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوسکتی۔
8 آپ کی ازواج کا خرچ کے سلسلہ میں آپ کو پریشان کرنا :۔ پہلے دو بیویوں (سیدہ عائشہ ؓ اور سیدہ حفصہ ؓ کی بات چل رہی تھی، اس آیت میں سب بیویوں کو خطاب کرکے ان پر عتاب کیا جارہا ہے۔ ایک حلال چیز کو حرام قراردینے کے معاملہ میں تو واقعی صرف سیدہ عائشہ ؓ اور سیدہ حفصہ ؓ کا تعلق تھا۔ لیکن ایک اور معاملہ بھی تھا۔ جس کا سب بیویوں سے تعلق تھا۔ وہ یہ تھا کہ فتوحات خیبر اور اموال غنائم سے مسلمانوں کی معاشی حالت آسودہ ہوگئی۔ تو آپ کی سب ازواج مطہرات نے آپ سے گھر کا خرچ زیادہ لینے کا مطالبہ کردیا۔ اور اگر وہ آپ کی بیویاں نہ ہوتیں بلکہ عام عورتیں ہوتیں تو ایسے مطالبہ میں ان کا کچھ قصور بھی نہ تھا اور اگر آپ چاہتے تو انہیں اموال غنائم سے اپنے گھروں میں زیادہ دے بھی سکتے تھے اور اللہ نے آپ کو ایسا اختیار دے بھی رکھا تھا۔ مگر چونکہ آپ کو طبعاً فقر پسند تھا۔ لہذا بیویوں کا
یہ مطالبہ آپ پر گراں گزرا۔ پھر بیویوں نے بھی اس بات کو صرف مطالبہ کی حد تک نہ رکھا بلکہ ایکا کرکے آپ سے بحث اور جھگڑا بھی کیا کرتی تھیں۔ اور بسا اوقات ایسی باہمی شکر رنجی میں پورا پورا دن گزر جاتا تھا۔ اسی کیفیت کا حال معلوم ہونے پر سیدنا عمر ؓ اپنی بیٹی کے ہاں گئے۔ اور انہیں سمجھایا اور کہا دیکھو تم اللہ کے رسول سے جھگڑنا چھوڑ دو ۔ اور سیدہ عائشہ ؓ پر اپنے آپ کو گمان کرکے اس کی ریس نہ کرو اور نہ اس معاملہ میں دوسروں کا ساتھ دو ۔ اور اگر کوئی چیز خرچہ وغیرہ مطلوب ہو تو اس کا مطالبہ مجھ سے کرلو۔ پھر سیدنا عمر ؓ سیدہ ام سلمہ ؓ کے ہاں گئے اور انہیں بھی یہی بات سمجھائی کیونکہ وہ بھی سیدنا عمر ؓ کی رشتہ دار تھیں تو انہوں نے سیدنا عمر ؓ کو ٹکا سا جواب دیا اور کہنے لگیں تم کون ہوتے ہو ہمارے معاملات میں دخل دینے والے ؟ پھر جب عمر ؓ نے یہی بات رسول اللہ کو بتائی تو آپ مسکرا دیئے۔ انہیں ایام میں سیدنا عمر ؓ نے حالات کا جائزہ لے کر اس خیال کا اظہار کیا تھا جو درج ذیل حدیث میں مذکور ہے۔ اور یہی اس آیت کا شان نزول ہے :
سیدنا عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ کی بیویاں اکٹھی مل کر آپ سے لڑنے جھگڑنے لگیں تو میں نے انہیں کہا : کچھ بعید نہیں کہ پیغمبر تم سب کو طلاق دے دے اور اس کا رب تم سے بہتر بیویاں بدل دے اس وقت (جیسا میں نے کہا تھا ویسے ہی) یہ آیت نازل ہوئی۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر)
لیکن اس کے باوجود بھی جب ازواج مطہرات اپنے مطالبہ سے دستبردار نہ ہوئیں تو یہ رسول اللہ پر اس قدر شاق گزرا کہ آپ ایک ماہ کے لیے اپنی سب بیویوں سے الگ ہوگئے اور ایک بالا خانے میں جاکر مقیم ہوگئے۔ یہی واقعہ، واقعہ ایلاء کہلاتا ہے۔ جو سورة احزاب کی آیت نمبر 28 اور 29 کے حواشی میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔
9 قَانِتَاتٌ۔ قنوت ایسی اطاعت کو کہتے ہیں جو پورے خشوع و خضوع یکسر توجہ اور دل کی رضا مندی سے بجا لائی جائے۔ اور یہ اطاعت اللہ کی بھی ہوسکتی ہے۔ اس کے رسول کی بھی (33: 31) اور عورتوں کے لیے اپنے خاوندوں کی بھی (4: 34) اور اس آیت میں تینوں کی ہی اطاعت مراد ہے۔
10 سائح اور صائم میں فرق :۔ سَائِحَاتٌ۔ ساح الماء بمعنی پانی کا آوارہ پھرنا اور ساحۃ بمعنی فراخ جگہ اور ساحۃ الدار بمعنی گھر کا آنگن اور ساح بمعنی سیروسیاحت کرنا یا کرتے پھرنا خواہ اس کا مقصد تفریح ہو یا کوئی اور ہو اور ان معنوں میں بھی قرآن میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ (9: 2) اس لحاظ سے سائح کے معنی محض سیروسفر کرنے والا ہے۔ لیکن بعد میں یہ لفظ ایسے درویشوں کے لئے استعمال ہونے لگا جو چلتے پھرتے تھے۔ روزہ بھی رکھتے تھے اور جملہ حکمی پابندیوں کو بھی ملحوظ رکھتے تھے پھر یہ الفاظ ایسے روزہ داروں کے لیے بھی استعمال ہونے لگا جو کھانے پینے کی بندش کے علاوہ اپنے جوارح یعنی آنکھ، کان اور زبان وغیرہ کو معاصی سے بچائے رکھنے کی کوشش کرتے تھے اور صاحب منجد کے نزدیک ایسے روزہ دار کو کہتے ہیں جو زیادہ تر مسجد میں رہے۔ جبکہ صائم ہر روزہ دار کو کہہ سکتے ہیں۔
11 یعنی ازواج مطہرات کو مخاطب کرکے کہا جارہا ہے کہ کہیں اس زعم میں مبتلا نہ ہوجانا کہ آخر مرد کو بیویوں کی ضرورت تو ہوتی ہی ہے اور ہم سے بہتر عورتیں کہاں ہیں اس لیے ہم اگر دباؤ ڈالیں گی تو سب باتیں منظور کرلی جائیں گی۔ یادرکھو کہ اگر اللہ چاہے تو تم سے بہتر بیویاں اپنے نبی کو مہیا کر دے اور تمہیں رخصت کردیا جائے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ازواج مطہرات میں مذکورہ صفات موجود نہ تھیں۔ بلکہ یہ ہے کہ نبی کی بیویوں میں یہ صفات بدرجہ اتم ہونا چاہئیں اور ازواج مطہرات کا یہ مطالبہ صفت قانتات میں تقصیر ہونے کی وجہ سے تھا۔
Ayah 66:612 یعنی مسلمانوں کو محض اپنی ذات کی اصلاح پر ہی اکتفا نہ کرلینا چاہیے بلکہ اہل و عیال پر بھی اتنی ہی توجہ دینا چاہیے اور اپنے ساتھ اپنے گھر والوں کو بھی دین کی راہ پر چلانا چاہیے اور اس کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کرنا چاہئے۔ ڈرا کر سمجھا کر، پیار سے، دھمکی سے، مار سے جس طرح بھی بن پڑے۔ انہیں اس راہ پر لانے کی کوشش کرے۔ اس کی بہترین تفسیر وہ حدیث ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص راعی (نگہبان) ہے اور اس سے اس کی رعیت کے متعلق باز پرس ہوگی (کہ اس نے ان کی اصلاح کیوں نہ کی تھی) امام بھی راعی ہے، اسے اپنی رعیت کے متعلق پوچھا جائے گا۔ مرد اپنے گھر والوں کا راعی ہے، اسے اپنی رعیت سے متعلق پوچھا جائے گا، عورت اپنے خاوند کے گھر کی راعی ہے، اسے اس کے متعلق پوچھا جائے گا (بخاری۔ کتاب الوصایا۔ باب قولہ تعالیٰ من بعد وصیۃ۔۔ ) اس لحاظ سے ہر مسلمان پر یہ ذمہ داری ڈال دی گئی ہے کہ وہ اپنے ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی اصلاح کرے ورنہ اس سے باز پرس ہوگی۔
13 پتھر سے مراد وہ پتھروں کے بت بھی ہیں جن کی مشرک دنیا میں پوجا کرتے رہے ہیں۔ تاکہ مشرکوں کی حسرت و یاس میں مزید اضافہ ہو اور پتھری کوئلہ بھی جس میں آگ کی حرارت کی شدت عام کوئلہ سے بدرجہا زیادہ ہوتی ہے اور گندھک اور گندھک ملے دوسرے تمام جمادات اور پتھروں کی قسم کے شعلہ گیر مادے بھی۔ جو آگ کی حرارت میں شدت پیدا کردیتے ہیں۔
14 جہنم پر مقرر کردہ فرشتوں کی تین صفات مذکور ہوئیں ایک یہ کہ وہ سخت دل ہیں، انہیں کسی پر رحم نہیں آئے گا۔ دوسرے سخت گیر ہیں، جو عذاب دیں گے، پوری سختی اور قوت کے ساتھ دیں گے۔ تیسرے وہ دوزخیوں کی چیخ و پکار اور التجاؤں کا کوئی اثر قبول نہ کریں گے، بلکہ وہی کچھ کریں گے جو اللہ کی طرف سے انہیں حکم ملا ہوگا۔
Ayah 66:715 یعنی آج نہ تمہاری بہانہ سازی کام آئے گی اور نہ کسی قسم کی معذرت قبول کی جائے گی۔ اس لئے کہ اللہ تو تمہارے دلوں کے خیالات تک سے واقف ہے۔ لہذا آج تمہارے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ جو کچھ تم کرتے رہے آج اس کی سزا بھگتو۔
Ayah 66:816 توبہ کی شرائط :۔ نَصُوْحًا۔ نصح بمعنی کسی کی خیر خواہی کرنا خواہ یہ قول سے ہو یا فعل سے اور نَصُوْحًاسے مراد ایسی سچی توبہ ہے جس سے اپنے نفس کی خیرخواہی مطلوب ہو۔ اور ایسی توبہ کی چند شرائط ہیں۔ ایک یہ کہ اپنے کیے پر نادم ہو۔ دوسرے یہ کہ اللہ کے حضور مغفرت طلب کرے اور آئندہ وہ کام نہ کرنے کا عہد کرے۔ تیسرے یہ کہ یہ عہد محض زبانی یا ریا کاری کی بنا پر نہ ہو بلکہ آئندہ اس عہد کو حتی الامکان نباہنے کی کوشش کرے اور چوتھے یہ کہ اگر اس نے اس گناہ کے کام میں کسی شخص کا حق تلف کیا ہے تو اسے اس کی ادائیگی کرے یا اس سے معاف کرالے۔ اگر وہ حق مال سے تعلق رکھتا ہے تو اصل مظلوم مرچکا ہے تو اس کے وارثوں کو ادا کردے یا صدقہ کر دے۔ اور اگر وہ حق تلفی قول سے تعلق رکھتی ہے جیسے غیبت یا چغلی وغیرہ تو اس کے حق میں دعائے مغفرت کرتا رہے۔ وغیرذلک۔
17 رسوائی سے مراد عذاب جہنم سے بچا لینا ہے۔ کیونکہ اس دن یہی سب سے بڑی رسوائی ہوگی۔ اس کے بجائے اللہ ایسے لوگوں کو فضل و شرف کے بلند مقامات پر سرفراز فرمائے گا۔
18 اس نور کی تفصیل پہلے سورة حدید کی آیت نمبر 13 کے تحت گزر چکی ہے۔
19 قیامت کے دن منافقوں کی مومنوں سے التجا کہ ہمیں ساتھ لے چلو :۔ یہ نور اہل ایمان کو اس وقت عطا کیا جائے گا جب میدان محشر میں لوگوں کے اعمال کا فیصلہ ہوچکا ہوگا اور انہیں جنت میں داخلہ کا ٹکٹ یا پروانہ مل چکا ہوگا۔ میدان محشر سے جنت کی راہ میں سخت تاریکی ہوگی، پھر پل صراط کو بھی عبور کرنا ہوگا۔ اہل ایمان اپنے اس عطا کردہ نور کی روشنی میں آگے بڑھتے جائیں گے۔ منافق بھی اس کے ساتھ چل پڑیں گے لیکن ان کا اپنا نور تو ہوگا نہیں یا اگر تھوڑا بہت ہوگا بھی تو بہت جلد بجھ جائے گا۔ انہیں دیکھ کر اہل ایمان کو یہ اندیشہ لاحق ہوگا کہ کہیں ان کا نور بھی راہ میں ہی نہ بجھ جائے۔ لہذا وہ اللہ سے دعا کریں گے کہ اے پروردگار ! جنت میں پہنچنے تک ہمارا یہ نور برقرار اور بحال رکھنا۔ اور ہم سے جو گناہ یا تقصیرات سرزد ہوئی ہیں وہ معاف فرما دے۔
Ayah 66:920 اس آیت کے پورے پورے الفاظ سورة توبہ کی آیت نمبر 73، جیسے ہی ہیں۔ لہذا اس کی تشریح سورة توبہ کے حاشیہ نمبر 88 کے تحت ملاحظہ کی جائے۔
Ayah 66:1021 یہ خیانت نہ مال کی خیانت تھی اور نہ عصمت کی کیونکہ حدیث میں یہ صراحت موجود ہے کہ کسی نبی کی کوئی بیوی کبھی بدکاری کی مرتکب نہیں ہوئی۔ بلکہ یہ ایمان اور اس کے تقاضوں کی خیانت تھی۔ نبیوں کی راہ اور تھی اور ان بیویوں کی راہ دوسری تھی۔ سیدنا نوح کی بیوی بھی کافر تھی اور اپنے خاوند یعنی سیدنا نوح کو دیوانہ سمجھتی اور کہتی تھی۔ سیدنا لوط کی بیوی کی بھی ساری ہمدردیاں اپنے خاوند کے بجائے کافروں کے ساتھ تھیں۔ کیونکہ وہ انہی کی قوم سے تھی۔ جب کوئی مہمان گھر میں آتا تو وہ اپنے ہمسایوں کو مخبری کردیتی تھی۔
22 یعنی نہ تو ان عورتوں کو پیغمبروں کی بیوی ہونا یا پیغمبروں کی صحبت میں رہنا کچھ فائدہ دے سکا۔ اور نہ ہی پیغمبر انہیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔ سیدنا نوح کی بیوی بھی غرق ہونے والوں کے ساتھ ڈوب کر مرگئی اور سیدنا لوط کی بیوی بھی قوم کے ساتھ عذاب میں مبتلا ہوئی۔ یہ تو ان کا دنیا میں انجام ہوا۔ آخرت میں بھی یہ پیغمبر اپنی بیویوں کو اللہ کے عذاب سے بچا نہیں سکیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر اللہ اور اس کے رسول پر صحیح ایمان نہ ہو تو قریبی سے قریبی رشتے بھی نہ دنیا میں کام آسکتے ہیں اور نہ آخرت میں۔ نبوت زادگی یا سید زادگی کوئی ایسا شرف نہیں جس پر تکیہ یا ناز کیا جاسکے۔ اور یہ مرض اہل کتاب میں عام تھا اور مسلمانوں میں بھی موجود ہے۔
Ayah 66:1123 سیدہ مریم اور سیدہ آسیہ زوجہ فرعون کی فضیلت :۔ یہ فرعون کی وہی بیوی آسیہ تھی جس نے فرعون کو کہا تھا کہ دیکھو یہ (سیدنا موسیٰ ) کتنا پیارا بچہ ہے۔ کیوں نہ ہم اس کی تربیت کریں اور اسے اپنا بچہ بنالیں۔ پھر اس کی تربیت بھی کی تھی۔ وہ سیدنا موسیٰ پر ایمان لاچکی تھی۔ جب فرعون پر اس کے ایمان کا حال کھلا تو اسے طرح طرح کی ایذائیں پہنچانے لگا۔ پھر جب آسیہ اپنے ایمان پر قائم رہی تو اس نے اپنی عافیت اسی میں سمجھی کہ اسے مروا ڈالے۔ اس وقت اس نے پروردگار سے دعا کی کہ مجھے اب ان ظالموں سے نجات عطا فرما۔ اور مجھے اپنے ہاں بلا لے اور جنت میں میرے رہنے کو ایک گھر بنادے۔ اس کی یہ دعا قبول ہوگئی اور موت آنے سے پہلے ہی سکرات موت میں اللہ نے اسے جنت میں اس کا محل دکھا دیا۔ اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ : مردوں میں تو بہت سے لوگ کامل گزرے ہیں مگر عورتوں میں مریم بنت عمران اور آسیہ فرعون کی بیوی کے سوا کوئی کامل نہیں ہوئی۔ اور عائشہ ؓ کی فضیلت دوسری عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت دوسرے کھانوں پر (بخاری۔ کتاب المناقب۔ باب فضل عائشۃ ؓ
Ayah 66:1224 یعنی ان کا کوئی شوہر بھی نہیں تھا۔ گویا سیدہ مریم نے حلال اور حرام دونوں صورتوں سے اپنی عصمت کو محفوظ رکھا اور پاکدامن رہیں۔
25 یعنی فرشتہ کے ذریعہ ایک روح پھونک دی۔ سیدنا جبرئیل نے آپ کے گریبان میں پھونک ماری جس کا نتیجہ استقرار حمل ہوا۔ اسی حمل سے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔ سورة مریم کے دوسرے رکوع میں یہ قصہ بڑی تفصیل سے گزر چکا ہے۔
26 اس سے مراد وہ کلمات ہیں، جو فرشتوں نے سیدہ مریم سے کہے تھے۔ فرشتوں اور سیدہ مریم میں ہم کلامی کی یہ تفصیل پہلے سورة آل عمران کے پانچویں رکوع میں گزر چکی ہے۔ گویا اللہ نے انہیں جس کڑی آزمائش میں ڈالنے کا فیصلہ کرلیا تھا اس کے آگے انہوں نے سرتسلیم خم کردیا۔ اور اسی وجہ سے انہیں یہ عظیم مرتبہ ملا تھا۔ اور اللہ کی کتابوں سے مراد تورات بھی ہوسکتی ہے اور انجیل بھی اور سابقہ صحیفے بھی۔ گویا سیدہ مریم نے ان سب کتابوں کی تصدیق کی تھی۔
27 اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ سیدہ مریم اللہ کی اطاعت و عبادت پورے خشوع و خضوع، کامل توجہ اور دل کی رضامندی کے ساتھ بجا لاتی تھیں اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان کا سارا خاندان ہی ایسا تھا جس سے وہ تعلق رکھتی تھیں۔