70. Surah Al-Ma'aarij

المعارجThe Ascending Stairways · 44 ayahsتیسیر القرآن

Ayahs 70:41–42

عَلٰۤى اَنْ نُّبَدِّلَ خَیْرًا مِّنْهُمْ١ۙ وَ مَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ Open ayah 70:41 in the Quran reader

کہ ان کے بدلے ان سے بہتر 26 مخلوق لے آئیں اور کوئی ہم سے بازی لے جانے والا نہیں ہے

فَذَرْهُمْ یَخُوْضُوْا وَ یَلْعَبُوْا حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 70:42 in the Quran reader

لہٰذا انہیں اپنی بےہودہ باتوں اور کھیل کو پڑا رہنے دیجئے تاآنکہ وہ دن دیکھ لیں جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے

26 یعنی جو پروردگار اتنے زیادہ مشرقوں اور مغربوں کو وجود میں لاسکتا اور ان پر مکمل کنٹرول رکھ سکتا ہے کہ ان کے زاویوں میں ذرہ بھر بھی فرق نہ آنے پائے وہ یہ نہیں کرسکتا کہ تم سے تمہاری یہ چھوٹی چھوٹی سرداریاں، جن پر تم اس قدر پھولے پھرتے ہو، تم سے چھین کر تمہیں ذلیل و رسوا کرکے پیچھے ہٹا دے اور تمہاری جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئے ؟ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان متکبر قریشیوں کو پیچھے ہٹایا اور ان مسلمانوں کو آگے کردیا جن کے ساتھ یہ بیٹھنا بھی اپنی توہین سمجھتے تھے۔ فتح مکہ کے بعد معاملہ یکسر الٹ گیا۔ مسلمان فتح یاب اور حاکم اور یہ قریشی مقہور و مغلوب ہوگئے اور بعد میں ان کافروں میں سے عزت صرف اسے ملی جس نے اسلام کی آغوش میں پناہ لے لی۔
Ayahs 70:43–44

یَوْمَ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا كَاَنَّهُمْ اِلٰى نُصُبٍ یُّوْفِضُوْنَۙ Open ayah 70:43 in the Quran reader

جس دن وہ اپنی قبروں سے نکل کر اسی طرح دوڑے جارہے ہوں گے جیسے اپنے بتوں 27 (کے استھانوں) کی طرف دوڑ رہے ہوں

خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ ذٰلِكَ الْیَوْمُ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ۠ Open ayah 70:44 in the Quran reader

ان کی نگاہیں جھکی ہوں گی، ذلت ان پر چھا رہی ہوگی۔ یہی وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا

27 نصب کا لغوی مفہوم :۔ نُصُبٍ : نصب الشئی بمعنی کسی چیز کو سیدھے رخ کھڑا کردینا اور زمین میں گاڑ دینا اور نصیب اس پتھر کو بھی کہتے ہیں جو بطور نشان راہ گاڑا جاتا ہے نیز نصیب پتھر یا لوہے کے اس مجسمے کو بھی کہتے ہیں جو کسی جگہ بغرض عبادت نصب کردیا گیا ہو۔ یہ مجسمے عموماً نبیوں، ولیوں اور پیروں یا بادشاہوں کے ہوتے ہیں۔ اور ایسے مقامات جہاں یہ مجسمے نصب ہوں انہیں بھی نصیب یا تھان یا استھان یا آستانے کہا جات ہے اور نصیب کی جمع نصب یا انصاب آتی ہے۔ گویا نصب کے تین معنی ہوئے (1) نشان راہ کے پتھر، (2) نصب شدہ مجسمے، (3) وہ مقام جہاں مجسمے یا بت نصب ہوں۔ اس آیت میں تینوں معنی مراد ہوسکتے ہیں۔ پہلا معنی اس لحاظ سے کہ ان کا یہ دوڑنا اللہ کے حکم کے تحت اور اضطراری امر ہوگا اور باقی دونوں معنی اس لحاظ سے کہ دنیا میں وہ ایسے بتوں کے مجسموں اور تھانوں کی طرف تیزی سے دوڑ کر جایا کرتے تھے۔ قیامت کے دن بھی وہ اسی طرح تیزی سے دوڑے جارہے ہوں گے اور اللہ نے ان کے لئے وہی کیفیت بیان فرمائی جس کو وہ خوب جانتے اور اس دنیا میں اس کے عادی تھے۔