68. Surah Al-Qalam

القلمThe Pen · 52 ayahsتیسیر القرآن

Ayahs 68:37–41

اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِیْهِ تَدْرُسُوْنَۙ Open ayah 68:37 in the Quran reader

یا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم (یہ بات) پڑھتے 18 ہو

اِنَّ لَكُمْ فِیْهِ لَمَا تَخَیَّرُوْنَۚ Open ayah 68:38 in the Quran reader

کہ تمہارے لئے آخرت میں وہی کچھ ہوگا جو تم پسند کرو گے

اَمْ لَكُمْ اَیْمَانٌ عَلَیْنَا بَالِغَةٌ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۙ اِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُوْنَۚ Open ayah 68:39 in the Quran reader

یا ہمارے ذمہ تمہارے پاس حلفیہ عہد ہیں جو قیامت کے دن تک جا پہنچیں گے کہ تمہیں وہی کچھ ملے گا جو تم حکم لگاؤ گے

سَلْهُمْ اَیُّهُمْ بِذٰلِكَ زَعِیْمٌۚۛ Open ayah 68:40 in the Quran reader

آپ ان سے پوچھیے کہ اس بات کا ضامن کون ہے ؟

اَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُ١ۛۚ فَلْیَاْتُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَ Open ayah 68:41 in the Quran reader

یا ان کے کچھ شریک ہیں ؟ پھر اگر وہ سچے ہیں تو اپنے شریکوں کو لائیں

18 غلط فہمی کی تین طرح سے تردید :۔ آیت نمبر 37 تا 41 میں تین مختلف صورتیں بیان کی گئی ہیں۔ جو ان کے اس باطل نظریہ کی تردید میں نقلی دلائل کی حیثیت رکھتی ہیں اور وہ یہ ہیں : 1۔ کیا کسی الہامی کتاب میں یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ آخرت میں بھی تمہیں آسودگی اور خوشحالی کی زندگی میسر ہوگی جیسا کہ تمہاری یہ خواہش ہے۔ 2۔ یا تم نے ہم سے کچھ ایسے حلف نامے لے رکھے ہیں کہ تمہیں قیامت کے دن وہی کچھ ملے گا جو تم چاہتے ہو اور اپنے حق میں ایسا ہی فیصلہ چاہتے ہو۔ اگر ایسی بات ہے تو بتاؤ کہ ان حلف ناموں کو ہم سے پورا کرا کے دینے کے لیے تم سے کون ذمہ دار اور ضامن ہے ؟ 3۔ تیسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ ان کے کچھ معبود اللہ کے کارناموں میں اس کے شریک ہیں۔ اگر ایسی بات ہے تو شریکوں کی بھی کائنات میں شراکت اور امور کائنات میں ان کے تصرف کو ثابت کرکے دکھائیں۔ پھر جب ان میں سے کوئی بات بھی نہیں ہے تو پھر آخر یہ کس برتے پر آس لگائے بیٹھے ہیں کہ انہیں اخروی زندگی میں آسودگی اور خوشحالی میسر ہوگی۔
Ayahs 68:42–43

یَوْمَ یُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَۙ Open ayah 68:42 in the Quran reader

جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی اور انہیں سجدہ کرنے کو بلایا جائے گا تو یہ سجدہ 19 نہ کرسکیں گے

خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ وَ قَدْ كَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ وَ هُمْ سٰلِمُوْنَ Open ayah 68:43 in the Quran reader

ان کی نگاہیں جھکی ہوں گی اور ان پر ذلت چھا رہی ہوگی۔ وہ (دنیا میں) سجدہ کی طرف بلائے جاتے تھے اور اس وقت تو وہ صحیح سالم تھے

19 اللہ کی پنڈلی کا ذکر :۔ آیت نمبر 42 اور 43 کی تفسیر کے لئے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے : سیدنا ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : قیامت کے دن پروردگار اپنی پنڈلی کھولے گا تو ہر مومن مرد اور مومن عورت سجدہ میں گرپڑیں گے۔ صرف وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جو لوگوں کو دکھلانے یا سنانے کے لئے سجدہ کیا کرتے تھے۔ وہ سجدہ تو کرنا چاہیں گے لیکن ان کی پشت اکڑ کر ایک تختہ کی طرح ہوجائے گی (بخاری۔ کتاب التفسیر) بعض علماء نے (يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ 42؀ۙ ) 68 ۔ القلم :42) کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ : جس دن حقائق سے پردہ اٹھا دیا جائے گا اگر یہ اہل عرب کا محاورہ ہو تب بھی ہم ارشاد نبوی کے مقابلہ میں ایسے محاورہ کو ترجیح نہیں دے سکتے۔ رہی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ کی پنڈلی کیسی ہے کیا یہ انسانوں کی پنڈلی کی طرح ہے یا اس کی کوئی اور صورت ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہم یہ بات نہ جان سکتے ہیں اور نہ جاننے کے مکلف ہیں۔ ہمارا کام یہ ہے کہ اگر اللہ نے اپنی پنڈلی کا ذکر کیا ہے تو ہم اتنی ہی بات مانتے ہیں، اس کے آگے کچھ نہیں۔
Ayah 68:44

فَذَرْنِیْ وَ مَنْ یُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِیْثِ١ؕ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 68:44 in the Quran reader

ہٰذا جو شخص اس کلام کو جھٹلاتا ہے اس کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو ۔ ہم انہیں بتدریج یوں 20 تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ انہیں خبر بھی نہ ہوگی

20 (سَنَسْـتَدْرِجُهُمْ 182؀ښ) 7 ۔ الاعراف :182) استدراج کے لغوی معنی میں دو باتیں بنیادی طور پر پائی جاتی ہیں۔ ایک تدریج، دوسرے آہستگی، یعنی یہ قریشی سردار جو اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں۔ پھر وہ یہ بھی سمجھے بیٹھے ہیں کہ چونکہ وہ خوشحال اور آسودہ ہیں۔ لہذا ان کا پروردگار ان پر مہربان ہے۔ حالانکہ اللہ انہیں آہستہ آہستہ ہلاکت اور تباہی کی طرف لیے جارہا ہے۔ اور جن چیزوں کو وہ اللہ کے انعامات سمجھ رہے ہیں وہ دراصل ان کی ہلاکت کا سامان ہے۔
Ayah 68:45

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 68:45 in the Quran reader

اور میں ان کی رسی دراز کر رہا ہوں۔ بلاشبہ میری تدبیر 21 کا کوئی توڑ نہیں

21 کید کاد بمعنی کسی کام کو سرانجام دینے کے لئے خفیہ تدبیر کرنا۔ داؤ یا چال چلنا اور کَیْدَ سَاحِرٍ کے معنی جادوگر کے ہتھکنڈے۔ ایسی تدبیر کا مقصد اگر درست اور نیک ہو تو یہ جائز ہے اور اگر برا ہو تو یہ مذموم ہے۔ رہی یہ بات کہ اللہ کی وہ تدبیر کیا تھی جس کا ان کے پاس کوئی توڑ نہیں تھا۔ یہ تدبیر وہی استدراج ہے جس کا ذکر اس سے پہلی آیت میں گزر چکا ہے یعنی ہم انہیں مہلت بھی دیئے جاتے ہیں۔ اور نعمتیں بھی۔ جوں جوں وہ اللہ کی آیات کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ بجائے عذاب کے ہم ان پر نعمتیں برساتے جارہے ہیں۔ اور انہیں یہ محسوس تک نہیں ہو رہا کہ وہ اپنی ہلاکت کے کون سے مقام تک پہنچ چکے ہیں۔ ان کے گناہوں کا پیمانہ لبریز ہوتے ہی ہم انہیں دھر لیں گے۔
Ayah 68:46

اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَۚ Open ayah 68:46 in the Quran reader

یا آپ ان سے کوئی صلہ مانگتے ہیں کہ وہ تاوان (کے بوجھ) سے دبے 22 جارہے ہیں

22 آپ تو سب لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دیتے اور اس کا پیغام پہنچاتے ہیں اور جو کچھ کر رہے ہیں بےلوث اور بےغرض ہو کر کر رہے ہیں۔ اب اگر یہ قریشی سردار اس دعوت کو قبول کرتے ہیں تو کریں، نہیں کرتے تو نہ کریں، پھر اگر دوسرے لوگ اس دعوت کو قبول کرتے ہیں تو یہ کیوں سیخ پا ہوجاتے ہیں ؟
Ayah 68:47

اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَ Open ayah 68:47 in the Quran reader

یا ان کے پاس 23 غیب ہے جسے وہ لکھ لیتے ہیں

23 یعنی انہوں نے غیب کے پردہ کو ہٹا کر دیکھ لیا ہے کہ یہ اللہ کا بھیجا ہوا رسول نہیں ہے۔ یا ان کی طرف اللہ کے ہاں سے وحی آتی ہے کہ جو کچھ ان کا دین ہے وہی درست اور برحق ہے۔ آخر ان کی اس شدید مخالفت کی کوئی تو معقول وجہ ہونی چاہئے۔
Ayah 68:48

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ١ۘ اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ Open ayah 68:48 in the Quran reader

پس آپ اپنے پروردگار کے حکم کے انتظار میں صبر کیجئے اور مچھلی والے 24 (یونس) کی طرح نہ ہونا جب انہوں نے پکارا اور وہ غم سے بھرے 25 ہوئے تھے

24 یعنی جس طرح سیدنا یونس (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی مخالفت سے تنگ آکر بےصبری کا مظاہرہ کیا تھا۔ انہیں وحی الٰہی کا انتظار کیے بغیر خود ہی عذاب کی دھمکی دے دی تھی اور پھر وہاں سے چل دیئے تھے۔ آپ کو ایسا نہ کرنا چاہیے بلکہ قوم کی ایذاؤں، مذاق و تمسخر اور مخالفت کو صبر کے ساتھ برداشت کیجئے۔ اور اس وقت تک صبر کیجئے جب تک کہ آپ کو یہاں سے ہجرت کا حکم نہ مل جائے۔ 25 سیدنا یونس کو کون کون سی پریشانیاں لاحق تھیں جن سے وہ گلے تک بھرے ہوئے تھے :۔ مَکْظُوْمٍ ۔ کظم سانس کی نالی کو کہتے ہیں اور کظم السقاء بمعنی مشک کو پانی سے لبالب بھر کر اس کا منہ بند کردینا۔ اور کظیم اور مکظوم اس شخص کو کہتے ہیں جو غم یا غصہ سے سانس کی نالی تک بھرا ہوا ہو مگر اس کا اظہار نہ کرے اور اسے دبا جائے۔ خ مچھلی کے پیٹ میں وظیفہ :۔ اس آیت میں سیدنا یونس (علیہ السلام) کی وہ کیفیت بیان کی گئی ہے جب وہ مچھلی کے پیٹ میں چلے گئے تھے۔ اس وقت آپ کئی قسم کے غموں کا مجموعہ بنے ہوئے تھے۔ مثلاً قوم کے ایمان نہ لانے کا غم۔ آپ کے بتاتے ہوئے وعدہ عذاب پر عذاب نہ آنے کا غم، اللہ تعالیٰ کے واضح حکم کے بغیر قوم کو چھوڑ کر چلے آنے کا غم، پھر مچھلی کے پیٹ میں چلے جانے کا غم، ان تمام پریشانیوں اور غموں سے نجات کی واحد صورت آپ کو یہی نظر آئی کہ اللہ کی تسبیح و تہلیل کریں اور اپنے گناہوں کی اللہ سے معافی طلب کریں۔ چناچہ آپ جب تک مچھلی کے پیٹ میں رہے (لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ 87؀ښ) 21 ۔ الأنبیاء :87) پڑھتے رہے۔ تاآنکہ اللہ نے آپ کو اس مصیبت سے نجات دے دی۔
Ayah 68:49

لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ Open ayah 68:49 in the Quran reader

اگر انہیں ان کے پروردگار کا فضل سنبھالا نہ دیتا تو وہ تو برے حالوں ایک چٹیل میدان 26 میں پھینک دیئے گئے تھے۔

26 مچھلی نے آپ کو اپنی غذا نہیں بنایا۔ بلکہ بالکل صحیح وسالم برلب ساحل ایک چٹیل میدان میں اگل دیا۔ یہ نتیجہ تھا آپ کی اس دعا کا جو وہ مچھلی کے پیٹ میں کرتے رہے۔ گویا آپ کی وہ دعا مستجاب ہوگئی اور آپ کو دوبارہ زندگی مل گئی۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب بھی مہیا فرما دیئے کہ چند ہی دنوں میں آپ کی کمزوری دور ہوگئی اور صحت بحال ہوگئی۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی مزید مہربانی اور اس کا فضل تھا۔
Ayah 68:50

فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 68:50 in the Quran reader

چناچہ ان کے پروردگار نے انہیں برگزیدہ کیا 27 اور صالحین میں شامل کردیا

27 یعنی ان کی نبوت کو بھی بحال کردیا گیا اور انہیں اسی قوم کی طرف دوبارہ بھیجا گیا جہاں سے وہ بھاگ کر چلے گئے تھے۔ آپ کا قصہ پہلے سورة یونس کی آیت نمبر 98، سورة انبیاء کی آیت نمبر 87، 88 اور سورة صافات کی آیت نمبر 143 کے تحت گزر چکا ہے۔ وہ حواشی ملاحظہ کرلیے جائیں۔
Ayah 68:51

وَ اِنْ یَّكَادُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَیُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَ یَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌۘ Open ayah 68:51 in the Quran reader

اور کافر لوگ جب قرآن سنتے ہیں تو آپ کو ایسی نظروں سے 28 دیکھتے ہیں کہ گویا آپ کے قدم ڈگمگا دیں گے اور کہتے ہیں کہ : یہ تو ایک دیوانہ ہے

28 یعنی جب آپ لوگوں کو قرآن پڑھ کر سناتے ہیں تو وہ آپ کو یوں گھورنے لگتے ہیں اور آپ پر اپنی نظریں گاڑ کر ایسا مقناطیسی اثر ڈالنا چاہتے ہیں۔ جس سے آپ مرعوب ہو کر یہ کام چھوڑ دیں۔ پھر بڑی حقارت کے ساتھ دوسروں کو بتاتے ہیں کہ یہ تو دیوانہ آدمی ہے۔ وہ آپ کو دیوانہ اس لیے کہتے تھے کہ آپ ان کی عقل اور ان کے عقیدہ کے خلاف باتیں کرتے تھے۔ پھر صرف آپ کی قوم نے ہی آپ کو مجنون نہیں کہا بلکہ ہر رسول کو دیوانہ کہا جاتا رہا ہے۔ اور یہ دراصل قوم کے اپنے رسولوں کے خلاف معاندانہ رویہ کے اظہار کی وجہ سے ہوتا ہے۔ کیونکہ ایک نبی اور ایک مجنون میں بنیادی فرق یہ ہے کہ نبی کی دعوت گو معاشرہ کی عقل اور دستور کے خلاف ہوتی ہے۔ تاہم وہ ہمیشہ اپنی ذات پر قائم رہتا، اس پر عمل کرکے دکھاتا اور اپنی پاکیزہ سیرت و کردار سے اپنی بات پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے۔ جبکہ مجنون ان تینوں باتوں سے عاری ہوتا ہے۔
Ayah 68:52

وَ مَا هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 68:52 in the Quran reader

حالانکہ یہ (قرآن) تمام اہل عالم 29 کے لیے نصیحت ہے۔

29 یعنی جو قرآن تم انہیں پڑھ کر سنا رہے ہو نہ اس میں کوئی دیوانگی کی بات ہے اور نہ آپ میں ہے۔ بلکہ یہ کتاب تو تمام اہل عالم کی ہدایت کے لیے نازل کی جارہی ہے۔ اس سے بنی نوع انسان کی کایا پلٹ اصلاح ہوگی۔ عنقریب یہ کتاب معاشرہ میں انقلاب بپا کردے گی۔ اس وقت سب کو معلوم ہوجائے گا کہ اصل دیوانے کون تھے ؟