Ayahs 71:1–21 سیدنا نوح (علیہ السلام) کا ذکر :۔ سیدنا نوح (علیہ السلام) کا ذکر قرآن میں پہلے بہت سے مقامات پر گزر چکا ہے۔ یہ سورت پوری کی پوری آپ کے ذکر پر مشتمل ہے۔ اس سورت میں آپ کی زندگی کے پورے واقعات مذکور نہیں ہیں۔ بلکہ اس کا اکثر حصہ سیدنا نوح کی اپنے پروردگار سے فریاد اور دعاؤں پر مشتمل ہے۔ آپ کی شبانہ روز کی تبلیغ اور پورے ساڑھے نو سو سال کی تبلیغ کے نتیجہ میں قوم نے آپ کی تبلیغ سے جیسا اثر قبول کیا، اسی کا شکوہ سیدنا نوح اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرکے بیان فرماتے ہیں۔ آپ کا مرکز تبلیغ عراق میں دجلہ و فرات کا درمیانی علاقہ تھا۔ سیدنا آدم اور سیدنا نوح کے درمیان پانچ ہزار سال کا طویل عرصہ حائل ہے اور اس طویل درمیانی عرصہ میں صرف ایک ہی قابل ذکر نبی سیدنا ادریس (علیہ السلام) کا ذکر ہمیں قرآن میں ملتا ہے۔ لیکن وہ بھی صاحب شریعت نبی نہیں تھے۔ جب سیدنا نوح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تو اس وقت ان کی قوم میں شرک کا مرض ایک وبا کی طرح پھیل چکا تھا۔ چناچہ ان ابتدائی آیات میں ہی سیدنا نوح (علیہ السلام) کو ہدایت کی گئی ہے کہ آپ اپنی قوم کو شرک کے برے انجام سے وارننگ دے دیجئے اور اگر وہ باز نہ آئے تو یقیناً انہیں دردناک سزا سے دوچار ہونا پڑے گا۔
Ayahs 71:3–52 نوح کی دعوت کے نکات :۔ جب کوئی نبی مبعوث کیا جاتا ہے تو سب سے پہلے وہ خود اپنی نبوت پر ایمان لاتا ہے۔ بعد ازاں وہ اپنی قوم کے سامنے اپنی نبوت کا اعلان کرتا ہے۔ اپنے اس تعارف کے بعد وہ لوگوں کو اللہ کا پیغام سناتا ہے۔ نوح (علیہ السلام) نے بھی اپنی نبوت کا اعلان ان الفاظ میں فرمایا۔ (اِنِّىْ لَكُمْ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ ۙ ) 71 ۔ نوح :2) پھر اس کے بعد تین باتیں ارشاد فرمائیں۔ (1) صرف ایک اللہ کی عبادت کرو اور بتوں کی عبادت چھوڑ دو ، (2) ڈرو تو صرف اللہ سے ڈرو، بتوں سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ تمہارا یہ کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے۔ اللہ سے ڈرتے ہوئے اس کے احکام بجا لاؤ، (3) اور اللہ کے احکام بجا لانے کی صورت یہ ہے کہ میری اطاعت کرو۔ اگر تم یہ تینوں کام سرانجام دو گے تو اللہ تمہارے سابقہ گناہ معاف فرما دے گا اور تمہیں تمہاری طبعی عمر تک زندہ رہنے دے گا تاکہ تم نیک اعمال بجا لاکر اخروی عذاب سے بچ جاؤ۔ اور اگر یہ باتیں نہ مانو گے تو پھر تمہاری طبعی موت سے پہلے ہی تم پر عذاب نازل کرے گا پھر اس وقت نہ تمہارا ایمان لانا کچھ فائدہ دے گا اور نہ ہی تمہیں کچھ مزید مہلت مل سکے گی۔ لہذا اس وقت جو تمہیں مہلت ملی ہوئی ہے اس میں اپنا نفع و نقصان خوب سوچ سمجھ لو اور سنبھل جاؤ۔
خ قوم کے مختلف جوابات :۔ یہ تھی وہ دعوت جو سیدنا نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سامنے پیش کی۔ اور اس قسم کی دعوت ہی حق و باطل کے درمیان محاذ آرائی کا نقطہ آغاز ہوتا ہے۔ چناچہ قوم کے چودھری سینہ تان کر سیدنا نوح کی مخالفت پر اتر آئے۔ کبھی کہتے : ارے ! ہم میں اور تم میں فرق کیا ہے ؟ تم بھی ہمارے جیسے ہی محتاج انسان ہو، تمہیں بھی ویسے ہی کھانے پینے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ جیسے ہم کھاتے پیتے ہیں۔ پھر ہم تمہاری اطاعت آخر کیوں کریں ؟ کبھی کہتے کہ یہ تم سارے جہان سے نرالی اور ان ہونی بات کہتے ہو کہ ہم اپنے بتوں کی عبادت چھوڑ دیں۔ ایسی دیوانگی کی باتیں چھوڑ دو ۔ کبھی کہتے کہ اگر تم ہمارے معبودوں کی توہین سے باز نہ آئے تو وہ تمہیں ایسی بری مار ماریں گے کہ پھر اٹھ نہ سکو گے، اور کبھی کہتے کہ جس عذاب کی تم دھمکی دے رہے ہو وہ لے کیوں نہیں آتے، اور کبھی کہتے : نوح ! یہ چند بدھو قسم کے لوگ تم نے اپنے ساتھ لگا لیے ہیں یہ تو ہمارے کمینے اور رذیل لوگ ہیں۔ ان کے بل بوتے پر تم ہم سے مطالبہ کرتے ہو کہ ہم بھی تمہاری اطاعت کریں ؟ غرض سیدنا نوح اور ان کی قوم کے درمیان اس قسم کے مذاکرات آٹھ نو سو سالوں پر محیط ہیں جن کو اس مقام پر نظرانداز کردیا گیا ہے۔ اس طویل مدت کی تبلیغ کا جو نتیجہ سیدنا نوح کی سمجھ میں آیا وہ ان الفاظ میں اپنے پروردگار کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
Ayah 71:63 یعنی میں نے اپنی امکانی حد تک لوگوں کو تیرا پیغام پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ حتیٰ کہ دن رات ایک کردیا۔ مگر یہ قوم کچھ اس قدر ضدی واقع ہوئی ہے کہ ہر سیدھی بات کا الٹا ہی مطلب لیتی ہے۔ میں نے جتنی بھی کوشش کی کہ انہیں اپنے قریب لاسکوں اتنا ہی یہ مجھ سے دور رہنے اور بھاگنے کی کوشش کرتی ہے۔
Ayahs 71:7–84 یعنی اگر وہ اللہ پر ایمان لے آئیں اور اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کریں تو اللہ یقیناً ان کے گناہ معاف کردے گا۔ لیکن ان بدبختوں نے میری بات سننا بھی گوارا نہ کیا۔ بلکہ اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور دوسرا کام وہ یہ کرتے ہیں کہ جہاں کہیں مجھے دیکھتے ہیں اپنا منہ ڈھانپ لیتے ہیں کہ میں انہیں دیکھ کر بلا نہ لوں یا پھر انہیں مجھ سے اتنی نفرت ہے کہ وہ میری شکل دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے اور اپنے منہ پر کپڑا ڈال لیتے ہیں۔ یہ ہے ان کی ضد اور نفرت کی انتہا انہوں نے تو تیرے احکام کے سامنے اکڑ جانے میں حد کردی۔
Ayahs 71:9–125 استغفار سے حاصل ہونے والے دنیوی فوائد :۔ اور جہاں تک میرے سمجھانے کا تعلق ہے تو میں ان کی مجلسوں میں بھی جاتا ہوں اور ان کے گھروں میں بھی۔ ان سے نجی محفلیں بھی کرتا ہوں۔ انہیں برملا بھی سمجھاتا ہوں اور خیرخواہی کے لہجہ میں انفرادی ملاقاتوں میں انہیں یہ بات سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں کہ اس وقت جو تم پر قحط مسلط ہے، بارشیں نہیں ہو رہیں، اگر تم اللہ کی طرف رجوع کرلو۔ اور اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لو تو تم پر سے یہ قحط دور ہوجائے گا۔ اللہ کی مہربانی سے خوب بارشیں ہوں گی۔ اور تمہارے اموال اور اولاد میں اللہ تعالیٰ خوب برکت عطا فرمائے گا واضح رہے کہ استغفار کے دنیا میں حاصل ہونے والے ایسے فوائد کا ذکر قرآن میں اور بھی کئی مقامات پر آیا ہے۔ مثلاً سورة مائدہ میں فرمایا : اور اگر اہل کتاب تورات، انجیل اور جو کچھ ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل کیا گیا تھا، پر عمل پیرا رہتے تو ان کے اوپر سے بھی رزق برستا اور نیچے سے بھی نکلتا (5: 66) اور سورة اعراف میں فرمایا : اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے (7: 96) ان آیات سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ استغفار کا دنیا میں بھی یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اس سے تنگدستی اور کئی دوسری پریشانیاں دور ہوجاتی ہیں۔ چناچہ حسن بصری (رح) سے ایک شخص نے قحط کا شکوہ کیا، دوسرے نے محتاجی کا اور تیسرے نے اولاد نہ ہونے کا تو آپ نے ان تینوں کو استغفار کا حکم دیا۔ کسی نے کہا کہ ان کے شکوے تو الگ الگ ہیں لیکن آپ ہر ایک کو استغفار کا ہی حکم دے رہے ہیں ؟ اس کے جواب میں آپ نے یہی آیات ( نمبر 10 تا 12) پڑھ کر اسے مطمئن کردیا۔ بلکہ بعض علماء تو کہتے ہیں کہ ہر مقصد کے حصول کے لئے اللہ کے حضور استغفار کرنا چاہئے۔ چناچہ ایک دفعہ سیدنا عمر بارش کی دعا کرنے کے لئے باہر نکلے اور صرف استغفار پر اکتفا فرمایا۔ کسی نے عرض کیا : امیر المومنین ! آپ نے بارش کے لئے دعا تو کی ہی نہیں ؟ فرمایا : میں نے آسمان کے ان دروازوں کو کھٹکھٹا دیا ہے جہاں سے بارش نازل ہوتی ہے پھر آپ نے سورة نوح کی یہی آیات لوگوں کو پڑھ کر سنا دیں۔
Ayah 71:136 یعنی جب تم اپنے چھوٹے چھوٹے چودہریوں اور سرداروں کے ہاں جاتے ہو تو بڑے اہتمام کے ساتھ جاتے ہو۔ اور وہاں جاکر بھی یہ خیال رکھتے ہو کہ خلاف ادب کوئی حرکت سرزد نہ ہوجائے لیکن اللہ کو تم نے ایسا ہی بےوقار سمجھ رکھا ہے کہ اس کے خلاف بغاوت کرتے ہو۔ اس کی نافرمانیاں کرتے ہو اس کی خدائی میں دوسروں کو شریک بناتے ہو اور تمہیں ذرہ بھر شرم نہیں آتی۔ نہ ہی تمہیں یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ ہر وقت ہمیں ان گناہوں کی سزا دینے کی قدرت رکھتا ہے۔
Ayah 71:147 اطوار کا معنی : آدم اور بنی آدم پر گزرنے والے اطوار :۔ اَطْوَارًا۔ طَوْر کسی چیز کی ایسی حالت کو کہتے ہیں جو اندازہ کے مطابق کچھ مدت بعد تدریجی تبدیلی چاہتی ہو۔ اور تَطَوُّرٍ بمعنی ایک حالت سے دوسری یا اگلی حالت میں تبدیل ہونا۔ سوچا جائے تو انسان اطوار ہی کا مجموعہ اور مظہر ہے۔ اللہ نے اسے مٹی سے پیدا کیا۔ تو سات اطوار سے گزارا (1) خشک مٹی، (2) پھر اسے گیلی مٹی یا گارا بنایا گیا، (3) پھر لیس دار یا چپک دار یا چیکنی مٹی بنایا گیا، (4) پھر اس کا خمیر اٹھایا گیا حتیٰ کہ اس میں بدبو پیدا ہوگئی، (5) پھر اسے خشک کیا گیا، (6) پھر اسے حرارت سے پکایا گیا (7) حتیٰ کہ وہ ٹن سے بجنے والی مٹی بن گئی۔ اس مٹی سے آدم کا پتلا بنایا گیا پھر اللہ نے اس میں روح پھونکی تو یہ صرف ایک جاندار مخلوق ہی نہیں بلکہ عقل وتمیز اور ارادہ واختیار رکھنے والی مخلوق بن گیا۔ پھر آگے اس کی نسل نطفہ سے چلائی گئی۔ زمین سے پیدا ہونے والی بےجان اشیاء انسان کی غذا بنیں۔ انہیں غذاؤں سے نطفہ بنا۔ یہی نطفہ جب رحم مادر میں حمل کی صورت میں قرار پا گیا تو وضع حمل تک اس پر سات اطوار آئے۔ تاآنکہ وہ ایک جیتا جاگتا باشعور انسان بن کر رحم مادر سے باہر آگیا۔ پھر اس پر ہر نیا دن ایک نیا طور ہے اور ان تمام اطوار پر ہمہ وقتی اور ہمہ گیر تصرف صرف اللہ کو حاصل ہے۔ ان سب باتوں کو جاننے کے باوجود تم نے جو اللہ کو بےوقار سمجھ رکھا ہے تو یہ کس قدر ظلم کی بات ہے۔ ؟
Ayah 71:158 اس کی تشریح کے لیے دیکھیے سورة ملک کا حاشیہ نمبر 6۔
Ayahs 71:16–179 یہ آسمانوں میں جگمگانے والے چاند اور سورج ہمارے لئے محض روشنی کا ذریعہ نہیں ہیں بلکہ انسان کی زندگی کا بہت حد تک انہی پر انحصار ہے۔ سورج کی وجہ سے ہماری زمین پر رات اور دن وجود میں آتے ہیں۔ موسموں میں تبدیلی آتی ہے۔ فصلیں پکتی ہیں، پھلوں میں رس پڑتا ہے اور انہی چیزوں سے انسان اور دوسری جاندار مخلوق کو غذا مہیا ہوتی ہے تم پر اللہ کے یہ کیا کم احسان ہیں پھر بھی تم اللہ کے ناقدر شناس اور نمک حرام بنتے ہو ؟
Ayah 71:1810 چاند اور سورج کے بعد اب زمین کی طرف آؤ۔ تو زمین کا تمہاری موت وحیات سے گہرا تعلق ہے۔ زمین ہی سے تم پیدا ہوئے۔ ابتدائی خلقت کے لحاظ سے بھی اور توالد و تناسل کے بعد بھی۔ پھر مرنے کے بعد بھی یہی زمین تمہارا مستقر بنتی ہے۔ زندگی میں تم زمین کی سطح پر رہتے تھے۔ مرنے کے بعد اسکے اندر چلے جاتے ہو اور دوبارہ زندگی ملنے پر پھر زمین کے اندر سے نکل کر باہر سطح زمین پر آجاؤ گے۔
Ayahs 71:19–2011 پھر اس زمین میں تمہارے لیے اور بھی بہت سے فائدے ہیں۔ تم اس پر مکان بناؤ۔ باغات لگاؤ، چلو پھرو، لیٹو، بیٹھو، ہر طرف کشادہ راہیں ہیں۔ اگر ایک شخص کے پاس وسائل ہوں تو ساری دنیا کے گرد گھوم سکتا ہے۔
Ayah 71:2112 یہ تھے سیدنا نوح کی تبلیغ کے چند موٹے موٹے نکات یا توحید پر مبنی دلائل جو وہ مدت مدید تک اپنی قوم کو سمجھاتے رہے۔ لیکن جب قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہوگئے تو اللہ کی بارگاہ میں عرض کی کہ یا اللہ ! یہ لوگ تو بس دنیا کے ہی پجاری ہیں۔ یہ صرف ان سرداروں کی ہی بات مانتے ہیں جنہیں تو نے کثرت سے مال اور اولاد دے رکھی ہے۔ میری بات سننے کو کوئی بھی تیار نہیں ہوتا۔
Ayah 71:2213 ان سرداروں نے اپنے پیروکاروں میں نوح (علیہ السلام) کی شخصیت کو ہمیشہ برے انداز میں ہی پیش کیا اور انہیں یہی باور کراتے رہے کہ یہ شخص تو محض اپنی بڑائی قائم کرنے کی خاطر یہ سارے پاپڑ بیل رہا ہے۔ اور وہ بات ہی ایسی انہونی کہتا ہے جو کم از کم ہماری عقل باور نہیں کرسکتی۔ یہ بھلا کیسے ممکن ہے کہ ایک اکیلا خدا ہی کائنات کا سارا انتظام چلا رہا ہو۔ ہر ایک کی براہ راست فریاد سنتا ہو، پھر فریاد رسی بھی کرتا ہو۔ ہر بادشاہ کو اپنا انتظام سلطنت چلانے کے لیے بیشمار امیروں، وزیروں، ماتحتوں اور کارندوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور انہی کی وساطت سے بادشاہ تک فریاد پہنچائی جاسکتی ہے۔ پھر ہم اپنے معبودوں کا کیسے اس کے کہنے پر انکار کردیں۔ اس کی بات میں کچھ بھی وزن ہوتا تو اہل عقل اور شریف لوگ اس کے ساتھی ہوتے۔ اس کے بجائے اس کے جو چند ساتھی ہیں بھی تو وہ بدھو اور ذلیل قسم کے لوگ ہیں۔ اور ان باتوں کا انہوں نے اس طرح اجتماعی طور پر پروپیگنڈا کیا اور پوری قوم اس پروپیگنڈے سے اس قدر متاثر ہوچکی تھی کہ جو کوئی مرنے لگتا تو اولاد کو بڑی تاکید سے یہ وصیت کرجاتا کہ اس بڈھے نوح کے جال میں نہ پھنس جانا۔ یہ تو دیوانہ ہے جو چاہتا ہے کہ ہم اپنے آبائی دین کو خیرباد کہہ دیں۔
Ayahs 71:23–2414 نوح کی قوم کے بت عرب میں کیسے رائج ہوگئے :۔ اس آیت کی تفسیر کے لیے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے :
سیدنا ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ : جو بت نوح کی قوم میں پوجے جاتے تھے، وہی بعد میں عرب میں آگئے، ودّ کلب قبیلے کا بت تھا جو دومۃ الجندل میں تھا۔ سواع ہذیل قبیلے کا بت تھا، یغوث پہلے مرار قبیلے کا بت تھا پھر بنی غُطَیْفْ کا اور یہ سبا شہر کے پاس جوف میں تھا، یعوق ہمدان قبیلے کا تھا اور نسر حمیر قبیلے کا، جوذی الکلاع (بادشاہ) کی اولاد تھے۔ یہ نوح کی قوم میں سے چند نیک لوگوں کے نام تھے۔ جب وہ مرگئے تو شیطان نے انہیں یہ پٹی پڑھائی کہ جہاں یہ لوگ بیٹھا کرتے تھے وہاں ان کے مجسمے بنا کر (یادگار کے طور پر) نصب کردو اور ان کے وہی نام رکھو جو ان بزرگوں کے تھے۔ اس وقت ان کی عبادت نہیں کی جاتی تھی۔ لیکن جب وہ لوگ گزر گئے تو بعد والوں کو یہ شعور نہ رہا اور وہ ان کی پرستش کرنے لگے۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر)
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان بتوں کے پجاری یا نوح (علیہ السلام) کی قوم کے سب مشرک تو طوفان نوح میں غرق کردیئے گئے تھے جو باقی بچے تھے وہ سب مومن اور موحد تھے پھر بعد میں انہی بتوں کی پوجا کیسے شروع ہوگئی ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح شیطان نے بچے ہوئے موحدین کے آباء و اجداد کو چکمہ دے کر ان سے ان صالحین کی آہستہ آہستہ پرستش شروع کرادی تھی۔ شیطان کی وہی چال بعد میں کامیاب رہی۔ موحدین نے اپنی اولاد کو طوفان نوح کا قصہ اور اس کی وجہ بیان کی۔ چند پشتیں گزرنے کے بعد انہی بتوں سے لوگوں میں عقیدت پیدا ہوگئی جن کی وجہ سے قوم نوح پر عذاب آیا تھا۔
Ayah 71:2515 عذاب قبر کا ثبوت :۔ طوفان نوح کا ذکر سورة اعراف کے حاشیہ 68 اور سورة یونس کے حاشیہ 83 کے تحت تفصیل سے گزر چکا ہے۔ جب یہ طوفان آیا تو اس قوم کے معبود ان کے کسی کام نہ آسکے بلکہ وہ بھی ان کے ساتھ غرق ہوگئے اور غرق ہونے کے ساتھ ہی انہیں جہنم میں داخل کردیا گیا۔ یہ آیت بھی منجملہ ان آیات کے ہے جن سے برزخ یا عذاب قبر کا ثبوت قرآن سے مہیا ہوتا ہے۔
Ayahs 71:26–2716 بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نوح (علیہ السلام) نے یہ دعا قوم کے رویہ سے تنگ آکر غصہ کی حالت میں اور بےصبری کی بنا پر کی ہوگی۔ جبکہ معاملہ اس کے برعکس ہے آپ نے یہ دعا بےصبری کی بنا پر نہیں بلکہ ساری عمر یعنی ساڑھے نو سو سال کی تبلیغ کے بعد تجربہ کی بنا پر اور نہایت مایوسی کے عالم میں کی تھی۔ اور آپ کی دعا اللہ کی مشیئت کے عین مطابق تھی۔ اگر آپ ایسی دعا نہ بھی کرتے تو بھی ان پر عذاب کا مقرر وقت آچکا تھا اور اس کی دلیل سورة ہود کی آیت 36 ہے جو اس طرح ہے : اور نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے جو لوگ ایمان لاچکے ہیں ان کے سوا اب اور کوئی ایمان لانے والا نہیں ہے لہذا اب ان کی کرتوتوں پر غم کھانا چھوڑ دو ۔
Ayah 71:2817 کافروں کے حق میں سیدنا نوح کی بددعا : سیدنا نوح کی دعا کا پہلا حصہ تو کافروں کے متعلق تھا جن کے متعلق آپ نے اپنے تجربہ کی بنا پر یہ کہا تھا کہ ایسے بدکردار لوگ ہیں کہ ان کے نطفہ سے بھی بےحیا، بدکردار اللہ کے نافرمان اور ناشکرے ہی پیدا ہوں گے۔ وہ خود تو کیا ایمان لائیں گے، دوسروں کو بھی گمراہ ہی کرنے کی کوشش کریں گے۔
خ اپنے اور مومنوں کے حق میں دعائے خیر :۔ اسی دعا کا دوسرا حصہ جو اپنے لیے اور جملہ مومنین کے لیے ہے اس میں خاصی نرمی و لچک اور وسعت قلبی پائی جاتی ہے۔ یعنی سب سے پہلے تو آپ نے اپنے حق میں اپنی تقصیرات سے بخشش کی دعا فرمائی پھر اپنے والدین کے لیے پھر ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاکر آپ کے گھر یا مسجد یا کشتی میں داخل ہوجائیں۔ پھر ان مومن مردوں اور عورتوں کے لیے بھی جو اس دعا کے بعد یا آپ کے بعد ایمان لائیں گے۔ اس دعا کے بعد پھر ایک بار تاکیداً فرمایا کہ اس ظالم قوم کی ہلاکت میں کوئی رو رعایت نہ کرنا۔