Ayahs 69:40–4223 قرآن چونکہ اللہ کا کلام ہے جو جبریل کی زبان سے ادا ہوتا ہے۔ لہذا یہاں معزز رسول سے جبریل (علیہ السلام) بھی مراد لیے جاسکتے ہیں۔ اور اس لحاظ سے کہ بعینہ وہی الفاظ آپ کی زبان سے ادا ہوتے ہیں۔ معزز رسول سے آپ کی ذات بھی مراد لی جاسکتی ہے۔
Ayahs 69:43–4624 رسول اور شاعر کا فرق اور آپ کے شاعر نہ ہونے کی وجوہ :۔ یعنی جو باتیں تم دیکھتے ہو اور جو تم نہیں دیکھتے۔ میں ان سب کو اس بات پر شاہد بنا کر کہتا ہوں کہ یہ قرآن اللہ رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ رسول اللہ کا یا کسی دوسرے کا تصنیف کردہ نہیں ہے۔ جیسا کہ تم الزام دیتے رہتے ہو۔ اور جو چیزیں تم دیکھتے ہو کم از کم انہی کی بنا پر اگر تم تھوڑا سا غور کرلو تو تمہیں از خود معلوم ہوجائے کہ یہ قرآن نہ کسی شاعر کا قول ہوسکتا ہے اور نہ کسی کاہن کا، شاعر کے تخیل کی پرواز میں میدان زندگی کا ہر اچھا یا برا پہلو ہوسکتا ہے۔ ماحول کا تاثر اس کی طبیعت پر غالب رہتا ہے اور معاشرہ کی اکثریت چونکہ گمراہ ہوتی ہے۔ لہذا اس کا تخیل بھی انہی راستوں پر پرواز کرتا ہے۔ جبکہ قرآن صرف بھلائی ہی بھلائی کا راستہ دکھاتا ہے۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ شاعر کے افکار و نظریات میں اور بندش کلام میں عمرو عقل کی پختگی، تجربہ اور ممارست کی وجہ سے تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ لیکن کلام اللہ ایسی تبدیلی اور قباحت سے یکسر پاک ہے اس نے جو بات پہلے دن پیش کی۔ پھر اس کے بعد جو کچھ پیش کیا۔ پہلے نظریہ کی تائید میں ہی پیش کیا۔ اور اس کی فصاحت و بلاغت، الفاظ کی بندش، طرز بیان میں کبھی فرق نہیں آیا۔ علاوہ ازیں شاعر جو کچھ ڈینگیں مارتا ہے اور لاف زنی کرکے لوگوں کے جذبات میں وقتی طور پر ایک ہیجان سا پیدا کردیتا ہے۔ مگر وہ اپنی اس لاف زنی پر نہ کبھی عمل پیرا ہوتا ہے نہ ہوسکتا ہے۔ جبکہ قرآن کو پیش کرنے والا رسول جو کچھ پیش کرتا ہے اس پر عمل بھی کرتا ہے۔ پھر تم کیسے کہتے ہو کہ یہ قرآن شاعری اور اس کی طرف دعوت دینے والا رسول شاعر ہے۔
خ آپ کے کاہن نہ ہونے کی وجوہ :۔ یہ قرآن کسی کاہن کا کلام اس لئے بھی نہیں کہ کہانت کا ماخذ جنات اور خبیث روحیں ہیں جو ملاء اعلیٰ سے کوئی نہ کوئی بات سن لیتیں اور جھوٹ سچ ملا کر کاہنوں تک پہنچاتی ہیں۔ لہذا ان کی بتائی ہوئی غیب کی خبریں اکثر غلط ہوتی ہیں اور کبھی کبھار کوئی خبر صحیح بھی نکل آتی ہے۔ جبکہ قرآن کی خبروں کا ماخذ وحی الٰہی ہے جن کا جھوٹ ثابت ہونا ناممکنات سے ہے۔ ایسی بہت سی پیشگوئیاں قرآن میں مذکور ہیں۔ اور بہت سی احادیث میں بھی ہیں جن میں سے کئی باتیں اپنے وقت پر تمہاری آنکھوں کے سامنے پوری ہو رہی ہیں۔ کاہن اور نبی میں دوسرا فرق یہ ہے کہ کاہن صرف غیب کی خبریں دیتا ہے خواہ وہ سچی ہوں یا غلط، جبکہ قرآن اور رسول کی بعثت کا مقصد زندگی کے جملہ پہلوؤں میں انسان کی رہنمائی ہے۔ پھر تم کیسے کہتے ہو کہ یہ کاہن کا کلام ہے۔ اگر تم خود ہی تھوڑا سا غور کرلو تو تمہیں از خود معلوم ہوجائے کہ قرآن نہ کسی شاعر کا کلام ہوسکتا ہے اور نہ کاہن کا۔ مگر افسوس تو یہ ہے کہ تم غور کرتے ہی نہیں۔ بس تمہیں صرف کچھ نہ کچھ الزام لگانے کی ہی پڑی رہتی ہے۔
Ayahs 69:47–4825 قادیانیوں کا مرزا قادیانی کی نبوت پر استدلال اور اس کا جواب :۔ ذرا سوچو اگر کسی بادشاہ کا کوئی سفیر یا نائب بادشاہ کا پیغام پہنچانے کی بجائے اپنی طرف سے ہی پیغام دینا شروع کردے اور یہ کہے کہ یہ بادشاہ کی طرف سے پیغام ہے تو بادشاہ اپنے ایسے غدار سفیر یا نائب سے کیا سلوک کرے گا۔ اسے جلاد کے حوالے کرنے کی بجائے یہ چاہے گا کہ خود اپنے ہاتھ سے اس کی گردن اڑا دے۔ پھر کیا اگر اللہ کا یہ رسول اپنی طرف سے باتیں بناکر انہیں اللہ کی طرف منسوب کردے تو کیا اللہ اسے معاف کر دے گا ؟ وہ تو اللہ کی نظروں میں سب سے بڑا مجرم ہوگا۔ جس نے اللہ کے کلام میں اپنا کلام شامل کرکے اس سارے کلام کو ہی مشکوک اور بےاعتبار بنادیا۔
واضح رہے ان آیات سے نبوت کے جھوٹے مدعیوں نے دلیل پکڑی ہے کہ ہم سچے نبی ہیں اگر ہم جھوٹے ہوتے تو ہمیں فوراً ہلاک کردیا جاتا۔ یہ استدلال انتہائی غلط ہے۔ اس لیے کہ یہ وعید تو اس نبی کے لیے ہے جس کا نبی ہونا پہلے دلائل وبراہین سے ثابت ہوچکا ہے۔ یہ وعید اس کے لیے نہیں جس کا نبی ہونا ہی ثابت نہ ہو۔ مثلاً حکومت کا ایک اعلیٰ افسر حکومت کے احکام کی بجائے اپنے احکام چلانے لگے تو حکومت اسے سخت سزا دے گی۔ لیکن اگر کوئی موچی یا سڑک کوٹنے والا یا بھنگی لوگوں سے یہ کہنا شروع کردے کہ میرے واسطہ سے تم کو گورنمنٹ کے یہ احکام دیئے جاتے ہیں۔ ایسے شخص کی باتوں پر کوئی بھی اعتبار نہیں کرے گا۔ نہ ہی حکومت ایسے لوگوں کی بکواس کو درخور اعتنا سمجھتی ہے کہ ایسے لوگوں کو تلاش کرکے انہیں سزا دیا کرے۔ لوگوں نے تو نبوت کے بجائے خدائی کے بھی دعوے کئے۔ کئی لوگوں نے ان کی خدائی کو تسلیم بھی کیا۔ پھر بھی اللہ نے ایسے خداؤں کو فوراً کوئی سزا نہیں دی۔ اس لئے کہ یہ سراسر باطل ہے اور لوگوں کی آزمائش کا ذریعہ بھی۔ کئی بہروپئے اپنے آپ کو اعلیٰ افسر ظاہر کرتے ہیں اور بعض لوگ ان سے دھوکا بھی کھا جاتے ہیں۔ مگر حکومت ایسے جعلی بہروپیوں کو کوئی سزا نہیں دیتی۔ علاوہ ازیں ان آیات میں آپ کی نبوت پر استدلال ہے ہی نہیں بلکہ استدلال اس بات پر ہے کہ یہ قرآن کریم خالص اللہ کا کلام ہے۔ جس میں نبی کے کلام کی آمیزش بھی قطعاً ناقابل برداشت ہے۔ خواہ وہ کلام اللہ کی تفسیر ہی کیوں نہ ہو۔
Ayahs 69:49–5026 یعنی جو لوگ غلط روی اور اس کے برے نتائج سے بچنا چاہتے ہیں وہ تو یقیناً اس قرآن سے نصیحت حاصل کریں گے۔ اور جن لوگوں کو اپنی اصلاح کی فکر ہی نہیں یا وہ اس کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے وہ قرآن کو نہ اللہ کا کلام سمجھتے ہیں اور نہ اس سے نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ لیکن ایک وقت آنے والا ہے جب وہ اپنے رویہ پر سخت نادم ہوں گے اور ان کا قرآن کو جھٹلانا ان کے لئے سخت حسرت و پشیمانی کا موجب ہوگا۔ لیکن اس وقت پچھتانے کا کچھ فائدہ نہ ہوگا۔
Ayahs 69:51–5227 حق الیقین، یقین کا آخری درجہ جو بار بار کے تجربوں کے بعد حاصل ہو۔ جیسے ہر جاندار کو بالآخر موت سے دوچار ہونا پڑے گا۔ یا کوئی جاندار کھانے پینے کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ یا آگ کا کام جلانا ہے اور ایسی بیشمار حقیقتیں ہیں جن کے یقینی ہونے میں ذرہ بھر شبہ نہیں ہوتا۔ قرآن بھی ایسی ہی ایک ٹھوس حقیقت ہے اس کے مضامین سراپا سچ ہیں جو عقل اور تجربہ کی کسوٹی پر بھی پورے اترتے ہیں اور ہر طرح کے شک و شبہ سے بھی بالاتر ہیں۔ لہذا ہر شخص کو چاہیے کہ اس پر ایمان لا کر اس کے نازل کرنے والے کی تسبیح وتحمید میں مشغول رہے جس نے انہیں یہ گرانقدر نعمت عطا فرمائی ہے۔