58. Surah Al-Mujaadila

المجادلةThe Pleading Woman · 22 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 58:1

قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُكَ فِیْ زَوْجِهَا وَ تَشْتَكِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ۖۗ وَ اللّٰهُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 58:1 in the Quran reader

اللہ نے یقینا اس عورت کی بات سن لی 1 ہے جو اپنے خاوند کے بارے میں (اے نبی) آپ سے جھگڑ رہی ہے اور اللہ کے حضور شکایت کر رہی ہے۔ اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے۔ بلاشبہ اللہ سب کچھ سننے والا ہے دیکھنے والا ہے

1 ظہار کے احکام کا پس منظر :۔ جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ جب میاں بیوی میں لڑائی ہوجاتی تو خاوند غصہ کی حالت میں اپنی بیوی کو یوں کہہ دیتا کہ (أنْتِ عََلَیَّ کَظَھْرِ أمِّی) یعنی تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے۔ تو اسے دائمی طلاق سمجھا جاتا تھا۔ یہ صرف معمولی طلاق ہی نہ تھی بلکہ شدید قسم کی طلاق سمجھی جاتی تھی۔ جس کے بعد ان دونوں میاں بیوی کے مل بیٹھنے کی کوئی صورت باقی نہ رہتی تھی۔ اس بےہودہ رسم کے متعلق پہلے سورة احزاب کی آیت نمبر 4 میں مسلمانوں کو یہ تو بتایا جاچکا تھا کہ کسی کے ظہار کرنے یعنی اپنی بیوی کو ماں کی پیٹھ کی طرح کہہ دینے سے وہ اس کی ماں نہیں بن جاتی اور نہ ہی اللہ نے کوئی ایسا قانون بنایا ہے۔ مگر اس شرعی حکم کی کچھ تفصیل نہیں دی گئی تھی۔ اب یہ واقعہ پیش آیا کہ ایک انصاری اوس بن صامت اور اس کی بیوی خولہ بنت ثعلبہ میں لڑائی جھگڑا ہوا تو اوس بن صامت نے غصہ میں آکر یہی ظہار کے الفاظ کہہ دیئے۔ جس کا فریقین میں معروف مفہوم ابدی طلاق تھا۔ بعد میں زوجین کو سخت ندامت بھی ہوئی اور چونکہ اولاد بھی تھی لہذا اس اولاد کے مستقبل نے کئی خطرات سامنے لاکھڑے کئے۔ خولہ بنت ثعلبہ رسول اللہ کے پاس حاضر ہوئی اور اس کا حکم پوچھا۔ لیکن چونکہ تاحال ظہار کا کوئی واضح حکم نازل نہ ہوا تھا اس لیے آپ نے فرما دیا کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ تو اس پر حرام ہوگئی۔ اس پر خولہ آپ سے کہنے لگی : یارسول اللہ ! میرے خاوند نے طلاق کا لفظ تو نہیں بولا تھا۔ میں نے جوانی تو اس کے ہاں گزار دی۔ اب بڑھاپا کس کے پاس گزاروں گی۔ نیز میری اوس سے اولاد بھی ہے۔ اگر میں اس سے دستبردار ہوجاؤں تو اولاد بےتوجہی کی نذر ہوجائے گی اور اگر اپنے پاس رکھوں تو ان کے اخراجات کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ وہ ساتھ ہی ساتھ روتی بھی جاتی تھی اور یہ کہتی بھی جاتی تھی کہ مجھے کوئی بہتر صورت بتائیے۔ اور یہ بھی کہ اللہ میرے حق میں کوئی بہتر فیصلہ نازل فرمائے۔ اللہ نے اس کی فریاد سن لی۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی یہ ابتدائی آیات نازل فرمائیں۔ یہ اسی خستہ حالی میں واپس جارہی تھی کہ آپ نے اسے واپس بلا کر یہ آیات سنا دیں۔ جن میں صرف اسی کے مسئلہ کا حل موجود نہ تھا۔ بلکہ اس عورت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آئندہ کے لیے اس بد رسم کو مٹا کر تمام بنی نوع انسان پر رحمت فرما دی۔ چناچہ صحابہ کرام ؓ کے دل میں اس عورت کی بہت قدر و منزلت ہوگئی۔ ایک دفعہ سیدنا عمر اپنے دور خلافت میں کہیں جارہے تھے کہ خولہ مذکورہ نے راستہ ہی میں آپ کو بلایا اور کچھ بات کہنے لگی۔ سیدنا عمر کھڑے ہو کر بڑی توجہ سے سننے لگے۔ کسی نے پوچھا کیا بات ہے آپ اس بڑھیا کی بات بڑی توجہ سے سن کر اسے اتنی اہمیت دے رہے ہیں ؟ سیدنا عمر نے فرمایا : یہ وہ عورت ہے جس کی بات اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر سن لی تھی۔ عمر کی کیا مجال ہے کہ اس کی بات کی طرف توجہ نہ دے۔
Ayahs 58:2–3

اَلَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآئِهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ١ؕ اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا الّٰٓئِیْ وَلَدْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 58:2 in the Quran reader

تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں، وہ ان کی (فی الواقع) مائیں نہیں 2 بن جاتیں، ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے انہیں جنا تھا اور جو کچھ وہ کہتے ہیں وہ ایک ناپسندیدہ اور جھوٹی بات ہے۔ اور اللہ یقینا معاف کرنے والا بخشنے والا ہے

وَ الَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ؕ ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:3 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں پھر اپنی کہی ہوئی بات سے رجوع کرنا چاہیں تو میاں بیوی کے مل بیٹھنے سے پیشتر اسے ایک غلام آزاد کرنا ہوگا تمہیں اسی بات کی نصیحت کی جاتی ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

2 ظہار سے نہ طلاق واقع ہوتی ہے اور نہ بیوی ماں بن سکتی ہے :۔ حقیقت یہ ہے کہ صرف منہ سے کہنے پر بیوی ماں نہیں بن جاتی بلکہ بیوی ہی رہتی ہے۔ اس لیے کہ مائیں تو صرف وہ ہیں جنہوں نے تمہیں جنا ہے۔ اب جو تم انہیں ماں کہہ کر واقعی ماں سمجھ بیٹھتے ہو تو یہ ایک خلاف واقعہ، خلاف حقیقت اور جھوٹی بات ہے۔ جس کا حقیقت سے کچھ تعلق نہیں۔ اللہ نے تم پر بہت رحم فرما کر اس رسم کو ختم کردیا ہے۔ اور آئندہ جو شخص ایسی باتوں سے باز رہے گا تو اس کے سابقہ گناہوں کو معاف بھی کردینے والا ہے۔
Ayah 58:4

فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْكِیْنًا١ؕ ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 58:4 in the Quran reader

پھر اگر وہ غلام نہ پائے 3 تو ایک دوسرے کو چھونے سے پہلے وہ دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے اور جو اس بات کی بھی قدرت نہ رکھتا ہو وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ یہ (حکم) اس لئے ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ ضابطے ہیں اور انکار کرنے والوں 4 کے لئے دردناک عذاب ہے

3 ظہار کرنا گناہ کبیرہ ہے :۔ آیت نمبر 3 اور 4 میں ظھار کا کفارہ یا ایسے معاملات کا حل شرعی بتایا جارہا ہے۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ظہار سے اگرچہ طلاق واقع نہیں ہوجاتی تاہم یہ ایک گناہ کبیرہ ہے۔ پھر کفارہ کے طور پر اس گناہ کی تین سزائیں بتادیں۔ کہ ان میں سے جو سزا کسی کے حالات کے مطابق ہو وہ اسے دی جائے۔ ان کی ترتیب یہ ہے۔ ظہار کا کفارہ :۔ (1) ایک غلام آزاد کرنا، (2) مسلسل دو ماہ کے روزے رکھنا یا (3) ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا۔ ان آیات میں درج ذیل امور قابل ذکر ہیں۔ ظہار سے متعلق احکام : 1۔ لڑائی جھگڑا زوجین کے درمیان ہوتا ہے لیکن ظہار کے لفظ خاوند بولتا ہے۔ اس لیے سزا صرف خاوند کے لئے ہے۔ بیوی کے لیے کوئی کفارہ یا سزا نہیں۔ 2۔ ان تمام سزاؤں کی نوعیت عبادات کی ہے۔ غلام آزاد کرنا اور مسکینوں کو کھانا کھلانا یہ مالی نفلی عبادتیں ہیں۔ اور روزے رکھنا بدنی عبادت، گویا کفارہ بھی عبادات کی شکل میں تجویز ہوا ہے۔ تاکہ انسان کے نفس میں پاکیزگی اور تقویٰ پیدا ہو۔ کفارہ میں حدی جرائم کی طرح کوئی بدنی سزا نہیں ہوتی۔ 3۔ یہ کفارہ اس شخص کے لیے ہے جو اپنے قول سے رجوع کرنا چاہے اور زوجین مل بیٹھنا چاہیں اور مرد رجوع نہ کرنا چاہے تو پھر سیدھی طرح طلاق دے دے۔ جو شرعی ہدایات کے مطابق ہو۔ ظہار تو بالکل بےہودہ اور ہیرا پھیری کی بات ہے۔ اس سے توبہ کرے اور طلاق دے دے۔ 4۔ آج کل غلامی کا رواج ختم ہوچکا ہے۔ لہذا آج اگر کوئی ظہار کرے تو کفارہ کی دوسری یا تیسری صورت سے کسی ایک کو اختیار کرنا ہوگا۔ 5۔ یہ اختیار ظہار کرنے والے کے حالات کے مطابق ہوگا۔ مثلاً ایک امیر شخص نے ظہار کیا تو اس کے لیے دو ماہ مسلسل روزے رکھنے کی سزا تجویز کی جائے گی۔ کیونکہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا اس کے لیے کوئی سزا نہیں۔ اسی طرح غریب کے لیے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا مشکل ہے۔ اور روزے رکھنے میں وہ کوئی سزا محسوس نہیں کرے گا۔ 6۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ اگر کسی عذر شرعی مثلاً مرض یا ضروری سفر وغیرہ کی بنا پر روزوں کے تسلسل میں انقطاع واقع ہوجائے تو وہ انقطاع شمار نہ ہوگا۔ انقطاع اسی وقت شمار ہوگا جب وہ دیدہ دانستہ بغیر کسی عذر شرعی کے روزہ چھوڑ دے۔ 7۔ مسکینوں کو کھانا کھلانے سے مراد دو وقت کا پیٹ بھر کر کھانا کھلانا یا اس کا ہم قیمت غلہ ہے۔ جو غلہ کی صورت میں بھی دیا جاسکتا ہے۔ اور اس کی نقد قیمت کی صورت میں بھی۔ بعض علماء کے نزدیک ایک ہی مسکین کو ساٹھ دنوں کا غلہ یا اس کی قیمت ادا کرنے سے بھی کفارہ ادا ہوجاتا ہے۔ بہرحال اس معاملہ میں شریعت نے کفارہ ادا کرنے والے کی سہولت کو ملحوظ رکھا ہے۔ 8۔ صحبت سے پہلے کفارہ کی ادائیگی لازمی ہے۔ ادائیگی سے قبل بیوی مرد پر حلال نہ ہوگی۔ کفارہ دینے والے کے حالات ملحوظ رکھنا ضروری ہے :۔ اب خولہ بنت ثعلبہ کا قصہ یہ ہے کہ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو آپ نے اسے پڑھ کر سنائیں اور فرمایا کہ اپنے خاوند سے کہو کہ ایک غلام آزاد کرے۔ خولہ نے جواب دیا : یارسول اللہ وہ تو نادار ہے۔ آپ نے فرمایا : اچھا : اس سے کہو : دو مہینے کے مسلسل روزے رکھے۔ خولہ نے کہا : وہ تو بوڑھاو ناتوان ہے۔ اسے یہ طاقت بھی نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا : اچھا پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے۔ خولہ کہنے لگی۔ اسے تو اتنا بھی مقدور نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا : میں ایک عرق (ایک پیمانہ) کھجوریں دے کر اس کی مدد کروں گا۔ اس پر خولہ نے کہا۔ میں بھی ایک وسق کھجور دے کر اس کی مدد کروں گی۔ آپ نے فرمایا : یہ بہت بہتر ہے۔ جا اپنے چچا کے بیٹے کے ساتھ سلوک کر۔ چناچہ خولہ نے ایسا ہی کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ تیسری صورت میں، نادار کفارہ دینے والے کی صدقہ وغیرہ کی صورت میں مدد بھی کی جاسکتی ہے اور کرنا چاہیے۔ 4 ظہار کی آیات کن کن چیزوں پر ثبوت فراہم کرتی ہیں ؟۔ یعنی اللہ کی حدود یا ضابطے یہ ہیں کہ ظہار سے طلاق واقع نہیں ہوتی، دوسرا یہ کہ ظہار کرنا کوئی ایسی معمولی بات نہیں جس پر کچھ بھی مواخذہ نہ ہو۔ بلکہ فی الواقع یہ ایک گناہ کا کام ہے۔ تیسرا یہ کہ اس گناہ کا ازالہ صرف کفارہ ادا کرنے سے ہوسکتا ہے۔ اور انکار سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص کفارہ ادا کئے بغیر ہی اپنی بیوی سے صحبت شروع کردے یا اللہ تعالیٰ کی اس وضاحت کے باوجود بھی اپنی بیوی سے صحبت کرنا حرام ہی سمجھتا رہے۔ واضح رہے کہ ان آیات سے مندرجہ ذیل باتوں کا ثبوت فراہم ہوتا ہے (1) اللہ تعالیٰ کے وجود پر اور اس کے بندوں کے حالات سے ہر وقت مطلع ہونے پر، (2) رسول اللہ کے اللہ کا رسول ہونے پر، (3) قرآن کریم کے منزل من اللہ ہونے پر اور (4) اس بات پر کہ تمام تر احکام الٰہی بندوں کے مصالح پر مبنی ہوتے ہیں۔ اس قانون نے جہاں ایک طرف جاہلیت کے دستور کے مطابق جدائی سے پیدا ہونے والی خرابیوں کو دور کردیا، وہاں اس رواج کو ایسا بےلگام بھی نہیں چھوڑا کہ جو چاہے ظہار کرتا پھرے اور اس پر کوئی پابندی نہ ہو۔ بلکہ اعتدال کی راہ اختیار کرکے ہر حال میں بندوں کے مصالح کو ملحوظ رکھا۔
Ayah 58:5

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ كُبِتُوْا كَمَا كُبِتَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ قَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌۚ Open ayah 58:5 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت 5 کرتے ہیں وہ اسی طرح ذلیل 6 کئے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے کے لوگ ذلیل کئے جاچکے ہیں۔ اور ہم نے واضح احکام نازل کردیئے ہیں اور انکار کرنے والوں کے لئے رسوا کن عذاب ہے۔

5 حاد کا لغوی مفہوم :۔ (یُحَادُّوْنَ ) ۔ حد النظر بمعنی تیز نظر سے گھورنا اور حادَّ سے مراد ایسی مخالفت اور دشمنی ہے جس سے انسان غضب ناک ہو کر مقابلہ اور انتقام پر تل آئے۔ مخالفت کی ابتدائی شکل تو یہ ہے کہ انسان اللہ کا حکم تسلیم نہ کرے۔ دوسرا اقدام یہ ہے کہ انسان اللہ کے احکام کا مذاق اڑانا شروع کردے اور تیسرا اقدام یہ ہے کہ اللہ کے قانون یا سزا یا تعزیر کے بجائے کوئی دوسری سزا یا تعزیر مقرر کرلے اور اللہ کے احکام کو نظر انداز کر دے۔ یا اس کی مخالفت میں آکر شرعی احکام کو مصلحت پر مبنی ہونے کے بجائے اسے معاشرہ کے لیے نقصان دہ یا غیر مہذب ثابت کرنے کی کوشش کرے۔ یہ سب صورتیں حاد کے ضمن میں آتی ہیں۔ 6 کَبَتَ کے معنی کسی کو غصہ کی حالت میں ذلیل و رسوا کرنا اور دھکے مار کر باہر نکال دینا اور ہلاک کرنا سب معنوں میں آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو قومیں اللہ کے احکام کی مخالفت پر اتر آئی تھیں۔ اللہ نے انہیں ذلیل و رسوا کردیا تھا۔ اور اگر اب تم وہی کام کرو گے تو تمہارا بھی ویسا ہی انجام ہوگا۔ دنیا میں تو ذلیل و رسوا ہوگے اور آخرت میں جو عذاب دیا جائے گا وہ بھی ذلیل و رسوا کرنے والا ہوگا۔
Ayah 58:6

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اَحْصٰىهُ اللّٰهُ وَ نَسُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ۠ Open ayah 58:6 in the Quran reader

جس دن اللہ ان سب کو زندہ کرکے اٹھائے گا تو انہیں بتادے گا کہ وہ کیا کچھ کرکے آئے ہیں۔ اللہ نے اس کا پورا ریکارڈ رکھا ہے جبکہ وہ خود اسے بھول 7 گئے اور اللہ ہر ایک چیز پر حاضر و ناظر ہے

7 دنیا میں انسان بیشمار ایسے گناہ کے کام کرتا ہے جنہیں وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ لہذا وہ اسے یاد ہی نہیں رہتے۔ لیکن اللہ اور اس کے فرشتے ہر انسان کا ایسا مکمل ریکارڈ تیار کر رہے ہیں۔ جس میں انسان کی کوئی چھوٹی سے چھوٹی کرتوت بھی درج ہونے سے رہ نہیں سکتی۔ قیامت کے دن اس کا یہی کچا چٹھا اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ تب اسے اپنی وہ سب کرتوتیں یاد آنے لگیں گی۔ جو اس کے دل و دماغ سے یکسر فراموش ہوچکی تھیں۔
Ayah 58:7

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَا یَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَ لَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَ لَاۤ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَیْنَ مَا كَانُوْا١ۚ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 58:7 in the Quran reader

کیا آپ دیکھتے نہیں کہ جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں موجود ہے اللہ اسے خوب جانتا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ تین آدمیوں میں مشورہ ہو تو چوتھا وہ (اللہ) نہ ہو یا پانچ آدمیوں میں مشورہ ہو تو ان کا چھٹا وہ نہ ہو۔ (مشورہ کرنے والے) اس سے کم ہوں یا زیادہ، وہ یقینا ان کے ساتھ 8 ہوتا ہے خواہ وہ کہیں بھی ہوں۔ پھر وہ قیامت کے دن انہیں بتا (بھی) دے گا جو کچھ وہ کرتے رہے۔ بلاشبہ اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

8 مشورہ اور مشیروں کی تعداد اور جمہوریت پسند :۔ اس آیت سے دراصل سمجھانا یہ مقصود ہے کہ انسان کسی وقت اور کسی حال میں بھی اللہ سے چھپ نہیں سکتا۔ اور اگر وہ کوئی بات کرے تو وہ اسے بھی سن رہا ہوتا ہے۔ لہذا انسان کو گناہ کے کاموں اور گناہ کی باتوں سے ہر حال میں پرہیز کرنا چاہیے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تین اور پانچ یعنی طاق اعداد کا ذکر کیا ہے۔ دو اور چار وغیرہ جفت اعداد کا ذکر نہیں کیا۔ اس سے بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ مشورہ طاق لوگوں سے لینا چاہیے۔ ایک سے تو مشورہ کیا یا لیا نہیں جاسکتا اور دو مشورہ کرنے والوں میں اگر اختلاف ہوجائے تو کچھ فیصلہ نہ ہوسکے گا۔ اور اگر تین ہوں اور دو کی رائے ایک طرف ہو تو ان کی رائے ایک سے زیادہ معتبر ہوگی اور اس سے آگے انہوں نے کثرت رائے کے مطابق فیصلہ کے اصول کو درست ثابت کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔ یہ دلیل کئی لحاظ سے غلط ہے۔ ایک یہ کہ نَجْوٰی کا معنی کانا پھوسی، سرگوشی اور راز کی باتیں ایک دوسرے کو کہنا یا بتانا ہوتا ہے۔ اور یہ لفظ اکثر برے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ الا یہ کہ کوئی قرینہ موجود ہو اور یہ کانا پھوسی دو آدمیوں میں بھی ہوسکتی ہے۔ تین میں بھی اور چار میں بھی۔ دوسرے یہ کہ آیت کے الفاظ (وَلَآ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَلَآ اَكْثَرَ ۝) 58 ۔ المجادلة :7) ان لوگوں کی اس دلیل کو باطل کردیتے ہیں۔ تین سے ادنیٰ دو ہے اور اکثر چار۔ پانچ سے ادنیٰ چار ہے اور اکثر چھ۔ علی ہذا القیاس تیسرے یہ کہ صرف طاق اعداد کا ذکر اہل عرب کے رواج اور حسن کلام سے تعلق رکھتا ہے اس کا مشیروں کی تعداد سے کچھ تعلق نہیں ہوتا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے جہاں اصحاب کہف کی تعداد کا ذکر فرمایا تو وہاں بھی تین، پانچ یا سات کا ہی ذکر فرمایا۔ حالانکہ وہاں کوئی ایسا معاملہ نہیں جو مشورہ سے تعلق رکھتا ہو۔
Ayah 58:8

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ یَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ١٘ وَ اِذَا جَآءُوْكَ حَیَّوْكَ بِمَا لَمْ یُحَیِّكَ بِهِ اللّٰهُ١ۙ وَ یَقُوْلُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ لَوْ لَا یُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ١ؕ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 58:8 in the Quran reader

کیا آپ نے ان لوگوں 9 کو نہیں دیکھا جنہیں سرگوشی کرنے سے روکا گیا تھا پھر وہ وہی کام کرتے ہیں جس سے انہیں روکا گیا تھا۔ یہ لوگ چھپ چھپ کر گناہ، سرکشی اور رسول کی نافرمانی سے متعلق باتیں کرتے ہیں اور جب آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو ایسے طریقے سے سلام کہتے ہیں جس طرح اللہ نے آپ کو سلام نہیں کہا۔ اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ جو کچھ ہم کہتے ہیں اس پر اللہ ہمیں سزا کیوں نہیں دیتا ایسے لوگوں کو جہنم کافی ہے۔ جس میں یہ داخل ہوں گے۔ سو ان کا انجام کیسا برا ہے۔

9 منافقوں کی سرگوشیاں :۔ ان لوگوں سے مراد مدینہ کے منافق ہیں۔ جو اپنے بعض معاملات کی خاطر مسلمان تو ہوگئے تھے۔ مگر ان کی سب ہمدردیاں کافروں کے ساتھ تھیں چاہے وہ یہود مدینہ ہوں یا قریش مکہ ہوں یا دوسرے عرب قبائل ہوں جو مشرک اور اسلام کے دشمن تھے۔ ان کی کئی قسم کی حرکات قابل گرفت تھیں جن سے مسلمانوں کو سخت کوفت ہوتی تھی۔ ایک یہ کہ وہ اسلام دشمن طاقتوں سے خفیہ روابط رکھتے تھے اور مسلمانوں کی نقل و حرکت یا ارادوں سے انہیں باخبر رکھتے تھے۔ دوسرے مسلمانوں کے خلاف اور اسلام کی قوت کو کمزور کرنے کے لیے آپس میں خفیہ مجلسیں کرتے تھے۔ اور بسا اوقات ایسا بھی ہوتا کہ جہاں چند مسلمانوں کو دیکھا تو آپس میں کھسر پھسر اور کانا پھوسی ان کے سامنے ہی شروع کردی۔ اور اس کا مقصد محض مسلمانوں کو ذہنی کوفت پہنچانا ہوتا تھا۔ اور تیسرا کام وہ یہ کرتے تھے کہ جب رسول اللہ مسلمانوں کو کسی مشورہ یا کام کے لیے بلاتے اور ایسی مجالس میں مسلمان کہلانے کے ناطے سے منافقوں کو بھی بادل ناخواستہ آنا پڑتا تھا۔ اسوقت وہ آپ کو زیرلب وہی سلام کہتے جو انہوں نے یہودیوں سے سیکھا تھا یعنی السلام علیک کے بجائے السام علیک کہا کرتے (یعنی تم پر موت آئے) جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ یہود اور منافقین کا آپ کو السام علیک کہنا :۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جب یہودی تمہیں سلام کہتے ہیں تو سلام کے بجائے سام (یعنی موت) کہتے ہیں۔ تو ان کے جواب میں تم فقط وعلیک کہہ دیا کرو ( اور تم پر بھی ) (بخاری، کتاب الاستیذان، باب کیف یرد علٰی اھل الذمۃ السلام) سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ چند یہودی رسول اللہ کے پاس آئے اور کہا السام علیک۔ میں سمجھ گئی اور کہا علیکم السام واللعنۃ (یعنی تم پر موت بھی آئے اور لعنت بھی) آپ نے فرمایا : عائشہ ؓ ! ذرا ٹھہرو ! اللہ ہر کام میں نرمی کو پسند فرماتا ہے میں نے عرض کیا : یارسول اللہ آپ نے سنا نہیں وہ کیا کہہ رہے تھے ؟ آپ نے فرمایا : میں نے سن کر ہی انہیں وعلیکم کہا تھا۔ (بخاری۔ کتاب الاستیذان۔ باب ایضاً ) پھر دل میں یہ بھی سوچتے یا آپس میں تبادلہ خیالات کرتے کہ اگر یہ واقعی اللہ کا رسول ہوتا تو اس کے حق میں ہماری اس بددعا کی پاداش میں ہم پر تباہی آچکی ہوتی۔ مگر چونکہ ہماری بددعا کے باوجود ہمارا آج تک کچھ بھی نہیں بگڑا تو ہم یہ کیسے سمجھیں کہ یہ واقعی سچا رسول ہے۔ اللہ نے منافقوں کی ان سب کارروائیوں سے مسلمانوں کو مطلع کردیا اور ان کی مذمت بھی بیان فرمائی۔ لیکن تباہی نازل نہیں کی۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جبری اور اضطراری ایمان کے لیے پیدا نہیں کیا۔ البتہ انہیں مرنے کے بعد ان کے برے انجام سے مطلع فرمایا۔
Ayah 58:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ وَ تَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 58:9 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تم سرگوشی کرو تو گناہ، سرکشی اور رسول کی نافرمانی سے متعلق سرگوشی نہ کیا کرو، بلکہ سرگوشی کرو تو نیکی 10 اور تقویٰ کے متعلق کیا کرو۔ اور اس اللہ سے ڈرتے رہو جس کے ہاں تم اکٹھے کئے جاؤ گے۔

10 سرگوشی کی تین صورتیں اور ان کا مقام :۔ اس آیت میں عام مسلمانوں سے خطاب ہے جن میں منافقین بھی شامل ہیں۔ سرگوشی، کاناپھوسی اور کھسر پھسر سب ہم معنی الفاظ ہیں۔ اور ان کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ یہ سرگوشی، بدنیتی، برے ارادوں یا کسی ناپاک سازش پر محمول ہو۔ جیسے منافق لوگ مسلمانوں کے خلاف سرگوشیاں کیا کرتے تھے۔ یہ شیطان کی انگیخت ہوتی ہے جیسا کہ اگلی آیت میں صراحت سے مذکور ہے۔ اور یہ بالاتفاق حرام ہے۔ دوسرے یہ کہ سرگوشی بھلائی اور نیکی پر محمول ہو مثلاً دو لڑنے والوں کے درمیان سمجھوتہ کے لیے سرگوشی کی جائے یا جیسے سیدنا یوسف (علیہ السلام) نے جب اپنے بھائی بن یمین کو اپنے ہاں روک لیا تھا تو باقی بھائیوں نے لوگوں سے الگ تھلگ ہو کر بات چیت کی تھی۔ ایسی سرگوشی جائز ہی نہیں مستحسن ہے۔ بلکہ بعض اوقات واجب بھی ہوسکتی ہے۔ تیسرے ایسی سرگوشی جس کا تعلق صرف دو سرگوشی کرنے والوں سے ہی ہو دوسرے لوگوں سے نہ ہو۔ جیسے خود رسول اللہ نے اپنی وفات سے بیشتر سیدہ فاطمہ ؓ سے کی تھی۔ جس سے ایک بار تو وہ رونے لگیں اور دوسری دفعہ ہنس دیں۔ (بخاری۔ کتاب الاستیذان۔ باب من ناجی بین الناس۔۔ ) ایسی سرگوشی جائز ہے اور اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ البتہ سرگوشی کرنے کے بعد کچھ آداب ہیں جو درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جب کہیں تم صرف تین آدمی ہوں تو دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر کانا پھوسی نہ کریں۔ اس سے اس کو رنج ہوگا۔ البتہ اگر اور بھی آدمی موجود ہوں تو پھر کوئی مضائقہ نہیں (بخاری۔ کتاب الاستیذان۔ باب اذا کانوا اکثر من ثلثۃ۔۔ ) اور ان آداب کا اصل مدعا یہ ہے کہ کسی شخص کو رنج نہ پہنچے یا وہ کسی بدظنی میں مبتلا نہ ہوجائے۔ یعنی : 1۔ اگر صرف تین آدمی ہیں۔ تو دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں۔ ہاں اگر تیسرے سے اجازت لے لیں تو پھر وہ سرگوشی کرسکتے ہیں۔ اس طرح اس کی بدظنی کا امکان ختم ہوجائے گا۔ 2۔ اگر آدمی تین سے زیادہ ہوں تو دو آدمی کانا پھوسی کرسکتے ہیں۔ مگر ایسا نہ ہو کہ آدمی چار ہوں اور تین آدمی ایک کو چھوڑ کر کاناپھوسی میں مشغول ہوجائیں۔ وقس علی ہذا 3۔ اگر آدمی زیادہ ہوں اور دو آدمی کاناپھوسی کرنے لگیں تو ان میں سے کوئی شخص مجلس میں بیٹھے ہوئے کسی خاص شخص کی طرف اشارہ نہ کرے اور نہ اسے دیکھے۔ جس سے مشار الیہ کے دل میں خواہ مخواہ بدظنی پیدا ہوجائے۔ سرگوشی سے منافقوں کا مقصد :۔ غرض بدظنی پیدا کرنے اور رنج پہنچانے والی جتنی بھی صورتیں ممکن ہیں اس آیت کی رو سے سب حرام ہیں اور منافقوں کا تو کام ہی یہ ہوتا تھا کہ جہاں کہیں مسلمانوں کے ساتھ اکٹھ ہوتا تو ناپاک قسم کی کھسر پھسر شروع کردیتے تھے۔ مثلاً جہاد پر روانگی کے وقت یہ کھسر پھسر شروع کردیتے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب جہاد پر روانہ والے ان مسلمانوں میں کوئی بھی بچ کر واپس نہ آئے گا۔ معلوم نہیں یہ لوگ کون سے سنہرے خواب دیکھ رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔
Ayah 58:10

اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّیْطٰنِ لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیْسَ بِضَآرِّهِمْ شَیْئًا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 58:10 in the Quran reader

بلاشبہ سرگوشی کرنا شیطان کا کام ہے تاکہ ان لوگوں کو غمزدہ بنادے جو ایمان لائے ہیں، حالانکہ اللہ کے اذن کے بغیر وہ کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ اور ایمان والوں کو تو اللہ پر ہی 11 بھروسہ کرنا چاہئے۔

ا 1 منافقوں کی ان سرگوشیوں سے غرض ہی یہ ہوتی تھی کہ مسلمان رنجیدہ اور دلگیر ہوں اور گھبرا جائیں۔ اور یہ کام ان سے شیطان کرا رہا تھا۔ مگر مسلمانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ شیطان ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا اور نہ ہی اس کے یہ چیلے کچھ بگاڑ سکتے ہیں۔ نفع و نقصان تو صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے لہذا انہیں صرف اللہ پر اعتماد رکھنا چاہیے اور منافقوں کی ان ناپاک سرگوشیوں کی پروا تک نہ کرنی چاہیے۔ یہ اعتماد ان کے دل میں ایسی قوت پیدا کر دے گا کہ بہت سے فضول خطروں اور خیالی اندیشوں سے نجات مل جائے گی۔ انہیں چاہیے کہ منافقوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں۔ غلط کار لوگوں کے مقابلے میں آپے سے باہر نہ ہوں اور اطمینان و سکون کے ساتھ اپنے کام میں لگے رہیں۔
Ayah 58:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ١ۚ وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ۙ وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:11 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تمہیں کہا جائے کہ مجلسوں 12 میں کھل کر بیٹھو تو کھل کر بیٹھو اللہ تمہیں کشادگی 13 بخشے گا۔ اور جب کہا جائے کہ اٹھ 14 (کر چلے) جاؤ تو اٹھ جایا کرو۔ تم میں سے جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہیں علم دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجے بلند 15 کرے گا۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے

12 آداب مجلس :۔ کسی مجلس یا اجتماع میں دو یا چند آدمیوں کا الگ ہو کر کانا پھوسی کرنا بھی آداب مجلس کے خلاف ہے۔ اسی نسبت سے اس آیت میں چند مزید آداب مجلس کا خیال رکھنے کا مسلمانوں کو حکم دیا جارہا ہے اس سلسلہ میں درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے۔ 1۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : کوئی شخص دوسرے کو اٹھا کر وہاں خود نہ بیٹھے۔ نیز فرمایا کہ (جب جگہ تنگ ہو تو) کھل کر نہ بیٹھو اور آنے والوں کو جگہ دو ۔ (بخاری۔ کتاب الاستیذان۔ باب اذا قیل لکم تفسحوا فی المجالس) 2۔ سیدنا جابر ؓ فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : کہ تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو جمعہ کے دن اس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں نہ بیٹھے بلکہ یوں کہے کہ پھیل جاؤ (مسلم۔ کتاب السلام۔ باب من اتٰی مجلسا فوجد فرجۃ فیجلس۔۔ ) 3۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص جب (کسی ضرورت کے لیے) اپنی جگہ سے اٹھے پھر واپس آئے تو وہ اس جگہ کا زیادہ حقدار ہے (مسلم۔ کتاب السلام۔ باب اذاقام من مجلسہ ثم عاد الیہ فھواحق بہ) 13 یعنی اللہ تمہاری دل کی تنگیوں اور مادی تنگیوں کو دور کردے گا اور اپنی رحمت کے دروازے کشادہ کردے گا۔ 14 اس آیت، مذکورہ بالا احادیث اور بعض دیگر نصوص سے جو آداب مجلس مسلمانوں کو سکھائے گئے ہیں وہ درج ذیل ہیں :۔ 1۔ مجلس میں پہنچ کر اہل مجلس کو سلام کہا جائے۔ 2۔ پھر جہاں جگہ ملے وہیں بیٹھ جانا چاہیے۔ دوسروں کو تنگ نہ کرنا چاہیے۔ نہ اس بات میں اپنی ہتک محسوس کرنا چاہیے۔ 3۔ اہل مجلس جب دیکھیں کہ جگہ تنگ ہو رہی ہے اور نئے آنے والوں کو جگہ نہیں مل رہی تو انہیں مجلس کا حلقہ وسیع کرلینا چاہیے۔ یا اگر جمعہ وغیرہ کا اجتماع ہو تو سکڑ کر اور سمٹ کر بیٹھ جانا چاہیے۔ تاکہ آنے والوں کے لیے جگہ بن جائے۔ 4۔ ہر مسلمان کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ مجلس میں رسول اللہ کے قریب ہو کر بیٹھے یا جیسے خطبہ جمعہ میں اکثر لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ امام کے قریب ہو کر بیٹھیں۔ تو ایسی صورت میں کسی کے لئے، خواہ وہ عزت اور مرتبہ میں بڑا ہو، یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ خود بیٹھ جائے۔ 5۔ حفظ مراتب کا بھی ایک مقام ہے۔ اگر کوئی چھوٹا کسی بڑے کو آتے دیکھ کر از راہ تواضع اور آنے والے کا احترام کرتے ہوئے اپنی جگہ اس کے لیے چھوڑ کر خود پیچھے ہٹ جائے تو یہ چیز چھوٹے کی عزت اور درجات کی بلندی کا سبب بن جائے گی۔ اور رسول اللہ کی مجلس میں اکثر ایسا ہوتا تھا۔ 6۔ اگر کوئی شخص مثلاً خطبہ جمعہ میں وضو ٹوٹ جانے یا کسی اور وجہ سے اپنی جگہ سے اٹھ جاتا ہے اور وضو کرکے واپس آتا ہے تو کوئی دوسرا اس کی جگہ پر قبضہ نہ جمالے۔ بلکہ پہلا شخص ہی اس جگہ کا زیادہ حقدار ہے۔ 7۔ اگر میر مجلس مجلس کو برخاست کرنے اور چلنے جانے کا حکم دے یا کسی ایک شخص کو کسی مصلحت کی بنا پر چلے جانے کو کہے تو اسے اس حکم میں نہ عار محسوس کرنی چاہیے اور نہ اسے اس کی تعمیل میں اپنی توہین یا ہتک محسوس کرنا چاہیے۔ 8۔ اگر کھانا کھانے کی مجلس ہو تو کھانے سے فراغت کے بعد باتوں میں مشغول ہو کر میزبان کو پریشان اور تنگ نہ کرنا چاہیے بلکہ فراغت کے بعد جلد اجازت لے کر رخصت ہوجانا چاہیے۔ 15 مجالس میں نظم وضبط :۔ یہ نہ سمجھو کہ مجلس میں دوسروں کو جگہ دینے کی خاطر اگر تم میر مجلس سے کچھ دور جا بیٹھے تو تمہارا درجہ گرگیا یا اگر تمہیں اٹھ کر چلے جانے کے لیے کہا گیا تو اس میں تمہاری توہین ہوگئی۔ رفع درجات کا اصل مقصد ایمان اور علم ہے نہ یہ کہ کون میر مجلس کے قریب بیٹھا ہے اور کون اس سے دور ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ احکام یا آداب مجلس صرف دور نبوی کی مجالس سے ہی مختص نہیں بلکہ آج بھی ان پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے۔ تاکہ نظم و ضبط قائم رہے اور ہر ایک کو درجہ بدرجہ استفادہ کا موقع ملے۔ اسلام ابتری کے بجائے انتہائی نظم اور شائستگی سکھاتا ہے۔ پھر جب عام مجالس کے متعلق نظم و ضبط کے ایسے احکام ہیں تو میدان جہاد اور صفوف جنگ میں تو اس سے بڑھ کر نظم و ضبط اور امیر کی اطاعت ضروری ہوتی ہے۔
Ayah 58:12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةً١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 58:12 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تم رسول اللہ ﷺ سے سرگوشی کرنا چاہو تو اپنی سرگوشی سے پہلے (مساکین کو) صدقہ کیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر اور پاکیزہ 16 تر بات ہے۔ ہاں اگر تم صدقہ دینے کے لئے کچھ نہ پاؤ تو بلاشبہ اللہ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔

16 آپ سے سرگوشی کرنے پر صدقہ کی عارضی پابندی اور اس کے فوائد :۔ بعض منافقوں کی یہ عادت تھی کہ محض اپنی شخصیت کو نمایاں کرنے اور بڑائی جتانے کی خاطر آپ سے سرگوشی شروع کردیتے اور بےکار باتوں میں آپ کا اتنا وقت ضائع کردیتے تھے جس سے دوسروں کو آپ سے استفادہ کا وقت نہ ملتا تھا۔ یا کسی وقت آپ خلوت چاہتے تو آپ کو ایسا موقع میسر نہ آتا تھا۔ پھر منافقوں کی دیکھا دیکھی کچھ مسلمان بھی ایسا کرنے لگے تھے اور آپ ہر ایک کی بات سننے کو تیار ہوجاتے اور مروت اور اخلاق کی وجہ سے کسی کو منع نہ فرماتے اس سے کئی قسم کے نقصان ہو رہے تھے۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے خود ایسی آزادی پر پابندی لگا دی اور فرمایا کہ جو شخص آپ سے سرگوشی کرنا چاہے وہ کچھ نہ کچھ پہلے صدقہ کرے۔ تب اسے سرگوشی کی اجازت ہوگی اور اس حکم میں بہت سے فائدے تھے۔ مثلاً محتاجوں کی خدمت، صدقہ کرنے والے کے نفس کا تزکیہ، کسی کو بدظنی پیدا نہ ہونا، مخلص اور منافق کی تمیز اور سرگوشی کرنے والوں کی تعداد میں کمی واقع ہونا۔ وغیرہ وغیرہ۔ اس حکم میں استثناء صرف یہ تھا کہ اگر فی الواقع کوئی شخص انتہائی نادار ہو اور اسے سرگوشی کی ضرورت بھی حقیقی ہو تو وہ صدقہ دیئے بغیر آپ سے سرگوشی کرسکتا ہے اس حکم سے منافقوں نے اپنے طبعی بخل کی وجہ سے یہ عادت چھوڑ دی۔ اور مسلمان بھی سمجھ گئے کہ زیادہ سرگوشی کرنا اللہ کو پسند نہیں اور اس کے کیا کچھ نقصانات ہیں۔
Ayah 58:13

ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ١ؕ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 58:13 in the Quran reader

کیا تم اس بات سے ڈر گئے کہ اپنی سرگوشی سے پہلے صدقے ادا کرو 17 ۔ پھر جب تم نے ایسا نہیں کیا اور اللہ نے بھی تمہیں (اس سے) معاف کردیا تو اب نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ دیتے رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

17 آپ سے سرگوشی کی عام اجازت کے نقصانات :۔ اس حکم سے بہت جلد وہ مقاصد حاصل ہوگئے۔ جن کی بنا پر یہ حکم دیا گیا تھا۔ یہ حکم اس وقت نازل ہوا جب عرب بھر کے کفار مسلمانوں کی دشمنی پر اتر آئے تھے۔ اگر کوئی شخص آپ سے سرگوشی کرتا۔ تو فوراً منافق یہ مشہور کردیتے کہ یہ شخص فلاں قبیلے کے مدینہ پر حملہ کی تیاریوں کی خبر لایا تھا۔ پھر ایسی افواہیں بہت جلد مدینہ میں گشت کرنے لگتیں اور ایک ہراس سا پھیل جاتا۔ اس کا دوسرا نقصان یہ تھا کہ خواہ مخواہ بدظنی کے احتمال پیدا ہوجاتے تھے اور تیسرا اور سب سے بڑا نقصان یہ تھا کہ لوگ معمولی اور بےکار قسم کی باتوں میں آپ کا قیمتی وقت ضائع کرتے رہتے تھے۔ سرگوشیاں کرنے والے اکثر چوہدری ٹائپ کے مالدار منافق ہی ہوا کرتے تھے۔ صدقہ کے حکم کے بعد منافقین تو بخل کی وجہ سے رک گئے اور مسلمان ویسے ہی سنبھل گئے۔ یہ حکم زیادہ سے زیادہ دس دن تک بحال رہا اور اس پر صرف سیدنا علی ؓ نے ایک بار عمل کیا۔ صدقہ کی پابندی کا خاتمہ :۔ جب مندرجہ بالا مقاصد حاصل ہوگئے تو اللہ نے اس حکم کو منسوخ فرما دیا۔ اور ساتھ ہی مسلمانوں کو تاکید کی گئی کہ نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی کا پورا پورا خیال رکھیں اور اللہ اور اس کے رسول کی سچے دل سے اطاعت بجالائیں اور ایسا کوئی کام نہ کریں جو ان کی منشا کے خلاف ہو۔
Ayahs 58:14–15

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لَا مِنْهُمْ١ۙ وَ یَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 58:14 in the Quran reader

کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے ایسے لوگوں سے دوستی لگائی جن پر 18 اللہ کا غضب ہوا۔ نہ تو وہ تم میں سے ہیں اور نہ ہی ان میں سے۔ اور وہ دیدہ دانستہ جھوٹی باتوں پر قسمیں کھاتے 19 ہیں

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 58:15 in the Quran reader

اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ بلاشبہ جو کچھ یہ کر رہے ہیں بہت برا ہے

18 منافقوں کی یہود سے ملی بھگت :۔ ان لوگوں سے سے مراد مدینہ کے منافق ہیں اور مغضوب علیہ قوم سے مراد مدینہ کے یہودی ہیں۔ منافقوں کی اصل دوستی اور ہمدردی یہودیوں سے تھی۔ کیونکہ اندر سے منافق بھی مسلمانوں کے ایسے ہی دشمن تھے جیسے یہودی۔ اسی اسلام دشمنی کی مشترک قدر نے ان دونوں کو دوستی کے رشتہ میں منسلک کردیا تھا۔ ان دونوں میں بدتر حالت منافقوں کی تھی جن کے زبانی دعویٰ ایمان پر مسلمانوں کا اعتبار اٹھ چکا تھا۔ چونکہ یہ لوگ اسلام کے دعویٰ کی وجہ سے مسلمانوں سے کئی قسم کے مفادات حاصل کر رہے تھے۔ لہذا مسلمانوں میں انہیں اپنا اعتماد بحال رکھنے کے لیے جھوٹی قسمیں بھی کھانا پڑتی تھیں۔ مگر ان کی کرتوتیں چونکہ ان کے دعویٰ اور قسموں کی تکذیب کردیتی تھیں۔ اس لیے ان پر نہ مسلمان اعتماد کرتے تھے اور نہ یہودی۔ ان کی حالت دھوبی کے کتے جیسی ہوگئی تھی جو نہ گھر کا شمار ہوتا ہے اور نہ گھاٹ کا۔ 19 یہودیوں کے سامنے یہ قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم دل و جان سے تمہارے ساتھ ہیں اور تمہارے دکھ درد میں شریک ہیں اور مسلمانوں کو تو ہم نے محض اُلّو بنا رکھا ہے۔ اور مسلمانوں کے سامنے وہ یہ قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم سچے دل سے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاچکے ہیں اور ان کے اطاعت گزار اور فرمانبردار ہیں۔
Ayahs 58:16–17

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 58:16 in the Quran reader

انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے جس کی آڑ میں وہ (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے 20 روکتے ہیں۔ لہذا ان کے لئے رسوا کن عذاب ہوگا۔

لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 58:17 in the Quran reader

اللہ کے سامنے نہ ان کے مال کچھ کام آئیں گے اور نہ اولاد۔ یہی لوگ اہل دوزخ ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

20 یعنی ایک طرف تو منافق مسلمانوں کے سامنے اپنے مسلمان ہونے کی قسمیں کھا کر ان کی گرفت سے محفوظ رہتے ہیں اور ان کے جان اور مال محفوظ ہوجاتے ہیں اور دوسری طرف وہ اسلام، اہل اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف ہر طرح کے شکوک و شبہات اور وسوسے لوگوں کے دلوں میں پیدا کرتے رہتے ہیں تاکہ لوگ یہ سمجھ کر اسلام قبول کرنے سے باز رہیں کہ جب گھر کے بھیدی ایسی خبریں دے رہے ہیں تو ضرور دال میں کچھ کالا ہوگا۔
Ayah 58:18

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰى شَیْءٍ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 58:18 in the Quran reader

جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا تو اس کے سامنے بھی ایسے ہی قسمیں 21 کھائیں گے جیسے تمہارے سامنے کھاتے ہیں اور یہ سمجھیں گے کہ (اس طرح) ان کا کچھ کام بن جائے گا۔ سن لو ! یہی جھوٹے لوگ ہیں

21 منافقوں کی قسمیں کھانے کی پختہ عادت :۔ قسمیں اٹھانے کی عادت صرف اس شخص کی ہوتی ہے جو ہر وقت جھوٹ بولتا ہو اور لوگوں میں اپنا اعتماد کھو چکا ہو۔ سچے اور راست باز انسان کو کبھی قسم اٹھانے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔ لوگ اس کی بات پر ویسے ہی اعتماد کرلیتے ہیں اور ان منافقوں کی یہ حالت اور قسمیں کھانے کی عادت اس قدر پختہ ہوچکی ہے کہ مرنے کے بعد اللہ کے حضور پیش ہو کر بھی قسمیں کھانا شروع کردیں گے اور یہ بھی نہ سوچیں گے کہ جب مسلمانوں کو بھی ان کی قسموں پر اعتماد نہ تھا تو اللہ کیسے اعتماد کرلے گا جو دلوں کے راز تک جانتا ہے۔
Ayahs 58:19–20

اِسْتَحْوَذَ عَلَیْهِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰىهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 58:19 in the Quran reader

شیطان ان پر مسلط 22 ہوگیا ہے جس نے انہیں اللہ کا ذکر بھلا دیا ہے۔ یہی لوگ شیطان کی پارٹی 23 ہے۔ سن لو ! شیطان کی پارٹی کے لوگ ہی خسارہ 24 اٹھانے والے ہیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اُولٰٓئِكَ فِی الْاَذَلِّیْنَ Open ayah 58:20 in the Quran reader

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں یقینا یہی لوگ ذلیل ترین ہیں

22 استحوذ کا لغوی مفہوم :۔ إسْتَحْوَذَ ۔ حَاذ بمعنی سختی کے ساتھ ہانکنا اور حاذ الدَّابَۃُ بمعنی جانور کو تیزی سے چلانا اور اِسْتَحْوَذَ کے معنی کسی پر مسلط ہو کر اسے سختی سے ہانکنا ہے۔ کہتے ہیں استحوذ العیر علی الاتان یعنی گدھے کا گدھی کی پشت پر چڑھ کر اسے دونوں جانب سے دبا لینا ہے (مفردات) یعنی شیطان نے ان منافقوں پر مسلط ہو کر انہیں کچھ اس طرح سے جکڑ رکھا ہے کہ انہیں اللہ کبھی بھولے سے بھی یاد نہیں آتا اور وہ اسی کے آلہ کار بن کر رہ گئے ہیں۔ 23 اسلامی نقطہ نظر سے سیاسی پارٹیاں صرف دو ہوسکتی ہے ایک حزب اللہ دوسری حزب الشیطان :۔ حِزْبٌ بمعنی پارٹی، گروہ جتھا، جن کے خیالات میں ہم آہنگی نیز سختی اور شدت پائی جائے۔ گویا حزب کا لفظ سیاسی پارٹی، فوج اور لشکر کے معنوں میں آسکتا ہے۔ جس کا مقصد مملکت میں عمل دخل حاصل کرنا ہو۔ غزوہ احزاب میں ایسی ہی پارٹیاں اسلام کے خلاف متحد ہوگئی تھیں۔ اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ منافق شیطان کی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ شرعی نقطہ نگاہ سے صرف دو ہی سیاسی پارٹیاں ہوسکتی ہیں۔ ایک اللہ کے فرمانبرداروں کی پارٹی جسے اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے حزب اللہ کے نام سے موسوم فرمایا۔ اور دوسرے شیطان کی پارٹی جیسا کہ اس آیت میں مذکور ہے۔ اسلام دشمن جتنی بھی طاقتیں ہیں۔ وہ سب حزب الشیطان یعنی شیطان کی پارٹی میں شامل ہیں اور اسی پارٹی کے افراد کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مثلاً جنگ احزاب میں مشرکین مکہ، یہود مدینہ، منافقین اور عرب کے دیگر مشرک قبائل سب شامل تھے۔ ان میں سے ایک ایک گروہ بھی شیطان کی پارٹی ہے اور سب مل کر بھی شیطان کی بڑی پارٹی بن جاتی ہے۔ 24 جنگ احزاب میں شامل تمام پارٹیوں میں قدر مشترک صرف اسلام دشمنی اور اللہ کے رسول کی مخالفت تھی۔ اگرچہ ان سب کی سرگرمیاں اور طریق کار الگ الگ نوعیت کے تھے۔ یہ لوگ چونکہ حق اور اللہ کی پارٹی کے مقابلہ میں سامنے آئے تھے تو ضروری تھا کہ اللہ بھی اپنی پارٹی کی مدد اور حمایت کرتا۔ چناچہ اللہ نے اس انداز سے اپنی پارٹی کی مدد فرمائی کہ شیطان کی پارٹی ہر لحاظ سے خسارہ میں رہی ان کا مال بھی ضائع ہوا۔ محنت مشقت سفر بھی اور بالآخر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اور فرار کے سوا انہیں اپنی عافیت کی کوئی صورت نظر نہ آئی۔ یہ تو انجام دنیا میں ہوا اور آخرت میں اس سے بھی زیادہ خسارہ اور برے انجام سے دو چار ہوں گے۔ واضح رہے کہ دنیا میں شیطان کی پارٹی کا یہ انجام فقط غزوہ احزاب یا دوسرے غزوات تک ہی مختص نہیں بلکہ حق کے مقابلہ پر آنے والی ہر پارٹی کا یہی حشر ہوتا ہے۔ بشرطیکہ مقابلہ میں لوگ صحیح معنوں میں مسلمان ہوں۔
Ayah 58:21

كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 58:21 in the Quran reader

اللہ نے لکھ رکھا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب 25 رہیں گے۔ بلاشبہ اللہ بڑا زورآور اور غالب ہے۔

25 اہل حق کا غلبہ کن کن معنوں میں ہوتا ہے ؟ :۔ غالب رہنے سے مراد صرف سیاسی غلبہ نہیں بلکہ یہ صرف اس غلبہ کا ایک پہلو ہے اور یہ بھی بسا اوقات اللہ کی پارٹی کو حاصل ہوجاتا ہے اور کبھی نہیں بھی ہوتا۔ اور جو یقینی غلبہ ہے اس کے دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ کی پارٹی کا اخلاقی تفوق بہرحال ایک مسلمہ امر ہے۔ راست بازی اور مکروفریب سے اجتناب اس پارٹی کے زریں اصول ہیں۔ جنہیں ہر قسم کے لوگ دل سے پسند کرتے ہیں۔ دوسرا پہلو نظریات کا استقلال اور غلبہ ہے۔ باطل نظریات ہر دور میں نئے نئے بنتے بگڑتے اور آپ ہی اپنی موت مرتے رہتے ہیں۔ جبکہ اللہ کی پارٹی کے نظریات و عقائد سیدنا آدم سے لے کر آج تک بدستور قائم اور برقرار رہے ہیں اور آئندہ بھی تاقیامت برقرار رہیں گے۔
Ayah 58:22

لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ١ؕ وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 58:22 in the Quran reader

جو لوگ اللہ اور آخرت کے دن پر یقین رکھتے ہیں۔ آپ کبھی انہیں ایسا نہ پائیں گے کہ وہ ایسے لوگوں سے دوستی لگائیں جو اللہ اور اس کے رسول کی 26 مخالفت کرتے ہوں، خواہ وہ ان کے باپ ہوں یا بیٹے ہوں یا بھائی یا کنبہ والے ہوں، یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں 27 اللہ نے ایمان ثبت کردیا ہے اور اپنی طرف سے ایک روح 28 کے ذریعہ انہیں قوت بخشی ہے۔ اللہ انہیں ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی 29 ہوگیا اور وہ اس سے راضی ہوئے یہی اللہ کی پارٹی ہے۔ سن لو ! اللہ کی پارٹی کے لوگ ہی فلاح پانے والے ہیں۔

26 کافروں سے دوستی رکھنا بھی کفر ہے :۔ یعنی اللہ اور آخرت پر ایمان کا دعویٰ اور اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت دو متضاد باتیں ہیں جو ایک دل میں کبھی جمع نہیں ہوسکتیں جیسے دن اور رات یا روشنی اور تاریکی ایک ہی وقت میں جمع نہیں ہوسکتے۔ لیکن منافقوں کی فریب کاری یہ ہے کہ وہ دونوں کام بیک وقت کر رہے ہیں۔ ان دونوں میں سے ایک ہی بات درست ہوسکتی ہے۔ اگر وہ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں تو وہ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے دوستی رکھ ہی نہیں سکتے۔ اور اگر دوستی رکھتے ہیں تو کبھی ایماندار نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ اصول یہ ہے کہ دشمن کا دوست بھی دشمن ہی ہوتا ہے۔ پھر اللہ کے دشمنوں سے ایک ایماندار کیسے دوستی رکھ سکتا ہے ؟ 27 جنگ کے دوران کافر اقرباء سے مسلمانوں کا سلوک :۔ یہ آیت ان صحابہ کی شان میں نازل ہوئی جنہوں نے اللہ کے اس ارشاد پر عمل کرکے دنیا کے سامنے اس کا عملی نمونہ پیش کیا تھا۔ غزوہ احد میں سیدنا مصعب بن عمیر ؓ نے اپنے بھائی عبید بن عمیر کو قتل کیا۔ سیدنا عمر فاروق نے اپنے ماموں عاص بن ہشام کو اور سیدنا علی ؓ سیدنا حمزہ اور عبیدہ بن الحارث نے علی الترتیب عتبہ، شیبہ اور ولید بن عتبہ کو قتل کیا۔ ایک دفعہ سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کے بیٹے عبدالرحمن اپنے باپ سے کہنے لگے کہ ابا جان ! آپ جنگ میں عین میری تلوار کی زد میں تھے مگر میں نے باپ سمجھ کر چھوڑ دیا تھا۔ سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے جواب دیا : بیٹا اگر تم میری تلوار کی زد میں آجاتے تو میں تمہیں کبھی نہ چھوڑتا۔ غزوہ احد کے قیدیوں کے متعلق مشورہ ہوا تو سیدنا عمر نے یہ مشورہ دیا کہ ہر آدمی اپنے قریبی رشتہ دار کو قتل کرکے موت کے گھاٹ اتار دے۔ غزوہ بنی مصطلق سے واپسی پر عبداللہ بن ابی منافق نے آپ کی شان میں ناجائز کلمات کہے تو ان کے بیٹے جن کا نام بھی عبداللہ ہی تھا اور سچے مومن تھے، آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے۔ اگر آپ حکم فرمائیں تو میں اپنے باپ کا سر کاٹ کر آپ کے قدموں میں لا رکھوں۔ لیکن آپ نے اپنی طبعی رحم دلی کی بنا پر عبداللہ کو ایسا کرنے سے منع فرما دیا۔ غرضیکہ سچے ایمانداروں کی تو شان ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے مقابلہ میں کسی قریبی سے قریبی رشتہ دار حتیٰ کہ اپنی جان تک کی پروا نہیں کرتے۔ 28 یعنی ایسے لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے روح پھونک کر ان کی قوت ایمانی کو کئی گنا زیادہ طاقتور بنادیا ہے۔ نیز روح سے مراد روح القدس یا جبریل بھی ہوسکتے ہیں جو صرف جنگ کے دوران ہی نازل ہو کر مسلمانوں کی قوت ایمانی کو نہیں بڑھاتے بلکہ کوئی بھی اہم معاملہ ہو تو مومنوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی تائید حاصل ہوجاتی ہے۔ کفار نے رسول اللہ کی ہجو کی تو سیدنا حسان بن ثابتص نے اس ہجو کا جواب دیا۔ سیدنا حسان کے یہ اشعار سن کر آپ نے فرمایا : مشرکوں کی ہجو کر جبریل تیرے ساتھ ہیں۔ (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب مرجع النبی من الاحزاب۔۔ ) اور مسلم کے الفاظ یہ ہیں : یا اللہ ! حسان کی روح القدس سے مدد فرما (مسلم۔ کتاب الفضائل۔ باب فضائل حسان بن ثابت ؓ) 29 صحابہ کرام کی شان میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد قرآن میں بعض دیگر مقامات پر بھی مذکور ہے۔ جس سے ان کی انتہائی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ ان کے ایمان میں شک کرتے ہیں یا انکار کرتے ہیں۔ انہیں اپنے ایمان کی خیر منانی چاہیے۔