Ayah 69:31 انداز کلام کو اس قدر موکد اس لیے بنایا گیا ہے کہ قرآن کے مخاطب قریشی لوگ قیامت کے کٹر منکر تھے۔ اور اس میں بتایا یہ گیا ہے کہ آپ بھی بس اتنا ہی جان سکتے ہیں۔ کہ قیامت یقیناً آنے والی ہے۔ یہ نہیں جان سکتے کہ کب آئے گی یا اس وقت کیا کیفیت ہوگی۔ چناچہ اسی سورة میں قیامت کی بعض کیفیات بیان کردی گئی ہیں۔
Ayah 69:42 قَارِعۃٌ: قَرَعَ بمعنی ایک چیز کو دوسری پر اس طرح مارنا کہ اس سے آواز پیدا ہو۔ اور قرع الباب بمعنی اس نے دروازہ کھٹکھٹایا اور قارِعَۃٌ کے معنی کھڑکھڑانے والی، اور ابن الفارس کے نزدیک قارِعَۃٌ ہر وہ چیز ہے جو انسان پر شدت کے ساتھ نازل ہو۔ نیز قارِعَۃٌ قیامت کا صفاتی نام ہے۔ یعنی اس دن کائنات کی چیزیں ایک دوسرے سے ٹکرا ٹکرا کر کئی طرح کی آوازیں پیدا کریں گی۔
3 یعنی قیامت یا آخرت کا معاملہ اتنا ہی نہیں کہ کوئی مانتا ہے تو مان لے نہیں مانتا تو نہ مانے۔ قیامت آئے گی تو پتہ چل جائے گا کہ آتی ہے یا نہیں آتی۔ بلکہ اس کا فوری اثر اس دنیا میں ہی ظاہر ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے اعمال کی جوابدہی کا تصور ہی ایسا موثر ذریعہ ہے کہ جو انسان کو، افراد کو اوراقوام کو اخلاقی پستیوں میں گرنے سے بچا سکتا ہے۔ جن قوموں نے بھی آخرت کا انکار کیا ان کے اخلاق بگڑ گئے وہ ظلم و جور میں مبتلا ہوگئیں۔ بالآخر اللہ کا عذاب آیا جس نے انہیں نیست و نابود کردیا۔
Ayah 69:54 قوم ثمود پر کس قسم کا عذاب آیا تھا ؟ ثمود کو کون سے عذاب سے ہلاک کیا گیا تھا ؟ اس کے لیے مختلف مقامات پر مختلف الفاظ آئے ہیں۔ سورة اعراف آیت 87 میں اس کو الرَّجْفَۃُ (زبردست زلزلہ) کہا گیا ہے۔ سورة ہود کی آیت نمبر 67 میں الصَّیْحَۃُ (زبردست دھماکہ یا ہیبت ناک چیخ) کا لفظ آیا ہے اور سورة حم السجدہ کی آیت نمبر 17 میں (صَاعِقَۃُ الْعَذَابِ ) (یعنی گرنے والی بجلی کا عذاب) کا لفظ آیا ہے اور یہاں الطَّاغِیَۃَ کا لفظ آیا ہے۔ جس سے عذاب میں سخت سرکشی کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ یہ ایک ہی واقعہ کی مختلف کیفیتوں کا بیان ہے۔ اور وہ عذاب یہ تھا کہ ارضی اور سماوی دونوں قسم کے عذاب قوم ثمود پر یک دم آتے تھے۔
Ayah 69:65 عاتیۃٍ قوم عاد پر جو عقاب آیا وہ سخت آندھی کا عذاب تھا۔ ہوا نہایت سرد اور یخ بستہ تھی اور یہ ہوا اتنی سرکش تھی جس پر کسی مخلوق کا زورنہ چلتا تھا حتی کہ فرشتے جو ہوا کے انتظام پر مامور ہیں ان کے ہاتھوں سے نکلی جاتی تھی۔
Ayahs 69:7–86 یہ لوگ بڑے مضبوط جسم والے، طاقتور اور طویل القامت تھے۔ جب ان کو ہود (علیہ السلام) نے اللہ کے عذاب سے ڈرایا تو کہنے لگے : (مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً 15) 41 ۔ فصلت :15) (ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے ؟ ) لیکن جب ہم نے ان پر ہوا کو چھوڑ دیا تو یہ لوگ اس کا بھی مقابلہ نہ کرسکے۔ تندو تیز ہوا نے ان کو یوں چاروں شانے چت گرا دیا کہ طویل القامت ہونے کی وجہ سے ان کے سر گرتے ہی تن سے جدا ہوجاتے تھے۔ اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ کھجوروں کے بےجان اور کھوکھلے تنے پڑے ہوئے ہیں۔
Ayahs 69:9–107 قوم عاد نے تو یہ نعرہ لگایا تھا کہ (مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً 15) 41 ۔ فصلت :15) اور فرعون وہ تھا جس نے ( فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى 24ڮ) 79 ۔ النازعات :24) کا نعرہ لگایا تھا۔ فرعون اور آل فرعون کو اللہ نے سمندر میں ڈبو دیا تو اس وقت اسے معلوم ہوگیا تھا کہ وہ اپنے خدائی کے دعوے میں کس حد تک سچا تھا اور آج کس قدر مجبور ہے۔ فرعون کی قوم کے علاوہ بھی کئی قوموں نے آخرت کے عقیدہ سے انکار کیا۔ پھر سرکشی کی راہ اختیار کی تو نتیجتاً انہیں بھی تباہ و برباد کردیا گیا۔ ان سب قوموں میں سے کوئی ایک شخص بھی زندہ نہ بچا۔ سب کے سب ہلاک کردیئے گئے۔ اور ان سب کا سب سے بڑا گناہ جو ان میں قدر مشترک کے طور پر پایا جاتا تھا، یہ تھا کہ انہوں نے سرے سے رسولوں کو اور اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا تھا۔
Ayah 69:118 اس آیت میں طوفان سے مراد طوفان نوح ہے۔ اور تمہیں سے مراد وہ تمام بنی نوع انسان ہیں۔ جو دنیا میں اس وقت آباد تھے اور یہ ان لوگوں کی ہی اولاد ہیں جنہیں طوفان نوح کے وقت کشتی میں سوار کرلیا گیا تھا۔
Ayahs 69:12–139 طوفان نوح اور کشتی :۔ یعنی طوفان کا یہ حال تھا کہ پانی کی اتنی کثیر مقدار جمع ہوگئی تھی کہ پہاڑ تک اس طوفان میں ڈوب گئے تھے۔ اتنے مہیب طوفان کے مقابلہ میں ایک کشتی کی بھلا حقیقت ہی کیا تھی جو اس طوفان کے تھپیڑوں کا مقابلہ کرسکتی۔ خصوصاً جب کہ اس میں سوار لوگوں کو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ ان کی منزل مقصود کس سمت کو ہے ؟ ظاہری اسباب پر انحصار کیا جائے تو ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ نہ اس کشتی کے بچنے کی کوئی صورت تھی اور نہ اس میں سوار انسانوں کی۔ یہ ہماری قدرت اور ہمارا احسان ہی تھا کہ اس کشتی کے ذریعہ ہم نے اپنے فرمانبرداروں کو بچا لیا اور لوگوں کو اپنی قدرت و حکمت کا ایسا کرشمہ دکھا دیا کہ رہتی دنیا تک لوگ اس واقعہ کو یاد رکھیں۔
10 یعنی وہ لوگ جو کوئی بات سن کر سنی ان سنی نہیں کردیتے۔ بلکہ اس میں غور کرتے، اس سے عبرت حاصل کرتے، پھر اسے یاد بھی رکھتے ہیں۔
Ayah 69:1411 آغاز قیامت کے حوادث :۔ یہاں سے اب قیامت کی ان چند کیفیات کا ذکر شروع ہو رہا ہے، جن کا اس سورة کی آیت نمبر 3 میں اشارہ کیا گیا تھا۔ یعنی قیامت کا آغاز نفخہ صور اول سے ہوگا۔ اس نفخہ کا فوری اثر یہ ہوگا کہ سب جاندار مخلوق پر موت طاری ہوجائے گی۔ نظام کائنات درہم برہم ہوجائے گا۔ زمین میں پھنسائے ہوئے لمبے چوڑے پہاڑوں کے سلسلے نفخہ صور کی دہشت سے اس طرح ہوجائیں گے جیسے انہیں کوٹ کوٹ کر ریزہ ریزہ بنادیا گیا ہو۔
Ayahs 69:15–1612 یہی قیامت کا دن ہوگا پھر اس کے اثرات زمین تک ہی محدود نہیں رہیں گے بلکہ آسمان بھی ایک بوسیدہ کپڑے کی طرح پھٹنا شروع ہوجائے گا اس میں کئی شگاف اور دراڑیں پڑجائیں گی اور فرشتے جو آسمانوں کے درمیان تدبیر امور پر مامور ہیں سب آسمان کے کناروں کی طرف چلے جائیں گے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آسمانوں کا سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔
Ayah 69:1713 یعنی اس وقت اللہ تعالیٰ کے عرش کو اٹھانے والے فرشتوں کی تعداد چار ہے۔ اس دن آٹھ فرشتے اس عرش کو اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ یہ عرش کتنا بڑا ہے اس کے متعلق عام خیال یہ ہے کہ زمین کو پہلا آسمان محیط ہے۔ دوسرا آسمان پہلے سے بڑا اور اس کو محیط ہے۔ علی ہذا القیاس ساتواں آسمان چھٹے کو محیط ہے۔ پھر اس کے اوپر آٹھواں آسمان ہے جسے کرسی بھی کہتے ہیں اور فلک افلاک بھی۔ پھر اس کے اوپر اللہ کا عرش ہے جیسے محیط ہونے کے لحاظ سے نواں آسمان کہہ لیجئے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
اتنی بڑائی کی باوجود اللہ کا عرش اللہ سے بہرحال چھوٹا ہے اور اکبر اللہ ہی ہے۔ رہی یہ بات کہ فرشتے اللہ کے عرش کو آج کیسے اٹھائے ہوئے ہیں اور اس دن ان کی تعداد دوگنی کیوں کردی جائے گی ؟ تو ان باتوں کے لئے ہمیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہم صرف اتنی بات پر ایمان لاتے ہیں جو اللہ نے واضح طور پر خود بتلا دی ہے۔ نہ اس میں کچھ کمی کرنے کی ضرورت ہے اور نہ اضافہ کی اور نہ کسی قسم کی تاویل کرنے کی۔ اور یہ سب کچھ نفخہ ئصور ثانی کے بعد ہوگا۔ جب تمام لوگ اپنی قبروں سے زندہ اٹھ کھڑے ہوں گے اور میدان محشر میں محاسبہ کے لئے جمع ہوں گے اس وقت اللہ تعالیٰ نزول اجلال فرمائیں گے۔
Ayah 69:1814 یہی وہ دن ہوگا جب تم اللہ کے سامنے پیش کئے جاؤ گے اس پیشی میں تمہارے ارادہ کو کچھ دخل نہ ہوگا بلکہ اضطراراً تمہیں پیش کیا جائے گا اور تمہیں پیش ہونا پڑے گا۔ کوئی شخص اس دن پیشی سے چھپا نہیں رہ سکتا۔ نہ ہی اللہ کے سامنے کوئی بات چھپانا ممکن ہوگی۔
Ayah 69:1915 دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی عدالت میں اس کا شمار اللہ کے فرمانبرداروں اور صالحین میں سے ہوگا۔ اور اس بات کی طرف واضح اشارات موت سے ہی ملنا شروع ہوجاتے ہیں۔ پھر جب اسے اس کے حساب کتاب کا رجسٹر دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یا خود وہ دائیں ہاتھ سے وصول کرے گا تو اسے اس بات سے اتنی خوشی ہوگی کہ وہ پھولا نہ سمائے گا اور وہ دوسروں کو دعوت دے گا کہ ذرا میرا یہ اعمال نامہ تو دیکھو۔ مجھے اس امتحان میں کتنے اچھے نمبر ملے ہیں۔
Ayahs 69:20–2516 داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ ملنے والے کی خوشی کا منظر :۔ چونکہ مجھے یہ یقین تھا کہ مجھ سے میرے اعمال کی بازپرس ہونے والی ہے۔ لہذا میں نے دنیا میں محتاط زندگی گزاری تھی۔ اور ہر ممکن کوشش کی تھی کہ مجھ سے اللہ کی کوئی نافرمانی نہ ہونے پائے۔ ایسے شخص کو فیصلہ کے بعد بلند وبالا باغات میں رہائش کے لیے جگہ ملے گی، کھانے کو لذیذ، مزیدار اور وافر اشیاء اور باغوں کے درختوں کے پھل ان کے سامنے جھک رہے ہونگے۔ تاکہ انہیں اپنے حسب پسند پھل توڑنے کے لیے معمولی سی زحمت بھی گوارا نہ کرنی پڑے۔ یہ سب کچھ پیش کرنے کے بعد انہیں کہا جائے گا کہ خوب مزے اڑاؤ۔ جہاں سے جی چاہے کھاؤ اور جتنا جی چاہے بلاتکلف کھاؤ۔ دنیا میں تم نے اللہ کے احکام کی وجہ سے اپنے آپ پر کئی قسم کی پابندیاں لگا رکھی تھیں۔ آج اتنی ہی تمہیں آزادی دی جاتی ہے۔ یہ نعمتیں اور یہ آزادی تمہارے ان اعمال کی وجہ سے ہے کہ تم دنیا میں پابندیاں برداشت کرتے رہے۔
Ayahs 69:26–2817 بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملنے والے کی حسرت ویاس :۔ جس طرح مومن کو مرنے کے ساتھ ہی ایسے واضح اشارات ملنے لگتے ہیں کہ اس کا انجام کیسا ہونے والا ہے اسی طرح اللہ کے منکروں کو بھی موت کے ساتھ ہی اپنا انجام معلوم ہونے لگتا ہے۔ جب اسے اس کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ نہایت حسرت و یاس سے کہے گا کہ کاش مجھے میرے عملوں کی سزا اعمال نامہ دیئے بغیر ہی دے دی جاتی۔ اور اس طرح سب لوگوں کے سامنے میری رسوائی نہ ہوتی۔ اور حقیقت یہ ہے کہ مجھے یہ یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ میرا نامہ اعمال اس قدر احتیاط کے ساتھ محفوظ کیا جارہا ہے کیا اچھا تھا کہ مرنے کے ساتھ ہی میرا سارا قصہ پاک ہوجاتا نہ دوبارہ زندگی ملتی نہ یہ دن دیکھنا نصیب ہوتا۔ آج میرے لیے یہ بھی ممکن نہیں کہ میں اپنا دنیا میں چھوڑا ہوا مال بطور فدیہ دے کر اپنی گلو خلاصی کراسکوں۔
Ayahs 69:29–3118 سلطانیۃ سلطان کا لفظ بادشاہی اور اقتدار کے معنی میں بھی آتا ہے۔ اس صورت میں اس سے مراد وہ علاقہ ہے جو کسی شخص یا ادارہ یا سلطان کے زیرنگین ہو اور اس پر اس کا تسلط ہو۔ سلطان کا دوسرا معنی حجت، دلیل اور برہان ہے۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جتنی دلیلیں آخرت کے انکار پر دیا کرتا تھا۔ آج ان میں سے کوئی دلیل بھی مجھے یاد نہیں آرہی۔
Ayahs 69:32–3319 اس کافر کی اس قسم کی سوچ بچار اور اس کے متعلق الٰہی فیصلہ کے اعلان کے درمیان کتنی مدت ہوگی ؟ یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ تاہم یہ اعلان اس کے متعلق عدالت الٰہی سے باقاعدہ شہادتوں کی بنا پر کیے ہوئے فیصلہ کے بعد فرشتوں کو یہ حکم دیا جائے گا کہ اس بدبخت کو پکڑ لو اور اس کو طوق پہنا کر جہنم میں پھینک دو ۔ پھر ستر ہاتھ لمبی زنجیر میں اس کو پرو دو تاکہ جہنم کے عذاب کے درمیان یہ حرکت تک بھی نہ کرسکے۔
Ayahs 69:34–3620 دو بنیادی گناہ ہیں جن سے باقی گناہ پھوٹتے ہیں :۔ اس کے اعمال نامہ یا فرد جرم میں دونوں بڑی قسموں کے جرائم پائے جاتے تھے۔ نہ وہ اللہ پر ایمان لایا اور نہ اس کے اوامرونواہی کی پروا کی۔ واضح رہے کہ اگر کوئی شخص زبانی طور پر اللہ کی ہستی کا قائل تو ہو مگر آخرت پر اور اس کے سامنے باز پرس پر ایمان نہ رکھتا ہو۔ تو اس کا زبانی اللہ کی ہستی کا اقرار کچھ فائدہ نہیں دے سکتا۔ کفار مکہ اللہ کی ہستی کے قائل تھے مگر آخرت کے قائل نہ تھے تو اللہ نے انہیں کافر ہی قرار دیا ہے اور یہ جرم عذاب جہنم کے مستحق ہونے کے لئے کافی ہے۔ دوسری نوعیت کے جرائم وہ ہیں جن کا بظاہر حقوق العباد سے تعلق ہوتا ہے۔ اگرچہ ان میں بھی اللہ کے حقوق موجود ہوتے ہیں۔ ان کی عام قسم یہ ہے کہ انسان ایک دوسرے سے ہمدردی کرے۔ تنگی ترشی میں ایک دوسرے کے کام آئے اور مالی مدد کرے اور یہ شخص اتنا بخیل واقع ہوا تھا کہ کسی کی مدد تو کیا کرتا دوسروں کو محتاجوں کی مدد کی تلقین یا انہیں کھانا کھلانے کی ترغیب بھی نہیں دیتا تھا۔
Ayahs 69:37–3821 اس نے دنیا میں خود غرضی کا رویہ اختیار کیا، نہ کسی کی مدد کی، نہ ہمدردی کی، نہ ہی کبھی اسے ایسا خیال تک آیا تھا۔ لہذا آج اسے بھی غم خوار اور ہمدرد میسر نہ آئے گا۔ اور جب وہ بھوک سے بےتاب ہوجائے گا تو اسے اپنے جیسے دوزخیوں کے زخموں کا دھو ون دیا جائے گا یہی اس کی خوراک ہوگی اور یہی اس کا مشروب ہوگا۔ اور یہ بات تو واضح ہے کہ زخموں کا دھو ون نہ کوئی خوراک ہے اور نہ مشروب ہے۔ مگر ایسے مجرموں کو یہی کچھ کھانا پڑے گا۔ کوئی اور چیز انہیں مہیا نہیں کی جائے گی۔ پھر مجرموں کی بھی کئی اقسام ہیں کچھ دوزخی ایسے ہوں گے جنہیں کھانے کو تھوہر دیا جائے گا اور پینے کو کھولتا ہوا پانی۔
Ayah 69:3922 وہ چیزیں جو کافروں کو نظر آتی تھیں اور وہ جو نظر نہیں آتی تھیں وہ کیا ہیں ؟ تم یہ دیکھ رہے ہو، تمہارا یہ صاحب (رسول اللہ) ایک پاکیزہ سیرت انسان ہے۔ اور اس بات کے تم گواہ ہو کہ اس نے زندگی بھر کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ وہ ایک راست باز اور امین آدمی ہے۔ وہ لکھنا پڑھنا نہیں جانتا۔ اس کا کوئی استاد بھی نہیں۔ پھر چالیس سال کی عمر میں یک لخت ایسا معجزہ نما کلام پیش کرنے لگا ہے جس نے تم سب کو چونکا دیا ہے۔ اس نے کہا کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ اور اللہ نے ایک فرشتہ جبریل کے ذریعہ مجھ پر اتارا ہے اور میں اس کا رسول ہوں۔ تم نے انکار کیا تو اس نے تمہیں چیلنج کردیا کہ اگر یہ اللہ کا کلام نہیں تو تم اس جیسا کلام بنا لاؤ اور اپنے سب ادیبوں اور شاعروں اور علماء کو اپنی مدد کے لیے بلا لو۔ مگر تم اس کا جواب دینے سے عاجز رہے پھر تم یہ بھی دیکھ رہے ہو کہ جو کلام پیش کرتا ہے سب سے پہلے خود ان پر عمل پیرا ہوتا ہے پھر اس کے ساتھی بھی ان احکام کی تعمیل کرتے ہیں جن سے ان کے اخلاق سدھر رہے ہیں۔ تمہاری طعن وتشنیع کو دشنام طرازیوں اور تمہاری ایذارسانیوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کر رہے ہیں اور تمہاری کارروائیوں کا زبان سے بھی جواب نہیں دیتے۔ یہ چیزیں تو وہ ہیں جو تم دیکھ رہے ہو اور جو نہیں دیکھ رہے وہ یہ ہیں کہ نہ تمہیں اللہ نظر آتا ہے نہ اس کے فرشتے جن کا تمام تر ظاہری اور باطنی اسباب پر کنٹرول ہے۔ اور نہ وہ فرشتہ جبریل جو قرآن لے کر تمہارے صاحب کے دل پر نازل ہوتا ہے۔ نہ تمہیں یہ نظر آسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ غیب سے مسلمانوں کی کیسے امداد کر رہا ہے اور نہ تمہیں یہ نظر آسکتا ہے کہ کون سے اسباب کے ذریعہ تمہاری جڑ کٹ جانے والی ہے ؟