57. Surah Al-Hadid

الحديدThe Iron · 29 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 57:1

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 57:1 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین میں جو مخلوق ہے، اللہ کی تسبیح کر رہی 1 ہے اور وہ غالب ہے، حکمت والا 2 ہے

1 ہر چیز کی تسبیح کا مفہوم :۔ اللہ تعالیٰ کی تسبیح زبان حال سے بھی ہوسکتی ہے اور قال سے بھی۔ زبان حال سے اللہ تعالیٰ کی تسبیح یہ ہے کہ کائنات کی ایک ایک چیز خواہ وہ جمادات سے تعلق رکھتی ہو یا نباتات سے یا حیوانات سے اپنی تخلیق اور طریق کار سے واضح طور پر یہ ثبوت فراہم کر رہی ہے کہ اس کا خالق ہر قسم کے عیوب و نقائص سے پاک ہے اور اس نے جو چیز بھی پیدا کی اور بنائی کمال حکمت سے بنائی اور جس مقصد کے لیے بنائی گئی وہ اپنا مقصد پورا کر رہی ہے اور جو تسبیح یہ چیزیں زبان قال سے کر رہی ہیں وہ ہم سمجھ نہیں سکتے۔ (17: 44) 2 چونکہ وہ ہر چیز کا خالق ہے۔ لہذا اس پر پورا پورا تصرف اور اختیار بھی رکھتا ہے اور ہر چیز کو جس مقصد کے لیے اس نے بنایا ہے اس سے وہ کام لے رہا ہے۔ اس قدر بےپناہ اور ہمہ گیر قوت اور غلبہ کے باوجود اس نے کبھی اس قوت کا غلط استعمال نہیں کیا بلکہ جو چیز بھی بنائی اس میں کئی حکمتیں مضمر ہوتی ہیں۔ خواہ وہ انسان کے علم میں آچکی ہوں یا نہ آئی ہوں اور وہ ہمیشہ اپنی تخلیق کا مقصد پورا کرتی اور مثبت نتائج پیدا کرتی ہے اور یہی بات اللہ تعالیٰ کی کمال حکمت پر دلیل ہے۔
Ayah 57:2

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 57:2 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے، وہی زندگی بخشتا اور موت دیتا 3 ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

3 موت سے زندگی اور زندگی سے موت دینا اس کا ہر وقت کا کرشمہ ہے اور یہ طریقہ کار صرف حیوانات میں ہی نہیں نباتات میں بھی ہر آن جاری وساری ہے جیسا کہ پہلے بہت سے مقامات پر اس کی تشریح گزر چکی ہے۔
Ayah 57:3

هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 57:3 in the Quran reader

وہی اول ہے اور آخر ہے اور ظاہر 4 ہے اور پوشیدہ ہے اور وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے

4 یعنی جب کائنات کی کوئی چیز موجود نہ تھی اس وقت بھی اللہ موجود تھا اور جب کائنات کی کوئی چیز باقی نہ رہے گی سب فنا ہوجائیں گی اس وقت بھی وہ موجود رہے گا اور وہ ظاہر اس لحاظ سے ہے کہ ہر چیز کا وجود اور ظہور اس کے وجود سے ہے۔ کائنات اکبر کے نظام میں غور کریں یا کائنات اصغر یا انسان کے جسم کے نظام میں غور کریں تو اس کی قدرت اور اس کے وجود پر بہت سے دلائل مل جاتے ہیں۔ کائنات کی کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو اپنے خالق پر رہنمائی نہ کرتی ہو۔ اور وہ باطن اس لحاظ سے ہے کہ حواس خمسہ سے اس کا ادراک تو درکنار ہم عقل سے اس کی ذات یا صفات کے متعلق کوئی صحیح تصور بھی قائم نہیں کرسکتے۔ اس مادی دنیا میں ہمارے سامنے اس قدر غیب کے پردے حائل ہیں کہ ہم ان آنکھوں سے اسے کبھی نہیں دیکھ سکتے۔
Ayah 57:4

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ مَعَكُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 57:4 in the Quran reader

اسی نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر عرش پر 5 قائم ہوا۔ جو چیز زمین میں داخل ہوتی، اسے بھی جانتا ہے اور جو نکلتی ہے اسے بھی (اسی طرح) جو چیز آسمان سے اترتی ہے وہ اسے بھی جانتا ہے اور جو کچھ اس میں چڑھتا 6 ہے اسے بھی۔ اور جہاں کہیں بھی تم ہو وہ تمہارے ساتھ ہے اور جو 7 کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے

5 (اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ 54؀) 7 ۔ الاعراف :54) کی تشریح کے لیے دیکھئے سورة اعراف کی آیت نمبر 54 کا حاشیہ نمبر 54 اور زمین و آسمان کی چھ دن میں پیدائش کے لیے دیکھئے سورة ہود کی آیت 7 کا حاشیہ نمبر 11 6 زمین میں داخل ہونے والی اشیاء میں سب سے اہم بارش کا پانی اور ہر قسم کی نباتات، غلوں اور درختوں کے بیج ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایک ایک دانہ اور ایک ایک بیج کے متعلق واقف ہے کہ وہ کہاں ڈالا گیا اور اسے کتنے عرصے کے بعد زمین سے باہر نکالنا ہے۔ علاوہ ازیں وہ ان مردہ اجسام کو بھی جانتا ہے جو زمین میں دفن کیے جاتے ہیں اور زمین سے نکلنے والی اشیاء میں سے بھی سب سے اہم اشیاء غلے اور میوہ دار درخت ہیں۔ جن پر تمام جاندار مخلوق کی زندگی کی بقا کا انحصار ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس وقت کتنی روزی کھانے والی مخلوق روئے زمین پر بس رہی ہے اور اس کے لیے کس کس قسم کا اور کتنی مقدار میں رزق درکار ہے۔ علاوہ ازیں زمین سے نکلنے والی اشیاء میں مختلف معدنیات، مدفون خزانے، تیل اور پٹرول وغیرہ کے چشمے، پانی کے چشمے اور بہنے والی گیسیں سب چیزیں شامل ہیں۔ زمین پر اترنے والی اشیاء میں بارش، ملائکہ اور وحی الٰہی ہیں نیز شیاطین بھی جو اپنے ساتھیوں پر اترتے ہیں اور چڑھنے والی اشیاء میں آبی بخارات، ملائکہ، مردوں کی ارواح اور لوگوں کے اعمال شامل ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تمام روئے زمین پر جس جس قسم کے بھی حوادث واقع ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے معمولی سے معمولی حالات تک سے واقف ہے۔ 7 اللہ کی معیت کیسے ؟ یعنی اللہ تعالیٰ کی یہ ہمہ گیر نگرانی صرف روئے زمین سے متعلق نہیں۔ بلکہ تم میں سے ہر فرد کے ساتھ وہ ہمہ وقت موجود ہوتا ہے اور تمہاری تمام حرکات و سکنات اوراقوال و افعال اس کے علم میں ہوتی ہیں۔ تم نہ خود اللہ سے چھپ سکتے ہو اور نہ ہی اپنے افعال اور حرکات و سکنات کو اس سے چھپا سکتے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کی یہ معیت اس کی ذات کے لحاظ سے نہیں بلکہ اس کی قدرت اور اس کے علم کے لحاظ سے ہوتی ہے۔
Ayahs 57:5–6

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 57:5 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی حکومت اسی کی ہے اور سب معاملات اسی کی طرف لوٹائے 8 جاتے ہیں

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ؕ وَ هُوَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 57:6 in the Quran reader

وہی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور وہ دلوں کے راز تک جانتا ہے

8 یعنی کائنات کی ہر چیز پر اللہ تعالیٰ کی فرمانروائی ہے۔ ہر چیز سے وہ جو کام چاہتا ہے لے رہا ہے۔ اور جب چاہے گا اس نظام کو درہم برہم کرکے ایک دوسرا عالم قائم کردے گا۔ تم اس کی قلمرو سے بھاگ کر نہ اب کہیں جاسکتے ہو نہ آخرت کے دن کہیں جاسکو گے اور تمہارے اعمال کا ریکارڈ پہلے ہی اس کے پاس موجود ہے۔ اور ہر معاملہ کا اور ہر کام کا انجام بھی اسی کی طرف ہے اور فیصلہ بھی وہیں سے صادر ہوگا۔
Ayah 57:7

اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْهِ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ اَنْفَقُوْا لَهُمْ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 57:7 in the Quran reader

اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ 9 اور ان چیزوں میں سے خرچ کرو جن میں اس نے تمہیں جانشین 10 بنایا ہے، تو جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور خرچ کیا ان کے لئے بہت بڑا اجر ہے

9 ترتیب نزولی اور اس مضمون سے ایسا مترشح ہوتا ہے کہ یہ سورت جنگ احزاب کے بعد نازل ہوئی ہے۔ اس وقت تک قریش مکہ ہی مسلمانوں پر چڑھ چڑھ کر آتے رہے اور حملہ آور ہوتے رہے۔ جنگ احزاب کے خاتمہ اور کافروں کے فرار کے بعد رسول اللہ نے گویا فرما دیا تھا کہ آج کے بعد کفار ہم پر حملہ آور نہ ہوں گے تاہم ابھی مسلمانوں کا غلبہ بہت دور کی بات تھی۔ ایسے مذبذب حالات میں بھی کچھ مسلمان اور مہاجرین ایسے تھے جو اللہ اور اس کے رسول کے وعدوں پر پختہ یقین رکھتے تھے اور تنگ دستی کے باوجود اس حق و باطل کے معرکہ میں جو کچھ بھی انہیں میسر آتا بےدریغ خرچ کر رہے تھے۔ لیکن کئی نو مسلم ایسے بھی تھے جو گومگو کی حالت میں تھے۔ نہ حق و باطل کے اس معرکہ میں مخلص بن کر کوشش کرتے تھے اور نہ ہی جہاد کی خاطر اپنے اموال خرچ کرنے کو تیار تھے۔ ان آیات میں ایسے ہی لوگوں کو خطاب کیا جارہا ہے۔ جو اسلام لانے کے باوجود اسلام کے لیے جانی یا مالی یا بدنی قربانیاں پیش کرنے کو تیار نہ تھے اور اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے سے مراد یہ ہے کہ خلوص نیت کے ساتھ ایمان لاکر اللہ کے رسول کا ساتھ دو اور ان کے کیے ہوئے وعدوں کو یقینی سمجھو۔ 10 یعنی جن اموال سے اللہ کی راہ میں یا جہاد کی خاطر خرچ کرنے سے تم گریز کر رہے ہو ان اموال کے تم حقیقی مالک نہیں ہو۔ ان کا حقیقی مالک تو اللہ ہے۔ تمہاری حیثیت صرف ایک نائب اور امین کی ہے۔ یہ اموال موت کے وقت تو یقیناً تمہاری ملکیت سے نکل جائیں گے اور اس سے پہلے بھی نکل سکتے ہیں۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ پہلے یہی اموال اور لوگوں کے قبضے میں تھے آج تم ان کے جانشین ہونے کی بنا پر ان پر قابض ہو۔ لہذا ان اموال کو اپنی ملکیت نہ سمجھ بیٹھو اور اللہ کی ہدایات اور رضا کے مطابق اسے خرچ کردو۔ ایسا خرچ کیا ہوا مال ہی تمہارے لیے بہت بڑے اجر کا سبب بنے گا۔ اور تیسرا مطلب یہ ہے کہ جتنا مال تم خرچ کرو گے اتنا یا اس سے زیادہ مال اور دے دے گا۔
Ayah 57:8

وَ مَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّكُمْ وَ قَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 57:8 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ رسول تمہیں دعوت دیتا ہے کہ تم اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ 11 اور وہ (اللہ) تم سے اقرار بھی لے 12 چکا ہے اگر تم واقعی ایمان لانے والے ہو

11 یہاں ایمان لانے سے مراد اللہ اور اس کے رسول کے ان وعدوں کو یقینی اور سچا سمجھنا ہے جو اسلام کے غلبہ سے متعلق انہوں نے مسلمانوں سے کر رکھے ہیں۔ یہ وعدے بھی کہ جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ اس سے بہت زیادہ تمہیں غنائم وغیرہ کی صورت میں لوٹا دے گا اور یہ وعدے بھی کہ اللہ آخرت میں تمہیں ایسے صدقات کا بہت زیادہ اجر دے گا۔ 12 اس اقرار سے مراد عہد (اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ 172؀ۙ ) 7 ۔ الاعراف :172) بھی ہوسکتا ہے جس کی رو سے ہر شخص نے یہ اقرار کیا تھا کہ وہ اللہ کا فرمانبردار بن کر زندگی گزارے گا اور اسلام لانا بھی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ اسلام میں داخل ہونا بذات خود اس بات کا پختہ اقرار ہوتا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کا فرمانبردار بن کر رہے گا۔
Ayah 57:9

هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰى عَبْدِهٖۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 57:9 in the Quran reader

وہی تو ہے جو اپنے بندے پر واضح آیات 13 نازل کرتا ہے تاکہ تمہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے اور اللہ تو یقینا تم پر بڑا مہربان رحم کرنے والا ہے۔

13 آیات بینات سے مراد قرآن کی آیات بھی ہوسکتی ہیں اور صداقت کے نشانات بھی۔ یعنی کیسے کیسے نازک مرحلوں پر اللہ تعالیٰ نے غیبی اسباب و وسائل سے اپنے رسول کی مدد فرمائی جن سے واضح طور پر معلوم ہوسکتا ہے کہ اس رسول کی پشت پر کوئی مافوق الفطرت زبردست طاقت موجود ہے اور یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ تمہیں جہالت اور کفر و شرک کی تاریکیوں سے نکال کر علم و عرفان کی روشنی میں لے آئے۔ اگر تم سمجھو تو تم پر اللہ کی بہت بڑی مہربانی اور احسان ہے۔
Ayah 57:10

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْا١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 57:10 in the Quran reader

اور تمہیں کیا ہوگیا ہے تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ آسمانوں اور زمین کی میراث 14 اللہ ہی کے لئے ہے۔ جن لوگوں نے فتح (مکہ) کے بعد خرچ 15 اور جہاد کیا وہ ان لوگوں کے برابر نہیں ہوسکتے جنہوں نے فتح سے پہلے خرچ اور جہاد کیا۔ یہی لوگ درجہ میں زیادہ ہیں۔ تاہم اللہ نے ہر ایک سے اچھا وعدہ کیا ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے

14 اللہ کی میراث ہونے کے مختلف پہلو :۔ یعنی جو مال اس وقت تمہارے پاس موجود ہے۔ تمہارے مرنے کے بعد تمہارے وارثوں کی طرف منتقل ہوجائے گا اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا۔ حتیٰ کہ یہ سب کچھ اللہ کی میراث میں چلا جائے گا۔ اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب تم دنیا میں آئے تھے تو خالی ہاتھ آئے تھے اور جب یہاں سے رخصت ہوگے تو بھی خالی ہاتھ ہی جاؤ گے تو پھر یہ تمہاری ملکیت کیسے ہوئی ؟ تم اس سے صرف عارضی طور پر انتفاع کرسکتے ہو۔ اور اس کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ جیسے آج تمہارے پاس یہ مال آگیا ہے۔ ویسے ہی تمہاری زندگی میں تم سے نکل بھی سکتا ہے۔ یہ مال و دولت تو ڈھلتی چھاؤں ہے۔ کبھی ادھر کبھی ادھر۔ لہذا جب تک یہ مال تمہاری تحویل میں ہے اسے حقیقی مالک کی مرضی کے مطابق خرچ کرکے اس سے حقیقی فوائد کیوں نہیں حاصل کرتے ؟ 15 بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ دو آیات فتح مکہ کے بعد اور بقول بعض غزوہ تبوک کے وقت نازل ہوئیں جو مضمون کی مناسبت کے لحاظ سے یہاں رکھی گئیں۔ اور فتح سے مراد بعض علماء نے صلح حدیبیہ لی ہے کیونکہ اللہ نے اسے بھی فتح مبین قرار دیا ہے۔ لیکن اکثریت کے نزدیک اس سے مراد فتح مکہ ہے۔ کیونکہ فتح مکہ کے بعد ہی اسلام کو واضح طور پر کفر پر غلبہ حاصل ہوا تھا۔ تمام عرب قبائل مکہ کے معرکہ پر دیر سے نظریں جمائے بیٹھے تھے کہ اس معرکہ میں قریش مکہ غالب آتے ہیں یا مسلمان ؟ اور جو فریق غالب آئے وہ اس کا ساتھ دینے کو منتظر بیٹھے تھے اس فیصلہ کن معرکہ میں جب اسلام کو غلبہ حاصل ہوگیا تو عرب قبائل جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے لگے۔ اب تو یہ واضح بات ہے کہ جن مسلمانوں نے فتح مکہ سے قبل مالی قربانیاں پیش کی تھیں اس کی بنیاد صرف ان کا اللہ اور اس کے رسول کے وعدوں پر غیر متزلزل ایمان ہی ہوسکتا ہے ورنہ حالات ان کے حق میں کچھ حوصلہ افزا نہ تھے۔ بلکہ بعض اوقات انتہائی حوصلہ شکن ہوتے تھے۔ ان کے مقابلہ میں جن لوگوں نے فتح مکہ کے بعد مالی قربانیاں دیں ان کے لیے حالات حوصلہ افزا اور امید افزا ہوتے تھے کیونکہ وہ ایک غالب گروہ کا ساتھ دے رہے تھے۔ پھر انہیں غنائم کی صورت میں خرچ کردہ مال سے بہت زیادہ مال واپس مل جانے کی توقع ہوتی تھی اور اکثر اوقات ان کی توقع پوری بھی ہوجاتی تھی۔ لہذا ان دونوں کا اجر یکساں نہیں ہوسکتا۔ تاہم فتح مکہ کے بعد خرچ کرنے والوں کو بھی اللہ اچھا ہی اجر عطا فرمائے گا۔ اور جس نیت سے کسی نے خرچ کیا ہو اللہ اس سے خوب واقف ہے۔ لہذا جس قدر خلوص نیت اور ایمان کی پختگی کے ساتھ کوئی شخص خرچ کرے گا اللہ تعالیٰ اسی نسبت سے اس کا اجر بڑھاتا جائے گا۔
Ayah 57:11

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَ لَهٗۤ اَجْرٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 57:11 in the Quran reader

کون ہے جو اللہ کو قرض دے ؟ اچھا قرض 16 جسے وہ اس کے لئے دوگنا بڑھا دے اور اسے عمدہ اجر 17 عطا کرے۔

16 قرض حسنہ کے سلسلہ میں دس ہدایات :۔ قرض حسنہ سے مراد ہر وہ مال ہے جو محض اللہ کی رضا کے لیے اس کی ہدایات و احکام کے مطابق خرچ کیا جائے۔ خواہ وہ فرضی صدقہ یا زکوٰۃ ہو یا واجبی صدقات ہوں یا نفلی ہوں اور خواہ وہ فی سبیل اللہ جہاد میں خرچ کیا جائے یا کسی محتاج کی احتیاج کو دور کرنے کے لیے اسے دیا جائے۔ قرض حسنہ کے سلسلہ میں مندرجہ ذیل دس امور کا لحاظ رکھنا اسے افضل صدقہ بنادیں گے۔ (1) حلال کمائی سے خرچ کیا جائے کیونکہ حرام کمائی سے صدقہ قبول نہیں، (2) صدقہ میں ناقص مال نہ دے، (3) اس وقت صدقہ کرے جبکہ خود بھی اسے احتیاج ہو، (4) اپنی احتیاج پر دوسرے کی احتیاج کو مقدم رکھے، (5) صدقہ چھپا کردینا زیادہ بہتر ہے۔ (6) صدقہ دینے کے بعد احسان نہ جتلائے اور نہ ہی کسی دوسری صورت میں اس کا معاوضہ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ یہ باتیں صدقہ کو برباد کردیتی ہیں، (7) صدقہ میں نمودو نمائش یعنی ریا کا شائبہ تک نہ ہو۔ یہ بات بھی صدقہ کو برباد کردیتی ہے، (8) اپنے دیئے ہوئے صدقہ کو حقیر جانے۔ صدقہ دے کر اس کا نفس اس نیکی پر پھول نہ جائے، (9) اگر صدقہ میں اپنا بہترین اور پسندیدہ مال دے تو یہ اس کے اپنے حق میں بہت بہتر ہے۔ (10) محتاج کو صدقہ دینے کے بعد یہ نہ سمجھے کہ میں نے اس پر احسان کیا ہے بلکہ یہ سمجھے کہ میرے مال میں اس کا یہ حق تھا اور میں نے اس کا حق ادا کیا ہے اور مستحق کو حق دے کر اپنے سر سے بوجھ ہلکا کیا ہے۔ 17 قرضہ حسنہ کے دو فائدے :۔ قرضہ حسنہ دینے والوں سے اللہ تعالیٰ نے دو وعدے فرمائے ایک یہ کہ اللہ اسے کئی گناہ زیادہ کرکے واپس کرے گا۔ دنیا میں بھی ایسے خرچ کیے ہوئے مال کی واپسی کا اللہ نے وعدہ کر رکھا ہے۔ (34: 39) اور آخرت میں تو سات سو گنا یا اس سے بڑھ کر بھی اضافہ ہوسکتا ہے یعنی قرضہ حسنہ کی مندرجہ بالا شرائط کو جتنا زیادہ ملحوظ رکھا جائے گا۔ اسی تناسب سے اس کے اجر میں اضافہ ہوگا۔ اور دوسرا وعدہ یہ کہ انہیں عمدہ اجر عطا کرے گا۔ یہ فقرہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے ہی عطا کردہ مال میں سے انسان اس مال کا کچھ حصہ اللہ تعالیٰ کے کہنے کے مطابق خرچ کردے تو انسان کو بدلہ ملنے کا حق کہاں ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود اللہ ایسے قرض حسنہ دینے والوں کو بہت عمدہ اجر عطا فرمائے گا۔ واضح رہے کہ اللہ کا بندے کو اصل سے دوگنا یا زیادہ دینے کا معاملہ کوئی سود بیاج کا معاملہ نہیں ہے۔ اس لیے یہ معاملہ آقا اور اس کے غلام کے درمیان ہے۔ اور غلام کی خدمات کا مالک جتنا بھی صلہ دے دے، برابر برابر دے دوگنا دے، دس بیس گنا دے وہ سود بیاج نہیں کہلا سکتا۔ البتہ یہ اندازہ ضرور کیا جاسکتا ہے کہ آقا اپنے غلام کی خدمات کا کس قدر قدر شناس اور کریم النفس ہے۔
Ayah 57:12

یَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۚ Open ayah 57:12 in the Quran reader

اس دن آپ دیکھیں گے کہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کا نور ان کے سامنے 18 اور دائیں جانب 19 دوڑ رہا ہوگا (اور انہیں کہا جائے گا) آج تمہیں ایسے باغوں کی بشارت ہے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ تم اس میں ہمیشہ رہو گے، یہی بڑی کامیابی ہے

18 نور ایمانی کا انحصار ایمان کی کمی بیشی پر :۔ اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ اس وقت پیش آئے گا جب میدان محشر میں فیصلہ کے بعد مومن مردوں اور عورتوں کو جنت کا پروانہ راہداری مل جائے گا۔ پھر یہ بھی معلوم ہے کہ جنت کو جو راستہ جاتا ہے وہ جہنم سے ہو کرجاتا ہے اور ہر جنتی کو لازماً جہنم پر وارد ہونا ہوگا۔ (19: 71) اور پل صراط سے گزرنا ہوگا اور اس راستہ میں سخت تاریکی ہوگی۔ وہاں مومنوں کے اعمال صالحہ کا نور ہی کام آئے گا۔ جس قدر کسی کا ایمان پختہ اور نیک اعمال زیادہ ہوں گے اتنا ہی اس کا نور یا روشنی بھی زیادہ ہوگی۔ بعض روایات میں ہے کہ کچھ مومنوں کی روشنی اتنی دور تک پہنچے گی جیسے مدینہ اور عدن کا درمیانی فاصلہ ہے۔ بعض کا نور مدینہ سے صنعاء تک کے فاصلہ تک پہنچ رہا ہوگا اور بعض ایسے بھی ہوں گے جن کی روشنی ان کے اپنے قدموں سے آگے نہیں بڑھے گی اس روشنی کی کمی بیشی کی ایک توجیہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ جس شخص کی کوششوں سے اسلام جتنی دور تک پھیلا ہوگا اور لوگوں کو ہدایت حاصل ہوئی ہوگی اس نسبت سے اس کے نور میں کمی بیشی ہوگی۔ 19 نیک اعمال اور دائیں جانب کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔ اہل جنت کو اعمال نامہ بھی دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ اس کی مثال یوں سمجھئے جیسے ایک شخص اندھیرے میں روشنی کا کوئی آلہ مثلاً لالٹین، لیمپ یا ٹارچ عموماً اپنے دائیں ہاتھ میں لے کر چلتا ہے۔ اس کی روشنی سامنے اور دائیں ہاتھ تو خوب پڑتی ہے۔ مگر بائیں ہاتھ یا پیچھے بھی روشنی پڑتی تو ہے مگر بہت کم۔ یہی صورت حال اس دن ہوگی اور آگے جو روشنی پڑے گی اس کا تعلق دل سے ہے جس قدر کسی کا دل ایمان کی پختگی اور اس کے نور سے منور ہوگا اتنی ہی زیادہ اس کے آگے روشنی ہوگی اور دائیں طرف کی روشنی کا تعلق اس کے اعمال صالحہ سے ہوگا۔
Ayah 57:13

یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْ١ۚ قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا١ؕ فَضُرِبَ بَیْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ١ؕ بَاطِنُهٗ فِیْهِ الرَّحْمَةُ وَ ظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُؕ Open ayah 57:13 in the Quran reader

اس دن منافق مرد اور منافق عورتیں ایمانداروں سے کہیں گے : ہماری طرف دیکھو 20 تاکہ ہم بھی تمہارے نور سے کچھ روشنی حاصل کرسکیں انہیں کہا جائے گا : پیچھے چلے 21 جاؤ اور نور تلاش کرو۔ پھر ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ 22 ہوگا اس دروازے کے اندر تو رحمت ہوگی اور باہر عذاب ہوگا۔

20 میدان محشر میں منافقوں کی مسلمانوں کے ساتھ رہنے اور ساتھ جانے کی التجا اور سوال و جواب :۔ منافق بھی چونکہ دنیا میں ایماندار لوگوں کے ساتھ ملے جلے رہتے تھے۔ وہاں بھی وہ یہ کوشش کرینگے کہ وہ بھی ایمانداروں کے ساتھ رہیں اور اس دن انہیں ایمان اور اعمال صالحہ کا فائدہ خوب معلوم ہوچکا ہوگا۔ لیکن ان کا اپنا نور تو کچھ ہوگا نہیں۔ اس لیے وہ مومنوں سے درخواست کریں گے کہ ذرا ہمارا بھی انتظار کرلو تاکہ تمہاری روشنی سے فائدہ اٹھا کر ہم بھی کچھ آگے بڑھ سکیں اور تمہارے ساتھ چل سکیں۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ذرا مڑ کر ہماری طرف دیکھو کہ تمہارے ہمارے طرف دیکھنے سے تمہاری روشنی ہمارا راستہ بھی منور کر دے اور ہم اس روشنی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آگے بڑھ کر تمہارے ساتھ شامل ہوسکیں۔ 21 اس فقرے کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ یہ روشنی ہمیں ایمان اور اعمال صالحہ کی بدولت حاصل ہوئی ہے اور ایمان اور اعمال صالحہ کمانے کا اصل مقام دنیا ہے جو تم پیچھے چھوڑ آئے ہو۔ اب اگر تم روشنی چاہتے ہو تو یہ تمہیں دنیا سے ہی مل سکتی ہے۔ اگر تم واپس دنیا میں جاسکتے ہو تو جاؤ اور وہاں یہ روشنی تلاش کرو اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ایمانداروں کو ایمان اور اعمال صالحہ کی روشنی عملاً اس وقت عطا کی جائے جب انہیں تاریکی میں آگے بڑھنے کی ضرورت پیش آئے گی۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ واپس اس مقام پر چلے جاؤ جہاں یہ نور تقسیم ہوا تھا اور وہاں جاکر اپنے لیے روشنی کی تلاش کرو۔ 22 مومنوں اور منافقوں کے درمیان گفتگو کا یہ سلسلہ جاری ہوگا کہ ان کے درمیان ایک دیوار کھینچ دی جائے گی جو جنت اور جہنم کے درمیان حد فاصل کا کام دے گی۔ مومنوں کی سمت جنت کی خوشبوؤں کی لپٹیں آنے لگیں گی اور منافقوں کی سمت جہنم کے اثرات پڑنے شروع ہوجائیں گے۔
Ayah 57:14

یُنَادُوْنَهُمْ اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ وَ تَرَبَّصْتُمْ وَ ارْتَبْتُمْ وَ غَرَّتْكُمُ الْاَمَانِیُّ حَتّٰى جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ غَرَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 57:14 in the Quran reader

منافق مومنوں کو پکار کر کہیں گے : کیا ہم (دنیا میں) تمہارے ساتھ 23 نہ تھے ؟ (مومن) کہیں گے، کیوں نہیں، لیکن تم نے تو خود اپنے آپ کو فتنہ 24 میں ڈالا۔ اور (موقع کی) انتظار کرتے رہے اور شک 25 میں پڑے رہے اور جھوٹی آرزوئیں تمہیں دھوکہ میں ڈالے رہیں تاآنکہ اللہ کا حکم آپہنچا 26 اور (اس وقت تک) بڑا دھوکہ باز (شیطان) اللہ کے بارے میں تمہیں دھوکا ہی دیتا رہا

23 اس دیوار میں ایک دروازہ ہوگا اب یہاں سے منافق مومنوں کو پکار پکار کر کہیں گے کہ دنیا میں تو ہم نے تمہارا ساتھ دیا تھا۔ اور آج تم لوگ ہمیں یہاں چھوڑ کر اکیلے ہی جنت کی طرف جارہے ہو۔ تمہیں ہم سے ایسی بےوفائی تو نہ کرنی چاہیے تھی۔ 24 مومن اس بات کا یہ جواب دیں گے کہ تم جھوٹ بکتے ہو جو یہ کہتے ہو کہ ہم نے تمہارا ساتھ دیا تھا۔ اس کے بجائے اصل بات یہ تھی کہ تم لوگ موقع پرست اور مفاد پرست تھے اور اس موقع کی تلاش میں رہتے تھے کہ مومنوں اور کافروں میں سے جس کا پلڑا بھاری رہے اس کے ساتھ مل کر اپنے دنیوی مفاد حاصل کریں۔ 25 یعنی تمہارا نہ اللہ پر ایمان پختہ تھا نہ اس کے رسول پر، نہ اللہ اور اس کے رسول کے وعدوں پر اور نہ آخرت پر۔ جب تم دیکھتے تھے کہ حالات مسلمانوں کے حق میں ناسازگار ہیں اور کافروں کی کثرت تعداد، معاش اور سامان جنگ کی طرف دیکھتے تھے تو تمہارا ایمان متزلزل ہوجاتا تھا۔ تمہارا اللہ اور اس کے رسول کے وعدوں پر اعتماد اٹھ جاتا تھا۔ پھر تم یہ بھی سوچنے لگتے تھے کہ شاید یہ آخرت اور اپنے اعمال کی جزا و سزا والا معاملہ بھی یقینی ہے یا نہیں۔ لہذا بہتر یہی ہے کہ ایسی روش اختیار کی جائے کہ کسی فریق سے ملنا ہمارے لیے مشکل نہ ہو۔ لہذا تم صرف ظاہری طور پر ہمارے ساتھ لگے رہے۔ لیکن تمہاری ساری ہمدردیاں اور دلچسپیاں کافروں کے ساتھ رہیں۔ 26 اللہ کے حکم سے مراد اسلام کا مکمل غلبہ بھی ہوسکتا ہے اور موت بھی۔ یعنی جہاں تک تمہارا بس چلتا رہا تم نے اپنے اس رویہ میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ تم یہ سمجھتے رہے کہ ہمارا مسلمانوں کو اندھیرے میں رکھ کر اور انہیں دھوکا دے کر اپنے مفادات حاصل کرلینا ہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ تم خود شیطان کے ہتھے چڑھے ہوئے تھے اور مرتے دم تک اس نے تمہیں اسی دھوکہ میں مبتلا رکھا کہ اب کوئی دن میں مسلمان تباہ ہوتے ہیں اور اسلام مٹ جاتا ہے۔
Ayah 57:15

فَالْیَوْمَ لَا یُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْیَةٌ وَّ لَا مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ١ؕ هِیَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 57:15 in the Quran reader

لہٰذا آج نہ تم سے فدیہ 27 قبول کیا جائے گا اور نہ ان لوگوں سے جنہوں نے کفر کیا۔ تم سب کا ٹھکانا دوزخ ہے، وہی تمہاری خبرگیری کرنے والی ہے اور یہ بدترین انجام ہے

27 جو اللہ کو سرپرست نہ بنائے اس کی سرپرست جہنم ہے :۔ یہ غالباً مومنوں کی منافقوں سے گفتگو کا آخری حصہ ہے کہ جس مال و متاع کی خاطر دنیا میں تم نے منافقت کا رویہ اختیار کیا تھا۔ آج اگر وہ مال و متاع تمہیں مل بھی جائے تو وہ تمہارے کسی کام نہیں آسکتا۔ وہ مال و دولت سارے کا سارا دے کر بھی تم عذاب جہنم سے بچ نہیں سکتے۔ نہ ہم تمہیں اپنے ساتھ لے جاسکتے ہیں۔ ضمناً اس آیت سے دو اور باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ بدترین انجام کے لحاظ سے منافق اور کافر میں کوئی فرق نہیں۔ منافق بھی حقیقتاً کافر ہی ہوتے ہیں۔ اور دوسری یہ کہ جو شخص اللہ کو سرپرست نہ بنائے جہنم از خود اس کی سرپرست بن جاتی ہے۔
Ayah 57:16

اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ لَا یَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْهِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:16 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے ہیں کیا ان کے لئے ایسا وقت نہیں آیا کہ اللہ کے ذکر سے اور جو حق نازل ہوا ہے، اس سے ان کے دل پسیج 28 جائیں ؟ اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جنہیں اس سے پہلے کتاب دی گئی تھی پھر ان پر ایک طویل مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہوگئے 29 اور (آج) ان میں سے اکثر فاسق ہیں

28 پہلے بتایا جاچکا ہے کہ اس سورة کا زمانہ نزول غالباً جنگ احزاب سے بعد اور صلح حدیبیہ سے پہلے کا ہے۔ اس وقت تک اسلام کے غلبہ کے کئی آثار لوگوں کے سامنے آچکے تھے۔ جنگ بدر میں کافر شکست فاش سے دو چار ہوچکے تھے۔ جنگ احد میں بھی بالآخر میدان مسلمانوں کے ہاتھ رہا تھا اور جنگ احزاب میں اللہ تعالیٰ نے غیبی اسباب سے مسلمانوں کی مدد فرماکر کافروں کو فرار کی راہ اختیار کرنے پر مجبور کردیا تھا۔ ان واقعات سے عام لوگ اور غیر جانبدار قبائل یہ تاثر لے رہے تھے کہ اسلام اور کفر دونوں برابر کی چوٹ ہیں اور سب اس بات کے منتظر تھے کہ دیکھیے اب اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ ایسے حالات میں منافقوں کو اس آیت سے یہ تنبیہ کی جارہی ہے کہ اسلام کی نصرت و تائید میں اتنی واضح نشانیاں دیکھنے کے بعد تمہیں یہ یقین نہیں آرہا کہ جو وحی اور دعوت اللہ کی طرف سے نازل ہورہی ہے وہ برحق اور درست ہے۔ نیز یہ کہ کافروں کا اور ان کے ساتھ ہی منافقوں کا جو انجام عنقریب سامنے آنے والا ہے کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اس سے مسلمانوں کے دل دہل جائیں اور اللہ کے ذکر اور اس کے ڈر سے ان کے دل نرم پڑجائیں۔ 29 قرآن کی وہ آیت جس نے فضیل بن عیاض کی زندگی کا رخ بدل دیا :۔ ہوتا یہ ہے کہ جب تک نبی اپنی امت میں موجود رہتا ہے۔ ایمانداروں کے دل نبی کی صحبت اور اللہ کے ذکر اور اس سے تقویٰ کی وجہ سے نرم پڑجاتے ہیں اور ان لوگوں کے دل اور طبیعتیں نیکی میں سبقت کی طرف مائل رہتی ہیں لیکن جب نبی اس دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے تو آہستہ آہستہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی طبیعتیں اللہ کی یاد سے غافل رہنے لگتی ہیں۔ ان میں تقویٰ کی بجائے فسق اور اللہ کی نافرمانی اور اس سے بغاوت کے جراثیم جنم لینے لگتے ہیں۔ یہود اور نصاریٰ دونوں پر یہ کیفیت گزر چکی تھی۔ اس آیت میں بالعموم مسلمانوں کو اور بالخصوص منافقوں کو یہ تنبیہ کی جارہی ہے کہ اللہ کی یاد سے غافل رہنا ایسی بیماری ہے جس سے دل سخت ہوجاتے ہیں اور ان میں فسق و فجور داخل ہونے لگتے ہیں لہذا تم پر لازم ہے کہ اللہ کو ہر دم یاد رکھو اسی سے تم میں تقویٰ پیدا ہوگا اور تمہارے دل نرم رہ سکتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ دور تابعین میں فضیل بن عیاض ایک ڈاکو تھے۔ ایک دفعہ وہ اپنے اسی شغل یعنی ڈاکہ زنی اور لوٹ مار میں مشغول تھے کہ کسی نے بلند آواز سے یہی آیت ( اَلَمْ يَاْنِ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ 16؀) 57 ۔ الحدید :16) پڑھ دی۔ اس آیت اور اس کے شیریں انداز بیان کا ان پر ایسا اثر ہوا کہ لرز گئے اسی وقت توبہ کی اور اپنا ڈاکہ زنی کا پیشہ ترک کرکے اللہ کے ذکر میں مشغول ہوگئے۔ پھر تقویٰ اختیار کرکے وہ مقام حاصل کیا کہ اس دور کے صالحین میں ان کا نام سرفہرست آتا ہے۔
Ayah 57:17

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 57:17 in the Quran reader

اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ ہی زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندگی بخشتا 30 ہے۔ ہم نے تمہارے لئے آیات کھول کھول کر بیان کردی ہیں۔ شاید کہ تم کچھ سمجھ سکو

30 مومن اور منافق پر وحی کے اثر کا تقابل :۔ زمین پر بارش ہو تو وہ گلزار بن جاتی ہے اور کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں۔ مگر بنجر زمین اس بارش کا بھی الٹا اثر لیتی ہے۔ وہاں شور پیدا ہوجاتا ہے یا خاردار جھاڑیاں اور فضول قسم کی نباتات اگ آتی ہے۔ یہی حال منافقوں کا ہے۔ انسان کا دل زمین ہے اور وحی الٰہی باران رحمت۔ اس سے سلیم الطبع لوگوں کے ایمان کی کھیتیاں تو لہلہانے لگتی ہیں مگر منافقوں کے دلوں میں یہی آیات الٰہی مزید شکوک و شبہات کا باعث بن جاتی ہیں اور وہ اپنی ناپاک سازشوں میں پہلے سے زیادہ سرگرم ہوجاتے ہیں۔
Ayah 57:18

اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَهُمْ وَ لَهُمْ اَجْرٌ كَرِیْمٌ Open ayah 57:18 in the Quran reader

مردوں اور عورتوں میں سے جو لوگ صدقہ کرنے والے ہیں اور جن لوگوں نے اللہ کو قرض حسنہ 31 دیا، وہ ان کے لئے دگنا کردیا جائے گا اور ان کے لئے عمدہ اجر ہوگا

31 اس آیت میں انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب میں تاکید مزید کے طور پر اسی سورة کی آیت نمبر 11 کے مضمون کو دہرایا گیا ہے۔ تشریح آیت مذکورہ کے تحت دیکھ لی جائے۔
Ayah 57:19

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ١ۖۗ وَ الشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَ نُوْرُهُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ Open ayah 57:19 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہیں وہی اپنے پروردگار کے ہاں صدیق 32 اور شہید 33 ہیں انہیں (اپنے اپنے اعمال کے مطابق) اجر بھی ملے گا اور روشنی 34 بھی۔ اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلا دیا تو ایسے ہی لوگ اہل دوزخ ہیں۔

32 صدیق کے دو مفہوم :۔ یعنی جو لوگ سچے دل اور خلوص نیت سے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ صدیق بن جاتے ہیں اور اللہ کے ہاں صدیق ہی شمار ہوتے ہیں۔ صدیق کے معنی و مفہوم میں بڑی وسعت ہے۔ اس کا ایک معنی تو یہ ہے کہ جو کچھ اللہ اور اس کا رسول کہتا ہے بلاتامل اس کی تصدیق کردیتے ہیں دوسرا معنی یہ ہے کہ وہ اپنے قول اور وعدوں کے پابند اور اپنے اعمال و افعال میں راست رو اور راست باز ہوتے ہیں۔ جھوٹ، ہیرا پھیری، مکروفریب، جانبداری، بدعہدی اور ایسی ہی دوسری چیزوں سے انہیں نفرت پیدا ہوجاتی ہے۔ 33 صدیق کی گواہی کے دو مفہوم :۔ ایسے ہی صدیق لوگ قیامت کے دن دوسرے لوگوں پر گواہ بنیں گے۔ پھر اس کے بھی دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ انہوں نے اپنے قول اور عمل سے نمونہ بن کر سب لوگوں پر واضح کردیا کہ اللہ اور اس کے رسول پر صحیح طور پر ایمان لانے کے یہ اثرات انسان پر مرتب ہوتے ہیں اور دوسرا یہ کہ وہ قیامت کے دن اللہ کے دربار میں یہ گواہی دیں گے کہ ہم نے فلاں فلاں شخص کو دعوت حق دی تھی اور اس کے رد عمل کے طور پر انہوں نے ایسے ایسے جواب دیئے تھے اور ہمارے خلاف فلاں فلاں مظالم ڈھائے تھے۔ بعض مفسرین اس آیت میں واو عاطفہ قرار نہیں دیتے۔ ان کے نزدیک یہ دو الگ الگ اور مستقل جملے ہیں۔ پہلا جملہ صِدِّیْقُوْنَ پر ختم ہوجاتا ہے اور والشُّھَدَاءُ سے دوسرا جملہ شروع ہوتا ہے۔ اس صورت میں وہ شہداء سے مراد راہ حق میں شہید ہوجانے والے لیتے ہیں۔ میرے خیال میں پہلا مفہوم ربط مضمون سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔ 34 نور سے مراد وہی اعمال صالحہ کی روشنی ہے جس کی تشریح اسی سورة کی آیت نمبر 12 کے تحت کردی گئی ہے۔
Ayah 57:20

اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ١ؕ كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًا١ؕ وَ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ۙ وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 57:20 in the Quran reader

خوب جان لو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل تماشا، زینت و آرائش، تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر کرنا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ جیسے بارش ہوئی تو اس کی نباتات نے کاشتکاروں کو خوش کردیا پھر وہ جوبن پر آتی ہے پھر تو اسے زرد پڑی ہوئی دیکھتا ہے۔ پھر (آخر کار) وہ بھس بن جاتی ہے۔ جبکہ آخرت میں (ایسی غفلت کی زندگی کا بدلہ) سخت عذاب 35 ہے۔ اور (ایمان والوں کے لئے) اللہ کی بخشش اور اس کی رضا ہے۔ اور دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کا سامان ہے

35 انسانی اور نباتاتی زندگی کا تقابل :۔ اس آیت میں انسان کی دنیاوی زندگی کا نباتات کی زندگی سے تقابل پیش کیا گیا ہے اور بعض مفسرین نے اس زندگی کو چار مراحل میں تقسیم کرکے ان دونوں قسم کی زندگی کا تقابل بتایا ہے۔ مثلاً یہ کہ انسان اپنا بچپن کھیل کود میں گزار دیتا ہے۔ پھر جب اس پر جوانی آتی ہے تو اس کا محبوب مشغلہ اپنے آپ کو بن سنور کر پیش کرنا ہوتا ہے تاکہ اگر وہ مرد ہے تو وہ عورتوں کی توجہ کا مرکز بنے اور عورت ہے تو مردوں کے لیے دلکشی کا باعث ہو۔ پھر جب اس عمر سے گزرتا ہے تو اس کو ہمچو ما دیگرے نیست قسم کی چیز بننے کی خواہش لاحق ہوتی ہے اور آخری عمر میں اس کی ہوس میں ترقی ہوتی جاتی ہے۔ وہ اپنی ذات کی خوش حالی پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ اپنی اولاد کے لیے جان کھپانا شروع کردیتا ہے حتیٰ کہ اسے موت آلیتی ہے۔ نباتات کا بھی یہی حال ہے۔ پیدا ہوتی ہے اپنے کسانوں یا مالکوں کو خوش کرتی ہے اور ان کی کئی توقعات اس سے وابستہ ہوتی ہیں۔ پھر اس پر جوانی کا دور آتا ہے تو ہر ایک کا دل موہ لیتی ہے پھر تھوڑی ہی دیر بعد اس پر بڑھاپا آجاتا ہے اور وہ زرد پڑنے لگتی ہے۔ اور انجام یہ ہوتا ہے کہ اس کا کچھ حصہ جانوروں کی خوراک بنتا ہے باقی پاؤں تلے روندا جاتا ہے اور اس مثال سے سمجھانا یہ مقصود ہے کہ جیسے نباتات کی بہار بھی عارضی چیز ہے اور خزاں بھی۔ اسی طرح انسان کی زندگی کی خوشحالیاں بھی عارضی چیزیں ہیں اور تنگدستی اور مصائب بھی۔ اس کے مقابلہ میں جنت کی بہار اور اس کی تمام تر نعمتیں بھی دائمی اور مستقل ہیں اور اس کی خزاں یعنی جہنم اور اس کا عذاب مصیبتیں بھی دائمی اور مستقل ہیں۔ لہذا انسان کی کوشش یہ ہونی چاہئے کہ عارضی اور ناپائیدار چیزوں کے حصول کے بجائے دائمی اور مستقل چیزوں کو اپنا مطمح نظر بنائے اور انہیں کے لیے تمام تر تگ ودو کرے۔ اور جو شخص دنیا کی دلکشیوں میں کھو گیا اور اس کی بہار پر مست ہوگیا وہ بہت بڑے دھوکے میں پڑگیا۔ اصل دانشمندی یہ ہے کہ انسان اس دنیا کی زندگی کو محض کھیل کود سمجھنے کی بجائے اس کا ایک ایک لمحہ قیمتی سمجھے اور اپنی عاقبت کو سنوارنے کی کوشش کرے۔
Ayah 57:21

سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 57:21 in the Quran reader

تم اپنے پروردگار کی مغفرت اور اس جنت کو حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے سے آگے نکل جاؤ جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کے برابر 36 ہے۔ وہ ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا 37 ہے۔

36 جنت کی وسعت :۔ یہاں یہ فرمایا کہ جنت کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کے برابر ہے اور سورة آل عمران کی آیت نمبر 133 میں فرمایا کہ جنت کا عرض تمام آسمانوں اور زمین کے عرض کے برابر ہے۔ حالانکہ ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک بھی لاکھوں میل کا فاصلہ ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہاں جنت کا رقبہ بتانا مقصود نہیں ہے بلکہ یہ الفاظ مح اور تاً استعمال ہوئے ہیں اور اس سے مقصود صرف جنت کی وسعت کا تصور دلانا ہے۔ جو یہ ہے کہ زمین و آسمان کو تو تم دیکھ ہی رہے ہو جنت ان سب آسمانوں اور زمین سے بھی بہت بڑی ہوگی۔ لہذا تم دنیا کے بجائے اسے حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ اور اگر تم سچے دل سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے تو تمہارے گناہ اور لغزشیں بھی اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا اور اتنی وسیع و عریض جنت بھی عطا فرمائے گا۔ رہی یہ بات ہے کہ جس جنت کی وسعت یہاں بیان ہو رہی ہے یہ سب اہل جنت کا حق ہوگا، یا ہر جنتی کو اتنی وسیع و عریض جنت ملے گی ؟ تو استقصاء سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ہر جنتی کی ایک مخصوص رہائش گاہ ہوگی جیسا کہ رسول اللہ نے معراج کی رات کو جنت میں سیدنا عمر کا محل دیکھ تھا۔ البتہ سیروتفریح کے لحاظ سے ہر جنتی اتنی وسیع و عریض جنت میں جہاں چاہے گا جاسکے گا۔ اور اس آمدورفت میں اسے کوئی مشکل حائل نہ ہوگی نہ ہی اسے گاڑیوں یا جہازوں کی ضرورت پیش آئے گی۔ 37 جنت صرف اللہ کی مہربانی سے ملے گی :۔ یہ مضمون پہلے بھی متعدد مقامات پر گزر چکا ہے کہ جنت کسی شخص کو اس کے اعمال کے بدلہ کے طور پر نہیں بلکہ محض اللہ کے فضل و کرم سے ملے گی۔ اعمال صالحہ کا بدلہ زیادہ سے زیادہ یہی ہوسکتا ہے کہ اسے دوزخ کے عذاب سے بچا لیا جائے اور یہ بھی کوئی معمولی بات نہیں بلکہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ چناچہ سیدنا ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کسی شخص کو اس کا عمل بہشت میں نہیں لے جاسکتا ؟ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آپ کے اعمال بھی آپ کو بہشت میں نہیں لے جاسکیں گے۔ فرمایا : ہاں میرے اعمال بھی مجھے بہشت میں نہیں لے جاسکیں گے الا یہ کہ اللہ اپنے فضل اور اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے (بخاری۔ کتاب المرضیٰ ۔ باب تمنی المریض الموت)
Ayah 57:22

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌۚۖ Open ayah 57:22 in the Quran reader

کوئی بھی مصیبت جو زمین میں آتی ہے یا خود تمہارے نفوس کو پہنچتی ہے، وہ ہمارے پیدا کرنے سے پہلے ہی ایک کتاب 38 میں لکھی ہوئی ہے (اور) یہ بات بلاشبہ اللہ کے لئے آسان 39 کام ہے

38 جن حالات میں یہ سورت نازل ہوئی وہ مخلص مسلمانوں کے لیے بڑے صبر آزما تھے۔ چار قسم کے دشمن مسلمانوں کی نوزائیدہ ریاست کو صفحہ ہستی سے نیست و نابود کرنے پر تلے بیٹھے تھے ایک قریش مکہ، دوسرے مدینہ کے اردگرد کے مشرک قبائل۔ تیسرے یہود مدینہ اور چوتھے منافقین جو ہر دشمن اسلام قوت سے اندرونی ساز باز رکھتے تھے اور مسلمانوں کے لیے مار آستین بنے ہوئے تھے ان حالات میں جو ذہنی اور ظاہری پریشانیاں مسلمانوں کو لاحق ہوسکتی تھیں۔ ان کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ تم یہ نہ سمجھو کہ ہم تمہاری ان مشکلات و مصائب سے بیخبر ہیں۔ بلکہ زمین میں جو بھی حادثہ پیش آتا ہے یا تمہیں کسی قسم کی تکلیف پہنچتی ہے اسے ہم اس کے وقوع سے پہلے سے ہی جانتے ہیں کیونکہ نوشتہ تقدیر میں یہ سب کچھ لکھا ہوا موجود ہے۔ اور تمہیں ایسے حالات سے گزارنا اس لیے ضروری تھا کہ مومنوں اور منافقوں کا امتیاز کھل کر سامنے آجائے۔ عنقریب اسلام کو غلبہ حاصل ہونے والا ہے۔ اور تمہاری امت کو تمام دنیا کی قیادت کے لیے منتخب کیا جارہا ہے۔ لہذا منافقوں کو چھانٹ کر الگ کردینا ضروری تھا کہ وہ بھی اپنے آپ کو اس قیادت کے حقدار اور حصہ دار نہ سمجھ بیٹھیں اور ان کی صحیح قدر و قیمت انہیں خود بھی اور دوسروں کو بھی معلوم ہوجائے۔ 39 اس آیت کی تشریح کے لیے سورة اعراف کی آیت نمبر 24 کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔
Ayahs 57:23–24

لِّكَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِۙ Open ayah 57:23 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ جو کچھ تمہیں نہ مل سکے اس پر تم غم نہ کیا کرو اور جو کچھ اللہ تمہیں دے دے اس پر 40 اترایا نہ کرو اور اللہ کسی بھی خود پسند اور فخر کرنے والے کو 41 پسند نہیں کرتا

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 57:24 in the Quran reader

جو خود بھی بخل کرتے اور لوگوں کو بخل کا حکم دیتے ہیں اور جو منہ موڑے تو اللہ تو ہے ہی بےنیاز اور اور وہ اپنی ذات میں محمود ہے

40 مسئلہ تقدیر کی مصلحت :۔ تقدیر کے اس مسئلے سے تمہیں اس لیے مطلع کرنا ضروری ہے کہ تمہیں جو بھی دکھ پہنچتا ہے وہ اللہ کے علم میں ہوتا ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔ لہذا ایسے حالات میں تمہیں صبر و تحمل سے کام لینا چاہئے اور اگر نقصان ہوجائے تو اس کا غم نہ کرنا چاہئے۔ اور جب کوئی بھلائی پہنچے تو بھی تمہیں یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ تمہاری اپنی حسن تدبیر یا تمہارے فعل کا نتیجہ نہ تھی بلکہ اللہ نے اسے تمہارے لئے مقدر کر رکھا تھا۔ لہذا تمہیں اس پر اترانے، پھولنے یا شیخیاں بگھارنے کے بجائے اللہ کا شکریہ ادا کرنا چاہئے۔ واضح رہے کہ بعض لوگ اپنی غلطیوں اور کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کے لیے تقدیر کا بہانہ بناتے اور اس کا مفہوم اس مصلحت کے بالکل برعکس بیان کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے۔ اور اپنے آپ کو تقدیر کے سامنے مجبور محض ظاہر کرکے بہانہ جوئی سے کام لیتے ہیں۔ ان کی اس بہانہ جوئی کا جواب پہلے کئی مقامات پر گزر چکا ہے۔ 41 مال کے فتنہ ہونے کے مختلف پہلو :۔ کسی دنیادار انسان کو مال و دولت مل جائے تو مال کی کثرت اس میں دو خاصیتیں پیدا کردیتی ہے۔ ایک یہ کہ اسے دولت کا نشہ چڑھ جاتا ہے، اس کا دماغ ٹھکانے نہیں رہتا اور وہ اپنے آپ کو کوئی بلند تر چیز اور دوسروں کو حقیر سمجھنے لگتا ہے اور دوسری یہ کہ مال جوں جوں زیادہ ہوتا ہے تو مزید مال جمع کرنے کی ہوس اس میں اور بڑھتی چلی جاتی ہے اور وہ ننانوے کے چکر میں پڑجاتا ہے اور بالخصوص اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے اس کی جان نکل جاتی ہے۔ ہاں نام و نمود کی بات ہو تو ایسے لوگ خرچ بھی کرتے ہیں اور شیخیاں بھی بگھارتے ہیں اور اپنے اس عمل کو خوب تر سمجھتے اور دوسروں کو یہی کچھ سکھاتے اور کرنے کو کہتے ہیں۔ منافقوں میں جو لوگ مالدار تھے وہ انہیں دونوں امراض میں مبتلا تھے۔ مال کے نشہ میں مست اور جہاد کے لیے خرچ کرنے کو اپنے مال کا ضیاع تصور کرتے تھے۔ انہیں بتایا جارہا ہے کہ اگر تم ان باتوں سے باز نہ آئے تو اس کا نقصان تمہیں کو ہوگا تمہارے مال خرچ کرنے سے اللہ کو تو کچھ فائدہ نہیں پہنچتا اور نہ تمہارے بخل کرنے سے اس کا کچھ نقصان ہوجاتا ہے۔ البتہ تمہاری بہتری اسی بات میں ہے کہ تم ایسی باتوں سے باز آجاؤ۔
Ayah 57:25

لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۠ Open ayah 57:25 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے رسولوں کو واضح دلائل دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں۔ اور لوہا (بھی)42 نازل کیا جس میں بڑا زور ہے اور لوگوں کے لئے اور بھی فائدے ہیں اور اس لئے بھی کہ اللہ کو معلوم ہوجائے کہ اسے دیکھے بغیر کون اس کی 43 اور اس کے رسول کی مدد کرتا ہے اور اللہ بڑا طاقتور ہے اور زبردست ہے۔

42 فتنہ و فساد کی روک تھام دین کے غلبہ اور نظام عدل کے قیام کے لئے تین چیزوں کی ضرورت قوانین الٰہیہ میزان اور قوت نافذہ :۔ دنیا میں فتنہ و فساد کو روکنے کے لیے تین باتوں کی ضرورت ہوتی ہے جو اس آیت میں بیان کردی گئی ہیں۔ واضح نشاننوں سے مراد ایسے دلائل ہیں جن سے یہ ثابت ہوجائے کہ واقعی یہ رسول برحق اور اس پر نازل شدہ کتاب واقعی اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے اور واضح نشانات بھی اسی کتاب میں مذکور و موجود ہیں۔ یعنی اس کتاب میں پرامن زندگی، فتنہ و فساد کی روک تھام اور اللہ کے دین کے غلبہ کے لیے قوانین بیان کیے ہیں۔ میزان سے مراد ناپ تول کے پیمانے بھی ہیں۔ تاکہ لوگوں کو ان کے حقوق پورے پورے ادا کیے جاسکیں اور نظام عدل کو قائم کرنے کے تقاضے اور ہدایات بھی جو کتاب و سنت میں تفصیل سے مذکور ہیں۔ اور لوہا سے مراد ڈنڈا یا طاقت اور قوت نافذہ بھی ہے جو عدالتوں کو حاصل ہوتی ہے کیونکہ جو لوگ لاتوں کے بھوت ہوں وہ باتوں سے کبھی نہیں مانتے اور جنگی یا سیاسی قوت اور سامان جنگ بھی جو بالعموم لوہے سے ہی تیار کیا جاتا ہے جیسے توپ و تفنگ، تیر، تلوار، میزائل، بندوقیں، رائفلیں، اور کلاشنکوفیں وغیرہ۔ تاکہ ان رکاوٹوں کو دور کیا جاسکے جو اسلام کے نفاذ کی راہ میں حائل ہوں۔ ربط مضمون کے لحاظ سے لوہا سے مراد اسلحہ اور جنگی قوت لینا ہی زیادہ مناسب ہے۔ یہ تینوں چیزیں ہر رسول کو عطا کی گئیں جو کہ نظام عدل کے قیام اور اللہ کے دین کے نفاذ اور فتنہ و فساد کے قلع قمع کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔ 43 لوہا اگرچہ زمین کے اندر کانوں سے نکلتا ہے۔ تاہم اسے نازل کرنے سے تعبیر کیا جیسا کہ میزان کو نازل کرنے سے تعبیر کیا۔ اس سے مراد ان چیزوں کو پیدا کرنا اور وجود میں لانا اور اجمالاً تمام اشیاء ہی اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہیں۔ اور لوہے یا جنگی قوت کے استعمال کا ایک فائدہ تو یہ ہوتا ہے کہ اس سے فتنہ و فساد کو روکا جاسکتا ہے۔ اور ضمنی فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ انہیں چیزوں کے حصول اور استعمال سے یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ کون اللہ کے دین کے نفاذ کی خاطر پیش قدمی کرتا ہے اور کون اس سے پہلو تہی کرتا ہے۔ ورنہ اللہ تو اتنا طاقتور اور غالب ہے کہ وہ اور بھی کئی طریقوں سے اپنا دین نافذ کرسکتا ہے۔ مگر جہاد سے اصل مقصود تو لوگوں کا امتحان ہے۔
Ayah 57:26

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:26 in the Quran reader

ہم نے ابراہیم اور نوح کو (رسول بنا کر) بھیجا۔ اور نبوت اور کتاب انہی دونوں کی اولاد میں رکھ دی۔ پھر ان میں کچھ تو راہ راست پر رہے اور اکثر لوگ نافرمان 44 ہی تھے

44 نبوت کا ضابطہ :۔ نبوت کا ضابطہ یہ ہے کہ انسان کی پیدائش سے پیشتر یہ جنوں میں جاری تھی۔ انسان اشرف المخلوقات ہے۔ لہذا آدم کی پیدائش پر یہ انسانوں میں منتقل ہوگئی اور پہلے نبی خود سیدنا آدم ( علیہ السلام) تھے۔ بعد میں یہ سلسلہ صرف نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں محدود کردیا گیا۔ اور سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد انہی کی اولاد سے مختص ہوگیا۔ بعد میں جتنے بھی انبیاء (علیہم السلام) مبعوث ہوئے سب سیدنا ابراہیم ہی کی اولاد سے تھے۔ تمام انبیاء اپنی اولاد اور اپنی امت کو کفر و شرک اور افتراق و انتشار سے بچنے کی تاکید کرتے رہے مگر تھوڑے ہی لوگ ایسے تھے جنہوں نے انبیاء کی وصیت اور نصیحت کو قبول کیا۔ ورنہ لوگوں کی اکثریت کفر و شرک میں ہی مبتلا ہوگئی اور امت واحدہ کے ٹکڑے ٹکڑے بھی کردیے۔