Ayah 70:21 کافر ایسا عذاب طلب کرتے ہی رہتے تھے۔ اللہ سے بھی اپنے حق میں ایسی دعا کیا کرتے تھے جیسا کہ سورة انفال کی آیت نمبر 32 میں مذکور ہے کہ کافر کہتے تھے کہ اے اللہ ! اگر یہ قرآن واقعی تیری طرف سے نازل ہوا ہے تو ہم پر پتھروں کی بارش برسا یا ہم پر عذاب بھیج دے۔ روایات میں ایسی بددعا کرنے والوں کے دو نام مذکور ہیں ایک ابو جہل بن ہشام اور دوسرا نضر بن حارث، اس بددعا سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ قرآن کو اللہ کی طرف سے نازل شدہ تسلیم کرنے کو قطعاً تیار نہیں تھے۔ نہ ہی انہیں قرآن کی وعید کا کچھ اعتبار تھا۔ یہ تو ان لوگوں کا دنیوی عذاب سے متعلق مطالبہ تھا۔ اخروی عذاب کا مطالبہ کرنے والے تو بہت تھے جو از راہ تمسخر و استہزاء آپ ﷺ سے کہا کرتے کہ جس عذاب سے دھمکاتے ہو وہ لے کیوں نہیں آتے یا یوں کہتے کہ جس عذاب سے ہمیں ڈراتے رہتے ہو وہ آئے گا کب ؟ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ وہ عذاب آئے گا بھی ضرور اور جب بھی آیا تو پھر تمہاری خیر نہیں تمہیں کوئی اس سے بچا نہ سکے گا۔
Ayah 70:32 معارج کی لغوی تشریح :۔ معارج ( مِعْرَجْ اور معراج کی جمع) عَرَجَ میں دو باتیں بنیادی طور پر پائی جاتی ہیں۔ جھکاؤ اور بلندی اور عَرَجَ فِیْ السِّلْمِ بمعنی سیڑھی یا زینہ پر چڑھنا۔ سیڑھی پر چڑھنے کے لیے آگے کی طرف جھکنا بھی پڑتا ہے اور بلندی کی طرف چڑھنا عام چلنے کی نسبت دشوار بھی ہوتا ہے۔ نیز عرج کے معنی لنگڑا کر چلنا اور أعْرَجَ بمعنی لنگڑا۔ کیونکہ لنگڑا کر چلنے میں بھی یہ دو باتیں پائی جاتی ہیں آگے کو جھکاؤ بھی اور بلندی پر چڑھنے جیسی دشواری بھی۔ اور معراج کے معنی بلندی پر چڑھنے کا ذریعہ بھی یعنی سیڑھی یا زینہ وغیرہ اور وہ بلند جگہ بھی جہاں پہنچنا مقصود ہو۔ رسول اللہ ﷺ کو معراج ہوا تھا تو معراج سے مراد بلند مقام ہے جہاں تک اللہ تعالیٰ آپ کو لے جانا چاہتا تھا۔ اور (ذِی الْمَعَارِجِ ) کا معنی وہ بلند وبالا ذات جس کے سامنے سب بلندیاں ہیچ ہوں۔ بلند سے بلند مقامات کا مالک۔ گویا کافروں پر یہ ٹلنے والا عذاب ایسی بلند ذات کی طرف سے آئے گا۔
Ayah 70:43 لفظ یوم کی مختلف مدتیں :۔ یوم یعنی دن۔ یعنی غروب آفتاب سے لے کر اگلے دن کے غروب آفتاب تک کا وقت۔ لیل اور نہار کے وقت کا مجموعہ یا 24 گھنٹے کی مدت۔ اور یوم کی یہ مدت ہم اہل زمین کے لئے ہے۔ چاند پر یہ یوم ہمارے حساب سے تقریباً ایک ماہ کا ہے۔ عطارد (Mercury) پر یہ دن ہمارے 88 دنوں کے برابر ہے۔ قطب شمالی اور جنوبی پر تقریباً ایک سال کا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو چھ دنوں میں پیدا کیا تو یہاں دن سے مراد مدت کا ایک طویل دور ہے جو ہمارے حساب سے لاکھوں سال کا بھی ہوسکتا ہے۔ قرآن میں ایک مقام پر یوم کی مقدار ایک ہزار سال بتائی گئی ہے۔ (22: 47) اس مقام پر مجرم قوموں پر دنیا میں عذاب آنے کا ذکر ہے۔ اور اس مقام پر یوم کی مقدار پچاس ہزا رسال بتائی گئی ہے۔ رہی یہ بات کہ جبریل امین یا دوسرے فرشتے یا نیک لوگوں کی ارواح اس بلندیوں کے مالک تک پچاس ہزار سال میں چڑھتے ہیں۔ تو یہ بات ہماری سمجھ سے باہر ہے کیونکہ یہ بات خالصتاً صفات الٰہی سے تعلق رکھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کون سی اسکیم یا منصوبہ کی تکمیل کے بعد فرشتے اور جبریل امین اس کی طرف اتنی مدت میں چڑھتے ہیں ؟ اس کی جو بھی صورت پیش کریں گے وہ ناقص ہی ہوگی۔ اس کا ٹھیک مطلب اللہ ہی جانتا ہے۔ البتہ احادیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ قیامت کے دن کی مدت پچاس ہزار سال ہوگی۔ یہی وہ دن ہوگا جس میں کافروں کو یقیناً عذاب دیا جائے گا۔ یہ عذاب بلندیوں کے مالک کی طرف سے ہوگا اور کوئی طاقت کافروں کو اس عذاب سے بچا نہ سکے گی۔
Ayah 70:54 صبر جمیل کا مفہوم اور فائدہ :۔ صبر جمیل یہ ہے کہ کسی کے طعن وتشنیع، مذاق و تمسخر اور ایذا رسانی کو ٹھنڈے دل سے برداشت کرلیا جائے۔ خود تکلیف سہہ لی جائے مگر تکلیف پہنچانے والے کو زبان سے بھی برا بھلا نہ کہا جائے۔ نہ ہی دوسروں سے اس کی شکایت اور شکوہ کیا جائے اور یہ تجربہ شدہ بات ہے کہ صبر جمیل جس قدر تلخ اور ناگوار ہوتا ہے اس کا پھل اتنا ہی میٹھا ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ خود صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ مکی دور میں مسلمانوں کو اور آپ ﷺ کو صبر جمیل ہی کی تلقین کی جاتی رہی وجہ یہ تھی کہ اگر مسلمان اس دور میں محاذ آرائی پر اتر آتے، خواہ یہ صرف زبانی تلخ کلامی تک ہی محدود ہوتی تو اس سے اسلام کی دعوت کے مقصد کو شدید نقصان پہنچ سکتا تھا۔ اسلام کی منزل مقصود یہ تھی کہ اللہ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے۔ جو تیئس سال کے قلیل عرصہ میں حاصل ہوگئی اور اگر مسلمان اسی دور میں محاذ آرائی شروع کردیتے تو نہ معلوم اس مقصد کے حصول میں کتنی لمبی مدت کی تاخیر واقع ہوجاتی۔
Ayahs 70:6–75 یعنی قیامت کو اور اس کے عذاب کو بعید از قیاس یا ناممکن سمجھ رہے ہیں۔ حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ عنقریب واقع ہونے والا ہے۔
Ayah 70:86 مُھْل کے معنی پگھلا ہوا تانبا بھی اور تیل کی تلچھٹ بھی۔ اور ان دونوں چیزوں کی رنگت سرخی مائل ہوتی ہے۔ یعنی آج تو ہمیں آسمان نیلگوں نظر آتا ہے اس دن یہ اپنا رنگ بدلنا شروع کردے گا حتیٰ کہ نیلگوں ہونے کی بجائے سرخی مائل ہوجائے گا۔
Ayahs 70:9–107 پہاڑوں کے پتھر بھی کئی رنگوں کے ہوتے ہیں مثلاً سرخ، سفید، کالے، دھاری دار اسی طرح اون کے عموماً یہی رنگ ہوتے ہیں۔ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہو کر ہوا میں اڑنے لگیں گے تو ایسا معلوم ہوگا کہ رنگ برنگی دھنکی ہوئی روئی کے گالے اڑے رہے ہیں۔
Ayahs 70:11–138 دکھائے اس لیے جائیں گے کہ بھلا آج بھی وہ ایک دوسرے کو اپنی ہمدردیاں جتاتے ہیں یا نہیں ؟ جیسا کہ دنیا میں جتایا کرتے تھے۔ مگر اس دن یہ دوست ایک دوسرے سے بات تک کرنے کے روا دار نہ ہونگے۔ ہر ایک کو اپنی ہی فکر دامنگیر ہوگی۔
Ayahs 70:14–159 اس دنیا میں یہ کیفیت دیکھی جاسکتی ہے کہ بسا اوقات باپ بیٹے پر، بیٹا باپ پر، خاوند بیوی پر، بیوی خاوند پر، ماں بیٹے پر، بیٹا ماں پر، دوست دوست پر فدا ہوجاتا ہے۔ اگرچہ ایسی مثالیں کم ہیں تاہم مل ضرور جاتی ہیں۔ مگر اس دن یہ حال ہوگا کہ مجرم یہ سوچے گا کہ ماں، باپ اور اولاد تو درکنار میری طرف سے ساری دنیا جہنم میں جاتی ہے تو جائے میری بلا سے بس ایک میں جہنم کے عذاب سے بچ جاؤں۔ لیکن اس کی یہ آرزو کبھی پوری نہ ہوسکے گی۔
Ayah 70:1610 شویٰ بمعنی جسم کے اطراف۔ ہاتھ پاؤں اور وہ اعضاء جن پر زخم لگنے سے موت واقع نہ ہو۔ کہتے ہیں رَمَاہَ فَاَشْوَاہ، یعنی اس نے اسے تیر مارا تو اس کے اطراف پر لگا۔ یعنی کسی ایسے عضو پر نہیں لگا جس پر زخم لگنے سے موت واقع ہوتی۔ یعنی جہنم کی آگ ان کی کھالوں کو کھینچ لے گی۔ کھالیں گل جائیں گی جسم ننگے بےکھال ہوجائیں گے مگر یہ آگ مجرموں کی جان ختم نہیں کرسکے گی۔
Ayahs 70:17–1811 آیت نمبر 17 اور نمبر 18 میں انہیں دو بنیادی جرائم کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو انسان کو جہنم کا مستحق بنا دیتے ہیں۔ اور ان جرائم کا ذکر سورة الحاقۃ کی آیت نمبر 33 اور 34 کے حاشیہ میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔ ایسے ہی لوگوں کو جہنم اپنے ہاں بلا لے گی۔ اور ایک روایت کے مطابق جہنم سے ایک گردن نکلے گی جو جہنم کے مستحق لوگوں کو یوں چن چن کر اٹھا لے گی جیسے کوئی پرندہ زمین سے پڑا ہوا دانہ اٹھا لیتا ہے۔
Ayahs 70:19–2012 ھلوعا کا لغوی مفہوم :۔ ھَلُوْعًا بمعنی بےقرار، بےثبات، ایک حالت پر قائم نہ رہنے والا۔ حالات کی تبدیلی کا فوراً اثر قبول کرلینے والا۔ یعنی انسان فطری طور پر ایسا ہی پیدا ہوا ہے۔ یہ کیفیت ایک عام دنیا دار انسان یا انسانوں کی اکثریت کی ہے۔ اور جو لوگ ایمان لا کر اپنی اصلاح کرلیتے ہیں ان کے دل کی یہ کیفیت نہیں رہتی ان کے دل میں صبر و سکون اور ٹھہراؤ پیدا ہوجاتا ہے۔
Ayah 70:2113 یعنی انسان کی عمومی سرشت یہی ہے کہ اسے جب کوئی تکلیف پہنچے۔ کوئی بیماری آلگے یا معاشی تنگی میں مبتلا ہو تو صبر کے ساتھ وہ وقت گزارنے کے بجائے جزع و فزع شروع کردیتا ہے۔ کبھی تقدیر کو کو سنے لگتا ہے اور کبھی اپنے نصیبوں کو اور جب اللہ اس سے اس کی تکلیف کو دور کردیتا ہے تو پھر بھی اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا۔ بلکہ مال و دولت کو گلے سے ایسے لگا لیتا ہے جیسے خزانے پر سانپ بیٹھا ہو۔ پھر وہ ایسا ننانوے کے چکر میں پڑجاتا ہے کہ کسی غریب محتاج کی مدد کرنا اور اس کی کسی ضرورت کو پورا کرنا تو درکنار، اپنے اہل و عیال بلکہ اپنی ذات پر خرچ کرنا گوارا نہیں کرتا۔ اس کی بس ایک ہی ہوس ہوتی ہے کہ اس کی دولت میں روزافزوں اضافہ ہوتا رہے۔
Ayah 70:2214 یہ دونوں حالتیں، یعنی تنگ دستی میں صبر کے بجائے شکوہ و شکایت اور خوشحالی میں اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے بخل اور پیسہ سے والہانہ محبت ایسی چیزیں ہیں جو انسان کو جہنم میں لے جانے والی ہیں۔ البتہ جن لوگوں میں اور بالخصوص جن ایمانداروں میں مندرجہ ذیل آٹھ صفات، جو آگے آیت نمبر 22 سے 34 تک مذکور ہیں، پائی جائیں وہ عذاب جہنم سے محفوظ رہیں گے۔ اور ان میں مذکورہ بالا قباحتیں بھی ختم ہوجائیں گی۔
Ayah 70:2315 دائمون کے دو مفہوم :۔ سب سے پہلی اور اہم صفت یہ ہے کہ وہ نماز ادا کرتے ہیں۔ بروقت ادا کرتے ہیں۔ باجماعت ادا کرتے ہیں۔ ٹھیک طرح سے خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ اور ہمیشہ ادا کرتے ہیں اور باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں۔ اس آیت میں دَائِمُوْنَ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ دوام کا ایک معنی تو ہمیشگی ہے اور دام الشَیْیُ بمعنی کسی چیز کا عرصہ دراز تک بلا تغیر ایک ہی حالت میں رہنا، ترجمہ میں یہی معنی اختیار کیا گیا ہے اس کا دوسرا معنی سکون اور ٹھہراؤ ہے اور ماء الدَّائِمِ بمعنی کھڑا پانی جس میں کچھ حرکت نہ ہو۔ اس لحاظ سے معنی یہ ہوگا کہ وہ لوگ اپنی نماز کو نہایت سکون، ٹھہراؤ، اطمینان قلب اور خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ وہ نہ یہ کرتے ہیں کہ منافقوں کی طرح جلدی جلدی چند ٹھونگیں ماریں اور فٹا فٹ نماز سے فارغ ہوئے۔ اور نہ یہ کرتے ہیں کہ بس ایک اللہ کی یاد کو دل و دماغ میں نہ لائیں باقی ادھر ادھر کی ساری باتیں نماز میں سوچتے رہیں۔
Ayahs 70:24–2616 سوال کرنا صرف تین طرح کے لوگوں کو جائز ہے :۔ سائل سے مراد پیشہ ور گداگر نہیں۔ ایسی گداگری کا اسلام میں کوئی جواز نہیں سائل سے مراد وہ شخص ہے۔ جو فی الواقع مانگنے پر مجبور ہو۔ چناچہ سیدنا قبیصہ بن مخارق کہتے ہیں کہ میں ایک شخص کا ضامن ہوا۔ پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اس بارے میں سوال کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : یہاں ٹھہرو تاآنکہ ہمارے پاس صدقہ آئے پھر ہم تیرے لیے کچھ حکم کریں گے۔ پھر مجھے مخاطب کرکے فرمایا : قبیصہ ! تین شخصوں کے سوا کسی کو سوال کرنا جائز نہیں۔ ایک وہ جو ضامن ہو اور ضمانت اس پر پڑجائے جس کا وہ اہل نہ ہو۔ وہ اپنی ضمانت کی حد تک مانگ سکتا ہے۔ پھر رک جائے دوسرے وہ جسے ایسی آفت پہنچے جو اس کا سارا مال تباہ کردے۔ وہ اس حد تک مانگ سکتا ہے کہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل ہوجائے اور تیسرے وہ شخص جس کو فاقہ کی نوبت آگئی ہو اور اس کے قبیلہ کے تین معتبر شخص گواہی دیں کہ فلاں کو فاقہ پہنچا ہے۔ اسے سوال کرنا جائز ہے تاآنکہ اس کی محتاجی دور ہوجائے پھر فرمایا : اے قبیصہ ان تین قسم کے آدمیوں کے سوا کسی اور کو سوال کرنا حرام ہے اور ان کے سوا جو شخص سوال کرکے کھاتا ہے وہ حرام کھا رہا ہے۔ (مسلم۔ کتاب الزکوٰۃ۔ باب من تحل لہ المسئلۃ)
نیز سیدنا ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : جو شخص اپنا مال بڑھانے کے لیے لوگوں سے سوال کرتا ہے۔ وہ دراصل آگ کے انگارے طلب کر رہا ہے اب وہ چاہے تو کم کرے یا زیادہ اکٹھے کرلے (بخاری۔ کتاب الوصایا۔ باب تاویل قولہ تعالیٰ من بعد وصیۃ توصون بہا اودین) اور محروم سے مراد وہ شخص ہے جو سوال کرنے کا مستحق ہونے کے باوجود سوال کرنے سے ہچکچاتا ہو۔ جسے ہماری زبان میں سفید پوش کہتے ہیں۔ علاوہ ازیں محروم سے مراد وہ شخص بھی ہے جو روزگار کی تلاش میں ہو اور روزگار اسے میسر نہ آرہا ہو یا جتنی روزی کما رہا ہے اس سے اس کی ضروریات پوری نہ ہوتی ہوں یا روزی کمانے کے قابل ہی نہ ہو۔ جیسے بوڑھا، بیمار، اندھا، لنگڑا، اپاہج وغیرہ۔
Ayahs 70:27–3017 روز جزا و سزا کی تصدیق کرنے سے مراد یہ ہے کہ وہ اللہ کے حضور اپنے اعمال کی جوابدہی پر پورا پورا یقین رکھتے ہیں۔ پھر اسی تصدیق کے نتیجہ میں وہ ہر اس کام سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں جس پر اللہ کے عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ اور انہیں ہر وقت یہ خطرہ لاحق رہتا ہے کہ کہیں ہماری کو تاہیاں ہماری نیکیوں سے بڑھ نہ جائیں۔ جو ہمیں اللہ کے عذاب کا مستحق بنادیں۔
Ayah 70:3118 آیت نمبر 29، 30 اور 31 کی تشریح کے لیے دیکھئے سورة مومنون کی آیت نمبر 5، 6، 7 کے حواشی اس کے علاوہ النور آیت نمبر 30 اور الاحزاب آیت نمبر : 35 بھی ملاحظہ فرمائیں۔
Ayah 70:3219 اس آیت کی تشریح کے لیے دیکھئے سورة مومنون کی آیت نمبر 8 کا حاشیہ
Ayah 70:3320 شہادت کا مفہوم اہمیت اور شہادت پر قائم رہنے کی تاکید :۔ شہادت اس بیان کو کہتے ہیں جو ایک گواہ، خواہ وہ عینی گواہ ہو یا بعض حقائق کو علم کی حد تک جانتا ہو جسے قلبی شہادت کہتے ہیں، عدالت میں حاضر ہو کر قاضی کے سامنے دیتا ہے۔ اور قاضی اور عدالت سے مراد ہر وہ فرد یا ادارہ ہے جو فیصلہ کرنے کے بعد اپنے فیصلہ کو نافذ کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہو۔ عدالتوں کے ہاں یہ قوت نافذہ پولیس ہوتی ہے۔ اسی طرح کسی فیصلہ کرنے والی پنچائت یا کونسل کو بھی عدالت کہہ سکتے ہیں اور کوئی گواہ کسی بےتعلق آدمی کے سامنے وہی بیان دے جو وہ عدالت میں دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تو ایسے بیان دینے کو شہادت نہیں کہیں گے۔ چونکہ شریعت نے فیصلہ کا انحصار شہادتوں پر رکھا ہے۔ اور قاضی شہادتوں سے باہر ہو کر فیصلہ نہیں دے سکتا حتیٰ کہ فوجداری مقدمات میں اپنے ذاتی علم کی بنا پر بھی فیصلہ نہیں دے سکتا۔ اس لئے ایک گواہ کی شہادت بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ اسی لئے قرآن میں بیشمار مقامات پر شہادت صاف صاف دینے اور اس پر قائم رہنے کی بڑی تاکید آئی ہے۔ اس کے مقابلہ میں شہادت الزور کو کبیرہ گناہ قرار دیا گیا ہے۔ شہادت کا کچھ حصہ چھپا جانا، یا عند الضرورت شہادت سے انکار کردینا یا خاموش رہنا اور کچھ بھی بیان نہ دینا یا بیان کو گول مول کر جانا یا اس بیان کو اس طرح توڑ موڑ کر یا ہیر پھیر کر بیان کرنا جس سے مجرم بچ جائے یا کسی بھی فریق کی حق تلفی ہو رہی ہو یا جانبداری سے کام لے کر اس کے جرم سے زیادہ سزا دلوانے کی کوشش کی جائے یہ سب صورتیں حرام، گناہ کبیرہ اور شہادۃ الزور کے ضمن میں آتی ہیں۔ گویا ایمانداروں کی ایک نہایت اعلیٰ صفت یہ بھی ہے کہ وہ صاف سیدھی شہادت پر قائم رہتے ہیں۔
Ayahs 70:34–3621 سورة مومنون کی ابتدا میں فلاح پانے والے ایمانداروں کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ جو بہت حد تک انہی صفات سے ملتی جلتی ہیں جو یہاں بیان کی جارہی ہیں سورة مومنون میں ان صفات کی ابتدا بھی نماز سے ہوئی تھی اور انتہا بھی نماز پر ہی ہوئی۔ اور اس مقام پر بھی بعینہ وہی صورت ہے جس سے دین میں نماز کی اہمیت کا ٹھیک طور پر اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
Ayah 70:3722 جب رسول اللہ ﷺ لوگوں کو قرآن سنانے، وعظ و نصیحت کرنے اور احوال قیامت بیان کرنے کے لیے کھڑے ہوتے اور اس مقصد کے لیے آپ عموماً کعبہ اور اس کے آس پاس ہی کھڑے ہوتے تھے۔ کافر آپ ﷺ کی آواز سن کر چاروں طرف سے آپ ﷺ کی طرف دوڑے چلے آتے تھے۔ آکر کبھی شور مچانا شروع کردیتے، کبھی تالیاں بجاتے، کبھی مذاق اڑاتے تھے اور ان کی ان کرتوتوں سے ان کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ اول تو کوئی شخص قرآن سننے ہی نہ پائے اور اگر کسی کے کان میں کچھ پڑ بھی جائے تو اس کا اثر قبول نہ کرے۔
Ayah 70:3823 بایں ہمہ ان کافروں کا یہ خیال بھی تھا کہ اگر مسلمانوں کے کہنے کے مطابق دوسری زندگی اور جنت اور دوزخ ہوئی بھی تو ہم ان مسلمانوں سے پہلے جنت میں جائیں گے۔ اپنے اسی نظریہ کو کبھی وہ ان الفاظ میں ادا کرتے تھے کہ جو پروردگار آج ہم پر مہربان ہے۔ اگر دوسری زندگی ہوئی تو آخر کیا وجہ ہے کہ اس دنیا میں ہم پر ناراض ہو وہ وہاں بھی ہم پر مہربان ہی رہے گا۔
Ayah 70:3924 یعنی ان کی کرتوتیں یہ ہیں کہ اللہ کے کلام کو جھٹلاتے اور اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ پیغمبر اسلام ﷺ اور مسلمانوں کی مخالفت میں سردھڑ کی بازی لگا رکھی ہے۔ انہیں تکلیفیں پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اسلام کی راہ روکنے کی سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ اس پر امیدیں یہ لگائے بیٹھے ہیں کہ نعمتوں والی جنت بھی ہمارے لئے ہے۔ ان کی یہ توقع بالکل بےہودہ اور باطل ہے۔ وہ یہ نہیں سوچتے کہ جس خالق نے انہیں پانی کے حقیر و ذلیل قطرہ سے پیدا کرکے اس منزل پر پہنچایا ہے وہ انہیں ویسی ہی حقیر اور ذلیل حالت کی طرف لوٹا بھی سکتا ہے۔
Ayah 70:4025 مشرق عموماً سورج کے طلوع ہونے کی جگہ اور مغرب سورج کے غروب ہونے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ سورة مزمل میں ایک مشرق اور ایک مغرب کا ذکر ہے۔ سورة الرحمن میں دو مشرقوں اور دو مغربوں کا ذکر ہے۔ اور اس مقام پر بہت سے مشرقوں اور مغربوں کا ذکر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موسم سرما کے سب سے چھوٹے دن یعنی 22 دسمبر کو سورج مشرق کی طرف سے نکلنے کے باوجود جنوب کی طرف بہت زیادہ مائل ہوتا ہے۔ اسی طرح اس دن سورج کا مغرب بھی جنوب کی طرف بہت زیادہ مائل ہوتا
ہے۔ اسی طرح موسم گرما میں سب سے بڑے دن یعنی 22 جون کو سورج مشرق کی سمت سے نکلنے کے باوجود شمال کی طرف بہت زیادہ مائل ہوتا ہے اسی طرح اس دن جب مغرب میں غروب ہوتا ہے تو شمال کی طرف بہت زیادہ مائل ہوتا ہے اور جب دن رات برابر ہونے کے دن یعنی 22 مارچ اور 22 ستمبر کو سورج عین مشرق سے طلوع ہو کر عین مغرب میں غروب ہوجاتا ہے جیسا کہ سامنے کے نقشے سے واضح ہے :
ب ج
الف د
اس نقشہ میں مقام الف اور ب مشرقین ہیں اور مقام ج اور د مغربین ہیں۔ پھر ان مشرقین اور مغربین کے درمیان 365 مشرق ہیں اور اتنے ہی مغرب کیونکہ سورج ہر روز ایک نئے زاویہ سے طلوع ہوتا ہے۔ یہ صورت تو صرف ایک سیارے سورج کی ہے۔ جبکہ بہت سے سیارے مشرق سے طلوع ہو کر مغرب میں جا ڈوبتے ہیں۔ اس طرح مشرقوں اور مغربوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔