72. Surah Al-Jinn

الجنThe Jinn · 28 ayahsتیسیر القرآن

Ayahs 72:1–2

قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًاۙ Open ayah 72:1 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ : مجھے وحی 1 کی گئی ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے (اس قرآن کو) غور سے سنا پھر (جاکر اپنی قوم سے) کہا کہ : ہم نے بڑا عجیب قرآن سنا ہے۔

یَّهْدِیْۤ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ١ؕ وَ لَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:2 in the Quran reader

جو بھلائی کی راہ بتاتا ہے سو ہم تو اس پر ایمان لے آئے اور ہم (آئندہ) کبھی کسی کو اپنے پروردگار کا شریک نہ ٹھہرائیں گے

1 اس سلسلہ میں درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے : سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ ﷺ اپنے چند اصحاب کے ساتھ عکاظ کے بازار جانے کے ارادہ سے روانہ ہوئے۔ ان دنوں شیطانوں کو آسمان کی خبر ملنا بند ہوگئی تھی اور ان پر انگارے پھینکے جاتے تھے۔ وہ (زمین کی طرف) لوٹے اور (آپس میں) کہنے لگے۔ یہ کیا ہوگیا ؟ ہمیں آسمان کی خبر ملنا بند ہوگئی اور ہم پر انگارے پھینکے جاتے ہیں۔ ضرور کوئی نئی بات واقع ہوئی ہے جس کی وجہ سے ہمیں آسمان کی خبر ملنا بند ہوئی ہے۔ اب یوں کرو کہ ساری زمین کے مشرق و مغرب میں پھر کر دیکھو کہ وہ کیا نئی بات واقع ہوئی ہے۔ ان میں سے کچھ شیطان تہامہ (حجاز) کی طرف بھی آئے اور آپ ﷺ تک پہنچ گئے۔ اس وقت آپ ﷺ نخلہ میں تھے اور عکاظ کے بازار جانے کا قصد رکھتے تھے۔ آپ ﷺ اپنے اصحاب کو نماز فجر پڑھا رہے تھے جب ان جنوں نے قرآن سنا تو ادھر کان لگا دیا پھر کہنے لگے : یہی وہ چیز ہے جس کی وجہ سے آسمان کی خبر ہم پر بند کردی گئی۔ پھر اس وقت وہ اپنی قوم کی طرف لوٹے اور انہیں کہنے لگے (یَا قَوْمَنَا انَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًا۔۔ اَحَدًا) اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر یہ سورت نازل فرمائی۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جنوں کی یہ گفتگو آپ ﷺ کو وحی کے ذریعہ معلوم ہوئی۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر) خ جنوں کا مختلف موقعوں پر قرآن سننا :۔ اس سے پیشتر سورة احقاف کی آیات 29 تا 32 میں بھی جنوں کے قرآن سننے کا ذکر گزر چکا ہے۔ لیکن قرآن کے ہی مضامین سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو الگ واقعات ہیں۔ سورة احقاف میں بیان شدہ واقعہ کے مطابق سننے والے جن مشرک نہیں تھے بلکہ وہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) پر اور تورات پر ایمان رکھتے تھے پھر قرآن سننے کے بعد وہ جن قرآن پر اور آپ ﷺ کی نبوت پر ایمان لے آئے تھے۔ جبکہ اس سورت میں جن جنوں کا ذکر آیا ہے یہ مشرک تھے۔ جنوں کے متعلق جو حقائق قرآن میں جا بجا مذکور ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے۔ (1) انسان کے علاوہ جن ہی ایسی مخلوق ہے جو شریعت کی مکلف ہے، (2) جن ناری مخلوق ہے، جو تیز شعلہ یا آگ کی لپٹ سے پیدا کیے گئے ہیں جبکہ انسان خاکی مخلوق ہے، (3) انسان کی پیدائش سے پہلے جن ہی اس زمین پر آباد تھے اور ان میں بھی نبوت کا سلسلہ جاری تھا۔ لیکن انسان کی تخلیق کے بعد نبوت کا سلسلہ سیدنا آدم (علیہ السلام) اور اس کی اولاد میں منتقل ہوگیا۔ اب جو نبی انسانوں کے لئے مبعوث ہوتا ہے وہی جنوں کے لئے بھی ہوتا ہے۔ خ جنوں کی صفات :۔ (4) جن تو انسانوں کو دیکھ سکتے ہیں، لیکن انسان جنوں کو نہیں دیکھ سکتے۔ اس سورة میں بھی جن جنوں کا ذکر آیا ہے رسول اللہ ﷺ نے انہیں دیکھا نہیں تھا بلکہ بعد میں وحی کے ذریعہ آپ ﷺ کو ان کے قرآن سننے اور متاثر ہو کر ایمان لانے کی خبر دی گئی، (5) جن بھی انسانوں کی ہی علاقائی زبانیں بولتے اور سمجھتے ہیں یہی وجہ تھی کہ جن قرآن سننے کے ساتھ ہی فوراً اسے سمجھ گئے اور ایمان لے آئے، (6) انسان کی طرح ان میں بھی بعض نیک ہوتے ہیں، بعض بدکردار اور نافرمان۔ نیز جس قسم کے عقائد، اچھے ہوں یا برے، انسانوں میں پائے جاتے ہیں جنوں میں بھی پائے جاتے ہیں، (7) بدکردار جنوں کو شیطان کہا جاتا ہے اور قرآن میں یہ الفاظ ان معنوں میں مترادف کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، (8) انسانوں کی طرح ان میں بھی توالد و تناسل کا سلسلہ جاری ہے۔
Ayah 72:3

وَّ اَنَّهٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّ لَا وَلَدًاۙ Open ayah 72:3 in the Quran reader

اور ہمارے پروردگار کی شان بڑی بلند ہے۔ اس 2 نے کسی کو بیوی یا بیٹا نہیں بنایا

2 قرآن سننے والے جنوں کی اپنی قوم کو تبلیغ :۔ آیت نمبر 2 اور 3 سے معلوم ہوتا ہے کہ اس موقعہ پر قرآن سننے والے جن مشرک تھے اور ان میں کچھ ایسے بھی تھے جو عیسائیوں کے عقیدہ تثلیث سے بھی متاثر تھے۔ قرآن کا بیان سن کر انہیں معلوم ہوا کہ اللہ کی ذات بیوی بیٹوں کی احتیاج سے پاک ہے۔ اور اس کے متعلق ایسا تصور رکھنا سخت گمراہ کن عقیدہ ہے۔ لہذا ہم ایسے عقیدہ و خیالات سے توبہ کرکے اللہ اکیلے پر ایمان لاتے ہیں۔
Ayah 72:4

وَّ اَنَّهٗ كَانَ یَقُوْلُ سَفِیْهُنَا عَلَى اللّٰهِ شَطَطًاۙ Open ayah 72:4 in the Quran reader

اور یہ کہ ہمارے نادان لوگ اللہ کے ذمے بہت سی جھوٹی 3 باتیں لگاتے رہے ہیں

3 سَفِیْھُنَا میں سفیہ سے مراد ایک فرد بھی ہوسکتا ہے اور اس صورت میں وہ ابلیس ہے۔ جس نے جن و انسان کو گمراہ کرنے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے اور سفیہ سے مراد نادانوں کا گروہ بھی ہوسکتا ہے اور جھوٹی باتوں سے مراد تمام شرکیہ عقائد ہیں۔ بالخصوص یہ کہ اللہ کی بیوی بھی ہے اور اولاد بھی یا یہ کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں یا یہ کہ کائنات میں کئی دیوی، دیوتا اور اللہ کے پیارے ایسے ہیں جنہیں اللہ نے کائنات میں تصرف امور کے بعض اختیارات سونپ رکھے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔
Ayah 72:5

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاۙ Open ayah 72:5 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم نے تو یہ سمجھ رکھا تھا کہ انسان اور جن اللہ کے بارے میں کبھی جھوٹ نہیں بول 4 سکتے

4 یعنی جنوں اور انسانوں کی عظیم اکثریت اگر یہ باتیں کہتی ہے کہ اللہ کی بیوی اور اولاد ہے یا فرشتے اس کی بیٹیاں ہیں یا اللہ نے اپنے پیاروں کو بھی کئی قسم کے اختیارات تفویض کر رکھے ہیں تو وہ جھوٹ کیسے ہوسکتا ہے۔ اتنی عظیم اکثریت جھوٹی بات پر کیسے اتفاق کرسکتی ہے۔ لہذا ہم نے بھی ان باتوں کو درست تسلیم کرلیا۔
Ayah 72:6

وَّ اَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًاۙ Open ayah 72:6 in the Quran reader

اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں کے کچھ لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے چناچہ انہوں 5 نے جنوں کے غرور کو اور زیادہ بڑھا دیا تھا

5 انسانوں کا جنوں سے پناہ مانگنا :۔ عہد جاہلیت میں اکثر لوگوں کا یہ عقیدہ بن چکا تھا کہ ہر غیر آباد جگہ جنوں کا مسکن ہوتا ہے۔ اور ان میں بھی انسانوں کی طرح بعض جن دوسروں کے سردار اور بادشاہ ہوتے ہیں۔ جو وہاں حکومت کرتے ہیں اور اگر کسی انسان کا ایسے علاقہ میں گزر ہو اور اس جن کی پناہ مانگے بغیر اس جگہ میں رہائش پذیر ہوجائے جس کے قبضہ میں یہ غیر آباد جگہ ہے تو وہ حاکم جن ایسے انسان یا انسانوں کو علاقہ غیر میں داخل ہونے کی بنا پر سزا دینے اور تکلیف پہنچانے کا حق رکھتا ہے خواہ وہ خود ایسی سزا دے دے یا اپنے ماتحت جنوں سے دلوا دے چناچہ سیدنا ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جاہلیت کے زمانہ میں عرب جب کسی سنسان وادی میں رات گزارتے تو پکار کر کہتے کہ ہم اس وادی کے مالک جن کی پناہ مانگتے ہیں، گویا انسان کی اوہام پرستی کا یہ عالم تھی کہ اللہ نے تو اسے اشرف المخلوقات اور جنوں سے بھی افضل پیدا کیا تھا لیکن اس زمین کے خلیفہ انسان نے الٹا جنوں سے ڈرنا اور ان سے پناہ مانگنا شروع کردیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جنوں کا دماغ اور زیادہ خراب ہوگیا اور وہ واقعی اپنے آپ کو انسان سے افضل سمجھنے لگے۔
Ayahs 72:7–8

وَّ اَنَّهُمْ ظَنُّوْا كَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ اَحَدًاۙ Open ayah 72:7 in the Quran reader

اور یہ کہ انسان بھی ایسا ہی خیال کرتے تھے جیسے تم کرتے ہو کہ اللہ کبھی کسی کو دوبارہ 6 نہ اٹھائے گا

وَّ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّ شُهُبًاۙ Open ayah 72:8 in the Quran reader

اور یہ کہ : ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اسے سخت پہرہ داروں اور شہابوں سے بھرا ہوا پایا

6 یہ ذومعنی فقرہ ہے اس کا ایک مطلب تو وہی ہے جو ترجمہ میں مذکور ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجے گا۔ گویا جس طرح انسانوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو رسالت اور آخرت دونوں کے منکر ہیں اسی طرح جنوں میں بھی ایسے لوگ موجود تھے۔ جب جنوں نے قرآن سن کر معلوم کیا کہ ان کے یہ دونوں عقیدے غلط تھے۔ چناچہ ان عقائد سے دستبردار ہو کر وہ آپ ﷺ کی رسالت پر ایمان لے آئے۔
Ayah 72:9

وَّ اَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ١ؕ فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًاۙ Open ayah 72:9 in the Quran reader

اور یہ کہ : ہم سننے کے لئے آسمان کے ٹھکانوں میں بیٹھا کرتے تھے مگر اب جو سننے کو کان لگائے تو وہ اپنے لیے ایک شہاب 7 کو تاک لگائے ہوئے پاتا ہے

7 ایام جاہلیت میں کہانت کا کاروبار :۔ دور نبوی میں کہانت کا کاروبار خاصا چلتا تھا۔ اس کاروبار کی بنیاد یہ تھی کہ ان کاہنوں کا تعلق شیطانوں سے ہوتا تھا۔ چناچہ ایک دفعہ صحابہ کرام ؓ نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ کاہنوں کے بارے میں آپ ﷺ کیا فرماتے ہیں۔ فرمایا : ان کی باتیں محض لغو ہیں۔ صحابہ نے کہا : کبھی تو ان کی بات سچ بھی نکل آتی ہے۔ فرمایا : یہ وہ بات ہوتی ہے جو کاہن کو شیطان کے ذریعہ معلوم ہوتی ہے اور شیطان یہ خبر ملاء اعلیٰ سے اڑا لیتا ہے، پھر کاہن اس خبر میں سو جھوٹ ملالیتا ہے۔ (بخاری۔ باب الکہانۃ) رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بعد آسمان کے پہرے سخت کردیئے گئے۔ تاکہ کوئی شیطان آسمان کے قریب بھی نہ پھٹکنے پائے اور اس نظام کو سخت تر بنانے کی وجہ یہ تھی کہ وحی جو نبی آخر الزماں پر نازل ہونے والی اور ہو رہی ہے۔ اس کا کچھ بھی حصہ شیطان نہ سن پائے۔ اور اس سے ایک دوسرا مقصد از خود حاصل ہوگیا یعنی کاہنوں کو شیطانوں کے ذریعہ جو خبریں ملتی تھیں وہ بھی بند ہوگئیں۔ اسی کیفیت کو جن اپنی زبان میں بیان کر رہے ہیں۔
Ayahs 72:10–11

وَّ اَنَّا لَا نَدْرِیْۤ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًاۙ Open ayah 72:10 in the Quran reader

اور یہ کہ : ہم یہ نہیں جان سکے کہ اہل زمین کے ساتھ کسی برے معاملہ کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کا پروردگار انہیں راہ راست 8 پر لانا چاہتا ہے۔

وَّ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَ١ؕ كُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًاۙ Open ayah 72:11 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم میں سے کچھ نیک لوگ ہیں اور کچھ اس سے کم درجہ کے ہیں۔ ہم مختلف طریقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔

8 یعنی یہ تو ہمیں معلوم ہوگیا کہ آسمان پر اس قدر ناکہ بندیوں کی غرض وغایت کیا ہے۔ رہی یہ بات کہ لوگ اس قرآن پر ایمان لاکر اللہ تعالیٰ کے انعامات و اکرامات کے مستحق بنتے ہیں یا اس کا انکار کرکے اللہ کے عذاب کے مستحق بنتے ہیں۔ یہ معلوم کرنے کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ اب باقی نہیں رہ گیا۔
Ayah 72:12

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَ اللّٰهَ فِی الْاَرْضِ وَ لَنْ نُّعْجِزَهٗ هَرَبًاۙ Open ayah 72:12 in the Quran reader

اور یہ کہ : ہمیں اس بات کا یقین ہوچکا ہے کہ ہم نہ تو اللہ کو زمین میں (چھپ کر) عاجز کرسکتے ہیں 9 اور نہ ہی بھاگ کر اسے ہرا سکتے ہیں

9 یعنی اب ہماری بھلائی اسی بات میں ہے کہ ہم بلا چوں و چرا قرآن پر ایمان لے آئیں۔ اگر ہم نے قرآن کو نہ مانا تو اللہ کی سزا سے بچ نہیں سکتے نہ زمین میں کسی جگہ چھپ کر، نہ ادھر ادھر بھاگ کر اور نہ ہوا میں اڑ کر۔
Ayah 72:13

وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤى اٰمَنَّا بِهٖ١ؕ فَمَنْ یُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًاۙ Open ayah 72:13 in the Quran reader

اور یہ کہ : جب ہم نے ہدایت (کی بات) سن 10 لی تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ اب جو شخص بھی اپنے پروردگار پر ایمان لائے گا اسے نہ حق تلفی 11 کا ڈر ہوگا اور نہ زبردستی کا

10 یعنی قرآن کو سن لینے کے بعد ہمارے لئے ممکن نہ رہا کہ ہم اپنے ساتھ غلط عقائد پر جمے رہیں۔ لہذا ہم نے اپنی قوم میں سب سے پہلے ایمان لانے میں سبقت کی ہے۔ 11 یہ سب وہ اہم نکات ہیں جو جنوں نے رسول اللہ ﷺ سے قرآن سن کر اخذ کئے تھے۔ پھر ایمان لانے کے بعد اپنی قوم کے پاس جاکر انہیں بتائے تھے۔ انہی میں سے یہ نکتہ جزا و سزا کے قانون سے تعلق رکھتا ہے۔ حق تلفی سے مراد یہ ہے کہ جتنے اجر کا وہ مستحق ہو اسے اس سے کم دیا جائے اور زبردستی سے مراد یہ ہے کہ اسے نیکی کا کوئی اجر نہ دیا جائے۔ یا بلاقصور ہی کسی کو سزا دے ڈالی جائے۔ یا قصور تو کم ہو مگر سزا زیادہ دے ڈالی جائے۔ کسی ایمان لانے والے کے لیے اللہ کے ہاں ایسی کوئی صورت نہ ہوگی۔
Ayahs 72:14–15

وَّ اَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَ مِنَّا الْقٰسِطُوْنَ١ؕ فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓئِكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا Open ayah 72:14 in the Quran reader

اور یہ کہ : ہم میں سے کچھ تو مسلمان (فرمانبردار) ہیں اور کچھ بےانصاف لوگ ہیں اور جو فرمانبردار بن گیا تو ایسے ہی لوگوں نے بھلائی کا راستہ اختیار 12 کیا

وَ اَمَّا الْقٰسِطُوْنَ فَكَانُوْا لِجَهَنَّمَ حَطَبًاۙ Open ayah 72:15 in the Quran reader

اور جو بےانصاف ہیں وہ دوزخ کا ایندھن بنیں گے

12 تَحَرَّوْا۔ اَحرٰی بمعنی لائق تر اور تَحَرَّی بمعنی زیادہ مناسب اور لائق تر چیز کو طلب کرنا۔ دو چیزوں میں سے زیادہ بہتر کو طلب کرنا۔ یعنی ایمان لانے والے جن اپنی قوم میں واپس آکر انہیں سمجھا رہے ہیں کہ بلا شبہ ہم میں سے کچھ فرمانبردار ہیں اور کچھ نافرمان اور بےراہ رو بھی ہیں۔ اور حق بات یہی ہے کہ جو لوگ اسلام لے آئے انہوں نے عقلمندی کی۔ ہدایت کی راہ کو پسند کرلینا ہی ان کے بہتر انتخاب کی دلیل ہے۔ کیونکہ جو لوگ اس سیدھی راہ کے علاوہ کوئی اور راہیں اختیار کریں گے وہ گھاٹے میں ہی رہیں گے اور جہنم کا ایندھن بنیں گے اس مقام پر جنوں کی وہ تقریر یا وعظ و نصیحت ختم ہوجاتی ہے جو انہوں نے ایمان لانے کے بعد واپس آکر اپنے بھائی بندوں کو کی۔ چناچہ بہت سے جن آپ ﷺ پر ایمان لے آئے پھر اس واقعہ کے بعد متعدد بار جن آپ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔
Ayah 72:16

وَّ اَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَى الطَّرِیْقَةِ لَاَسْقَیْنٰهُمْ مَّآءً غَدَقًاۙ Open ayah 72:16 in the Quran reader

اور اگر لوگ (سیدھی راہ پر قائم رہتے تو ہم انہیں باافراط 13 پانی سے سیراب کرتے

13 اللہ کی فرمانبرداری اور رزق کی فراوانی :۔ یعنی جن اور انسان اللہ کے فرمانبردار بن کر رہتے تو ہم ان پر بکثرت بارشیں برساتے اور رزق کی فراوانی کردیتے۔ اور یہ وہی مضمون ہے جو پہلے سورة نوح کی آیت نمبر 11، 12 کے تحت گزر چکا ہے تفصیل کے لئے دیکھئے سورة نوح کا حاشیہ نمبر 5
Ayah 72:17

لِّنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ یَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًاۙ Open ayah 72:17 in the Quran reader

تاکہ اس نعمت 14 سے ان کی آزمائش کریں اور جو شخص اپنے پروردگار کے ذکر سے منہ موڑے گا تو وہ اسے سخت عذاب میں مبتلا 15 کر دے گا

14 نعمتوں سے آزمائش کی صورت یہ ہوتی ہے کہ آیا وہ ان نعمتوں سے فائدہ اٹھا کر اللہ کا شکر بجا لانے اور اس کی اطاعت میں مزید ترقی کرتے ہیں یا اللہ کو بالکل ہی بھول جاتے ہیں یا ناشکری کرکے اصل سرمایہ بھی کھو بیٹھتے ہیں۔ 15 یعنی اس کی زندگی میں اس کی پریشانیاں بڑھتی ہی جائیں گی کسی کل چین نصیب نہ ہوگا اور آخرت میں یہ حال ہوگا کہ ہر آن اس کے عذاب میں اضافہ ہی کیا جاتا رہے گا۔
Ayah 72:18

وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًاۙ Open ayah 72:18 in the Quran reader

اور یہ کہ مسجدیں 16 اللہ کے لیے ہیں لہذا اللہ کے ساتھ کسی اور کو مت پکارو

16 یعنی ویسے تو کسی جگہ اور کسی حال میں بھی اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو پکارنا نہیں چاہیے مگر مساجد میں تو ایسا کام کرنے سے یہ شرک کا گناہ کئی گنا زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ کیونکہ مسجدیں تو خالصتاً اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے بنائی جاتی ہیں اور بعض علماء کہتے ہیں کہ امت مسلمہ کے لیے تو ساری زمین ہی مسجد بنادی گئی ہے۔ لہذا کسی جگہ بھی اللہ کے ساتھ دوسروں کو پکارنا جائز نہیں۔ اور بعض علماء کے نزدیک مساجد سے مراد وہ اعضاء ہیں جن پر سجدہ کیا جاتا ہے۔ یہ اعضاء تو اللہ کی عبادت اور بندگی کے لئے بنائے گئے ہیں۔ لہذا اللہ کے ساتھ دوسروں کو پکار کر ان کا غلط استعمال کرنا جائز نہیں۔
Ayah 72:19

وَّ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ یَدْعُوْهُ كَادُوْا یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِ لِبَدًا٢ؕ۠ Open ayah 72:19 in the Quran reader

اور جب اللہ کے بندے (رسول) اللہ کو پکارنے کے لیے (کعبہ میں) کھڑے ہوئے تو لوگ اس پر ٹوٹ پڑنے کو تیار 17 ہوگئے۔

17 کافروں کے قرآن سننے کی وجوہ :۔ یعنی جب بھی آپ ﷺ لوگوں کو قرآن سنانے کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو مسلمان بھی آپ کی طرف دوڑے آتے ہیں اور کافر بھی۔ اگرچہ دونوں کے آنے اور ہجوم کرنے کا مقصد الگ الگ اور ایک دوسرے کے برعکس ہوتا ہے۔ مسلمان ہدایت کے طالب ہیں اس لیے وہ فوراً آپ ﷺ کی طرف چل پڑتے ہیں اور کافر یہ چاہتے ہیں کہ وہاں شور شرابا کرکے قرآن کی آواز لوگوں کے کانوں میں نہ پڑنے دیں یا اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ آپ ﷺ پر نظریں جما کر اور آپ ﷺ کو گھور گھار کر اتنا مرعوب کردیں کہ آپ ﷺ قرآن سنانا بند کردیں یا پھر اس لیے سننے آجاتے ہیں کہ کوئی ایسا نکتہ ہاتھ آجائے جس سے آپ ﷺ کو جھوٹا کیا جاسکے یا مذاق اڑایا جاسکے۔
Ayah 72:20

قُلْ اِنَّمَاۤ اَدْعُوْا رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 72:20 in the Quran reader

آپ ان سے کہہ دیجئے کہ : میں تو صرف اپنے پروردگار کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک 18 نہیں کرتا

18 یعنی آپ ﷺ ان ہجوم کرنے والے کافروں سے کہیے کہ میں کوئی قابل اعتراض باتیں تو نہیں کہہ رہا میں تو صرف یہی کہتا ہوں کہ مشکل کے اوقات میں یا کسی حاجت کے موقع پر صرف اپنے پروردگار کو پکارتا ہوں اور صرف اسی کو پکارتا ہوں۔ اس لیے کہ میں صرف اسی کو اپنے نفع و نقصان کا مالک سمجھتا ہوں اس میں لڑنے جھگڑنے کی کیا بات ہے ؟
Ayah 72:21

قُلْ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا Open ayah 72:21 in the Quran reader

کہیے کہ : میں تمہارے لیے نہ کسی نقصان 19 کا اختیار رکھتا ہوں اور نہ کسی بھلائی کا

19 میرے اختیار میں صرف اتنی ہی بات ہے کہ اللہ کی طرف سے مجھ پر جو وحی آتی ہے وہ میں تم لوگوں تک پہنچا دوں۔ اگر اسے تسلیم کرلو گے تو اس میں یقیناً تمہارا فائدہ ہے۔ مگر یہ میرے اختیار میں نہیں کہ تم کو بھی راہ راست پرلے آؤں یا اگر نہ آؤ تو تمہیں کچھ نقصان پہنچا سکوں۔ ہر طرح کا فائدہ اور نقصان اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔
Ayah 72:22

قُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ١ۙ۬ وَّ لَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًاۙ Open ayah 72:22 in the Quran reader

آپ کہئے کہ : مجھے اللہ سے ہرگز کوئی بچا نہ سکے گا 20 اور نہ ہی میں اس کے سوا کوئی پناہ کی جگہ پاسکوں گا

20 یعنی میرے تصرف اور اختیار کا تو یہ حال ہے کہ تم کو نفع یا نقصان پہنچانا تو دور کی بات ہے مجھے اپنے بھی نفع و نقصان کا اختیار نہیں۔ فرض کرو جو ڈیوٹی اللہ نے میرے ذمہ لگا رکھی ہے میں اس میں کچھ کوتاہی کرتا ہوں تو میں بھی اللہ کی گرفت میں آسکتا ہوں مجھ میں یہ سکت نہیں کہ اپنے آپ کو اللہ کی گرفت سے بچا سکوں یا کہیں بھاگ کر ہی اس کی گرفت سے بچاؤ حاصل کرسکوں۔
Ayah 72:23

اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِسٰلٰتِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ Open ayah 72:23 in the Quran reader

میں تو صرف یہ کرسکتا ہوں کہ اللہ کا حکم اور اس کے پیغام (لوگوں تک) پہنچا دوں۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا تو اس کے لیے 21 جہنم کی آگ ہے اور ایسے لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے

21 یاد رہے کہ ان آیات کے اصل مخاطب مشرکین مکہ ہیں۔ جو شرک سے کسی قیمت پر باز نہیں آتے تھے اور یہی ان کی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی تھی۔ ایسے مشرکوں کی سزا واقعی ابدی جہنم ہے۔ لیکن مسلمان جو کم از کم شرک سے پاک ہوں۔ ان سے اگر اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کا کوئی کام سرزد ہوجائے تو ان کی سزا ابدی جہنم نہیں ہے۔ بلکہ اللہ انہیں مناسب سزا دینے کے بعد جہنم سے نکال لے گا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اگر وہ مناسب سمجھے تو معاف ہی فرما دے۔
Ayah 72:24

حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا Open ayah 72:24 in the Quran reader

(یہ لوگ اپنی روش سے باز نہیں آئیں گے) تاآنکہ وہ (عذاب) دیکھ نہ لیں جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ پھر جلد ہی انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس کے مددگار کمزور اور گنتی 22 میں کم ہیں

22 یہ ہجوم کرنے والے مشرک آج تو یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان مسلمانوں کی بھلا حیثیت ہی کیا ہے۔ ہم ان پر ہجوم کرکے ہی انہیں مرعوب کرسکتے ہیں۔ لیکن عنقریب ایک وقت آنے والا ہے جب انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون سے فریق کی تعداد تھوڑی ہے اور اس کے مددگار کم ہیں اور یہ وقت فتح مکہ کا دن بھی ہوسکتا ہے اور قیامت کا دن تو بہرحال یقینی ہے۔
Ayahs 72:25–26

قُلْ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَهٗ رَبِّیْۤ اَمَدًا Open ayah 72:25 in the Quran reader

آپ ان سے کہہ دیجئے کہ : میں نہیں جانتا کہ جس (عذاب) کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ قریب ہے یا اس کے لیے میرا پروردگار کوئی لمبی مدت مقرر 23 کردے۔

عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:26 in the Quran reader

وہ غیب کا جاننے والا ہے اور اپنے غیب پر کسی کو آگاہ نہیں کرتا

23 اس آیت میں سوال دہرائے بغیر کفار کے ایک بار بار کے گھسے پٹے سوال کا جواب دیا جارہا ہے جو یہ کہ قیامت کے دن کی معین تاریخ کا مجھے کچھ علم نہیں اس لیے کہ میں عالم الغیب نہیں ہوں نہ ہی میں نے کبھی اس بات کا دعویٰ کیا ہے۔ عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ وہی جانتا ہے کہ وہ جلد آئے گی یا بدیر ؟ ہاں اتنی بات میں بھی جانتا ہوں کہ وہ آئے گی ضرور خواہ کب آئے۔
Ayah 72:27

اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ Open ayah 72:27 in the Quran reader

سوائے ایسے رسول کے جسے وہ (کوئی غیب کی بات بتانا) پسند کرے۔ پھر وہ 24 اس (وحی) کے آگے اور پیچھے محافظ لگا دیتا ہے

24 علم غیب سے متعلق اللہ کا دستور یہ ہے کہ وہ یہ علم کسی کو نہیں بتاتا کہ قیامت کب آئے گی۔ ہاں غیب کی کچھ باتیں کسی رسول کو بتا بھی دیتا ہے اور یہ باتیں وہ ہوتی ہیں جن کا بتانا دین کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ مثلاً یہ کہ قیامت ضرور آئے گی۔ ایک وقت آئے گا جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا۔ یا یہ کہ قیامت صرف بدترین لوگوں پر قائم ہوگی یا یہ کہ روز محشر میں اللہ کا لوگوں سے حساب لینا اور جنت اور دوزخ کے حالات۔ یہ سب چیزیں غیب سے تعلق رکھتی ہیں جو اللہ نے وحی کے ذریعہ رسول کو بتادیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے امت تک پہنچا دیں۔ اس کا بھی ضابطہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ جبریل کے ذریعہ ایسی وحی بھیجتا ہے تو اس کے آگے پیچھے نگران اور محافظ بھی بھیجتا ہے تاکہ یہ وحی بحفاظت تمام و کمال اور بلا کسی آمیزش کے رسول تک پہنچ جائے۔
Ayah 72:28

لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیْهِمْ وَ اَحْصٰى كُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا۠ Open ayah 72:28 in the Quran reader

تاکہ اسے معلوم ہوجائے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغام 25 پہنچا دیئے ہیں اور جو کچھ ان رسولوں کو درپیش ہوتا ہے اس کا وہ احاطہ کیے ہوئے 26 ہے اور ہر چیز کو گن کر اسے ریکارڈ رکھا ہوا ہے۔

25 وحی الٰہی کی حفاظت کا اہتمام :۔ اس جملہ کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں مثلاً ایک یہ کہ رسول کو علم ہوجائے کہ فرشتوں نے اپنے پروردگار کے پیغام ٹھیک ٹھیک پہنچا دیئے۔ دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ کو علم ہوجائے کہ فرشتوں نے رسول کو پیغامات پہنچا دیئے اور تیسرا یہ کہ اللہ کو علم ہوجائے کہ رسولوں نے اس کے پیغام ٹھیک ٹھیک لوگوں تک پہنچا دیئے۔ گویا ان پہرے داروں کی اس وقت تک ڈیوٹی ختم نہیں ہوتی جب تک کہ اللہ کے پیغامات فرشتوں کے ذریعہ رسولوں تک اور رسولوں کے ذریعہ عام لوگوں تک پہنچا نہیں دیئے جاتے۔ 26 یعنی ان انتظامات کے علاوہ ان سب سے اوپر اللہ تعالیٰ کی اپنی نگرانی اور کنٹرول ہے۔ یعنی رسول پر بھی اور فرشتوں پر بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت اسی طرح محیط ہے اگر وہ بال برابر بھی اس کی مرضی کے خلاف جنبش کریں تو فوراً گرفت میں آجائیں۔ نہ فرشتوں کی یہ مجال ہے کہ وہ وحی الٰہی میں سے ایک لفظ تک کی کمی بیشی کرسکیں اور نہ رسولوں کی۔ کیونکہ اللہ جو وحی بھیجتا ہے اس کا ایک ایک لفظ گنتی میں آچکا ہوتا ہے۔