Ayahs 59:1–21 مدینہ کے تینوں یہودی قبائل کا تعارف :۔ ان آیات میں غزوہ بنو نضیر کا مجملاً ذکر آیا ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ جس وقت آپ مدینہ تشریف لائے اس وقت یہود کے تین قبائل مدینہ میں آباد تھے۔ بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ۔ بنو قینقاع مدینہ کے اندر آباد تھے۔ زرگری یا سنار کا کام کرتے تھے۔ قبیلہ خزرج کے حلیف تھے۔ اور نسبتاً زیادہ مالدار تھے۔ اور بنو نضیر اور بنو قریظہ انصار کے قبیلہ اوس کے حلیف تھے۔ ان کا کام یہ تھا کہ اوس و خزرج کو ہمیشہ برسرپیکار رکھتے اور اس طرح پورے مدینہ پر اپنا سیاسی تفوق برقرار رکھتے تھے اور چونکہ یہ سب قبائل مالدار اور سود خور بھی تھے لہذا معاشی لحاظ سے بھی انہیں کافی اہمیت حاصل تھی۔ جب آپ مدینہ تشریف لائے تو پہلے مسلمانوں کے داخلی مسائل حل فرمائے۔ سب سے پہلا مسئلہ مسجد نبوی کی تعمیر کا تھا اور دوسرا مہاجرین کو آباد کرنا اور معاش کا مسئلہ جسے آپ نے مواخات کے ذریعہ حل فرمایا۔ تیسرا مسئلہ مسلمانوں کے باہمی حقوق و فرائض کی تعیین کا تھا۔ ان مسائل سے فراغت کے بعد یہود کے ساتھ جو مسلمانوں کے سب قریبی ہمسائے تھے معاہدہ کی باری آئی تاکہ مدینہ میں امن وامان کی فضا کو برقرار رکھا جاسکے۔ یہ معاہدہ بنیادی اہمیت کا حامل تھا اور اس کی دفعات یہ تھیں :
میثاق مدینہ کی دفعات :۔ 1۔ یہود مسلمانوں کے ساتھ مل کر ایک ہی امت ہوں گے۔ یہود اپنے دین پر عمل پیرا ہوں گے اور مسلمان اپنے دین پر کوئی ایک دوسرے سے مزاحم نہ ہوگا۔
2۔ اس معاہدہ کے شرکاء کے باہمی تعلقات خیرخواہی اور فائدہ رسانی کی بنیاد پر ہوں گے نہ کہ گناہ پر۔
3۔ اگر کوئی بیرونی طاقت مدینہ پر حملہ آور ہو تو سب مل کر اس کا دفاع کریں گے۔
4۔ جب تک جنگ برپا رہے گی یہود بھی مسلمانوں کے ساتھ خرچ برداشت کریں گے اور ہر فریق اپنے اپنے اطراف کا دفاع کرے گا۔
5۔ قریش اور ان کے مددگاروں کو پناہ نہیں دی جائے گی۔
6۔ مظلوم کی مدد کی جائے گی۔ یہ معاہدہ کسی ظالم یا مجرم کے لیے آڑ نہیں بنے گا۔
7۔ کوئی آدمی اپنے حلیف کی وجہ سے مجرم نہ ٹھہرے گا۔
8۔ اس معاہدے کے سارے شرکاء پر مدینہ میں ہنگامہ آرائی اور کشت و خون حرام ہوگا۔
9۔ اس معاہدہ کے فریقوں میں اگر کوئی جھگڑا ہوجائے تو اس کا فیصلہ رسول اللہ کریں گے۔
یہی معاہدہ مدینہ میں ایک آزاد اسلامی ریاست کی بنیاد ثابت ہوا جس کی رو سے مدینہ اور اس کے اطراف ایک وفاقی حکومت بن گئے۔ جس کا سربراہ رسول اللہ کو تسلیم کرلیا گیا تھا۔ یہاں ایک نہایت اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہود تو اسلام اور پیغمبر اسلام کے دشمن تھے انہوں نے آپ کی بالادستی کو کیوں اور کیسے تسلیم کرلیا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ مدینہ کی اکثر آبادی یہود کی مکاریوں اور چیرہ دستیوں سے سخت نالاں تھی۔ مگر انہیں کوئی ایسا بااثر آدمی نظر نہیں آرہا تھا جو ان کی باہمی عداوتوں کو ختم کرکے شیروشکر کردے۔ آپ کی ذات میں مدینہ والوں کو اپنی منزل مقصود نظر آئی لہذا وہ اسلام لاکر رسول اللہ سے مل گئے اور یہود ایک کمزور اقلیت کی حیثیت سے ثانوی سطح پر آگئے۔ اس کی دوسری وجہ یہ تھی کہ یہود خود تین قبائل میں بٹے ہوئے تھے۔ انہوں نے بیک وقت اس معاہدہ کو قبول نہیں کیا بلکہ یکے بعد دیگرے جوں جوں حالات کے سامنے مجبور ہوتے گئے یہ معاہدہ تسلیم کرتے گئے۔ اس معاہدہ میں چونکہ ہر شخص کو مذہبی آزادی اور ہر ایک کے بنیادی حقوق کو انصاف کے ساتھ تسلیم کیا گیا تھا لہذا یہود کے لیے یہ معاہدہ تسلیم کرلینے کے علاوہ کوئی چارہ کار بھی نہ رہا تھا۔
یہودی قبائل سے امن کے معاہدے :۔ مگر یہودی قبائل نے اس معاہدہ کو دل سے کبھی تسلیم نہ کیا۔ ہر وقت مسلمانوں سے چھیڑ چھاڑ اور خباثتیں کرتے رہتے تھے۔ منافقوں اور یہودیوں کی آپس میں مسلمانوں کے خلاف سازباز رہتی تھی۔ جب جنگ بدر میں اللہ نے مسلمانوں کو شاندار فتح عطا کی تو یہ دونوں فریق جل بھن گئے۔ یہود میں سے بنو قینقاع شرارتوں میں پیش پیش تھے۔ جنگ بدر کے بعد آپ نے ان کو بازار قینقاع میں جمع کیا اور فرمایا کہ شرارتیں چھوڑ دو اور اس سے پیشتر کہ تمہیں ویسی ہی مار پڑے جیسی قریش کو پڑچکی ہے۔ اسلام قبول کرلو اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ محمد ! تمہارا سابقہ قریش کے اناڑی لوگوں سے پڑا اور تم نے میدان مار لیا۔ لہذا کسی خوش فہمی میں مبتلا نہ ہوجانا ہم سے سابقہ پڑا تو آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوجائے گا۔ یہودیوں کا یہ جواب دراصل اعلان جنگ کے مترادف تھا پھر بھی آپ نے صبر ہی کیا۔
بنوقینقاع کی شرارت بلوہ اور محاصرہ :۔ مگر چند ہی دن بعد ایک سنار یہودی نے ایک مسلمان عورت سے چھیڑ چھاڑ کی اور اسے ننگا کردیا۔ عورت نے چیخ و پکار کی تو ایک مسلمان نے اس یہودی کو مار ڈالا پھر یہودیوں نے اس مسلمان پر حملہ کرکے اسے مار ڈالا۔ اب مقتول مسلمان کے گھر والوں نے یہود کے خلاف مسلمانوں سے فریاد کی۔ نتیجتاً مسلمانوں اور بنو قینقاع میں بلوہ ہوگیا۔
بنوقینقاع کی جلاوطنی :۔ یہ صورت حال دیکھ کر آپ نے شوال 2 ہجری میں ایک لشکر تیار کیا اور بنوقینقاع کے ہاں جا پہنچے۔ شیخیاں بگھارنے والے یہود کو سامنے آکر لڑنے کی جرأت ہی نہ ہوئی اور فوراً قلعہ بند ہوگئے۔ پندرہ دن تک محاصرہ جاری رہا۔ اور وہ ایسے مرعوب ہوئے کہ یہ کہہ کر ہتھیار ڈال دیئے کہ ہمارے جان و مال اور اولاد کے متعلق جو فیصلہ رسول اللہ فرمائیں گے وہ ہمیں منظور ہوگا۔ آپ نے انہیں قید کرنے کا حکم دیا۔ بعد میں منافقوں کے سردار عبداللہ بن ابی، جو اندر سے یہود کا بڑا ہمدرد اور حلیف تھا، کی پر زور سفارش کی وجہ سے آپ نے ان پر رحم کیا۔ انہیں صرف جلاوطن کیا گیا۔ یہ قبیلہ شام کی طرف چلا گیا یہ کل سات سو اشخاص تھے جن میں سے تین سو زرہ پوش تھے۔ یہ قبیلہ سب سے زیادہ مالدار تھا۔ مدینہ کے اندر آباد تھا۔ سب سے پہلے اسے جلا وطن کیا گیا۔ ان کی جلاوطنی کا ذکر قرآن میں نہیں ہے۔
آپ کا بنو نضیر سے دیت میں حصہ کا مطالبہ کرنا :۔ بنوقینقاع کے اخراج کے بعد یہودی کچھ عرصہ کے لیے دبک گئے تھے۔ جنگ احد میں مسلمانوں کو جو نقصان پہنچا اس سے انہیں از حد مسرت ہوئی پھر واقعہ رجیع اور بئرمعونہ نے یہود کو سرکشی کی حد تک دلیر بنادیا۔ انہی دنوں ایک واقعہ پیش آیا۔ سیدنا عمرو بن امیہ ضمری نے جو بئر معونہ کے حادثہ میں بچ نکلے تھے، دوران سفر بنو کلاب کے دو آدمیوں کو دشمن سمجھ کر قتل کردیا۔ حالانکہ وہ معاہد لوگ تھے۔ آپ کو جب اس واقعہ کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا : اب ہمیں لازماً ان دونوں کی دیت ادا کرنا پڑے گی۔ ابتدائی معاہدہ کی رو سے یہود بھی اس دیت کی رقم کی ادائیگی میں برابر کے حصہ دار تھے۔ چناچہ آپ چند صحابہ کے ہمراہ بنونضیر کے ہاں گئے اور مصارف کا مطالبہ کیا۔
آپ کے قتل کی یہودی سازش :۔ یہود نے رقم اکٹھی کرنے کے بہانے آپ کو ایک علیحدہ مکان میں بٹھایا پھر علیحدہ ہو کر آپ کو ایک گھناؤنی سازش کے ذریعہ مار ڈالنے کا منصوبہ بنایا۔ اس وقت آپ ایک دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ یہود میں سے ایک شخص نے کہا : کون ہے جو چھت پر چڑھ کر اوپر سے چکی کا پاٹ گرا کر محمد ﷺ کو کچل دے۔ ایک بدبخت یہودی عمروبن جحاش بولا میں یہ کام کروں گا یہود کے ایک عالم سلام بن مشکم نے کہا : ایسا نہ کرو۔ واللہ اسے وحی کے ذریعہ تمہارے ارادہ کا علم ہوجائے گا۔ علاوہ ازیں معاہدہ کی رو سے بھی ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہئے۔ لیکن شریر یہودیوں نے سلام بن فمشکم کی بات کو چنداں اہمیت نہ دی اور اپنی اس ناپاک سازش کی تکمیل پر اور زیادہ مصر ہوگئے۔
آپ کو اس سازش کا وحی سے علم ہونا :۔ عین اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آپ کو بذریعہ وحی یہود کے اس ارادہ کی خبر دے دی۔ آپ تیزی سے اٹھے اور مدینہ کی طرف چل دیئے۔ بعد میں صحابہ کرام ؓ اٹھے اور رسول اللہ سے جاملے۔ آپ نے صحابہ کرام ؓ کو صحیح صورت حال سے مطلع کردیا۔ یہود کی یہی غداری بنونضیر کی تباہی کا سبب بن گئی۔ جس کا ذکر ان آیات میں کیا جارہا ہے۔
2 یہود کی جلاوطنی کا حکم :۔ واپس مدینہ پہنچتے ہی رسول اللہ نے محمد بن مسلمہ کی زبانی بنونضیر کو پیغام بھیج دیا کہ اب تم ہمارے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ لہذا دس دن کے اندر اندر یہاں سے نکل جاؤ۔ جو سامان تم اپنے ساتھ لے جاسکو تمہیں اس کی اجازت ہے۔ دس دن کے بعد جو شخص یہاں نظر آیا اسے قتل کردیا جائے گا۔ یہ بدعہد اور شرارتی قوم اس قدر بزدل نکلی کہ آپ کے اس پیغام سے دہشت زدہ ہوگئی اور اپنے گھر بار چھوڑ کر وہاں سے نکل جانے کی تیاریاں کرنے لگی۔ حالانکہ مسلمانوں کو یہ خیال تک نہ تھا کہ یہ مسلح اور جنگجو کہلانے والی قوم صرف ایک پیغام پر ہی ہتھیار ڈال دے گی اور جلاوطنی پر آمادہ ہوجائے گی۔
3 عبداللہ بن ابی کی شہ پر رک جانا :۔ جب یہود جانے کی تیاریوں میں مصروف ہوگئے تو ان کے ہمراز اور ہمدرد عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین نے انہیں پیغام بھیجا کہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں اپنی جگہ پر برقرار رہو اور ڈٹ جاؤ۔ میرے پاس دو ہزار مسلح آدمی ہیں۔ جو آپ کے قلعوں میں داخل ہو کر تمہاری حفاظت میں اپنی جانیں دے دیں گے۔ علاوہ ازیں بنو قریظہ اور بنو غطفان بھی تمہارے حلیف ہیں۔ وہ بھی تمہاری مدد کریں گے۔ اور اگر تمہیں نکالا بھی گیا تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکل جائیں گے۔ رئیس المنافقین کے اس جانفزا پیغام سے یہود کی جان میں جان آگئی۔ ان کے موقعہ شناس سردار حیی بن اخطب کی آنکھیں چمک اٹھیں اور اس نے رسول اللہ کو پیغام بھیج دیا کہ ہم یہاں سے نہیں نکلیں گے تم سے جو بن پڑتا ہے کرلو۔ اگرچہ مسلمان ان دنوں سخت زخم خوردہ تھے۔ جنگ احد میں ستر مردان کار شہید ہوچکے تھے۔ پھر واقعہ رجیع اور بئرمعونہ کے صدمے بھی برداشت کرنا پڑے۔ یہودیوں کے قتل کی سازش اور عبداللہ بن ابی کی ان سے پوری طرح گٹھ جوڑ، گھر کے اندر اور باہر ہر طرف دشمن ہی دشمن حالات چنداں سازگار نہ تھے۔ مگر اب یہودیوں کا چیلنج قبول کرنے کے بغیر کوئی چارہ بھی نہ تھا۔
بنو نضیر کا محاصرہ :۔ اللہ کا نام لے کر نکل کھڑے ہوئے اور جاکر بنونضیر کا محاصرہ کرلیا۔ اس بدعہد اور بزدل قوم کو سامنے آکر لڑنے کی جرأت نہ ہوئی اور انہوں نے اپنا بچاؤ اسی بات میں سمجھا کہ اپنے مضبوط قلعوں میں بند ہوجائیں۔ بنو نضیر کی مدد کو کوئی بھی نہ پہنچا۔
عبداللہ بن ابی کی وعدہ خلافی :۔ نہ رئیس المنافقین نہ اس کے دو ہزار جنگجو، نہ بنو قریظہ اور نہ بنو غطفان۔ صرف بنو نضیر اکیلے ہی مسلمانوں سے نمٹنے کے لیے رہ گئے۔ رئیس المنافقین کی اس بدعہدی نے یہودیوں کے حوصلے پست کردیئے۔ ان کی اپنی افرادی قوت، اسلحہ کی فراوانی، سامان رسد کی بہتات اور اطراف سے امداد اور ہمدردی کے وعدے غرض ان کے سب سہارے دھرے کے دھرے رہ گئے۔
یہود کا ہتھیار ڈالنا اور جلاوطنی :۔ اب ان کے حواس ٹھکانے آنے لگے۔ اللہ نے مسلمانوں کا رعب کچھ اس طرح ان کے دلوں میں ڈال دیا کہ قلعوں سے باہر نکلنے کی ہمت ہی نہیں پڑتی تھی۔ چناچہ محاصرہ کو ابھی دو ہفتے بھی نہ گزرنے پائے تھے کہ انہوں نے رسول اللہ کو پیغام بھیج دیا کہ ہم آپ کی شرط کے مطابق مدینہ سے جلاوطن ہونے کو تیار ہیں۔ آپ نے ان کی بات منظور فرما کر محاصرہ اٹھا لیا۔ یہ قوم اپنے مکانوں کی چھتیں اکھاڑ اکھاڑ کر ان کی لکڑیاں اپنے اونٹوں پر لادنے لگی۔ وہ خود ہی اپنے گھروں کو مسمار کر رہے تھے اور مسلمان بھی اپنی ضرورت کے مطابق ان کے گھروں کو مسمار کر رہے تھے۔ ان کے سردار حیی بن اخطب اور سلام بن ابی الحقیق نے مدینہ سے نکل کر خیبر کا رخ کیا اور کچھ شام کی طرف چلے گئے۔
Ayahs 59:3–54 محاصرہ کے وقت مسلمانوں کا درخت کاٹنا اور مخالفین کا شورو غوغا :۔ مدینہ کے گرد بنو نضیر کا ایک نہایت خوبصورت باغ تھا۔ جسے بویرہ کہتے تھے اس میں بہت سے کھجوروں کے درخت تھے۔ جب مسلمانوں نے بنونضیر کا محاصرہ کرنا چاہا تو یہ درخت کام میں آڑے آرہے تھے۔ چناچہ جو جو درخت رکاوٹ بن سکتے تھے مسلمانوں نے ان کو کاٹ کر اور جہاں زیادہ گنجان تھے وہاں انہیں آگ لگا کر محاصرہ کرنے کے لیے اپنی راہ صاف کرلی۔ جب آگ کے شعلوں نے اس باغ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس وقت سیدنا حسان بن ثابتص نے یہ شعر پڑھا۔
وَھَانَ عَلٰی سَرَاۃِ بَنِی لُؤیٍّ ۔۔ حَرِیْقٌ بالْبُوَیْرَۃِ مُسْتَطِیْرٌ (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب حدیث بنی نضیر)
یعنی بنی لؤی (قریش) کے سردار یہ بات معمولی سمجھ کر برداشت کر رہے تھے کہ بویرہ کا باغ پوری طرح آگ کی لپیٹ میں آکر جل رہا ہے۔
جب راستہ صاف کرنے کی خاطر مسلمانوں نے یہ درخت کاٹے تو اس پر مخالفین نے ایک شور بپا کردیا کہ دیکھو مسلمان درختوں کو کاٹ کر فساد فی الارض کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ حالانکہ یہ اصلاح فی الارض کے دعویدار بنے پھرتے ہیں۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ تم نے جو بھی کھجوروں کا درخت کاٹا یا اسے اپنی جڑوں پر برقرار رہنے دیا تو یہ سب کچھ اللہ کے حکم سے تھا اور واقعہ بھی یہی تھا کہ رسول اللہ نے مسلمانوں کو جنگ کے موقعوں پر درخت کاٹنے سے منع کیا تھا اور اسے فساد فی الارض قرار دیا تھا۔ مگر بنو نضیر کی مسلسل بدعہدیوں کی وجہ سے ان کا استیصال ضروری ہوگیا۔ لہذا اس خاص موقعہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی اجازت دی تھی۔ اور چونکہ اس اجازت کا ذکر قرآن میں کہیں مذکور نہیں جس سے ضمناً یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ پر قرآن کے علاوہ بھی وحی ہوتی تھی۔ جسے عموماً وحی خفی یا وحی غیر متلو کہا جاتا ہے اور دوسرا مسئلہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے جو تخریبی کاروائی جنگی ضروریات کے لیے ناگزیر ہو وہ فساد فی الارض کی تعریف میں نہیں آتی۔
5 بنو نضیر کا اخراج :۔ بنوقینقاع کی جلاوطنی کے بعد بنو نضیر بھی مدینہ سے جلاوطن اور رسوا کرکے نکال دیئے گئے۔ رہے بنو قریظہ، تو ان کا جو حشر ہوا اس کی تفصیل سورة احزاب کی آیت نمبر 26 کے حاشیہ میں گزر چکی ہے۔ نیز درج ذیل حدیث میں بھی اجمالاً ان کا ذکر آگیا ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ بنونضیر اور بنو قریظہ نے جنگ کی تو آپ نے بنونضیر کو تو جلا وطن کیا اور بنوقریظہ کو وہیں رہنے دیا اور ان پر احسان کیا تاآنکہ بنوقریظہ نے جنگ کی (جنگ احزاب کے بعد) تو آپ نے ان کے مردوں کو قتل کردیا اور ان کی عورتوں، بچوں اور اموال کو مسلمانوں میں تقسیم کردیا۔ ماسوائے ان لوگوں کے جو پہلے ہی آکر آپ سے مل گئے تھے۔ آپ نے انہیں امن دیا اور وہ مسلمان ہوگئے۔ اور آپ نے تمام یہود کو جلاوطن کیا۔ ان میں عبداللہ بن سلام کے قبیلہ بنوقینقاع کے یہود بھی شامل تھے اور بنو حارثہ بھی۔ غرض مدینہ کے سب یہودیوں کو جلا وطن کردیا۔ (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب حدیث بنی نضیر۔ مسلم۔ کتاب الجہاد۔ باب اجلاء الیہود من الحجاز)
Ayah 59:66 اموال فے میں مجاہدین کا حصہ کچھ نہیں :۔ اموال غنیمت میں سے پانچواں حصہ خالصتاً رسول اللہ کے لیے مختص ہوتا تھا جسے آپ اپنی ذات، اپنے گھر والوں رشتہ داروں اور دوسروں میں اپنی صوابدید کے مطابق خرچ کرتے تھے۔ لیکن جو اموال جنگ کئے بغیر ہی دستیاب ہوجائیں جنہیں اموال فے کہا جاتا ہے، وہ سارے کے سارے رسول اللہ کی تحویل میں دیئے جاتے تھے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے :
سیدنا عمر کہتے ہیں کہ بنی نضیر کے مال ان اموال میں سے تھے جو اللہ نے لڑائی کے بغیر اپنے پیغمبر کو دلا دیئے۔ مسلمانوں نے ان پر گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے تھے۔ اس قسم کے مال خاص رسول اللہ کے گنے جاتے تھے۔ ایسے اموال سے آپ اپنے گھر والوں کا سال بھر کا خرچ نکال لیتے تھے اور باقی مال جہاد کے سامان کی تیاری اور گھوڑوں (وغیرہ) میں خرچ کرتے۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر)
واضح رہے کہ اس آیت میں افاء کا لفظ آیا ہے۔ فَاءَ (مادہ فئی) کا لغوی معنی بہتری یا اچھی حالت کی طرف لوٹنا یا واپس آنا ہے۔ اور افاء کے معنی لوٹا دینا ہے۔ اور اس میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ اللہ کے باغی اور نافرمان اپنے اموال کے حقدار نہیں ہوتے اور اللہ نے یہ اموال اپنے نافرمانوں سے چھین کر اپنے فرمانبرداروں کو پلٹا دیئے ہیں۔
Ayah 59:77 اموال فے بیت المال کی ملکیت ہوتے ہیں :۔ سابقہ آیت میں حکم صرف بنو نضیر کی متروکہ جائیداد سے متعلق تھا۔ اس آیت میں ایک عام اصول بیان کیا گیا ہے کہ جو اموال بھی جنگی کارروائیوں کے بغیر مسلمانوں کے ہاتھ لگ جائیں وہ بیت المال کی ملکیت متصور ہوں گے۔ اس میں مجاہدین کو کچھ نہیں ملے گا۔ کیونکہ یہ ان کی محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ اس اجتماعی قوت کا نتیجہ ہے جو اللہ نے اپنے رسول اس کی امت اور اس کے قائم کردہ نظام کو عطا فرمائی ہے۔ لہذا یہ اموال، اموال غنیمت سے بالکل جداگانہ حیثیت رکھتے ہیں۔ اور ان اموال پر مسلمانوں کے امیر کا تصرف حاکمانہ ہوتا ہے۔ اور اموال فے کا اطلاق منقولہ اور غیر منقولہ دونوں قسم کے اموال پر ہوگا۔ اموال فے میں وہ جزیہ و خراج کی آمدنی بھی شامل ہے۔ جو ایک اسلامی ریاست کو غیر مسلموں سے حاصل ہوتی ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اموال فے کے مصارف کی مدات بھی بیان فرما دیں۔ رسول اللہ کی زندگی کے بعد آپ کے قرابتداروں پر خرچ کرنے کی مد باقی ہے یا ختم ہوگئی ؟ اس میں اختلاف ہے بعض علماء کہتے ہیں کہ چونکہ بنو ہاشم اور بنومطلب پر اموال زکوٰۃ حرام ہیں اس لیے ایسے اموال سے ان کے محتاجوں کی خدمت کی جائے گی۔
8 اسلام کے معاشی نظام کے چند سنہری اصول :۔ اس مختصر سے جملہ میں اسلام کے معاشی نظام کو یوں بیان کیا گیا ہے جیسے سمندر کو کوزہ میں بند کردیا گیا ہو۔ ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس کا مطلب اتنا ہی ہے کہ اموال فے کو مجاہدین پر تقسیم نہ کیا جائے۔ جن میں سے اکثر پہلے ہی غنی ہوچکے ہیں محتاج اور مسکین نہیں رہے۔ اور دولت انہی میں تقسیم نہ کردی جائے بلکہ نادار لوگوں تک پہنچائی جائے تاہم اس میں ایک عام اصول بیان کردیا گیا ہے کہ ایک اسلامی مملکت میں دولت کا بہاؤ امیروں سے غریبوں کی طرف ہونا چاہئے نہ کہ غریبوں سے امیروں کی طرف۔ غریبوں سے امیروں کی طرف دولت کے بہاؤ کا سب سے بڑا ذریعہ سود ہے۔ جس کی تمام تر شکلوں کو مکمل طور پر حرام کردیا گیا ہے۔ اور زکوٰۃ یعنی فرضی صدقہ، واجبی صدقات اور نفلی صدقات جن کا قرآن میں جگہ جگہ حکم اور ان کی ترغیب دی گئی ہے ان سب کا مقصد یہ ہے کہ دولت کا بہاؤ امیر سے غریب کی طرف ہو۔ سرمایہ داری اور ارتکاز دولت پر اسلام کا قانون میراث کاری ضرب لگاتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اگر کسی کے پاس کروڑوں اور اربوں کی مالیت بھی ہو تو وہ چند ہی نسلوں میں منتشر ہو کر سینکڑوں افراد میں تقسیم ہوجاتی ہے۔ یہاں چند امور کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے۔ ایک یہ کہ دولت اگر چند سرمایہ داروں کے پاس جمع ہوجائے تو اس سے طبقاتی تقسیم بڑھتی جاتی ہے امیر دن بدن امیر تر اور غریب دن بدن غریب ہوتے چلے جاتے ہیں۔ آپس میں ان طبقوں میں منافرت اور دشمنی پیدا ہوجاتی ہے جو اور بڑے بڑے فتنوں کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔ دوسرے یہ کہ دولت جس قدر تیزی سے گردش کرے گی اسی قدر قومی معیشت میں خوشحالی واقع ہوگی۔ تیسرے یہ کہ دولت کی گردش کی رفتار صرف اس وقت تیز ہوتی ہے جبکہ غریبوں کی امداد کرکے ان میں قوت خرید پیدا کی جائے اور اگر دولت امیروں کے پاس جمع ہوتی رہے تو گردش کی رفتار حیرت انگیز حد تک کم ہوجاتی ہے۔ ان امور کی تشریح ان حواشی میں بہت مشکل ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھئے میرا مضمون اسلامی معیشت اور سود مطبوعہ سہ ماہی مجلہ منہاج اسلامی معیشت نمبر جنوری، اپریل 1992 ئ
9 رسول اللہ کا فرمان یقینی شرعی حجت اور واجب الاتباع ہے :۔ یہ جملہ رسول اللہ کی سنت کو قابل حجت تسلیم کرنے پر قطعی دلیل مہیا کرتا ہے۔ لیکن مشہور منکر حدیث حافظ اسلم صاحب جیرا جپوری نے اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ جملہ تو اموال فے کی تقسیم کے بارے میں ہے۔ حدیث کا اس سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ یہاں آتیٰ کا لفظ جو نہی کے بالمقابل استعمال ہوا ہے لوگوں نے غلط فہمی سے اسے امر یا قال کے معنی میں سمجھ لیا۔ حالانکہ یہ لفظ قرآن میں سینکڑوں جگہ آیا ہے اور کہیں ان معنوں میں مستعمل نہیں ہوا ہے۔ بلکہ ہر جگہ اس کے معنی اعطاء یعنی دینے کے ہی ہیں۔ لہذا یہ استدلال صحیح نہیں ہے۔ (مقام حدیث ص 126)
اب دیکھیے کہ اتیٰ بمعنی اِعْطَاء ُ کی ضد منع ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ لفظ استعمال نہیں فرمایا۔ اور نھیٰ کی ضد امر ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے نھیٰ کے مقابلہ میں امر کا لفظ استعمال نہیں فرمایا۔ گویا حافظ صاحب صرف اپنے نظریہ کی تائید کے لیے قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت پر اعتراض فرما رہے ہیں کہ نھیٰ کے معنی نہ دینا کبھی نہیں ہوتا۔ پھر اگر قرآن کریم میں فی الواقع اتٰکُمْ کے مقابلہ نَھٰکُمْ کا لفظ ہی استعمال ہوتا تو بھی اسے اس خاص واقعہ یعنی مال فے کی تقسیم سے متعلق ہی قرار نہیں دیا جاسکتا تھا۔ کیونکہ یہ ایک عام اصول ہے کہ کسی خاص واقعہ میں کوئی حکم آجائے تو یہ حکم عام ہوتا ہے۔ چہ جائیکہ اللہ تعالیٰ نے اٰتٰکُم، کے مقابلہ میں نَھٰکُمْ کا لفظ استعمال کرکے اس شائبہ کو بالکل ہی ختم کردیا ہے کہ اس حکم کا تعلق اس خاص واقعہ یا اسی جیسے بعد میں آنے والے دوسرے واقعات سے ہوسکتا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے اٰتٰکُمْ کے مقابلہ میں نَھَاکُمْ کا لفظ لا کر ایک طرف تو اس پیش آمدہ مسئلہ کا حل پیش کردیا اور دوسری طرف اس حکم میں ایسی عمومیت پیدا کردی جس سے صرف وہی لوگ لذت آشنا ہوسکتے ہیں جو عربی زبان کا کچھ ذوق رکھتے ہیں۔ اب رہی یہ بات کہ اصل میں غلط فہمی کا شکار کون ہے تو اس کے لیے پہلے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے۔
منکرین حدیث کا ایک اعتراض اور اس کا جواب عبداللہ بن مسعود ؓ کی وضاحت :۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا کہ آپ نے گودنے والی، گدوانے والی، خوبصورتی کے لیے چہرے کے بال اکھاڑنے والی اور دانتوں کو جدا کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے جو اللہ کی خلقت کو بدلتی ہیں۔ یہ حدیث بنی اسد کی ایک عورت کو پہنچی جس کی کنیت ام یعقوب تھی۔ وہ عبداللہ بن مسعود ؓ کے پاس آکر کہنے لگی : مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ نے ایسی ایسی عورتوں پر لعنت کی ہے انہوں نے کہا : میں تو اس پر ضرور لعنت کروں گا جس پر نبی اکرم نے لعنت کی ہے اور اللہ کی کتاب میں اس پر لعنت آئی ہے اس عورت نے کہا : میں نے تو سارا قرآن، جو دو تختیوں کے درمیان ہے، پڑھ ڈالا ہے، اس میں تو کہیں ان عورتوں پر لعنت نہیں آئی آپ نے کہا : اگر تو نے (اچھی طرح) قرآن پڑھا ہوتا تو ضرور یہ مسئلہ پالیتی۔ کیا تو نے قرآن میں یہ نہیں پڑھا کہ پیغمبر جس بات کا تمہیں حکم دے اس پر عمل کرو اور جس بات سے منع کرے اس سے باز رہو ؟ اس عورت نے کہا : ہاں ! یہ آیت تو قرآن میں موجود ہے سیدنا عبداللہ کہنے لگے۔ بس آپ نے ان باتوں سے منع کیا ہے وہ کہنے لگی : تمہاری بیوی بھی تو یہ کام کرتی ہے انہوں نے کہا : جاکر دیکھو تو جب وہ گئی تو وہاں کوئی بات نہ پائی۔ سیدنا عبداللہ ؓ کہنے لگے : اگر میری بیوی ایسے کام کرتی تو بھلا وہ میرے ساتھ رہ سکتی تھی ؟ (بخاری۔ کتاب التفسیر)
اب سوال یہ ہے کہ اس آیت کا صحیح مفہوم سمجھنے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم تھے یا قبلہ حافظ صاحب ؟ پھر ام یعقوب نے جو اگر صحابیہ نہیں تو تابعیہ تو ضرور ہوگی۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ کا یہ استدلال سن کر یہ نہیں کہا کہ یہ حکم تو مال فے کی تقسیم سے متعلق ہے اور اٰتٰی کے معنی اعطاء ہوتا ہے بلکہ اس نے میں سمجھ گئی کا اقرار کرکے صحابہ کرام ؓ کے سمجھے ہوئے مفہوم کی تائید کردی۔ صحابہ میں یہ فہم رسول اللہ ﷺ سے منتقل ہوا۔ پھر صحابہ سے تابعین میں، ان سے تبع تابعین میں پھر محدثین میں، آخر وہ کون سا دور ہے جس میں اس مفہوم کو درست نہ سمجھا گیا ہو۔ جسے حافظ صاحب لوگوں کی غلط فہمی قرار دے رہے ہیں۔ اور وہ مفہوم یہ ہے کہ سنت رسول بھی شریعت کا حصہ ہے نیز یہ کہ صحابہ کرام ؓ ایسے احکام کو کتاب اللہ میں ہی شمار کرتے تھے۔
نیز آپ نے فرمایا کہ : عنقریب تم میں ایک پیٹ بھرا شخص اپنے پلنگ پر تکیہ لگائے میری حدیثیں سن کر یہ کہے گا کہ ہمارے تمہارے درمیان قرآن (کافی) ہے اس کے حلال کیے ہوئے کو حلال اور حرام کیے ہوئے کو حرام سمجھو۔ یاد رکھو ! مجھے قرآن دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اس کے مثل اور بھی (ترمذی۔ ابو داؤد۔ ابن ماجہ۔ مسند احمد۔ بیہقی دارمی بحوالہ مشکٰوۃ) واضح رہے آپ کی سنت پر عمل پیرا ہونا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس کے بغیر قرآن کے احکام بھی کسی صورت بجا نہیں لائے جاسکتے۔ لہذا جو شخص سنت یا حدیث کی حجیت کا قائل نہ ہو وہ حقیقتاً قرآن کا بھی منکر ہوتا ہے۔ بلکہ اسے بننا پڑتا ہے۔
Ayah 59:810 اموال فے میں محتاجوں اور مہاجرین کا حصہ :۔ مال فے کی تقسیم میں پہلے محتاجوں کا عمومی ذکر فرمایا۔ اس کے بعد بالخصوص ان مہاجر محتاجوں کا ذکر فرمایا۔ جنہوں نے محض اسلام اور اللہ کی رضا کی خاطر اپنا گھر بار مال و دولت اور جائیدادیں سب کچھ چھوڑ کر مدینہ آگئے۔ جبکہ یہاں ان کی آباد کاری اور معاش کے مسئلہ کا کوئی حل نظر نہیں آرہا تھا۔ انہوں نے ایمان کا دعویٰ کیا تو عملی طور پر اسے سچ کر دکھایا۔ اور ہر وقت ہی اللہ کے دین کی مدد کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ ایسے محتاج عام محتاجوں کی نسبت اموال فے کے زیادہ حقدار ہیں۔
Ayah 59:911 انصار کا مہاجرین کے لیے ایثار اور فے میں ان کا حصہ :۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کی کمال فضیلت بیان فرمائی جو مسلمانوں کے ہجرت کرکے مدینہ آنے سے پیشتر بیعت عقبہ کی رو سے ایمان لاچکے تھے اور انہوں نے مہاجر مسلمانوں کو آتے ہی اپنے گلے سے لگا لیا تھا۔ اور مہاجرین کی آباد کاری کے سلسلہ میں وہ مثال قائم کی جس کی مثال پیش کرنے سے پوری دنیا کی تاریخ قاصر ہے۔ ان اولین انصار نے مہاجرین کو اپنی جائیداد، گھر بار اور نخلستانوں میں شریک کرلیا۔ چناچہ سیدنا ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ اس وقت انصار مدینہ نے آپ سے عرض کیا : ہم میں اور ہمارے مہاجر بھائیوں میں کھجور کے درخت تقسیم کر دیجئے تو آپ نے فرمایا : ایسا نہیں ہوسکتا (جائیداد تمہاری ہی رہے گی) تب انصار مہاجرین سے کہنے لگے۔ اچھا ایسا کرو۔ درختوں کی خدمت تم کرو۔ ہم پیداوار میں تمہیں شریک بنا لیتے ہیں۔ تب مہاجر کہنے لگے بہت خوب ! ہم نے سنا اور مان لیا۔ (بخاری۔ کتاب الشروط۔ باب الشروط فی المعاملۃ) اس سے اگلا ایثار یہ تھا کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ مہاجرین تو کھیتی باڑی نہیں جانتے۔ تو انصار نے اس معاملہ میں بھی اپنے مہاجر بھائیوں کی مدد کی۔ تاہم نصف پیداوار انہیں دینا قبول کرلیا۔ اور اب جب بنونضیر کے اموال فے تقسیم کرنے کی باری آئی تو انصار نے از خود یہ کہہ دیا کہ یہ اموال مہاجرین میں تقسیم کردیجئے۔ اور ہمارے پہلے نخلستان ہی ہمارے پاس رہنے دیجئے۔ (یعنی اب ان میں مہاجرین شریک نہ ہوں گے) بلکہ اگر آپ مناسب سمجھیں تو ہم ان میں سے بھی دینے کو تیار ہیں۔ یہ تھا وہ ایثار جس کی بنا پر ان کا درجہ بہت بلند ہوگیا تھا۔ اور اللہ نے بطور خاص ان انصار کی تعریف فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے بطور حق یہ ارشاد فرمایا کہ ایسے ایثار کرنے والے انصار کا بھی اموال فئے میں خاص طور پر خیال رکھا جائے۔ لیکن وہ از راہ ایثار اپنے اس حق سے اپنے مہاجر بھائیوں کے حق میں دستبردار ہوگئے اس ایثار نے مہاجرین کے دل میں جو مقام حاصل کیا تھا وہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے :
سیدنا عمر نے (مرتے وقت) وصیت کی کہ : میرے بعد جو خلیفہ ہو وہ مہاجرین کا حق پہچانے اور انصار کا بھی حق پہچانے۔ جنہوں نے نبی کریم کی ہجرت سے پہلے مدینہ میں جگہ پکڑی اور ایمان کو سنبھالا۔ خلیفہ کو لازم ہے کہ ان میں سے جو نیک ہوں اس کی قدر کرے اور برے کی برائی سے درگزر کرے۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر)
اور مہاجرین کی آمد پر جس قدر خوشی انصار کو ہوتی تھی وہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتی ہے :
مہاجرین کی آمد پر انصار کی خوشی :۔ سیدنا براء بن عازب کہتے ہیں کہ (مدینہ میں) آپ کے اصحاب میں سے سب سے پہلے مصعب بن عمیر اور عبداللہ بن ام مکتوم ہمارے پاس آئے۔ وہ دونوں ہمیں قرآن پڑھاتے رہے۔
پھر عمار بن یاسر ؓ ، بلال ؓ اور سعد بن ابی وقاص ؓ آئے پھر سیدنا عمر ؓ بیس آدمی اپنے ساتھ لیے ہوئے آئے۔ پھر ان کے بعد آپ تشریف لائے۔ مدینہ والے اتنے خوش کبھی بھی نہ ہوئے تھے جتنے خوش آپ کی تشریف آوری سے ہوئے۔ بچے بچیاں تک یوں کہہ رہے تھے۔ دیکھو ! یہ اللہ کے رسول تشریف لائے ہیں۔ میں آپ کی آمد سے پہلے ہی سورة اعلیٰ اور اس جیسی کئی سورتیں پڑھ چکا تھا۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ سورة الاعلیٰ )
انہیں دنوں ایک انفرادی واقعہ بھی پیش آیا : جس میں ایک انصاری نے کمال ایثار کا ثبوت دیا تھا۔ محدثین اس واقعہ کو بھی اس آیت کی تفسیر میں لائے ہیں۔ اور وہ حدیث یوں ہے :
انصار کے ایثار کا ایک منفرد قصہ :۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص ( ابوہریرہ ؓ آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا : یارسول اللہ ! میں بہت بھوکا ہوں آپ نے اپنی بیویوں کے ہاں سے پتہ کرایا لیکن وہاں کچھ نہ نکلا۔ پھر آپ نے صحابہ کو کہا : کوئی ہے جو اس رات اس شخص کی مہمانی کرے۔ اللہ اس پر رحم کرے ایک انصاری (ابوطلحہ ؓ نے کہا : یارسول اللہ ! میں اس کی مہمانی کروں گا اور اس شخص ( ابوہریرہ ؓ کو اپنے گھر لے گیا اور اپنی بیوی (ام سلیم) سے کہا : یہ شخص رسول اللہ کا (بھیجا ہوا) مہمان ہے لہذا جو چیز بھی موجود ہو اسے کھلاؤ وہ کہنے لگی : اللہ کی قسم ! میرے پاس تو بمشکل بچوں کا کھانا ہے ابو طلحہ ؓ نے کہا : اچھا یوں کرو۔ بچے جب کھانا مانگنے لگیں تو انہیں سلا دو ۔ اور جب ہم دونوں (میں اور مہمان) کھانا کھانے لگیں تو چراغ گل کردینا۔ اس طرح ہم دونوں آج رات کچھ نہیں کھائیں گے (اور مہمان کھالے گا) چناچہ ام سلیم نے ایسا ہی کیا۔ صبح جب ابو طلحہ ؓ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ فلاں مرد (ابوطلحہ) اور فلاں عورت (ام سلیم) پر اللہ عزوجل بہت خوش ہوا اور اسے ہنسی آگئی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ (وَيُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ۚ ) 59 ۔ الحشر :9) (بخاری۔ کتاب التفسیر)
12 لفظ شح کے لغوی معنیٰ :۔ شُحَّ میں دو باتیں پائی جاتی ہیں۔ ایک مال و دولت جمع کرنے میں حریص ہونا، دوسرے مال و دولت خرچ کرنے میں انتہائی بخیل ہونا اور جس شخص میں یہ دونوں قباحتیں جمع ہوجائیں اسے شحیح اور شحاح کہتے ہیں۔ اب ایسے شخص میں تنگ نظری، تنگ ظرفی، سنگدلی، بےمروتی وغیرہ جیسی صفات پیدا ہوسکتی ہیں اور ان کا ہر شخص اندازہ لگا سکتا ہے۔ اگرچہ مال و دولت سے محبت ہر انسان کی فطرت میں داخل ہے۔ لیکن اس طرح دولت کے پیچھے اندھے ہوجانا اور دولت کا پجاری بن جانا انتہائی قبیح خصلت ہے۔ جس سے اللہ ہی بچا سکتا ہے۔ اسلام اس بدخصلت کے علاج کے لیے انفاق فی سبیل اللہ، صدقات اور ایثار کی راہ دکھاتا ہے جس سے سماحت، وسعت نظر، ہمدردی، مروت اور اخوت کے جذبات فروغ پاتے ہیں۔ گویا شح سے نجات پاجانا ہی بہت بڑی کامیابی ہے اور جنت میں لے جانے کا سبب بنتی ہے۔
Ayah 59:1013 اموال فے میں بعد میں آنے والے مسلمانوں کا حصہ :۔ یعنی اموال فے کے حقداروں میں جن لوگوں کا اللہ نے بطور خاص ذکر فرمایا۔ ان میں پہلے محتاج مہاجرین کا بھی کا ذکر کیا۔ پھر ایثار کرنے والے مہاجرین کا، اور تیسرے نمبر پر بعد میں آنے والوں کا۔ کیونکہ اموال فے میں جائیداد غیرمنقولہ، زمینیں اور ان کے علاوہ وہ جزیہ و خراج کی رقوم بھی شامل ہیں جو سرکاری سطح پر وصول کی جاتی ہیں۔ چناچہ جب دور فاروقی میں مسلمانوں نے عراق اور شام کو فتح کرلیا اور ان زمینوں پر قبضہ ہوگیا تو امرائے فوج نے اصرار کیا کہ مفتوحات انہیں بطور جاگیر عنایت کئے جائیں اور باشندوں کو ان کی غلامی میں دیا جائے۔ سیدنا عمر نے سیدنا سعد بن ابی وقاص کو وہاں کی مردم شماری کے لیے بھیجا۔ کل باشندوں اور اہل فوج کی تعداد کا موازنہ کیا تو ایک ایک فوجی کے حصے میں تین تین آدمی آتے تھے۔ یہ دیکھ کر سیدنا عمر کی رائے یہ قائم ہوگئی کہ زمین قومی تحویل میں لے لی جائے اور ان کے مالکوں کو بطور کاشتکار وہیں رہنے دیا جائے اور انہیں غلام نہ بنایا جائے۔ اکابر صحابہ میں سیدنا عبدالرحمن بن عوف اہل فوج کے ہم زبان تھے۔ اموال غنیمت کے علاوہ زمینوں اور قیدیوں کی تقسیم پر بھی مصر تھے اور سیدنا بلال ؓ نے تو اس قدر جرح کی کہ سیدنا عمر ؓ نے زچ ہو کر فرمایا : اللھم اکفنی بلالا (اے اللہ ! میری طرف سے بلال کو خود سنبھال) سیدنا عمر ؓ یہ استدلال پیش کرتے تھے کہ اگر مفتوحہ علاقے فوج میں تقسیم کردیئے جائیں تو آئندہ افواج کی تیاری، بیرونی حملوں کی مدافعت، ملک میں امن وامان قائم رکھنے کے لیے مصارف کہاں سے آئیں گے اور یہ مصلحت بھی آپ کے پیش نظر تھی کہ اگر زمین افواج میں تقسیم کردی گئی تو وہ جہاد کی طرف سے غافل اور جاگیرداری میں مشغول ہوجائیں گے۔ لہذا اموال غنیمت تو فوج میں تقسیم کردینے چاہئیں۔ اور زمین بیت المال کی ملکیت قرار دی جانی چاہیے کیونکہ اتنی کثیر مقدار میں اموال اور زمین اس کے بعد مسلمانوں کے ہاتھ لگنے کی توقع کم ہی نظر آرہی تھی۔ چناچہ سیدنا عمر نے فرمایا اگر مجھے پچھلے مسلمانوں کا خیال نہ ہوتا تو میں جو بستی فتح کرتا اسے فتح کرنے والوں میں بانٹ دیتا۔ جیسے رسول اللہ نے خیبر کو بانٹ دیا تھا (بخاری۔ کتاب الجہاد۔ باب الغنیمۃ لمن شھدالوقعۃ)
سیدنا عمر ؓ کا عراق کی زمینوں کو قومی تحویل میں لینا :۔ جہاں تک اسلامی مملکت کے استحکام اور جملہ مسلمانوں کی خیر خواہی کا تعلق تھا، سیدنا عمر کو اپنی رائے کی اصابت کا مکمل یقین تھا۔ مگر مشکل یہ تھی کہ وہ کوئی ایسی نص قطعی پیش نہ کرسکتے تھے جس سے وہ مجاہدین، سیدنا عبدالرحمن بن عوف ؓ اور سیدنا بلال ؓ کو قائل کرسکیں۔ چونکہ دلائل دونوں طرف موجود تھے۔ لہذا سیدنا عمر ؓ نے فیصلہ کے لیے دس افراد پر مشتمل مجلس مشاورت طلب کی۔ اس مجلس میں پانچ قدماء مہاجرین اور پانچ انصار (اوس و خزرج) شریک ہوئے۔ سیدنا عثمان ؓ اور سیدنا طلحہ ؓ نے سیدنا عمر ؓ کی رائے سے اتفاق کیا۔ کئی دن بحث چلتی رہی مگر کچھ فیصلہ نہ ہوسکا۔ سیدنا عمر اس سلسلہ میں خاصے پریشان رہتے تھے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے سیدنا عمر کو یہی الفاظ (وَالَّذِیْنَ جَاؤُوْا مِنْ بَعْدِھِمْ ) سجھا دیئے جو اس بحث کو طے کرنے کے لیے نص قطعی کا درجہ رکھتے تھے اور یہ ایسی دلیل تھی جس کے سامنے سب کو سر تسلیم خم کرنا پڑا۔ سیدنا عمر نے ایک اجتماع عام بلا کر اس میں اسی جملہ کے حوالہ سے پرزور تقریر فرمائی جس پر سب لوگوں نے یک زبان ہو کر اعتراف کیا کہ آپ کی رائے درست ہے۔ یہاں یہ مسئلہ بھی سامنے آتا ہے کہ یہ الفاظ تو مدتوں پہلے نازل ہوچکے تھے۔ جنہیں سیدنا عمر سمیت سب صحابہ سینکڑوں مرتبہ پڑھ چکے تھے۔ لیکن ان کے اطلاق (Implication) کا معاملہ ابھی تک سامنے آیا ہی نہ تھا۔ اور جب معاملہ سامنے آگیا تو اللہ تعالیٰ نے آیات الٰہی میں غور کرنے پر سیدنا عمر کو ان الفاظ کا مفہوم اور اس کی وسعت بھی سجھا دی۔ قرآن کا یہی وہ اعجاز ہے جس کے متعلق رسول اللہ نے فرمایا تھا کہ اس کتاب کے عجائب لامتناہی ہیں جو کبھی ختم نہیں ہوسکتے۔
اس واقعہ سے ضمناً درج ذیل امور پر بھی روشنی پڑتی ہے :۔
نزاع کے وقت امیر کے اختیارات کی تعیین :۔ 1۔ امیر فیصلہ کرتے وقت کثرت رائے کا پابند نہیں ہوتا۔ فیصلہ کی اصل بنیاد اس کا اپنا دلی اطمینان یا انشراح صدر ہے۔ کیونکہ اس معاملہ میں اکثریت کی رائے سیدنا عمر کی رائے کے خلاف تھی۔
2۔ امیر اپنی مرضی یا رائے عوام پر ٹھونسنے کا حق نہیں رکھتا۔ بلکہ انہیں شرعی دلیل سے قائل کرنا اور انہیں اپنے اعتماد میں لینا ضروری ہوتا ہے۔ بالفاظ دیگر اسلام کا نظام حکومت استبدادی نہیں بلکہ شورائی ہے اور مشورہ میں مقصود دلیل کی تلاش ہے۔ خواہ وہ ایک آدمی سے مل جائے۔ یہاں کثرت رائے فیصلہ کی بنیاد نہیں ہوتی۔
3۔ آخری فیصلہ کا اختیار میر مجلس کو ہوتا ہے۔
14 صحابہ کرام ؓ سے دشمنی رکھنے والوں کو تنبیہ :۔ اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ صحابہ کرام ؓ سے خواہ وہ مہاجرین ہوں یا انصار۔ بغض عداوت، کینہ یا بیر رکھے اسے سب سے پہلے اپنے ایمان کی سلامتی کی دعا کرنا چاہئے۔ پھر یہ دعا کرنا چاہئے کہ یا اللہ ہمارا یہ گناہ معاف فرما دے اور ہمارے ان بھائیوں کو معاف فرما جو ایمان لانے میں ہم سے سبقت لے چکے ہیں اور اگر ہمارے دلوں میں ان کے متعلق کچھ کینہ رہ گیا ہے تو اسے بھی نکال دے۔ سچا مسلمان وہی ہوسکتا ہے جو صحابہ کرام ؓ کی اس پاکباز جماعت سے محبت رکھے اور انہیں اپنا قائدتسلیم کرے اور امام مالک (رح) نے اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص صحابہ سے بغض رکھے اور ان کی بدگوئی کرے، مال فے میں اس کے لیے کچھ حصہ نہیں۔
Ayah 59:1115 اس سے مراد عبداللہ بن ابی ّرئیس المنافقین کی طرف سے بنونضیر کے نام وہ پیغام ہے۔ جس نے یہود کو مزید سرکش بنادیا تھا۔ اور یہی لوگ منافقوں کے حقیقتاً بھائی تھے۔ اور جس کی تفصیل پہلے اسی سورة کی آیت نمبر 2 کے حواشی میں گزر چکی ہے۔ اس پیغام کا آخری حصہ یہ تھا کہ یہ ہمارا اٹل اور قطعی فیصلہ ہے۔ کہ ہم ضرور تمہاری مدد کو پہنچیں گے۔ تمہارے معاملہ میں ہم اس کے خلاف کسی مسلمان کی بات نہیں مانیں گے نہ اس کی کچھ پروا سمجھیں گے۔
16 یعنی جو پیغام انہوں نے یہودیوں کو بھیجا ہے۔ وہ بھی سرا سر جھوٹ ہے۔ جس سے وہ یہودیوں کو مسلمانوں کے خلاف اکسا رہے ہیں کہ وہ دلیر ہو کر جنگ لڑیں تو ہمارا کام از خود ہی بن جائے گا اور مسلمانوں سے نجات مل جائے گی۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ یہ منافق نہ لڑائی میں ان کا ساتھ دینے کی نیت رکھتے ہیں اور نہ جلاوطنی میں۔ اور اگر وہ لڑائی میں حصہ لیں بھی تو دم دبا کر بھاگ نکلیں گے۔ کیونکہ مکار اور دغاباز لوگ ہمیشہ بزدل اور بھگوڑے ہوا کرتے ہیں۔
Ayahs 59:12–1317 یعنی منافقوں کا بنونضیر سے اپنے کئے ہوئے وعدوں کو پورا نہ کرنے کی وجہ یہ نہیں کہ وہ اللہ سے ڈر گئے ہیں۔ یا انہیں اپنے دعویٰ اسلام کا کچھ پاس ہونے لگا ہے۔ یا انہیں یہ خطرہ ہے کہ قیامت کے دن انہیں کافروں کی حمایت کے جرم کی پاداش میں سزا ملے گی۔ بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ تمہارے جیسے سچے مسلمانوں کے آپس میں باہمی اتفاق اور اللہ کی راہ میں سردھڑ کی بازی لگادینے سے وہ کچھ اس طرح مرعوب ہوچکے ہیں کہ انہیں یہ یقین ہوچکا ہے کہ اگر وہ یہودیوں کی حمایت میں لڑنے کو نکلے تو یہودیوں کے ساتھ یہ خود بھی پس جائیں گے۔
18 اصل سوجھ بوجھ یہ ہے کہ صرف اللہ سے ڈرا جائے اللہ کے مقابلے میں اور کسی سے نہ ڈرا جائے۔ مگر یہ لوگ بس ایک اللہ سے نہیں ڈرتے۔ باقی سب طرح کے خطرات ان کے سروں پر منڈلاتے رہتے ہیں۔ لہذا جس طرف انہیں اپنے بچاؤ کی صورت نظر آتی ہے۔ اپنے تمام وعدوں کو بالائے طاق رکھ کر ادھر ہی اپنا رخ موڑ لیتے ہیں۔
Ayah 59:1419 یہود اور منافقین میں جرأت کا فقدان :۔ اس آیت کے مخاطب یہود بھی ہیں اور منافقین بھی۔ دونوں ایک جیسے مکار، دغاباز، وعدے کے جھوٹے اور مفاد پرست ہیں۔ ایسے لوگ بزدل ہوتے ہیں کبھی کھلے میدان میں لڑنے کی جرأت نہیں کرسکتے۔ ہاں ایسی جگہ بیٹھ کر لڑ سکتے ہیں جہاں ان کی جان کو کچھ خطرہ نہ ہو۔ مورچوں میں یا قلعہ بند ہو کر تو یہ تیر و تفنگ کا کھیل کھیل سکتے ہیں مگر سامنے آکر دست بدست جنگ کرنا ان کے بس کا روگ نہیں۔ بھلا جسے ہر وقت اپنی جان بچانے کا دھڑکا لگا رہتا ہو تو وہ مقابلہ کیا کرسکتا ہے ؟ کیا یہود کیا منافق اور کیا ان کی ذیلی شاخیں۔
ان کے اتحاد کی بنیادمحض اسلام دشمنی ہے :۔ ان سب کے اتحاد کی بنیاد صرف اسلام دشمنی ہے۔ رہے ان کے اندرونی اختلافات اور باہمی عداوتیں تو وہ شدید ہیں۔ لہذا ان کا یہ عارضی اور غیر مستقل اتحاد بھی سخت ناپائیدار ہے۔ جو دوران جنگ عین اتحاد کے موقع پر بھی پارہ پارہ ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ جنگ احزاب کے آخر میں قریشیوں اور یہودیوں کا یہ اختلاف ہی ان کی شکست کا ایک اہم سبب بن گیا تھا۔
20 یعنی انہیں یہ سمجھ نہیں آرہی کہ اتحاد بھی صرف وہ کام آتا ہے جس کی جڑیں مضبوط ہوں اور خیالات و نظریات میں ہم آہنگی ہو۔ جب تک وہ اس بات کو نہ سمجھیں گے عارضی طور پر اتحاد کرلینے کے باوجود بھی حق کے مقابلہ میں مار ہی کھاتے رہیں گے۔
Ayah 59:1521 تھوڑی مدت پہلے یہود کے قبیلہ بنو قینقاع کو جس قدر ذلت و خواری سے نکالا گیا وہ یہ یہود بنی نضیر اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں اور اس کی تفصیل پہلے اسی سورة کی آیت 2 کے حواشی میں گزر چکی ہے اور کافر تھوڑی مدت پہلے جنگ بدر میں اپنی کرتوتوں کی سزا پاچکے ہیں۔ یہ تو انہیں دنیا میں سزا ملی اور آخرت میں دردناک عذاب تو جوں کا توں باقی ہے۔
Ayah 59:1622 شیطان کا طریقہ واردات :۔ شیطان کا طریقہ واردات یہ ہے کہ وہ انسان کو کئی طرح کے سبزباغ دکھا کر اسے اپنے دام تزویر میں پھنسا لیتا ہے۔ پھر جب انسان شیطانی جال میں پھنس کر اس کا آلہ کار اور ایجنٹ بن جاتا ہے تو شیطان نیا شکار تلاش کرنے لگتا ہے۔ اور پہلے کی طرف سے مطمئن اور بےنیاز ہوجاتا ہے۔ اس کی دوسری توجیہ یہ ہے کہ شیطان قیامت کے دن اپنے پیروکاروں کے سامنے ایسی ہی تقریر کرکے خود صاف طور پر بری الذمہ ہونے کی کوشش کرے گا۔ اور اس کی عملی شکل میدان بدر میں پیش آئی۔ جب شیطان میدان بدر میں بنوکنانہ کے رئیس سراقہ بن مالک کی شکل دھار کر نمودار ہوا اور کافروں کو اکسانے اور فتح کی یقین دہانی کرانے لگا۔ پھر جب اس نے اس میدان میں فرشتوں کو مسلمانوں کی مدد کے لیے اترتے دیکھا تو چپکے سے وہاں سے کھسکنے لگا۔ اور اس کی تفصیل سورة انفال کی آیت نمبر 48 کے تحت گزر چکی ہے۔
جنگ بدر میں شیطان کی آمد اور فرار :۔ اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ منافقوں نے بھی یہود بنونضیر سے شیطان کا سا ہاتھ کھیلا۔ انہیں جھوٹے وعدے اور امداد کی جھوٹی تسلیاں دیتے رہے۔ پھر جب بنونضیر نے منافقوں کے ان وعدوں اور انگیخت پر سرکشی اختیار کی اور ان کا محاصرہ ہوگیا تو منافق بڑے اطمینان سے اپنے وعدوں سے دامن جھاڑ کر ان کا تماشہ دیکھتے رہے۔
Ayah 59:1723 یعنی گمراہ ہونے والے کو خود عقل و ہوش سے کام لینا چاہئے اور گمراہ کرنے والے سے بچنا چاہیے۔ پھر جب وہ گمراہ ہوگیا تو دونوں ایک جیسے ہوگئے اور ایک دوسرے کے ساتھی بن گئے۔ لہذا دونوں کو ایک جیسی سزا ملے گی۔ دونوں ہی ہمیشہ کے لیے دوزخ کا ایندھن بنیں گے۔
Ayah 59:1824 خہر شخص کو آخرت کا دھیان رکھنا چاہئے :۔ کل سے مراد قیامت کا دن یا اخروی زندگی ہے۔ اور اس کے مقابلہ میں اس کی دنیا کی پوری زندگی آج ہے۔ دنیا دارالعمل ہے جس کا پھل اسے عقبیٰ میں یا آخرت میں ملے گا، جو کچھ بوئے گا، وہی کچھ کاٹے گا اور جتنا بوئے گا اتنا ہی کاٹے گا۔ ان اصولوں کے تحت ہر انسان کو خود اپنا محتسب بنایا گیا ہے کہ وہ ہر وقت اپنے اعمال پر خود نظر رکھے۔ اسے سیدھے اور غلط راستے، نیکی اور بدی، اچھے اور برے کی تمیز بھی عطا کردی گئی ہے اور پوری وضاحت کے ساتھ سب کچھ بتا بھی دیا گیا ہے۔ اب یہ اس کا اپنا کام ہے کہ خود دیکھتا رہے کہ وہ کون سی راہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ جس راہ پر وہ گامزن ہے۔ وہ اسے جہنم کی طرف لے جارہی ہو ؟ اور سورة قیامۃ میں فرمایا کہ انسان کو اتنی سمجھ دے دی گئی ہے کہ وہ اپنے اعمال کا خود ہی محاسبہ کرسکے۔ اگر وہ اپنے حق میں مصالحت اور بہانہ تراشیاں چھوڑ دے تو وہ اپنے اعمال کا وزن کرسکتا ہے۔ اور اسے ہر وقت اللہ سے ڈرتے رہنا چاہئے اس لیے کہ اگر وہ ہر وقت اللہ سے ڈرتا رہے گا تو سیدھے راستے سے چوکے گا نہیں۔ اور نہ ہی اللہ کی نافرمانی کے کام کرے گا۔ دوسری بات جو اسے ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے یہ ہے کہ اس کا مال و دولت، اس کی تندرستی، اس کی استعداد اور اس کی سرگرمیاں آیا دنیا کے حصول تک ہی ختم ہو کر رہ جاتی ہیں یا وہ آخرت کے لیے کچھ سامان مہیا کر رہا ہے۔ یہ احتساب خود اسے ایسی باتوں پر آمادہ کر دے گا جو آخرت میں اس کے لیے سود مند ہوں۔
Ayah 59:1925 اللہ کو بھولنے کا لازمی نتیجہ خود فراموشی ہوتا ہے :۔ یعنی اللہ کو بھول جانے یا بھلائے رکھنے کا لازمی نتیجہ خود فراموشی ہے۔ بالفاظ دیگر اللہ کی معرفت سے ہی انسان کو اپنی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ جو انسان اس بات پر غور نہیں کرتا کہ اس کائنات میں اللہ کی کیا حقیقت ہے اور اس کی اپنی کیا حیثیت ہے۔ وہ ہمیشہ غلط راستوں پر پڑ کر اپنی عاقبت برباد کرلیتا ہے۔ اس کو ہر وقت یہ ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ اس کائنات کا بھی اور خود اس کا بھی خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ وہی سب چیزوں کا خالق، مالک اور پروردگار ہے اور انسان اس کی مخلوق، مملوک اور محتاج ہے۔ لہذا انسان کی ہر طرح کی عبادتوں اور نیازمندیوں کا وہی مستحق ہے۔ وہی اس کا حاجت روا اور مشکل کشا ہے۔ دوسرا کوئی نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ باقی سب چیزیں بھی اسی طرح اللہ کی مخلوق، مملوک اور محتاج ہیں۔ اس لحاظ سے وہ انسان کے برابر ہوئیں۔ لیکن چونکہ وہ اشرف المخلوقات پیدا کیا گیا ہے اس لحاظ سے وہ باقی تمام مخلوق سے برتر ہوا۔ اب اگر ایک برتر مخلوق اپنے جیسی یا اپنے سے بھی کم تر مخلوق کی عبادت کرے یا اسکی حاکمیت کو تسلیم کرے یا اس کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھے تو گویا اس نے انسانیت کے مرتبہ کی تذلیل اور توہین کی۔ یہی خالق و مخلوق کے درمیان باہمی رشتہ ہے۔ اس کو ملحوظ رکھے گا تو کبھی اللہ کا نافرمان نہیں ہوگا۔ اور اس رشتہ کو فراموش کر دے گا تو اس کی زندگی غلط راستوں پر پڑ کر فسق و فجور میں گزرے گی۔ اور وہ اپنے اخروی انجام سے بھی بیخبر اور غافل ہی رہے گا۔ لہذا صحیح راستے پر ثابت قدم رہنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے ہر وقت اپنا پروردگار یاد رہے اس سے غافل ہوتے ہی وہ اپنے آپ اور اپنے انجام کو بھول کر فسق و فجور میں مبتلا ہوجائے گا۔
Ayahs 59:20–2126 قرآن کی عـظمت اور انسان کی غفلت :۔ یعنی اگر پہاڑوں جیسی عظیم الجثہ مخلوق کو اللہ تعالیٰ وہ سمجھ، اختیار اور عقل و شعور عطا کردیتا، جو انسان کو عطا کی گئی ہے پھر انہیں یہ بتایا جاتا کہ تمہیں اللہ کا فرمانبردار بن کر رہنا ہوگا اور پھر تمہارے اعمال کی تم سے باز پرس بھی ہوگی تو وہ بھی اس تصور سے کانپ اٹھتے لیکن انسان کی بےحسی کا یہ عالم ہے کہ اس بار امانت کو اٹھا لینے کے بعد بھی اس پر نہ خوف طاری ہوتا ہے اور نہ ہی اسے یہ فکر لاحق ہوتی ہے کہ اگر اس نے اپنی زندگی غفلت اور خدا فراموشی میں گزار دی تو آخرت میں اپنے پروردگار کے سامنے کیا جواب دے گا اور اس کی گرفت سے کیسے بچ سکے گا۔ بلکہ وہ قرآن سن کر اور تمام حقائق پر مطلع ہونے کے بعد بھی ایسے غیر متاثر رہتا ہے جیسے کوئی بےجان اور بےشعور پتھر ہو۔ جسے ان بےجان چیزوں کے علاوہ کوئی انسانی قوتیں دی ہی نہیں گئیں۔
Ayah 59:2227 غیب اور شہادت سے کیا مراد ہے ؟ شہادت سے مراد وہ تمام اشیائ، واقعات اور علوم ہیں جو انسان کے علم میں آچکے ہیں یا جنہیں وہ مشاہدہ اور تجربہ سے حاصل کرچکا ہے اور غیب سے مراد وہ تمام اشیاء واقعات اور علوم ہیں جن تک تاحال انسان کی رسائی نہیں ہوسکی۔ خواہ یہ اشیاء عالم اکبر یا کائنات سے متعلق ہوں یا عالم اصغر یا انسان کے جسم کی اندرونی کائنات سے متعلق ہوں۔ اور اللہ کے لیے سرے سے کوئی چیز غائب ہے ہی نہیں۔ اس کے لیے سب کچھ شہادت ہی شہادت ہے۔ اور قرآن میں جہاں یہ غیب اور شہادت کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں تو صرف انسان کو سمجھانے کی غرض سے استعمال ہوئے ہیں۔ اور اللہ کے لیے کوئی چیز غائب اس لیے نہیں ہوتی کہ ہر چیز کو اور ہر واقعہ اور حادثہ کو وجود میں لانے والا تو وہ خود ہے۔ لہذا اس سے کوئی چیز مخفی یا غائب کیسے رہ سکتی ہے ؟
28 رحمن اور رحیم میں فرق :۔ وہ رحمن اور رحیم اس لحاظ سے ہے کہ ہر چیز کے وجود، اس کی زندگی اور زندگی کے بقا کے لیے جو جو اشیاء ضروری اور لازمی تھیں وہ اس نے اس کی پیدائش سے پہلے ہی مہیا فرما دی ہیں اور یہ اس کی کمال مہربانی ہے۔ کائنات میں کوئی دوسرا اس غیر محدود رحمت کا حامل نہیں ہے۔ دوسرے جانداروں میں اگر رحم کی صفت پائی بھی جاتی ہے۔ تو ایک تو وہ جزوی اور محدود ہوتی ہے دوسری یہ کہ وہ اس کی ذاتی صفت نہیں ہوتی۔ بلکہ اللہ ہی کی عطا کردہ ہوتی ہے اور اسے اس لیے عطا کی گئی ہے کہ وہ دوسری مخلوق کی پرورش اور خوشحالی کا ذریعہ بنے۔ جیسے والدین اپنی اولاد کے حق میں رحیم ہوتے ہیں اور یہ چیز بذات خود اس کی رحمت بےپایاں کی دلیل ہے۔ واضح رہے کہ رحمن صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے اور اس میں بہت زیادہ مبالغہ پایا جاتا ہے۔ اور اس کا تعلق ان رحمتوں اور انعامات سے ہے جو زندگی اور اس کی بقاء کے لیے ضروری ہیں مثلاً انسان کی پیدائش سے پہلے سورج، چاند، ہوا، بارش اور زمین میں قوت روئیدگی کا انتظام کرنا۔ یا حمل قرار پاتے ہی ماں کے پستانوں کی مشینری کا متحرک ہونا، خون کو دودھ میں تبدیل کرنے کا عمل اور بچہ کی پیدائش پر ماں کے پستانوں میں دودھ اتر آنا اور بچے کو دودھ کی طرف لپکنے اور دودھ چوسنے کا طریقہ سکھانا۔ جبکہ رحیم اللہ کے علاوہ دوسری مخلوق بھی ہوسکتی ہے۔