59. Surah Al-Hashr

الحشرThe Exile · 24 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 59:23

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 59:23 in the Quran reader

وہ اللہ ہی 29 ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ بادشاہ 30 ہے، پاک ذات 31 ، سراسر سلامتی 32 والا، امن دینے 33 والا نگہبان 34 ، ہر چیز پر غالب 35 ، اپنا حکم بزور نافذ کرنے والا 36 اور کبریائی والا 37 ہے اللہ ان باتوں سے پاک 38 ہے جو یہ لوگ اس کا شریک بناتے ہیں

29 آیت نمبر 22 سے 24 تک، تین آیات میں اللہ تعالیٰ کی بہت سی جامع صفات بیان کردی گئی ہیں۔ تاکہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی پوری معرفت حاصل ہو اور وہ خود فراموشی یا غفلت سے بچا رہے۔ چند نام تو آیت 22 میں گزر چکے ہیں۔ مزید جو بیان ہوئے وہ یہ ہیں : 30 الملک یعنی علی الاطلاق بادشاہ، کسی مخصوص علاقے، ملک یا پوری زمین کا ہی نہیں، بلکہ پوری کائنات کا بادشاہ، اور بادشاہ کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ اپنی مملکت میں جو قانون چاہے رائج کرے اور اس کو نافذ کرے اور اس کی رعایا یا مملوک اس قانون کو تسلیم کرنے اور اس پر عمل کرنے کی پابند ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ پوری کائنات میں قانونی حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ وہی مقتدر اعلیٰ (Sovereign) ہے۔ اسی کی حاکمیت اور اسی کا قانون سب سے بالاتر ہے۔ 31 القُدُّوْسُ ۔ قَدُسَ کے معنی پاک و صاف ہونا ہے اور قدوس سے مراد وہ ذات ہے جو اضداد اور انداد (جمع ند بمعنی شریک) سے پاک ہو۔ (مقائیس اللغۃ) اور صاحب منجد کے نزدیک وہ ذات جو ہر بری بات اور نقص سے پاک ہو اور بابرکت بھی ہو۔ 32 السَّلاَمُ ۔ سلم یعنی بےگزند اور درست۔ صحیح وسالم اور بمعنی ظاہری اور باطنی آفات سے پاک اور محفوظ رہنا اور سلم ایسی چیز جو اپنی ذات میں درست بھی ہو اور اس پر کسی دوسرے کا کوئی حق نہ ہو۔ اور السلام کے معنی سراسر سلامتی ہی سلامتی۔ اس میں از خود مبالغہ پیدا ہوجاتا ہے جیسے کسی حسین کو یہ کہہ دیا جائے کہ وہ سراپا حسن ہے۔ سلام کا ایک مطلب تو مندرجہ معنی سے واضح ہے اور دوسرا مطلب یہ کہ وہ دوسروں کو بھی سلامتی عطا کرنے والا ہے۔ 33 المؤمن۔ اَمَنَ بمعنی خوف و خطر سے محفوظ ہونا اور مؤمن کے معنی دوسروں کو امان دینے والا۔ امن عطا کرنے والا۔ یعنی ایسا قانون دینے والا جس سے فساد فی الارض کے بجائے امن وامان قائم ہو نیز مخلوق اللہ کی طرف سے کسی قسم کی حق تلفی، زیادتی یا ظلم کے خوف سے مکمل طور پر امن میں رہے۔ بعض مفسرین کے نزدیک اس کے معنی مصدق کے ہیں۔ یعنی اپنی اور اپنے رسولوں کی قولاً اور فعلاً تصدیق کرنے والا یا مومنوں کے ایمان پر مہر تصدیق ثبت کرنے والا ہے۔ 34 اسمائے حسنیٰ کی لغوی تشریح :۔ المُھَیْمِنُ کہتے ہیں ھَیْمَنَ الطائرُ علٰی فَراخِہٖ یعنی پرندے نے اپنے پر اپنے بچے پر بچھا دیئے۔ جیسے مرغی خطرہ کے وقت اپنے چوزوں کو اپنے پروں کے نیچے چھپا لیتی ہے۔ لہذا مہیمن وہ ذات ہے جو (1) کسی کو خوف سے امن دے، (2) ہر وقت نگہبانی رکھے اور (3) کسی کا کوئی حق ضائع نہ ہونے دے (منتہی الارب) 35 العزیز بمعنی بالا دست (ضد ذلیل بمعنی زیردست) جیسے دیہات میں ایک طبقہ کمین لوگوں کا ہوتا ہے جو زیردست ہوتا ہے اور دوسرا زمینداروں کا جو بالا دست ہوتا ہے۔ اور العزیز سے مراد وہ بالا دست ہستی ہے جس کے مقابلہ میں کوئی سر نہ اٹھا سکتا ہو۔ جس کی مزاحمت کرنا کسی کے بس میں نہ ہو۔ جس کے آگے سب بےبس بےزور اور کمزور ہوں۔ 36 الجَبَّارُ ۔ جبر میں دو باتیں بنیادی طور پر پائی جاتی ہیں۔ (1) زبردستی کرنا (2) اصلاح۔ یعنی زبردستی اور دباؤ سے کسی چیز کی اصلاح کردینا۔ اور جَبَرَ العَظْم بمعنی ٹوٹی ہوئی ہڈی کو درست کرنا۔ نیز کبھی یہ لفظ محض زبردستی کرنے کے معنوں میں بھی آجاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ جبار اس لحاظ سے ہے، کائنات کے نظام کو بزور درست رکھنے والا ہے اور اپنے ارادوں کو جو سراسر حکمت پر مبنی ہوتے ہیں پوری قوت سے نافذ کرنے والا ہے۔ 37 المُتَکَبِّرُ کے دو مفہوم ہیں۔ ایک یہ کہ کوئی شخص فی الحقیقت بڑا نہ ہو مگر بڑا بننے کی کوشش کرے۔ خواہ وہ کوئی جن ہو یا انسان اور یہ صفت انتہائی مذموم ہے۔ دوسرا وہ جو فی الحقیقت بڑا ہو اور بڑا ہی ہو کر رہے۔ اور یہ صفت صرف اللہ ہی کے لیے سزاوار ہے۔ اور اس کے حق میں یہ ایک خوبی ہے جو دوسری کسی مخلوق میں نہیں پائی جاتی۔ کائنات کی باقی تمام چیزیں خواہ جاندار ہوں یا بےجان اس کے مقابلہ میں چھوٹی یا حقیر ہیں۔ 38 یعنی جو لوگ اللہ کی ذات یا صفات میں دوسروں کو بھی شریک بنالیتے ہیں وہ اللہ پر بہتان باندھتے ہیں۔ کیونکہ اللہ ایسی تمام باتوں سے پاک ہے۔ اس کے اختیارات و تصرفات میں کسی کو ذرہ بھر بھی دخل نہیں۔
Ayah 59:24

هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ؕ یُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 59:24 in the Quran reader

وہ اللہ ہی ہے جو پیدا 39 کرنے والا ہے۔ سب کا موجد 40 اور صورتیں عطا کرنے والا 41 ہے۔ اس کے سب نام اچھے 42 ہیں۔ آسمانوں اور زمین میں جو مخلوقات ہیں سب اسی کی تسبیح کر رہی ہیں اور وہ زبردست ہیں، حکمت والا ہے۔

39 الخَالِقُ ۔ خ۔ خلق کا لفظ تین معنوں میں آتا ہے۔ (1) کسی چیز کو بنانے کے لیے اس کا اندازہ لگانا یا خاکہ تیار کرنا۔ گویا تخلیق کا کام ذہنی بھی ہوسکتا ہے اور اس کی نسبت غیر اللہ کی طرف بھی ہوسکتی ہے۔ (2) کبھی یہ لفظ ابداع کے معنوں میں بھی آجاتا ہے۔ یعنی پہلی بار بنانا اور کسی نمونہ کے یا کسی تقلید کے بغیر بنانا۔ انوکھی چیز بنانا قرآن کریم میں جیسے اللہ تعالیٰ کے لیے (خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالاَرْضَ ) ہے ویسے ہی (بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَالاَرْضِ ) بھی آتا ہے۔ اس صورت میں اس کی نسبت غیر اللہ کی طرف نہیں ہوسکتی، (3) اور خلق کا عام مفہوم یہ ہے کہ ایک چیز سے دوسری چیز بنائی جائے۔ پہلے مادہ موجود ہو تو اس سے کوئی دوسری چیز بنائی جائے۔ اس صورت میں بھی اس کی نسبت غیر اللہ کی طرف ہوسکتی ہے۔ اور اس لحاظ سے اللہ خالق ہی نہیں بلکہ احسن الخالقین ہے۔ 40 البَارِیُ ۔ برأ بمعنی کسی چیز کو عدم سے وجود میں لانا، جامہ خلقت پہنانا، کسی چیز کا مادہ بھی وجود میں لانا پھر اس سے تخلیق کرنا یا بغیر مادہ کے تخلیق کرنا اور یہ صفت صرف اللہ کی ہے۔ دوسرا کوئی باری نہیں ہوسکتا۔ 41 المُصَوِّرُ بمعنی صورت بنانے والا۔ تصویر بنانے والا۔ اس کے کئی پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ وہ رحم مادر میں نطفہ اور مضغہ پر نقش و نگار بناتا ہے کسی کے نقوش تیکھے، کسی کے بھدے، کسی کی آنکھیں موٹی، کسی کی چھوٹی، کسی کا قد چھوٹا کسی کا بڑا۔ دوسرا پہلو یہ کہ ہر جاندار کی شکل و صورت الگ الگ ہے۔ انسان کی صورت الگ ہے، گھوڑے کی الگ، شیر کی الگ، بکری کی الگ، وغیرہ وغیرہ، تیسرا پہلو نباتات اور مختلف قسم کے پھولوں کی شکل و صورت ہے۔ غرضیکہ ہر چیز کو اللہ نے ایک صورت عطا فرمائی اور وہ بڑی اچھی صورت بنانے والا ہے۔ 42 اللہ کے ماسوائے اللہ تعالیٰ کے باقی سب نام صفاتی ہیں۔ اور چونکہ اللہ کی سب صفات بہترین ہیں۔ لہذا اس کے سب نام بھی اچھے ہیں۔ جو اعلیٰ درجہ کی خوبیوں اور کمالات پر دلالت کرتے ہیں۔ عیب اور نقص والی کوئی صفت اس میں ہے ہی نہیں۔ احادیث صحیحہ کے مطابق ان ناموں کی تعداد ننانوے ہے۔ ان کو حفظ کرنا اور صبح و شام ان کو پڑھنا باعث خیروبرکت ہے۔