Ayah 68:11 بعض لوگوں کے نزدیک ن سے مراد دوات ہے اور اس قیاس کی بنیاد یہ ہے کہ قلم اور دوات کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔
2 اس کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں ایک تو وہی ہے جو درج ذیل حدیث میں مذکور ہے :
ولید بن عبادہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ : میں نے رسول اللہ کو یہ کہتے سنا ہے کہ : اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور اسے کہا لکھ چناچہ قلم نے وہ سب کچھ لکھ دیا جو ابد تک ہونے والا تھا۔ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر)
اس حدیث کے مطابق لکھنے والی قلم خود ہی ہے۔ یا ممکن ہے کہ اس قلم سے لکھنے والے اللہ کے فرشتے ہوں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ قلم اور ان فرشتوں کی قسم جو لوح محفوظ سے قرآن نقل کرتے ہیں۔ تیسرا مطلب یہ ہے جو نزول قرآن کے بعد ان صحابہ کرام ؓ کی قسم جو قرآن کی وحی کو قلم سے لکھتے ہیں اور چوتھا مطلب یہ ہے کہ ان مورخین کی قسم جو قلم کے ساتھ بڑے بڑے مصلحین کی داستان حیات تاریخ کے اوراق میں ثبت کرتے ہیں۔
Ayah 68:23 قریش کا آپ کو دیوانہ کہنا کن وجوہ کی بنا پر غلط ہے ؟ یہ سب صورتیں اس بات پر کھلی کھلی شہادت ہیں کہ آپ اللہ کے فضل سے دیوانہ نہیں ہیں اور قریش مکہ جو آپ کو اس لقب سے پکارتے ہیں تو یہ جھوٹے ہیں اور بکواس کرتے ہیں۔ کیونکہ دیوانے کے سامنے اپنی زندگی کا کوئی مقصد متعین نہیں ہوتا۔ جبکہ آپ برملا اللہ کی راہ کی طرف بلاتے ہیں۔ علاوہ ازیں دیوانے کے قول اور فعل میں کبھی مطابقت نہیں پائی جاتی۔ اس لئے کہ اسے اتنا ہوش نہیں ہوتا کہ وہ کہہ کیا چکا ہے اور کر کیا رہا ہے۔ تیسری یہ بات کہ دیوانہ ہمیشہ بےسروپا اور بہکی بہکی باتیں کرتا ہے۔ جبکہ آپ کو یہ لوگ صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ دے چکے ہیں۔ لہذا یہ کیسے ممکن ہے کہ ان کے الزام کو درست سمجھا جائے۔ وہ تو محض بغض وعناد اور اپنی حسرت مٹانے کے لیے آپ کو دیوانہ کہہ دیتے ہیں۔
Ayah 68:34 یعنی اگر یہ لوگ آپ کو دیوانہ کہتے ہیں تو اس سے آپ غمگین اور ملول نہ ہوں۔ اللہ اس کے عوض آپ کو اتنا اجر عطا فرماوے گا جو لامتناہی، غیر محدود اور غیر منقطع ہے اور اس کے تسلسل میں کبھی فرق نہ آئے گا۔ اس اجر سے مراد دنیا کی زندگی میں بھی ایسا اجر ہوسکتا ہے جو فی الواقع آپ کو عطا کردیا گیا تھا اور اخروی اجر تو بہرحال یقینی ہے۔ غور فرمائیے کہ کسی دیوانے یا پاگل کا مستقبل بھی ایسا شاندار ہوسکتا ہے۔ پھر جس کا رتبہ اللہ کے ہاں اتنا بڑا ہو اسے چند احمقوں کے دیوانہ کہنے کی پروا نہ کرنا چاہیے۔
Ayahs 68:4–55 آپ کا خلق عظیم :۔ آپ کے اخلاق کی بلندی یہ تھی کہ آپ طعن وتشنیع کرنے والوں، تمسخر اڑانے والوں، ایذا پہنچانے والوں حتیٰ کہ پتھر مارنے والوں کے حق میں دعائے خیر ہی کرتے رہے۔ پھر ایسے ہی لوگوں کی ہدایت پر آپ اتنے حریص واقع ہوئے تھے کہ اپنی جان تک اس کام میں ہلکان کر رہے تھے۔ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں۔ کہ آپ نے کبھی کسی سے اپنی ذات کی خاطر انتقام نہیں لیا۔ پھر جب مکہ فتح ہوا، تو آپ کے سب جانی دشمن آپ کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ ان میں وہ بھی جنہوں نے آپ کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کردیا تھا اور آپ کی جان کی قیمت لگا دی تھی، پھر کئی بار چڑھ کر مدینہ آتے رہے تاکہ اسلام اور پیغمبر اسلام کو صفحہ ہستی سے نیست و نابود کردیں۔ اور اس وقت آپ ان سے بدلہ لینے کی قدرت و قوت بھی رکھتے تھے۔ لیکن جب آپ کے یہ دشمن آپ کو ملتجیانہ نظروں سے دیکھنے لگے تو آپ نے ایک ہی جملہ لاَ تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ ۔ اذْھَبُوْا أنْتُمُ الطُّلَقَاء کہہ کر سب کو معاف فرما دیا۔ یعنی آج تم پر کوئی مؤاخذہ نہیں۔ جاؤ تم سب کے سب آزاد ہو یہ بلند اخلاقی تو آپ کی دشمنوں کے ساتھ تھی۔ آپ کا عام اخلاق یہ تھا کہ ایک بڑھیا آپ کی راہ روک کر آپ کو اپنی بات سنا لیتی تھی اور آپ برا نہ مانتے تھے۔ اس طرح آپ کے اخلاق کے بیشمار پہلو ہیں۔ جن سے کتب احادیث بھری پڑی ہیں۔ یہاں ان کا ذکر ناممکن ہے۔ چناچہ ایک دفعہ کسی نے سیدہ عائشہ ؓ سے پوچھا کہ آپ کا اخلاق کیا تھا ؟ تو آپ نے نہایت مختصر اور جامع جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ سارا قرآن ہی آپ کا اخلاق تھا۔
Ayahs 68:6–86 یعنی یہ کوئی ایسی بات نہیں جس کا نتیجہ جلد از جلد سامنے نہ آئے۔ ایک شخص جو حکم دیتا ہے وہ نیکی اور بھلائی پر مبنی ہوتا ہے پھر وہ خود سب سے پہلے اس حکم پر عمل کرکے دکھاتا ہے۔ ہر برے کام سے اسے طبعاً نفرت ہے۔ وہ انتقام کی صورت میں بھی کوئی بری بات اپنانے کو تیار نہیں۔ فیاضی اور سماحت اس کی طبیعت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ اس کے مقابلہ میں جو لوگ ہیں انہیں طعن وتشنیع، ایذارسانی اور انتقامی کارروائیوں کے سوا کچھ سوجھتا ہی نہیں، جو بات وہ سوچتے ہیں بغض وعناد اور دوسروں کی جڑ کاٹ دینے کے لیے سوچتے ہیں۔ لہذا کوئی وجہ نہیں کہ جلد از جلد ان دونوں کا انجام ایک دوسرے کے سامنے نہ آجائے۔ اس وقت ہر ایک کو معلوم ہوجائے گا کہ دیوانگی اور پاگل پن کی حرکتیں کون کر رہا تھا ؟
Ayah 68:97 کافروں کی حق وباطل میں سمجھوتہ کی کوشش :۔ کافروں کا مطالبہ یہ تھا کہ آپ ہمارے بتوں کو برا کہنا چھوڑ دیں۔ آپ معاذ اللہ ان کے بتوں کو کوئی گالیاں تو نہیں دیتے تھے بلکہ صرف یہ کہتے تھے کہ یہ بت نہ کسی کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور نہ سنوار سکتے ہیں۔ ان کے تصرف و اختیار میں کچھ بھی نہیں۔ پھر چونکہ مدتوں سے ان کافروں میں اعتقاد چلا آرہا تھا۔ کہ ہمارے یہ معبود ہمارا بگاڑ بھی سکتے ہیں اور سنوار بھی سکتے ہیں۔ لہذا وہ آپ کی اس تعلیم کو اپنی بھی توہین سمجھتے تھے اپنے آباؤ اجداد کی بھی اور اپنے ان بتوں کی بھی۔ ان کا مطالبہ صرف یہ تھا کہ آپ ہمارے معبودوں کو کچھ نہ کہیں۔ ان کی شان میں کوئی توہین یا گستاخی کی بات نہ کریں۔ ہم آپ کے معبود کے حق میں کوئی ایسی بات نہ کریں گے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حق و باطل میں کبھی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ پھر اگر آپ بفرض محال ان کی کوئی بات تسلیم کر بھی لیں تو بھی ایسے سمجھوتہ اور ایسی مصالحت کا کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ کیونکہ یہ جھوٹے لوگ ہیں۔ اپنی کسی بات پر قائم رہنے والے نہیں۔ ان کا اصل مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانا ہے۔
Ayah 68:108 زیادہ قسمیں کھانے والا انسان ذلیل ہوتا ہے :۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک مسلمہ اصول بیان فرمایا کہ جو شخص بات بات پر قسمیں کھاتا ہے۔ یا اسے قسمیں اٹھانے کی ضرورت پیش آتی ہے تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اسے اپنی کسی بات پر نہ خود اعتماد ہوتا ہے اور نہ دوسروں کو اعتماد ہوتا ہے۔ وہ اپنی نظروں میں بھی ذلیل اور دوسروں کی نظروں میں بھی ذلیل ہوتا ہے۔ لہذا ایسے شخص کی بات ماننے کا کچھ فائدہ نہ ہوگا۔
Ayah 68:119 آیت نمبر 10 سے 13 تک چار آیات میں کافروں کے ایک رئیس کی اخلاقی حالت کو رسول اللہ کے مقابلہ میں پیش کیا گیا ہے اور اس کا نام لینے کی ضرورت اس لئے پیش نہیں آئی کہ ان صفات والا کردار صرف ایک ہی تھا۔ اور اس کی یہ صفات پڑھ کر ہر ایک کو معلوم ہوجاتا تھا کہ ان آیات کا روئے سخن کس طرف ہے اور یہ قرآن کی انتہائی حکمت کی دلیل ہے کہ کسی برے شخص کا نام لیے بغیر محض صفات سے ہی اس کی نشاندہی کردی جائے اور ہر ایک کو معلوم ہوجائے کہ جس شخص میں یہ اور یہ صفات پائی جاتی ہوں وہ ایسے اخلاق کا مالک ہوتا ہے۔
Ayah 68:1210 خیر کے معنی مال و دولت بھی ہے اور ہر بھلائی کا کام بھی۔ پہلی صورت میں معنی یہ ہوتا کہ وہ خود بھی کنجوس اور بخیل ہے اور دوسروں کو بھی ایسا ہی سبق دیتا ہے اور دوسرے معنی کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ ہر بھلائی کے کام سے خود بھی رکتا ہے دوسروں کو بھی روکتا رہتا ہے۔
Ayah 68:1311 زنیم کا معنی ایسا شخص ہے جس کا نسب مشکوک ہو وہ خود کو کسی دوسرے قبیلے سے ملا رہا ہو، اسی لحاظ سے اس لفظ کا معنی بدذات بھی کیا جاتا ہے۔ بدنام بھی اور ولدالزنا بھی۔ عام مفسرین کا خیال ہے کہ یہ شخص ولید بن مغیرہ تھا۔ جو ابو جہل سے پہلے قریش مکہ کا رئیس تھا اور اس کے نسب کا اٹھارہ سال بعد پتہ چلا تھا۔ واللہ اعلم بالصواب
Ayahs 68:14–1512 یعنی ان تمام تر قباحتوں کے باوجود کیا صرف اس لئے اس کی بات مان لیجائے کہ وہ خاصا مال دار اور صاحب اولاد ہے۔ صاحب مال اور اولاد ہونا کوئی ایسی صفات نہیں کہ ایسے شخص کی اطاعت کی جائے۔
Ayah 68:1613 ممکن ہے کہ اس کی ناک بڑی اور لمبوتری ہو تاہم عمومی محاورہ یہ ہے کہ جو لوگ صاحب مال اور اولاد ہوں ان کی ناک بھی بڑی ہوتی ہے اور یہ لوگ اپنی ناک کی خاطر کئی ایسے جتن کرتے رہتے ہیں کہ ان کی ناک کو کوئی آنچ نہ پہنچے۔ اس آیت میں بتایا گیا کہ ہم اس شخص کی اس بڑی ناک کو پوری طرح ذلیل کرکے چھوڑیں گے۔
Ayah 68:1714 یعنی ان قریش مکہ کو بھی اسی طرح آزمائش میں ڈال رکھا ہے جیسے ہم نے باغ والوں کو آزمائش میں ڈالا تھا۔
Ayahs 68:18–3215 باغ والوں کا قصہ :۔ یہ واقعہ آیت نمبر 17 سے آیت نمبر 33 تک پھیلا ہوا ہے۔ جسے ہم تسلسل کے ساتھ اپنے الفاظ میں بیان کریں گے کسی شخص کا ایک باغ تھا جو بھرپور فصل دیتا تھا۔ اس شخص کا زندگی بھر یہ دستور رہا کہ جب بھی پھل کی فصل اٹھاتا تو اس کے تین حصے کرتا۔ ایک حصہ تو خود اپنے گھر کی ضروریات کے لیے رکھ لیتا۔ دوسرا حصہ اپنے قریبی رشتہ داروں اور ہمسایوں میں تقسیم کردیتا اور تیسرا حصہ فقراء و مساکین میں بانٹ دیتا۔ اس کی اس سخاوت کی وجہ سے اس کا باغ سب سے زیادہ فصل دیتا۔ کٹائی کے دن فقراء و مساکین موقع پر پہنچ جاتے اور اپنا اپنا حصہ وصول کرلیتے۔
جب یہ شخص انتقال کر گیا تو اس کے بیٹوں کو خیال آیا کہ ہمارا باپ تو ساری عمر اس باغ کی فصل کو ادھر ادھر تقسیم کرکے اپنی کمائی یوں ہی لٹاتا رہا اور زندگی بھر مفلس ہی رہا۔ اب کے یہ ریت ختم کردینا چاہیے۔ باغ ہمارا ہے اور اس پر ہمارا ہی حق ہے چناچہ انہوں نے آپس میں یہ طے کرلیا کہ جب کٹائی کا موقع آئے تو راتوں رات ہی کرلی جائے۔ تاکہ نہ غریب مسکین آئیں، نہ ہمیں تنگ کریں اور نہ ہم برے بنیں۔ انہوں نے اس بات پر قسمیں کھائیں کہ ایسا ہی کریں گے اور انہیں اپنی اسکیم پر اس قدر وثوق تھا کہ انہوں نے انشاء اللہ کہنے کی بھی ضرورت نہ سمجھی۔
جب کٹائی کا وقت آگیا تو وہ راتوں رات، خوشی خوشی، اچھلتے کودتے اپنے باغ کی طرف روانہ ہوئے ادھر اللہ کا کرنا یوں ہوا کہ اسی رات سخت آندھی کا طوفان آیا۔ جس میں آگ تھی۔ آندھی کے ذریعہ وہ آگ باغ کے درختوں تک پہنچ گئی اور تھوڑے ہی عرصہ میں انہیں جلا کر راکھ کرگئی۔ آن کی آن میں سارا باغ جل کر راکھ کا ڈھیر بن گیا۔ جب یہ عقل مند بیٹے وہاں پہنچے تو وہاں نقشہ ہی بدلا ہوا تھا۔ انہیں وہاں باغ نام کی کوئی چیز نظر نہ آئی۔ سوچنے لگے کہ ہم شائد رات کے اندھیرے میں کسی غلط جگہ پر پہنچ گئے۔ پھر جب کچھ حواس درست ہوئے تو حقیقت ان پر آشکار ہوگئی کہ ان کی نیت کا فتور آندھی کا عذاب بن کر ان کے باغ کو بھسم کر گیا ہے۔ اب وہ ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔ ان کے منجھلے بھائی نے کہا کیا میں نے تمہیں کہا نہ تھا کہ اللہ کی تسبیح بیان کرو۔ اسے ہر وقت یاد رکھو اور اسی سے خیر مانگو۔ مگر ان بھائیوں میں سے کسی نے بھی منجھلے بھائی کی طرف توجہ نہ دی تو ناچار اسے بھی ان کا ساتھ دینا پڑا۔ اور وہ ملامت بھی اس طرح کرتے تھے کہ ایک دوسرے کو کہتا کہ تم ہی نے یہ ترغیب دی تھی دوسرا کہتا کہ یہ مشورہ تو تمہارا تھا مگر اب پچھتانے سے کچھ بن نہ سکتا تھا۔ جو کچھ ہونا تھا وہ ہوچکا تھا۔
باپ کو اس کی سخاوت اور دوسروں سے ہمدردی کا یہ صلہ ملتا رہا کہ اسی کا باغ سب سے زیادہ پھل لاتا تھا اور جتنا کچھ وہ دوسروں پر خرچ کرتا۔ اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ اسے مہیا فرماتا۔ مگر جب بیٹوں پر بخل اور حرص غالب آئی تو اس کا ثمرہ یوں ملا کہ نیت کے فتور نے مجسم طوفان کا روپ دھار کر سارا باغ ملیا میٹ کردیا۔ اس وقت نہ زمین کی زرخیزی کام آئی، نہ ان کی کوئی تدبیر، اس واقعہ سے یہ بات از خود واضح ہوجاتی ہے کہ دوسروں سے ہمدردی اور اچھے سلوک کی بنا پر اگر اللہ تعالیٰ نادیدنی وسائل کے ذریعہ رزق فراہم کرسکتا ہے تو نیت میں فتور آنے پر ایسے ہی نادیدنی وسائل سے دیئے ہوئے رزق کو چھین بھی سکتا ہے۔ آخر سب مل کر کہنے لگے کہ واقعی ہماری سب کی زیادتی تھی کہ ہم نے فقیروں اور محتاجوں کا حق مارنا چاہا اور حرص و طمع میں آکر اصل بھی کھو بیٹھے۔ یہ جو کچھ خرابی آئی اس میں ہم ہی قصور وار ہیں۔ مگر اب بھی ہم اپنے پروردگار سے ناامید نہیں کیا عجیب ہے کہ وہ اپنی رحمت سے پہلے باغ سے بہتر باغ ہم کو عطا کردے۔
Ayahs 68:33–3416 یعنی یہ عذاب تو باغ والوں کو اس دنیا میں ملا۔ اور جو آخرت میں اس طرح کے بخل سے عذاب ہوگا وہ اس سے بہت بڑا ہوگا۔
Ayahs 68:35–3617 خوشحال لوگوں کی ایک عام غلط فہمی :۔ قریشی سردار یہ سمجھتے تھے کہ انہیں جو آسودگی اور خوشحالی حاصل ہے تو یہ ان کے مشرکانہ مذہب کی سچائی پر دلیل ہے۔ پھر یہ معاملہ اتنا ہی نہ تھا بلکہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر موت کے بعد ہمیں اٹھایا بھی گیا اور دوسری زندگی حاصل ہوئی تو اللہ وہاں بھی ہم پر مہربانیاں کرے گا۔ جو پروردگار ہم پر آج مہربان ہے کیا وجہ ہے کہ وہ اس اخروی زندگی میں ہم پر مہربان نہ ہو۔ اس آیت میں ان کے اسی قول کا جواب دیا جارہا ہے کہ یہ کیسی خلاف عقل بات ہے کہ اللہ قیامت کے دن اپنے فرمانبرداروں اور اپنے باغیوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرے ؟