Ayah 67:12 تبارک کا لغوی مفہوم :۔ تَبَارَکَ برکت کے معنی کسی چیز میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر کا ثابت ہونا ہے (مفردات) یعنی جو کام کیا جائے اس میں متوقع زیادہ سے زیادہ فائدہ ہونے کا نام برکت ہے۔ بشرطیکہ یہ کام خیر کا پہلو رکھتا ہو اور جس چیز میں یہ خیر کا پہلو بارآور ثابت ہو وہ مبارک ہے۔ اور تبرک کا لفظ اللہ تعالیٰ سے مختص ہے اور صرف ان خیر کے کاموں کے لیے آتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ سے مخصوص ہیں۔ اس آیت میں اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کی ہر ایک چیز کو جس بہتر مقصد کے لیے پیدا فرمایا تھا وہ چونکہ بدرجہ اتم وہ مقصد پورا کر رہی ہے لہذا اللہ کی ذات تبارک یعنی بابرکت ہوئی۔
3 الْمُلْکُ یعنی کائنات کی ہر چیز پر مکمل بادشاہت، حکومت اور اختیار۔ اور ایسی قدرت کہ کوئی چیز بھی اللہ کے حکم کے سامنے دم نہیں مار سکتی۔
Ayah 67:24 موت ایک ایجابی چیز ہے جسے اللہ نے پہلے پیدا کیا تھا :۔ اللہ تعالیٰ نے موت کا نام زندگی سے پہلے لیا کہ اس نے موت کو بھی پیدا کیا۔ جس سے معلوم ہوا کہ موت محض ایک سلبی چیز نہیں بلکہ ایجابی چیز ہے۔ اور اس سے معتزلہ کے اس قول کی تردید ہوتی ہے جو کہتے ہیں کہ زندگی نہ ہونے کا نام ہی موت ہے۔ جبکہ اصل حقیقت یہ ہے موت روح اور جسم کے انفصال کا نام ہے اور زندگی ان دونوں کے اتصال کا۔ دنیوی زندگی سے پہلے موت سے مراد وہ دور ہے جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم کو پیدا کرنے کے بعد ان تمام روحوں کو بھی پیدا فرمایا جو ان کی پشت سے تاقیامت پیدا ہونے والی تھیں۔ عہد الست اسی دور سے متعلق ہے۔ (7: 172) اور یہ دور روح کی پیدائش سے لے کر اس کے شکم مادر میں جنین کے جسم میں داخل ہونے تک پھیلا ہوا ہے۔
5 دنیا میں امتحان اور آخرت میں نتائج :۔ گویا اللہ نے کائنات کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ انسان کی تخلیق سے پہلے ہی انسان کی بنیادی ضروریات زندگی کا سامان مہیا کردیا جائے۔ پھر انسان کو پیدا کیا اور اس کی موت وحیات کا سلسلہ قائم کیا اسے قوت ارادہ و اختیار اور عقل وتمیز عطا کی کہ دیکھا جائے کہ کون کائنات کی دوسری اشیاء کی طرح اللہ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہے اور کون نہیں کرتا۔ اگر سرتسلیم خم کرلے تو یہی اس کے لیے بہتر روش ہے اور اس کے اعمال اچھے ہوں گے اور انکار کی صورت میں اس کے اعمال بھی برے اور بدلہ بھی برا ملے گا۔ گویا یہ دنیا ہر انسان کے لیے دارالامتحان ہے اور اس امتحان کا وقت انسان کی موت تک ہے۔ موت سے لے کر بعث بعدالموت تک کا عرصہ امتحان کے نتائج کے انتظار کا عرصہ ہے۔ تاہم ہر ایک کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس امتحان میں فیل ہونے والا ہے یا پاس اور اسی کے مطابق اسے اس عرصہ میں کوفت یا راحت بھی پہنچتی رہتی ہے اور قیامت کو اس امتحان کے نتائج کا باقاعدہ اعلان ہوگا۔ نمبر نہایت انصاف کے ساتھ دیئے جائیں گے۔ پھر ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزا و سزا بھی ملے گی۔
Ayah 67:36 سات آسمان اور ان کی کیفیت :۔ موجودہ ہیئت دانوں کے نظریہ کے مطابق آسمان کوئی چیز نہیں۔ فقط حد نگاہ کا نام ہے اور یہ جو نیلگوں چھت ہمارے سروں پر سایہ کئے ہوئے اور جھکی ہوئی نظر آتی ہے۔ تو اس کی یہ رنگت محض فضا کا رنگ ہے جو ہمارے چاروں طرف محیط ہے۔ جبکہ کتاب و سنت سے ہمیں یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ آسمان ٹھوس حقیقت کا نام ہے۔ ان کی تعداد سات ہے اور ان میں دروازے بھی ہیں۔ پھر یہ ایک دوسرے کے اوپر ہیں۔ ایک کے اوپر دوسرا، دوسرے کے اوپر تیسرا علی ہذا القیاس۔ یہ تہ بہ تہ بھی ہیں اور پوری مطابقت بھی رکھتے ہیں۔ جیسے طبقات الارض یا پیاز کے چھلکے ایک دوسرے کے اوپر تہ بہ تہ ہوتے ہیں اور مطابقت بھی رکھتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ طبقات الارض یا پیاز کے چھلکوں کے درمیان فاصلہ نہیں ہوتا جبکہ ہر آسمان سے دوسرے آسمان کے درمیان طول طویل فاصلہ بھی ہے۔ ایک آسمان تو وہ ہے جس پر ہم کھلی آنکھ سے بغیر دوربین کے ہر روز رات کو ستارے جگمگاتے دیکھتے ہیں۔ یہی آسمان ہم سے قریب ہے۔ یہ پہلا آسمان ہے اور اسے ہی قرآن میں دنیا کہا گیا ہے۔ اس کے آگے وہ آسمان ہے جس کے سیارے دوربین کی مدد سے ملاحظہ کیے جاتے ہیں۔ اور اس کے آگے پانچ آسمان ایسے ہیں جن تک دوربینوں کے ذریعہ سے بھی انسان کی رسائی نہیں ہوسکتی۔ اور ہیئت دانوں کے عجز کا یہ حال ہے جوں جوں وہ جدید قسم کی اور طاقتور دوربینیں ایجاد کر رہے ہیں تاکہ اس کائنات کی پنہائی اور وسعت کا کچھ اندازہ کرسکیں، کائنات اسی قدر مزید وسیع نظر آنے لگتی ہے۔ کائنات میں بھی وسعت پیدا ہوتی جارہی ہے۔ اکثر سیاروں کے درمیانی فاصلے بھی بڑھ رہے ہیں۔ یہ صورت حال دیکھ کر ہیئت دان ورطہ حیرت میں گم ہوجاتے ہیں۔ دراصل آسمانوں یا پوری کائنات کا احاطہ کرنا انسان کے بس کا روگ ہی نہیں۔ ان آسمانوں تک اگر موجودہ دنیا میں سے کسی کی رسائی ہوئی تو وہ فقط رسول اللہ کو اللہ کی قدرت کاملہ کی وجہ سے ہوئی تھی۔
7 تفاوت کا لغوی معنی :۔ تفاوت۔ فات بمعنی کسی چیز کا انسان کی دسترس سے اتنا دور ہوجانا کہ اس کا حاصل کرلینا اس کے لئے دشوار ہو اور تفاوت بمعنی دو چیزوں کے اوصاف اس طرح مختلف ہونا کہ ان میں سے ہر ایک کا وصف دوسری چیز کے وصف کو فوت کر رہا ہو۔ یعنی دو چیزوں کا آپس میں بےربط، بےجوڑ ہونا، آپس میں لگا نہ کھانا اور ان میں عدم تناسب ہونا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے اس کائنات میں جو چیز بھی پیدا کی ہے کسی کا مقصد دوسرے سے نہ ٹکراتا ہے اور نہ بےجوڑ اور بےربط ہے۔
خ کائنات کا مربوط اور منظم نظام :۔ بلکہ ہر چیز اپنے مقصد میں دوسری چیزوں سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔ تعاون کر رہی ہے اور مربوط و منظم ہے۔ اگر یہ صورت نہ ہوتی تو اس کائنات کا نظام چل ہی نہ سکتا تھا۔ جاندار مخلوق کا اس زمین پر زندہ رہنا تو دور کی بات ہے۔ اسی ہم آہنگی اور عدم تفاوت سے لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس کائنات کا خالق ایک ہی ہوسکتا ہے۔ پھر اس میں تصرف بھی صرف اسی اکیلے کا چل رہا ہے اور ایسی ذات کا علیم و حکیم ہونا بھی انتہائی ضروری ہے۔
Ayah 67:48 یعنی انسان کو بار بار اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اگر تم اللہ کی ہستی، اس کے تصرف اور اس کے علیم و حکیم ہونے میں کچھ شک رکھتے ہو تو بتاؤ کہ اس کائنات کے نظام میں فلاں نقص باقی رہ گیا ہے۔ بار بار آسمانوں کی طرف نظر دوڑاؤ اور غور و فکر کرکے اس نظام میں کوئی عیب تلاش کرنے کی کوشش کرو تم دیکھ دیکھ کر اور غور و فکر کر کرکے عاجز رہ جاؤ گے مگر تمہیں ایسا کوئی عیب یا نقص نظر نہیں آئے گا۔
Ayah 67:59 اس کی تشریح کے لئے دیکھئے سورة حجر کی آیت نمبر 17 پر حاشیہ نمبر 9
Ayah 67:610 یعنی جہنم کا عذاب ان شیطانوں کے لئے بھی ہے جو ملاء اعلیٰ کی باتیں چوری چھپے سننے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر وہاں پہنچنے سے پہلے شہاب ثاقب کی زد میں آجاتے ہیں اور ان کافروں کے لئے بھی جو اللہ کی آیات سے اور ان کی تعمیل سے انکار کردیتے ہیں۔
Ayahs 67:7–811 شَھِیْقًا۔ زفیر اور شھیق گدھے کے ہینگنے کے وقت اس آواز کی ابتدائی اور آخری حالت کا نام ہے۔ زفر بمعنی لمبا سانس باہر نکالنا اور زفیر گدھے کے ہینگنے کی ابتدائی آواز جو آہستہ سے اونچی ہونا شروع ہوجاتی ہے اور جب گدھا ہینگنے کے عمل کو ختم کرنے لگے تو وہ آواز جو اونچی آواز سے پست ہونا شروع ہوتی ہے اسے شَھِیِْقٌ کہتے ہیں۔ پھر یہ گدھے کی آواز قرآن کی تصریح کے مطابق سب سے زیادہ مکروہ اور کانوں کو ناگوار محسوس ہونے والی ہوتی ہے۔ ایسی ہی مکروہ آواز دوزخ کی پیدا ہو رہی ہوگی۔ پھر اس کی بھی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ ایسی آواز جہنم کے جوش مارنے سے پیدا ہوگی۔ دوسرے یہ کہ دوزخ میں جو لوگ پہلے پڑے ہوں گے۔ وہ اس قسم کی مکروہ آوازیں نکالیں گے۔
12 تفور کا لغوی مفہوم :۔ تَفُوْرُ ۔ فار الماء بمعنی پانی کا جوش مارنا اور ابلنا۔ اور اس جوش مارنے یا ابلنے کی وجہ حرارت کی شدت نہیں ہوتی بلکہ پانی کا دباؤ ہوتا ہے۔ نیچے سے پانی کا دباؤ زیادہ ہو اور سوراخ تنگ ہو تو پانی بڑے جوش سے اوپر کو اچھلتا ہے۔ لفظ فوارہ اسی سے مشتق ہے۔
Ayahs 67:9–1013 یہ بڑی گمراہی کیا تھی ؟ یہی بعث بعد الموت کا عقیدہ۔ کافر اسے ہی سب سے بڑی گمراہی سمجھتے تھے۔ کہ آج تک تو کوئی شخص مر کر واپس آیا نہیں۔ پھر ہم اس بات کو کیونکر تسلیم کرسکتے ہیں ؟
Ayah 67:1114 یہاں گناہ کا لفظ واحد استعمال ہوا ہے۔ حالانکہ ان کی ساری کی ساری زندگی گناہوں سے لبریز تھی۔ اس لیے کہ اللہ کی آیات سے انکار اور جھٹلانا یہ ایک گناہ باقی سارے گناہوں کی جڑ ہے۔ باقی سب گناہ اسی ایک بڑے گناہ کی شاخیں ہیں۔
Ayahs 67:12–1315 ایمان بالغیب کے علاوہ کوئی بنیاد انسان کو گناہوں سے باز رکھ سکتی ہے نہ اخلاق فاضلہ پیدا کرسکتی ہے :۔ اللہ سے بن دیکھے ڈرنا ہی وہ بنیاد ہے جس پر انسان کے اخلاق فاضلہ کی تعمیر اٹھتی ہے اور اخلاقی لحاظ سے اس کی زندگی سنورتی ہے۔ اس بنیاد کے علاوہ جتنی بھی بنیادیں ہیں وہ سب کمزور اور ناپائیدار ہیں۔ مثلاً ایک یہ کہ وہ خود کسی برائی کو برائی سمجھتا ہو۔ دوسری یہ کہ لوگ اس کام کو برا سمجھتے ہوں۔ تیسری یہ کہ اس کام کے معاشرہ کے دوسرے افراد پر برے اثرات پڑتے ہوں اور چوتھے یہ کہ وہ کام حکومت کے قانون کے مطابق قابل مواخذہ برائی ہو۔ ان میں سے کوئی بھی بنیاد ایسی نہیں جو ایک انسان کو شریف اور بااخلاق بناسکتی ہو۔ نہ لوگ اسے ہر وقت دیکھ رہے ہوتے ہیں اور نہ حکومت۔ لہذا جب اس کے ذاتی مفاد کا مسئلہ ہو تو انسان لوگوں کی یا قانون کی گرفت سے بچنے کی ہزاروں راہیں تلاش کرلیتا ہے۔ انسان کو اگر کوئی چیز گناہوں سے باز رکھ سکتی ہے تو وہ یہی عقیدہ ہے کہ اللہ اسے ہر حال میں دیکھ رہا ہے۔ وہ اس کے دل کے خیالات تک سے واقف ہے۔ پھر وہ اس سے بازپرس کرنے اور سزا دینے کی پوری قدرت بھی رکھتا ہے۔ ایسے لوگوں کی زندگی خود بخود سنورنے لگتی ہے۔ چھوٹے موٹے گناہ اللہ ویسے ہی معاف کردے گا پھر اس کے لئے ایسے لوگوں کو جنت بھی عطا فرمائے گا۔
Ayah 67:1416 یہ ایک حقیقت ہے کہ جو شخص کسی چیز کو پیدا کرتا یا بناتا یا وجود میں لاتا ہے۔ جتنا وہ اس چیز سے واقف ہوتا ہے۔ دوسرا کوئی نہیں ہوسکتا اور یہ بھی حقیقت ہے کہ انسان کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ پھر وہ انسان کے افعال و اعمال حتیٰ کہ اس کے دل کے ارادہ سے ناواقف اور بیخبر کیسے رہ سکتا ہے۔ اس کا دوسرا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کیا اللہ کو یہ بھی علم نہیں کہ اس نے کون کون سی چیزیں پیدا کی ہیں ؟
17 لطیف کا لغوی مفہوم :۔ لَطِیْفٌ۔ لطف کے معنی میں دو باتیں بنیادی طور پر پائی جاتی ہیں، (1) رقت نظر اور (2) نرمی۔ اور لطیف کے معنی میں کبھی صرف ایک ہی بات یعنی رقت نظر یا باریک بینی یا راز اور چھوٹی چھوٹی باتوں سے آگاہی پائی جاتی ہے۔ اور کبھی دونوں باتیں پائی جاتی ہیں یعنی مخلوق کی چھوٹی چھوٹی تکالیف کا علم رکھنا اور پھر ازراہ مہربانی ان کا ازالہ کرتے رہنا۔
Ayahs 67:15–1618 ذَلُوْلٌ۔ ذل بمعنی کمزور اور زبردست ہونا اور ذلول بمعنی کسی چیز کا طوعاً اپنی سرکشی کو چھوڑ کر مطیع ومنقاد ہوجانا ہے اور یہ لفظ انسان کا اپنی محنت سے کسی چیز کو اپنا تابع فرمان بنانے اور اس چیز کے تابع فرمان بن جانے کے پہلو کو ظاہر کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم زمین میں محنت کرکے جیسے فائدے اس سے حاصل کرنا چاہتے ہو کرسکتے ہو۔ اس میں کھیتی باڑی کرسکتے ہو۔ اس سے معدنیات اور دوسرے زمین میں مدفون خزانے نکال سکتے ہو اس میں سفر کرکے تجارتی فوائد حاصل کرسکتے ہو۔
19 اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل :۔ یعنی زمین سے تم جتنے فائدے اٹھا سکتے ہو اٹھاؤ۔ لیکن یہ بات تمہیں ہر وقت ملحوظ رکھنی چاہئے کہ تم مرنے کے بعد اللہ کے حضور پیش ہونے والے ہو لہذا زمین سے فائدے اٹھاتے ہوئے تمہیں دوسروں کی حق تلفی نہ کرنا چاہیے۔
Ayahs 67:17–1820 آسمان میں کون ہے ؟ اللہ تعالیٰ کی ذات۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارے تابع فرمان بنادیا ہے اس میں محنت کرو اور جو جو فائدے اس سے اٹھا سکتے ہو اٹھاؤ مگر اس ذات سے بےخوف نہ ہوجانا جو تمہاری اور ان سب اشیاء کی خالق ومالک ہے۔ اسے ہر دم یاد رکھنا۔ یہ عین ممکن ہے کہ تم کسی جگہ زمین کھود رہے ہو یا کان کنی میں مصروف ہو تو اس میں دھنستے ہی چلے جاؤ۔ یا زمین میں زلزلہ آجائے۔ زمین پھٹ جائے اور تم اس میں غرق ہوجاؤ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم پر ایسی سخت آندھی بھیج دے جس میں پتھر کنکر ہوں۔ اور وہ تمہارا ستیاناس کردیں۔ لہذا زمین سے اللہ کی نعمتیں حاصل کرو تو اس کا شکر بھی بجا لایا کرو اور اگر تم ناشکری کرو گے اور اکڑ دکھاؤ گے تو تمہارا بھی وہ انجام ہوسکتا ہے جس سے سابقہ قومیں دوچار ہوئی تھیں۔
Ayah 67:1921 صفت۔ صف یعنی صف بنانا، سیدھی قطار بنانا اور صف بمعنی ہر شے کی سیدھی قطار اور صف الطیر بمعنی پرندوں نے اپنی اڑان میں اپنے پروں کو قطار کی طرح سیدھا کردیا۔ نیز اس کا معنی پرندوں کا اپنے پروں کو ہوا میں پھیلا دینا اور بالکل بےحرکت بنادینا بھی ہے۔ جبکہ سب ایک ہی حالت میں ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ پرندے ہوا میں اڑتے ہوئے کبھی اپنے پر پھیلا بھی دیتے ہیں اور کبھی سکیڑ بھی لیتے ہیں۔ حالانکہ یہ ہوا سے وزنی اجسام ہیں لیکن پھر بھی زمین پر گر نہیں پڑتے۔ نہ ہی زمین کی کشش ثقل انہیں اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ ہوا جو ایک کاغذ کا بھی بوجھ برداشت نہیں کرتی اور وہ بھی آہستہ آہستہ زمین پر آگرتا ہے۔ تو پرندوں کے وزنی اجسام کو ہوا میں کون تھامے رکھتا ہے اور زمین پر گرنے نہیں دیتا۔ آخر ان کو ہوا میں تیرتے پھرنے کا یہ طریقہ کس نے سکھایا ہے ؟ ، وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جس نے پرندوں کے جسم کی ساخت ہی ایسی بنادی ہے کہ وہ بےتکلف ہوا میں اڑ بھی سکتے ہیں اور ٹھہر بھی سکتے ہیں۔ پر کھول کر بھی اور پر بند کرکے بھی۔ پھر انسان نے یہی اصول دریافت کرکے ہوائی جہاز ایجاد کیا جس کی شکل تک پرندوں سے ملتی جلتی ہے۔ اور وہ اپنے پر کھول بھی لیتے ہیں اور بند بھی کرلیتے ہیں۔
Ayah 67:2022 کافر جو بڑھ بڑھ کر باتیں بناتے ہیں کہ اگر ہمیں جہنم کے عذاب سے دوچار ہونا بھی پڑا تو ہم دوزخ کے فرشتوں سے نمٹ لیں گے۔ یہ باتیں وہ محض اس لیے کرتے ہیں کہ نہ انہیں مر کر جی اٹھنے کا یقین ہے اور نہ جہنم کے عذاب کا۔ وہ بڑے سخت دھوکے میں مبتلا ہوچکے ہیں اور موت سے پہلے ان کو لگا ہوا یہ دھوکا ان کے ذہن سے نکل نہیں سکتا۔
Ayah 67:2123 رزق حاصل ہونے کا سب سے بڑا ذریعہ آسمان سے نازل ہونے والی بارش ہے۔ بارش پڑنے سے ہی زمین سے نباتات اگتی ہے جو تمام جاندار مخلوق کے رزق کا ذریعہ بنتی ہے۔ اب دیکھئے کہ اس بارش کے جملہ اسباب اللہ تعالیٰ کے قبضہ ئقدرت میں ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ طویل مدت تک بارش نہ برسائے تو اللہ کے علاوہ اور کون ہستی ہے جو بارش برسا سکے۔ اللہ کی قدرتوں کو سمجھنے کے لیے نشانیاں تو بہت ہیں مگر ان کافروں نے اگر نہ ماننے پر اور سرکشی کی راہ اختیار کرنے پر ہی کمر باندھ رکھی ہو تو یہ ان باتوں سے کیسے عبرت حاصل کرسکتے ہیں ؟
24 لجَّ بمعنی ضد سے جھگڑنا۔ دشمنی میں مداو مت کرنا اور لُجّۃ بمعنی پانی کی گہرائی۔ پانی کا گہرا حصہ جہاں پانی سب سے زیادہ گہرا ہو۔ گویا اس لفظ کا معنی ضد کی وجہ سے کسی بات پر اڑ جانا بھی ہے اور کسی برے کام میں دور دراز تک چلے جانا بھی ہے۔
Ayah 67:2225 یعنی کوئی شخص کامیابی اور مقصد کے حصول کی راہ اسی صورت میں طے کرسکتا ہے جب وہ سیدھے راستے پر چلے اور سیدھا ہو کر چلے۔ اس کے برعکس اگر کوئی شخص کسی ناہموار اور ٹیڑھے میڑھے راستہ پر چلنا شروع کر دے اور وہ بھی منہ کے بل یا چوپایوں کی طرح منہ ڈالے ہوئے تو اس کے منزل مقصود تک پہنچنے کی کیا توقع کی جاسکتی ہے ؟ اس آیت میں یہ دراصل ایک موحد اور ایک مشرک کی مثال بیان کی گئی ہے۔ موحد کی راہ سیدھی اور صاف ہوتی ہے اور اس پر چلنے کے لئے اس کے پاس واضح ہدایات اور علم کی روشنی میں موجود ہوتی ہے۔ اس کے برعکس مشرک کی ایک نہیں کئی راہیں ہوتی ہیں اور وہ سب راہیں تاریکی اور ضلالت کی ہی ہوسکتی ہیں۔ پھر اس کے پاس علم کی روشنی کے بجائے محض اوہام و قیاسات ہوتے ہیں۔ محشر میں بھی دونوں کی چال میں ایسا ہی فرق ہوگا۔
Ayah 67:2326 آنکھیں، کان اور دل ان میں سے ایک ایک نعمت ایسی ہے جو ہزار نعمتوں کے برابر ہے۔ ان میں سے کوئی بھی چھن جائے تو تمہیں ان کی قدروقیمت کا احساس ہو۔ مگر اللہ تعالیٰ کی ان عظیم نعمتوں کا تم کم ہی شکر ادا کرتے ہو اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے تمہیں آنکھیں، کان اور دل محض اس لیے نہیں دیئے تھے کہ تم ان سے اتنا ہی کام لو۔ جتنا جانور لیتے ہیں۔ بلکہ اس لیے دیئے تھے کہ آنکھوں سے تم اللہ کی آیات کا مشاہدہ کرو، کانوں سے اللہ کی آیات و احکام سنو، پھر دل سے ان میں غور کرو۔ مگر کافروں کا یہ حال ہے کہ ان نعمتوں پر شکر تو کیا کرتے، الٹا ان نعمتوں کو اللہ کی راہ کی مخالفت میں استعمال کر رہے ہیں۔
Ayah 67:2427 یعنی اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہیں ایک نفس سے پیدا کرکے ایک جگہ سے تمام روئے زمین پر پھیلا دیا ہے۔ اگر اس میں یہ قدرت ہے تو وہ تمہیں ایک جگہ پر پھر سے اکٹھا بھی کرسکتا ہے۔ اور یہ کام وہ عالم آخرت میں کرے گا۔
Ayah 67:2528 کافر جب بھی یہ بات پوچھتے ہیں از راہ تمسخر اور مذاق ہی پوچھتے تھے۔ اور اس سوال سے ان کا اصل مقصد اللہ کی کتاب، اللہ کے رسول اور قیامت سب کی تکذیب ہوتی تھی۔
Ayah 67:2629 یعنی یہ مجھے نہیں معلوم کہ قیامت کب آئے گی اور تمہیں اس کی کوئی معین تاریخ معلوم کرنے کی ضرورت بھی نہیں۔ ضرورت تو اس بات کی ہے کہ تم اپنے انجام سے ڈر جاؤ جو تمہیں قیامت کو پیش آنے والا ہے۔ اور تمہارے اطمینان کے لیے صرف اتنی ہی بات کافی ہے کہ قیامت کا آنا یقینی ہے۔ اور اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے موت کا آنا یقینی ہے۔ لیکن اس کا معین وقت کسی کو معلوم نہیں ہوتا۔ تاہم ہر شخص کو یہ فکر ضرور لاحق ہوتی ہے کہ میں مرنے سے پیشتر فلاں فلاں کام کر جاؤں۔ قیامت کی بھی یہی صورت ہے۔
Ayah 67:2730 یعنی اس وقت تو تم قیامت اور بعث بعد الموت کا مذاق اڑاتے اور طنزیں کرتے ہو مگر جب اسے واقع ہوتے دیکھ لو گے تو تمہاری کیفیت وہی ہوگی جو ایک پھانسی کے مجرم کو تختہ دار دیکھنے سے طاری ہوجاتی ہے۔ چہرے کا حلیہ بگڑ جائے گا اور ہوائیاں اڑنے لگیں گی۔ اس وقت فرشتے تمہیں مخاطب کرکے کہیں گے یہ ہے قیامت کا دن جس کے لئے تم جلدی مچایا کرتے تھے کیا اب بھی تمہیں یقین آیا ہے یا نہیں ؟
Ayah 67:2831 کفار مکہ اور دوسرے قبائل اس انتظار میں رہتے تھے کہ اسلام اور مسلمانوں پر کوئی ایسی ناگہانی بلا نازل ہو، جس سے ان کا خاتمہ ہوجائے اور ہماری جان چھوٹے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کافروں کی اسی آرزو کا جواب دیا ہے۔ اور فرمایا کہ ان سے کہیے۔ کہ ہمارے حق میں دونوں صورتیں ممکن ہیں ایک یہ کہ تمہاری خواہش کے مطابق ہم پر کوئی بلا نازل ہو جو ہمیں ہلاک کردے۔ اور دوسری یہ کہ اللہ ہم پر رحم فرمائے اور کسی طرح کا ہمیں گزند نہ پہنچے۔ لیکن تم اپنی خیر مناؤ کہ آخرت میں تمہیں یقیناً دردناک عذاب پہنچنے والا ہے۔ اس وقت تمہیں کوئی اس عذاب سے بچا سکتا ہے ؟ اور ہماری تو یہ صورت ہے کہ آخرت میں یقیناً ہمیں اللہ سے مغفرت اور جنت کی امید ہے۔
Ayah 67:2932 ہماری عاقبت بخیر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ہم رحمن پر صرف ایمان ہی نہیں لائے بلکہ اپنے تمام تر امور کا انجام اسی کے سپرد کر رکھا ہے اور اسی پر ہی ہمارا بھروسہ ہے پھر وہ آخر کیوں ہمیں اپنی نعمتوں سے سرفراز نہ کرے گا۔ اور تمہیں جلد ہی اس بات کا پتہ چل جائے گا کہ گمراہی کے راستہ پر ہم پڑے ہوئے ہیں یا تم ہو۔ یہاں جلد سے مراد کافروں پر کوئی دنیوی عذاب بھی ہوسکتا ہے۔ ان کی موت کا وقت بھی اور قیامت کا دن بھی۔
Ayah 67:3033 زیر زمین پانی کے ذخیرے :۔ آسمان سے جو بارش برستی ہے اس کا کا ایک حصہ تو ندی، نالوں اور دریاؤں سے ہوتا ہوا سمندر میں جا گرتا ہے۔ اور ایک حصہ زمین میں جذب ہوجاتا ہے پھر کئی مقامات ایسے ہیں جہاں بارشیں بہت زیادہ ہوتی ہیں اور کئی مقامات پر بہت کم۔ علاوہ ازیں اگر زمین نرم ہو تو بہت زیادہ پانی چوس لیتی ہے اور اگر سخت یا پتھریلی ہو تو بہت کم پانی جذب کرتی ہے۔ ان باتوں کا نتیجہ یہ ہے کہ زمین کے نیچے پانی کے ذخیرے بھی موجود ہیں اور نیچے ہی نیچے اس پانی کے دریا بھی بہہ رہے ہیں۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ اگر علاقہ زیادہ بارشوں والا ہو اور زمین نرم ہو تو زمین کھودنے سے بیس پچاس فٹ کی گہرائی پر پانی مل جاتا ہے اور اگر علاقہ کم بارش والا اور زمین پتھریلی ہو تو ممکن ہے سینکڑوں فٹ کی گہرائی پر پانی نہ مل سکے۔ پھر ان زمین دوز پانی کے ذخیروں کے خواص بھی الگ الگ ہوتے ہیں کہیں گدلا، کھاری اور لیسدار پانی برآمد ہوتا ہے اور کہیں ٹھنڈا اور میٹھا پانی۔ بارش نہ ہونے کی صورت میں انسان بسا اوقات اپنی پانی پینے کی ضرورت اور کھیتوں کو آبپاشی کی ضرورت کو انہیں ذخیروں سے پورا کرلیتا ہے۔ نیز پانی کی گہرائی کا انحصار بعض دفعہ زمین میں موجود پتھریلی زمین کے بڑے بڑے قطعوں پر بھی ہوتا ہے اور یہ سب عوامل جن کا اوپر ذکر ہوا ہے صرف اللہ تعالیٰ کے قبضہ ئقدرت میں ہیں وہ خوب جانتا ہے کہ فلاں علاقے کے لوگوں کے لیے پانی کی ضروریات کس قسم کی ہیں۔ اسی بات کو ملحوظ رکھ کر اللہ تعالیٰ ہر مقام پر پانی کی گہرائی کا اہتمام فرماتا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ کافروں اور ناشکروں کے سامنے یہ سوال رکھتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ پانی کے ان ذخیروں کو اتنی گہرائی تک لے جائے جہاں سے پانی نکالنا تمہاری دسترس سے باہر ہو یا ان ذخیروں کو کھاری اور لیسدار بنا دے تو بتاؤ کیا تم ایک دن بھی زندہ رہ سکتے ہو ؟ اللہ کے سوا تمہارے پاس کوئی اور ہستی ہے جو تمہیں ٹھنڈا اور میٹھا پانی مہیا کردے ؟ واضح رہے کہ لغوی لحاظ سے غور یا غار کا معنی نشیبی زمین کی طرف نیچے اور غار بمعنی کھوہ، معروف لفظ ہے اور غور بمعنی نشیبی زمین بھی اور زیر زمین گہرائی بھی۔ گویا اس میں گہرائی کے ساتھ مکان کا تصور بھی پایا جاتا ہے۔ نیز معین کا ایک معنی تو اوپر مذکور ہوا اس کا دوسرا معنی پانی کا سطح زمین پر نرم رفتار سے بہنا ہے۔ یعنی سیلاب کی طرح تندی اور تیزی سے نہیں بلکہ نرمی اور سہولت سے جاری ہونے والا پانی۔ یعنی جب زمینی گہرائی سے پانی کنوؤں، نلکوں یا مشینوں سے نکالا جاتا ہے اور آبپاشی کے لیے استعمال ہوتا ہے تو اس پانی کی رفتار سیلاب کی طرح تند و تیز نہیں ہوتی بلکہ نرم اور دھیمی ہوتی ہے۔
روایات میں آیا ہے کہ جب کوئی شخص یہ آیت پڑھے تو اسے یوں کہنا چاہیے۔ اللّٰہُ یَاتِیْنَا بِہٖ وَھُوَ رَبُّنَا وَ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ